Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Episode 9

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – قسط نمبر 9

–**–**–

۔
یہاں کی پولیس افنان یوسف کے آگے پیچھے ہوتی ہے”
میں نے زندگی میں پہلی بار کسی انجان کی مدد کی اور مجھے شکریہ کرنے کے بجاۓ مجھے دھمکا رہی ہو۔۔۔؟؟
میں پچھتایا نہیں ہوں کبھی۔۔۔مجھے مجبور نا کرو کہ میں اس رات تمہاری مدد کرنے پر پچھتاؤں۔۔۔
کیوں کہ بات پولیس کی نہیں بات یہ ہے کہ اگر میں نے تم پر یقین کیا تھا تمہارا یہ فرض تھا کہ تم مجھ پر ایسے الزام تراشی کرنے کے بجائے خاموش رہو۔۔۔
جو یہاں باقی سب کرتے ہیں۔۔۔وہ کرو پڑھو اور خاموش رہو۔۔۔۔ یہاں دوسروں کی زندگی میں دخل دو گی تو اپنا یہاں رہنا محال کرلو گی مس۔۔؟؟؟”
افنان کے اشارے پر ڈرائیور نے اسکی گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“اگر بچا لیا تو آپ نے اپنے نامہ اعمال میں کچھ نیکیاں لکھوا دی۔۔۔
اب آپ گناہ کے کام کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟؟
جسے آپ نے کڈنیپ کیا وہ کسی کا باپ بھائی بیٹا شوہر بھی ہے۔۔۔”
“وہ میری سردرد نہیں ہے لڑکی۔۔۔۔ایک اور بات اس رات کا ذکر کسی سے بھی کرو گی تو یہاں کے لوگ مجھ سے کوئی سوال نہیں کریں گے۔۔۔
پر تمہارے لیے مشکلات ضرور پیدا ہوجائیں گی ہوسکتا ہے تمہیں یہ لوگ نکال دیں یہاں سے۔۔۔
ہوسکتا ہے تم پر کیس بن جاۓ کوئی۔۔۔؟؟؟”
افنان اپنی گلاسیز لگائے وہاں سے چلا گیا تھا بنا پیچھے دیکھے۔۔۔۔
“یہ تو تمہیں اس وقت بتاؤں گی جب تمہارے اس گھر کا پتا میں اس لڑکی کو دوں گی جس کے والد کو تم نے کڈنیپ کیا ہوا ہے افنان یوسف۔۔۔
میرا وہ وہ موبائل ابھی بھی تمہاری اسی گاڑی میں موجود ہے۔۔۔”
۔
نایاب اسی غصے کے عالم میں واپس ہوسٹل روم میں آ گئی تھی
اب اسے موقع چاہیے تھا وہ کیسے پولیس کو اپروچ کرے پر وہ اتنی بیوقوف بھی نہیں تھی اسے پتا تھا اگر افنان یوسف نے کہہ دیا کہ پولیس اس کے آگے پیچھے گھومتی ہے تو یہ بات سچ ہوگی اس لیے اب اسے اپنی کلاس فیلو لڑکی کو اپرووچ کرنا ہوگا جو اس چارلس کی بیٹی بھی ہے۔۔
“اب جاؤں یا کل۔۔؟ کس سے شئیر کروں۔۔؟ روہی سے۔۔؟؟ کون ہوگا جو میری مدد کرے گا۔۔؟؟ مجھے خود ہے اس لڑکی سے بات کرنی ہوگی۔۔۔”
نایاب روم سے نکل کر ریسیپشن میں گئی تھی اور سٹاف لیڈی سے ریکویسٹ کر کے اس لڑکی کا نمبر لے لیا تھا۔۔
۔
۔
“ہممم ابھی کے لیے دیکھتی ہوں پھر کچھ کرتی ہوں۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایک ہفتے بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
“کم آن نایاب میں شانزے نہیں ہوں جو تمہیں کسی غلط جگہ لے جاؤں گی یارا یہ ہم روم میٹس کا سٹوڈیو ہے بہت مزہ آئے گا ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی گرلز ہیں سب”
اور روہی نایاب کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر لے گئی تھی
“پر گھر سے کال آنی ہے ویڈیو۔۔۔سب انتظار کر رہے ہوں گے روہی”
“ابھی سب کو ویٹ کرنا ہوگا۔۔۔”
روہی نے بڑے سے ہال نما کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔
“سن رہا ہے نا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔رو رہی ہوں میں۔۔۔”
دروازہ کھلنے پر ہی اندر سے ایک گانا گاتی آواز نے سب کے قہقے نکلوا دئیے تھے۔۔۔
“نہیں سن رہا ہوگا باتھروم سنگر۔۔۔”
دوسری لڑکی نے مائیک چھین لیا تھا
“اپنے کرم کی کر ادائیں۔۔۔کردے ادھر بھی تو نگاہیں۔۔۔”
“اتنا بےسورا گانا توبہ۔۔۔”
روہی نے دونوں سے مائیک چھین لیا تھا۔۔۔
“ان دونوں کی آوازوں سے اس نے ضرور رونا شروع ہوجانا”
سب گرلز پھر سے ہنسی تھی۔۔
“گرلز میٹ اوور نیو روم میٹ۔۔نیو سٹوڈنٹ سب ویلکم کریں۔۔ شانزے کے چنگل سے بچتے بچاتے ہمارے پورشن تک پہنچی ہیں۔۔۔”
روہی کے تعارف پر سب نے نایاب کو بہت اچھے طریقے سے ویلکم کیا تھا
اور کوئی بات شروع کرتا نایاب کا مابائل بجنا شروع ہوگیا تھا۔۔
“روہی گھر سے کال لیپ ٹاپ سے ویڈیو کال پر بات کرنی ہے آپ سب جاری رکھیں۔۔”
نایاب نے ایکسکئیوز کیا تھا اور قدم واپس موڑ لئیے تھے۔۔۔
“زاران عابدی کو کون سننا چاہے گا۔۔؟؟”
ایک لڑکی نے ایک بڑی سے سکرین کو آن کرتے ہو پوچھا تھا۔۔اس ہال میں موجود ہر لڑکی نے پرجوشی سے ہاتھ کھڑے کئیے تھے اپنے شور کے ساتھ
۔
نایاب کے قدم رک گئے تھے باہر جاتے ہوئے۔۔۔
“مجھ کو ارادے دے،، قسمیں دے وعدے دے۔۔
میری دعاؤں کے اشارے کو سہارے دے۔۔
دل کو ٹھکانے دے،،،نئے بہانے دے۔۔۔
خوابوں کی بارشوں کو ،،،موسم کے پیمانے دے۔۔۔”
زاران عابدی بہت سے سٹوڈنتس کے ساتھ سٹیج پر ہاتھ میں گٹار پکڑے گنگنا رہا تھا
اور جب اس سکرین سے زاران نے ہاتھ کے اشارے سے بلایا تو نایاب کے دو قدم بڑھے تھے۔۔پر دیکھتے ہی دیکھتے نیچے سٹیج سے ایک لڑکی سیڑھیاں چڑھ کر زاران کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی
“سویرا۔۔۔”
نایاب کے قدم رک گئے تھے۔۔۔
“یہ سنئیرز تھے اس یونیورسٹی کے ۔۔۔”
ایک لڑکی نے نایاب کو بتایا تھا۔۔۔
“سن رہا ہے نا تو۔۔۔۔کیوں رو رہا ہوں میں۔۔”
نایاب کے ہاتھ میں پکڑے موبائل میں پھر سے وائبریشن ہوئی تھی۔۔
پر اس کی نظریں ہٹ نہیں پا رہی تھی زاران عابدی سے جو اتنا خوش نظر آرہا تھا۔۔۔
۔
نایاب وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔اور روم میں جا کر اپنا لیپ ٹاپ اوپن کیا تھا اور گھر کال ملائی تھی ویڈیو۔۔۔اسے اتنا تو پتا تھا سب ایک ساتھ اس سے بات کرنا چاہتے ہوں گے اور اسے یہ بھی پتا تھا اب تک زاران اور سویرا گھوم پھیر کر واپس آگئے ہوں گے۔۔۔
وہ ڈری بھی تھی۔۔پر وہ فیملی سے بات بھی کرنا چاہتی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب باجی۔۔۔۔
نایاب بیٹا۔۔۔
نایاب۔۔۔”
ویڈیو کال کنیکٹ ہونے پر لونگ روم میں سب بچے اور بڑوں نے ایک ساتھ کہا تھا۔۔۔
التمش صاحب ہاتھ ہلانے کی کوشش کر رہے تھے تبھی انیسہ بیگم نے انکا ہاتھ اوپر کیا تھا۔۔
“اسلام وعلیکم ابو۔۔۔”
نایاب کی نظریں سب سے پہلے اپنے والد محترم پر پڑی تھی۔۔۔
“پھپھو پھوپھا جی۔۔چاچو جان چچی جان اسلام وعلیکم۔۔۔”
نایاب نے سر پر دوپٹہ لے لیا تھا۔۔اسی وقت زاران بھی روم میں آگیا تھا نایاب کی سکرین کے سامنے آکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“نایاب باجی آپ تو بہت اچھی لگ رہی ہیں اس ڈریس میں “
چھوٹی کزن نے جب کہا تو سویرا چائے کے کپ والی ٹرے لے آئی تھی اور سب کو دینے لگی تھی جب وہ زاران کے پاس آئی تو زاران نے غصے سے اسے دیکھا تھا پر اسکا وہ دیکھنا نایاب کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی تھی اسکی آنکھیں نم سی ہوئی تھی۔۔۔
“ابو آپ کیسے ہیں۔۔؟؟ دیکھیں آپ کی بیٹی اس یونیورسٹی میں جہاں آپ اسے دیکھنا چاہتے تھے ابو آپ خوش ہیں۔۔؟؟”
بھری ہوئی آنکھوں سے انہوں نے بے ساختہ سر ہلا دیا تھا۔۔۔
“پھو پھو امی نظر نہیں آرہی ہیں وہ ٹھیک ہیں۔؟”
نایاب نے بلآخر پوچھ لیا تھا یاسمین بیگم کی غیر وجودگی جس پر انیسہ بیگم بھی چپ ہوگئیں تھیں۔۔ نایاب بھی سمجھ گئی تھی اسکی امی بات نہیں کرنا چاہتی پر اتنے ہفتے ہوگئے تھے اسے بہت یاد آتی تھی اپنی امی کی۔۔
“اچھا جو یہاں ہیں ان سے بھی بات کر لو بیٹا جی۔۔۔۔”
راحیل چاچو نے بہت چاہت سے کہا تھا
“چاچو آپ سنائیں کیسے ہیں آپ۔۔؟ آپ کا کاروبار کیسے جا رہا ہے۔۔۔؟؟”
“بیٹا اب سب اچھا چل رہا زاران نے جو فیملی بزنس جوائن کرلیا ہے۔۔۔”
“ہممم اور سنی صاحب آپ بتائیے ۔۔؟ سحر باجی۔۔؟؟”
جب اتنی دیر کے بعد بھی نایاب نے زاران کا نہیں پوچھا تو زاران اٹھ کھڑا ہوا تھا باہر جانے کے لیے۔۔۔
“زاران۔۔۔۔”
نایاب کی زبان سے زاران کا نام لینا اس ایک لفظ اس ایک آواز نے جو اسے نایاب نے پیچھے سے دی تھی اس آواز نے نا صرف زاران عابدی کے چلتے قدم روکے تھے بلکہ اسکی دھڑکنے بھی تھم گئیں تھیں زاران نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا
“وہ۔۔میں نے آج آپ کا یونیورسٹی میں ایک سنگنگ کنسرٹ دیکھا۔۔ کیا اس کے کچھ اشعار پھر سے گنگنائیں گے۔۔۔؟؟”
وہ خود نہیں جانتی تھی اس نے یہ خواہش کیوں ظاہر کی پر کچھ تو تھا اور وہ زاران سے سننا چاہت تھی۔۔۔
“زاران نے وہ سونگ اپنے گٹارمیں گنگنایا تھا نایاب اب گٹار نہیں ہے تمہیں میں وہ سی ڈی سینڈ کر دوں گی۔۔”
سویرا جلدی سے زاران کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی
“گٹار پڑا ہوا ہے زاران کا میرے روم میں۔۔۔”
نایاب کی کہی ہوئی اتنی بات کافی تھی سویرا اور باقی کزنز کو جلانے کے لیے۔۔
“میں لاتا ہوں۔۔۔یاہووو۔۔۔زاران بھائی سے کچھ سننے کا سنہرا موقع کیسے گنوا سکتے۔۔۔”
سنی کی جوش سے بھری آواز پر بہت سے قہقے لگے تھے
“نایاب بیٹا جیتی رہو کتنے دن بعد سب ایسے خوش ہوئے ہیں”
آفاق صاحب نے کہا تھا۔۔۔سنی گٹار لایا تو زاران بنا کچھ کہے گٹار لیکر بیٹھ گیا تھا پھر سے سکرین کے سامنے۔۔۔۔
۔
“منزلیں رسوا ہیں کھویا ہے راستہ۔۔۔”
زاران نے سر جھکائے گنگنانا شروع کیا تھا نایاب التمش کی سانسیں رک گئیں تھی جب زاران نے نگاہیں اٹھا کر نایاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھا تھا۔۔۔
“آئے،،،لے جائے اتنی سی التجا۔۔۔۔
یہ میری ضمانت ہے۔۔۔تو میری امانت ہے۔۔۔۔”
نایاب کا چہرہ پوری طرح سے سرخ ہوگیا تھا زاران عابدی کی آنکھوں میں ایسے شرارت تھی۔۔۔صرف وہی نہیں انیسہ بیگم بھی اپنے بیٹے کے بولڈ موو کو دیکھ کر شرما گئی تھی
“اپنے کرم کی کر ادائیں۔۔۔کردے ادھر بھی تو نگاہیں۔۔۔
سن رہا ہے نا تو۔۔۔رو رہا ہوں میں۔۔۔
سن رہا ہے نا تو کیوں رو رہا ہوں۔۔۔”
اسکی آواز میں ایک اداسی آگئی تھی اور سب لوگ جیسے اس اداسی کے لپیٹ میں تھے۔۔
زاران جتنی تکلیف سے گزر رہا تھا سب جانتے تھے
۔
“وقت بھی ٹہھرا ہے،،،کیسے کیوں یہ ہوا۔۔۔
کاش تو ایسے آئے،،،جیسے کوئی دعا۔۔۔
تو روح کی راحت ہے۔۔۔”
اور زاران نے گنگنانا بند کردیا تھا اور اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔پر جانے سے پہلے نایاب کو جہ بھر کر دیکھ گیا تھا جیسے اسکی آنکھیں کچھ کہنا چاہتی تھی نایاب سے۔۔۔
“بہت خوب۔۔۔میں اب بند کرنے لگی ہوں روم میٹ نے آکر سونا ہے ابو کا خیال رکھئیے گا۔۔۔”
نایاب نے اسی سپیڈ سے کال بند کی تھی جس سپیڈ سے زاران وہاں سے گیا تھا۔۔۔
۔
وہاں سب کے جانے کے بعد انیسہ نے التمش کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“اگر دوبارہ نایاب کا ہاتھ اپنے بیٹے کے لیے مانگوں گی تو دیں گے آپ۔۔۔؟”
انہوں نے پھر سے سر ہلایا تھا انیسہ بیگم نے انکے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا
“بھائی زاران اس وقت تک ہیرا بن جائے گا جب تک نایاب واپس آئے گی میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔
پر کیا کسی کو یہ پتا تھا کہ نایاب جب واپس آئے گی تو اکیلی نہیں ہوگی۔۔۔؟؟
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“آئی وانٹ ٹو ٹیل یو سم تھنگ آباؤٹ یور مسنگ ڈیڈ۔۔”
نایاب نے فون پر سب بات بتا دی تھی اور اس لڑکی کو یہ بھی کہا تھا کہ اس کا موبائل فون ٹریس کرنے سے انہیں ایک لیڈ مل جائے گی کڈنیپر کی پر نایاب نے افنان یوسف کا نام نہیں بتایا تھا
وہ چاہتی تھی وہ لوگ خود سرچ کریں۔۔۔
۔
کچھ دیر بعد وہ لڑکی پولیس کے ساتھ ہوسٹل آگئی تھی اور نایاب کو ان لوگوں کے ساتھ چلنے کا کہا تھا کہ وہ ٹھیک سے سب بات بتائے۔۔
ریسیپشن لیڈی نے بار بار نایاب کو نفی میں سر ہلانے کا کہا تھا سے نے وارننگ دی تھی نایاب کو پر نایاب اس لڑکی کا آنسوؤں سے بھرا چہرہ دیکھ کر پگھل گئی تھی
اور نایاب نے پولیس کو افنان یوسف کا نام بتا دیا تھا۔۔
اور اس لڑکی کے ساتھ جانے پر بھی اسرار کیا تھا جب وہ فون ٹریس ہوگیا تھا۔۔۔
۔
۔
“دس از مائی فادر اولڈ ہاؤس۔۔۔”
وہ لوگ وہاں رک گئے تھے اس وقت وہ لڑکی چلا دی تھی۔۔
اور پولیس نے اس گھر کا گھیر لیا تھا اور خطرہ محسوس نا ہونے پر دروازے توڑ دئیے تھے۔۔۔
پر اندر کے مناظر اور ہی تھے بہت سے لوگ وہاں ڈرگز میں گرے ہوئے تھے گرلز وہاں ڈانس کر رہی تھیں اور ان سب کے درمیان چارلس جو آدھے نشے میں تھا اور آدھا ہوش میں۔۔
۔
غیر قانونی مواد پائے جانے پر اور بہت سارا اسلحہ ملنے پر پولیس نے چارلس کو پکڑ لیا تھا وہاں موجود سب لوگوں کے ساتھ۔۔
اور اس لڑکی کو بھی نایاب کے ساتھ اس وین میں جانے کا کہا تھا۔۔۔
۔
نایاب کو پورے راستے وہ لڑکی اپنی انگلش میں گالیاں بکتی رہی تھی جس کو اب سمجھ آرہا تھا کہ اس کی وجہ سے اسکے فادر کو پولیس نے پکڑ لیا ہے اسے سمجھ آگیا تھا وہ لوگ کسی جال میں پھنس گئے ہیں اور اس نے سارا قصوروار نایاب کو ٹہھرایا تھا۔۔۔
نایاب التمش کو اتنی ذلت کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی اسکا غصہ اپنے لیے اور نفرت افنان یوسف کے لیے اور دگنی ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“مس نایاب ایم سوری بٹ وی وانٹ یو ٹو لئیو یونیورسٹی ہوسٹل آساپ۔۔۔”
ریسیپشنٹ نے ایک لیٹر تھما دیا تھا اور نایاب کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی جب اس نے وہ نوٹیفیکیشن ریڈ کیا تھا اسے کل کے ہوۓ واقعے میں قصوروار پایا گیا تھا۔۔۔اور ایک مشہور اور یونیورسٹی کے سپانسرشپ پرسن پر الزام لگانے پر اسے یونیورسٹی سے برخاست کردیا گیا تھا۔۔۔
جب اس نے وضاحت کے لیے پرنسپل آفس کا رخ کیا تو آفس سے افنان یوسف چہرے پر گلاسیز لگا کر باہر نکل رہے تھے۔۔۔
نایاب سمجھ گئی تھی اس سے بدلہ لیا گیا تھا منہ کھولنے پر۔۔۔
جب اس نے اس ظالم شخص کی جانب قدم بڑھائے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جا چکا تھا۔۔۔۔
“یہ انسان اتنا کیسے گر سکتا ہے۔۔۔اسکی ہمت کیسے ہوئی مجھے نکلوانے کی۔۔میں یہاں سے جانے سے پہلے اسے اسکی حیثیت یاد دلا کر جاؤں اسے بتا کر جاؤں گی کہ میں ہاری نہیں ہوں۔۔۔میرا انصاف میرا رب کرے گا۔۔۔”
۔
نایاب کو کچھ دن مل گئے تھے اور انہیں کچھ دنوں میں اس نے دوبارہ شانزے سے رابطہ کرنا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“زاران تمہاری فیورٹ ڈش بنائی ہے میں نے۔۔۔پھپھو آپ کے لیے بریانی۔۔”
سویرا نے ملازمہ کے ساتھ سب کو کھانا سروو کرنا شروع کردیاتھا۔۔
“اب یہ میری پسند نہیں رہی سویرا۔۔جیسے کہ تم۔۔۔”
زاران نے ہاتھ پیچھے ک لئیے تھے بہر آہستہ آواز میں کہہ کر وہ جانتا تھا سب افراد اس وقت کھانے کی میز پر ہیں انکے گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا کہ تذلیل کی جائے کسی کی۔۔۔
بس نایاب التمش کے ساتھ یہ سب کرنا جائز تھا۔۔۔
“پر زاران۔۔۔”
“سویرا بیٹا تم باقی سب کو دو نا۔۔۔ زاران کچھ اور کھا لو بیٹا۔۔؟”
انیسہ بیگم نے بہت پیار سے پوچھا تھا
“نہیں امی بھوک مر گئی ہے میری میں باہر باغیچے میں ٹہلنے جا رہا ہوں۔۔۔”
زاران اٹھ کر چلا گیا تھا اسے آج نایاب التمش کی بہت یاد آرہی تھی وہ جانتا تھا اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔۔۔
“کیا مجھے محبت ہوگئی ہے اس سے۔۔؟؟”
زاران اسی تالاب کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا جہاں اسکے ماموں پہلے سے اپنی ویل چئیر پر بیٹھے ہوئے تھے اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کہہ رہی تھیں غصے میں پر زاران کو کچھ سنائی نہیں دے دہا تھا اسےاتنی دور سے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“خوش تو بہت ہوگے نا اپنی بیٹی کی کامیابی پر التمش۔۔؟؟ کبھی تم نے میرے بارے میں نہیں سوچا میری محرومیوں کے بارے میں نہیں سوچا۔۔میرے سامنے میرا پورا مستقبل تھا باپ تم نہیں بن سکتے تھے پر پھر بھی تمہیں نہیں چھوڑا میں نے بدلے میں کیا ملا مجھے۔۔؟ آج تمہاری نظروں میں میرے لیے نہیں اس دلکش کے لیے محبت نظر آتی ہے اپنی بیٹی کے لیے جی رہے ہو۔۔پر کبھی سوچا ہے جب تمہاری بیٹی کو پتا چلے گا کہ اسکی ماں کے قاتل تم ہو تو کیا کرے گی وہ۔۔؟”
یاسمین نے التمش کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا جو انہوں نے پھر سے جھکا لیا تھا وہ کیسے بھول سکتے تھے وہ دن جب انہوں نے قانونی طور پر نایاب کو چھین لیا تھا دلکش سے
وہ کیسے بھول سکتے تھے اپنی سابقہ بیوی کو جو اپنی بیٹی کی راہ تکتے ہوئے پاگل ہوگئی تھیں۔۔
اور منتقل کردیا تھا دلکش کو اسکے گھر والوں نے پاگل خانے میں۔۔۔
اور ایک رات ایک فون کال نے انہیں دوسری شادی اور خوبصورتی کی دنیا سے باہر نکال دیا تھا۔۔
“ایم سوری اس پاگل خانے میں لگنے والی آگ سے سب مریض جل کے راکھ ہوچکے ہیں
مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کی سابقہ بیوی کا انتقال ہوگیا ہے۔۔۔”
“ہیلو۔۔۔ہیلو ڈاکٹر۔۔۔ہیلو۔۔۔”
وہ اپنے بیڈ روم سے باہر بھاگ گئے تھے اور پھر گاڑی سٹارٹ کر کے اسی پاگل خانے میں گئے تھے جہاں اب آگ اور راکھ کے سوا کچھ نہیں تھا۔۔۔
“التمش۔۔۔مجھے سہاگن مرنا ہے چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔۔”
“التمش نایاب نہیں رہے گی تو بے اولاد ہوجاؤں گی میں۔۔۔”
وہ دونوں کام کئیے تھے التمش عبید نے جن کو نا کرنے کے لیے انکی بیوی دلکش گڑگڑائی تھی منتتیں کی تھیں ہاتھ جوڑۓ تھے۔۔
“تب کیا ہوگا التمش۔۔؟ “
انہوں نے ماضی کی یادوں سے پلکیں جھپکی تھیں اور سامنے اپنی بیوی کو دیکھا تھا جو کبھی انکی چاہت ہوا کرتی تھی جس بیوی کے حُسن پر فخر تھا انہیں۔۔پر وہ چاہت مر گئی تھی انکی سابقہ بیوی کے ساتھ ۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ڈرائیور گاڑی گھر لے چلو”
افنان نے آنکھیں بند کر نا چاہی تھی پر ڈرائیور کی سہمی ہوئی آواز میں کہی گئی ایک بات نے افنان کی نیندیں اڑا دی تھی اسکا سکون چھین لیا تھا
“سر ماں جی اور زوبیہ باجی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے آج صبح ہم لوگ آپ کے ساتھ مصروف تھے تو وہ لوگ رابطہ نہیں کر پائے ابھی ہسپتال”
“ہسپتال لے کر چلو جلدی۔۔”
وہ اب سکون میں نہیں تھا اپنی امی کی وہ قسم اسے بار بار یاد آرہی تھی جب سے وہ اس پینٹ ہاؤس سے باہر آیا تھا چارلس کو وہاں اسکے گناہوں کے ساتھ چھوڑ کر اور ساتھ اس لڑکی کے موبائل کو بھی
“بیٹا گناہ کی لذت جتنی بھی اچھی کیوں نا ہو گناہ گناہ ہی رہتا ہے۔۔میری قسم کھاؤ تم اپنے غصے میں بھی کسی کو سزا نہیں دو گے۔۔ تمہارا بزنس چاہے نقصان میں کیوں نا چلا جائے تم کسی کو اسکے کئیے کی سزا نہیں دو گے۔۔۔”
“پر امی مجھے پسند نہیں لوگ مجھے چیٹ کر جائیں میرے بزنس پر میں نہیں لاکھوں ایمپلائیز ہیں انکی محنت کی روزی روٹی پر اگر کوئی ہاتھ ڈالے گا تو میں ضرور سزا دوں گا۔۔”
“ٹھیک ہے پھر جب جب تم ایسا کرو گے تب تب مجھے بھی تکلیف ہوگی۔۔”
افنان نے دروازہ کھول کر ہسپتال کا رخ کیا تھا جب ڈرائیور نے گاڑی کھولی تھی۔۔۔
“ابو۔۔۔بھائی۔۔؟؟” افنان دونوں مردوں کے پاس تیز قدموں سے بڑھا تھا جو پریشانی کے عالم میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہے تھے۔۔۔
“ابو امی اب کیسی ہیں۔۔؟ کیسے ہوا یہ سب۔۔؟ ڈرائیور کا نشے میں تھا۔۔؟”
“افنان الفاظ درست کر کے بات کیا کرو کتنی بار کہا ہے میں نے۔۔ڈرائیور کو سب سے زیادہ چوٹ آئی ہے۔۔۔تمہاری ماں اور زوبیہ دونوں ٹھیک ہیں۔۔بیٹا ریلکس۔۔”
افنان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہیں بٹھا دیا تھا انہوں نے اسے جہاں افنان کا بڑا بھائی پہلے سے پریشان بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
“افنان سب ٹھیک ہوجائے گا اب کچھ نہیں کہہ سکتے بیٹا بیٹھ جاؤ سکون سے۔۔۔”
بڑے بھائی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں بیٹھا رہا تھا کچھ دیر کو پر سکون نہیں آرہا تھا اسے وہاں اندر اسکی امی اور چھوٹی بہن تھیں جس میں جان تھی افنان یوسف کی۔۔
۔
بڑے بھائی بھی انکے ابو کی طرح چکر کاٹنا شروع ہوگئے تھے بس پھر افنان صاحب بھی اٹھے اور کوٹ اتارنے کی کوشش کی پیچھے جو ڈرائیور کھڑا تھا وہ مدد کرنے لگ گیا تھا کوٹ اتارنے میں
“تمہیں کوٹ اتارنے میں بھی ہیلپ چاہیے ہوتی ہے۔۔؟؟”
انکے ابو نے افنان کو غصے سے دیکھا تھا انہیں پسند نہیں تھیں یہ باتیں کہ زرا زرا سے کام کے لیے ملازم کو تنگ کیا جائے
“ابو مجھے مشکل ہوتی ہے اتارنے میں۔۔۔”
اس نے کوٹ اتار دیا تھا ڈرائیور کی مدد سے اور ساتھ پڑی کرسی پر رکھ دیا تھا
“تو پہنتے کیوں ہو۔۔؟ کل کو پینٹ اتارنے میں مشکل ہوگی تو کسے کہو گے۔۔؟ وہ جو گھر میں ملازم ہے اسکو۔۔؟؟”
افنان کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔۔بڑے بھائی کی ہنسی چھوٹ گئی تھی اور ڈرائیور کی بھی۔۔
“ابو۔۔وہ جو ملازم ہے وہ تو پہلے ہی افنان کو لائک کرتا ہے۔۔۔”
انہوں نے قہقہ لگایا تھا جس پر انکے ابو کے چہرے پر ہنسی آگئی تھی وہ ایسے ہی کرتے تھے اپنی اولاد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے۔۔۔
“ابو۔۔۔”
افنان بچوں کی طرح چڑ کربیٹھ گیا تھا۔۔اسکی جب ابو کے ہاتھوں ہوتی تھی تو ایسے ہی ہوتی تھی۔۔
۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر باہر آگئے تھے جنہوں نے تفصیل سے سب بات کر کے انہیں ڈسچارج کی اجازت دے دی تھی۔۔۔
۔
“اسلام وعلیکم امی۔۔۔”
افنان سب سے پہلے اندر بھاگا تھا اور اپنی امی کے گلے سے لگ گیا تھا
“میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔۔”
“آپ دونوں کیوں ایسے باہر چلی جاتیں ہیں۔۔؟ خریدتی کیا رہتی ہیں آپ دونوں۔۔؟ یہاں ہم لوگوں خون پسینہ بہا کر کماتے ہیں اور آپ۔۔۔نا آپ لوگ شاپنگ پر جاتے نا یہ سب ہوتا”
افنان نے انتہائی غصے میں کہا تھا زوبیہ اور اپنی امی سے۔۔
“ہمیں پتا نہیں تھا بھائی وہ گاڑی کیسے سامنے آئی۔۔۔”
“پر مجھے پتا ہے کیوں آئی سامنے۔۔افنان نے آج پھر کوئی غلط کام کیا ہے۔۔؟”
“وٹ امی سیریسلی۔۔؟؟”
افنان نے نظریں چرا لی تھیں۔۔۔
“بیٹا تمہارے بزنس پارٹنر کے ساتھ ایشوز چل رہے تھے نا۔۔؟؟ پھر وہ کڈنیپ ہوگیا ۔۔؟”
اب پوری طرح افنان اپنی امی کے پاس سے اٹھا تھا
“امی ڈاکٹر نے ڈسچارض پیپر پر سائن کردئیے ہیں ابو آپ لوگ انہیں گاڑی ت لے آئیں اور امی آپ سے پھر کہتا ہوں میرے لیے پریشان نا ہوا کریں چارلس نے دھوکہ دیا مجھے میری کمپنی کو۔۔اسکے ساتھ جو ہوا وہ ڈیزرو کرتا ہے۔۔۔”
افنان کے جانے کے بعد بڑے بھائی اپنی والدہ محترمہ کے پاس آکر بیٹھ گئے تھے
“امی افنان نے اپنے بزنس کو تنکوں سے اکٹھا کرنا شروع کیا تھا نا کبھی ابو سے مدد مانگی نا کوئی قرضے کی رقم نا میرے پاس آیا پیسوں کے لیے۔۔وہ سیلف میڈ مین ہے امی۔۔اگر اس نے یہ سزا دی ہے تو وجہ گہری ہوگی۔۔”
انہوں نے اپنی والدہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر بہت شاہستگی سے کہا تھا
“وہ درگزر کیوں نہیں کرتا معاف کیوں نہیں کرتا اللہ پاک معاف کردینے والوں کو پسند فرماتا ہے
ہم انسان دن بھر کتنے گناہ کرتے ہیں مذاق مذاق میں جھوٹ بول دیتے ہیں قسمیں کھا جاتے ہیں دوسرے انسانوں کی دل آزاری کرجاتے ہیں کیا اللہ ہمیں اکیلا چھوڑ دیتا ہے۔۔؟ ہم اتنے گناہ کرنے کے بعد بھی اللہ سے معافی مانگتے ہیں اپنے لیے رحم مانگتے ہیں اللہ پاک ہمیں ہر روز نوازتا ہے تو ہم انسانوں کی غلطیاں کیوں معاف نہیں کرتے ازیان۔۔؟”
انکی باتوں سے سب کے چہرے جھک گئے تھے
“امی بھائی غصے میں ہیں آپ سمجھائیں گی تو وہ سمجھ جائیں گے”
زوبیہ اپنے بستر سے اٹھ گئی تھی اسکے بازو اور سر پر چوٹ آئی تھی جیسے اسکی والدہ اور ڈرائیور کو
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“افنان یوسف نے اچھا نہیں کیا پرسنل اٹیک کر کے اور میں یہاں سے ڈیپورٹ ہونے سے اسے بتا کر جاؤں گی کہ یہ آخری کنٹری یا آخری ملک نہیں تھا جس میں سے نکالے جانے کے بعد دنیا ختم ہوجائے گی نایاب التمش کی۔۔
نایاب التمش نے ان چیزوں پر اپنا آپ نہیں وارا بلکہ خود کو اس مقام پر پہنچایا ہے اپنی قدر جان کر خود کو انمول سمجھ کر۔۔”
نایاب نے غضب ناک غصے میں کہا تھا اور پوری طرح سے وہ ویٹرس والا ڈریس پہن لیا تھا
“نایاب پھر سوچ لو۔۔افنان یوسف یہاں اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہوئے ہیں وہ بڑے لوگ ہیں یار میں تو پھنس گئی ہو۔۔”
“شانزے جتنا تم نے مجھے پھنسایا تھا اس رات اتنا نہیں پھنسی تم اب اگر واپس جانا چاہو تو چلی جاؤ کیونکہ وہ جو باہر کھڑا ہے نا اس شخص نے میری خود داری میری عزت میری محنت کو ڈیمیجڈ کیا ہے۔۔”
“سیریسلی نایاب معافی مانگ چکی ہوں اس شرمندگی کی وجہ سے جیسے تیسے کر کے افنان یوسف کا ایڈریس نکلوا کر دیا تمہیں یہاں تمہارے ساتھ اس ویٹرس کی ڈریس میں کھڑی ہوں لڑکی اور کیسے معافی مانگو۔۔؟؟ پر وہ باہر اکیلا نہیں ہے اسکی فیملی ہے اور شاید وہ اسکی بیوی ہے اور اس کا بیٹا بھی اگر سب کے سامنے تماشہ کیا تو وہ بھڑک نا جائے اور۔۔۔”
۔
پر نایاب التمش باہر جا چکی تھی ایک ٹرے پکڑے اور اسے کسی گارڈ نے بھی اس ایریا میں جانے سے نہیں روکا تھا جہاں وہ شخص دو چھوٹے بچوں اور اپنی فیملے کے ساتھ قہقے لگا کر ہنس رہا تھا۔۔۔
پر جب اس شخص کی نظرں نایاب ایک ویٹرس پر پڑی تھی اس کی ہنسی رکی تھی اور وہ ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“امی میں آیا ایک منٹ۔۔۔”
وہ جلدی سے اٹھا اور غصے اور طیش سے بھڑی نایاب کی طرف بڑھا تھا
۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔”
وہ بھی اتنے غصے سے اسکی طرف بڑھا تھا یہ پرائیویٹ پلیس تھی اور اسے پسند نہیں کوئی اسکی پرائیوسی کو اس طرح سے خراب کرے۔۔
“آپ کی جرات کیسے ہوئی اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی۔۔؟؟”
نایاب کے زور دار طمانچے سے افنان یوسف کا منہ دوسری طرف ہوگیا تھا۔۔اور کچھ قدموں کے فاصلے پر اسکی فیملی کھڑی ہوگئی تھی اور دور کھڑے اس فیملی کے مرد جن کے ہاتھ رک گئے تھے ریکٹس کھیلتے ہوئے
“آپ نے بچنا تھا اپنا آپ بچانا تھا وہ سمجھ آتا ہے پر سارا الزام مجھ پر ڈال کر۔۔؟ سب کے سامنے مجھے جھوٹا ٹہھرا کر آپ نے اپنا آپ بچانا تھا یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے افنان یوسف۔۔
کوئی اتنا بےحس کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟؟ مطلب کچھ بھی۔۔؟؟ کچھ بھی ڈیم یو سیریسلی گناہ آپ کرو الزام معصوم لوگوں پر۔۔؟ وہ چارلس آپ کی قید سے تو بچ گیا پر پولیس کی گرفت میں آگیا جیسے آپ نے ساری پلاننگ کی تھی۔۔؟ میرا موبائل غلط جگہ آپ نے پہنچایا اور پھر آپ کو پتا تھا میں پولیس کو اسکو ٹریس کرنے کا کہوں گی۔۔۔اتنا دماغ وہ بھی کسی اور کو اسکے نا کردہ گناہ میں پھنسانے کے لیے۔۔؟؟
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی تم۔۔۔”
نایاب کا ہاتھ ایک بار پھر سے اٹھنے لگا تھا پر اس نے وہ ہاتھ روک لیا تھا اور اپنی آنکھ سے گرتے ہوئے آنسو کو اپنے رخصار پر آنے سے پہلے پونچھ دیا تھا
“مجھے یونیورسٹی سے نکلواکر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میرا مستقبل ختم کردیا آپ نے افنان یوسف۔۔؟ میں یہاں اس جگہ اپنی محنت سے آئی تھی۔۔۔بھیک نہیں مانگی تھی ہاتھ نہیں پھیلائے تھے ۔۔
میں اپنی نمبرز اور میرٹ سے کہیں بھی اپنی ڈگری مکمل کر لوں گی
میرے لیے دنیا ایک تعلیمی ادارے پر ختم نہیں ہوتی پر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ
یہ دنیا جینے کیوں نہیں دیتی کسی حال میں۔۔؟؟
کیوں جھوٹ بولا یونیورسٹی انتظامیہ کو آپ نے۔۔؟ آپ لوگ خود کو خدا کیا سمجھتے ہیں۔۔؟ پاور ہے پیسہ ہے تو لگ جاؤ دوسروں کی زندگیاں حرام کرنے۔۔؟
مت بھولیں اللہ کی لاٹھی بڑی بےآواز ہے۔۔میں آپ سے آپ کی پاور سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔کیوں کہ آپ یہاں کے شیر ہو۔۔۔پر ایک بات کہوں۔۔؟؟
اپنے شہر میں کتا بھی شیر ہوتا ہے جو آپ نے ظاہر کردیا ہے اپنی پاور دکھا کر مسٹر ۔۔۔”
افنان کےہاتھ مٹھی کی صورت میں بند ہوئے تھے نایاب کی اس بات پراس قدر کے اسکی نبض ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھی
“میں تو کل تک چلی جاؤں گی یہاں سے پر یاد رکھئیے گا یہ مردانگی نہیں جو کسی پر پرسنل اٹیک کر کے دکھائی جائے جو حرکت کر چکے ہیں آپ ۔۔ مجھے کوئی افسوس نہیں یہاں سے چلے جانے کا۔۔
پر مجھے اس رات پر افسوس ضرور ہے جب آپ نے مجھے بچایا تھا۔۔۔ میرے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے میں نے فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔اور آپ۔۔۔”
۔
“نایاب بیٹا۔۔۔؟؟”
نایاب کی بات ٹوک دی تھی پیچھے سے ایک جانی پہچانی آواز نے۔۔اور نایاب نے جب افنان کے کندھے سے تھوڑا پیچھے دیکھا تو وہی خاتوں مسکراتے ہوئے نایاب کی طرف بڑھی تھیں جو نایاب کو اس جہاز میں ملی تھیں۔۔۔۔
“آپ۔۔۔اسلام وعلیکم۔۔۔”
نایاب بہت خوشی سے انکی طرف بڑھی تھی افنان کو پوری طرف سے درگزر کر کے۔۔۔
انہوں نے ہاتھ ملانے کے بجائے نایاب کو بہت شفقت سے اپنے گلے لگایا تھا
“افنان بھائی آپ کو تھپڑ پڑا۔۔۔؟؟ “
“اوو یہ تو بہن نکلی۔۔”
کچھ دور کھڑی شانزے نے سکون کا سانس لیا تھا اور پاس کھڑے ایک سرونٹ کے پاس گئی تھی
“افنان یوسف میرئیڈ ہیں۔۔؟؟”
“نوووو ہی از بیچلر۔۔۔ود سچ آ نائس بوڈی۔۔۔”
اس ویٹر نے افنان کی طرف دیکھ کر انگلش ایکسنٹ میں جواب دیا تھا جس کے جواب پر شانزے اس سے دس قدم دور ہوگئی تھی
“یکک۔۔۔کوئی حال نہیں ہے۔۔اس افنان یوسف نے تو اپنے میل نوکر بھی اپنے پیچھے پاگل کئیے ہوئے”
شانزے نے واپس اس نوکر کو دیکھا تھا جو افنان کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے کھا جائے گا وہ وہاں سے واپس اسی کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔
“نایاب بیٹا سب خیریت ہے افنان نے کچھ کیا ہے بیٹا۔۔؟؟”
وہ جو نایاب کو سب سے ملوانے لگی تھیں پر اپنی بیٹی کی بات پر انہیں بھی کچھ دیر پہلے نایاب کا تھپڑ یاد آگیا تھا۔۔
“وہ آنٹی۔۔۔”
“امی دراصل میرے گال پر مچھر میرا مطلب مکھی۔۔جی مکھی بیٹھ گئی تھی بس مس نایاب نے اسے مارنے کے لیے یہ تھپڑ مارا۔۔۔”
افنان کے جھوٹ پر جب نایاب نے منہ کھولنا چاہا افنان نے غصے سے دیکھا تھا
“بیٹا صرف مکھی کے لیے تھپڑ نہیں مار سکتا کوئی بھی نایاب بیٹا بات کچھ اور ہے۔۔؟؟”
نایاب کا دل پگھل گیا تھا ان خاتون کے لہجے میں اپنے بیٹے کے لیے تشویش دیکھ کر
“نہیں آنٹی۔۔۔دراصل مکھی نہیں ایک بہت بڑا مچھر تھا۔۔اور ہم پاکستانی جب مچھر دیکھ لیں نا تو ہاتھ میں کچھ بھی پکڑا ہو اس سے اس مچھر کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں افنان صاحب کو شکر کرنا چاہیے کہ میرے ہاتھ خالی تھی۔۔۔”
۔
نایاب التمش نے آنکھوں میں افنان سے زیادہ غصہ بھرے انداز میں کہا تھا
۔
“اووو بیٹا آؤ بیٹھو میں اپنی فیملی سے ملواؤں۔۔۔”
انہوں نے نایاب کے ویٹریس کے کپڑوں کو بھی اگنور کردیا تھا اور اپنے بڑے بیٹے اور اسکی فیملی سے ملوایا تھا پھر اپنی چھوٹی بیٹی اور بچوں سے اور اپنے شوہر سے جنہوں نے نایاب کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تھا۔۔
“نایاب بیٹا اب بتاؤ کافی غصے میں لگ رہی تھی۔۔؟؟ اور یہ ویٹر کا ڈریس۔۔؟ بیٹا تم تو سکالرشپ پر آئی تھی نا یہاں۔۔؟؟”
سب لوگ وہاں بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“آنٹی بس کچھ لوگوں کو میرا یہاں رہنا برداشت نہیں ہوا میرا حق کے لیے آواز اٹھانا برداشت نہیں ہوا سچ بولنا ہضم نہیں ہوا بس مجھے ریسٹیکیٹ کروا دیا راتوں رات ایک لمبی لسٹ تھما دی گئی میرے ہاتھ میں اتنے رولز توڑنے کی یونیورسٹی کے۔۔۔”
نایاب کی نظریں آگ اگل رہی تھی افنان یوسف پر اور یہ بات افنان کی امی نوٹ کر رہی تھیں
“نایاب۔۔۔”
شانزے کی آواز پر نایاب اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور جو ویٹر جوس لیکر کھڑا تھا وہ نایاب کے کپڑوں پر گر گیا تھا۔۔
“زوبیہ بیٹا نایاب کو واش روم تک لے کر جاؤ بیٹا اور اپنا وہڈریس دینا جو نا پہنا ہو۔۔۔”
پر آنٹی ہم چلتے ہیں میں واپس جاکر چینج کر لوں گی۔۔”
“نہیں بیٹا ایسے نہیں جا سکتی اچھی بات نہیں ہے یہ۔۔”
نایاب جیسے ہی شانزے کو وہاں بیٹھنے کا کہہ کر زوبیہ کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہوگئی تھی۔۔
“تم دونوں کی ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔؟؟”
افنان نے غصے سے کہا تھا شانزے کو۔۔
“ایک منٹ افنان۔۔۔آپ بچے مجھے بتاؤ کیا ماجرہ ہے یہ بنا ڈرے۔۔”
شانزے کے پاس یہ آخری موقع تھا نایاب کو یونیورسٹی واپس لانے کا اسے اتنا پتا تھا افنان یوسف اپنی فیملی کے خلاف نہیں جائے گا
“نایاب کی غلطی اتنی تھی کہ اس نے مسٹر چارلس کو بچانا چاہا تھا اور انکی بیٹی کا دکھ دیکھا نہیں جا رہا تھا
پر افنان صاحب نے کچھ اور ہی پلان کیا ہوا تھا۔۔ انہوں نے نا صرف جگہ تبدیل کی بلکہ سب الزام مسٹر چارلس پر ڈال دیا۔۔
اور ہمیں پکا پتا ہے نایاب کو یونیورسٹی سے نکلوانے میں انہی کا ہاتھ ہے جس دن نایاب کو وہ لیٹر ملا یہ پرنسپل کے آفس سے نکل کر گئے تھے رائٹ۔۔؟
نایاب ایک اچھے اور سچی لڑکی ہے۔۔وہ۔۔”
۔
“یا رائٹ اچھی لڑکی۔۔؟؟”
افنان نے طیش سے کہا تھا اس نے آج کی یہ ٹرپ اپنی فیملی کے لیے رکھی تھی ایکسیڈنٹ کے بعد آج وہ لوگ اینجوائے کر رہے تھے اور اب ان دو مصیبتوں کی وجہ سے افنان اپنی امی کے چہرے پر پریشانی دیکھ رہا تھا
“افنان بس نایاب ایک بہت سادہ اور اچھی لڑکی ہے میں جانتی ہوں۔۔”
“امی آپ کچھ نہیں جانتی وہ اچھی لڑکی نہیں ہے اس جیسے لڑکی کو میں نے اس رات اس کلب میں رات کے وقت پایا تھ ایسی لڑکیاں۔۔۔”
“ایسی لڑکیاں کیا۔۔؟؟”
نایاب ایک نفیس پنک کلر کے سلوارسوٹ میں پیچھے کھڑی تھی اور اس نے للکار کر پوچھا تھا
“ایسی لڑکیا سب کچھ ہو سکتی پر عزت دار اور اچھی نہیں۔۔”
افنان کے بات ختم ہونے پر ایک اور طمانچہ رسید کیا تھا نایاب نے اسے۔۔۔
“آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا میرے کردار پر ٹیگ لگانے کا آپ خود بھی تو اس جگہ موجود تھے نا اس کا مطلب آپ بھی اسی طرح کے ہو جس کیٹگری میں مجھے ایڈ کیا آپ نے۔۔”
افنان کے دونوں ہاتھ بند ہوگئے تھے۔۔۔وہ جانتا تھا اس نے غصے میں زیادہ بول دیا۔
پر سامنے کھڑی لڑکی کے دوسرے طمانچےنے افنان یوسف کے غصے کو اور بڑھا دیا تھا
“نایاب بیٹا۔۔۔”
“نہیں آنٹی چاہے کچھ بھی ہو کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا وہ کسی کے کردار کو اس طرح سے داغ دار کرے۔۔
آپ افنان یوسف اگر آج آپ بڑے ہو تو شکر کرو اللہ کا یہ پیسہ دولت شہرت آزمائش ہوتی ہے اللہ کی طرف سے بندوں کے لیے وہ یہ سب لیکر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی
مجھے لگا تھا آپ زرا سے شرمندہ ہوں گے پر نہیں آپ کے کندھے غرور سے اس طرح کھڑے ہیں کے جیسے آپ یہ دنیا خرید لی ہے۔۔
میں یہاں اپنے کردار پر لیبل لگوانے نہیں آئی تھی میں آپ کو آپ کی اوقات یاد دلانے آئی تھی۔۔ جب کسی پر اپنی پاور کا زور ڈالنے لگو تو میرا پہلا تھپڑ یاد رکھنا۔۔
اور جب کسی لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھانے لگو تو میرا دوسرا تھپڑ یاد رکھنا۔۔۔
میں مری نہیں جا رہی اس یونیورسٹی یا سکولرشپ کے لیے۔۔۔یو جسٹ گو ٹو ہیل۔۔۔”
۔
نایاب وہاں سے چلی گئی تھی ان خاتوں کی آواز کو ان سنا کر کے۔۔۔
“مسٹر افنان۔۔۔نایاب کوئی دونمبر لڑکی یا کوئی ہوکر یا عیاش پسند بے حیا لڑکی نہیں ہے۔۔
افنان نے جیسے ہی منہ پھیرا تھا شانزے نے بولنا شروع کیا تھا
“اس رات میں نایاب کو اس کلب میں لیکر گئی تھی۔۔کیونکہ نایاب نے اپنی اسائنمنٹ مکمل کرنی تھی پر ہماری تیسری پارٹنر نے ہمیں وہاں بلایا تھا۔۔مجھے پتا تھا وہ کلب ہے اور میں اینجوائے کرنا چاہتی تھی میں نے جھوٹ بولا تھا نایاب کو۔۔وہ بیچاری تو نیو تھی یہاں۔۔ اس نے دوست سمجھ کر یقین کیا مجھ پر اور اسی رحم دلی سے وہ اس لڑکی کی مدد کرنا چاہتی تھی جو چارلس کی بیٹی تھی۔۔
پر یہ رحم دلی نے اس سے اسکی محنت کے وہ سال چھین لئیے جو اس نے اس یونیورسٹی میں آنے کے لیے لگا دئیے تھے۔۔۔”
۔
شانزے بھی بات مکمل کر کے چلی گئی تھی۔۔
۔
“افنان یہ وہ غلط کام تھا جو تم کر کے آئے تھے اور ہم لوگوں پر آفت آئی تھی اس ایکسیڈنٹ کی شکل میں۔۔؟؟”
اپنی امی کی بات پر افنان نے چہرے انکی طرف نہیں کیا تھا
“امی وہ۔۔۔”
“تم نے نکلوایا اسے۔۔۔؟؟”
“جی۔۔۔کیونکہ میں اس چارلس کو اور قید میں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
میں نے اس لڑکی کو منہ بند رکھنے کا بولا تھا امی پر جب مجھے فون آیا کہ پولیس نے ٹریس والی جگہ پر رئیڈ کرنی ہے میں نے جگہ بدل دی تھی۔۔اور۔۔ باقی آپ کے سامنے ہے۔۔۔”
وہ خود بھی شرمندہ ہوگیا تھا۔۔
“نایاب کے ساتھ میں نے وہ چند گھنٹے گزارے تھے اس فلائٹ میں تمہیں کیوں وہ کردار کی بری لگی افنان۔۔؟؟ ایسی تربیت نہیں کی میں نے اپنے بچوں کی کے وہ چلتے پھیرتے دوسرے لوگوں پر کیچڑ اچھالے۔۔۔؟؟ مجھے مایوس کیا ہے تم نے۔۔۔”
وہ وہاں سے اٹھ گئی تھیں تبھی افنا نے انہیں پیچھے سے گلے سے لگایا تھا جیسے اسکی امی کی ناراضگی اسے مار دے گی۔۔۔
“امی ایم سوری۔۔۔پلیز ناراض نا ہوں آپ جو کہیں گی میں کروں گا۔۔۔”
“پہلے باعزت طریقے سے اس بچی کو یونیورسٹی میں اسکی سیٹ دو پھر اگلی بات کریں گے۔۔۔
افنان کے ہاتھ جھٹک کر وہ اندر چلی گئیں تھیں۔۔۔
“ابو۔۔میں۔۔۔”
“افنان بیٹا۔۔کیا کہوں میری اولاد میں سے پہلی بار کسی بچے نے ایسا کیا ہے سمجھ نہیں آرہی تمہیں تمہارے ہر بات پر سپورٹ کرتے کرتے تمہیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے میں نے کہ تم آج ایسے کر رہے ہو۔۔؟”
“ابو وہ۔۔۔”
“یہ اس بچی کے لیے پردیس ہے اپنے ہم وطنوں کے لیے غیر ملک میں آسانیاں نہیں پیدا کر سکتے تو مشکلات بھی نا بڑھاؤ پلیز۔۔۔”
وہ بھی وہاں سے چلے گئے تھے اسے اور شرمندہ کر کے۔۔۔
“اب آپ لوگوں کو بھی کچھ کہنا ہے۔۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔ویسے تھپڑ کی آواز دور تک گئی لڑکی میں دم ہے۔۔۔”
بڑے بھائی نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
“اور ایٹیٹیوڈ بھی۔۔۔”
بھابھی بھی ہنس دی تھی۔۔۔
“آپ نہیں جانتی اس لڑکی نے اس رات میرے دو گھنٹے برباد کر دئیے تھے۔۔۔”
اور افنان نے ہنستے ہوئے وہ رات کے مناظر بتائے تھے اسے جیسے ان تھپڑوں کا افسوس نہیں تھا پر اسے نایاب کی باتوں نے بہت زیادہ متاثر کردیا تھا۔۔۔
۔
“نایاب التمش ایک تھپڑ تو بھول جاتا میں پر دوسرا تھپڑ یادرہے گا مجھے۔۔۔اور یاد دلاتا رہوں گا تمہیں مس پنکی۔۔۔”
افنان نے اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر خود سے ایک عہد کیا تھا۔۔۔
کیا یہ شروعات تھی ایک نفرت بھری جنگ کی۔۔؟؟
یا آغاز تھا غصے سے بھری محبت کا۔۔۔؟؟؟
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“اگلے دن نایاب نے کتنے گھنٹے روم کا دروازہ بند کر کے رکھا تھا اور شانزے سے وجہ جان جانے کے بعد روہی نہیں بھی نایاب کو پریشان نہیں کیا تھا پورا اسکی فلائٹ بک کروا لی تھی اس نے اور بس بیگ پیک کرنے کے بعد اس نے یہاں سے چلی جانا تھا
۔
“نایاب۔۔ہمیں ایک بار یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کرنی چاہیے۔۔۔”
“ترلے منتیں کروں انکے۔۔؟؟ نہیں کرنے مجھے ۔۔ زندگی میں جھکنا بُری بات نہیں ہے۔۔پر کسی غلط انسان کے آگے سرخم کرنا بُری بات ہے شانزے۔۔۔
میں پھر سے کوشش کروں گی اور جگہ اپلائی کروں گی میں اگر گر گئی ہوں تو پھر سے اٹھوں گی بنا سہارا لئیے۔۔۔”
دروازے پر دستک نے دونوں کی گفتگو میں خلل ڈال دیا تھا۔۔۔
سٹاد ممبر سے ایک لیڈی اندر آئی تھیں اور نایاب کو پرنسپل کا ایک لیٹر پکڑا دیا تھا۔۔
“اب یہ کونسا لیٹر ہے۔۔؟؟”
شانزے نے لیٹر لے لیا تھا
“ہوگا کوئی نیو رول توڑنے کا الزام”
نایاب نے بیگ بند کر لیا تھا اور اپنا موبائل پکڑ لیا تھا باہر جانے کے لیے۔۔۔
۔
“نایاب کی بچی تم بازی مار گئی ہو لڑکی یونیورسٹی نے آپولوجائیز کیا ہے انہوں نے نا صڑف اپنی غلطی تسلیم کی ہے اور اعتراف کیا ہے ان لوگوں کو غلط فہمی ہوئی تھی یار۔۔۔
سونے پر سہاگا انہوں نے انٹرنشپ کے لیے یہاں کی بیسٹ کمپنی میں تمہیں انرول بھی کروادیا ہے واااووووو۔۔۔۔”
شانزے نے پورا لیٹر پڑھ کر سنایا تھا جس پر نایاب اسی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی اتنی شوکڈ تھی وہ۔۔۔
۔
“پر مجھے ابھی انٹرنشپ نہیں چاہیے ۔۔”
“پاگل لڑکی بیسٹ آپشن ہے یہاں سب نے اپلائی کیا ہوا ہے انٹرنشپ میں آپ کو نا صرف سیکھنے کو ملے گا بلکہ بگ فیٹ سیلربھی ملے گی اور اس کے نمبرز الگ سے ملیں گے یار۔۔۔”
شانزے نے نایاب کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھمایا تھا ڈانس کرتے ہوئے وہ بہت خوش تھی نایاب کے لیے۔۔۔
“اور کس کمپنی میں مجھے انرول کروایا گیا ہے۔۔؟؟”
“اوو۔۔۔یوسف انڈسٹریز۔۔۔ازیان یوسف “سی-ای-او” ہیں اور”
“افنان یوسف کی کمپنی ہے یہ۔۔۔”
نایاب نے وہ لیٹر کھینچ کر بری طرح سے پھاڑ دیا تھا۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟ اسکی کمپنی میں انٹرنشپ کبھی نہیں۔۔۔”
“اور تم یونیورسٹی بھی چھوڑ جاؤ گی۔۔؟؟”
شانزے نے ڈرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“یونیورسٹی کیوں چھوڑوں جب یہاں کے پرنسپل نے غلطی تسلیم کی ہے اپنی۔۔؟
میں انٹرشپ نہیں ایکسیپٹ کروں گی۔۔۔”
۔
نایاب نے اونچی آواز میں کہا تھا،،،
اور اسکی بات جو روم کے باہر چھپے شخص کے چہرے پر ایک الگ مسکراہٹ لے آئی تھی
۔
“مس نایاب وہ تو اگلے چوبیس گھنٹے بتائیں گے کہ کیسے نہیں ایکسیپٹ کرتی انٹرنشپ۔۔
ویلکم ٹو ہیل مس نایاب التمش۔۔۔دوسرا تھپڑ نا میں بھولا ہوں ۔۔۔ نا تمہیں بھولنے دوں گا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“پاکستان۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“خاور مجھے ابھی کچھ نہیں پتا تم جہاں چھپے ہو وہیں چھپے رہو اب میں تمہاری نہیں ہوسکتی اب مجھے زاران کی قدر محسوس ہورہی ہے جب اس نے مجھے اگنور کرنا شروع کیا اب احساس ہورہا ہے۔۔
پلیز تم پاکیستان چھوڑ جاؤ۔۔مجھ سے دوبارہ رابطہ نا کرنا۔۔۔”
اور پیچھے سے کسی نے موبائل فون کھینچ لیا تھا سویرا سے۔۔۔
“ہیلو،،،ہیلو سویرا پلیز فون مت کاٹنا میں۔۔۔”
خاور عابدی۔۔۔”
زاران نے فون کان پر لگا کر کہا تھا اسکی نظریں سویرا کے کانپتے ہوئے وجود پر تھیں
“زا۔۔۔زاران بھائی۔۔۔”
“بےغیرت انسان بھائی مت بول مجھے۔۔۔میری منگیتر کو بھگا کر لے جانے کے بعد تجھ میں ہمت ہے مجھ سے رشتہ جوڑنے کی۔۔۔”
زاران کی گونجتی آواز سن کر جیسے ہی سویرا نے قدم پیچھے بڑھایا تھا زاران نے اسکا ہاتھ اپنی مظبوط گرفت میں لے لیا تھا۔۔۔
“تجھے چوبیس گھنٹے کا وقت دے رہا ہوں خاور یہاں آ اس سے نکاح کر اور دفعہ ہوجا اسے لیکر۔۔۔”
“نہیں کروں گی میں کسی اور سے نکاح زاران۔۔۔تم سے شادی کروں ورنہ مرجاؤں گی۔۔”
سویرا نے چلاتے ہوئے موبائل فون کھینچ کر زاران سے توڑ دیا تھا۔۔
“اور میں مر جاؤں گا پر تم جیسی لڑکی کو بیوی نہیں بناؤں گا۔۔۔ابھی میں سب کو بتا دوں گا خاور کو وہ لوگ خود بلالیں گے۔۔۔”
زاران پیچھے مڑا تھا سویرا کے روم سے باہر جانے کے لیے۔۔۔
“اچھا اور میں بھی بتا دوں گی کہ تم ہر رات کو نایاب کے کمرے میں جا کر سوتے اسکی تصویروں سے بھرا پڑا ہے تمہارا کمرہ۔۔۔”
زاران کے پاؤں رک گئے تھے۔۔۔
“زاران ایک غلطی ہوگئی معاف کر دو مجھے۔۔شادی کر لیتے ہیں ہم پلیز میں تم سے بہت پیار کرنے لگی ہوں مجھے احساس ہوگیا ہے اپنی غلطیوں کا۔۔۔”
“اور مجھے احساس ہوگیا ہے اپنی محبت کا سویرا کیسے شادی کر لوں تم سے جب کہ میرا دل محبت بیٹھا ہے نایاب التمش سے۔۔۔
میں نکاح کیسے پڑھ لوں تمہارے ساتھ جب کہ میرے دل نے اس لڑکی سے نکاح محبت کرلیا ہے۔۔۔
تمہاری ایک غلطی نے مجھے سدھار دیا ہے۔۔
تمہیں اپنانے کے لیے اسکی محبت ٹھکرا چکا ہوں۔۔۔اب پھر سے تمہیں اپنانے کے لیے اپنی محبت نہیں ٹھکرا سکتا۔۔
وہ جو اس دن اثاچے والی بات کہی تھی میں نے اس دن وہ اثاثہ جو میں نے کھویا تھا وہ نایاب التمش کی محبت تھی۔۔۔جو تمہیں پانے کے لیے رؤند دی تھی اپنی جوتی کی نیچے وہ شادی والی جوتی جسے پہنے واپس آیا تھا نکاح کرنے کے لیے تم سے۔۔۔”
زاران کے قدم باہر چلنا شروع ہوگئے تھے جب سویرا اپنے گھٹنوں پر بیٹھی رونے لگی تھی۔۔۔
۔
۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: