Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 11

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 11

شجیہ کی صبح کسی احساس کے تحت آنکھ کھلی تو وہ راہب کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ حواس باختہ ہوگئی۔۔
پھر رات کا واقعہ یاد آنے لگا۔۔ اسے اپنی بے ساختگی پر غصّہ آیا۔۔”کیا ضرورت تھی اتنا ڈرنے کی پتا نہیں یہ خواب پیچھا کب چھوڑیں گے۔۔”
اس کا سر راہب کے کاندھے پر تھا اور راہب کے بازو اس کے گرد تھے۔۔
شجیہ نے آرام سے راہب کا بازو ہٹانے کی کوشش کی۔۔”افف اتنا بھاری کیا لوہا چباتے ہیں۔۔” وہ نازک سی لڑکی اس کا فولادی ہاتھ ہٹانے میں ناکام رہی۔۔
اچانک ہی راہب نے اس طرف کروٹ لی وہ مکمل اس کے حصار میں آگئی۔۔
شجیہ کی سانسیں رک گئی۔۔ افف اتنی قربت۔۔
شجیہ نے آنکھیں بند کرلی۔۔ افف اٹھ کیوں نہیں رہے یہ۔۔” وہ بڑبڑا رہی تھی۔۔۔
“کیسے اٹھوں اتنا حسین خواب جو دیکھ رہا ہوں دل ہی نہیں۔چاہ رہا کہ یہ پل کبھی ختم ہو۔۔۔”
کہنی کے بل چہرہ اوپر اٹھائے اس کے چہرے پر جھکے ہوئے اس نے کہا تو شجیہ اس کی بات کی گہرائی تک پہنچ تو نہیں سکی مگر اس کو خود کے اتنے قریب دیکھ کر اس کی سانسیں۔اتھل پتھل ہونے لگی۔۔ دھڑکنوں کا۔شور بڑھنے لگا۔۔۔
راہب کے بازو ہٹاتے ہی فوراً اس کے حصار سے نکلی۔۔ وہ درندوں کے خوف کی ماری لڑکی تھی کوئی عام لڑکی نہیں تھی جو محبت کے مفہوم کو آسانی سے پہچان لے اور اس راہ پر چل پڑے وہ دنیا سے دور ایک کونے میں رہنے والی لڑکی تھی ابھی راہب کی آنکھوں۔سے اس نے دنیا دیکھنا شروع کیا تھا کیسے بھروسہ کر کے اپنی تمام ڈور اس کو دےدیتی۔۔۔
اس کو وقت چاہئیے تھا اسے ابھی صرف اعتماد بھروسہ اور محبت چاہئیے جو دنیا کا مقابلہ کرسکے راہب کا ہاتھ پکڑے تو اسے کوئی خوف محسوس نہ ہو۔۔
راہب سمجھتا تھا وہ کوئی جزبات میں بہکنے والا لڑکا نہیں تھا۔۔۔ اس نے اپنی زندگی بہت صاف ستھری گزاری تھی آج کل کے دور میں بھی خود کا دامن ہر گندگی سے بچا کر رکھا تھا۔۔
وہ بہت مضبوط اعصاب کا مالک تھا اس کی تربیت ہی اس انداز میں کی گئی تھی وہ عورت کا۔احترام کرنا جانتا تھا۔۔
شجیہ اس کی بیوی تھی وہ چاہتا اس ڈری۔سہمی لڑکی سے اپنا حق آرام سے وصول کرسکتا تھا مگر نہیں وہ راہب تھا۔۔
شجیہ اس کی بیوی تھی لیکن اس نے شادی اس لئیے نہیں کی کہ اپنی مردانگی دکھا سکے اس کا مقصد شجیہ کو معاشرے میں مقام دلانا تھا وہ اسے بے خوف معاشرے میں رہنا سکھانا چاہتا تھا اسکی زندگی کو خوشیوں سے بھر دینا چاہتا تھا۔۔۔
ہاں وہ اس سے شاید محبت بھی کرنے لگا تھا مگر پہلے وہ اسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا اپنے ہونے کا احساس دلانا چاہتا تھا۔۔
شجیہ کے پاس اب راہب کے علاوہ کوئی نہیں تھا شجیہ کی امیدیں بھی اب راہب سے وابستہ تھیں۔۔۔ راہب کی ہی ذمّہ داری تھی کس طرح وہ شجیہ کے امیدوں پر پورا اترتا ہے اور اسے مایوس نہیں کرنا ہے۔۔۔
راہب ان ہی سوچوں میں تھا جب شجیہ واش روم۔سے فریش ہو کر باہر آئی۔۔
راہب نے اپنی تمام سوچوں کو جھٹکا اسے دیکھ کر یاد آیا۔۔۔ شجیہ کے امتحان ختم ہوچکے تھے۔۔۔
“شجی امتحان ختم ہوگئے اب آگے کیا پلان ہے؟؟۔۔” اسے ڈریسینگ کی طرف مڑتا دیکھ کر راہب نے دوستانہ لہجے میں کہا۔۔۔
شجیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ کیسا پلان۔۔۔ اس نے کبھی اپنی زندگی میں کچھ پلان ہی نہیں کیا جیسی گزر رہی تھی وہ گزار رہی تھی۔۔ اس کی۔زندگی تو خود ہی اچانک اتنی بدل گئی کہ۔وہ تقدیر کا منہ دیکھتے رہ گئی۔۔
اس کی مرضی سے کب کچھ ہورہا ہے جو وہ آگے کچھ پلان کرتی۔۔۔
اسے اس طرح خاموش اور افسردہ دیکھ کر راہب نے شجیہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے بیڈ پر جگہ دی۔۔۔
“جو وقت گزر گیا ہے وہ برا خواب تھا کیا ہم ماضی کے گرد کو جھاڑ کر مستقبل کو فرنشڈ کرنے کا نہیں سوچ سکتے۔۔۔”
وہ آرام سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے محبت سے نرم لہجے میں سمجھارہا تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے ماضی بہت خوف ناک تھا مگر مستقبل اچھا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ تمہارے ہاتھ میں ہے اور میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں اور رہونگا۔۔۔
اب تم بتاؤ یونی میں ایڈمیشن لینا ہے؟ یا پڑھائی سٹاپ کرنی ہے؟”
راہب نے آخر میں فیصلہ اس پر چھوڑا تو وہ نفی میں گردن ہلاگئی۔۔۔
“پڑھنا ہے بہت سارا دادو چاہتی تھی میں پڑھوں اور رباب آپی کی طرح ان کے لہجے میں ان سے اعتماد سے بات کرسکوں۔۔۔”
شجیہ نے اپنی معصومیت سے کہا تو راہب کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔۔
“ہاہا تم رباب سے ایمپریس ہو اسی لئیے پڑھنا چاہتی ہو۔۔۔”
وہ تو۔چڑیل ہے ویسا کیوں بننا ہے بھئی مجھے تو معصوم سی شجیہ ہی پسند۔۔”
راہب نے اس کی ناک دباتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔۔
“سنو جتنا بھی آگے بڑھ جاؤ مگر کبھی اپنی معصومیت مت کھونا۔۔ سمجھی۔۔۔”
وہ بت بنی شجیہ کو سنجیدہ لہجے میں سمجھاتا ہوا بولنے لگا اور آخر میں اپنے مخصوص سٹائل میں۔ اسکے سر پر بجا کر کہا۔۔۔
“فلحال۔ تو رزلٹ کا انتظار کرو اور آج چلو ٹینشن فری ہونے پر جشن مناتے ہیں تیار ہو آج ہر جگہ سے چھٹی۔۔
آج کا دن تمہارے نام۔۔۔”
وہ شجیہ کو بولتا ہوا بیڈ سے اتر گیا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
شجیہ بچوں کی طرح خوش ہوگئی اور تیار ہونے چل دی۔۔۔
آج وہ اسے سی سائیڈ لے کر آیا۔۔
پانیوں کا شور دل کو پر سکون کر رہا تھا۔۔۔
ٹھنڈی ریت پر پاؤں پڑتے ہی دل گداز سا ہورہا تھا۔۔
راہب شجیہ کا ہاتھ پکڑے یوں ہی سمندر کنارے چلتا رہا کافی دیر دونوں میں خاموشی حائل رہی۔۔ جسے شجیہ نے توڑی۔۔
“میں بہت چھوٹے میں ماما بابا کے ساتھ آتی تھی۔۔ بابا اکثر سنڈے ہمارے ساتھ اینجوائے کرتے تھے۔۔ وہ ایک محنتی انسان کے ساتھ فیملی سے محبت کرنے والے تھے۔۔”
وہ اپنے اڑتے ہوئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے بہت پیچھے گئی ہوئی تھی۔۔ اسکا چہرہ باپ کی محبت میں چمک رہا تھا اور یادوں کے جگنوں اس کی آنکھوں میں ٹمٹمارہے تھے۔۔۔۔
راہب خاموشی سے اسے سن رہا تھا پہلی بار وہ اپنے دل کی باتیں کہہ رہی تھی۔۔۔
“میں کبھی کبھی آپ کو دیکھتی ہوں تو مجھے ۔اپنے بابا یاد آتے ہیں۔۔۔۔”
“ارے لڑکی تم نے تو رشتہ ہی بدل ڈالا۔۔”
راہب نے اس کی بات سے مصنوعی ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔
شجیہ نے اپنے لبوں سے دانتوں کو دبائے۔۔۔
“نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا مطلب آپ بلکل میرے بابا کی طرح خیال رکھتے ہیں سب کی خوشی کا بابا بھی اپنی فیملی کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔۔
دادو سے بھی وہ بہت پیار کرتے تھے مگر کبھی ماما سے بھی لاپروائی نہیں برتی۔۔ جب بھی میرے لئیے کچھ لاتے تو رباب آپی کے لئیے بھی ضرور کچھ لاتے۔۔۔
آپ بھی تو میرا اتنا خیال رکھتے ہیں مگر مریم کے لئیے بھی آپ کے پیار میں کمی نہیں آئی اور ڈیڈ ناراض ہیں آپ سے پھر بھی آپ ریگیولر آفس جاتے اور ان کی ہر بات مانتے ہیں۔۔ مام سے تو آپ۔ویسے ہی بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔”
شجیہ نے پہلی بار اتنی تفصیلاً بات کی اور اس کے لہجے میں راہب کے لئیے احترام تھا عقیدت تھی۔۔۔
“ہائے آج میری تعریف خیریت تو ہے؟ آئس کریم کھانی ہے؟”
وہ جھک کر اس سے اس طرح مسکرا کر سوال کر رہا تھا جیسے کوئی بچے کو بہلانے کے لئیے کرتا ہے۔۔۔
“آپ کو میں آئس کریم کے لئیے تعریف کرنے والی لگتی ہوں؟” منہ پھلا کر پوچھا گیا۔۔۔
راہب نے شرارت سے اپنے گال یوں چڑانے کی صورت میں گول کئیے اور آنکھوں کو میچ کیا اور جھک کر اس کی طرف دیکھ کر اثبات میں گردن ہلایا۔۔۔
“کہ ہاں لگتی ہو۔۔”
“راہب۔۔” غصّے سے سرخ ہوتی شجیہ اپنے اڑتے ہوئے بالوں کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے اور وہ آگے آگے اپنے قدموں کے نشان چھوڑتا ہوا جارہا تھا۔۔۔
لوگوں نے مڑ کر ان کو دیکھا۔۔
“اچھا۔۔اچھا۔۔ یہ لو کان پکڑ کر سوری۔۔۔”
وہ آگے جا کر اس کے قدموں میں گھٹنے ٹکا کر بیٹھا حد سے زیادہ معصومیت شکل بنائے وہ شجیہ کو دل کے بہت قریب لگا۔۔۔ اس کے ہرٹ نے ایک بیٹ مس کی۔۔
بہت سی گزرنے والی لڑکیوں نے رشک سے اتنے ہینڈ سم لڑکے کو ایک چھوٹی سی لڑکی کے قدموں میں دیکھا۔۔۔
“بس کریں اٹھیں اب سب یہیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔” شجیہ نے لوگوں کو اس طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاتھ دو تو اٹھونگا۔۔” راہب نے ہاتھ آگے کیا جسے شجیہ نے جھجک کر تھام لیا۔۔۔
وہ دونوں اسی طرح باتیں کرتے ہوئے چل رہے تھے کہ شام ڈھلنے لگی۔۔۔
اچانک ہی شجیہ کے پیر سے ایک بچی ٹکرا کر گر گئی۔۔
“اوہ۔۔ کیا ہوا۔۔” شجیہ اسے اٹھانے ہی لگی تھی کہ کسی میلے کچیلے آدمی نے اپنے ہاتھوں سے اس بچی کو پکڑا۔۔
“بچی ہے معافی۔۔ وہ آدمی آگے بڑھا۔۔
کہاں بھاگ رہی ہے کمبخت۔۔”
راہب شجیہ کا ہاتھ پکڑ کر گزرنے لگا جب شجیہ نے اس آدمی کی یہ آواز سنی تو وہ چونک کر مڑی۔۔
راہب حیران ہوا۔۔ وہ راہب کا ہاتھ چھڑا کر اس آدمی کی جانب بھاگنے لگی۔۔۔
“کیا ہوا ہے شجی۔۔۔” راہب پریشان ہوا۔۔
وہ وہ اس آدمی کی بچی نہیں ہے اسے پکڑیں راہب۔۔” شجیہ کی آواز کانپ رہی تھی۔۔۔
“ریلیکس شجی۔۔” وہ دونوں تقریباً دوڑتے ہوئے اس آدمی کے سر پر پہنچ چکے تھے۔۔۔
آدمی اپنی گندی نظریں بچی کے سلیو لیس ہاتھوں پر ڈالے اس پر ہاتھ پھیرتا اپنی حوس مٹارہا تھا۔۔۔
“دو اسے شرم نہیں آتی تمہیں۔۔۔” یہ صرف شجیہ محسوس کرسکتی تھی یہ نظریں اور اس طرح لمس ایک وہی جان سکتی تھی۔۔
اس نے بچی کو گود میں لیا اور اس کی نظروں سے اس کو چھپانے کی سعی کی۔۔۔
“بیبی کون ہوتم لوگ یہ بچی میری ہے۔۔۔”
وہ آدمی اپنی شکاری کو اس طرح ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر بھپر گیا۔۔۔
“اپنی بچی سے ہی اپنی حوس کی پیاس بجھارہے تھے۔۔” راہب نے ایک طمانچہ اس کے گال پر۔دیا۔۔۔”
پولیس۔۔” وہیں کھڑی پولیس کو راہب نے آواز لگائی اور اس آدمی کو اس کے حوالے کیا۔۔
اس پولیس کے پاس ایک عورت اور ایک مرد پریشان کھڑے تھے ان کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے آئے اور بچی کو شجیہ کے گود سے لیا۔
وہ عورت۔اسے دیوانہ وار چوم رہی تھی۔۔ممتا کا یہ منظر دیکھ کر شجیہ اور راہب کی آنکھیں بھر گئی۔۔” ماں تو دونوں کی نہیں تھی۔۔
“سنیں۔۔ پلیز ہوسکے تو بچی کو لباس مکمل پہنایا کریں۔۔”
شجیہ نے عورت سے جاتے ہوئے کہا تو وہ شرمندہ ہوگئی۔۔ ہم ہی سبب ہوتے ہیں اپنی بچیوں کی بربادی کے۔۔۔
“تم کیسے سمجھی شجی کہ وہ اس کا باپ نہیں۔۔”
وہ دونوں کھانے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔۔
“ایک تو اس بچی اور اس آدمی کا حلیہ میچ نہیں کر رہا تھا اور دوسرا اس کی نظریں۔۔” شجیہ اپنے ماضی میں پہنچ چکی تھی۔۔
“ویسے بچی تھی بہت پیاری تم۔نے ایک کلی کو مسخ ہونے سے بچایا شجی۔۔۔”
راہب نے بات پلٹنے کی۔غرض سے کہا۔۔
“ہاں ویسے کیوٹ بہت تھی مجھے بچے ویسے بھی بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔”
آنکھیں میچ کر اپنی خواہش بیان کی۔۔۔
“اوہ تو بچے پسند ہیں پھر کچھ سوچیں۔۔”
اپنے ہاتھ نیپکن سے صاف کرتے ہوئے راہب نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“کیا سوچنا ہے۔۔؟” وہ حیران سے گلاس ہاتھوں میں لئیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“بچوں کے بارے میں۔۔ اپنے۔۔”
راہب نے لب دبا کر ایک آنکھ مار کر شجیہ سے کہا تو پہلے وہ سمجھ نہیں سکی پھر سمجھ آنے پر اس کا چہرہ گلنار ہوا۔۔
شرم اس کی ایک ایک ادا میں جھلکل رہی تھی وہ خفت کا شکار ہوتی گلاس لبوں سے لگاگئی۔۔
راہب کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔
“مذاق تھا۔۔” وہ مسلسل ہنس رہا تھا۔۔
اب دونوں ایک بہترین دن گزار کر واپسی کی جانب گامزن تھے۔۔۔
ہل کی ٹک ٹک کے ساتھ پر اعتماد سی ماربل کے فرش پر چلتی وائٹ شرٹ کے ساتھ جینز پہنے بالوں کو کرل کر کے آگے کیا ہوا تھا۔۔
آنکھوں کو آئی لائنر کی مدد سے اور سجایا گیا تھا۔۔
ہونٹوں پر خوبصورت شیڈ لگائے اپنی مخروطی انگلی سے گلاس وال کا دروازہ اوپن کرتی اس نے اندر جھانکا۔۔
“مے آئی کم ان۔۔؟”
بلو لائیننگ کی شرٹ پہنے ہلکی ہلکی براؤن مونچھوں کے نیچے لب گولائی۔ میں سکڑے براؤن بال جیل سے سیٹ تھا۔۔
اس کو دیکھتے ہی لیپ ٹاپ بند کیا اور سر کو خم کیا۔۔۔
“یس۔۔”
“اوہ تھینکس کہ آپ نے مجھے اندر آنے کی اجازت۔ دی مجھے لگا۔۔ تم کہوگے کون اور کہاں چلی آرہی ہو بھئی نکلو یہاں سے۔ ۔۔”
رباب بے تکلفی سے کہتی تھکے ہوئے انداز میں سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
ہینڈ بیگ بھی برابر میں رکھا۔۔۔۔
“نہیں میری کیا مجال کہ میں احمد لاشاری کی چہہتی رباب کو اس طرح کہوں۔۔۔”
وہ ابھی بھی سنجیدہ سا ہی کہہ رہا تھا۔۔۔
“رباب ایک ادا سے کھلکھلاتی ہوئی ہنسی۔۔۔”
“نہیں آج میں احمد انکل سے ملنے نہیں ان کے بیٹے کو پرانی دوستی یاد دلانے آئی ہوں۔۔”
وہ اپنے مخصوص انداز میں ایک لاڈ سے کہتی اس کے ٹیبیل پر اس کی آنکھوں میں جھانکی۔۔۔
“اچھا تو کیسے یاد کروائیں گی۔۔”
راہب نے لطف لیا اس کی بات کا۔۔۔
“منتیں کرونگی واسطے دونگی۔۔”
رباب نے بھی ایک ادا سے جھکتے ہوئے کہا تو راہب کو ہنسی آگئی۔۔۔
“یار رئیلی ساری فار ایوری تھینگ۔۔”
ٹھیک ہے ہمارا وہ رشتہ نہیں ہوسکا لیکن ہم بچپن سے اچھے دوست ہیں۔۔۔
ہم نے ساتھ بچپن گزارا ہے۔۔ ہم اچھے دوست بن کر تو رہ سکتے ہیں نہ۔۔۔”
لجاحت سے کہتی وہ رباب نہیں لگ رہی تھی یہ تو کوئی بدلی ہوئی رباب تھی۔۔۔
عاجزی میں ڈوبی ہوئی۔۔۔۔
راہب کو اچھا لگا کہ چلو رباب میں تبدیلی تو آئی شکر ہے اس کا شیطانی دماغ ٹھیک ہوا۔۔
“کوئی بات نہیں تمہیں احساس ہوا کافی ہے۔۔۔”
راہب نے سچے دل سے کہا۔۔
وہ بلاوجہ کسی کو دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا اگر رباب واقعی سدھر گئی ہے تو معاف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔
“اسی بات پر ایک کپ کافی ہوجائے۔۔۔”
اس کی طرف ہاتھ بڑھاتی وہ کافی کی آفر کر رہی تھی۔۔۔”
“ابھی؟ ” راہب نے وقت دیکھا۔۔۔
“جی۔۔۔ کوئی بہانہ نہیں اٹھو۔۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کر چکی تھی۔۔۔۔
چار و نا چار راہب کو ہامی بھرنی پڑی اور وہ بھی کھڑا ہوگیا۔۔۔
ایک شاطر سی مسکراہٹ رباب کے لبوں پر زہر کی طرح پھیل گئی۔۔
جو راہب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: