Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 14

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 14

شجیہ کا دل آج بری طرح دکھا تھا اتنے دنوں میں آج پہلی بار شجیہ کو راہب کی طرف سے کوئی دکھ ملا تھا۔۔۔
دل میں بد گمانی نے جگہ بنالی تھی۔۔۔
اس کو اعتماد دینے والا اس کو معاشرے میں نام دینے والا شخص یوں بھری محفل میں اسے اکیلا چھوڑ گیا تھا کہ ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے رخ موڑ گئی اور شیشے سے سامنے کے دوڑتے بھاگتے مناظر دیکھنے لگی۔۔
راہب بھی خاموش ہوگیا اور دل میں ہی اس سے مخاطب تھا۔۔
“آئی ایم سوری مائی وائف تمہیں دکھ دے کر مجھے بھی خوشی نہیں ہوئی مگر مجبوری تھی جو اعتماد میں تمہیں دلانا چاہتا ہوں وہ اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر نہیں دے سکتا۔۔
یہ کڑوا گھونٹ مجھے جان کہ پینا پڑ رہا ہے اسی لئیے تمہیں اپنے یونی میں ایڈمیشن کروایا تا کہ اپنی نظروں کے سامنے رکھ سکوں مگر میں اپنے نام کے ساتھ نہیں رکھ سکتا وہاں ورنہ تمہیں ہمیشہ میری عادت ہوجائے گی اور میں چاہتا ہوں تم میرے بغیر بھی چلنا سیکھو۔۔۔
یہ ناراضگی برداشت کرلونگا میں تمہارے مستقبل کے لئیے۔۔۔”
وہ ڈرائیو کرتا ہوا مسلسل سوچ رہا تھا مگر وہ یہ بات ابھی زبان میں نہیں لا سکتا تھا۔۔۔
“اگر تمہارا موڈ اسی طرح خراب رہا تو میں آفس نہیں جاسکونگا۔۔۔”
گاڑی سے اترنے کے بعد شجیہ اندر جانے لگی تو راہب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور التجا کی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔” شجیہ نے خفگی سے منہ پھیرا۔۔۔
“اس طرح نہیں سمائل کرو اور بولو کہ ٹھیک ہو۔۔”
راہب اس کے سامنے آیا اور اس کا چہرہ ٹھوری سے پکڑ کر خود کی طرف کیا۔۔۔
شجیہ نے سامنے کھڑے اپنے ہمسفر کو دیکھا۔۔
جب سب اس کے خلاف تھے جب لوگ اسے ٹھکرادیتے تھے تو پوری دنیا میں واحد وہ ہی اس کا ہمدرد تھا۔۔۔
یہ وہی شخص تھا جس نے اسے دنیا کے سامنے سر اٹھا کر جینا سیکھایا تھا۔۔
وہ اس شخص کے احسان تلے دب چکی تھی۔۔
وہ پوری دنیا سے ناراض ہوسکتی تھی مگر اس سے خفا بھی ہونے کا نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہوں میں اب جائیں آفس۔۔”
اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور پہلی بار تھا جب وہ دل میں اپنا درد چھپا گئی اور اس کے سامنے مسکرانے لگی۔۔۔
راہب کو بھی جلدی تھی اسی لئیے وہ غور نہیں کرسکا اور اس کی مسکراہٹ کو سچی جان کر وہ خوش ہوگیا۔۔۔
“گڈ مائی وائف اپنا خیال رکھنا۔۔”
وہ اسے پیار سے کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
شجیہ بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں آگئی۔۔۔
دن اسی طرح گزرتے رہے اور شجیہ کو یونی میں گئے دو مہینہ ہوچکا تھا۔۔۔
وہ واقعی بدل چکی تھی۔۔۔راہب اس کے ساتھ نہیں ہو کر بھی اس کے ساتھ تھا۔۔۔
اسے اب سمجھ میں آرہا تھا کہ راہب نے اس رشتے کو کیوں سب کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔۔
وہ واقعی اس طرح پر اعتماد نہیں ہوپاتی۔۔
دل سے بد گمانی چھٹ چکی تھی راہب کا مقام اور زیادہ بڑھ چکا تھا۔۔۔
مگر اس کی برداشت اس وقت جواب دے جاتی جب کوئی فیمیل ٹیچر یا کوئی سٹیوڈینٹ راہب کے قریب ہونے کی کوشش کرتیں جیسے ابھی وہ عائزہ کے ساتھ لائبریری سے نکل رہی تھی تو راہب کے ساتھ ثنا نظر آئی۔۔
ثنا وہی لڑکی تھی جسے فرسٹ ڈے راہب نے شجیہ کی ذمّہ داری تھی۔۔
“یار یہ مس ثنا کیوں ہر وقت سر راہب کے ساتھ چپکی نظر آتی ہیں۔۔”
عائزہ کو بھی راہب اپنی دوست کے علاوہ دوسروں کے ساتھ برا لگتا تھا۔۔
“مجھے نہیں پتا دفعہ کرو۔۔”
شجیہ بھی بری طرح کھول رہی تھی۔۔
کس طرح ثنا راہب کے ہاتھ میں ہاتھ مار کر ہنس رہی تھی۔۔
اور راہب کے دانت بھی اندر نہیں جارہے تھے دل چاہ رہا تھا وہ اس کا قرل کردے۔۔۔
ثنا کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی اور وہاس کاڈھکن کھول کر منہ میں لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
جب شجیہ تیزی سے گزرتی ہوئی اس سے جان کے ٹکراگئی۔۔
“اوہ میم آئی ایم سوری۔۔آئی ایم سو سوری۔۔”
وہ معصوم سی شکل بنائے ثنا کے خطرناک حد تک غصّے کو دیکھتی کہہ رہی تھی۔۔۔
عائزہ بھی جلدی اس کے پاس آئی۔۔
“سوری میم ہمیں ایمرجینسی تھی۔۔”
راہب سے اپنی ہنسی چھپانا مشکل ہوگئی۔وہ سمجھ گیا کہ شجیہ نے جان کر یہ کیا ہے۔۔
ثنا کے اوپر بوتل سے پانی گر۔چکا تھا۔۔
اسے غصّہ برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔
“واٹ سوری آپ لوگوں کو بلکل تمیز نہیں کہ سٹیوڈینٹ اور ٹیچر میں فرق کیا ہے۔۔”
وہ اس لہجے اور انداز میں کہیں سے ایک ٹیچر نہیں لگ رہی تھی۔۔
کچھ گزرنے والے سٹیوڈینٹ بھی۔رک کر دیکھنے لگے۔۔
راہب کو۔شرارت سوجھی اس کو اچھا لگ رہا تھا کہ شجیہ کو اسے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر جلن محسوس ہورہی تھی۔۔
“اوکے ثنا کوئی بات نہیں بچیاں ہیں سوری کہہ تو رہی ہیں۔۔
“اور آپ لوگ بھی دھیان سے چلا کریں۔۔”
راہب نے ثنا سے بے تکلفی سے کہا جب کہ شجیہ اور عائزہ کو بلکل اجنبیوں کی طرح ٹریٹ کیا۔۔
شجیہ کے تو سر پر لگی تلووں پر بجھی۔۔
اس کا بس نہیں۔چل رہا تھا وہ راہب کا سر پھوڑ دے۔۔
سرخ چہرے اور بڑی آنکھوں کو مزید پھیلا کر وہ راہب کو دیکھ رہی تھی۔۔
جیسے ابھی کچا چبا جائے گی۔۔
راہب اپنی مسکراہٹ چھپا گیا اور سنجیدہ سی شکل بنا کر دونوں کو کہنے لگا۔۔
“چلیں اب آپ لوگ جائیں۔۔”
راہب کے کہنے پر وہ پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔۔
راہ کا دل چاہا وہ قہقہ لگا کر ہنسے۔۔
“تمہیں تمیز نہیں ہے شاید ایک سٹیوڈینٹ سے کس طرح بات کرتے ہیں۔۔”
وہ ثنا کو غصّے سے کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا۔۔
حقیقتاً اسے ثنا کا اس طرح شجیہ کو تیز آواز میں کہنا برا لگا تھا۔۔
مریم آج اپنی ایک دوست کی برتھ ڈے کے لئیے گفٹ لینے دوست کے ساتھ شاپنگ پر آئی تھی۔۔
“عانیہ یہ کتنا بیوٹیفل ہے نہ”
وہ ایک ڈریس کے پاس کھڑی عانیہ کو مخاطب کر کے پیچھے مڑی۔۔
“بہت زبردست ہے اور آپ پر ججے گا بھی خوب۔۔”
مگر عانیہ کے بجائے کسی اور کو اپنے قریب پایا اور اوپر سے مقابل کی بات۔۔۔۔
اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو دائم کو اپنے قریب ہی کھڑا پایا۔۔
“آپ یہاں۔۔”
وہ جھجکی دائم کی نظریں کچھ خاص تھی جو ہمیشہ اسے نظر جھکانے پر مجبور کردیتی تھی۔۔
ایک دودفعہ وہ گھر بھی آچکا تھا اور ہر بار اس کی نظریں مریم کو کنفیوز کردیتی تھی۔۔
“جی میں بس اتفاق ہے جہاں آپ ہوتی ہیں خدا بھی مجھے وہیں لے آتا ہے جیسے کوئی گرین سگنل دے رہی ہو قسمت۔۔”
وہ شرارت سے اس کے پاس سرگوشی کرتا کہہ رہا تھا۔۔
مریم کے چہرہ شرم سے سرخ ہو چکا تھا وہ عانیہ کی تلاش میں ادھر ادھر نظر دوڑانے لگی۔۔
جب عانیہ شاپنگ بیگ ہاتھ میں لئیے اس طرف آتی دکھائی دی۔۔
عانیہ کو دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا۔۔
“اب اس گرین سگنل کو سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا۔۔”
عانیہ کو دیکھ کر وہ اس کے پاس سرگوشی کرتا وہاں۔سے چلا گیا۔۔
عانیہ نے حیرت سے ہینڈسم لڑکے کو مریم کے پاس سے جاتا دیکھا۔۔
“کون تھا یہ اتنا ڈیشینگ لڑکا۔۔؟”
عانیہ مریم کو آنکھ مارتی شرارت۔سے کہہ رہی تھی۔۔
“بھائی کے دوست تھے۔۔ اور تم کہاں چلی گئی تھی مجھے چھوڑ کر بلاوجہ ان کو فری ہونے کا موقع مل گیا۔۔”
وہ عانیہ پر غصّہ نکال رہی تھی۔۔
“بھائی کے دوست کی آنکھیں بتارہی تھی کہ وہ کوئی اور رشتہ بنانے کا سوچ رہے ہیں۔۔”
عانیہ نے شرارت۔سے مریم کو کہا تو اس نے عانیہ کے بازو پر کہنی ماری اور خود بھی اس کے ساتھ قہقہ لگانے پر مجبور ہوگئی۔۔
“ویسے اچھا ہی ہوا جو میں یہاں سے چلی گئی ورنہ بھائی کے دوست کو موقع کیسے ملتا۔۔”
عانیہ کے اس کے گلنار چہرے کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر شرارت سے کہا تو اب مریم نے اس کو گھوری سے نوازا۔۔
“سدھرنا نہیں تم۔۔”
وہ دونوں اسی طرح قہقہ لگاتی ہوئی مال سے باہر نکل گئیں۔۔
“آج موڈ لگتا ہے کچھ زیادہ ہی برہم ہیں۔۔”
راہب آفس سے گھر آیا تو شجیہ نے اسے سلام تک نہیں کیاوہ کتاب پڑھنے میں مصروف رہی۔۔
راہب چینج کر کے آیا تب بھی شجیہ نے نوٹس نہیں لیا۔۔
“ویسے تم جان کر ثنا سے ٹکرائی تھی نہ۔۔”
ڈریسینگ ٹیبیل کے سامنے کھڑا وہ آئینے میں اس کا عکس دیکھتا شرارت سے کہتا اس کا راز کھول گیا۔۔
اپنا سچ پکڑے جانے پر شجیہ کنفیوز ہوگئی۔۔
نن۔۔نہیں تو میں کیوں جان کر ٹکراؤنگی۔۔۔”
چہرے پر چوری صاف لکھی تھی۔۔
گھبرا کر جواب دیا۔۔۔
“اور آپ کو بڑی فکر ہورہی تھی اس ثنا کی۔۔۔”
لفظ چبا چبا کر ادا کئیے جیسے ثنا کو دانتوں کے درمیان چبانے کا ارادہ ہو۔۔۔
“ارے میری وائف کے چہرے پر جیلیسی کے صاف صاف الفاظ لکھے تھے۔۔”
راہب نے جیسے اس کی حالت سے حظ اٹھایا۔۔
“ہاں تو میری نظروں کے سامنے ثنا عائشہ اور اقصیٰ کو لے لے کر گھومیں گے تو میں۔ ایسا ہی حشر کرونگی سب کا۔۔۔”
غصّے میں وہ کتاب بند کر کے کھڑی ہوگئی۔۔۔اور اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔۔۔۔۔
راہب کا جاندار قہقہ فضا میں بلند ہوا۔۔
“استغفراللّہ پڑھو لڑکی باقی کے نام کی لڑکیوں کو تو میں جانتا بھی نہیں۔ اور ثنا سے بھی تمہیں تنگ کرنے کے لئیے بات کیا۔۔۔”
وہ اب اس کا ہاتھ پکڑے شرارت سے اس کی ناک دبا کر اپنی شرارت سے آگاہ کر رہا تھا۔۔۔
“راہب۔۔۔۔”
وہ آنکھ نکالے غصّے میں اسے گھور رہی تھی۔۔
“شرم نہیں آئی آپ کو اپنی بیوی کے سامنے کسی دوسری کے سامنے فلرٹ کرنے کی۔۔”
وہ مصنوعی غصّے سے اسے بول رہی تھی۔۔
“بلکل نہیں آئی مسز راہب کیونکہ اگر ایسا نہیں کرتا تو اپنی بیوی کے چہرے پر اپنے لئیے محبت کیسے دیکھتا۔۔
راہب نے۔ شجیہ کو پیچھے سے اپنے بازو کی گرفت میں لیا کہ وہ کسی لچکیلی ڈول کی طرح اسکے سینے سے آلگی۔۔۔
“راہب۔۔۔”
اس کے سینے سے سر اٹھائے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“جی راہب کی جان۔۔۔”
خمار بھرے میں لہجے میں راہب نے اس بالوں پر اپنے لب رکھتے کہا۔۔
وہ اس کے سحر میں کھورہا تھا۔۔۔
“آپ بہت برے ہیں۔۔۔” وہ شرارت سے کہہ کر اس کے سینے میں سر چھپاگئی۔۔۔
اس کے معصومیت سے کہنے پر راہب کا بلند قہقہ کمرے میں گونجا۔۔۔
“راہب کہاں ہو تم؟”
رباب کی کال ریسیو کرنے پر وہ شروع ہوچکی تھی۔۔۔
“میں یونیورسٹی میں ہوں تمہیں پتا تو ہے کہ کیا وقت ہے۔۔”
وہ بے وقت رباب کی کال پر جھنجلایا۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Hisar e Ishqam Novel by Pari Saa – Last Episode 17

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: