Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 17

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 17

“ڈاکٹر شی از فائین؟؟”
وہ پریشانی سے پوچھ رہا تھا۔۔ ڈاکٹر نے اس کے سراپے کا جائزہ لیا۔۔
ایک خوش شکل اور ہینڈ سم لڑکا اس چھوٹی سی لڑکی کے لئیے حد سے زیادہ پریشان تھا۔۔ جیسے اس کی کل کائنات ہی وہی ہو۔۔۔
“جی شی از فائن۔۔آپ کون ہیں ان کے؟”
ڈاکٹر نے تصدیق چاہی۔۔۔
“I m her husband”
راہب کے کہنے پر ڈاکٹر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔
“پروپر ڈائیٹ کی کمی تھی جس کی وجہ سے نقاہت اور کمزوری ہے۔۔۔
تھوڑی ہی دیر کے لئیے شجیہ کو بے ہوش دیکھ کر اس کی جان نکل گئی تھی۔۔۔
بس نہیں چل رہا تھا شجیہ اس کے نظروں کے سامنے آجائے اور وہ اسے گلے لگالے۔۔۔
اب وہ دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔ شجیہ سے نظریں اٹھانا مشکل تھا اور راہب کی شجیہ پر پیار بھری نظریں طواف کر رہی تھی۔۔۔
“ابھی ویک نیس بہت ہے جس کی وجہ سے بے ہوشی ہوئی۔۔ ان کی ڈائٹ کا بھر پور خیال رکھنا ہے۔۔۔”
ڈاکٹر کی مختلف ہدایت کے بعد وہ دونوں اب گھر کی جانب روانہ تھے۔۔۔
کار میں معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔
شجیہ تو ڈر بھی رہی تھی کہ راہب تو اس سے خفا تھا۔۔ پتا نہیں اب راہب کا ردعمل کیا ہوگا۔۔
کیونکہ راہب نے اب تک اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔
اور وہ اس کا چہرہ دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ورنہ اس کے چہرے پر پھیلے محبتوں کے رنگوں کو دیکھ کر پہچان لیتی۔۔
راہب چور نظروں سے اس کا پریشان چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔
“تم نے اتنا ڈیپریشن کیوں لیا؟”
حالت دیکھی ہے اپنی؟”
وہ پیار بھرے غصّے سے اسے ڈانٹ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے نظر اٹھا کر راہب جو دیکھا۔۔
جس کے چہرے پر پھیلی فکر کو دیکھ کر وہ حیران ہوگئی۔۔
“آپ نے مجھے معاف کردیا؟”
وہ حیران سی اس سے پوچھ رہی تھی اس کی بڑی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
“مائی انوسینٹ وائف مجھے احساس ہوا کہ غلط صرف تم نہیں تھی میں بھی تھا پھر کیسی ناراضگی۔۔۔”
وہ اس کے گود میں رکھے ہاتھ کو پیار سے دباتا کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔ اتنے دن کا غبار تھا۔۔ آنکھوں۔سے بہہ رہا تھا۔۔۔
“یہ ظلم تو نہ کرو یار۔۔”
راہب ڈرائیو کرتا ہوا اس کے آنسو دیکھ کر پریشان ہوا۔۔
ایک ہاتھ سٹئیرینگ پر جمائے وہ اس سے مخاطب تھا۔۔
“شجی۔۔ ابھی دل چاہ رہا تمہارے سارے آنسو اپنی پوروں میں جزب کرلوں مگر یار میری سیچیوشن تو سمجھو ڈرائیو کرتے ہوئے یہ نا ممکن ہے۔۔۔”
وہ بہت بے بسی سے بولا جب کے ایک ہاتھ سے اس نے اس کے آنسو صاف کئیے۔۔۔
راہب کے اس طرح کہنے پر شجیہ چپ ہوگئی۔۔۔
گاڑی اب تیزی سے واپسی کی راہ کی جانب گامزن تھی۔۔۔
وہ سب کو بتا چکا تھا کہ شجیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔
لائبہ احمد صاحن اور مریم تینوں اس سے کمرے میں ہی ملنے آئے۔۔۔
“بیٹا جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ کیونکہ نیکسٹ ویک ریسیپشن ہے تم دونوں کا اسی لئیے جلدی سے اپنی طبیعت ٹھیک کرلو۔۔”
احمد صاحب نے محبت سے شجیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
وہ شجیہ کے ساتھ نارمل تو ہوگئے تھے مگر اتنے خلوص اور محبت سے پہلی بار بات کی تھی۔۔۔
ان کے اتنے محبت بھرے لہجے میں جہاں شجیہ کو حیرت ہوئی تھی۔۔
وہیں اس علان پر سب کو بھی حیرت کے ساتھ خوشی ہوئی تھی۔۔۔
راہب نے ان کو چونک کر دیکھا تو وہ مسکرائے۔۔۔
“برخوردار ایسی باتیں تو بڑوں کو سوچنی چاہئیے بہت پہلے ہی کرنا چاہئیے مگر ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اس طرح تمام لوگوں سے میری بہو کا تعرف بھی ہوجائے گا۔۔۔”
احمد صاحب کے کہنے پر سب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
“واؤ مطلب بھائی کے شادی کے جو ارمان تھے وہ پورے ہوسکتے ہیں۔۔۔ میں تو کل سے ہی شاپنگ سٹارٹ کردونگی۔۔۔۔”
مریم بھی خوشی سے اپنے منصوبے بنانے لگی۔۔۔
لائبہ نے اپنے شوہر کو تشکر بھری نظروں سے دیکھا جنہوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا تھا۔۔۔
لائبہ کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر احمد صاحب مسکرادئیے۔۔۔
جب کہ شجیہ بھی بہت خوش تھی اچانک ہی سب ٹھیک ہوگیا تھا۔۔۔
“ابھی ریسٹ کرو اور یونی جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
سب کے کمرے سے جانے کے بعد راہب نے آکر اس کو حکم دیا۔۔۔
شجیہ اٹھ کر بیٹھنے لگی۔۔۔
“بلکل نہیں آرام کرو جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے کہو۔۔۔”
اس نے شجیہ کو پکڑ کر دوبارہ لیٹا دیا۔۔۔
شجیہ کے آنسو اچانک روانہ ہوگئے تو راہب پریشان ہوگیا۔۔۔
“ارے پاگل لڑکی اب کیا ہوا ہے۔۔ شجی؟”
راہب نے اسے جلدی سے اپنے بازو سے تھاما اور قریب کیا۔۔۔
وہ اس کی قربت دیکھ کر بے ساختہ اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔
“راہب آپ واقعی بہت اچھے ہیں اتنی آسانی سے آپ نے معاف کردیا۔۔۔ آپ نے اس کو انا کا مسلئہ نہیں بنایا۔۔”
وہ آنسوؤں کے درمیان ہچکی لے کر کہہ رہی تھی۔۔۔
راہب کو اس وقت اس چھوٹی سی لڑکی پر بہت پیار آیا جو اس کی ناراضگی سے اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی اسے خود پر غصّہ بھی آیا۔۔۔
“شجی۔۔۔ بس کردو یار میری بھی غلطی تھی صرف خود کو قصور وار مت سمجھو بس وعدہ کرو اب کبھی میری محبت پر شک نہیں کروگی؟ “
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس سے وعدہ لے رہا تھا۔۔۔
شجیہ جھٹ سے معصومیت بھرے انداز سے نفی میں گردن ہلاگئی۔۔۔
راہب کو اس کی معصومیت پر ہنسی آگئی۔۔۔
شجیہ کی پیشانی پر پر اس نے اپنی محبت کا لمس بخشا تو شجیہ کو ایک تحفظ کا احساس ہوا۔۔۔
“آپ بھی وعدہ کریں آپ مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہونگے۔۔۔”
وہ بھی اس سے وعدہ چاہتی تھی۔۔۔
راہب نے بھی شجیہ کی طرح نفی میں گردن ہلادی۔۔۔
شجیہ کو اس کی شرارت پر ہنسی آگئی۔۔
آنسو کے درمیان ہنسی کا یہ خوبصورت منظر راہب کو مبہوت کرگیا۔۔۔
بلکل بارش کے بعد دھوپ جیسا منظر تھا۔۔۔
راہب کے اس طرح دیکھنے پر وہ جھینپ گئی۔۔۔
وہ اس کو بازو کے گھیرے میں لے بیڈ پر لیٹا تھا۔۔۔
شجیہ کے بالوں پر اس کی انگلیاں مسلسل چل رہی تھی۔۔۔
شجیہ نے اپنی ٹھوڑی اس کے بازو پر ٹکا کر معصومیت سے اسے دیکھا۔۔۔
“Rahib i m proud of you”
میں واقعی خوش قسمت ہوں جسے آپ جیسے ہمسفر ملے۔۔۔
میں آپ کو کبھی کھونا نہیں چاہتی۔۔ اگر آپ مجھ سے دور جائیں گے تو جی نہیں سکونگی مجھے ایسا لگتا ہے میری ہر سانس اب صرف آپ سے جڑی ہے۔۔۔”
شجیہ کی آنکھیں نم تھی۔۔
راہب اس محبت کے اظہار پر بلکل ششد رہ گیا۔۔۔
محبت کے۔اس راہ پر وہ۔اکیلا نہیں تھا بلکہ شجیہ بھی اس کے ساتھ بہت آگے تک چلی گئی تھی۔۔
راہب نے بے ساختہ۔اسے اپنے سینے میں چھپانے کی کوشش کی۔۔
جیسے وہ کوئی اس کی قیمتی کل متاع ہو اور اس کے کھو جانے کا ڈر ہو۔۔۔
“ماما بھائی کے لئیے کوئی لڑکی پسند کرلیں اب گھر میں کوئی رونق ہونی چاہئیے۔۔۔”
عائزہ نے موبائل چلاتے دائم کو دیکھا تو شرارت سے تیز آواز سے نائلہ بیگم کو آواز دی جو رات کے کھانے بنانے میں ملازمہ کے ساتھ مصروف تھیں۔۔۔
دائم نے موبائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو ڈرائی فروٹ کا پیالہ ہاتھ میں لئیے کشن گود میں لئیے بیٹھی۔کچھ ڈرائی فروٹس منہ میں ڈالے اس سے لطف اندوز ہورہی تھی۔۔۔
“یہ تمہیں میری شادی کی کیا سوجھی ہے۔۔؟”
وہ آبرو اچکا کر اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
“کیا سوجھی مطلب۔۔ بھئی اکلوتا بھائی ہے میرا میرے بھی شوق ہیں کہ بھابھی آئیں گھر میں۔۔۔”
وہ شرارت سے کہتی دائم کو کہہ رہی تھی۔۔۔
“اور میں اتنا پاگل نہیں ہوں جو چڑیل کی موجودگی میں اپنی بیوی کو لے آؤں۔۔ پہلے تمہیں۔ یہاں سے بھگاؤنگا پھر اپنی بیوی کے ساتھ آرام سے اس گھر میں رہونگا۔۔۔”
دائم نے سکون سے پیر پھیلائے اور آگے کی پلاننگ سے آگاہ کیا۔۔۔
عائزہ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔۔۔
نائلہ بیگم بھی وہیں پر آگئیں۔۔۔
“امّی دیکھ رہی ہیں بھائی کو ابھی سے اپنی بیوی کی فکر ہے اور بہن کا خیال نہیں۔۔”
عائزہ نے مصنوعی خفگی اور صدمے سے کہا۔۔۔
نائلہ بیگم اور دائم مسکرادئیے۔۔۔
“ویسے بیٹا میں بھی تم سے یہ بات کرنے والی تھی۔۔۔
“میں نے۔ ایک دو لڑکی دیکھی ہے تم تصویر دیکھ لو پھر بتادینا مجھے۔۔۔۔”
نائلہ بیگم نے کہاتو دائم پریشان ہوا۔۔۔
اس کے ذہن میں مریم کا عکس لہرایا۔۔۔
“امّی پہلے بھائی کی پسند تو پوچھ لیں۔۔”
عائزہ نے لقمہ دیا تو دائم نے اپنی اکلوتی بہن کو تشکر بھری نگاہ سے دیکھا۔۔۔۔
“کیا پوچھوں دس بار تو پوچھ چکی ہوں مگر یہ کچھ بتاتا ہی نہیں ہر دفعہ منع کردیتا ہے کہ کوئی ہے نہیں۔۔۔”
نائلہ بیگم نے جھنجلا کر کہا تو وہ مسکرادیا۔۔۔
“مگر اب تو آگئی ہے آپ کے بیٹے کی زندگی میں کوئی پری۔۔۔”
دائم نے مسکرا کر کہتے ہوئے دونوں کو حیران کیا۔۔۔۔
“سچ میں بھائی کون ہے وہ ایسا سانحہ کب ہوا؟”
عائزہ جوش سے آگے کو آئی۔۔
“صبر کرو چھپکلی۔۔۔” دائم۔نے عائزہ کو کہا۔۔
جس پر وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی۔۔۔
“بیٹا بتاؤ تا کہ میں ابھی ان کے گھر جاؤں شکر ہے میرے بیٹے کو کوئی تو پسند آئی۔۔۔”
نائلہ بیگم بھی خوش تھیں۔۔۔
“راہب کی بہن مریم ہے۔۔۔”
دائم نے مسکراتے ہوئے کہا تو عائزہ کا پھر سے حیرت سے منہ کھول گیا جب کہ نائلہ بیگم خوش ہوئیں۔۔۔
“واقعی وہ تو بہت پیاری بچی ہے کل ہی میں ان کے گھر جاتی ہوں۔۔۔
“چھپکے چھپکے اسے پسند بھی کرلیا اور مجھے نہیں بتایا۔۔۔”
عائزہ مصنوعی غصّہ دکھارہی تھی۔۔۔
“اب تو بتادیا نہ۔۔۔”
دائم لاپرواہ سا بول کر موبائل میں مصروف ہوچکا تھا۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: