Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 13

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 13

حسین رات کی صبح بھی خوش گوار تھی۔۔
راہب کی آنکھ کھلی تو شجیہ کو اپنے سینے میں سر رکھے ہی پایا۔۔
“تیرے پہلو میں ہی شب گزر جائے
یوں ہی میری عمر تمام ہوجائے”
فلزہ ارشد
دھیرے سے اس کے بالوں کواپنے ہاتھوں سےسہلاتارہا پھر دھیرے سے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے۔۔۔
شجیہ ہلکا سا کسمسائی۔۔۔
راہب نے سیدھے ہونے کی کوشش کی مگر اس کی آنکھ کھول چکی تھی۔۔۔
محبت نے اپنے پر پھیلا دئیے تھے اب کون دور ہونا چاہتا تھا ان لمحوں سے۔۔
شجیہ نے آنکھیں بند کرلی اور ان لمحوں کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔۔۔
“محترمہ دل تو نہیں چاہ رہا آپ کو یوں چھوڑنے کا مگر کیا کروں اس بندے کی روزی بھی بہت ضروری ہے۔۔”
بے چارگی سے راہب نے کہا توشجیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
“تیری مسکراہٹ ہی میرا اب سب کچھ ہے
کچھ نہیں میرا مجھ میں اب صرف تو ہے”
فلزہ ارشد
راہب نے اس کے کان کے پاس یہ شعر گنگنایا۔۔۔
“فلزہ میری پسندیدہ رائٹر ہیں آپ نے پڑھا ہے۔۔”
شجیہ نے یہ شعر سنا تو پر جوش سی اس کے سینے پر اپنی ٹھوری ٹکائے معصومیت چہرے پر سجائے پوچھ رہی تھی۔۔۔
“نہیں میں نے تو تمہاری نوٹ بک میں دیکھا تھا یہ اچھا لکھا ہے شاعرہ فلزہ نے لگتا ہے میرے جذبات کی عکاسی کردی ہے۔۔۔”
راہب اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا محبت سے کہہ رہا تھا۔۔۔
“وہ ہے ہی اچھی ان کی تحریر ہوتی ہی ایسی ہےکو بلکل دل کو چھولینے والی۔۔۔”
شجیہ آنکھیں بند کئیے جذب سے کہہ رہی تھی۔۔
“اچھا اب مجھے یہ فلزہ صاحبہ اپنی رقیب لگ رہی ہیں کیونکہ میری بیوی میرے سامنے ان کے گن گارہی ہے۔۔۔”
راہب نے مصنوعی ناراضگی سے کہا تو شجیہ کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔
“مبارک ہو راہب تمہاری وائف نے تو واقعی کمال کردیا ورنہ وہ لگتی نہیں تھی کہ کبھی کوئی کارنامہ انجام بھی دے گی۔۔۔”
راہب ابھی ہی یونی سے آفس آیا تھا۔۔
اور رباب سے اس کی ملاقات کوریڈور میں ہی ہوگئی۔۔
رباب تھی وہ کب تک برداشت کرتی اس کا لہجہ آج پھر اس کے جزبات کی عکاسی کر رہا تھا کہ شجیہ کے لئیے اس کے دل میں آج بھی اتنی ہی نفرت ہے اور آج وہ اپنے لہجے پر قابو نہیں رکھ سکی۔۔۔
راہب نے اس کے لہجے کو سنا تو اس نفرت کو محسوس کیا۔۔
آرام سے دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے وہ کھڑا تھا ایک نظر رباب کے سراپے پر ڈالی پھر سر ہلایا۔۔۔
“ہاں بلکل ٹھیک کہا کچھ لوگ لگتے کچھ ہیں اور ہوتے کچھ ہیں۔۔
اپنے آپ کو ہی دیکھ لو سامنے سے حسین نظر آنے والی کا دل کتنا سیاہ ہے۔۔”
وہ کہہ کر آرام سے اس کے برابر سے گزر گیا۔۔
رباب کو اس کی بات سمجھ میں آئی تو وہ اندر سے کھول کر رہ گئی۔۔
اس کا بنایا ہوا کھیل بگڑ چکا تھا اس کا لہجہ اس کی نفرت چہرے پر عیاں ہوچکی تھی۔۔
وہ اسی وقت اس کے آفس سے نکل گئی۔۔۔
وہ۔اس کا ایڈمیشن اپنی ہی یونی میں کرواچکا تھا آج اس کا یونی میں پہلا دن تھا۔۔
اور وہ اس کوبیٹھ کر سمجھا رہا تھا۔۔۔
“ایک بات کا دھیان رکھنا کہ کسی کو پتا نہ چلے تمہارا مجھ سے کیا ریلیشن ہے۔۔”
شجیہ کو برا بھی لگا اور حیرت بھی ہوئی۔جو اس کے چہرے پر ظاہر ہوگئی۔۔۔
“بلاوجہ لوگ تمہیں تنگ کریں گے سٹیوڈینٹ کو اور سب کو ایک ٹاپک مل جائے گا اور پھر میں چاہتا ہوں تم اپنے سہارے پر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو اور پر اعتماد بنو۔۔۔ سمجھی۔۔۔”
اپنے مخصوص انداز میں اس کے سر پر بجاتا ہوا وہ کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ غائب دماغی سے سنتی سر ہلارہی تھی اس کی سوئی تو وہیں اٹکی تھی کہ راہب نے شجیہ کو اپنا تعرف کروانے سے منع کیا ہے۔۔۔”
“کیا راہب میرے تعرف پر ہچکچاتے ہیں کیا وہ میرے اور اپنے رشتے کو پبلک میں لانے سے ڈرتے ہیں۔۔۔”
وہ دونوں کار میں بیٹھے اپنے سفر پر گامزن تھے جب شجیہ کو مختلف سوچوں نے جکڑا تھا۔۔
اس کا دل بری طرح اداس ہوچکا تھا۔۔
راہب اس کی سوچوں کو جان کر بھی انجان بنا ہوا تھا وہ چاہتا تھا ابھی۔شجیہ کو اکیلا کرنا اس کے نام کا سہارا ہوگا تو وہ آگے نہیں بڑھ سکے گی۔۔
دونوں ہی اپنی سوچوں میں الجھے تھے کہ یونی آگئی۔۔۔
وہ اسے لے کر ڈیپارٹمنٹ تک گیا اسے قطار میں کھڑے ہو کر تمام چیزیں سمجھا رہا تھا۔۔
کہ اچانک اس نے کسی لڑکی کو آواز دی۔۔
“ہائے راہب کیسے ہو؟”
وہ لڑکی بہت تکلف سے راہب سے ملی۔۔
“میں بلکل فائن۔۔
“یار ایک کام ہے تم سے۔۔”
راہب نےبھی اسی بے تکلفی سے جواب دیا۔۔۔
“ہاں بلکل بولو تمہارے لئیے تو جان بھی حاضر ہے۔۔۔”
اس کے اس طرح کے انداز پر کہنے سے شجیہ نے غصّے سے اس لڑکی کی جانب نگاہ کی۔۔
بلیک کلر کے لانگ شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر پہنے گولڈن کئیے ہوئے بال کو ایک ادا سے گھماتی سٹائلش سی لڑکی اسے اس وقت زہر سے بھی زیادہ بری لگی۔۔۔
“نہیں جان نہیں چاہئیے فلحال اس لڑکی کا خیال رکھو یہ میری جان کے ہی خیال رکھنے جیسا ہی ہے۔۔۔”
راہب نے اب سنجیدہ ہوتے ہی جواب دیا تو شجیہ کو ایک سکون ملا۔۔۔
جب کہ وہ لڑکی کنفیوز ہوگئی۔۔۔
“مطلب۔۔” چہرہ اب کافی حد تک بگڑ گیا۔۔
“مطلب بھی بعد میں سمجھادونگا۔۔ یہ شجیہ ہے اور فرسٹ ائیر میں ایڈمیشن لیا ہے۔۔۔ اس کی ذمّہ داری ہے تم پر اس کو ایک آنچ بھی نہیں آنی چاہئیے ورنہ تم جواب دہ ہوگی۔۔۔”
سنجیدہ سا اسے حکم دیتا وہ وہاں سے جاچکا تھا۔۔
اس لڑکی کا خون جل گیا یہ سن کر لیکن واقعی اس نے اس کا خیال رکھا اور تمام جام اپنی نگرانیزمیں کروائے اس طرح وہ جونئیر کی کسی بھی شرارت سے محفوظ رہی اور بحافظت اپنی پہلی کلاس میں موجود تھی۔۔۔
پہلا دن تھا تمام کلاسز میں وقت اپنا تعرف کرواتے ہی گزرا۔۔
شجیہ کے اندر بہت سی تبدیلی آئی وہ جو لڑکیوں کے سامنے بھی گھبراجاتی تھی آج وہ لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان کھڑی اپنا تعرف کروارہی تھی ہاں اب بھی اس کے پیر ضرور کپکائے تھے۔۔۔
مگر وہ اس پہلے والی شجیہ سے بہت بہتر تھی اور یہ صرف راہب کی بدولت ہوا تھا۔۔۔
تمام ٹیچرز کے سامنے اپنا تعرف اس نے شجیہ بدر سے ہی کروایا تھا کیونکہ اس کے ڈاکومینٹ میں اب تک شجیہ بدر ہی لکھا تھا۔۔۔
“ہائے شجیہ کیا اتفاق ہے کہ ہماری کلاس بھی سیم ہے۔۔۔”
واقعی اتفاق تھا جو عائزہ اس کو اسی کی کلاس میں مل گئی۔۔۔
بہت سارے اجنبی چہروں کے درمیان ایک شناسہ چہرے کو دیکھ کر شجیہ کو بھی خوشی ہوئی۔۔۔
وہ اس کے برابر ہی بیٹھی تھی۔۔۔
اب لاسٹ پریڈ تھاسب ویٹ کر رہے تھے کہ آخر اب کون سے ٹیچر آتے ہیں۔۔
راہب داخل ہوا تو عائزہ پر جوش ہوئی وہیں شجیہ کو بھی خوش گوار حیرت ہوئی۔۔۔
“یار تمہارے ہزبینڈ مطلب راہب بھائی یہیں پڑھاتے ہیں۔۔۔”
وہ اس کے کان میں گھسی سرگوشی کر رہی تھی۔۔
“چپ رہو مجھے سختی سے منع ہے کہ میں اس ریلیشن کو یہاں ڈسکس نہ کروں۔۔۔”
شجیہ نے عائزہ کا ہاتھ دبا کر اس کے جوش کو کم کیا۔۔۔
“افف یہ کیا عجیب لاجک ہے۔۔”
عائزہ کو واقعی دلی صدمہ ہوا۔۔
“السلام علیکم کلاس ہاؤ آر یو۔۔؟ آئی ایم یور انگلش ٹیچر۔۔”
راہب نے اپنی گھنبیر آواز سے اپنا تعرف کروایا۔۔۔
کلاس میں بیٹھے لڑکے اور لڑکیاں اتنے ہینڈسم ، ینگ اور وجاہت سے بھر پور ٹیچر کو دیکھ کر مسمرائز ہوچکے تھے۔۔
“یار کیا پرسنالٹی ہے۔۔”
” افف کتنے ہینڈسم ہیں۔۔”
اس طرح کی سرگوشی شجیہ نے بھی سنی مگر وہ خاموش رہی۔۔۔
“اب سب سٹیوڈینٹ اپنا انٹڑوڈکشن کروائیں گے۔۔”
تمام شاگرد باری باری اپنا تعرف کروارہے تھے۔۔
شجیہ اس کے سحر میں کھوئی ہوئی اس کے چہرے پر شناسائی کے رنگ ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ بیگانگی سے اپنی کلاس لے رہا تھا۔۔
“and you?”
عائزہ نے اس کو ٹہوکہ دیا تو وہ آنکھوں میں اجنبیت سموئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
وہ سوچوں کو جھٹک کے کھڑی ہوئی۔۔
آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی۔۔
زبان لڑکھڑائی بھی مگر وہ اپنا تعرف دے کر خاموشی سے بیٹھ گئی تب بھی راہب نے کو ردعمل ظاہر نہیں کیا۔۔۔
“واپسی کے سفر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔
“ناراض ہو؟ “
وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا پوچھ رہا تھا۔۔۔
“نہیں مجھے کوئی حق نہیں ہے آپ سے ناراض ہونے کا۔۔”
وہ منہ موڑتی خفگی سے کہہ رہی تھی
آنکھیں اب بھی تر تھی۔۔۔
“افف مائی وائف آپ ناراض بھی ہوتی ہیں۔۔”
راہب مسکراتا ہوا اس کا پھولا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: