Jeenay Bhi De Duniya Humain Novel by Sidra Sheikh – Last Episode 24

0
جینے بھی دے دنیا ہمیں از سدرہ شیخ – آخری قسط نمبر 24

–**–**–

۔
“رانیہ کو پاکستان آپ نے بلایا تھا زاران۔۔۔۔؟ نکاح والے دن۔۔افنان کا نا آنا اسی پلاننگ کا حصہ تھا۔۔۔”
اسکی آواز میں ایک ڈر تھا۔۔۔
“نایاب یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔؟ میں گھر آکر بات کرتا ہوں۔۔پلیز نایاب میری بات سن لو۔۔۔”
وہ گھبرا گیا تھا ایک پل میں اسے سب کچھ برباد ہوتا نظر آرہا تھا
“آپ ہی کی بات سن رہی ہوں زاران اس ویڈیو میں جہاں آپ اعتراف کر رہے ہیں اپنے جرم کا۔۔آپ نے ہی سب پلان کیا اور آپ ہی مسیحا بنتے رہے میرا۔۔؟؟
نکاح والے دن مجھے سب کے سامنے ذلیل و رسوا ہوتے دیکھتے رہے اور پھر ائرپورٹ لے جانے کا ڈرامہ بھی کیا آپ نے۔۔؟ افنان کو اس جال میں پھنسایا جو بےقصور تھا۔۔۔؟”
وہ بول رہی تھی اور زاران چپ چاپ سن رہا تھا۔۔۔ اسکی آنکھیں بھی بھاری ہوگئی تھیں جب نایاب کے رونے کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔
“نایاب پلیز میری بات سنو۔۔۔”
“زاران میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی اسکے لیے۔۔۔”
“نایاب۔۔۔”
فون جیسے ہی بند ہوا تھا وہ جلدی سے ٹیکسی کی جانب بھاگا تھا۔۔
اور اسی وقت ایک تیز رفتار گاڑی اسے ٹکر مار گئی تھی اسکا موبائل دور جا گرا تھا اور اسکے منہ پہ ایک ہی بات جاری تھی “نایاب میری بات۔۔۔۔”
۔
“”نایاب۔۔۔۔
۔
۔
۔
“اتنا بڑا جھوٹ بول گئے آپ۔۔، اتنا بڑا فریب دے گے آپ
زاران آپ سب ہو سکتے تھے پر فریبی نہیں دھوکے باز نہیں
ابھی تو ہاتھ پکڑ کر چلنا شروع کیا تھا اعتبار کی ان راہوں پر جہاں صرف بھروسہ ملنا چاہے تھا ایک دوسرے سے دھوکہ نہیں،،
جس لڑکی کو دنیا نہیں ہرا سکی اسے شادی کے اس پاکیزہ رشتے میں شوہر کے فریب نے ہرا دیا زاران”
وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی کمرے میں صرف ایک لیمپ چل رہا تھا جس کی روشنی بیڈ کے پیچھے لگی انکی شادی کی فوٹو فریم پر پڑ رہی تھی
“میرے ساتھ گئے تھے آپ ائرپورٹ مجھے لیکر جب افنان کو روکنا تھا۔اس وقت آُ مجھے روک کر ایک بار کہہ دیتے نایاب تمہاری بربادی کا سارا بندوبست کردیا ہے اپنا وقت بچاؤ اور سامنا کرو جو تماشا تیار کیا میں نے۔۔ایک بار کہہ دیتے زاران۔
جھوٹ پر بنایا آپ نے ہمارا سچا رشتہ۔۔”
اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئیے وہ اس طرح سے روئی تھی جیسے پہلی کبھی نا روئی ہو،،
اور یہ سچ بھی تھا نایاب التمش پہلے کبھی اس طرح ٹوٹ کر نہیں روئی تھی،،
وہ محبت میں کبھی اتنی کمزور نہیں پڑی تھی پر شادی کے اس بندھن میں اسے تو موقع ہی نہیں دیا گیا تھا اس رشتے کو اپنانے کا۔۔
موبائل پر بار بار وہی ویڈیو چل رہی تھی اس کمرے میں زاران عابدی کی آواز گونج رہی تھی
اس نے غصے سے اس موبائل کو دوسری طرف پھینک دیا تھا۔۔اور الماری کی طرف چل دی تھی
وہ اپنا غصہ اتارنا چاہتی تھی اسکے ذہن میں بس ایک ہی قیمتی اثاثہ تھا اسکی بنائی گئی وہ پینٹنگ جنہیں بنا بنا کر اس نے زاران عابدی کو اپنی زندگی میں وہ مقام دے دیا تھا جس پر آج اسے افسوس ہورہا تھا
“میں کیوں نا پہچان پائی زاران آپ کو آپ کے ارادوں کو۔۔؟؟”
۔
اسے کیا پتا تھا رشتوں میں یہی تو وہ وقت ہوتا ہے جب شیطان کامیاب ہوجاتا ہے میاں بیوی کے رشتے میں خلش پیدا کرنے میں ۔۔
وہ غصے سے ان پینٹنگ کو نیچے فرش پر گرا چکی تھی بس اب وہ ان سب کو راکھ بنا دینا چاہتی تھی
“یہی آپ نے میرے یقین کے ساتھ کیا زاران راکھ بنا کر رکھ دیا نہ سب کچھ۔۔؟”
اپنی کھنکتی چوڑیاں بھی اتار کر پھینک دی تھی اس نے
وہ اس سے پہلے کچھ بھی کرتی ماچس کی ایک تیلی بھی جلاتی اذان کی آواز کھلی کھڑکی سے اندر آئی اور اسکی سماعتوں میں پہنچی تھی اسکے کانپتے ہاتھ رک گئے تھے
“وائے زاران۔۔۔مجھے کیوں تماشہ بنا دیا سب کا۔۔ پہلے ٹھکراتے رہے پھر وہی کسی اور کے ہاتھوں کروایا اور پھر دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا کروا کر اپنایا مجھے۔۔ میں تو آپ کو مسیحا سمجھنے لگی تھی زاران پر آپ تو۔۔۔”
۔
نایاب میں ہمت نہیں تھی ان پینٹنگ کو جلانے کی وہ انہیں پھینک کر باتھروم میں چلی گئی تھی دروازہ بند کرکے جب اس نے اپن عکس شیشے میں دیکھا وہ اپنی بکھری حالت دیکھ کر حیران ہوگئی تھی
وہ رونے والڑکیوں میں سے نہیں تھی وہ ایسی نہیں تھی
“زاران اس شادی کے رشتے نے اور مظبوط کرنا تھا آپ کے دھوکے نے تو اتنا کمزور کر ڈالا ہے کہ سمجھ نہیں آرہا کیا کہوں کیا کروں۔۔۔”
۔
وضو کرکے وہ وہیں جائے نماز پر سجدے میں گر گئی تھی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اب وہ کیا کرے گی سچ سامنے آگیا اب اسکا اگلا قدم کیا ہوگا۔۔
۔
“اچھی بیوی آدھی ادھوری بات پر کیا اتنی بدظن ہوجاتی ہے اپنے مجازی خدا سے کہ رشتہ ٹورنے کا سوچ لیتی ہے۔۔؟”
ایک آواز نایاب کے کانوں میں پڑی تھی اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا تھا کمرہ بلکل خالی تھا۔۔
“کیا اچھی بیوی اپنے مجازی خدا کا دھوکہ اسکا جھوٹ فریب جان کر بھی خاموش رہتی ہے۔۔؟
وہ کیوں خاموش رہے اب اسکے پاس ثبوت بھی ہیں وہ منہ پر مارے اور توڑ دے رشتہ خود کو آزاد کر لے اس فریب سے یہ اچھی بیوی ہوئی نہ۔۔”
۔
وہ جو ان باتوں پر رشتہ توڑ دیتی ہیں جو اپنے مجازی خدا سے منہ موڑ لیتی ہیں جو ایک غلطی پر اپنے رشتے کو چھوڑ دیتی ہیں۔۔وہ اچھی عورت تو ہوسکتی ہے پر ایک اچھی بیوی نہیں نایاب۔۔۔”
۔
اور نایاب نے آنکھیں بند کرلی تھی سجدے میں سر جھکا لیا تھا۔۔
۔
“یا اللہ میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے سیدھی راہ دیکھا میرے مولا،،میں اس شخص سے الگ بھی نہیں ہونا چاہتی پر اس سچ کو جاننے کے بعد میں معاف بھی نہیں کرسکتی اللہ یا تو مجھ میں اتنی ہمت پیدا کردے کہ میں اسکے بغیر جی لوں۔۔یا اتنا ضبط ڈال دے مجھ میں مالک کہ میں معاف کردوں اسے۔۔اسکے فریب کو اسکے جھوٹ کو۔۔۔”
۔
نایاب کے آنسو جیسے جیسے گرتے جارہے تھے اسکے دل میں سکون بھی پیدا ہورہا تھا اور ایک بےچینی بھی۔۔جیسے اسکا دم گھٹ رہا ہو،،،
وہ کچھ نہیں سمجھ پارہی تھی۔۔جب اسے نیچے ہال سے کچھ رونے کی آوازیں سنائی دینا شروع ہوگئیں تھیں۔۔
اپنا چہرہ صاف کر کے جائے نماز کو تہہ کر کے وہ جلدی سے اپنے بیڈروم سے باہر گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ابو میں لے آتا ہوں دوائیں پلیز مجھے دے دیجئیے۔۔۔”
پر وہ پرچی انہوں نے کھینچ لی تھی اپنے بڑے بیٹے کے ہاتھ سے
“اذیان اسے اپنی زبان میں سمجھا دو مجھے اب یہ یہاں پر نظر نہیں آئے۔۔”
وہ وہاں سے میڈیکل سٹور کی جانب چلے گئے تھے اور انکے افنان بھاگتے ہوئے گیا تھا
“ابو نایاب میری پسند تھی۔۔وہ سب سے الگ تھی ابو رانیہ نے مجھے ایک بار نہیں دو بار دھوکہ دیا تھا میں کیسے اس سے پھر سے محبت کرلیتا۔۔؟”
اسکی بات پر یوسف صاحب ایک دم سے رک گئے تھے۔۔
کہیں نا کہیں وہ جانتے تھے افنان کے ارادے غلط نہیں تھے اسکا طریقہ غلط تھا نایاب کو حاصل کرنے کا
“ٹھیک ہے جو تم نے کہا میں اسے سہی مان بھی لیتا ہوں پر شادی کے بعد کونسا غیرت مند مرد ہوتا ہے جو بیوی کی پردہ پوشی کرنے کے بجائے اپنی محبت کو پانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔۔؟ تم غیرت مند مرد تھے نا۔۔؟ خاندانی تھے نا تم تو کیوں یہ سب کیا تم نے۔۔؟
رانیہ نے بھی ثابت کیا کہ وہ تم جیسی ہے افنان آج اس نے ایک اور گھر خراب کردیا۔۔”
“وہ گھر خراب ہونا تھا ابو۔۔”
افنان کے لیجے میں وہی نفرت تھی اور یوسف صاحب پھر سے چلنا شروع ہوگئے تھے
“تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا اب افنان محبتیں کب سے خود غرض ہوگئیں۔۔؟
محبتیں کب سے مطلبی بن گئیں۔؟ وہ محبت محبت ہی نہیں جو کسی کے برباد ہونے پر آباد ہوجائے۔۔وہ محبت محبت ہی نہیں جو کسی کے اجڑے گھر پر اپنی بنیاد رکھے بیٹا۔۔
محبت جو تم کر رہے ہو وہ محبت نہیں ہے تمہاری ضد ہے تمہاری خود غرضی ہے۔۔”
۔
“ابو۔۔”
افنان کے موبائل نے جیسے ہی بجنا شروع کیا تھا وہ وہی رک گیا تھا۔۔بےدھیانی میں اس نے جب فون اٹھایا تو دوسری طرف ایک ہنستی ہوئی آواز نے اسے وہ خوش خبری سنائی تھی جسسے سن کر وہ خوش نہیں ہوا تھا۔۔۔
“کام ہوگیا ہے۔۔مزے کی بات یہ ہے کہ شکار خود چل کر آگیا تھا نیویارک۔۔۔
اسکا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔۔اسی ہسپتال کے باہر پڑا ہے زخمی حالت میں سر اب بتائیں اسے غائب کرنا ہے یا۔۔؟”
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
افنان نے جب نمبر پر نام دیکھا تو اسے یاد آیا تھا اسی آدمی کو اسے نے کنٹریکٹ دیا تھا زاران کو نقصان پہنچانے کا۔۔
“گوٹو ہیل۔۔۔”
افنان غصے سے کہا اور باہر کی جانب بھاگ گیا تھا ماتھے سے پسینہ اس قدر بہنا شروع ہوگیا تھا اسکے۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ سب کیا ہوگیا بھائی صاحب۔۔آپ کو کس نے فون کیا تھا۔؟ زاران کا نمبر ملا کر دیکھا آپ نے۔۔؟”
دلکش بیگم کے آنسو بہنا شروع ہوگئے تھے جب انہوں نے انیسہ کی حالت دیکھی تھی جنہیں کنول بیگم چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
آفاق صاحب نے جب سے زاران کے ایکسیڈنٹ کے بارے میں بتایا تھا ایک طوفان سا اٹھا تھا۔۔۔
راحیل صاحب اسی وقت سفر کی تیاری میں لگ گئے تھے اور گھر کی خواتین رو رو کر بُرا حال کرچکی تھی
“کیا۔۔۔کیا ہوا ہے زاران کو۔۔؟”
نایاب کی آواز میں ایک ڈر تھا ایک گھبراہٹ تھی جس طرح اس نے سیڑھیوں کی رئیلنگ کو زور سے پکڑا ہوا تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ سہارا لیکر کھڑی ہو وہاں
“وہ بیٹا۔۔۔”
آفاق صاحب سب کی طرف دیکھنا شروع ہوگئے تھے
“زاران کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے نایاب۔۔۔سیریس حالت میں ہے وہ وہاں۔۔
ہمیں خوشیاں راس نہیں آئی نظر لگ گئی ہے ہماری خوشیوں کو۔۔”
انیسہ بیگم نایاب کے پاس آئی تھیں روتے ہوئے
“پھوپھو کچھ نہیں ہوگا زاران کو۔۔اللہ پر بھروسہ رکھیں آپ پلیز۔۔۔
ہم چلیں گے وہاں ۔۔”
“تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ابو اور پھوپھا جی جا رہے ہیں تمہاری منحوسیت اور مت ڈالو زاران پر نایاب۔۔”
سویرا جو یہ خبر سن کر غمزدہ تھی اس نے نفرت سے کہا تھا نایاب کو
“آپ کون ہوتی ہیں مجھے میرے شوہر کے پاس جانے سے روکنے والی۔۔؟”
آج نایاب کا لہجہ بھی اتنا ہی کڑوا اتنا ہی تیکھا تھا
“نایاب۔۔”
“نہیں امی مجھے منحوس کہنے والی یہ کون ہیں۔؟ زاران میرے شوہر ہیں میرا نکاح ہوا ہے ان سے۔۔میرا حق ہے ان پر۔۔ہماری لڑائی کو بہانہ بنا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں سویرا باجی۔؟”
وہ سویرا کے سامنے کھڑی ہوگئی تھی سویرا نے غصے سے وہ دو قدم کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا وہ آج نایاب کو وجہ سمجھ رہی تھی ان سب تکالیف کی جوکہ وہ تھی۔۔
“شیرنی بننے کی کوشش نا کرو جب سے شادی ہوئی ہے زاران کے ساتھ زاران پریشانیوں میں گھڑا پڑا ہے۔۔”
“آپ نے بہت نوٹس لینا شروع کیا ہوا ہے۔۔؟ کیوں آپ تانک جھانک کر رہی ہیں ہمارے رشتے میں سویرا باجی۔؟ زاران کتنا خوش ہیں میرے ساتھ کتنا نہیں یہ آپ انکے واپس آنے پر ان سے پوچھ لیجئیے گا۔۔اور ایک بات زاران کو بھول جائیں وہ میرے شوہر ہیں۔۔آپ کھو چکی ہیں ۔۔”
نایاب واپس انیسہ بیگم کی طرف بڑھی تھی جب سویرا نے نایاب کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر اس طرح الزام لگانے کی۔۔۔”
سویرا کا ہاتھ اٹھ گیا تھا جب نایاب نے زور سے پکڑا تھا اسکے ہاتھ کو۔۔
“رشتے اپنی حدود میں رہیں تو اچھے لگتے ہیں سویرا باجی،،،آپ نےماپال کردیا ہے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر ان حدود کو۔۔کیا ہیں آپ۔۔؟ کیا سمجھتی ہیں خود کو۔۔؟ پڑھی لکھی ہوکر بھی ایسی حرکت ۔؟ مجھے مجبور نا کیجئیے میں کوئی ایسی بات کروں جو آپ کو آپ کی جگہ دیکھا دے۔۔
میں عزت کر رہی ہوں آپ عزت کروائیے مجھ سے۔۔
جس دن یہ عزت کا پردہ چاک ہوا تو میری باتوں سے آپ کا شرمندگی ہوگی بس۔۔”
۔
نایاب نے اتنی زور سے وہ پکڑا ہوا ہاتھ سویرا کا جھٹک دیا تھا۔۔
اسکا یہ روپ آج دیکھ رہے تھے سب۔۔
“پھوپھو میں جاؤں گی زاران کے پاس پھوپھا جی کے ساتھ۔۔۔اور میں دیکھتی ہوں مجھے کون روکتا ہے۔۔”
وہاں سب حیران تھے۔۔۔پر ایک شخص کے چہرے پر فخر تھا اپنی بیٹی کے لیے۔۔انکی نظریں بےساختہ دلکش بیگم پر گئیں تھیں جن کی آنکھوں میں بھی وہی فخر جھلک رہا تھا اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ڈاکٹر اب کیا کہتے ہیں اذیان۔۔؟”
یوسف صاحب نے پاس بیٹھے افنان کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا
“ابو زاران کی حالت اب ٹھیک ہے وہ سٹیبل ہے۔۔مکمل بیڈ ریسٹ کا کہا ہے ڈاکٹرز نے اور کچھ ہفتوں کے لیے وہ چل پھر نہیں پائے گا۔۔”
“ہممم زاران کی فیملی آنے والی ہوگی کسی بھی وقت کل رات ہی بتا دیا تھا انہیں۔۔”
افنان نے یوسف صاحب کی طرف دیکھا تھا
“کیا۔۔کیا نایاب ساتھ آرہی ہے۔۔؟؟”
اسکے سوال نے زیبا بیگم سمیت ان دونوں مردوں کو بھی غصہ دلا دیا تھا شدید۔۔
“تم انکی فیملی کے سامنے نظر بھی نہیں آؤ مجھے افنان میں نے کہہ دیا ہے۔۔اور کتنی ناک کٹواؤ گے ہماری۔۔”
“امی سیریسلی۔۔؟ زاران کا سچ سننے کے بعد بھی میں قصوروار ہوں۔۔اچھا ہے نا زاران کے فیملی کے سامنے اسکے کئیے گناہ سامنے آئیں اور نایاب فائننلی اسے چھوڑ دے سچ سننے کے بعد۔۔میں کیوں نا سامنے آؤں۔۔؟ میں ضرور آؤں گا۔۔اسی دن کا مجھے انتظار تھا امی۔۔”
وہ وہان سے چلا گیا تھا ان تینوں کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
پاکستان سے یہاں تک کا سفر اس نے کیسے کاٹا تھا بس وہی جانتی تھی۔۔
وہ نایاب التمش۔۔جو کچھ گھنٹے پہلے اپنے شوہر کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی جو اسے معاف نہیں کرنا چاہتی تھی وہ اب بےتاب تھی اپنے زاران کو ایک نظر سہی سلامت دیکھنے کے لیے۔۔
وہ جو محسوس کر رہی تھی وہ کوئی نہیں جانتا تھا سوائے اسکے اسکے رب کے۔۔
اب اسے سمجھ آرہی تھی کیوں وہ بئچین تھی اور اسے کہیں نہ کہیں لگ رہا تھا اسکی غلطی زاران کے ایکسیڈنٹ کی وجہ انکی لڑائی تھی
۔
۔
“نایاب بیٹا اندر چلو اب،،زاران کو ہوش آگیا ہے۔۔۔”
“پھوپھو آپ چلیں میں آتی ہوں۔۔۔”
۔
نایاب روم کے سامنے بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
“اسلام علیکم نایاب۔۔۔”
نایاب کی تھکن سے چور نظریں اٹھیں تھیں جب اسے اسی بینچ پر بیٹھے افنان نے سلا م کیا تھا
“وعلیکم سلام۔۔۔”
نایاب نے اور فاصلہ بڑھا دیا تھا اور پیچھے ہوکر بیٹھ گئی تھی
“نایاب۔۔۔ایم سوری۔۔رانیہ اور زاران کی وجہ سے تمہیں اتنی پریشانی اٹھانی پڑی۔۔
ان دونوں نے ہمارے یقین کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔۔”
افنان نے اس بینچ پر نایاب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کی جیسے ہی کوشش کی تھی نایاب نے ہاتھ اٹھا کر اپنا اپنی گود میں رکھ لیا تھا اسکا سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا۔۔
“نایاب میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔تم جیسے ہی زاران کو چھوڑ دو گی ہم شادی کرلیں گے،،جہاں سے ہمارا ساتھ چھوٹا تھا نایاب وہیں سے آگےجائیں گے۔۔”
۔
“کس لیے میں زاران کوچھوڑوں گی۔۔؟”
اس نے جس انداز میں پوچھا تھا جس سختی سے پوچھا تھا افنان کو وہ لڑکی کا لہجہ نظر ہی نہیں آرہا تھا جو نایاب کا ہمیشہ سے ہوتا تھا
“نایاب ان دونوں نے دھوکا دیا ہمیں جھوٹ بولا ہم سے ہماری شادی نہیں ہونے دی انکی سازش نے۔۔”
“ایک منٹ افنان۔۔۔زاران نے ایک کیا کیا اور کیا نہیں وہ ہمارا نجی معاملہ ہے۔۔
اور وہ جو آپ نے کیا وہ دھوکا تھا وہ گناہ تھا۔۔زاران نے رانیہ کو پاکستان بلایا ضرور تھا
آگے اپنے قول فعل کے زمہ دار آپ خود تھے۔۔”
“نایاب۔۔۔”
وہ شاکڈ تھا۔۔اسے تو لگا تھا نایاب زاران کو سچ سننے کے بعد چھوڑ دے گی پر یہاں تو سب الٹ گیا تھا۔۔
“افنان ایک طرح سے زاران نے ٹھیک کیا اگر شادی کے بعد رانیہ آپکے سامنے آتی تو کیا ہوتا۔۔؟ سوچا آپ نے۔۔؟ آپ نے وہی گناہ شادی کے بعد کرنا تھا۔۔
جو مرد اپنے نفس پر شادی سے پہلے قابو نہیں رکھ سکا وہ شادی کے بعد کیا رکھتا۔۔
زاران نے ایک طرح سے مجھے ساری زندگی کی ملنے والی اذیت سے بچا لیا۔۔”
وہ اٹھ گئی تھی دوپٹہ پھر سے ٹھیک کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی
“نایاب۔۔! آج تم نے زاران کی اتنی بڑی غلطی در گزر کردی مجھے کیوں نا معاف کرسکی تھی تم۔۔؟ میں کیا اتنی اوقات بھی نہیں رکھتا تھا۔۔؟”
اسکی آواز میں شدید درد تھا
“وہ میرے محرم ہیں آپ محرم نا تب تھے نا اب ہیں افنان۔۔۔
عورت مرد کی غلطیاں تو معاف کردیتی ہے پر گناہ نہیں۔۔۔
اور بیوی۔۔۔ وہ اپنے شوہر کے گناہ بھی درگزر جاتی ہے کیونکہ اس نے اپنے رشتے میں اتار چڑھاؤ دیکھے ہوتے ہیں اپنے شوہر کے ساتھ اس نے زندگی کے اچھے بُرے دن دیکھے ہوتے ہیں۔۔۔وہ بھلا دیتی ہے
یہی بیوی کرتی ہے۔۔۔بات بات پر رشتہ ختم کرنے والے لوگ سب کچھ ہوسکتے پر میاں بیوی نہیں۔۔۔”
۔
وہ اندر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“آپ نے مجھے کیوں نہیں جانے دیا آپ نے کیوں مجھے بند کیا کمرے میں۔۔”
سویرا نے ٹیبل پر رکھی چیزیں بھی نیچے پھینک دی تھی
“بس کر جاؤ اس پاگل پن کو سویرا میرا ہاتھ اٹھ جائے گا۔۔”
کنول بیگم نے اسے بیڈ پر دھکا دیا تھا پر سویرا کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
“ہاں مار دیجئیے امی۔۔کیونکہ میں رکنے والی نہیں ہوں زاران میرا تھا میرا نصیب چھین لیا گیا مجھ سے امی،،”
“کسی نے نہیں چھینا تم سے کچھ بھی۔۔زاران نے تمہیں عزت دی تھی اس نے اپنے بڑوں کی خواہشات کو رد کرکے تمہیں اپنایا تھا سویرا۔۔
پر تم نے کیا کیا۔۔؟ نکاح والے دن بھاگ گئی تھی۔۔”
“امی۔۔”
سویرا کو حیران کردیا تھا اسکی امی کے اس لفظ نے جو انہوں نےابھی تک استعمال نہیں کیا تھا
“ایک لفظ نہیں لڑکی۔۔تم غلط ہو اور تم چاہتی ہو میں تمہارا ساتھ دوں تمہیں اور شے دوں۔۔؟ مجھ سے اب نہیں ہوگا سویرا۔۔میں نے انیسہ باجی کے آتے ہی کہہ دینا ہیں خاور کے ماں باپ سے بات کریں تم نے جو کرنا تھا کرلیا اب میں اور بدنامی نہیں لینا چاہتی
تمہارے ابو نے مجھے پہلے ہی اس معاملے میں پیچھے رہنے کا کہہ دیا تھا۔۔”
سویرا کے آنسوؤں کا آج ان پر کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا جو بیٹی کا ہمیشہ ساتھ دیتی آئیں تھیں۔۔
“امی آج آپ کو کیا ہوگیا ہے میرا ساتھ دینے کے بجائے آپ مجھے تنہا کر رہی ہیں”
۔
“میری بچی آج تک ساتھ ہی تو دیتی آئی ہوں تمہارا،،پر میں نے تمہیں اور بگاڑ دیا
جوان اولاد کا ساتھ ماں باپ اس لیے بھی دیتے ہیں کہ اولاد کسی غلط راستے پر نا چلی جائے
پر میرے ساتھ نہیں تمہیں اور بگاڑ دیا سویرا۔۔
زاران کے ساتھ شادی کسی نعمت سے کم نہیں تھی پر تم نے خاور کے ساتھ جا کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی اب میں کچھ نہیں کرسکتی۔۔
تمہاری شادی ہوجائے گی تو سب سکون میں آجائیں گے زاران اور نایاب بھی۔۔”
اپنے آنسو صاف کرکے وہ وہاں سے چلیں گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم بیٹھو میں آتی ہوں۔۔”
انیسہ بیگم ان دونوں کو اکیلا چھوڑ گئیں تھیں روم میں۔۔
زاران میں ہمت نہیں تھی نایاب کی نظروں میں دیکھنے کی۔۔اور نایاب میں ہمت نہیں تھی زاران کو اس طرح ہسپتال کے اس بستر پر مشینوں میں لیٹے ہوئے دیکھنے کی۔۔۔
وہ جیسے ہی زاران کے پاس جا کر بیٹھی تھی زاران کی آنکھ سے ایک آنسو کا قطرہ نکل آیا تھا۔۔۔
اسکی آنکھیں جیسے ہیں بند ہوئیں تھی۔۔۔
نایاب نے زاران کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔۔۔
۔
“زاران۔۔۔۔”
۔
جب زاران کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے ہار کر تھک کر اپنا سر زاران کے کندھے پر رکھ لیا تھا
“اگر تم یہ دل مانگ لیتے،،،جانِ من ہم تمہیں جان دیتے
تمہیں کیسے ہم بھول جاتے،،،مر کے بھی تم ہمیں یاد آتے۔۔”
۔
“آئی لوو یو زاران۔۔۔کیوں جھوٹ بولا مجھ سے۔۔؟؟ میرے اور اپنے رشتے کو کیوں تماشہ بنا دیا باہر والوں کی نظروں میں۔۔؟؟”
اس کے آنسو زاران کے کندھے کو بھگو چکے تھے پوری طرح۔۔۔آج زاران عابدی نے اس لڑکی کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ لیا تھا جس کی وہ خواہش کرتا تھا ٹوٹتا دیکھے۔۔
پر جو آج ٹوٹ کر رو رہی تھی وہ کوئی لڑکی کوئی کزن نہیں اسکی بیوی تھی اسکی شریکِ حیات تھی۔۔اور زاران عابدی کا چہرہ بھی بھر گیا تھا اسکے آنسوؤں سے۔۔۔
“میں،،تمہیں کھونا نہیں چاہتاتھا نایاب۔۔۔پر جب تمہیں نکاح والے دن لوگوں کی باتوں کا نشانہ بنتے دیکھا۔۔اس وقت میری کوشش تھی افنان کو گریبان سے پکڑ کر لے آؤں تمہارے پاس۔۔
لوگ کہتے ہیں محبت میں عزتیں نیلام ہوجاتیں ہیں جذبات بیچ کر محبت بچائی جاتی ہے۔۔
پر میری محبت ایسی نہیں تھی نایاب تمہاری قسم میری محبت عزت کا تماشہ بنانے والی نہیں تھی۔۔غلطی ہوگئی۔۔۔نہیں نایاب گناہ ہوگیا تھا مجھ سے۔۔۔”
زاران نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا تھا۔۔اسکی باتوں پر نایاب کی سسکیاں اور گونجی تھی کمرے میں
“زاران کیوں کیا آپ نے وہ سب کچھ۔۔؟ کیوں آپ چار سال بعد بھی نا چاہ سکے مجھے۔۔اتنی دیر کردی آپ نے۔۔اور اب یہ سب۔۔۔مجھے آپ نے کہاں لاکر کھڑا کردیا زاران۔۔؟؟ کچھ بھی تو نہیں کرسکتی میں۔۔دور جاؤں گی تو مرجاؤں گی۔۔۔
اور پاس رہوں گی تو آپ کو موقع دے دوں گی مجھے پھر سے توڑنے کا۔۔۔”
اس نے زاران کے کندھے سے سر اٹھا کر زاران کے بھیگے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا۔۔
“پیار کے لیے چار پل کم نہیں تھے،،،
کبھی تم نہیں تھے ،،،کبھی ہم نہیں تھے۔۔۔۔”
۔
“میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں نایاب۔۔دور جانے کی بات بھی نا کرو مر جاؤں گا میں۔۔ میں ایسا کیا کروں کہ تمہارا یقین حاصل کر سکوں۔۔؟ تمہیں کیسے بتاؤں نایاب میں کتنا ڈرتا رہا ہوں تمہیں بتانا بھی چاہتا تھا تم سے چھپانا بھی چاہتا تھا۔۔
کیا کرتا نایاب میں بتاؤ مجھے۔۔۔”
زاران کی آواز اور بھاری ہوگئی تھی اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا پھر اپنے آنسو صاف نہیں کئیے تھے۔۔آج ان دونوں کو ایک دوسرے کے سامنے اپنا آپ ظاہر کرنا بُرا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے لیے کمزور تھے اور وہ ایک دوسرے کو یہ دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔
وہ دو مظبوط لوگ۔۔۔
۔
۔
“زاران۔۔۔”
“نایاب کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار میری آنکھوں میں دیکھو اگر میری سچائی میری محبت پر تمہیں زرا سا بھی شک ہو تو بیشک تم۔۔۔”
“میں نے آپ کو معاف کردیا زاران۔۔۔آپ کو مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا کبھی ایسا مقام ہمارے رشتے میں نہیں آئے گا۔۔
بیشک میاں بیوی کا رشتہ مظبوط ہوتا ہے۔۔مگر یہ امتحانات چاہے کسی طرف سے بھی آئیں ضروری نہیں یہ جاتے ہوئے رشتہ مظبوط کرکے جاتے ہیں،،بعض اوقات یہ امتحانات یہ آزمائشیں میاں بیوی کے رشتے کو کمزور اور پھر کھوکھلا کردیتی ہیں زاران۔۔۔
ابھی تو ساتھ چلنا شروع کیا ہے ہم نے ابھی سے برداشت نہیں ہو پائے گی ایک ہلکی سی بھی لڑائی۔۔۔”
نایاب کے ہاتھوں کو جیسے ہی زاران نے بوسہ دیا تھا نایاب شرما گئی تھی اور اس نے پھر اپنے دوپٹے کے پلو سے زاران کا چہرہ صاف کرنا شروع کردیا تھا
“آپ کو پتا ہے مجھے سب کہتے تھے چاند گرہن۔۔پر آج آپ کے ہاتھوں میں میرا سیاہ ہاتھ مجھے چاند پر گرہن جیسا نہیں لگ رہا زاران،،،ایسا کیوں ہے۔۔؟؟”
نایاب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جب اس نے یہ سوال پوچھا۔۔۔
“تم میری بیوی ہو میری بیٹر ہاف میری زندگی۔۔یہی ہمارے رشتے کی خوبصورتی ہے نایاب۔۔۔یہ سوچنے والی کی سوچ ہوتی ہے اسے چاند گرہن لگا۔۔۔
پر اس چاند پر تو چار چاند لگ رہا ہے یہ رنگ۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔اچھا تو سیدھا سیدھا بولیں نا چاند۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
نایاب جیسے قہقے لگا کر ہنسی تھی اسکے بال اسکے چہرے پر آگرے تھے۔۔۔
“آہممم۔۔۔”
زاران نے اپنی انگلیوں سے جیسے ہی اسکے بال پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی اسی وقت دروازہ کھلا تھا۔۔۔نایاب جلدی سے اٹھا گئی تھی پھوپھو اور راحیل چچا کو دیکھ کر اسکا چہرہ لال ہوگیا تھا کسی ٹماٹر کی طرح پر اران نے نایاب کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔۔
۔
“اب تو آپکے بیٹے کا چہرہ بہت کھل رہا ہے بیگم اور آپ باہر بیٹھے پریشان ہورہیں تھیں کہ زاران کسی پریشانی میں ہے۔۔۔”
آفاق صاحب نے شکایت کرتے ہوئے کہا تھا
“ہاہاہاہا ابو۔۔۔۔”
“زاران ہاتھ چھوڑئیے نہ۔۔۔”
“نہیں یہیں بیٹھی رہو۔۔۔چپ چاپ۔۔۔”
زاران نے جیسے ہی اونچی آواز میں کہا تھا راحیل صاحب بھی ہنستے ہوئے زاران کے پاس بیٹھ گئے تھے
“بیٹھ جاؤ بیٹا ورنہ اسکی امی نے ہم دونوں کی کلاس لے لینی ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا تو اور کیا اسکی امی کو اور آتا ہی کیا۔۔یا تو منہ بنا لیا یا تو کمرے سے باہر نکال دیا مجھے۔۔۔”
“آفاق گھر چلیں زرا پھر بتاؤں گی۔۔۔”
“شٹ بتایا کیوں نہیں یہ آفت پیچھے کھڑی تھیں۔۔؟”
“ہاہاہاہاا امی آپ کو آفت کہہ رہے ہیں ابو۔۔۔۔”
زاران نے ہنستے ہوئے نایاب کا ہاتھ اور مظبوطی سے پکڑ لیا تھا آج وہ بہت خوش تھا۔۔۔
آج اسکے دل پر کوئی بوجھ نہیں رہا تھا۔۔۔اب وہ سکون سے اپنی بیوی کے ساتھ اپنی باقی کی زندگی ہنسی خوشی بنا کسی ڈر سے گزار سکتا تھا ۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“دو ہفتے بعد۔۔۔نیو یارک۔۔۔”
۔
“زاران آرام سے چلیں۔۔بےفکر رہیں میں آپ کے برابر نہیں چلتی۔۔”
زاران کے پورے چہرے پر مسکان چھا گئی تھی اپنی بیوی کی بات پر۔۔
پر اس نے جواب نہیں دیا تھا وہ جانتا تھا اس راستے پر اس روڈ پر کبھی کبھی کوئی نا کوئی سانپ ضرور نکل آتا ہے۔۔وہ نایاب کو بتا کر ڈرانا نہیں چاہتا تھا اس لیے وہ آگے چل رہا تھا اسکے پاس ایک سٹک تھی جس کے سہارے سے وہ اپنے قدموں پر چلنا شروع ہوگیا تھا ڈاکٹر کے دئیے ٹائم سے پہلے۔۔
کیونکہ اسکے پیچھے اسکی بیوی کی دن رات کی خدمت شامل تھی۔۔۔
۔
“زاران۔۔آہستہ چلیں آپ کی ٹانگوں پر سوجن آجائے گی۔۔”
“یہ میرے موبائل سے زرا ابو کو فون ملانا۔۔۔”
“وٹ ۔۔؟؟”
“پلیز میری جان۔۔۔”
نایاب نے جیسے ہی نمبر ڈائل کیا تھا دوسری طرف اسکا دھیان چلا گیا تھا
اس وقت سامنے چلتے سانپ کو زاران نے اپنی سٹک سے پیچھے دوسری طرف پھینک دیا تھا۔۔
پر نایاب نے اسے یہ کرتے دیکھ لیا تھا۔۔۔
اسکے چہرے پر ایک چمک آگئی تھی۔۔۔اور اس نے موبائل بند کرکے زاران کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
۔
“میاں بیوی کے رشتے میں بیوی کا شوہر کے پیچھے چلنا کوئی جہالت نہیں ہے یہ اس کی اپنے شوہر کے احترام میں دی جانے والی عزت ہے جو آپ کے رشتے کو اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔۔۔۔
کیونکہ وہ جو کچھ قدم آپ سے آگے چل رہا ہوتا ہے وہ آپ کا شوہر ہی نہیں محافظ بھی ہوتا ہے”
نایاب کے زہن میں آج ایک خوبصورت پہلو دیکھا تھا۔۔۔چلتے چلتے زاران کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا اس سے ٹھنڈی شام میں پرسکون ماحول نے اسے اور راحت بخشی تھی۔۔۔
۔
“یہ ریور سائیڈ پارک ہے میں نے سوچا تھا کل واپسی کی فلائیٹ ہے تمہیں یہاں کی کچھ خوبصورت جگہ دیکھا دوں۔۔۔”
“تھینک یو مسٹر ہبی،،،پر آپ کو درد ہورہا ہوگا اتنا چلنے سے زاران ہم پھر آجائیں گے نا۔۔۔”
“ایسے تو ساری زندگی پڑی ہے ہمارے پاس نایاب۔۔پر جب گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو ایک لمحے کی بھی گارنٹی نہیں ہے زندگی کی۔۔
پھر سہی کہہ کر کتنا کچھ تو مس کردیتے ہیں ہم لوگ اور تمہارے ساتھ میں ایک لمحہ پھر سہی کہہ کر گنوانا نہیں چاہتا۔۔۔”
اور وہ چلتے چلتے ایک بینچ پر جا کر بیٹھ گئے تھے
“سوو مسز زاران عابدی کیسے لگ رہا ہے اس بورنگ کمرے سے باہر آکر۔۔؟؟”
زاران نے نایاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر پوچھا تھا
“بورنگ۔۔؟؟نووو وے مسٹر زاران میں تو اس کمرے میں ہر دن کو بہت اینجوائے کر رہی تھی اپنے ہسبنڈ کے ساتھ۔۔۔ہاں وہ الگ بات تھوڑے سے بورنگ ہیں وہ۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔سیریسلی کبھی سوچا نہیں تھا نایاب التمش اس طرح سے میرے ساتھ میرے پاس بیٹھ کر اس طرح سے مذاق بھی کرے گی۔۔۔”
“نایاب التمش نہیں،،نایاب زاران عابدی۔۔۔اور میں نے بھی نہیں سوچا تھا اتنا سڑیل سا منہ اتنا کھڑوس سا منہ بنانے والے مسٹر زاران اس طرح کھلکھلا کے ہنسے گے میرے ساتھ۔۔۔”
“ہاہاہاہا میں اور سڑیل۔۔۔؟؟ارے کچھ دن پہلے تو کوئی مجھے بہت رومینٹک کہہ رہا تھا،،،”
زاران نے سرگوشی کی تھی اور نایاب کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔زاران۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔آئی لو یووو۔۔۔میری زندگی۔۔۔”
زاران نے نایاب کے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا۔۔۔”
“ہممم آئی نو ڈئیر ہبی۔۔۔”
اور نایاب زاران کو چیراتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
۔
۔
“یہ میاں بیوی کے رشتے کی خوبصورتی ہے ایک دوسرے کی غلطیاں بھلا کر رشتے میں ایک ساتھ آگے بڑھنے کی۔۔
وہ جو لوگ ایک دوسرے کو نیچا دیکھاتے رہتے ہیں ہر وقت لڑائی کرتے رہتے ہیں صرف اپنے آپ کو سہی ثابت کرنے کے لیے انکو تو خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے رشتے کو ہی نہیں اپنے ساتھی کو بھی بےلباس کردیتے ہیں اپنی نظروں میں بھی اور دوسروں کی نظروں میں بھی۔۔
میاں بیوی لباس ہوتے ہیں ایک دوسرے کا۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کچھ مہینے بعد۔۔۔۔”
۔
“زاران میں ٹھیک تو کر رہا تھا۔۔۔”
“التمش ماموں۔۔۔رشتہ مانگنا ہے چندا نہیں مانگنا ہاتھ کو ایسے کیجئیے۔۔۔”
“زاران نے ویل چئیر کا رُخ اپنی طرف کرکے پھر سے سمجھایا تھا۔۔
“پر زاران ہمارے دور میں تو ایسے ہی کرتے تھے نا پرپوز۔۔۔”
“ہاہاہاہا سچی میں۔۔۔آپ تو بہت پرانے ہیں ماموں”
زاران ہنستے ہوئے گھاس پر بیٹھا گیا تھا اور بار بار پانی میں تیرتے زاران اور نایاب کو دیکھ دیکھ کر ہاتھ سے اشارے بھی کر رہا تھا
“ماموں کے ساتھ ساتھ تمہارا سسر بھی ہوں بتاؤں اپنی بیٹی کو۔۔؟؟”
انہوں آہستہ آہستہ اپنی بات مکمل کی تھی وہ بولنا شروع ہوگئے تھے بہتری آرہی تھی ان میں۔۔
اور زاران ہی چاہتا تھا وہ دلکش کی طرف قدم بڑھائیں۔۔۔
۔
“زاران بھائی نایاب بھابھی بےہوش ہوگئیں ہیں۔۔۔”
سنی بھاگتے ہوئے باہر آیا تھا۔۔۔
“وٹ۔۔؟؟ماموں میں آیا۔۔۔”
زاران اندر بھاگ گیا تھا۔۔۔
“نایاب نایاب۔۔۔”
زاران جیسے ہی بھاگتے ہوئے اندر بیڈروم کی طرف جانے لگا تھا گھر کی خواتین ہنستے ہوئے اسے دیکھنا شروع ہوگئیں تھیں
“امی نایاب کو کیا ہوا۔۔؟؟ آپ سب ہنس کیوں رہی ہیں۔۔؟ اتنی پریشانی میں۔۔۔”
“مبارک ہو بیٹا۔۔۔”
“وہ تو ٹھیک ہے پر نایاب کو۔۔۔۔۔
۔
وٹ۔۔۔؟؟؟ امی کیا کہا آپ نے۔۔۔؟؟”
زاران کے چہرے سے وہ پریشانی ایک خوشی میں بدل گئی تھی۔۔۔
“شئی از پریگننٹ۔۔۔”
“واااو۔۔۔۔آئی لووو یو امی۔۔۔”
۔
زاران نے انیسہ بیگم کو خواشی سے اٹھا کر گھما دیا تھا۔۔۔
“زاران گر جاؤں گی۔۔۔اپنی بیگم کو مبارکباد دو۔۔۔”
۔
“دلکش بھابھی۔۔۔بہت بہت مبارک ہو آپ کو نانی بن گئیں ہیں۔۔۔”
“اور آپ دادی بن گئیں ہیں انیسہ باجی۔۔۔۔”
ان دونوں نے زاران کو پیار دیا تھا اور ایک دوسرے کے گلے لگی تھیں۔۔۔
سب ہی بہت خوش تھے سوائے کچھ لوگوں کے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔۔”
نایاب نے کشن میں چہرہ چھپا لیا تھا اور زاران کے قہقے سے کمرا کھل اٹھا تھا جیسے۔۔۔
“اووووو نایاب۔۔۔۔”
وہ اپنی نم آنکھیں صاف کر کے بیٹھ گیا تھا بیڈ پر نایاب کے پاس جو ابھی بھی اپنا چہرہ نہیں دیکھا رہی تھی زاران کے مارے شرم کے۔۔۔
“ہاہاہاہا اچھا بعد میں شرما لینا پہلے مجھے اپنے منہ سے سناؤ خوشی والی نیوز نایاب۔۔۔شرمانے کے لیے ساری زندگی پڑی ہے وائفی۔۔۔”
نایاب نے وہ کشن زاران کو مارا تھا جس اس نے ہنسنا شروع کیا تھا۔۔۔
“نایاب۔۔۔”
“ہممم آپ خوش ہیں ۔۔؟” نایاب نے سر جھکا کر پوچھا تھا۔۔۔
“لڑکی۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔بہت خوش ہوں۔۔۔”
زاران نے نایاب کو اٹھا لیا تھا۔۔۔
“ہماری مکمل فیملی۔۔۔۔”نایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر زاران نے واپس اسے بیڈ پر بٹھا دیا تھا اور خود گھٹنو ں کے بل نیچے کرپٹڈ فلور پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“اب سناؤ یہ گڈ نیوز مجھے نایاب تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔۔۔”
“وہ۔۔۔ہم۔۔۔آپ۔۔زاران۔۔آپ اللہ نے ہمیں اولاد کی خوشی سے نوازا ہے۔۔ آپ بابا بننے والے ہیں۔۔۔”
نایاب نے زاران کے کندھے پر منہ چھپا لیا تھا یہ کہہ کر۔۔۔
“تم ماما بننے والی ہو۔۔۔بہت بہت مبارک ہو میری جان۔۔۔میں بہت خوش ہوں نایاب۔۔۔۔”
۔
نایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے اپنی آغوش میں لیا تھا زاران نے۔۔
ان دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور لبوں پر شکر خداوندی تھا۔۔۔
۔
بیشک اللہ کی پاک زات دلوں کو راحت بخش دیتی ہے آزمائشوں کے بعد۔۔
بیشک ہر امتحان کے بعد سکون ملنے والی زندگی ملتی ہے انسانوں کو۔۔
بیشک اللہ نے ہر پریشانی کے بعد اللہ صبر کے پھل سے نوازتا ہے اپنے بندوں کو۔۔۔
بیشک میاں بیوی کے رشتے میں پیار محبت اور صبر تحمل مزاجی سے رشتے تو خوبصورت بنا دیتے ہیں کبھی نا ٹوٹنے والا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“نایاب۔۔۔کی سب باتیں ایک طرف پر مجھے وہ بات نہیں بھولتی جب میں اسے جھلی کو ہمیشہ وہ پانی والی نایاب سے باتیں کرتے دیکھتا تھا۔۔۔”
“زاران۔۔۔ایک اور لفظ نہیں۔۔”
“ہاہاہاہا ارے ہماری شادی کی اینیورسری پر مجھے ہماری یادیں تو تازہ کرنے دو بیگم۔۔”
“اوووے ہوئے۔۔۔۔زاران بھائی۔۔۔۔”
۔
سب لوگ بڑے مزے سے زاران کی باتیں سن رہے تھے۔۔۔ساری فیملی کیک کاٹنے کے بعد یہاں لیونگ روم میں بیٹھ گئے تھے۔۔۔اور خوب گپ شپ لگائے جا رہے تھے۔۔۔
“زاران۔۔۔پلیز۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔اور دلکش چچی آپ کو۔۔۔”
“زاران دلکش چچی نہیں ہیں بیٹا تمہاری۔۔۔میں ہوں۔۔۔”
یاسین بیگم نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا جو ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھیں
“میں کیا کروں مجھے عادت ہوگئی ہے۔۔۔آپ۔۔۔”
“زاران بیٹا تم اپنی بات مکمل کرو۔۔۔”
دلکش بیگم نے زاران کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔نایاب نے جیسے ہی آنکھوں کے اشارے سے زاران کو کچھ بھی یاسین بیگم کو بولنے سے منع کیا تھا۔۔زاران چپ ہوگیا تھا۔۔ورنہ اسکی بہت بحث ہوتی تھی وہ سب سے لڑتا تھا دلکش بیگم کے رائٹس کے لیے۔۔۔
“اچھا تو کہاں تھا۔۔ہاں۔۔ایک رات کو جب میں نایاب جی کے تالاب میں بیٹھا ہی تھا اور۔۔
وہ لہراتی ہوئی پانی والی نایاب کو پکڑنے لگا تھا۔۔۔یہ نایاب میڈم جھٹ سے آئی اور اسے اٹھا کر لے گئی۔۔۔”
“کیوں۔۔۔۔”
سب نے ایک ساتھ پوچھا تھا۔۔۔
“ہاہاہا میں نے بھی یہی پوچھا تو نایاب میڈم نے کہا تھا پانی والی نایاب کے نہانے کا ٹائم ہے۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔اور میں کہا یہ تو پانی میں ہی تھی۔۔۔”
نایاب نے کشن صوفے سے اٹھا کر زاران کی طرف پھینکا تھا جو اور ہنس دیا تھا
“ہاہاہاہا۔۔۔۔جھلی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
۔
نایاب بھی ہنس دی تھی جب زاران نے آنکھ ماری تھی۔۔۔
۔
“ویسے نایاب بیٹا ایسا کیوں تھا۔۔؟؟”
انیسہ پھوپھو یہ رائٹر نے کچھ لائنز میں نا مجھے جھلی ہی ثابت کیا ہوا تھا۔۔۔
شکر ہے “ما-ر-کو” والا قصہ نہیں پتا۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا رائٹر نے سن لیا نا نایاب بیگم تو اگلے سین کاٹ دے گی۔۔۔”
“ہاہاہا اتنا آسان ہے نایاب التمش کے سین کاٹنا مس رائٹر۔۔۔؟؟”
۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔”

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: