Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 12

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 12

“اگر بیوی کے لاڈ اٹھانے سے فرصت مل گئی ہے تو آفس پر بھی دھیان دو۔۔۔”
رات سب کھانے کی ٹیبیل پر موجود تھے جب احمد صاحب نے راہب پر طنز کے نشتر چلائے۔۔۔
شجیہ جو بیٹھی تھی اس سے اب ایک لقمہ بھی لینا محال تھا۔۔۔
راہب کو اس طرح شجیہ کے سامنے احمد صاحب کا کہنا بہت برا لگا مگر وہ ضبط کر گیا۔۔۔
لائبہ اور مریم بھی پریشان ہوگئیں کہ اتنے دن سے احمد صاحب خاموش تھے مگر پھر آج اس ٹاپک کے مقصد سے دونوں ناواقف تھی۔۔۔
“کیا کر دیا اب میں نے؟”
ہاتھ نیپکین سے پوچھتا وہ احمد صاحب کی طرف سوالیہ نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔۔۔
“اب تم باپ کے آگے سوال کروگے وہ بھی اس دو چھٹانک کی لڑکی کے لئیے۔۔۔”
احمد صاحب نے ایک بار پھر شجیہ کو نشانہ بنایا۔۔۔
“ڈیڈ شجیہ کو بیچ میں لا کر آپ زیادتی کر رہے ہیں۔۔۔”
راہب کو سمجھ نہیں آرہا تھا اتنی میچیور سوچ رکھنے والے احمد صاحب نے اچانک شجیہ کو انا کا مسلئہ کیوں بنالیا تھا۔۔۔
“میں اسے نہیں لارہا یہ لڑکی خود آئی ہے ہم سب کے بیچ میں۔۔۔”
آج پھر رباب ان کے سامنے روئی تھی اور ان سے برداشت نہیں ہوا اسی لئیے وہ راہب پر غصّہ نکال رہے تھے۔۔۔
راہب اس بات سے انجان تھا کیونکہ رباب نے اس کے سامنے شجیہ کو قبول کر لیا تھا۔۔۔
شجیہ کی آنکھوں میں پانی بھر چکا تھا وہ جو سمجھ رہی تھی اس کی زندگی آسان ہوگئی ہے۔۔ وہ غلط تھی۔۔
زندگی نئے آزمائش کے لئیے تیار تھی۔۔۔
“مریم شجیہ کو لے کر اوپر جاؤ۔۔۔”
لائبہ بیگم نے شجیہ کو منظر سے غائب کیا۔۔۔
“ڈیڈ آپ چاہتے ہیں کہ ایک بہن سے اس کا بھائی اور ایک ماں سے اس کا بیٹا دور ہوجائے تو میں یہ گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہوں۔۔۔
لیکن شجیہ کی جو ذمّہ داری میں نے لی ہے اب میں اس ذمّہ داری کو بھر پور نبھانا چاہتا ہوں۔۔۔
خدا کے لئیے مجھے مجبور نہ کریں کہ مجھ سے کوئی گستاخی ہوجائے۔۔۔”
راہب سنجیدہ سا کہہ کر کھڑا ہو چکا تھا۔۔
عجیب ماحول ہو چکا تھا گھر کا۔۔ احمد
صاحب نے کبھی راہب کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں کیا تھا لیکن پہلی بار وہ راہب کے اس فیصلے سے نا خوش تھے۔۔۔
“احمد آپ کو اس لڑکی سے مسلئہ کیا ہے؟ اب وہ ہماری بہو ہے لیکن روز اس طرح ایک ہی بات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ “
لائبہ بیگم نے آج جھنجلا کر پوچھ ہی لیا۔۔۔
احمد جو کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھے لائبہ کے پوچھنے پر ان کی طرف مڑے۔۔۔
“مجھے رباب کی حالت نہیں دیکھی جاتی وہ بچی بھی کیا سوچتی ہوگی ہم نے منگنی کی تھی اس کے ساتھ اور ہمارے صاحب زادے نے ہمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔
رباب کے والد صاحب نے خود کروایا ہے یہ نکاح ایک باپ کو تو زیادہ فکر ہوتی ہے اپنی بیٹی کی وہ اپنی بیٹی کے لئیے اس سے اچھا سوچ سکتے ہیں۔۔۔
راہب نے نیکی کا کام کیا ہے ہمیں اس کو سراہنا چاہئیے سجیہ کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہئیے آپ الٹا اس کو بتارہے ہیں کہ ابھی بھی۔ اس کا کوئی نہیں ہے۔۔۔”
لائبہ بیگم آج احمد صاحب کو سمجھانے کا سوچ چکی تھیں۔۔
وہ اپنے ہاتھوں سے کریم کا مساج کرتی احمد صاحب کو نئی راہ دکھا رہی تھیں۔۔۔
احمد صاحب نے ان کے جواب میں کچھ نہیں کہا اور خاموشی سے لیٹ گئے۔۔۔
راہب جب سے کمرے میں آیا تھا اندر سٹڈی روم میں بند تھا۔۔۔
شجیہ بھی پریشان تھی اس کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب تھا یہ سوچ کر ہی اس کا دل برا ہورہا تھا۔۔۔
“پتا نہیں شجی کیا سوچ رہی ہوگی۔۔”
وہ لیپ ٹاپ آن کئیے شجیہ کو سوچ رہا تھا۔۔۔
اچانک اس کا موبائل بجنے لگا۔۔ نام دیکھا تو رباب بلنک کر رہا تھا۔۔
ابھی راہب کا موڈ نہیں تھا کہ۔وہ اس کی کال اٹینڈ کرتا۔۔۔
وہ کال کٹ کرچکا تھا۔۔۔
ایک بار دو بار اس کی مسلسل لیپ ٹاپ پر چلتی۔انگلیاں رکی اس کے چہرے پر روشنی کا عکس تھا۔۔۔
وہ مسلسل کال کٹ کر رہا تھا۔۔
مگر رباب بھی مستقل مزاجی کے ساتھ لگی تھی۔۔۔
“کیا ہوا ہے یار؟؟” وہ جھنجلا گیا۔۔
“مجھے لگا تم ڈسٹرب ہو تمہیں میری ضرورت ہے۔۔”
رباب کے جھٹ کہتے ہی وہ اتنے صحیح اندازے پر بھونچا کر رہ گیا۔۔۔
“تمہیں غلط لگس اور ڈسٹرب تم کر رہی ہو میں بزی ہوں۔۔۔”
کہتے ہی اس نے سیل آف کردیا اور تھک کر کرسی سے ٹیک لگالی۔۔۔
یہ فیصلہ سیکینڈ میں ہوا اسے کرنا کیا ہے۔۔
ہاں وہ ڈسٹرب تھا اور اسے کسی کی واقعی ضرورت تھی اگر وہ ان لمحوں کی قید میں آجاتا رباب سے بات کرلیتا تو وہ ایک غیر محرم کی باتوں میں جکڑ جاتا اور اپنی محرم کو بھول جاتا۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھا زیادہ ڈسٹرب تو وہ ہوگی زیادہ ضرورت تو اسے ہوگی کیوں نہ دونوں ہی اپنی ڈسٹربنس ایک دوسرے سے بانٹ لیں۔۔
بجائے اس کے کوئی تیسرا ان کے درمیان آئے اور ان کی لائف ڈسٹرب کرے وہ کمرے میں چلا گیا۔۔۔
کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر بیٹھی سسک رہی تھی۔۔
راہب کو۔خود پر غصّہ آیا کیوں وہ اسے چھوڑ کر بیٹھا تھا یہ سوچے بغیر کہ شجیہ کو اسوقت سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہوگی۔۔۔
“یہ لو۔۔”
شجیہ نے نظریں اٹھائی تو وہ ٹشو لئیے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
“میری وجہ سے آپ کو ساری باتیں سننا پڑتی ہیں۔۔”
شجیہ نے سوسو کرتے ہوئے کہا۔۔
اس کے معصومیت سے کہنے پر وہ مسکراتا ہوا بیٹھ گیا۔۔
“نہ۔۔ بلکل نہیں میری جان کی وجہ سے تو کچھ بھی نہیں ہوا وہ تو آپ کے ہزبینڈ کی غلطی ہے جو کچھ نہ کچھ گڑبڑ کردیتے ہیں۔۔”
وہ پیار سے اس کا ناک دباتا کہہ رہا تھا۔۔ انداز ایسا تھا جیسے کوئی چھوٹے بچے سے کہہ رہا ہو۔۔
شجیہ اس کے جان کہنے پر ہی بلش ہوگئی۔۔۔
راہب نے دلچسپی سے اس کے سرخ چہرے کو ملاحظہ کیا۔۔۔
“اب تم اس طرح شرما کر میرے صبر کا امتحان مت لو۔۔۔”
راہب مسکرا کر کہتا کھڑا ہوگیا واقعی اس کو اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔۔
وہ نائٹ ڈریس لے کر ڈریسینگ روم میں چلا گیا۔۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا رباب کی راہب سے دوبارہ دوستی کی خبر شجیہ کو ابھی نہیں تھی۔۔
احمد صاحب کا روّیہ اس دن کے بعد سے شجیہ سے بہتر ہوچکا تھا کچھ وہ خود بھی رباب کو دیکھ چکے تھے۔۔۔
رباب کس طرح دوبارہ راہب کےپیچھے پیچھے ہوتی احمد صاحب کو بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔
شجیہ کا دل بھی اس گھر میں لگ چکا تھا کیونکہ احمد صاحب اس کو دیکھ کر اب منہ نہیں موڑتے تھے۔۔۔
آج راہب آفس سے آیا تو شجیہ لائبہ اور مریم کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھی وہ دونوں کسی ڈرامے پر بات کر رہی تھی اور شجیہ خاموشی سے سن رہی تھی۔۔
وقتاً فوقتاً دونوں شجیہ کو بھی اپنی گفتگو میں شامل کرلیتیں۔۔۔
راہب نے دیکھا تو اس کے دل میں سکون اتر گیا اسے لگا کہ اس کی محنت وصول ہورہی ہے۔۔
شجیہ زندگی کی جانب لوٹ رہی ہے۔۔۔
“تمہارا رزلٹ آیا ہوا ہے اور تم یہاں ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔۔”
راہب نے سنجیدہ سی آواز سے کہا تو شجیہ کے پسینے چھوٹ گئے رزلٹ کا سوچ کر ہی اس کی جان نکلنے لگی۔۔۔
“بھابھی کا رزلٹ آگیا۔۔ واہ کیا بنا۔۔”
رزلٹ کا سن کر مریم بھی پرجوش ہوئی اور لائبہ بھی متوجہ ہوئی۔۔۔
“پوچھو اپنی بھابھی سے کیسا پیپر دے کر آئیں ہیں یہ۔۔”
راہب غصّے سے کہتا کمرے میں چلا گیا۔۔۔
شجیہ بھی اس کے پیچھے ڈرتے ڈرتے کمرے میں گئی۔۔۔
شجیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔۔۔
“پتا نہیں کیا ہوا ہوگا اس کے امتحان کا اللّہ میری عزت رکھ لے کیا منہ دکھاؤنگی میں۔۔۔”
شجیہ آنکھیں بند کئیے دعا میں مصروف تھی۔۔۔
آنکھیں کھول لیں محترمہ جو آپ کارنامہ دے کر آئی ہیں اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
شجیہ کی جان خشک ہوگئی تھی۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھا طنز کرنا نہیں بھولا تھا اب تو شجیہ کو لگا واقعی اس کی عزت خاک میں مل چکی تھی اب کیا ہوگا۔۔۔
راہب کیا سوچے گا اس کے بارے میں کتنی نالائق ہے یہ۔۔۔
“اب کیا سوچ رہی ہو آ کر دیکھو سیکینڈ ڈیویژن لی ہے تم نے۔۔۔”
وہ لیپ ٹاپ کھول کر اسے دکھا رہا تھا۔۔۔
شجیہ جو واقعی خوف زدہ ہوچکی تھی اس کی بات سمجھ آنے پر وہ چیخ پڑی۔۔۔
“کیا۔۔۔” منہ میں ہاتھ رکھ کر وہ بے یقین تھی۔۔۔
“یس مائی وائف اپنے شوہر کی لاج رکھ لی تم نے ورنہ میں تو سوچ رہا تھا لوگ کیا کہیں گے راہب جیسے ٹیچر کی وائف اتنی نالائق۔۔۔”
وہ اس کے بالوں کو کان کے پیچھے کرتا شرارت۔سے کہہ رہا تھا۔۔۔
“بس اپنی پڑی تھی آپ کو میری کوئی پرواہ نہیں۔۔”
پہلی بار وہ اس طرح مصنوعی ناراض لہجے میں بول رہی تھی۔۔۔
“کس نے کہا تمہاری پرواہ نہیں پگلی۔۔۔”
وہ اب اس کے بہت قریب کھڑا تھا شجہہ سے سانس لینا دشوار ہوا۔۔۔
“اچھا اب ایڈمیشن فارم لے آؤنگا کل اب اور زیادہ محنت کرنی ہے سمجھی۔۔۔”
وہ اپنے مخصوص انداز میں۔اس کے سر پر دو انگلیوں سے بجاتا کہہ رہا تھا۔۔
“اب نیچے چلو سب کو سرپرائز بھی تو دینا ہے۔۔۔”
وہ اسے ساتھ لئیے نیچے آگیا۔۔۔
سب بہت خوش تھے شجیہ نے سکون کا سانس لیا۔۔
احمد لاشاری بھی خوشگوار حیرت کا شکار تھے۔۔۔
“کیونکہ رباب نے تو ان سے یہی کہا تھا کہ شجیہ بہت نالائق ہے۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو بیٹا۔۔۔”
احمد صاحب نےجب اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور نرم لہجے پر شجیہ سمیت سب کو حیرت ہوئی۔۔۔
“بھائی سیلیبریٹ کرتے ہیں بھابھی کی خوشی۔۔۔”
“ہاں بلکل چلو آج سب باہر ڈنر کرتے ہیں میری طرف سے ۔۔”
راہب نےسخی بننے کی کوشش کی۔۔
“ارے واہ گڈ اچھا آئیڈیا ہے۔۔۔” مریم نے ہامی بھری۔۔۔
“ہاں تم لوگ چلےجاؤ میں اور تمہارے ڈیڈ توگھر پر ہی ڈنر کریں گے۔۔۔”
“ہاں تا کہ تمہاری مام مجھے پرہیزی کھاناکھلا سکیں۔۔۔”
حسب اختلاف آج احمد صاحب شجیہ کی خوشی میں خوش تھے۔۔۔
وہ لوگ معروف ریسٹیورینٹ میں بیٹھے آرڈر کا انتظار کر رہے تھے کہ کسی نے راہب کے پشت پر راہب کو پکارا۔۔۔
“ارے دائم یہاں پر خیریت۔۔”
ہاں دوستوں کے ساتھ آیا تھا۔۔ تم سے تو بس ایسے ہی ملاقات ہوتی ہے۔۔۔”
دائم نے شکوہ کیا تو وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
“ارے بھابھی کیسی ہیں آپ اور اس دن کے لئیے سوری میں غصّے میں تھا۔۔۔”
دائم نے اس دن بات کا حوالہ دیا تو شجیہ نے مسکرا کر گردن ہلا دی ابھی وہ اتنی پر اعتماد نہیں ہوئی تھی کہ ہر کسی کوجواب دے سکے۔۔۔
مریم حیرت سے دائم کو دیکھ رہی تھی۔۔
دائم کی نظر بھی اس پر پڑی۔۔۔
سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو راہب نے تعرف کروایا۔۔۔
یہ میری چھوٹی بہن مریم۔۔۔
“ہائے۔۔” دائم نے دلچسپی سے اس کو دیکھا جو حیرت۔سے منہ کھولے مضحکہ خیز لگ رہی تھی۔۔۔
“کبھی آنا گھر پر۔۔”راہب نے کہا تو وہ اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔
“ضرور اب تو آنا ہی ہوگا۔۔۔” مریم کی جانب دیکھتے ہوئے ہی اس نے جواب دیا۔۔۔
وہ جا چکا تھا مگر مریم اس کی نظروں اور دیکھنے کے انداز میں الجھ گئی تھی۔۔۔
جب سے امتحان ختم ہوا تھا وہ رائییٹنگ ٹیبیل پر بیٹھی کچھ لکھتی رہتی۔۔۔
راہب آج آفس سے آیا تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھی۔۔۔
وہ ٹیبیل کی جانب آیا تو کاغذ بکھرے پڑے تھے۔۔۔
جوں جوں اس کی نظریں تحریر پر پھسلتی گئی۔۔
اس کے چہرے کا زاویہ بدلتا گیا۔۔
اچانک ہی شجیہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔
راہب کے ہاتھ میں اپنی فائل دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی۔۔
راہب کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ سفید چہرے کے ساتھ کھڑی تھی جیسے کسی کی چوری پکڑی جاچکی ہو۔۔۔
“یہ کرتی رہتی تھی تم؟؟ ہمم۔۔۔”
وہ اس کے سر پر کھڑا سوال کر رہا تھا۔۔
شجیہ نے جھکا ہوا سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا۔۔
شجیہ حیران ہوئی۔۔
“یار تم اتنی ٹیلینٹیڈ تھی مجھے تو بلکل اندازہ نہیں تھا تمہارے اندر ایک رائٹر چھپا ہوا ہے۔۔۔”
راہب واقعی بہت خوش تھا۔۔۔
“آپ کو اچھا لگا؟”
بچوں جیسی خوشی سے اس نے سوال کیا۔۔
“بہت۔۔۔”
راہب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھایا۔۔۔
“تم واقعی رب کی طرف سے میرے لئیے انعام ہو تمہیں پتا ہے روز تم کچھ ایسا کردیتی ہو کہ روز میں نئے سرے سے تمہارے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہوں۔۔۔”
راہب اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لئیے اس کی آنکھوں میں دیکھتا کہہ رہا تھا۔۔
یلو کلر کی کرتی پہنے اس پر ہم رنگ دوپٹّہ پہنے بال جو ابھی گیلے تھے آگے کو آئے ہوئے تھے۔۔ اور بڑی بڑی آنکھیں نیچے کو جھکی ہوئی تھی۔۔
راہب نے دلچسپی سے اس کے سراپے کی جانب نگاہ کی۔۔۔
“تمہیں مجھ سے محبت کب ہوگی شجی؟”
اسی طرح دیکھتا ہوا اس نے سوال کیا۔۔۔
اس سوال پر شجیہ نے نگاہ اٹھائی۔۔
ہلکی براؤن داڑھی اور براؤن بال کے ساتھ براؤن آنکھیں اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ وہ اس سے سراپا سوال تھا۔۔۔
شجیہ نے اب مان لیا تھا کہ وہ اس کا شوہر ہے اور صرف اور صرف اس کا حق ہے شجیہ پر اور اسے یہ بھی سمجھ آچکا تھا کہ وہ بوجھ نہیں ہے اس پر بلکہ دل سے اس کا خیال رکھتا ہے۔۔۔
“کیا سوچ رہی ہو وائف اب بتا بھی دو۔۔” وہ اس کے آگے چٹکی بجاتا پوچھ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے اس کی جانب نگاہ کی۔۔۔
“مجھے نہیں پتا محبت کیا ہوتی ہے مجھے بس اتنا پتا ہے کہ میرے پاس رشتے کے نام پر صرف آپ کاسہارا ہے اور میں اتنا جانتی ہوں میری دھڑکنوں میں صرف آپ کا نام ہے آپ کے بغیر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔۔۔”
معصومیت سے کہتی شجیہ نے واقعی راہب کے دل کو پر سکون کیا۔۔۔
راہب کو خوش گوار حیرت ہوئی۔۔۔
راہب نے اسے اپنے ساتھ لگالیا۔۔۔
“کچھ دیر اس کی دھڑکنوں کو محسوس کر کے شجیہ نے سر اٹھایا۔۔۔
“کبھی سفر مشکل لگا یا کوئی اور آگیا آپ کی زندگی میں تو ہاتھ چھوڑ دیں گے؟ “
محبت ہوگئی تھی تب ہی خوف نے سوال کروانے پر مجبور کیا۔۔۔
تو راہب اس کی نگاہوں میں خوف دیکھا تو فوراً اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔
“میں وعدہ نہیں کرتا کیونکہ وعدہ کرنے والے مکر جاتے ہیں۔۔
“میں آس بھی نہیں دلاؤنگا کیونکہ امیدیں ٹوٹ جائے تب بھی تکلیف بہت ہوتی ہے۔۔۔
“میں نے زندگی میں پہلی بار اپنے دل میں کسی کا نام لکھا ہے اور وہ تمہارا نام تھا۔۔ اب اگر تمہیں خود سے الگ کیا تو گویا اپنی روح کو الگ کیا۔۔۔
اور پگلی اپنی روح کوکوئی خودسے الگ کیسے کرسکتا ہے۔۔۔”
اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی مہر ثبت کرتے ہی اس نے کہا۔۔۔
شجیہ کی پیشانی دہک اٹھی اور رگ و پے میں سکون سا اتر گیا۔۔۔
“اب کیا ارادہ ہے؟ مائی وائف۔۔۔”
اسے خود سے قریب کرتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا سوال کر رہا تھا۔۔۔
پیچھے اس پر اپنے بازو سے حصار مضبوط کیا۔۔۔
راہب کے اتنے قریب آکر اس کے ہوش ٹھکانے آگئے۔۔
راہب کی سانسیں خود میں محسوس کرتی وہ حد سے زیادہ کنفیوزہورہی تھی۔۔اور پھر اس کی آنکھوں میں مچلتا سوال۔۔۔
شجیہ نے نگاہیں جھکالی۔۔۔۔
ٹھوری سے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہی وہ دوسرا مہر ثبت کر چکا تھا۔۔۔
شجیہ نے پر سکون ہو کر اس کے سینے سے سر ٹکالیا۔۔۔
راہب نے بھی خوشی سے اس کے سر کو اپنے سینے میں محسوس کیا اور حصار مضبوط کیا۔۔۔
آج محبت نے اپنا سر اٹھالیا تھا۔۔
محبت اپنی جیت خوشی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: