Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 18

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 18

وہ یونی سے پورے ایک ہفتے کی چھٹی پر تھی۔۔
ریسیپش کے دن بھی قریب آرہے تھے ہر جگہ دعوت نامہ پہنچ چکا تھا۔۔
یونی میں سب لو خبر ہوچکی تھی کچھ کو تعجب ہوا کچھ بہت خوش ہوئے تو ثنا جیسے کچھ لوگ حسد کی آگ میں جلنے لگے۔۔۔
جو بغیر۔راہب کےکسی وعدے کے راہب کے خواب دیکھنے لگی تھی جب کہ وہ تو سیدھے منہ کسی سے بات بھی نہیں کرتا تھا۔۔
ادھر رباب کارڈ ہاتھ میں لئیے سکتے سے بیٹھی تھی۔۔
کوئی تدبیر کوئی سازش بھی کام نہیں آرہی تھی۔۔۔
جب کہ اس نے راہب کے چہرے پر دو دن اذیت دیکھی تھی اور وہ۔سکون میں تھی کہ سب کچھ ویسا ہوچکا ہے جیسا میں چاہتی تھی۔۔۔
مگر آج یہ کارڈ دیکھ کر اس کا سکون برباد ہوچکا تھا۔۔۔
“نہیں بلکل نہیں شجیہ میں تمہیں راہب پر اتنی آسانی سے قبضہ نہیں کرنے دونگی۔۔”
وہ ہذیانی انداز میں کارڈ کے ٹکرے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
“وہ صرف میرا ہے میرا شجیہ تم نے مجھ سے راہب کو چھینا ہے میں تمہاری زندگی مشکل کردونگی میں تم سے ہمیشہ کے لئیے اسے چھین لونگی۔۔۔”
وہ۔کارڈ میں لکھے شجیہ کے نام جو اپنے پیروں تلے روند رہی تھی۔۔
اور اس کی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک تھی۔۔۔ جیسے اس کا شیطانی دماغ نئے منصوبے بنارہا ہو۔۔
راہب تم اس بد کردار لڑکی کے قابل نہیں تھے تم۔۔ تم تو میرے لئیے تھے۔ تم رباب کے لئیے بنے تھے۔۔
وہ اپنے دونوں ہاتھ سے بال کو جکڑے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔۔
آنکھوں سے آنسو روا تھے۔۔
وہ۔تیزی سے اٹھی اور ڈریسینگ ٹیبیل پر پڑی۔چیزیں ایک جھٹکے سے گرا کر اپنا غصّہ۔کم کر رہی تھی۔۔۔
شیشے کی تمام چیزیں نیچے گر کر چکنا چور ہوچکی تھی۔۔۔
وہ۔ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔۔۔
شور سن کر مہوش ملازمہ کے ساتھ داخل ہوئیں تو کمرے کی حالت دیکھ کر وہ ششد رہ گئیں۔۔۔
“رباب۔۔ میری جان۔۔” اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوگئیں۔۔
“اٹھو یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے بیٹا۔۔”
اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر ان کا دل کٹ گیا۔۔۔
“مام راہب۔۔ راہب کو میں اس سے چھین لونگی۔۔ وہ میرا تھا۔۔۔”
عجیب سے سنگین لہجے میں کہتی وہ ہنسی۔۔ اس کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔
اس کے لہجے کی سفاکی سے مہوش کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔۔۔
“رباب میری حان کیا کرنے والی ہو تم وہ راہب تمہارے قابل نہیں تھا۔۔”
انہوں نے رباب کے چہرے کو تھامنے کی کوشش کی۔۔
پھر ان کی نظر اپنی ملازمہ پر پڑی جو کھڑی دلچسپی سے تمام منظر دیکھ رہی تھی اور سن رہی تھی۔۔۔
“تم کھڑی کیا کر رہی ہو اٹھاؤ یہ سب صاف کرو۔۔۔”
مہوش کے دھاڑنے پر وہ سہم کر پیچھے ہٹی۔۔۔
اور جلدی جلدی اس کی صفائی کرنے لگی۔۔۔
“ویسے تو آپ کی شادی ہوچکی ہے مگر آپ نے شادی کی رسمیں اینجوائے نہیں کی اسی لئیے میں بھابھی کو لینے آئی ہوں اب ریسیپشن والے دن ہی آپ ان سے ملیں گے۔۔۔”
راہب ابھی آفس سے آیا تھا۔۔ شجیہ بیڈ پر رسالہ پڑھنے میں مصروف تھی۔۔
جب مریم آ دھمکی اور اس کی شرط سن کر راہب سکتے میں آگیا۔۔
“ریسیپشن والے دن مطلب دو دن۔۔”
وہ اپنی دو انگلی اس کے چہرے کے آگے لہرا کر کہہ رہا تھا۔۔
“تو۔۔” مریم نے کاندھے اچکائے۔۔
جب کہ۔شجیہ دونوں بہن بھائی کی گفتگو دلچسپی سے سن رہی تھی۔۔
“دو دن کا مطلب ہے اڑتالیس گھنٹے۔۔”
راہب نے ایک دفعہ پھر اسے معاملے کی سنگینی۔سے خبر دار کیا۔۔
“ڈرامے نہیں کریں بھائی کہیں نہیں جائیں گی آپ کے پاس ہی آئیں گی۔۔
بس دو دن برداشت کریں۔۔۔”
مریم جھنجلا کر اندر آئی۔اور شجیہ کو بیڈ سے اٹھایا۔۔
“چلیں اپنا ضروری سامان لے لیں آپ دو دن میرے۔کمرے میں رہیں گی۔۔
مایوں میں بیٹھیں گی۔۔ چلیں۔۔۔”
وہ خود ہی شجیہ کے۔کپڑے۔اور ضرورت کی چیزیں لینے لگی۔۔ شجیہ حیرت۔سے اس کی حرکات ملاحظہ کر رہی تھی۔۔۔
“یہ کیا غنڈا گردی ہے بھئی میرے کمرے سے میری بیوی کو لے کر کون جاتا ہے۔۔
“میں لے کر جارہی ہوں کافی نہیں ہے خاموشی سے بیٹھ جائیں آپ وہاں پر۔۔۔”
مریم نے آنکھ نکالی اور راہب کو چپ کروایا۔۔۔
“بھابھی آپ چل رہی ہیں یا نہیں؟”
مریم کا رخ اب شجیہ کی جانب تھا۔۔۔
شجیہ نے جھٹ سے گردن ہلادی۔۔
“شجی۔۔۔” راہب نے شجیہ کی بے وفائی پر آنکھیں نکالی۔۔”
وہ شرارت سے مسکرا کر کاندھے اچکا گئی۔۔
“دیکھ لونگا میں تمہیں بھی۔۔۔”
وہ اسے۔دھمکی دینے پر اتر آیا تو وہ کھل کر مسکرادی۔۔
“آپ لوگ اب ایک دوسرے کو الوداع کہیں جلدی سے پھر میری دوستیں بھی آنے والی ہونگی ہم مل کر گانے گائیں گے اور بھابھی کو مایوں بھی بیٹھنا ہے۔۔۔”
مریم نے کہا تو راہب روہانسا ہوا۔۔
“یہ دو دن مایوں کون بیٹھتا ہے یار۔۔”
وہ جھنجلا گیا۔۔۔
“آپ کی شادی بھی تو انوکھی ہورہی ہے۔ایک سال بعد کس کا ریسیپشن ہوتا ہے؟”
وہ بھی اسی کے انداز میں بولی تو وہ منہ بنا کر بیٹھ گئی۔۔
شجیہ مسکراتی ہوئی مریم کے ساتھ چلی گئی راہب دیکھتا رہ گیا۔۔۔
“افف دو دن۔۔”
وہ خالی کمرہ حسرت سے دیکھنے لگا اسے لگ رہا تھا کمرے کی ساری رونق بھی شجیہ کے ساتھ چلی گئی ہو۔۔۔
“I miss you”
یہ دسواں میسیج تھا۔۔ شجیہ کو ہنسی آگئی۔۔
وہ سکرین کو ہاتھ میں لئیے دیکھ رہی تھی جب کال بھی آگئی۔۔
احتیاط سے اس نے کال سائیلینٹ پر لگائی پھر برابر میں دیکھا۔۔
مریم سورہی تھی۔۔ اس نے تسلّی کے لئیے ایک بار پھر دیکھا اور آہستگی سے بیڈ سے اتر گئی۔۔
اپنا دوپٹّہ سنبھالتی وہ اٹھی وہ مایوں کے پیلے رنگ کے خوبصورت سے جوڑے میں ملبوس تھی۔۔
کمرے سے ملحق بالکونی میں آئی پھر کال ریسیو کی۔۔
“کتنا تڑپارہی ہو یار تم۔۔”
راہب کی۔بے بسی سے کی گئی بات پر شجیہ کو ہنسی آگئی۔۔
“بچوں جیسی حرکت کیوں کر رہے راہب دو دن کی بات ہے۔۔”
شجیہ نے کہا تو راہب کو آگ ہی لگ گئی۔۔
“محترمہ دو دن آپ کیا جانیں مجھ سے یہ چار گھنٹے بھی برداشت نہیں ہوئے۔۔”
اس کے اس طرح کہنے پر ایک بار پھر شجیہ کو ہنسی آگئی۔۔
“ہاں اڑالو میری بےبسی کا مذاق۔۔ اور بچوں جیسی حرکت بھی آپ نے خوب کہی۔۔
“تمہیں پتا نہیں ہے تمہارے معاملے میں میں ایک بچہ ہی ہوں۔۔”
اب لہجے میں صرف محبت ہی محبت تھی۔۔
اتنی محبت پر شجیہ کی آنکھیں نم ہوگئی۔۔
“یار تمہیں صحیح سے دیکھ بھی نہیں سکا میں لان میں آؤ۔۔”
وہ بیڈ پر لیٹا ایک ہاتھ سے موبائل کان میں لگائے وہ اس سے فرمائش کر رہا تھا۔۔۔
ذہن کے پردے پر شجیہ کا آج۔ پیلے سوٹ میں ملبوس چہرہ یاد آیا تو دل اسے دیکھنے کو مچلنے لگا۔۔۔
“بلکل نہیں اب آپ محھے دو دن بعد ہی دیکھیں گے۔۔۔”
شجیہ نے اپنے لبوں کو دانت میں دبا کر شرارت سے کہا اور ذہن میں راہب کی بے چین سی صورت لہرائی تو وہ مسکرادی۔۔۔
بالکونی کی دیوار سے ٹیک لگائے چاند کو دیکھ کر اپنی قسمت پر ناز کر رہی تھی۔۔۔
“افف تم واقعی ظالم بن چکی ہو۔۔۔”
راہب جھنجلایا۔۔
“پتا نہیں یہ میرے ابا کو کیا سوجھی ریسیپش کروانے کی اور یہ مریم اس سے بعد میں بدلہ لونگا۔۔۔”
راہب نے دانتوں کو آپس میں ملا کر غصّے سے کہا تو شجیہ اب اپنے قہقے کو قابو نہیں کر سکی۔۔۔
“وہ منہ پر ہاتھ رکھ اپنی ہنسی دبارہی تھی کہیں اس کی آواز سے مریم نہ اٹھ جائے۔۔۔
“ابھی تم کہا ہو؟ “
بہت بے بسی سے پوچھا گیا۔۔۔
“بالکونی کی طرف ہوں اب رکھیں کال مریم اٹھ جائے گی۔۔۔
شجیہ نے کال بند کرنا چاہی۔۔
“اچھا سنو تو۔۔”
بہت اسرار سے کہا تو شجیہ کال کاٹتے رہ گئی۔۔۔
“وہیں رہو بس دو منٹ تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔”
اس نے کہا تو شجیہ کھڑی رہی تھوڑی دیر میں وہ نظر آگیا۔۔
لان میں ٹہلتا ہوا اوپر ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
شجیہ پیلے اور اورنج رنگ کے امتزاج سے۔ سر پر دوپٹّہ اوڑھے کھڑی تھی۔۔۔
گلابی چہرے پر جگہ جگہ ابٹن کے دھبے تھے۔۔ جو چہرے کی رونق بڑھارہے تھے۔۔۔
بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پر شرارت کر رہی تھیں۔۔۔
بڑی بڑی آنکھیں اور دلکش لگ رہی تھی۔۔۔
“میرے صبر کا امتحان ہے یار تمہارا یہ حسن میری جان لےلےگا۔۔۔”
کال پر وہ کہتا ایک ہاتھ دل پر رکھا گرنے کی ایکٹینگ کر رہا تھا۔۔۔
شجیہ کے لب پھر ہنسنے پر مجبور ہوگئے۔۔۔
“رات کی چاندنی میں اس کی مسکراہٹ راہب کو مبہوت کر گئی۔۔۔
“یہ حسین آنکھیں اور یہ دلکش لب
مجھ کو نہ ستاؤ باہوں میں آجاؤ اب”
راہب نے اپنی طرف سے ٹوٹی پھوٹی شاعری کی تو شجیہ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔
“راہب پلیز کبھی شاعری مت کرئیے گا آپ کبھی۔۔۔”
شجیہ سے اپنی ہنسی برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔
راہب کا قہقہ بھی فضا میں گونجا۔۔۔
“اچھا اب سوجائیں۔۔۔”
اچھا اپنی پک سینڈ کرو آج کی سار بہت ساری کرنا تا کہ آج کی رات گزر جائے۔۔۔”
راہب نے خمار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
شجیہ نے کال بند کر کے اس کو مسکراتے ہوائے اپنی تصویریں سینڈ کی۔۔۔
اور بستر پر آکر لیٹ گئی آنکھیں بند کئیے وہ راہب کو ہی سوچ رہی تھی۔۔
اس کی زندگی کتنی حسین ہوگئی تھی اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی زندگی بسر کرے گی۔۔۔
اس کا رواں رواں خدا کا شکر گزار تھا۔۔
اسی طرح وہ نیند کی وادی میں چلی گئی۔۔
راہب بھی مسکراتے ہوئے اس کی تصویریں موبائل میں زوم کر کے دیکھ رہا تھا۔۔
جہاں پیلے جوڑے میں ہنستی مسکراتی شجیہ سکرین پر چمک رہی تھی۔۔
وہ اسی طرح موبائل سینے سے لگائے نیند میں چلی گیا۔۔
احمد ولا میں روشنی کی جگماہٹ تھی رنگوں اور روشنیوں کا سیلاب تھا۔۔
ہر کوئی خوش اپنی باتوں میں مگن تھا۔۔
“ہیلو مریم کہاں ہو یار؟” وہ جھنجلایا ہوا کال پر بولا۔۔
“بس۔۔۔بس بھائی آگئے۔۔ وہ پالر کے باہر کھڑا تھا۔۔
تھوڑی دیر میں فان کلر کی میکسی میں میک اپ سے مزین تیار سی شجیہ کے ساتھ مریم باہر آئی تو وہ مبہوت رہ۔گیا۔۔۔
“چلیں بھائی۔۔” مریم نے اس کے چہرے
کے آگے چٹکی بجائی۔۔۔
شجیہ راہب کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
پورے راستے وہ اس پر نگاہ ڈالتا رہا دل تھا کہ باہر آنے کو بے تاب تھا۔۔۔
اچانک سے باتیں تھم گئی لوگوں کی نظریں مین گیٹ کی طرف اٹھ گئی۔۔
شجیہ کسی شہزادی کی طرح راہب کا ہاتھ تھامے اندر آرہی تھی۔۔
راہب فان کلر کے تھری پیس سوٹ پہنے شہزادوں جیسی آن بان لئیے شجیہ کو اس طرح تھامے لارہا تھا جیسے وہ کوئی نازک سی گڑیا ہو۔۔
ہاتھ چھوڑنے پر گر جائے گی۔۔
سٹیج پر بیٹھنے کے بعد بھی لوگوں کی نظریں ان پر تھی۔۔
شجیہ کی خوبصورتی آنکھوں کو چندھیارہی تھی تو راہب کی پرسنالٹی لوگوں کو مبہوت کر رہی تھی۔۔
لگتا تھا دونوں ایک دوسرے کے لئیے ہی بنائے گئے ہوں۔۔۔
“میرا دل چاہ رہا ہے میں تمہیں۔یہاں سے بھگا کر لے جاؤں۔۔۔”
راہب کی سرگوشی پر شجیہ کے خوبصورت لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
بہت سے لوگ دونوں کی جوڑی کو سراہ رہے تھے۔۔ بہت سی لڑکیاں رشک اور حسد سے شجیہ کو دیکھ رہی تھی۔۔
یونی کے کچھ لوگ بھی موجود تھے۔۔
اچانک عائزہ اسٹیج پر آئی تو شجیہ کے دل میں خوشی بھر گئی۔۔
کوئی تو اپنا آیا۔۔ آج۔اسے اپنی امّی اور ابّو بہت یاد آرہے تھے۔۔
دل خوش کے ساتھ اداس بھی تھا۔۔۔
“آج تو میں پہچان ہی نہیں پارہی یہ میری دوست شجیہ ہی ہے۔۔”
عائزہ نے جوش اور خوشی سے کہا تو شجیہ چونکی۔اور اس تعریف پر مسکرادی۔۔
“راہب بھائی کو دیکھو ان کے تو خوشی سے دانت ہی اندر نہیں جارہے۔۔”
عائزہ نے شجیہ کے کان میں۔سرگوشی کی۔۔
“ویسے مجھ سے بھی رشتہ۔داری ہونے والی ہے تمہاری۔۔”
عائزہ نے رازداری سے کہا تو شجیہ کے ساتھ برابر میں کھڑی۔شجیہ بھی چونکی۔۔۔
“وہ۔دیکھو میٹینگ چل رہی ہے تمہاری مریم کو ہم اپنے گھر لے جائیں گے۔۔”
عائزہ نے سامنے ان کو متوجہ کیا جہاں نائلہ بیگم لائبہ اور۔احمد صاحب کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں۔۔۔۔
شجیہ تو اس خبر سے بہت خوش ہوئی۔۔
جب کہ مریم نے چور نظروان سے دائم کی جانب دیکھا جو راہب کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا۔۔
دائم کی نظر اس پر پڑی تو وہ جلدی سے سٹیج سے نیچے اتر گئی۔۔
“مجھے لگتا ہے آپ تک کسی نے خبر پہنچادی ہے۔۔”
وہ اچانک اس کے سامنے آگیا تھا اور دلچسپ نظریں مریم کے چہرے پر تھی۔۔
جو پنک کلر کی سٹائلیش سی ٹخنوں تک آتی فراک میں ہلکا سا میک اپ کئیے کان میں بڑے بڑے ائیر رنگز پہنےکنفیوز سی اپنے کھلے بالوں کو پیچھے کرتی سیدھا دائم کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔
“کیسی خبر۔۔”کپکپاتے لبوں سے ادا کیا۔۔۔
“یہی کے بڑے تمہارے جملہ حقوق میرے نام محفوظ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔۔۔”
دائم نے۔شرارت بھری آنکھوں سے کہا تو مریم کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔
بلیک کلر کے ٹو پیس میں وہ کافی حد تک ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
آنکھیں شرارت سے مسکرارہی تھی۔۔
مریم اپنے دل کو سنبھالتی سرخ۔چہرے کے ساتھ وہاں سے بھاگی۔۔
پہچھے دائم کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: