Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 15

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 15

“راہب کہاں ہو تم؟”
رباب کی کال ریسیو کرنے پر وہ شروع ہوچکی تھی۔۔۔
“میں یونیورسٹی میں ہوں تمہیں پتا تو ہے کہ کیا وقت ہے۔۔”
وہ بے وقت رباب کی کال پر جھنجلایا۔۔۔
“ٹھیک ہے میں وہیں آرہی ہوں۔۔ ہم سب فرینڈز نے ولید اور اسما کی شادی کی خوشی میں ایک پارٹی رکھی ہے۔۔۔”
“لیکن۔۔” افف وہ کال بند کر چکی تھی راہب کو اس وقت رباب کا یونی آنا بہت برا لگ رہا تھا۔۔۔
وہ جلدی جلدی اپنا کام نبٹا کر اس کے آنے سے پہلے خود ہی پہنچنا چاہتا تھا۔۔
لیکن اچانک کچھ کام پڑجانے پر وہ جا نہیں سکا۔۔۔
“شجیہ عائزہ اور دو چار لڑکیوں کے ساتھ کینٹین میں بیٹھی تھی۔۔۔
وہ چاروں چاٹ کے ساتھ باتوں میں مشغول تھیں۔۔۔
“ارے وہ دیکھو سر راہب کی فیانسی۔۔”
آمنہ کی آواز پر شجیہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا تو نیلے کلر کی ٹاپ پر جینز پہنے بالوں کو کرل کر کے آگے کئیے ہوئے تھے۔۔
میک اپ سے حسین چہرہ زیادہ نمایاں تھا اپنے مخصوص کروفر کے انداز سے چلتی جارہی تھی۔۔۔
شجیہ کے چہرے کا رنگ حد سے زیادہ سفید ہوچکا تھا۔۔
ایک بجلی تھی جو اس کےاوپر گری تھی ایک بھروسہ تھا اعتماد تھا جو چکنا چور ہوا۔۔
اس سے تو پاکیزہ شرعی رشتہ تھا پھر بھی راہب نے سب سے مخفی رکھنا چاہا اور رباب وہ پوری یونی یورسٹی میں اسکی منگیتر مشہور تھی جب کہ اب تو اس رشتے کی کوئی حقیقت بھی نہ تھی۔۔۔
شجیہ کی آنکھیں برسنے کے لئیے بے تاب تھی وہ تیزی سے اپنی ٹیبیل سے اٹھی اور وہاں سے نکلتی چلی گئی عائزہ بھی اس کے پیچھے ہی گئی۔۔۔
جب کہ باقی لڑکیاں حیرت سے دیکھتی رہیں اور کندھے اچکا کر کام میں مصروف ہوگئیں۔۔
“مسز راہب لگتا ہے یہاں کوئی تمہیں مسز راہب کے نام سے نہیں جانتا۔۔”
رباب نے بھی لڑکیوں کی آواز سن لی تھی اسی لئیے تیزی سے جاتی شجیہ کے سامنے آئی۔۔
وہ جلاتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے مخاطب تھی۔۔
“بہت افسوس ہے مجھے شجیہ کہ تم آج بھی بے نام ہو چہ۔۔چہ۔۔چہ۔۔”
وہ مسلسل شجیہ کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی۔۔
“یہ آپ کا مسلئہ نہیں ہے۔۔۔”
بہت مشکل سے وہ بولنے کے قابل ہوئی تھی۔۔
مگر پہلے والی شجیہ نہیں تھی جو رباب کی آواز سے ڈر جاتی۔۔
“تو شجیہ اب بولنے بھی لگی ہیں۔۔ہاؤ سٹرینج۔۔”
رباب نے اپنے ہونٹ سکیڑے۔۔۔
“ہاں ٹھیک ہے میرا مسلئہ نہیں ہے مگر مجھے تم سے بہت ہمدردی ہے شجیہ۔۔۔
کیا اس نے اب تک اس شادی کا آفیشل علان کیا؟ “
یہ وہ سوال تھا جس سے شجیہ چونک گئی۔۔۔
واقعی اب تک آفس کے کچھ لوگوں کے علاوہ کسی کو بھی اس شادی کی خبر نہیں تھی۔۔۔
“شجیہ میری جان حقیقت تو یہ ہے کہ تمہارا تعرف اس قابل نہیں کہ وہ اپنی سوسائیٹی میں بتا سکے وہ دراصل ہمدردی میں بنایا رشتہ نبھارہا ہے۔۔۔”
رباب اس کا چہرہ تھپتپاتی مصنوعی ہمدردی جتاتی چلی گئی۔۔۔
شجیہ اور عائزہ اس کو دیکھتی رہیں۔۔۔
“عائزہ مجھے اس سے محبت نہیں تھی بلکہ میں تو محبت کا مطلب بھی نہیں جانتی تھی۔۔ اس نے ہی مجھے محبت کے رنگ سے روشناس کروایا ہے اور آج جب کینوس میں تمام رنگ بھر چکے ہیں تو ایک بار پھر وہ میری زندگی میں آگئی ہے عائزہ اور میری زندگی ایک بار پھر مجھے سیاہ محسوس ہورہی ہے۔۔۔”
وہ آنسو کے درمیان عائزہ اپنی واحد دوست کے کندھے سے لگی اپنا غم بیان کر رہی تھی۔۔
وہ دونوں سنسان ایک گوشے پر بیٹھے تھے تا کہ اس کے آنسو کوئی نہ دیکھ سکے۔۔
اچانک عائزہ کی نظر پڑی راہب کے ساتھ ہنستی مسکراتی رباب کسی فاتح کی طرح اس کا ہاتھ پکڑے راہداری سے گزرتی جارہی تھی۔۔
عائزہ کی نظروں کے تعاقب میں شجیہ کی نظر پڑی تو وہ کھڑی ہوگئی اور اس کی نظریں پتھرا گئی اسے محسوس ہوا وہ دونوں زمین پر نہیں اس کے دل پر اپنے قدم جماتے جارہے ہوں۔۔۔
شجیہ کو لگا وہ زیادہ دیر کھڑی رہی تو گر جائے گی اس کے قدم ڈگمگائے۔۔
اسی وقت راہب کی نظر اچانک اٹھی اور سیدھا شجیہ پر پڑی اس کی آنکھوں میں بے اعتباری دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا اچانک اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔ راہب نے اپنے قدم واپس کرنے کی کوشش کی کہ رباب نے اس کے ہاتھ پر دباؤ دیا۔۔۔
“کیا ہے راہب دیکھو سب ویٹ کر رہے ہیں ہمارا جلدی چلو۔۔”
وہ یونی میں کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا اسی لئیے خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔
شجیہ کی نظروں نے سب کچھ ملاحظہ کیا اسے لگا راہب اسے نظر انداز کر کے چلا گیا۔۔
وہ بےساختہ بینچ پر بیٹھتی چلی گئی۔۔
اسے لگا اچانک سے وہ اس مقام پر آگئی ہو جہاں پہلے تھی اس کی زندگی کی کچھ دن پہلے ہی ملی خوشیاں راکھ اڑاتی اڑ گئی۔۔۔
عائزہ نے اس کو فوراً تھاما۔۔
“شجیہ ریلکیس ہوسکتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو تم راہب سر سے بات ضرور کرنا اپنے دل میں کسی بدگمانی کو جگہ مت دو پلیز۔۔۔”
عائزہ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔
مگر یہاں اعتبار کو ٹھیس پہنچی تھی اس کا دل چور ہوا تھا۔۔۔
بھروسہ ٹوٹا تھا۔۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی رباب نے یہ تعرف خود زبردستی یونی میں کروایا تھا مگر شجیہ اس بات سے ناواقف تھی۔۔
کبھی کبھی ہم اپنی ہی بدگمانی کی بنائی ہوئی کہانی میں جلتے ہیں اور خود کو ہی تکلیف دیتے ہیں۔۔
راہب وہاں پہنچا تو ایک ریسٹیورینٹ میں سب جمع تھے۔۔اس کے پرانے یونی فیلو اور کالج فیلو تھے جو رباب اور راہب کے مشترکہ دوست تھے۔۔۔
“یار اگر یہ پہلے سے پلین تھا تو مجھے پہلے کیوں اینفارم نہیں کیا؟”
وہ ابرو اچکائے خفگی ظاہر کر رہا تھا۔۔۔
“کیا تمہیں رباب نے نہیں بتایا؟ اس نے تو کہا تھا یہ تمہیں خود انفارم کردے گی۔۔۔”
زاہد نے پوچھا تو رباب گڑبڑاگئی۔۔۔
“وہ۔۔وہ میں بھول گئی تھی۔۔”
اصل میں وہ جان کر یونیورسٹی آئی تھی تا کہ شجیہ دیکھ سکے۔۔
اسے پتا چل چکا تھا کہ یونیورسٹی میں سب راہب اور شجیہ کے رشتے سے ناواقف ہیں اس لئیے وہ جان کر شجیہ کو نیچا دیکھانا چاہتی تھی۔۔
راہب دوستوں کے ساتھ مصروف ہوگیا مگر بار بار شجیہ کی بے اعتباری آنکھیں اس کے سامنے آجاتی اور وہ بے چین ہوجاتا۔۔۔
“یار تم دونوں کب شادی کر رہے ہو؟”
ایمن کے سوال پر وہ چونکا۔۔۔
جب کہ رباب مسکرا رہی تھی۔۔
کچھ پرانے دوست جو آج مل رہے تھے وہ راہب کی شادی سے بے خبر تھے۔۔
“بہت جلد۔۔”
رباب کے جواب پر راہب نے اسے دیکھاجیسے اس کا دماغ چل گیا ہو۔۔۔
“تم پاگل ہو رباب۔۔
“میری شادی ہوچکی ہے سوری ایمیرجینسی میں ہوئی تھی اس لئیے بلا نہیں سکا لیکن جلد ہی ولیمہ کی۔دعوت تم لوگ تک پہنچ جائے گی آنا ضرور۔۔۔”
راہب آیا تو وہ نماز پڑھ رہی تھی۔۔رات میں کھانے پر بھی طبیعت کا بہانہ کر کے کمرے میں آنکھ بند کر کے لیٹی رہی۔۔
راہب جس وقت کمرے میں آیا وہ آنکھیں بند کر کے سوتی بن گئی۔۔۔
کمفرٹ میں منہ چھپائے وہ آنسو بہارہی تھی۔۔۔
راہب بہت بے چین تھا اس نے شجیہ کی سسکی سنی تو وہ رہ نہیں سکا۔۔۔
“شجی۔۔۔”وہ اس کا کمفرٹ ہٹا چکا تھا۔۔۔
شجیہ کا چہرہ آنسو سے تر تھا۔۔۔
اس نے اس کے چہرے لو تھامنے کی کوشش کی جب شجیہ جھٹکے سے دور ہٹی۔۔۔
“بس کردیں۔۔۔ بس کردیں یہ ہمدردی کا ڈرامہ۔۔۔”
آنسو کے درمیان بولتی وہ پیچھے ہٹی راہب کو تعجب ہوا۔۔۔ اس کا دل کٹا یہ الزام سن کر۔۔۔
“شجی کونسی ہمدردی۔۔ محبت ہے مجھے تم سے۔۔ اور یہ آنسو تکلیف دے رہے ہیں مجھے۔۔۔”
راہب آگے آیا اس نے شجیہ کو بازو سے پکڑا اورقریب کرنا چاہا۔۔
مگر شجیہ فوراً ہی چیخ پڑی “دور رہیں محھ سے بلکل قریب مت آئیں میرے۔۔۔
آپ بھی دوسرے مرد کی طرح ہیں جو مرد بند کمرے میں عورت کا پیر بھی چاٹ لیتے ہیں اور باہر آپ میرے تعرف سے گھبراتے ہیں مجھے۔۔۔”
“شجیہ۔۔۔۔”
اس کی بات درمیان میں تھی جب راہب کی دھاڑ بلند ہوئی۔۔۔
راہب کا ہاتھ اٹھا مگر اس کے چہرے کے قریب جانے سے پہلے ہی گر گیا۔۔۔
شجیہ جو پہلے بہادر بنی بول رہی تھی اب جامد تھی۔۔۔ اس کی آواز سے کانپ گئی۔۔ اس کے چہرے پر غیض و غضب دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوگئی۔۔۔
“تم۔۔۔ تم نے سوچا بھی کیسے کہ میں۔۔افف۔۔۔” راہب بہت بے یقین تھا اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھی۔۔۔
“تمہیں اس کی بات پر یقین آگیا مگر میرے اتنے دن کے ساتھ پر تمہیں یقین نہیں آیا۔۔۔”
وہ دکھ کی کیفیت میں تھا۔۔۔
غصّے سے وہ راستے میں آئی ہر چیز کو ٹھکراتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
شجیہ پریشان حیران سی اس کو جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اگر وہ محبت نہیں کرتا تو اتنا غصّہ کبھی نہیں کرتا افف اس نے کیا کہہ دیا کیا کردیا۔۔”
وہ سر پکڑے بیٹھی پچھتارہی تھی۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: