Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 10

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 10

شجیہ کے امتحان شروع ہوچکے تھے۔۔ شجیہ سے زیادہ تو راہب کو اس کے۔امتحان کی فکر رہتی تھی۔۔
وہ آفس بھی کم جارہا تھا۔۔ صرف یونی ورسٹی پڑھانے جاتا ۔۔ احمد صاحب اور زیادہ۔راہب سے غصّہ ہوگئے تھے۔۔۔
اس کو کھانا خود اپنی نگرانی میں کھلاتا اور پھر امتحان کی تیاری کرواتا۔۔
کل اس کا پہلا امتحان تھا۔۔ رات ہوچکی تھی مگر وہ اسے پڑھانے میں مصروف تھا۔۔
“تم سو رہی ہو اور تم نے اب تک یہ سوال نہیں کر کے۔دکھایا مجھے۔۔”
اس کو اونگھتا دیکھ کر وہ غصّے میں آگیا۔۔ شجیہ نے فوراً سے آنکھیں کھولی۔۔
“نن۔۔نہیں میں پڑھ رہی ہوں۔۔” وہ جلدی سے کتاب میں جھکی۔۔
بالوں کی آوارہ لٹیں آگے جھول رہی تھی جوڑے میں لپٹے بال اب کھلنے کو بے تاب تھے بڑی سیاہ آنکھیں نیند سے بند ہورہی تھی۔۔
امتحان کے چکر میں وہ کل سے ایک ہی جوڑے میں تھی جو شکن زدہ ہوگیا تھا۔۔
راہب کو اچانک ہی اس معصوم وجود کو باہوں میں بھرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔۔
پتا نہیں کیوں وہ آج کل اس کی جانب کھینچا جارہا تھا۔۔
نجانے کیوں شجیہ کے معاملے میں اس کا دل بے اختیار ہورہا تھا۔۔
جب کہ نکاح کے وقت صرف شجیہ کو سہارا دینا اور ان لوگوں سے بچانا چاہتا تھا۔۔
مگر اب وہ اسے محبت دینا چاہتا تھا۔۔۔
راہب نے سوچا کہ واقعی اگر اسے باہوں میں لینے کی کوشش کرے تب اس کے چہرے پر جو تاثرات آئیں گے۔۔
راہب تصور میں ہی۔سوچ کر مسکرادیا۔۔
ابھی وہ اپنی۔سوچ پر عمل نہیں کرسکتا تھا۔۔ کیونکہ اس کا امتحان تھا اور وہ اسے کوئی بھی ذہنی تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔۔
اسی لئیے اپنے دل کو ڈپٹ کر وہ۔اس طرف متوجہ ہوا۔۔۔
جہاں شجیہ صوفے سے ٹیک لگائے ایک بار پھر سوچکی تھی۔۔۔
راہب کو اس وقت وہ کوئی معصوم سی چھوٹی بچی لگی۔۔۔
راہب نے آگے بڑھ کر اس کے نازک وجود کو احتیاط سے اٹھایا اور بیڈ کی جانب بڑھا تا کہ۔اسے آرام سے سلادے۔۔
شجیہ کی آنکھ اسی وقت بند ہوئی تھی اسی لئیے اس کی آنکھ اچانک کھل گئی اور خود کو راہب کے اتنے قریب دیکھ کر وہ حیران اور پریشان ہوئی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد احساس ہوا کہ اس کے وجود کا بوجھ راہب نے اٹھایا ہوا ہے۔۔
شجیہ نے اس کی شرٹ کا کالر پکڑ کر اترنے کی کوشش کی۔۔
مگر راہب نے اس کی یہ کوشش ناکام کردی۔۔
اوراس پر جھکا۔۔
شجیہ اس افتاد پر گھبرا گئی۔۔
بالوں کا جوڑا کھل کر بکھر گیا۔۔
اس نے آنکھیں بند کرلی۔۔ راہب اس کی اس ادا پر مسکرادیا۔۔
اور جھک کر اس کے بال سمیٹے۔۔
“ششش” وہ کچھ بولنے لگی تھی اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر چپ کروایا اور آگے بڑھنے لگا۔۔
شجیہ خاموشی سے اس کی قربت برداشت کر رہی تھی۔۔ اس کے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ چکی تھی۔۔
راہب نے اس کے وجود کو احتیاط سےبیڈ پر ڈالا۔۔ اور اس کے بالوں کو سمیٹا۔۔
پھر وہ جھکا اور اپنی محبت کی پہلی مہر اس کی پیشانی پر ثبت کی۔۔۔
شجیہ نے آنکھیں بند کرلی۔۔
“”گڈ نائٹ۔۔” اس کے کان میں سر گوشی کرتا وہ سٹڈی روم میں چلا گیا۔۔
شجیہ کو اپنی منتشر دھڑکنوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔۔۔شجیہ کو کافی۔دیر تک اپنی پیشانی جلتی محسوس ہورہی تھی۔۔
صبح شجیہ سے پہلے راہب کی ہی آنکھ کھولی۔۔
“شجی۔۔۔ شجی۔۔”راہب اسے آواز دے رہا تھا۔۔
وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی۔۔
“فجر کا وقت ہورہا ہے نماز نہیں پڑھنا۔۔”
شجیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
راہب کو فجر کی نماز میں اس نے اٹھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا اور آج وہ اس سے پہلے ہی تیار کھڑا تھا۔۔۔
“وقت دیکھو۔۔ ” اب رعب سے کہا تو وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھی سلیپر ڈالتے ہوئے ایک نظر اسے اٹھا کر دیکھا۔۔
راہب کو دیکھ کر رات والی جسارت یاد آئی تو وہ بے ساختہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ بیٹھی۔۔
راہب نے دیکھا تو اس کا قہقہ فضا میں گونجا وہ۔نظر چراتی جلدی سے واش روم کی جانب بھاگی۔۔۔
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو راہب بھی اسی وقت مسجد سے نماز پڑھ کر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
وہ جائے نماز سمیٹ کر کتابیں لے کر بیٹھ گئی۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھا اس کی ہر حرکات پر نظر رکھا بظاہر موبائل پر مصروف تھا۔۔۔
“بس اس وقت زیادہ مت پڑھو جو یاد ہے وہ بھی بھول جاؤگی۔۔”
تھوڑی دیر بعد راہب کی آواز گونجی تو شجیہ نے روہانسی شکل کے ساتھ اسے دیکھا۔۔۔
“مجھے لگ رہا ہے مجھے کچھ بھی یاد نہیں۔۔”
بے چارگی سے شجیہ نے کہا تو وہ بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔
“ادھر دیکھو۔۔۔” وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور نظر نیچے جھکالی۔۔
کیونکہ راہب کی بدلی ہوئی آنکھیں جس میں شجیہ کے لئیے پنپتی محبت تھی وہ برداشت کرنا مشکل تھا۔۔۔
“بند کرو کتاب۔۔” اس کے ہاتھ سے کتاب لے کر راہب نے بند کر کے سائیڈ پر رکھی۔۔
“مم۔۔مگر۔۔” میں کیسے دونگی پیپر۔۔۔”
شجیہ نے لتاب رکھنے پر گھبرا کر کہا۔۔۔
“افف پگلی۔۔۔ تمہیں۔ سب یاد ہے اوکے ریلیکس۔۔۔”
“نن۔۔نہیں۔۔۔” شجیہ نے آنکھیں بند کر کے نفی میں گردن ہلائی۔۔۔
راہب اس کی بچوں۔ جیسی حرکت دیکھ کر مسکرادیا۔۔۔
چلو ناشتے کے لئیے نیچے۔۔”راہب نے اس کا ہاتھ پکڑ کے صوفے سے اٹھایا۔۔۔
“میں تیار تو ہوجاؤں۔۔” شجیہ نے کہا تو راہب نے سر ہلا کر اسے جلدی تیار ہونے کا کہا۔۔۔
وہ۔ سفید لباس میں اتنی معصوم لگ رہی تھی کہ راہب دیکھتا رہ گیا۔۔۔
اس کی تیاری میں وہ ساتھ ساتھ تھا
“یہ لو کتاب اٹھاؤ۔۔” وہ تیار ہوگئی تو اس نے اس کے ہاتھ میں کتاب دی۔۔۔
شجیہ کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار دیکھ کر اس نے اس کا ہاتھ تھاما جیسے اسے تسلّی دی۔۔۔
اسے ساتھ لے کر وہ نیچے آیا جہاں۔ ڈائینگ ٹیبیل پر سب ناشتے کے لئیے بیٹھے تھے۔۔۔
احمد صاحب ان۔ دونوں کو دیکھ کر ہی وہاں سے اٹھ گئے۔۔۔ اب تک انہوں نے راہب سے بات تک نہیں تھی۔۔۔
وہ آفس بھی جاتا تو وہ اس سے بات نہیں کرتے۔۔۔
شجیہ نے احمد صاحب کے جاتے ہی روہانسی شکل بنا کر راہب کی جانب دیکھا۔۔ جیسے اس سے شکایت کرنا چاہ رہی ہو۔۔
راہب آج صبح سے اس کی بچوں جیسی معصومیت پر فدا ہورہا تھا ویسے تو احمد صاحب کی اس حرکت سے اسے بھی دکھ ہوا تھا۔۔۔
مگر شجیہ کی اس معصومیت پر اسے جی بھر کر پیار آیا مگر لائبہ بیگم اور مریم کے سامنے وہ۔اس پیار کو دبا گیا۔۔
لیکن اس کے ٹیبیل پر دھرے ہاتھ کو اس نے دھیرے سے دبا کر تسلّی دی۔۔۔
“بیٹا تیاری کیسی ہے آپ کی؟” لائبہ نے دیکھ لیا تھا احمد صاحب کے جانے سے شجیہ کا دل خراب ہوا ہے اسی لئیے وہ بات بدلنے کے لئیے جلدی سے بولیں۔۔
“جی آنٹی ٹھیک ہے۔۔” شجیہ نے سر ہلا کر پھنسی ہوئی آواز سے کہا۔۔۔
“بیٹا آنٹی نہیں مام راہب کی مام ہوں تو آپ کی بھی مام ہوئی۔۔” لائبہ نے اس کے جملے کی تصیح کی تو وہ جھینپ گئی۔۔۔
راہب نے ان کی بات پر مسکرا کر دیکھا اور فلائینگ کس کی۔۔”واہ میری مام کیا ساس کی مثال قائم کی ہے۔۔؟”
جس پر لائبہ بیگم نے اسے۔گھور کے دیکھا تو اس کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔
مریم۔اور شجیہ بھی مسکراہٹ دبا کر رہ گئیں۔۔۔
“موٹی ناشتہ ہوگیا ہے تو چلیں۔۔”
وہ مریم کو مخاطب کرتا اب جیب میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہوچکا تھا۔۔
شجیہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوچکی تھی۔۔
“بھائی آج بھابھی کا پیپر ہے آپ چلے جائیں میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤنگی۔۔”
مریم نے اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔
“پیپر میں ابھی آدھا گھنٹا باقی ہے آپ کی بھابھی کو کوئی پرابلم نہیں ہے تو تمہیں کیا ہے جلدی سے آجاؤ۔۔۔”
راہب شجیہ کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔
وہ دونوں بھی اس کے پیچھےچل دیں۔۔۔
“جوس پی لو۔۔” وہ مسلسل کتاب لئیے پڑھنے میں مصروف تھی جب وہ گلاس لئیے اس کے سامنے تھا۔۔۔
“ابھی موڈ نہیں ہے۔۔” شجیہ نے آہستہ سے منع کیا کیونکہ راہب سے ڈرتی بھی بہت تھی اور اب تک وہ اس سے بے تکلف نہیں ہوسکی تھی۔۔
“آواز نہیں آئی تمہیں؟” رعب سے پوچھا گیا تو اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
“جی۔۔” وہ۔ اس رعب سے ہی کانپ گئی۔۔۔
“میں نے آپ سے پوچھا تو نہیں کہ آپ کا موڈ ہے یا نہیں۔۔۔ میں نے کہا ہے پی لو تومطلب ہے پی لو۔۔۔”
راہب نے سختی اور سنجیدہ لہجے میں کہا تو شجیہ نے فوراً اس کے ہاتھ سے گلاس لے لیا اور ایک ہی سانس میں غٹا غٹ چڑھاگئی۔۔۔
راہب اپنی مسکراہٹ دباتا سامنے بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔
شجیہ چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی پھر اپنی کتاب میں مصروف ہوگئی۔۔۔
آج شجیہ کا آخری پیپر تھا۔۔ وہ پیپر دے کر نکلی تو اسے راہب کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔
وہ پریشان سی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ راہب اسے اب تک لینے نہیں آیا تھا ورنہ وہ آدھے گھنٹے پہلے ہی کالج لے باہر گاڑی لے کر آجاتا۔۔
تا کہ شجیہ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنہ نہ کرنا پڑے۔۔۔
دس منٹ ہوچکے تھے اسے دھوپ میں کھڑے مگر راہب کی گاڑی یا راہب کا کوئی نام و نشان موجود نہیں تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ کر کے کالج کی تمام لڑکیاں باہر آچکی تھیں۔۔۔
اب شجیہ کو گھبراہٹ شروع ہوچکی تھی۔۔ وہ ایسے ہی ہجوم میں گھبراتی تھی۔۔ اور کبھی راہب نے اسے اکیلے چھوڑا بھی نہیں تھا۔۔
مگر آج پہلی بار وہ اس طرح دس لوگوں کی نظروں سے خود کو بچاتی کھڑی تھی۔۔۔
“شجیہ تم گئی نہیں اب تک۔۔؟”
عائزہ نے اسے دیکھا تو اس کے پاس آکر پوچھنے لگی۔۔۔
عائزہ کو یہ معصوم سی سہمی ہوئی لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔۔ اسی لئیے اس نے اس سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی۔۔
شجیہ نے تو زیادہ باتیں نہیں کی سوائے نام بتانے کے مگر عائزہ۔خود ہی بہت بولتی تھی۔۔ اب بھی اسے اکیلے دیکھا تو اس کے پاس آگئی۔۔
شجیہ نے اسے دیکھا تو پہلی بار اسے عائزہ کا اس کے پاس آنا بہت اچھا لگا۔۔
ورنہ پہلے لوگوں سے اور دوستی سے گھبرانے والی لڑکی عائزہ کی۔دوستی سے بھی بھاگنے کی کوشش کرتی تھی۔۔
“کیا ہوا تمہارے بھائی لینے نہیں آئے؟”
شجیہ کے جواب دینے سے پہلے ہی وہ پھر بول پڑی اور خود ہی اندازہ لگالیا۔۔
راہب کو اس کا بھائی سمجھ بیٹھی۔۔۔
شجیہ اس کے بھائی بولنے پر گھبراگئی۔۔
“نہیں۔۔ بھائی نہیں ہیں وہ۔۔ میرا تو کوئی بھائی نہیں ہے ” ہلکی سی آواز میں تصیح کرنے کی کوشش کی۔۔۔
“اوہ تو کزن ہیں ہاں ایک ہی بات ہے ویسے۔۔ آؤ ہم ڈراپ کردیں گے تمہیں میرے بھائی کی کار دیکھو سامنے ہی ہے۔۔۔ میں نے تمہیں اکیلے اس طرح کھڑے دیکھا تو آگئی۔۔۔”
عائزہ ایک بار پھر اس کی۔ سنے بغیر شروع ہوچکی تھی۔۔۔
“نہیں میں چلی جاؤنگی۔۔” شجیہ نے گھبرا کر منع کیا۔۔۔
اب شجیہ کی پریشانی میں اضافہ ہوچکا تھا۔۔ اسے تو گھر کا ایڈریس بھی نہیں پتا تھا۔۔ اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔۔۔
اس سے پہلے کے عائزہ پھر کچھ کہتی ایک کار بلکل اس کے سامنے آکر رکی۔۔۔
شجیہ۔ اچھل کر پیچھے ہوئی۔۔۔
“ہائے ڈئیر کزن آپ کے ہزبینڈ نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا ہے کیا؟ “
فاضل کا چہرہ سامنے دیکھ کر شجیہ کا چہرہ خوف سے پیلا ہوگیا۔۔۔
“چچ۔۔۔ بہت افسوس ہوا بہت ہیرو بن کے گیا تھا وہ ٹیچر اب کہاں ہے اس کی غیرت۔۔۔”
فاضل زہر اگل رہا تھا اور شجیہ کی جان نکل رہی تھی۔۔
اسے لگ رہا تھا اگر وہ مزید یہاں کھڑی رہی تو گر جائے گی۔۔۔
اس نے پیچھے مڑ کر عائزہ کی جانب دیکھا جو حیرت سے اسے اور فاضل دیکھ رہی تھی۔۔۔
“عا۔۔عائزہ مجھے چھوڑ دوگی؟ ” اسے فاضل سے بچے کا یہی ذریعہ نظر آیا۔۔۔۔
“ہاں بلکل دیکھو بھائی بھی یہیں آرہے چلو۔۔۔” عائزہ سامنے سے آتے دائم کو دیکھ کر بولی۔۔
جوفاضل کو اس طرح گاڑی روکتا دیکھ کر آرہا تھا۔۔۔
فاضل اندر سے بہت بزدل تھا ایک لڑکے کو اس طرف آتا دیکھ کر گاڑی بھگا کر لے گیا۔۔۔
شجیہ کی جان میں جان آئی۔۔۔
“کیا ہوا ہے تم لوگ اس طرح کیوں کھڑی ہو؟ کون تھا یہ؟ “
دائم نے آتے ہی عائزہ کی طرف دیکھتے سوال کیا۔۔
عائزپ نے کاندھے اچکا کر لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔
اب دائم نے اس طرف دیکھا۔۔۔
“آپ کو سڑک پر اس طرح کھڑے رہنے کا شوق ہے تو کھڑے رہیں آجاؤ عائزہ۔۔”
دائم کو اس کی ہٹ دھرمی پر بہت غصّہ آیا تھا۔۔۔
ایک خطرہ ٹلا تو دوسرا سامنے تھا شجیہ نے سامنے نظریں اٹھائی تو ڈیسینٹ سا لڑکا چہرے پر غصّہ لئیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی فیصلہ کرتی۔۔۔ سامنے سے راہب کی گاڑی نظر آئی۔۔۔
شجیہ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آئے۔۔۔
“میرے ہزبینڈ آگئے آپ لوگوں کا شکریہ۔۔۔”
اتنی چھوٹی لڑکی کے منہ سے ہزبینڈ کا لفظ سن کر جہاں وہ دونوں حیرت کا شکار ہوئے وہیں گاڑی سے اترتے راہب کو بھی خوش گوار حیرت ہوئی۔۔۔
راہب کو سامنے دیکھ کر جہاں دائم چونکا۔۔ وہیں راہب بھی حیرت کا شکار ہوا۔۔۔
“،دائم تم ہو۔۔۔ پاکستان کب آئے؟ ” راہب گرم جوشی سے گلے ملا۔ ۔۔
شجیہ۔ اور عائزہ حیران تھی۔۔۔
“بس ابھی ایک ہفتہ ہوا اور تم نے شادی بھی کرلی۔۔۔” دائم نے شجیہ کی۔ طرف دیکھتء ہوئے اسے کہا تو راہب ہنس دیا۔۔۔
“چلو پھر ملاقات ہوگی ابھی وقت کم ہے۔۔” راہب نے دائم سے ہاتھ ملاتے ہوئے اجازت مانگی اور شجیہ کو لئیے گاڑی کی طرف آگیا۔۔۔
دائم۔ اور راہب کلاس فیلو تھے لیکن کافی سال سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔۔۔ دوستوں کے ذریعے راہب کو اس کے کینیڈا جانے کا پتا چلا تھا۔۔۔
راہب نے گاڑی۔ سٹارٹ کی تو شجیہ کی جانب دیکھا جس کے چہرے پر ابھی بھی خوف پھیلا تھا۔۔۔
“شجی سب ٹھیک ہے؟ ” راہب نے پیار سے اس کی جانب دیکھتے سوال کیا تو شجیہ نے اپنی شکایت بھری نظریں اس کی جانب اٹھائی۔۔۔
“بات نہیں کریں مجھ سے۔۔ مجھ سے جان چھڑانا ہے نہ آپ کو تو مار دیں مجھے مگر اس طرح اکیلا نہ کریں۔۔۔ میں۔۔۔”
پہلی بار شجیہ نے کوئی بڑا جملہ کہا مگر وہ کہتے ساتھ ہی رونے لگی۔۔۔
راہب اس کے اس طرح شکایت کرنے پر خوش ہونے لگا تھا کہ اس کو روتا دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا۔۔۔
“شجی ۔۔۔ پلیز یار رونا بند کرو بتاؤ کچھ ہوا ہے؟ “
راہب نے گاڑی سائیڈ پر روک دی تھی۔۔۔
شجیہ نے اس کی بات پر کچھ نہیں کہا اور وہ سر جھکائے سسکتی رہی۔۔۔
“آئی ایم سوری میں جان کر لیٹ نہیں ہوا یار ڈیڈ نے جان کر میٹینگ رکھ دی تھی پھر وہاں سے اتنی مشکل سے جان چھڑا کر نکلا تو گاڑی خراب ہوگئی۔۔۔
پلیز رونا بند کرو شجی مجھے کچھ ہورہا ہے۔۔”
راہب نے اسے وضاحت دی۔۔۔ اس کے لہجے کی سچائی دیکھ کر شجیہ نے سر اٹھایا۔۔۔
“وہ۔۔وہ فا۔۔۔فا۔۔۔ضل۔۔۔۔” شجیہ نے آنسو کے دوران بمشکل کہا تو راہب کے ماتھے پر فاضل کا نام سن کر غصّے سے بل آنے لگے۔۔۔
“کہاں تھا وہ کیا کیا اس نے؟ ” راہب کی آواز غصّے سے کانپ رہی تھی۔۔۔
شجیہ نے اٹک اٹک کر اسے ساری بات بتادی۔۔۔
راہب کا خون کھولنے لگا اس کا دل چاہا وہ اس لڑکے کی جان لے لے۔۔۔
“بس آنسو صاف کرو اپنے۔۔۔ آئیندہ تمہیں اکیلا کبھی نہیں چھوڑونگا۔۔۔ پرامس۔۔۔”
اس کے بازو پر اپنا حصار مضبوط کر کے وہ اس سے وعدہ کر رہا تھا۔۔۔
شجیہ کو تحفظ کا احساس ہوا اس نے خاموشی سے اپنے آنسو صاف کئیے۔۔۔
اب راستے بھر خاموشی تھی۔۔۔
راہب کی نظریں اس کی جانب اٹھ رہی تھی اسے اچھا لگا شجیہ کا اس طرح اس پر حق جتانا۔۔۔
راہب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی جب اسے شجیہ کا بے ساختہ ناراض ہونا یاد آیا تو وہ ایک سرشاری کے احساس سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔
اور شجیہ اب اپنی بے ساختگی میں گھبرا رہی تھی۔۔۔۔
اسی طرح راستہ کٹ گیا ۔۔۔۔
رات کا وقت تھا۔۔۔ اندھیرا جنگل وہی بھیڑیا اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔۔
بہت سے ہاتھ اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔
اچانک ہی اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ چیخنے لگی۔۔۔۔
راہب سٹڈی روم میں تھا اس کی چیخ سن کر باہر آیا۔۔
وہ کمرے سے ملحق سٹڈی روم میں اپنا آفس ورک کر رہا تھا۔۔۔
“شجی۔۔۔ شجی۔۔۔۔ آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے۔۔؟” وہ آنکھیں بند کئیے چیخ رہی تھی۔۔۔
راہب کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولی۔۔۔
“کیا ہوا ہے؟ کوئی خواب دیکھا ہے؟ ” راہب نے اسے پانی کا گلاس پکڑا کر پوچھا۔۔۔۔
وہ۔۔۔ بھیڑیا میرے پیچھے لگا ہے۔۔”
آنسو کے درمیان شجیہ نے کہا تو وہ سمجھ گیا آج فاضل کو دیکھ کر اس کے اندر کا خوف اسے خواب میں ڈرا رہا تھا۔۔۔۔
آج بہت دن بعد اس نے یہ خواب دیکھا تھا اسی لئیے زیادہ ڈر لگ رہا تھا۔۔
وہ اسکے سینے سے لگی سسکیاں لے رہی تھی۔۔۔۔
“سوجاؤ اب۔۔۔۔” پیار سے اس کا سر سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
خوف میں شجیہ کا دھیان ہی نہیں گیا وہ اس وقت راہب کے کتنے قریب ہے۔۔۔۔
“آ۔۔۔آپ یہاں آجائیں مجھ سے دور نہ جائیں۔۔۔۔” شجیہ ابھی سب کچھ بھول چکی تھی کیونکہ وہ خواب کے زیر اثر تھی۔۔
ابھی صرف اسے راہب اپنا محافظ لگ رہا تھا وہ اسے دور جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
اس موقع پر بھی شجیہ کی بات سن کر راہب کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔۔۔۔۔
“میں تو چاہتا یہیں ہوں کہ میں کہیں نہ جاؤں تمہارے پاس رہوں۔۔۔۔”
راہب نے معنی خیزی سے کہتے ہوئے اسے اور قریب کیا۔۔۔
شجیہ کو ابھی کچھ بھی سمجھ نہیں آیا وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ چکی تھی۔۔۔۔
راہب کو سکون کا احساس ہوا اس نے شجیہ کے گرد محبت سے اپنے بازو کا حصار باندھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں شجیہ گہری نیند میں جاچکی تھی۔۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: