Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 1

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 1

 

“مے آئی کم ان سر” اس کی ڈرتی ہوئی ہلکی سی آواز نکلی جس پر اس کی نگاہیں سپاٹ اور سنجیدہ سی دروازے کی طرف مڑی۔۔
“مس شجیہ اپنے آنے کا وقت دیکھیں۔۔ یہ کلاس روم ہے آپ کا گھر نہیں جب مرضی آجائیں پلیز میری کلاس ختم ہونے تک باہر رہیں۔۔” وہ اس کی اچھی خاصی کلاس لے چکا تھا۔۔
تمام طلبہ اپنے کام روک کر اسے ہی دیکھ رہے تھے تذلیل کے احساس سے اس کی آنکھوں میں مرچیاں بھرنے لگی۔۔۔
” کیا یہ وہی شخص تھا جو گھر میں اس کا اتنا خیال رکھتا تھا چھوٹی بچی کی طرح اس کی ہر خوشی کا خیال رکھتا تھا اور یہاں آتے ہی وہ ایک ظالم کا روپ دھار لیتا تھا۔۔۔
وہ ایک طرف کونے میں بیٹھی سو سو کر کے آنسو بہارہی تھی جب اس کے پاس آکر کوئی بیٹھا۔۔
“پہلے غلطی کرتی ہو پھر آنسو بہاتی ہو پاگل۔۔۔” نرم آواز پر اس نے سر اٹھایا تو اسے دیکھ کر منہ موڑ لیا۔۔۔
“افف میری وائف ناراض بھی ہوتی ہیں۔۔” اس کی شرارتی آواز پر وو گلنار ہوئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔ فضا میں اس کا قہقہ گونجا۔۔
“اب کلاس میں جاؤ۔۔” اسے حکم دیتا وہ چلا گیا تو وہ بھی اپنی کتاب اٹھاتی چلنے لگی۔۔ وہ ایسی تو نہیں تھی اس میں اتنی تبدیلی کس طرح آئی۔۔ ماضی کی یاد اس کے ذہن میں فلم کی طرح چلنے لگی۔۔۔
“تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہا؟ ابھی میں نے اسے سولو کر کے دکھایا ہے” راہب جھنجلا کر اس نالائق لڑکی کو دیکھ رہا تھا جسے ایک سمپل سا میتھ سولو نہیں ہورہا تھا۔۔
اور وہ بیچاری اس کی دھاڑ سے سہم گئی تھی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔۔
“اب کیا مسلئہ ہے اس میں رونے والی کیا بات ہے؟” وہ جھنجلا گیا۔۔ پتا نہیں کون سی مخلوق سے اس کا واسطہ پڑگیا تھا۔۔ آج اس کا دوسرادن تھا اس کو ٹیوشن دینے کا اور وہ ان دو دن میں ہی اچھا خاصا جھنجلا چکا تھا۔۔ مگر ذکیہ بیگم نے اسے بہت پیار اور منت سے اس کو پڑھانے کی ذمّہ داری تھی وہ انہیں ٹال نہیں سکا اور حامی بھر لی اور اب پچھتا رہا تھا۔۔
“راہب!! بس کردو کیوں اس کے ساتھ سر کھپارہے ہو۔ میں نے پہلے بھی وارن کیا تھا اسے پڑھ لکھ کر کچھ نہیں کرنا ہے حد درجہ کی نالائق اور ناکارہ ہے یہ۔۔ تم اپنا وقت ضائع کر رہے ہو اس کے پیچھے۔۔۔”
نک سک سے تیار رباب کی آمد نے اس کا رہا سہا اعتماد بھی ختم کردیا وہ جو اب لاسٹ سٹیپ میں تھی دوبارہ سے وہیں اٹک گئی۔۔ جب کہ راہب نے بغور اس کا کانپنا رکنا مظاہرہ کیا۔۔
“رباب یہ میراپرسنل معاملہ ہے تم اس میں نہ بولو میں نے گرینی سے پرامس کیا ہے میں اس فرض کو بخوبی نبھاؤنگا۔۔۔اور تمہیں دس دفعہ کہا ہے جب میں پڑھارہا ہوں تو مجھے ڈسٹرب نہیں کیا کرو۔۔۔”
راہب کے روکھے اور دوٹوک روّیے پر رباب لچھ بولی تو نہیں مگر شجیہ کو گھوری سے نوازنا نہیں بھولی اور پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
“تم ادھر آؤ۔۔” راہب نے اب اسے حکم دیا۔۔
وہ ڈرتی ہوئی اپنی نوٹ بوک لے کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔ آہل اس کے تمام حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہا تھا۔۔
“میرے سامنے بناؤ جو سمجھ نہیں آرہا مجھ سے پوچھو۔۔” اب اس کے لہجے میں نرمی تھی۔۔۔
شجیہ نے اس کی نرم آواز پر سر اٹھایا۔۔ راہب نے دیکھا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ جو گھبرارہی تھی اس کی نرم آواز سے اس کی گھبراہٹ میں کمی واقع ہوئی تھی۔۔ اب وہ واقعی دل جمعی سے سولو کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ حیرت انگیز طور پر اس نے واقعی حل کرلیا تھا۔۔ راہب کو خوش گوار حیرت ہوئی۔۔۔
“ارے واہ!! تم تو لائق بچی ہو بھئی۔۔”راہب نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو شجیہ کے چہرے پر ہلکی سی جنبش ہوئی جیسے یہ حوصلہ افزائی اسے اچھی لگی ہو ورنہ کل سے صرف گھبراہٹ ہی اس کے چہرے پر طاری تھی۔۔
“لاؤ اب میں تمہیں اور question دوں تم کل اسے سولو کر کے لانا۔۔” وہ ایسے ٹریٹ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی سکول کی بچی ہو جب کہ وہ فرسٹ ائیر کی سٹیوڈینٹ تھی۔۔۔ مگر راہب نے دو دن میں اندازہ لگالیا تھا وہ عام لڑکیوں کی طرح نارمل نہیں تھی اس میں اعتماد کی بہت کمی تھی اور اس کا روّیہ بھی کبھی بہت عجیب ہوتا تھا۔۔۔
راہب اس کی کتاب میں سوال کے نشان لگارہا تھا۔۔ “یہ لو یہ qiestion کر کے لانا وہ اسے بک ہاتھ میں دینے لگا کہ راہب کا ہاتھ شجیہ کے ہاتھ سے ذرا سا مس ہوا راہب نے تو یہ نوٹ بھی نہیں کیا جب کہ شجیہ بری طرح سے بدکی اور دو قدم دور ہوکر اپنی سانس درست کرنے لگی اس کے چہرے پر سراسیگمی پھیل چکی تھی جب کہ وہ حیرت سے اس کے چہرے تاثرات کو دیکھ رہا تھا جو خوف سے پیلاپڑ چکا تھا۔۔۔
“are u ok ?” وہ شجیہ سے پوچھ رہا تھا۔۔ وہ تھوڑا سا جھکا ہی تھا اس کی طرف کہ اسے دیکھے وہ اب تک سمجھ نہیں سکا تھا اسے ہوا کیا ہے؟
“مم۔۔ مم۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔” وہ دو قدم۔اور دور ہوئی کانپتی ہوئی آواز سے بولی اور جلدی سے اپنی کتابیں سمیٹنے لگی۔۔
“اوکے شجیہ آپ جا سکتی ہیں۔۔ باقی ہم کل پڑھ لیں گے۔۔ وہ اپنے ہاتھ جیب میں ڈالتا ہوا کھڑا ہوچکا تھا۔۔ اور اپنے لہجے کو اس نے حتیٰ الامکان نرم ہی رکھا۔۔۔
شجیہ نے جلدی سے کتابیں لی اور تیر کی تیزی سے بغیر کچھ کہے وہ کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی۔۔۔۔
راہب حیران سا اس کے بدلتے روّیے کو سوچ رہا تھا پھر کندھے اچکاتا وہ بھی کمرے سے نکل رہا تھا کہ رباب آگئی۔۔۔
“شکر ہے تمہاری نالائق سٹیوڈینٹ تو گئی۔۔ چلو باہر چلتے ہیں کافی دن ہو گئے ہم outing پر نہیں گئے۔۔” وہ لاڈ سے کہتی اس کا بازو پکڑ کے کہنے لگی۔۔
“sorry مجھے ابھی بہت ضروری کام ہے۔۔” وہ سپاٹ لہجے میں کہتا نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتا باہر کی طرف جانے لگا وہ بھی پیچھے اس کے ساتھ ہی چلنے لگی۔۔۔
“تم اس کو صحیح ٹائم دیتے ہو صرف مجھ۔سے ہی پرابلم ہے تمہیں۔۔” وہ منہ بناتی روٹھے ہوئے لہجے میں بولنے لگی۔۔” اب وہ دونوں پورچ تک پہنچ چکے تھے راہب نے اپنی کار کا دروازہ کھولتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھا۔۔
“She is my student soo Don’t compare yourself to that” راہب نے سنجیدہ لہجے میں اسے باور کروایا اور آنکھوں میں سن گلاسز لگاتے ہوئے وہ کار میں بیٹھ چکا تھا۔۔ رباب اسے جاتا دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ گاڑی کی دھول اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔
“کیا ہوا ہے میری بچی اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہے؟” ذکیہ بیگم نے اس کے چہرے پر پھیلی گھبراہٹ دیکھی تو جلدی سے اسے پاس بلایا وہ ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔
“دادو مجھے نہیں پڑھنا کسی سے بھی دادو وہ بھی تو مرد ہیں نہ پھر آپ نے ان پر بھروسہ کیوں کیا؟ ” اس کے سوال پر زکیہ بیگم کے اندر خطرے کی گھنٹی بجی ان کے ذہن میں سو وسوسے آنے لگے۔۔
“کیا ہوا میری بچی۔ کچھ کہا اس نے کیا ہوا ہے۔۔” ان کی۔ زبان لڑکھڑائی تھی۔۔ اللّہ اب اس کی زندگی میں کوئی آزمائش نہ لکھنا۔۔ ان کے دل سے دعا نکلی۔۔۔۔
” نن۔۔۔ نن۔۔۔ نہیں دادو نہیں وہ ایسے نہیں ہیں وہ تو مجھے ایک شاگرد کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں پھر مجھے کیوں ڈر لگتا ہے۔۔میں ایسی کیوں ہوں دادو۔۔۔ ہلکا سا ہاتھ ہی تو لگا تھا مگر وہ لمس ہی مجھے آگ لگا۔۔۔ دادو مجھے ہر لمس خوف زدہ کردیتا ہے۔۔۔” وہ ان کے سینے سے لگی ہچکیوں کے درمیان اپنے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔۔۔ اور زکیہ بیگم خاموشی سے اسے سن رہی تھی کیونکہ ان کے پاس اس کی کسی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔
کیا کہتیں وہ اس سے جس نے چھوٹی عمر میں ہی معاشرے کا بھیانک چہرہ دیکھ لیا تھا کہ اس کا بچپن اس کی معصومیت چھیننے کی کوشش کی گئی تھی ایسے بچپن۔سے ہی ایسی چیزوں۔کا ادراک ہوگیا جو شاید نہیں ہونا چاہئیے تھا۔۔۔۔
“اچھا رو مت میرا بچّہ تو بہادر ہے نہ شجی شاباش منہ ہاتھ دھو اور دادو کو بتاؤ آج میرے بچّے نے کیا سیکھا ہے۔۔۔” ان کے پیار سے کہنے پر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے آنسو صاف کرتی وہ جانے لگی جب ان کی پیچھے سے آواز آئی۔۔۔
“شجی کل سے میرے کمرے میں پڑھنا ٹھیک ہے۔۔” ان کی بات سن کر اس کے دل میں اطمینان دوڑ گیا۔۔۔
وہ آج لیکچر دے کر فارغ ہوا تو یونی سے ہی فیکٹری چلا گیا جہاں احمد لاشاری نے اسے دیکھا تو طنز کرنے سے خود کو روک نہیں سکے۔۔۔
“اوہ تو آج شہزادے صاحب کو خدمت خلق سے فرصت مل گئی جو اس لاشاری ٹیکسٹائل کو اپنادیدار کروانے چلے آئے۔۔۔” مینیجر کے سامنے وہ اس عزت افزائی پر جزبز ہوا۔۔۔
“کیا ڈیڈ میں آ تو گیا نہ کیا یہ کافی نہیں ہے آپ بھی کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں کچھ تو اپنے بیٹے کی personality کاخیال کریں۔۔۔” وہ ناراض لہجے میں کہتا کرسی میں بیٹھا اور سامنے کھڑے دانت نکالے مینیجر کو گھوری سے نوازنا نہیں بھولا۔۔۔
“میں ہی خیال کروں بیٹے کو بوڑھے باپ کا خیال نہیں اتنی بڑی فیکٹری اکیلے دیکھتا ہوں اور تم ٹکوں کے لئیے نوکری کرتے ہو۔۔۔” وہ آج بہت خفا تھے۔۔۔
“پہلی بات تو یہ ڈیڈ کہ آپ بوڑھے نہیں ہیں زرا آئینے میں دیکھیں خود کو میرے بڑے بھائی لگتے ہیں۔۔۔ ابھی بھی لڑکیوں کی لائن لگ جائے گی آپ کے لئیے” وہ مسکرا کر ٹیبیل کی طرف جھک کر ایک آنکھ مارتا ہوا بولا۔۔۔
“راہب میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں آج نہ ہی تمہاری کسی چکنی چپڑی باتوں میں آنے والا ہوں۔۔” ان کے سنجیدہ لہجے پر وہ سیدھا ہوا۔۔۔
“افف آج تو ڈیڈ فل فلموں والے باپ بنے ہوئے ہیں۔ہاں دوسری بات میری یہ تھی کہ آپ۔جانتے ہیں میں پیسوں کے لئیے نہیں پڑھاتا اور میں نوکری نہیں کرتا teaching کرتا ہوں اور Teaching is my passion
اس کی۔اس بات کا جواب دئیے بغیر وہ مینیجر سے مخاطب ہوئے۔۔۔
“تم جاؤ کل کے میٹینگ کی تیاری کرو اوع فاروق صاحب سے کہو یہ فائل تیار کر کے وہ میرے کمرے میں بھجوادے۔۔” مینیجر سر ہلا کر جی سر کہتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا تو وہ سیدھے ہوئے۔۔۔
“میں نے سنا ہے تم نے ظفر کی بھتیجی کو ٹیوشن دینا شروع کردیا ہے۔۔۔”
ان کی اس بات پر اس نے سر اٹھا کر ان کو دیکھا۔۔ اوہ مطلب ان تک۔ اطلاع مل گئی تھی اور یہ کام ان کی چہیتی رباب کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا وہ دل ہی دل میں رباب کو القبات سے نواز چکا تھا۔۔۔
“ڈیڈ وہ گرینی نے مجھ سے بہت فورس سے کہا تو میں منع نہیں کرسکا اور وہ بہت ڈیفرینٹ لڑکی ہے ڈیڈ کہیں اکیڈمی میں جا نہیں سکتی بہت ڈرپوک لڑکی ہے لگتا ہی نہیں وہ رباب کی کزن ہے میں تو بہت شاک ہوا اسے دیکھ کر۔۔” وہ موبائل چلاتا ہوا بولا۔۔۔
“دیکھو صاحب زادے میں نے تمہیں اس لڑکی کو describe کرنے نہیں کہا نہ میں یہ تمہارا درد سر ہے کہ وہ۔کیسی ہے اور کہاں پڑھ سکتی ہے۔۔۔
“میں نے تمہیں یونی میں پڑھانے کی permission ہی بڑی مشکل سے دی ہے۔۔ اب میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ تم کسی اور کے گھر جا کر ان کی چاکری کرو۔۔۔” وہ اس سے سخت نالاں تھے۔۔۔
“ڈیڈ وہ کسی اور کا گھر تو نہیں ہے آپ ظفر انکل کے دوست ہیں اور رباب آپ کی لاڈلی ہے تو بھی اس کی کزن ہے اسی لئیے میں نے حامی بھری۔۔ اور ڈیڈ بزرگ کی بات کیسے ٹال سکتا تھا میں پلیز بس ایگزیم تک پڑھانے دیں کسی کا بھلا ہوجائے گا۔۔۔” وہ بہت منت بھرے لہجے میں ان کو راضی کر رہا تھا۔۔۔
“بس کردو مجھے لیکچر دینا مت شروع ہوجانا اب تم۔۔۔ ایک ہی بیٹے ہو میرے اسی لئیے ہار مان لیتا ہوں تمہاری ضد پر لیکن یہ لاسٹ ہے۔۔” انہوں نے وارننگ لہجے میں کہا۔۔۔
“love you dad you are a great وہ فلائینگ کس کرتا ہوا بولا۔۔۔
“بس اب جاؤ جا کر کام کرو صرف باتوں سے محبت مت ظاہر کرو باپ کی بھی خدمت کرو۔۔” ان کے اس لہجے میں وہ کھڑا ہوگیا۔۔
yes boss جو حکم ہو آپ کا وہ مسکراتا ہوا آفس سے باہر نکل گیا جب کہ وہ مسکراتے ہوئے کام میں مصروف ہوگئے۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: