Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 16

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 16

راہب ریش ڈرائیوینگ کرتا جارہا تھا۔۔ شجیہ کے الفاظ اس کے دماغ پر ہتھوڑے بن کے برس رہے تھے۔۔۔۔
اس کے کردار پر شک کیا وہ بھی ایسی ہستی نے جو اس کے دل کے قریب ہے جو اس کی دھڑکنوں میں رہتی ہے جو اسے سب سے زیادہ عزیز تھی۔۔۔
سچ کہتے ہیں ہمیں ہمشہ اسی سے تکلیف ملتی ہے جس کے لئیے ہم اپنا سب کچھ قربان کرچکے ہوتے ہیں۔۔
اسے آج شجیہ نے اتنی تکلیف دی تھی جسے وہ سہہ نہیں پارہا تھا۔۔۔
ہر چیز کو۔ہنس کر برداشت کرنے والا راہب اپنے رشتوں کو بچانے کے لئیے غصّے کو نظر انداز کرنے والا راہب آج اپنے دماغ کی نسیں پھٹتی محسوس کر رہا تھا۔۔
وہ شجیہ پر ایک ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکا اگر وہ دوسرے مردوں کی طرح ہوتا تو اپنے کردار پر انگلی اٹھانے پر وہ اپنی مردانگی دکھا چکا ہوتا مگر وہ۔راہب لاشاری تھا۔۔ سب سے مختلف۔۔۔
وہ گیلی ریت پر بے مقصد چلتا رہا سمندر کی لہروں سے لڑتا رہا جب تھک ہار گیا تو اپنا غصّہ لہروں کے سپرد کر کے وہ واپسی کی راہ پر چل پڑا۔۔۔
شجیہ نے رو رو کر برا حال کرلیا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔
اس سے یہ کیا ہوگیا تھا اتنی بڑی غلطی کیسے ہوسکتی تھی۔اس نے اپنے محسن پر شک کیا اس نے۔ایسے شخص کو دکھ دیا جو اس کا محافظ تھا۔۔۔
اس کا ہمدرد تھا اور شاید محبت بھی کرتا تھا۔۔۔
وہ جائے نماز میں پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔یا اللّہ مجھے معاف کردے میرے حق میں جو بھی بہتر ہے وہ کر۔۔۔
مجھے زندگی کے پچھتاوے سے نجات دلادے۔۔۔
اس نے رو کر دعا ختم کی تو اپنے سیل پر عائزہ کی کال دیکھ کر اس نے فوراً ریسیو کی۔۔۔
“عائزہ۔۔۔” کسی اپنے کی آواز سن کر وہ برداشت نہیں کرسکی اور روتے ہوئے تمام روداد اپنی واحد دوست کو سنا ڈالا۔۔۔
“شجیہ۔۔یہ کیا کردیا تم نے؟ “
عائزہ نے صدمے سے اسے پکارا۔۔
اس کے رونے میں اضافہ ہوا۔۔۔۔
“یار آج بھائی بتارہے تھے رباب جان کے یونی آئی تھی سب دوستوں نے آج کوئی پارٹی رکھی تھی۔۔
جس میں راہب بھائی نے سب کے سامنے رباب کی دھجیاں اڑائی اور تمہارے ساتھ شادی کا بھی بتایا۔۔۔۔
بھائی بتارہے تھے رباب کی شکل دیکھنے والی تھی۔۔”
دائم بھی وہاں موجود تھا اور اس نے عائزہ کو سب بتایا تو وہ شجیہ کو سب بتارہی تھی۔۔
اور شجیہ مزید شرمندگی میں گرتی جارہی تھی۔۔
“میں نے کہا تھا تمہیں شجیہ کہ ابھی بد گمان نہیں ہو پہلے اس کو ڈسکس کرو مگر تم نے وہی کیا جو رباب چاہتی تھی۔۔۔
اسی لئیے غصّے کو حرام کہا گیا ہے۔۔۔”
عائزہ افسوس سے اسے کہہ رہی تھی۔۔۔
“مگر میں کیا کرتی عائزہ میں تو شروع سے ہی۔اس شادی کو ہمدردی کی وجہ سمجھتی تھی مجھے یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ کب راہب مجھے چھوڑ دیں۔۔۔
میں اعتبار کر کے بھی خوف میں تھی کیوں کہ میں اپنی حقیقت جانتی تھی عائزہ۔۔۔”
وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔۔
عائزہ کو اپنی دوست پر بہت رحم آیا۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کن الفاظوں میں اس کو تسلّی دے۔۔۔
“شجیہ پلیز رو مت۔۔۔ راہب سر بہت اچھے ہیں تم سمجھاؤگی سمجھ جائیں گے۔۔”
وہ اسے سمجھارہی تھی۔۔
“نہیں عائزہ مرد سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے کردار پر لگے کیچڑ کبھی معاف نہیں کرتا۔۔۔ میں ان کی محبت پر شک کیا ہے ان کے خلوص کو آلودہ کیا ہے وہ کیسے معاف کرسکتے ہیں۔۔۔”
شجیہ کو آہٹ محسوس ہوئی تو اس نے جلدی سے کال بند کر لی راہب کو دیکھ کر وہ اس کی طرف لپکی۔۔۔
“راہب۔۔۔ میری بات سنیں۔۔۔”
مگر وہ اسے نظر انداز کرتا کمرے سے ملحق سٹڈی روم میں بند ہوگیا۔۔۔
شجیہ نے پوری رات انگاروں میں جلتے ہوئے گزاری۔۔۔
راہب بھی۔ صوفے پر آرے تیرچھے لیٹے ہوئے شجیہ کے تلخ الفاظ کو بھلانے کی کوشش کرتا آنکھ بند کرچکا تھا۔۔۔
راہب کو سیگریٹ جیسی چیزوں سے نفرت تھی مگر ابھی دل چاہ رہا تھا وہ ایسی ہی چیزوں سے اپنا غم بھلائے۔۔۔
مگر وہ یہ چاہتے ہوئے بھی نہیں کرسکا۔۔۔۔
اسی طرح یہ وحشت بھری رات دو الگ الگ نفوس کو رلا کر گزر چکی تھی۔۔۔
“اس بات کو دو دن گزر چکے تھے راہب نے شجیہ کو اس طرح نظر انداز کیا ہوا تھا جیسے اس کا وجود سرے سے تھا ہی نہیں۔۔۔۔
شجیہ کو راہب کا یہ انداز بہت برا لگتا اس کا دل کٹ جاتا۔۔۔
وہ بہت اذیت ناک مراحل سے گزر رہی تھی اس کے لئیے راہب کا نظر انداز کرنا پل صراط پر چلنے کے برابر تھا۔۔۔
شجیہ سے کچھ بھی کھانامشکل ہوجاتا۔۔۔
لائبہ مریم اور احمد بھی پریشان تھے کہ ان دونوں کے درمیان چھائی سرد مہری کسی سے مخفی نہیں رہ سکی۔۔۔۔
آج راہب آفس آیا تو احمد صاحب نے اسے اپنے کمرے میں بلایا۔۔۔
“جی ڈیڈ۔۔۔”
وہ مودب بنا بیٹھا تھا۔۔۔
احمد صاحب نے اس کو غور سے دیکھا ہمیشہ والی شوخی اور بشاشت اس کے چہرے سے غائب تھی۔۔۔
آنکھوں کی سرخی راتوں کے رت جگے کی چغلی کھارہے تھے۔۔۔۔
“اب بتاؤ کیا چل رہا ہے تمہارے اور۔ شجیہ کے درمیان۔۔۔”
وہ ٹیبیل پر اپنے بازو رکھتے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھ رہے تھے۔۔۔
پیچھلے دنوان جو بھی۔ اختلاف رہے ہوں مگر دونوں باپ بیٹے کی۔ دوستی مثالی تھی۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے چہرے کا حال۔ جان لیتے تھے۔۔۔
راہب کرب سے باپ کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔ اور زیادہ۔ دیر وہ برداشت نہیں کرسکا۔۔۔
کچھ ہی۔ دیر میں وہ لمبا چوڑا مرد اپنے باپ کے سامنے اپنی محبت کی بے اعتباری پر رو رہا تھا۔۔۔
کچھ آنسو نکل کر اس کی۔ شرٹ میں جزب ہوئے۔۔۔
احمد صاحب نے جب ساری بات سنی تو وہ بہت صدمے میں آگئے جنہوں نے اسے بیٹی کی۔ طرح سمجھا اپنے بیٹے پر فوقیت دی۔۔۔
وہی ان کے بیٹے کی خوشی کی دشمن بنی تھی۔۔۔
انہوں نے شجیہ کو صرف راہب کی وجہ سے قبول کیا تھا۔۔۔
مگر ابھی وہ رباب سے سخت نفرت محسوس کر رہے تھے اور انہیں سمجھ میں آرہا تھا رباب نے ان کو شجیہ کے خلاف غلط بیانی سے کام لیا تھا۔۔۔۔
انہوں نے ایک لمبی گہری سانس لی۔۔۔
“دیکھو بیٹا۔۔۔ وہ اٹھ کر اس تک آئے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“یہ جو میاں بیوی کا رشتہ ہوتا ہے نہ یہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کمزور بھی ہوتا ہے۔۔
اور تم دونوں کا رشتہ جن حالات پر جٹا ہے اس میں تو ہر بات کی گنجائش نکلتی ہے۔۔
اگر خود کو شجیہ کی جگہ پر رکھ کر سوچو جس نے ہر رشتے میں بے اعتباری دیکھی ہو۔۔
جس نے رشتوں میں دھوکے منافقت دیکھی ہو۔۔ وہ ہمیشہ ہی خوف میں مبتلا رہے گی۔۔
اس کو ابھی بھی مکمل اعتبار کی ضرورت تھی۔۔ اور غلطی تو تمہاری بھی ہے۔۔”
وہ اب کھڑکی کی جانب کھڑے ہوگئے۔۔ راہب کے دماغ سے جیسے کوئی بوجھ سرک رہا تھا۔۔ اس بات پر وہ چونکا۔۔۔۔
“میری غلطی۔۔۔”
“ہاں بیٹا تمہاری غلطی کیونکہ تم نے ایک سال ہوگئے اب تک اس شادی کو آفیشل نہیں کیا۔۔۔”
“بہت۔سے لوگ تمہارے اور۔شجیہ کے رشتے سے ناواقف ہیں۔۔ پھر تم نے غلطی کی کہ یونیورسٹی میں اس رشتے کو مخفی رکھا۔۔۔”
راہب کو بھی محسوس ہوا واقعی اس نے۔غلطی کی ہے۔۔۔
“بھلے سے تمہاری نیت اچھی تھی تم نے اچھا سوچا مگر تیسرے فرد کو کسی کمزوری کی ہی تلاش ہوتی ہے اور رباب کو یہ موقع تم نے فراہم کیا۔۔۔”
راہب کے دماغ کے تمام گرہے کھول چکے تھے۔۔ اب اسے۔شجیہ کا قصور کم نظر آنے لگا کیونکہ اب اپنی غلطی جو نظر آرہی تھی۔۔
پھر اسے دائم کی کال یاد آئی۔۔
“عائزہ نے دائم کو سب بتادیا تھا کہ۔کس طرح رباب نے کیا بات کی تو دائم بھی سب جانتا تھا اسی لئیے اس نے کال کی۔۔
“بھابھی کی اتنی غلطی نہیں ہے۔۔ جتنا رباب نے ان کو مس گائیڈ کیا کوئی بھی ہوتا وہ بد گمان ہوتا۔۔ “
کل تو اسے غصّے میں دائم کی بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔
مگر آج جب احمد صاحب نے اس کی غلطی کی نشاندہی کی تو آج اسے سب صاف نظر آرہا تھا۔۔۔
“کیا سوچ رہے ہو بر خوردار دشمن کی خوشی کو ملیامیٹ کردو اور جاؤ اپنی زندگی کو خوشگوار بناؤ۔۔۔”
احمد صاحب نے اسے سوچوں میں۔ الجھا دیکھا تو اس کے کاندھے پر دباؤ دیا۔۔۔
“لو یو ڈیڈ۔۔۔ میں نے ہمیشہ آپ کے خلاف کام کیا ہے مگر آپ نے ہمیشہ میری ہیلپ کی ہے۔۔۔”
وہ نم آنکھوں۔ سے ان کے گلے لگا تھا۔۔۔
“لیکن کام تم نے جو بھی کیا غلط نہیں کیا نا مجھے مایوسی ہوئی۔۔۔ تم ایسے بیٹے ہو جس پر فخر کیا جاسکے۔۔۔”
احمد صاحب بھی بیٹے کی محبت پر تفاخر کا شکار تھے۔۔۔
راہب کی شجیہ سے رات کوئی بات نہیں ہوسکی تھی وہ واپس آیا تو وہ سوچکی تھی۔۔
وہ بھی خاموشی سے سٹڈی روم میں چلا گیا۔۔ دو دن میں ہی وہ دونوں اتنا دور جا چکے تھے اب سمجھ نہیں آرہا تضا قریب آنے پر پہل کون کرے۔۔
دونوں کے درمیان انا آرے آرہی تھی۔۔
صبح بھی ایسے ہی کشمکش میں گزری اور وہ دونوں یونی پہنچ گئے۔۔
شجیہ تو راہب کی ناراضگی کو لے کر ہی اذیت میں تھی۔۔
شجیہ کو آج صبح سے نقاہت محسوس ہورہی تھی۔۔
شاید پریشانی سے کچھ نہ کھانے میں کی وجہ سے اسے کمزوری ہورہی تھی۔۔۔
کلاس ختم ہوئی تو عائزہ نے شجیہ کی جانب دیکھا جس کا چہرہ حد سے زیادہ پیلا ہورہا تھا۔۔۔
“تم ٹھیک ہو شجیہ؟” عائزہ نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھا۔۔
اچانک شجیہ کو چکر محسوس ہوا اور وہ۔وہیں بینچ پڑ لہرا کر گر پڑی۔۔
عائزہ دوڑتے ہوئے گئی اور راہب کو بلا کر لائی جو کسی کلاس سے نکل رہا تھا۔۔ شجیہ کا سن کر ہی دوڑتا ہوا اس طرف آیا۔۔
کچھ سٹیوڈینٹ بھی اس طرف جمع ہوچکے تھے۔۔
“شجی۔۔۔شجی آنکھ کھولو۔۔”
وہ گھبرا کر اس کا۔چہرہ تھپتھپارہا تھا۔۔
اس کے اس طرح پکارنے اور پریشان ہونے پر سٹیوڈینٹ حیرت کا شکار ہوئے اور آپس میں سر گوشی کرنے لگے۔۔
وہ ان سب کی پروا کئیے بغیر اسے اپنے بازو میں اٹھائے باہر نکل گیا۔۔۔
“سر راہب آپ پہلے ان کے گھر انفارم کریں اور یہ کام یونیورسٹی۔انتظامیہ دیکھ لے گی آپ اس طرح نہیں لے جاسکتے۔۔”
پروفیسر ہاشم نے آکر راہب کو روکا ان کو ثنا نے آگاہ کیا تھا۔۔
“sr she is my wife”
اس کے تیز آواز سے کہنے پر سب ششد رہ گئے۔۔
پھر وہ بغیر کسی کی طرف دیکھے تیزی سے اپنی کار میں ڈال کر گاڑی لے گیا۔۔ وہ ریش ڈرائیونگ کرتا ہاسپیٹل پہنچا۔۔۔
جب کہ یہاں تمام سٹیوڈینٹ ثنا سمیت سب حیران تھے۔۔۔
ثنا تو بہت صدمے کے عالم میں کھڑی تھی۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: