Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 8

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 8

–**–**–

تیز بھاری قدموں کے ساتھ وہ بنا تھمے بنا رکے آگے بڑھ رہی تھی۔۔
پیچھے کھڑے اس ہجوم میں وہ تنہا شخص جو کبھی اس کے لیے بہت کچھ ہوا کرتا تھا اب صرف وہ ایک اجنبی تھا۔۔نا اسکا کزن نا بچپن کا دوست کچھ بھی نہیں۔۔۔
۔
چیکنگ کے بعد جب وہ جہاز میں اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی تھی اسے ایک اور ڈر لاحق ہوا تھا۔۔
یہ اسکا پہلا سفر تھاگھر سے باہر سفر سب ہی خطرناک ہوتے ہیں جو اپنوں سے دور کے ہوں۔۔
پر ایک لڑکی کے لیے خطرات اور زیادہ ہو جاتے ہیں۔۔
“یہ میری زندگی کا پہلا سفر ہے۔۔ میرے گھر اور گھر والوں سے دور۔۔یہاں عزت کی حفاظت کے لیے کوئی مرد نہیں ہوگا کہ اب مجھے اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوں گے
اب زاران عابدی کا صفحہ بند ہوگیا ہےزندگی کی اس کتاب سے۔۔
افسوس رہے گا مجھے اس شخص نے مجھے سمجھا بھی تو کس قابل دوسری بیوی بنانے کے”
تمام پیسنجر اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ چکے تھے جہاز تیار تھا اڑنے کے لیے۔۔
نایاب کی آنکھیں اس وقت کھلی تھیں جب اسکے ساتھ والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر خاتون آکر بیٹھ گئی تھیں اور سامنے والی رو پر انکی فیملی کے کچھ افراد۔۔۔
پائلٹ کی اناؤنسمنٹ کے بعد نایاب نے بہت مظبوطی سے اپنی سیٹ کو پکڑ لیا تھا۔۔پر چہرے پر ایک بھی تاثر نہیں تھا اس کے ڈر کا۔۔
“کبھی کبھی اپنا ڈر سامنے والے پر عیاں کرنا اتنا کھٹن بھی نہیں ہوتا جتنا ہم سمجھتے ہیں۔۔”
مٹھاس سے بھری ایک آواز نایاب کے کانوں میں جیسے ہی پڑی تھی اس کی آنکھیں کھل گئیں تھیں۔۔۔
“پر میں ڈر نہیں رہی۔۔۔”
نایاب نے جس سیٹ کو مظبوطی سے پکڑا تھا اسی وقت چھوڑ دیا تھا۔۔۔پر جب اس نے کھڑکی سے جہاز کو زمین سے کچھ دور ہوتے دیکھا اس نے اس سیٹ کو پھر سے پکڑ لیا تھا۔۔
پاس بیٹھی خاتون نے قہقہ لیا تھا ایک۔۔
“ڈر تو سب کو لگتا ہے۔۔۔دنیا آپ کا ڈر جان کر آپ کا مذاق نا بنا لے اس لیے آپ کیا گھٹ گھٹ کے رہو گے اس ڈر کے ساتھ۔۔؟؟”
انکی نظریں جیسے نایاب کی آنکھوں سے اسکے اندر تک دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں جو خود دیکھنے میں بہت خوبصورت اور دلکش خاتون تھیں۔۔۔
“ڈر لوگوں پر ظاہر کرنا اپنی ایک کمزوری دینے کے برابر ہے۔۔میں کمزور نہیں ہوں۔۔”
“اور ایسا کیوں ہے۔۔؟ کمزور تو ہم سب ہیں نا کسی پر ظاہر کرنا کوئی اتنی بری بات نہیں ہے بیٹا۔۔”
انہوں نے نایاب کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا جو لمس ایک اپنائیت سے بھرپور محسوس کیا تھا نایاب نے۔۔۔
“آپ کا کمزور ہونا برا نہیں آنٹی جی۔۔پر لوگوں کا آپ کی کمزوری کو جان کر آپ کا مذاق بنا دینا بُرا ہے۔۔انسان کسی کا مذاق بنے۔۔اس سے اچھا نہیں کہ ڈر کو اپنے اندر رکھ کر چاہے کچھ پل کے لیے گھٹ گھٹ کے جی لے۔۔؟؟”
نایاب نے اپنے ڈر کی اور اس کو کمزوری نا بنانے کی وضاحت بہت دھیمی آواز میں کی تھی کہ ساتھ بیٹھی خاتون بُرا نا مانیں یا اپنی بےعزتی نا سمجھ لیں اس کی وضاحت کو۔۔
“اوو۔۔تو تم اس قرب سے گزر چکی ہو جس سے کبھی میں گزری تھی۔۔۔”
انہیں نے اپنی عینک اتار دی تھی
“ہاہاہا ایسا نہیں ہے کہ میں نے کبھی کسی کو موقع دیا ہو۔۔پر میں اس وقت سے گزر چکی ہوں میں جانتی ہوں لوگ کیسے تعاقب میں ہوتے ہیں کہ کب آپ میں انہیں کوئی ڈر ملے اور کب وہ اس ڈر کو آپ کی کمزوری تصور کر کے آپ کا مذاق بنا کر رکھ دیں سب کے سامنے۔۔۔”
نایاب نے باہر دیکھنا شروع کیا تھا اور ان خاتون کی نظریں نایاب پر تھیں۔۔
“میرے بھی خیالات ایسے ہی تھے بیٹا تمہاری طرح۔۔ ایسے ہی ایک بار کسی کے سامنے اپنا ڈر ظاہر کر دیا تھا ۔۔
جہاز کی بلندیوں کا ڈر۔۔۔
اور پھر اسی جہاز سے اترنے کے بعد مزاق بنتی رہی تھی اپنے شوہر کی باتوں کا۔۔
ہماری طلاق تک ۔۔میری بھی یہی سوچ تھی کہ اب میں اپنا ڈر نہیں عیاں کروں گی کسی پر۔۔
اور گزری زندگی سے یہی سیکھ لی تھی میں نے اپنی دوسری شادی میں اسی سوچ کی بنا پر بہت کچھ مس کردیا میں نے۔۔۔
وہ سامنے میرے شوہر بیٹھے ہیں۔۔ہر دو منٹ بعد پیچھے دیکھیں گے۔۔حلانکہ میں نے ان پر کبھی واضح نہیں ہونے دیا اپنا ڈر۔۔۔”
وہ جب چپ ہوئی تو نایاب نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا
“کبھی کبھی سوچتی ہوں مجھے وہاں اپنا ڈر اپنی کمزوری ظاہر کرنی چاہیے تھی جہاں کرنے کا حق تھا۔۔۔ جیسے اس سیٹ پر بیٹھے میرے شوہر جو میری خاموشی سمجھ جاتے ہیں۔۔۔پر میں آج تک مذاق بن جانے کے ڈر سے نجانے کتنے ڈر کتنی کمزوریاں ان سے چھپاتی آئی ہوں۔۔۔”
اور ٹھیک ایک منٹ بعد سامنے سیٹ پر بیٹھے شخص نے پریشانی کے عالم میں پیچھے دیکھا تھا وہ خاتون تو اشارے سے انہیں یقین دہانی کرائی جا رہی تھیں۔۔۔پر نایاب کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکان آگئی تھی۔۔
“آپ نے ٹھیک کہا۔۔جہاں ہمیں لگے ہمیں وہاں بتا دینا چاہیے۔۔۔پر مجھے اب لگتا ہے۔۔۔سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں۔۔۔ جیسے آپ کے ہسبنڈ۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ہممم اب تو ڈر نہیں لگ رہا۔۔۔؟؟”
انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا تھا نایاب سے۔۔۔۔
“ہاہاہاہا نہیں مجھے اب ڈر نہیں لگ رہا۔۔۔۔”
نایاب خاموش ہوگئی تھی۔۔۔آج کسی نے اسے خاموش کروا دیا تھا۔۔
وہ جو سب کو اسباق دیتی تھی آج اسے کسی انجان نے ایک سبق دےدیا تھا۔۔۔جس پر اسے کوئی بھی غصہ نہیں تھا بلکہ اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے خاور۔۔”
دونوں بازو فولڈ کر کے خاور کو دیکھنے لگی تھی
“میں نے سوچا کسی کونے پر بیٹھی رو رہی ہوگی اپنا کندھا دے دوں تمہیں۔۔ تائی جان نے سب کے سامنے بہت زیادہ کر دی نا تمہاری۔۔۔”
طنزیہ لہجے میں جواب ملا تھا سویرا کو جس پر وہ اور آگ بگولہ ہوئی تھی
“خور ابھی میں کسی بھی بحث یا لڑائی کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔”
اس نےوہاں سے جانے کی کوشش کی جس پر خاور نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
“میں اپنا پرپوزل پھر سے سامنے رکھتا ہوں تمہارے سویرا۔۔۔ میں بھی عابدی ہوں۔۔ وہ مینشن اب ہمارا ہے۔۔تم کہو گی تو شادی کے بعد ہم یہاں سے چلے جائیں گے زاران بھائی کی طرح میں تمہیں سب کے سامنے ذلیل نہیں کروں گا۔۔”
اپنی بات مکمل کر کے اس نے سویرا کا ہاتھ چھوڑا اور کچھ قدم پیچھے لئیے تھے۔۔۔
“اب کچھ نہیں ہوسکتا خاور۔۔”
“سب کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔اگر تم میں کرنے کی ہمت ہے تو۔۔جو ماں بیٹے آج تم پر پابندیاں لگا رہے وہ کل کیا کریں گے۔۔؟ میری بات پر سوچنا ضرور۔۔۔”
۔
خاور وہاں سے چلا گیا تھا اور سویرا ٹیرس کی چھت پر گہری سوچ میں گم ہوگئی تھی۔۔
“آج جو بھی ہوا وہ نایاب کی وجہ سے ہوا۔۔۔ کچھ نا ہو کر بھی گھر کے بڑے اسکی انگلیوں پر ناچتے ہیں کاش اسے یہ سکالرشپ نا ملی ہوتی کتنا مزہ آتا اسے نیچا دیکھانے کا۔۔
اب خاور کی بات ماننا مطلب سب کی عزت کو داؤ پر لگانا ہے۔۔اور زاران۔۔؟ کیا وہ دنیا کے سامنے اتنی بےعزتی ڈیزرو کرتا ہے۔۔؟
پر ان سب میں میری خوشیاں۔۔؟ زاران تو یو کے میں بہت چینج تھا۔۔اور اب وہ ایک فرمانبردار بیٹا بن گیا ہے۔۔۔ مجھے کیا زاران کے لیے اپنی خوشیاں بھول جانی چاہیے اپنا لائف سٹائل بھول جانا چاہیے۔۔؟؟”
۔
“سویرا۔۔میں بہت خوش ہوں تم نے میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرلیا۔۔۔چلو فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔۔”
خاور کی آواز پر سویرا اپنی کھوئی دنیا سے واپس وہیں آگئی تھی۔۔ اس نے اپنا فیصلہ لے لیا تھا۔۔
“خاور ہم نے یہ قدم تو اٹھا لیا ہے اب آگے کیا ہوگا۔۔؟؟”
“آگے گا دبئی جا کر سوچیں گے اب چلو۔۔۔”
خاور نے اسکا ہاتھ پکڑ کر تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کیا تھا
“نایاب۔۔۔نایاب۔۔۔”
ایک جانی پہچانی آواز سے ان دونوں کے قدم رک گئے تھے۔۔اور جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو زاران عابدی کھڑا تھا۔۔اور کچھ قدموں کے فاصلے پر نایاب التمش۔۔۔
“خاور یہ تو۔۔۔”
“شش۔۔۔”
خاور نے سویرا اور خود کو ایک وال کے پیچھے چھپا لیا تھا۔۔۔
سویرا اتنی حیرت زدہ تھی کہ اس میں آگے چلنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔۔پر پیچھے مڑ کر اس نے ان دو لوگوں کو ضرور دیکھا تھا جو بہت پاس کھڑے تھے۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا گوارہ نہیں تھا اِسے اور یہاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑی ہے۔۔۔
زاران عابدی سے نظر ہٹا کر سویرا نے ان دونوں کے ہاتھوں پر نظریں ڈالی تھیں۔۔۔
“زاران عابدی۔۔۔”
سویرا کی آنکھوں سے جو آنسو بہہ رہے تھے وہ شکست کے آںسو تھے غصے کے آنسو تھے
“سویرا ہماری فلائٹ۔۔۔”
“بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری فلائٹ خاور۔۔۔
آخر کو جیت گئی وہ زاران کو۔۔۔ یہ میری ہار نہیں ہو سکتی۔۔۔ہم ابھی واپس جا رہے ہیں اور اب تم وہ کرو گے جیسا میں کروں گی”
سویرا کی آںکھوں میں ایک جنون دیکھا تھا خاور نے ایک شدت تھی جس میں وہ بہت کچھ جلتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس نے ہاں میں جیسے ہی سر ہلایا تھا سویرا نے آنکھیں بند کر کے وہیں اسی جگہ نظریں دہرائی تھی
“زاران عابدی اچھا نہیں کیا تم نے۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایسا نہیں ہوگا میں نہیں رو سکتا کسی کی محبت کے پیچھے۔۔۔ کبھی نہیں۔۔مجھے ایسی محبت نہیں چاہیے جو باعث شرمندگی بنے میرے لیے۔۔۔جیسے اسکا رنگ۔۔۔۔۔”
۔
زاران کو اسکی کہی ایک بات یاد آگئی تھی۔۔۔۔
“انیسہ باجی سویرا کہیں نہیں ہے۔۔۔یہ۔۔۔یہ خط ملا ہے۔۔۔وہ چلی گئی ہے۔۔۔”
“کس۔۔۔کس کے ساتھ۔۔۔۔؟؟”
“خاور کے ساتھ۔۔۔”
۔
یہ باتیں بار بار اسے کمزور کر رہی تھی اور پھر سامنے میدانِ جنگ بنا ہوا تھا۔۔
گھر کے مردوں نے گھر کی عورتوں پر زبانی وار کرنا شروع کئیے ہوئے تھے۔۔۔
راحیل صاحب جب جب غصے میں اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کے لیے بڑھتے تب تب زاران کے والد درمیان میں آجاتے تھے
گھر کی عورتوں کی آہ پکار سے ہال میں باقی رشتے دار بھی آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
۔
“سویرا کہاں ہے۔۔۔؟؟ مجھے تو پہلے ہی اسکے چال چلن پر شک تھا۔۔۔ کہا تھا میں نے مت بھیجو باہر پڑھنے کو پر نہیں۔۔۔”
“زاران کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا امی اس نے بھی تو کسی باپ کی آہ لی تھی نا جب نایاب کی جگہ سویرا کو اپنانے کا کہا تھا۔۔۔۔”
تو یہ تھیں التمش راحیل اور انیسہ کی خالہ اور ساتھ انکی بیٹی جن کی باتیں چھری کی تیز دھار کی طرح چھبی تھی سب کو۔۔۔۔
“رنگ روپ کر کے ٹھکرا دیا تھا۔۔۔ہن لے لوے رنگ تے روپ والی ذلت۔۔۔
بلقیس دی خواہش وی نا پوری کر سکے اے لوگ۔۔۔۔”
وہ اس فیملی کی آخری بڑی بزرگ خاتون تھیں جو ابھی اپنا غصہ نکال رہی تھیں ان سب پر۔۔۔۔
“خالہ جان سویرا یہیں ہیں پارلر سے آتے ہوئے اسکا ایکسیڈنٹ ہوگیا اس لیے سب پریشان ہیں۔۔۔۔”
انیسہ نے ایک ناکام کوشش کی تھی۔۔۔پر لوگ بےوقوف نہیں تھے پر موقعے کی مناسبت سمجھ کر جان گئے تھے۔۔۔اور خاموشی اختیار کر لی تھی۔۔۔
“بچوں آپ لوگ سب بڑوں کو لیونگ روم میں لے جاؤ کھانے کا پوچھو۔۔۔
آپ آفاق اور سب میرے ساتھ آۓ۔۔۔۔”
انکی ممتا تڑپ اٹھی تھی زاران کو ایک کونے میں چپ سر جھکائے کھڑا دیکھ کر۔۔۔
“زاران چلو بیٹا۔۔۔۔”
وہ لوگ اوپر زاران کے روم میں چلے گئے تھے۔۔۔ زاران کا ہاتھ انیسہ بیگم نے اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا انہیں ڈر تھا انکے جوان بیٹے کے لڑکھڑا جانے کا۔۔۔
وہ اپنے بھائی کو ایسی حالت میں دیکھ چکی تھیں ایک بار۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اس جہاز پر سے اترنے اور اس ہوسٹل تک کا سفر ان خاتون کے ساتھ بہت اچھے سے گزرا تھا نایاب کا جنہوں نے یہاں ہوسٹل تک زبردستی نایاب کو ڈراپ بھی کیا تھا۔۔۔
نایاب چونکہ ہائی گریڈ نمبرز سے سکالرشپ پر آئی تھی یہاں تو اسے یہاں روم بھی اس لیول کا ملا تھا جہاں اسے صرف ایک روم میٹ کے ساتھ رہنا ہوگا۔۔۔
بہت سی سہولیات کے ساتھ۔۔۔
اپنی انفارمیشن اور ایکسیپٹنس لیٹر دکھا کر اسے روم کی کئیز اور ڈائریکشن بتا دی تھی ریسیپشن سٹاف نے۔۔۔۔
روم کی جانچ کر کے اس نے دروازہ لاک کردیا تھا اسے بتایا گیا تھا اسکی روم میٹ کل تک آجاۓ گی چھٹیوں سے۔۔۔۔
نایاب التمش وہ مظبوط لڑکی جب اس کمرے کی چار دیواری میں قید ہوگئی تھی
۔
“زاران عابدی آپ بہت کامیاب ہوئے ہیں میرا غرور توڑنے میں دوسری شادی کا کہہ کر آپ نے وہ عزت بھی ختم کر دی جو میں نے بچا کر رکھی تھی کہ کسی موڑ پر آپ کو جب دیکھوں تو میرے نظروں میں آپ کے لیے وہ عزت ہونی چاہیے۔۔۔”
۔
رونے کی آواز بھی اسے برداشت نہیں ہوئی تھی اس نے اپنا منہ بھینچ لیا تھا جس سے اسکا رونا سسکیوں میں تبدیل ہوگیا تھا ہچکیوں کی ایک لڑی بندھ گئی تھی
“یا اللہ آپ کے بندے کیوں وہاں اتنی چوٹ دیتے ہیں جہاں آپ پو۔۔؟؟
کیوں دل میں درد ہوتا ہے جب کوئی اپنا اس طرح صرف رنگ روپ کی بنا پر اتنے بڑے الفاظ کہہ جاتا ہے کہ اسے میڑک پاس سے بیاہ دو اسکے بس کی بات نہیں آکسفورڈ گریجویٹ سے نکاحِ جانا۔۔۔
مجھے وہ آکسفورڈ جانے سے پہلے پسند تھا اللہ۔۔۔مجھے وہ تب سے پسند تھا جب سے دادی نے مجھ سے وعدہ لیا تھا اس سے شادی کرنے کا وعدہ۔۔۔اس کا ساتھ نا چھوڑنے کا وعدہ۔۔۔۔
اس کا انتظار کرنے کا وعدہ۔۔۔۔
دادی۔۔۔۔۔دادی آپ سن رہی ہیں میں نے سارے وعدے آخر تک نبھائیں ہیں۔۔۔
وہ تو مجھے کسی قابل نہیں سمجھتا دادی کسی قابل نہیں۔۔۔
اور کسی قابل سمجھا تو دوسری عورت کے روپ میں۔۔۔؟؟”
وہ زمین سے اٹھ گئی تھی اور بیڈ پر تکیے میں سر چھپائے اور رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
یہ اسکا ضبط تھا جو آج ٹوٹا ہے۔۔۔وہ آج بکھری تھی اپنے آپ میں۔۔۔
“یہ آخری بار تھا۔۔۔وہ نایاب التمش اب آپ کے لیے ہر جذبہ رکھے گی پر پسند اور محبت نہیں ہوں گے ان جذبات کی فہرست میں۔۔۔۔”
۔
“ہیلو۔۔۔۔”
اور انجانی آواز جو روم کے باہر سے آئی تھی نایاب نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی تھی۔۔۔
اور دروازہ کی طرف دیکھا تو اسے دکھائی دیا ڈور کی لاک جو کوئی باہر سے کھولنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا نایاب نے اندر سے لاک کیا ہوا تھا دوبارہ آواز آنے پر اس نے جلدی سے اٹھ کر اپنا چہرہ صاف کر کے دروازہ کھولا تھا۔۔۔
“اووے ہاۓ۔۔۔۔میں تو واپس جانے لگی تھی یہ سوچ کر کے میں غلط روم میں آگئی شاید۔۔۔”
نایاب کی ہم عمر ایک خوبصورت ماڈرن لڑکی روم میں انگریزی بولتے ہوئے داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
“دراصل۔۔۔”
“پاکستانی۔۔۔؟؟ اسلام وعلیکم۔۔۔۔”
اس لڑکی نے بہت احترام سے کہا تھا اور اپنا بیگ دوسرے بیڈ کی سائیڈ پر رکھ دیا تھا۔۔۔
“وعلیکم سلام۔۔۔۔جی ایم پاکستانی الحمداللہ۔۔۔اینڈ یو۔۔۔؟؟”
“میں پاکستانی نہیں ہوں۔۔۔پر پاکستان بہت بار رہ چکی ہوں سچ آ نائس کنٹری۔۔۔”
ان دونوں میں کچھ باتیں ہوئی تھی ذیادہ تر باتیں سامنے والی لڑکی کر رہی تھی جس نے اپنا نام شانزے بتایا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سویرا باجی کا فون آیا تھا۔۔۔پلیز پاپا بات سن لیں پوری۔۔۔۔”
سنی نے فورا راحیل صاحب سے کہا تھا۔۔۔۔
“سویرا باجی اسٹیشن پر تھی۔۔۔میں اور شعیب اسی وقت انہیں لینے چلے گئے تھے۔۔۔اب وہ نیچے ہیں۔۔۔”
۔
“اس کی ہمت کیسے ہوئی اس گھر میں قدم بھی رکھنے کی میں اسے جان سے مار دوں گا میری گن کہاں ہے۔۔۔۔”
سویرا کے والد صاحب ایک بار پھر آپے سے باہر ہوئے تھے۔۔۔
وہ جیسے ہی گن لیکر نیچے کو دوڑے تھے سب پھر سے انکے پیچھے تھے۔۔۔
ان کی بیوی کو پتا تھا انکا غصہ۔۔۔
پر جیسے ہی سب نیچے گئے تھے سویرا ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنے والد کے سامنے گر گئی تھی۔۔۔
“پاپا۔۔۔ایم سوری پاپا۔۔۔۔”
“بدزات لڑکی تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں اپنی شکل دیکھانے کی۔۔۔”
اور یہ لفظ نا راحیل صاحب کے تھے نا ہی سویرا کی امی کے۔۔۔
یہ لفظ زاران عابدی کے تھے جو زہر اور بدتمیزی سے بھرے پڑے تھے۔۔۔
“زاران۔۔۔۔”
زاران نے سویرا کے بازو سے اسے اٹھایا تھا۔۔۔۔
“خدا کی قسم سویرا ہمیشہ سنتا آیا تھا کہ ایک عورت گھر سے باہر رات گزار لیں تو وہ بدنام ہوجاتی ہے۔۔۔میں سوچتا تھا کیسے۔۔۔؟؟
اس عورت کی سو مجبوریاں ہوتی ہوں گی۔۔۔۔پر کل کی رات سویرا ہزار لوگوں کے سامنے تمہاری غیر موجودگی۔۔۔
لوگوں کی باتیں۔۔۔۔ انہوں نے میرے کردار پر بھی کیچر اچھالا میرے مرد ہونے پر بھی سوال ہوۓ۔۔۔۔”
زاران کی گرفت بہت مظبوط تھی اور سویرا روئے جا رہی تھی۔۔۔
پر زاران کی باتوں سے گھر کے بڑوں کو سمجھ آچکی تھی کہ اس نے سب باتیں سن لی تھی۔۔۔
۔
“زاران۔۔۔مجھے خاور نے بلیک میل کیا تھا۔۔۔میں مجبور ہوگئی تھی۔۔۔”
اور ایک جھٹکے سے اس نے سویرا کو چھوڑ دیا تھا جو صوفے پر جا گری تھی۔۔۔
“مجبور کیوں۔۔۔؟ کیسی بلیک میلنگ ۔۔۔؟؟ میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
راحیل صاحب نے باہر جانے کے لیے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی تھی جس پر انہیں اور مظبوطی سے پکڑ لیا تھا آفاق صاحب نے۔۔۔
“کیسی بلیک میلنگ سویرا زرا شرم نا آئی تمہیں۔۔۔؟؟ اس دن سے پہلے تم مر کیوں نا گئی۔۔۔؟؟”
اور سویرا کی امی نے تھپڑ پر تھپڑ رسید کئیے تھے اسے۔۔۔
“بھابھی بس کریں خدا کے لیے۔۔۔اندر گھر کے چھوٹے بچے بھی ہیں کیا اثر پڑے گا ان پر۔۔۔خاور سے آفاق نمٹ لیں گے۔۔۔”
“بھابھی میں اسکی چمڑی ادھیڑ دوں گا اس نے خاندان کی عزت کی دھجیاں اڑا دی۔۔آپ جوان بیٹی پر ہاتھ نا اٹھائیں۔۔۔۔”
۔
“زاران مجھے ایک موقع دو بس خاور کی پلاننگ ہی یہی تھی میرا تم سے نکاح نا ہو۔۔۔وہ مجھے بلیک میل کر کے شادی کرنا چاہتا تھا پر وہ اس جگہ پر بھی نہیں آیا۔۔۔اس نے اس جال میں پھسانے کی کوشش کی۔۔۔”
سویرا نے اپنے چہرے کو صاف کر کے زاران کی طرف قدم بڑھائے تھے پر جب وہ پیچھے ہٹا تو سویرا کی امی نے روتے ہوئے انیسہ کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے تھے۔۔۔
“انیسہ بھابھی میری بیٹی کو اپنا لیں بخش دیں اسکا یہ گناہ خدا کے لیے زاران بیٹا۔۔۔۔”
“بھابھی۔۔۔میں۔۔۔”
اپنی امی کی بات کاٹ دی تھی زاران نے۔۔۔۔
“ممانی آپ بخش دیں ہمیں۔۔۔۔زاران عابدی مرتا مر جاۓ گا پر آپ کی بیٹی کی طرف دیکھے گا بھی نہیں نکاح تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔۔
سویرا راحیل۔۔۔آج تمہارے لیے میں نے اپنی زندگی کے ایک قیمتی اثاثے کو کھو دیا۔۔۔بدلے میں مجھے کیا ملا۔۔۔۔؟؟ تمہارے نام کی ذلت۔۔۔؟؟
تم وہ نہیں ہو جس کے ساتھ مجھے اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔۔۔
تم خاور جیسے مردوں کو ڈیزرو کرتی ہو۔۔۔
اب سمجھ آتی ہے نایاب نے کیوں اسکی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے سے انکار کیا تھا۔۔۔۔
وہ بھانپ گئی تھی اسکے ارادے۔۔۔اس لیے وہ باحفاظت اپنے کردار کے ساتھ چلی گئی اور تم آکسفورڈ ڈگری ہولڈر۔۔۔ تم نے کیا کردیا اپنے ساتھ ہمارے ساتھ۔۔۔؟؟
اگر تمہیں مسئلہ تھا تمہاری عزت پر حرف آنے والا تھا کوئی تو تم گھر کے مردوں کو بتاتی۔۔۔ہم مرد باہر دنیا کے لیے مرد جانے جاتے ہیں پر اپنی فیملیز میں ہم باپ بھائی بیٹے شوہر ہوتے ہیں۔۔۔
ہم سخت مزاج ضرور ہوتے ہیں پر ہم گھر کی عزت کی حفاظت کے لیے ہر وقت چوکنیہ بھی رہتے ہیں۔۔۔خاور کے پاس خود جانے سے پہلے ایک بار کسی مرد کو بتا دیتی گھر کہ تو آج صفحہ ماتم نا بچھی ہوتی ہماری عزت کی۔۔۔
اور راحیل مامو۔۔۔۔ آج کے بعد گھر کے بچوں پر شیر کی نظر رکھیے گا ہر کوئی نایاب التمش نہیں بن سکتا۔۔۔۔”
زاران جاتے جاتے التمش صاحب کی ویل چئیر کے پاس رک گیا تھا اور پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“مامو مجھے بد دعا لگ گئی ہے۔۔۔دیکھیں جس لڑکی سے شادی کرکے عزت اور واہ واہی لینی تھی مجھے دنیا سے دوستو اور رشتے داروں سے۔۔۔۔
آج مجھے اس سب کا الٹ ملا ہے جو میں نے سوچا تھا۔۔۔”
التمش صاحب کا ہاتھ چوم کر زاران گھر سے باہر نکل گیا تھا اسی وقت۔۔۔
اس کی عزت ڈیمیجڈ ہوئی تھی وہ بھی بہت بری طرح وہ ابھی سنبھل ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پھوپھو اسلام وعلیکم گھر میں سب کے نمبر بزی جارہے خیریت تھی۔۔؟؟
امی کا نمبر بھی آف جا رہا۔۔۔”
“وہ نایاب بیٹا زاران کی شادی۔۔۔۔”
“پھوپھو زاران کو شادی مبارک ہو میں نے آپ کو اس وقت اس لیے تنگ کیا کہ میں بتانا چاہتی تھی کہ خیریت سے پہنچ گئی ہوں سب انتظامیہ اچھی ہے اور روم میٹ بھی مسلم ہے سووو کافی آسانیاں ہوگئی ہیں۔۔۔”
“نایاب بیٹا کیا تم۔۔۔”
“پھوپھو آپ رو رہی ہیں۔۔؟؟ پلیز پھو پھو یہی نصیب میں لکھا ہوا تھا۔۔
سویرا باجی ایک اچھی لڑکی ہیں زاران کی پسند ہیں سب خوش رہے گے۔۔”
“اور تم بیٹا ۔۔۔۔؟؟”
“پھوپھو میں نے کیوں نہیں خوش رہوں گی۔۔؟؟ میں نے حالات کے آگے جھکنا نہیں سیکھا جو جھک جاتے ہیں کمزور پڑ جاتے ہیں وہ خوش نہیں رہتے پھر۔۔۔پر میں کبھی خود کو حالات کے حوالے نہیں کروں گی۔۔”
وہ خاموش ہوئی تھی۔۔۔
“بیٹا وہ سویرا شادی سے۔۔۔”
“پھوپھو ابھی میں چلتی ہوں اپنا خیال رکھیے گا زاران اور سویرا کو بہت مبارکباد دیجیئے گا میری طرف سے میں۔۔اللہ حافظ۔۔۔۔”
۔
نایاب نے جلدی سے فون بند کردیا تھا۔۔۔
۔
“زاران کو بہت صدمہ لگا ہے انیسہ۔۔۔”
آفاق صاحب کمرے میں داخل ہوۓ تھے۔۔۔
“صدمہ کسے نہیں لگا آفاق۔۔؟ سویرا سے ایسی امید کسی کو بھی نہیں تھی۔۔۔”
“پر غلطی خاور کی بھی ہے اس نے کیوں بچی کو بلیک میل کیا۔۔۔”
“سویرا باہر سے تعلیم حاصل کر کے آگئی اسکے خیالات بھی باہر جیسے ہوگئے تھے۔۔۔ لڑکی ایک ہلکا سا موقع دہ دے نا کسی کو غیر کو تو پھر وہ اس لڑکی کو موقع نہیں دیتا سنبھلنے کا دنیا تو تاک لگائے بیٹھی ہوتی ہے۔۔
سویرا نے اتنی ہمت ہی کیوں بڑھنے دی اسکی۔۔۔؟؟”
انہوں نے ایک دم سے ہمت ہار دی تھی اور بستر پر بیٹھ گئی تھیں وہ۔۔۔
“آپ جانتے ہیں اسی حالت میں التمش بھائی کو دیکھا تھا میں نے۔۔۔
اور سوچا نہیں تھا میرا بیٹا بھی ایسے نظر آۓ گا اس مقام پر مجھے۔۔۔
بہت غلط ہوا جو بھی ہوا۔۔۔۔
نایاب کو ری جیکٹ کرنا سویرا کا یوں چلے جانا۔۔۔
نایاب کا چھوڑ جانا۔۔۔۔سب کچھ غلط ہوا۔۔۔
اور خاندان کی عزت۔۔۔وہ اب واپس نہیں آنے والی۔۔۔۔”
۔
انہوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔۔۔
“انیسہ بس۔۔۔تم ہمت ہار جاؤ گی تو باقی سب کو کون دیکھے گا۔۔؟ سب گھر والوں نے ہمت باندھنی ہے ایک دوسرے کی۔۔۔
غلطیوں سے انسان سیکھتا۔۔۔بچے بھی سیکھ جائیں گے مجھے یقین ہے۔۔۔”
اپنی بیگم کے ماتھے پر بوسہ دے کر چپ کروایا تھا آفاق صاحب نے انہیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“تمہیں اس پراجیکٹ میں نمبرز لینے ہیں یا نہیں نایاب۔۔۔؟؟”
نایاب کی نظریں جو اس شیٹ پر تھیں پچھلے پندرہ منٹوں سے اب اس کی پلکیں جھپکیں اور پھر سے اٹھی تھی اپنی روم میٹ کی
۔
“نمبرز لینے ہیں پر اسکا مطلب یہ نہیں میں اس کی نوکرانی بن جاؤں۔۔۔یہ کیسا رول ہوا کے اسائنمنٹ کے لیے ہم اس کی بتائی جگہ پر جائیں۔۔؟؟
“وہ سرپھری ہے نایاب۔۔۔”
“اس نے ابھی تک مجھے نہیں جانا سہی سے پھر شانزے میں اس سے بڑی سرپھری ہوں۔۔۔”
نایاب نے اپنی بات مکمل کرکے کتاب کھول لی تھی
“نایاب میڈم ٹرسٹ مئ یار اگر یہ اسائنمنٹ مکمل نا ہوئی تو تمہیں اپنا چیلنج ہارنا پڑ جائے گا اس کے آگے۔۔۔
میں یہاں کا چپا چپا جانتی ہوں کسی غلط جگہ نہیں جائیں گے۔۔اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہے تو۔۔۔”
اسکی دوست نے کتاب پکڑ کر دوبارہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تھی۔۔۔
“شانزے رات کے گیارہ بجے۔۔۔؟؟ کچھ بھی غلط ہوسکتا ہے”
“نہیں ہوگا مجھ پر یقین رکھو۔۔۔۔۔۔”
نایاب نے کچھ سوچنے کے بعد حامی بھری تھی۔۔
“تھنک یو تھنک یو۔۔۔میں ابھی کیٹ کو فون کرکے کنفرم کردیتی ہوں ہمارے وہاں جانے کی خبر۔۔۔۔”
نایاب نے کسی بات پر دھیان نہیں دیا تھا اس نے اپنی روم میٹ کے چہرے پر بے تحاشہ خوشی کو بھی نظر انداز کیا تھا جانے انجانے میں۔۔۔
۔
۔
دوپہر کا وقت کب شام اور شام کا وقت کب رات میں بدل گیا نایاب کو پتا ہی نا چلا۔۔۔
وہ نقاب کرکے ریڈی تھی ہاتھ میں کتابیں پکڑے۔۔۔
“تم نے ایسے جانا ہے۔۔؟”
نایاب نے گلے میں لٹکے ہوئے سکارف کو دیکھا اور شانزے کی ماڈرن ڈریسنگ پر سوال کیا تھا
“اور تم نے ایسے جانا ہے۔۔؟ نایاب وہ ایک پوش ایریا ہے نقاب پہن کے تو وہاں بھٹکنے بھی نہیں دیتے۔۔۔۔”
“ایکسکئیوزمی۔۔۔شانزے دیکھو میں یہاں نقاب نہیں کرتی حجاب کرتی ہوں۔۔۔پر ابھی ہم یونیورسٹی کی حدود سے باہر جا رہے ہیں سوو پلیز۔۔۔”
۔
“نہیں نایاب تم بات کو سمجھو۔۔۔ہم تینوں کو نمبرز ملنے ہیں اگر ممکن ہوتا تو میں خود چلی جاتی پر پیم کو تم جان گئی ہوگی اب تک۔۔۔؟؟”
۔
۔
۔
کچھ دیر بعد وہ ایک ایسی جگہ کی حدود میں تھے جسے دیکھتے ہی نایاب کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔۔۔
“شانزے ہم تو اسکے گھر جا رہے تھے نا۔۔۔؟؟”
“افف اندر تو چلو۔۔۔۔”
وہ نایاب کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی تھی۔۔۔
“ہیے شانز۔۔۔کم ہیئر ڈارلنگ۔۔۔۔”
ایک انگریز لڑکی نے شانزے کو اپنی طرف کھینچا تھا اور اس نے نایاب کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا پر جانے سے پہلے اوپر سیکنڈ پورشن کے ایک روم میں جانے کا کہا تھا جہاں وہ تیسری سٹوڈنٹ سے ملاقات کرنی تھی انہیں۔۔۔
۔
“نایاب پچھلے کچھ منٹوں سے کبھی شانزے کو ڈھونڈ رہی تھی تو کبھی اوپر جانے کے لیے خالی جگہ۔۔۔
اس جگہ سے زیادہ گندے اسے یہاں کے لوگوں کا وہ ڈانس لگ رہا تھا جس پر وہ آنکھیں بند کئیے بچتے بچاتے وہاں سے کیسے اوپر پہنچی وہی جانتی تھی۔۔۔۔
پر جو کمرہ اس نے کھولا اندر ڈرگز میں گرے لوگوں کی حالت دیکھ کر بند کیا اور دوسرے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔
اور اسی وقت اسکی نظر واپس نیچے گئی جہاں شانزے کچھ گرلز کے ساتھ کسی بات پر ہنس رہی تھی اور ان گرلز میں ایک وہ سٹوڈنٹ بھی تھی۔۔۔
ابھی وہ شانزے کے فریب کو سمجھ ہی رہی تھی کہ پولیس سائرن کی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔وہ چھپ گئی تھی ایک جگہ اور ہر طرف پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی ہوئی تھی
۔
“پولیس نے کلب میں رئیڈ کردی ہے۔۔”
“یااللہ زندگی میں پہلی بار دماغ کی نہیں سنی کسی غیر پر یقین کیا اور خطا کھا گئی میں۔۔۔”
نایاب کے ہاتھ پاؤں پیلے پڑ گئے تھے۔۔اسکا جسم کانپنا شروع ہوگیا تھا پولیس کے وین سائرن سے۔۔ہر طرف لوگ ڈرگ میں دھت پڑے ہوئے تھے۔۔۔
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ اس ایک جگہ پر چھپ کر بیٹھے ہوئی تھی۔۔کسی اجنبی لڑکی پر یقین کر کے اس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی آج۔۔
“وہ چھپی ہوئی ہے ایک لڑکی اسے پکڑو۔۔۔”
پولیس کے ایک آفیسر نے جیسے ہی اشارہ کیا تو نایاب جلدی سے ایک کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔
جہاں پہلے سے کچھ گورے لوگ شراب کے نشے میں گرے پڑے تھے۔۔
“ہائے بلیک بیوٹی۔۔کم ہئیر ڈارلنگ۔۔۔”
نایاب نے سکون کا سانس لیا تھا کہ سامنے کھڑے تین آدمیوں کو دیکھ کر وہ اور گھبرا گئی تھی۔۔
اس سے پہلے وہ باہر کو نکلتی اس کا ہاتھ پیچھے سے ایک گورے نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“کم ہئیر یو بچ۔۔۔”
“لئیو مئ آلون پلیز۔۔۔۔”
“ول لئیو یو آلون۔۔۔آفٹر ٹونائٹ۔۔۔کم کم۔۔۔۔”
اور زبردستی نایاب کے بازو سے اسے بیڈ کی طرف کھنچنے کی کوشش کی گئی تھی جس سے اسکی سلئیو بازو کا کپڑا پھٹ گیا تھا۔۔
اور یہ کافی تھا اس میں اتنی انرجی لانے کے لیے کہ اس نے زور سے دھکا دیا تھا اسے اور ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“یو بچ۔۔۔”
پر وہ اسے دھکا دے کر وہاں سے باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔
“یا اللہ بس ایک بار۔۔۔مجھے باعزت یہاں سے نکال دے میرے مالک۔۔ میں کبھی زندگی میں ایسی غلطی نہیں کروں گی۔۔ میں ایسے کسی دوست پر یقین کر کے عزت کی چار دیواری نہیں چھوڑ کر اس وقت باہر جاؤں گی۔۔۔”
باہر ابھی بھی پولیس جانوروں کی طرح اس لڑکے لڑکیوں کو وہاں سے پولیس وین میں ڈال رہی تھی۔۔
“ہئیے یو۔۔یو آر انڈر اریسٹ مس۔۔”
پولیس آفیسر نایاب کی طرف بڑھا تھا پر اندھیرے کی وجہ سے نایاب کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا میں۔۔۔”
نایاب کو پیچھے سے ایک ویٹر نے دوسری طرف کھینچ لیا تھا جس پر چیخ نکل گئی تھی اس کی اسے لگا تھا اس کمرے کے آدمی نے اسے پیچھے پکڑ لیا۔۔۔
“مجھے جانے دو پلیز۔۔۔میں”
“چپ۔۔۔ایک دم۔۔۔ جس پولیس والے کو تم اپنی بے گناہی کا بتانا چاہتی ہو۔۔تمہارے اس بولنے پر بھی تمہیں چارج کیا جائے گا اور اور ایک ہفتہ لاک اپ میں رکھا جائے گا۔۔۔چپ کر کے میرے ساتھ چلو۔۔۔”
وہ دونوں پلر کے پیچھے چھپ گئے تھے۔۔۔نایاب نے اس ویٹر کی اردو سن کر سکون کا سانس لیا تھا پر ایک دم سے دونوں کے درمیاں فاصلہ بھی بنا لیا تھا۔۔
جس پر سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی تھی۔۔۔
ایک طنزیہ مسکراہٹ۔۔۔
“بہت اچھے۔۔یہاں دو قدموں کا فاصلہ برداشت نہیں ہوا۔۔اور یہ جتنے جسموں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے آپ اس پورشن تک پہنچی ہیں وہ قابلِ برداشت تھا۔۔؟”
“مجھے۔۔۔می کسی سے ٹکڑا کر نہیں آئی یہاں تک۔۔پلیز۔۔مجھے جانے دیجیئے۔۔۔”
وہ پلر سے باہر کی جانب بڑھی تھی کہ اس ویٹر نے اسے واپس پلر کے پیچھے کھینچا تھا۔۔
“یہ پولیس سب کو ساتھ لیکر جائے گی۔۔ہمیں اس بلڈنگ کے خفیہ راستے سے باہر جانا ہوگا میرے ساتھ چلو۔۔۔”
“نہیں۔۔مجھے اب کسی پر یقین نہیں کرنا۔۔آج کی رات ایک ٹھوکر کافی ہے۔۔
وہ پولیس والے تو جیل میں ڈالے گے۔۔۔اگر کسی مرد پر بھروسہ کر کے پھر سے ہتھیار ڈال دئیے تو میری عزت کو میری غیرت کے ساتھ ساری زندگی کی سزائے موت ہوجائے گی۔۔۔”
اسکی بات پر وہ شخص حیرت زدہ ہوگیا تھا سامنے کھڑی لڑکی کی باتوں میں اتنی تاثیر تھی۔۔
“یہ پولیس والے صرف جیل میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔کھلے لفظوں میں وضاحت میں کرنا نہیں چاہتا محترمہ۔۔آپ یقینا یہاں کی نہیں ہیں۔۔۔پاکستانی ہیں۔۔؟ چلیئے میرے ساتھ۔۔۔”
اور نایاب نہیں نظریں اٹھا کر دیکھا تھا۔۔کچھ پل کو اس شخص کی خوبصورتی اور کلائی میں گھڑی دیکھ نایاب کی نظریں اسکے کپڑوں پر گئی تھی۔۔۔
“آپ کو کیسے پتا یہاں خفیہ راستہ ہے۔۔”
“ویٹر ہوں میں یہاں۔۔۔وہ بھی بہت پرانا جلدی چلے اور۔۔۔”
پیچھے سے ٹارچ لائٹ پر نایاب نے جلدی سے اس شخص کو فالو کرنا شروع کردیا تھا پر پھر اسکی نظریں اپنے آئی ڈی کارڈ پر پڑی تھی۔۔جو اسی پلر کے پاس گرا تھا۔۔
“یا اللہ میرا کارڈ۔۔۔اس پر میری انفارمیشن ہے میرا ہاسٹل ایڈریس ۔۔”
نایاب رک گئی تھی اور اسکی بات پر وہ شخص بھی پر بہت دیر ہوگئی تھی جب ایک پولیس آفیسر نے وہ کارڈ اٹھایا تھا۔۔۔
“سب ختم ہوجائے گا وہ لوگ مجھے ڈپورٹ کر دیں گے میں۔۔۔”
“میں دیکھتا ہوں۔۔اپنا چہرہ کور کرو۔۔اگر تم نہیں چاہتی کہ لوگ تصاویر لیں تمہاری۔۔
اس جگہ پر عزت سے آئی ہو پر یہاں سے واپس باہر تم اکیلی جاؤ گی بنا کسی عزت کے۔۔۔”
اس نے اپنی جیب سے ایک رومال نکال کر دیا تھا اسے۔۔”
اور وہ جلدی سے اس آفیسر کے پاس گیا تھا جو ابھی اس کارڈ کو اٹھا چکا تھا۔۔۔
“آفیسر۔۔۔”
“یس یو آر۔۔۔”
پر اس ویٹر نے ایک ضرب لگا دی تھی۔۔اسکے ایک مکے سے وہ آفیسر نیچے گرگیا تھا۔۔
اور وہ کارڈ کھینچ کر نایاب کی جانب بڑھا تھا۔۔
“چلو اب۔۔۔یہ مت کہنا کہ پرس رہ گیا۔۔لپ اسٹک رہ گئی۔۔۔”
نایاب نے اس کارڈ کو چھین لیا تھا اس سے پہلے وہ نایاب کی کوئی بھی انفارمیشن پڑھتا۔۔۔
وہ لوگ وہاں سے بھاگتے ہوئے اس خفیہ راستے سے باہر آگئے تھے۔۔
باہر ایک بلیک گاڑی کھڑی تھی جس کا دروازہ ریموٹ سے اوپن کر کے اس شخص نے نایاب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“چلو بیٹھو۔۔۔جلدی۔۔”
“یہ گاڑی چوری کی ہے۔۔؟؟”
“وٹ۔۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔”
وہ گاڑی میں بیٹھنے کے بجائے قہقہ لگاتے ہوئے نایاب کے سامنے کھڑا ہوا تھا
“تم ویٹر کے ڈریس میں ہو۔۔اور یہ گاڑی جو اتنی مہنگی لگ رہی ہے۔۔میں ایک مصیبت سے نکل کر دوسری مصیبت میں نہیں پھنس سکتی۔۔۔”
نایاب نے گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر دیا تھا اور پیچھے ہوگئی تھی اس ویٹر سے۔۔۔
“اوووہ۔۔۔یہ ابھی اتار کر پھینک دیتے ہیں۔۔۔ویسے بھی ضرورت نہیں رہی۔۔۔”
اس نے جیسے ہی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع کئیے تھے نایاب نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
“مجھے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ تم بھی ان جیسے ہو۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔بعد میں سمجھ لینا اب کھول لو آنکھیں۔۔۔”
اور نایاب نے غصے سے آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا تھا۔۔۔اور سامنے کھڑا شخص ایک مہنگے ترین تھری پیس سوٹ میں کھڑا تھا وہ ویٹر کا ڈریس نیچے گرا پڑا تھا۔۔۔
نایاب پوری طرح حیران تھی۔۔۔
“میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔۔میری ہیلپ کرنے کے لیے شکریہ پر میں اکیلی نہیں جا سکتی آپ کے ساتھ گاڑی میں۔۔۔”
۔
اور اس شخص نے غصے سے اپنی مٹھی بند کر لی تھی۔۔۔
“تمہیں یہاں رات کے اس وقت اکیلی آنے میں مسئلہ نہیں تھا پر اب میرے ساتھ جانے میں محرم نا محرم یاد آگیا ہے۔۔؟؟”
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
“حجاب کر لیا پر نقاب نہیں کیا تم نے۔۔یہاں کسی پر یقین کر کے آگئی۔۔پر کسی پر یقین کر کے واپس نہیں جانا چاہتی۔۔آنکھوں میں شرم ہے پر جو مدد کرنا چاہتا ہے اسکے لیے یقین نہیں۔۔
تم لڑکیاں بھی کمال کی ہو۔۔تم لڑکیوں کے گارڈز ہمیشہ ہائی ہوتے ہیں پر کہیں ایک جگہ چونک جاتی ہی چھٹی حس۔۔۔؟؟
آج کی لڑکی کو کسی لڑکے سے زیادہ اس کی ہم عمر لڑکی سے خطرہ ہے ابھی میڈیا اور پولیس کی گاڑی یہیں آتی ہوگی چلو اب۔۔۔”
“میری غلطی ہے۔۔میں بھگت چکی ہو اندر جس قرب سے گزری ہوں۔۔پر میں ایک غلطی بار بار نہیں دہراتی۔۔
اور آج کی لڑکی کو ہر اس سے خطرہ ہے جو اسکا محرم نہیں ہے۔۔میں نہیں بیٹھ سکتی اس گاڑی میں۔۔
مجھے تنہا اکیلے جانا منظور ہے۔۔بس سٹینڈ پاس ہی ہوگا۔۔مجھے نہیں پتا تھا یہاں دوست معیار سے گرے ہوئے ہیں۔۔مجھے میرا سبق مل گیا ہے۔۔”
نایاب نے اس رومال سے منہ کور کرلیا تھا اور چلنا شروع کردیا تھا
“ہم اس گاڑی میں اکیلے نہیں ہیں۔۔۔نہیں یقین۔۔؟ آؤ دیکھاتا ہوں ۔۔”
نایاب چلتے چلتے رک گئی تھی۔۔اور وہ شخص گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا اور نایاب کے پاس گاڑی کھڑی کردی تھی۔۔
“یہ دیکھو۔۔۔”
اس نے ریموٹ سے گاڑی کی ڈکی کھولی تھی۔۔۔ نایاب اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی پر نایاب کی پلیکیں ضرور اٹھی تھیں۔۔اور گاڑی کی ڈکی میں ایک آدمی کو رسی سے باندھ کر رکھا ہوا تھا۔۔اسکے منہ پر ٹیپ بندھی ہوئی تھی۔۔ ڈکی کھلنے پر وہ آدمی ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔۔جس پر اس شخص نے پھر سے ڈکی بند کر دی تھی۔۔
“سوری چارلی۔۔”
اس نے یہ کہہ کر پھر سے نایاب کی طرف دیکھا تھا جو اب گھبرا گئی تھی۔۔۔
“تمہاری مدد نہیں چاہیے۔۔۔”
نایاب نے جلدی جلدی چلنا شروع کردیا تھا۔۔
“یا اللہ یہ لڑکی پاگل ہے کیا۔۔۔۔اوہ بی بی آگے روڈ پر کچھ پاگل کتے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔”
پر نایاب نے غور نہیں کیا تھا۔۔۔
“یا اللہ میں نے آج پہلی بار ایسا قدم اٹھایا اس لڑکی پر یقین کیا جو جھوٹ بول کر مجھے یہاں لے آئی۔۔میں نے جو غلطی آج کر دی میں ایسے بدنام زمانہ جگہ پہنچ گئی۔۔۔اور پھر بچ کر آگئی یا اللہ مجھے معاف فرما دے میرے مولا۔۔۔”
اسکی آنکھیں اشکبار تھیں۔۔۔
“اوکے فائن گو ٹو ہیل۔۔۔۔”
وہ شخص یہ کہتے ہوئے گاڑی پاس سے لے گیا تھا نایاب کے۔۔۔
“اب ایسے لوگوں پر یقین نہیں کرنا مجھے۔۔۔ سہی کہا اس نے جب اپنی عقل استعمال کرنی ہوتی ہے تب ہم لڑکیاں یقین کر لیتی ہیں۔۔
رات کے اس پہر نکلنے والی لڑکیاں چاہے کتنی ہی مجبوری میں کیوں نا ہوں۔۔ایسے جگہوں پر پہنچنے کے بعد لڑکیاں واپس گھروں کو تو لوٹ جاتی ہوں گی پر بنا عزت کی۔۔”
وہ اسی رومال سے اپنا چہرہ صاف کر رہی تھی اس کے سامنے کچھ کتے آگئے تھے۔۔ جو شکاری کتے تھے عام کتوں سے زیادہ بڑے خونخار لگ رہے تھے۔۔۔ نایاب نے اپنا دھندلا چہرہ صاف کیا تھا سب طرف سے کتوں کے بھونکے کی آوازیں آنا شروع ہوگئی تھی۔۔
اور اس پر حملہ کرنے کے لیے وہ کتے لپکے تھے۔۔۔اور نایاب کے پاؤں جم گئے تھے اسی جگہ۔۔۔
اور پھر دوسری طرف سے وہی بلیک گاڑی پوری سپیڈ سے نایاب کی طرف بڑھی تھی۔۔۔جس کی سپیڈ سے وہ کتے ڈر کے پیچھے ہوگئے تھے وہ کتے۔۔۔
“اگر اب تم گاڑی میں نا بیٹھی نا تو یاد رکھنا یہ کتے ایک بوٹی بھی نہیں چھوڑیں گے تمہاری۔۔
یہ ایریا رسیٹریکٹ ہے پیدل چلنے والوں کے لیے۔۔۔”
اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔
“بیک سیٹ کا دروازہ اوپن کیجئیے۔۔۔”
“اففف سیریسلی۔۔۔؟؟ ڈرائیور ہوں۔۔؟ آج تک کسی کو پیچھے بٹھا کر گاڑی نہیں چلائی میں نے۔۔۔”
“تو پھر جائیے یہاں سے۔۔۔”
اور پیچھے کا دروازہ کھل گیا تھا نایاب جیسے ہی گاڑی میں بیٹھ گئی تھی گاڑی کے دروازے بند ہوگئے تھے اور ان کتوں نے بند دروازوں پر پنجے مارنا شروع کر دئیے تھے۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔”
نایاب نے آنکھیں بند کر کے کچھ سورتیں پڑھنا شروع کر ی تھیں۔۔۔
اور سامنے گاڑی چلاتے شخص نے نایاب کے چہرے کو پوری طرح سے دیکھا تھا۔۔
“آپ۔۔ کا نام۔۔؟؟”
نایاب نے نظریں نیچی کر لی تھی۔۔
“جو رومال آپ نے اپنے آنسوؤں سے بھگودیا ہے اس پر اس ویٹر کا نام نقش ہے۔۔۔”
ویٹر لفظ پر اس شخص کے لہجے میں ایک مسکان آویزاں تھی۔۔ نایاب نے رومال کو پوری طرح کھولا تو ایک نام لکھا ہوا تھا جو اس نے بہت آہستہ آواز میں لیا تھا
“افنان یوسف”
۔
“جی محترمہ اب اپنا ایڈریس دے دیجیئے۔۔۔تاکہ میں آپ کو ڈراپ کرکے اپنے گھر کی راہ لوں۔۔۔”
نایاب نے ہوسٹل ایڈریس چھاپا لیا تھا اور پاس رینٹ کے ہوسٹل کا ایڈریس دے دیا تھا وہ اپنا اصل ایڈریس نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔۔
۔
اس شخص نے اور تحقیقات کے لیے پیچھے نظر گھمائی تھی پر اس کے موبائل کی رنگ سے اس نے واپس آگے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔
۔
“مجھے اب یہ بتا ایسے گھر سے باہر رہنا باتنے سگریٹ پینا کیسا حل ہے۔۔؟؟”
بلوتوتھ ڈیوائس سے وہ باآسانی سب سن پا رہا تھا
“تو نے خود کانٹے چنے تھے۔۔۔۔اب تو کیوں یونیورسٹی فون کر کے اس بیچاری کی زندگی خراب کروانا چاہتا ہے۔۔۔؟ “
“بسس روک دیں۔۔۔”
نایاب نے کہا تھا اور جلدی سے اتر گئی تھی گاڑی سے جیسے ہی بریک لگائی تھی افننان نے۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ لڑکی چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کا دل کر رہا تھا کیا۔۔؟؟”
“خدا حافظ۔۔۔۔”
وہ بھاگ گئی تھی وہاں سے۔۔۔
“اوو ہیلو نا شکریہ ادا کیا نا بتایا کہ پہنچی کیسے تھی وہاں۔۔۔اور چاۓ کی دعوت ہی دے دیتی۔۔۔۔”
افنان پیچھے سے چلایا تھا جس پر فون کی دوسری طرف سے ہنسنے کی آواز پر اس نے گاڑی پھر سے سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“زیادہ دانت نا نکال یار۔۔۔”
“ہاہاہاہا کون تھی وہ۔۔؟؟ اور تو کب سے اپنی مہنگی گاڑیوں میں لڑکیوں کو ڈراپ کرنا شروع ہوگیا۔۔۔؟؟”
“زاران عابدی اگر تم نے ہنسنا بند نہیں کیا تو میں فون رکھ دوں گا۔۔۔”
اور زاران نے اپنی ہنسی بند کر دی تھی۔۔۔
“اچھا اب سویرا بھابھی میرا مطلب ہے وہ کیسی ہے۔۔۔؟؟”
“وہ خود ٹھیک ہے ہمارا جینا حرام کر رہی کبھی کلائی کاٹ لوں گی تو کبھی کچھ کر لوں گی۔۔۔”
“اور تم اپنی کزن کا جینا حرام کروا رہے اسکی یونیورسٹی میں اپنے دوستوں سے ریگنگ کروا کر۔۔۔؟؟؟”
افنان نے ایک بلڈنگ کے باہر گاڑی روک دی تھی اندر سے ایک گارڈ کو چابی دے کر ڈکی کی طرف اشارہ کیا تھا جو وہ سمجھ گیا تھا۔۔۔
“میں بس چاہتا ہوں وہ اس پڑھائی اس یونیورسٹی وہاں کے ماحول سے تنگ آجاۓ مجھے وہ یہاں پاکستان میں نظر آۓ۔۔۔”
اور ایک سگریٹ سلگایا تھا اس نے۔۔۔
“کمال ہے ویسے۔۔پہلے اسے دور کردیا۔۔۔پھر پاس بلانا چاہتے ہو۔۔۔
پہلے جو گھر میں تم پر مری جا رہی ہے اسے تو ہینڈل کر لو زاران بابو۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اس نے اپنے لیے وہ راستہ خود چنا تھا اب خاور کو تلاش کر رہا ہوں جس دن مل جاۓ گا نکاح پڑھا دوں گا مولوی صاحب سے۔۔۔۔”
۔
اس کی بات پر افنان بھی خاموش ہوگیا تھا۔۔۔۔
“اچھا افنان مجھے یار ایک بات بتا۔۔۔۔”
“تو مسٹر جینئس تجھے کب سے ضرورت پڑ گئی کچھ پوچھنے کی۔۔۔؟؟
اچھا پوچھ کیا پوچھنا ہے۔۔۔؟؟”
۔
“کیا سیاہ رنگت والے لوگ اتنے دلکش اور پرکشش بھی ہوسکتے ہیں دیکھنے میں۔۔۔؟؟”
زاران عابدی کی سانسیں اٹک گئی تھی کچھ پل کو اس بالکونی اسکی نگاہیں نیچے اس تالاب کی طرف گئیں تھیں جہاں اب کوئی نہیں تھا۔۔۔
“سیاہ رنگ سے نفرت ہی اتنی کی کہ کبھی موقع نے ملا پوری طرح سے جی بھر کے دیکھنے کا اور اگر دیکھا بھی تو اور نفرت ہوگئی مجھے۔۔۔”
زاران کے جواب پر افنان نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔
“زاران مجھے نہیں پتا کہ ان چار سالوں میں کب تمہاری سوچ خوب سیرت سے خوب صورتی پر چلی گئی پر اب فقط اس لڑکی کو پانے کے لیے یہ سب نا کرو۔۔۔ اپنے آپ کو پہلے اس سوچ پر آمادہ کرو کے تم نے اسے اپنانا کیوں ہے۔۔؟؟ سویرا کو نیچا دیکھانے کے لیے یا اپنی خوشی کے لیے۔۔؟؟
ریگنگ سے بھی وہ پاکستان نہیں آئی گی تم دیکھ لینا
جو لوگ اتنے سب ہونے کے بعد بھی نہیں ٹوٹتے وہ پریشانیاں ملنے پر اور مظبوط ہوجاتے ہیں۔۔۔”
۔
زاران کی خاموشی پر خدا حافظ کہہ کر افنان نے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“میں بس اپنا روم میٹ چینج کرنا چاہتی ہوں پلیز مجھے کوئی بھی دوسری روم میٹ دے دیں پر یہ روم نہیں۔۔۔یا پھر میرا روم ہی چینج کر دیں۔۔۔۔”
نایاب کل رات سے اپنا سامان پکڑے ریسیپشن کے سامنے بیٹھی رہی تھی اور اب جو کہ رولز کے خلاف تھا پر نایاب کو کل رات سے یہاں دیکھ کر ریسیپشن نے آگے سٹاف میں سفارش کی تھی اور نایاب کو یقین دہانی کرائی تھی اگلے کچھ گھنٹے میں نیا روم دینے کی۔۔۔۔
“نایاب پلیز ایم سوری میں نے جھوٹ بولا۔۔۔یار میں لالچ میں آگئی تھی اس پارٹی میں جانے کے پلیز واپس چلو۔۔۔”
شانزے نایاب کا سامان اپنی طرف کھینچا تھا جس پر ریسیپشن لیڈی نے بری طرح جھڑک دیا تھا اسے۔۔۔اور واپس روم میں جانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔
“تھینک یو سووو مچ میم۔۔۔۔۔”
نیو روم کی چابی ملنے پر نایاب بہت خوش ہوئی تھی اور سامان اپنے نئے کمرے میں لے گئی تھی۔۔۔
اس نے شانزے پر ایک بار یقین کر کے جو غلطی کر دی تھی وہ اسے دہرانا نہیں چاہتی تھی ہرگز۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“سٹوڈنٹس ہمارے اس بار کی سکالرشپ میں جن 3 لوگوں نے سپانسرشپ کی ہے ان میں سے تیسرے پرسن جو کہ ینگ بزنس مین بھی ہیں
مسٹر افنان یوسف۔۔۔۔”
بہت بڑی انگلش اسپیچ کے بعد جب انہوں نے ایک مسلم نام لیا تو تالیوں کی آواز سے آڈیٹوریم گونج اٹھا تھا سب سٹوڈنٹ جو سکالرشپ والے آج یہاں جمع ہوۓ تھے سب اعزاز میں کھڑے ہوئے تھے سواۓ
نایاب التمش کے۔۔۔۔
۔
“تھینکس مسٹر برینڈن گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔۔”
افنان نے بہت مختصر سی باتیں کی تھی اور واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
جس پر نایاب اٹھ کر وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
“ایک ایسے انسان کی سپانسرشپ پر مجھے سکالرشپ ملا ہے جو لوگوں کو اغواء کرتا ہے۔۔۔؟؟
رات کے وقت گناہ اور دن کے وقت اچھے بننے کا ڈھونگ۔۔۔؟؟”
نایاب پارکنگ میں چلی گئی تھی اسے اب انتظار تھا افنان یوسف سے فیس ٹو فیس بات کرنے کا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آئی وانٹ آل دا ڈیٹیل آباؤٹ۔۔۔۔”
“تم رات کے اندھیروں میں بڑے لوگوں کو اغواء کر کے صبح تاوان مانگتے پھرتے ہو۔۔۔؟؟”
اس نایاب نے راستہ جوں ہی روکا تو افنان کے دو گارڈ الرٹ ہوگئے تھے پر نایاب کی اردو کسی کو سمجھ نہیں آئی تھی سواۓ افنان کے۔۔۔
“ایکسکئیوزمی کیا میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔؟؟”
“مسٹر افنان یوسف آپ چاہے مجھے نا جانتے ہوں میں آپ کو اچھے سے جان گئی ہوں۔۔۔۔”
نایاب نے اپنی بکس کے درمیان سے وہ رومال نکال کر اسکے سامنے کیا تھا جس پر افنان کو کچھ دن پہلے کی وہ رات یاد آئی تھی۔۔۔۔
“اووو۔۔۔ویسے گلاب کا پھول تو نا تھا رومال میرا جو کتاب میں چھپایا ہوا۔۔۔”
افنان کی بات پر نایاب نے وہ رومال مال اسکی طرف پھینکا تھا۔۔۔
“نیوز پیپر میں پڑھی تھی میں نے وہ خبر چارلس نامی وہ بزنس مین جسے آپ کی گاڑی کی ڈکی میں دیکھا تھا میں نے۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔؟ اس شخص کی بیٹی جو کہ میری کلاس میں ہے وہ لوگ پریشان ہوگئے ہیں اور آپ دندناتے گھوم رہے ہیں۔۔؟ ابھی بھی وقت ہے واپس چھوڑ دیں ورنہ پولیس کو بتا دوں گی۔۔۔۔”
بنا ڈرے اس نے طیش میں آکر بہت بڑی بات کہہ دی تھی جس پر افنان کے چہرے پر اب مسکان نہیں ایک غصہ نمودار ہوگیا تھا۔۔۔۔
“یہاں کی پولیس افنان یوسف کے آگے پیچھے ہوتی ہے۔۔۔
میں نے زندگی میں پہلی بار کسی انجان کی مدد کی اور مجھے شکریہ کرنے کے بجاۓ مجھے دھمکا رہی ہو۔۔۔؟؟
میں پچھتایا نہیں ہوں کبھی۔۔۔مجھے مجبور نا کرو کہ میں اس رات تمہاری مدد کرنے پر پچھتاؤں۔۔۔
کیوں کہ بات پولیس کی نہیں بات یہ ہے کہ اگر میں نے تم پر یقین کیا تھا تمہارا یہ فرض تھا کہ تم مجھ پر ایسے الزام تراشی کرنے کے بجائے خاموش رہو۔۔۔
جو یہاں باقی سب کرتے ہیں۔۔۔وہ کرو پڑھو اور خاموش رہو۔۔۔۔ یہاں دوسروں کی زندگی میں دخل دو گی تو اپنا یہاں رہنا محال کرلو گی مس۔۔؟؟؟”
افنان کے اشارے پر ڈرائیور نے اسکی گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“اگر بچا لیا تو آپ نے اپنے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں لکھوا دی۔۔۔
اب آپ گناہ کے کام کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟؟
جسے آپ نے کڈنیپ کیا وہ کسی کا باپ بھائی بیٹا شوہر بھی ہے۔۔۔”
“وہ میری سردرد نہیں ہے لڑکی۔۔۔۔ایک اور بات اس رات کا ذکر کسی سے بھی کرو گی تو یہاں کے لوگ مجھ سے کوئی سوال نہیں کریں گے۔۔۔
پر تمہارے لیے مشکلات ضرور پیدا ہوجائیں گی ہوسکتا ہے تمہیں یہ لوگ نکال دیں یہاں سے۔۔۔
ہوسکتا ہے تم پر کیس بن جاۓ کوئی۔۔۔؟؟؟”
افنان اپنی گلاسیز لگائے وہاں سے چلا گیا تھا بنا پیچھے دیکھے۔۔۔۔
“یہ تو تمہیں اس وقت بتاؤں گی جب تمہارے اس گھر کا پتا میں اس لڑکی کو دوں گی جس کے والد کو تم نے کڈنیپ کیا ہوا ہے افنان یوسف۔۔۔
میرا وہ وہ موبائل ابھی بھی تمہاری اسی گاڑی میں موجود ہے۔۔۔”
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: