Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 19

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 19

دلہن بنی شجیہ کی نظریں کسی کی متلاشی تھی۔۔
وہ بے چینی سے اپنی نظریں ادھر ادھر گھمارہی تھی۔۔ راہب نے محسوس کیا تو پوچھے بنا رہ نہیں سکا۔۔۔
“کیا ہوا ہے شجی تم پریشان کیوں ہو؟”
اس کے جھک کر پوچھنے پر وہ زبردستی مسکرا کر نفی میں گردن ہلاگئی۔۔
“مطلب اب مجھ سے جھوٹ بولوگی تم؟”
“وہ خفا سے انداز سے بولا تو شجیہ کی جان پر بن گئی۔۔
“میں تایا کا انتظار کر رہی ہوں وہ آئے کیوں نہیں اب تک؟”
تفکر بھرے لہجے سے کہا تو راہب کو احساس ہوا لڑکی کو سسرال میں جتنی بھی محبت مل جائے مگر ماں باپ کی کمی کوئی پورا نہیں کرسکتا۔۔
ماں باپ تو تھے نہیں مگر اس کے اپنوں میں سے ایک تایا کا ہی رشتہ بچا تھا۔۔۔
شجیہ بے تابی سے انتظار کر رہی تھی جب سامنے سے ظفر صاحب ارسل کے ساتھ آتے ہوئے دکھائی دئیے۔۔۔
شجیہ کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔۔۔
“کیسی ہے میری بیٹی؟”
وہ اس سے آج مل رہے تھے وہ اتنے شرمندہ تھے کہ اس کا سامنہ کرنے سے گھبراتے تھے۔۔۔
شجیہ کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی۔۔۔
تمام لوگوں کے جانے کے بعد وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دینے لگے تو ان کے سینے سے لگی وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔
“میری بیٹی مجھے معاف کردو میں اپنے بھائی کی اکلوتی نشانی کو صحیح سے سنبھال نہیں سکا۔۔۔
وہ نفی میں گردن ہلارہی تھی۔۔
“نہیں تایا آپ نے تو راہب جیسے انسان کو میرا ہم سفر بنا کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے میں آپ کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتی۔۔۔”
شجیہ نے آنسو کے درمیان جذبات سے کہا تو ساتھ کھڑے راہب کا دل خوش گوار ہوا اس کے دل میں سکون سا اتر گیا۔۔۔
“راہب اس کا خیال رکھنا مجھے پتا ہے تمہیں یہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
شجیہ کی کسی بھی غلطی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔
ارسل نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔ راہب سے بھی ملا پھر کچھ دیر کے بعد وہ دونوں چلے گئے۔۔۔
شجیہ کو مریم کمرے میں لے کر آئی تو پہلا قدم رکھتے ہی وہ حیران رہ گئی۔۔۔ یہ وہ کمرہ لگ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
لال گلاب سے سجا کمرہ راہب کے جذبات کی عکاسی بھی کر رہا تھا۔۔۔
وہ پہلی دفعہ اس کمرے میں نہیں آرہی تھی مگر آج قدم رکھتے ہوئے دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینہ توڑ کر باہر آجائے گا۔۔۔
“بھابھی آپ یہاں بیٹھیں میں بھابھی کو بلا کر لاتی ہوں۔۔
وہ اسے بیڈ پر بیٹھا کر چلی گئی تھوڑی ہی دیر دروازہ کھولنے اور پھر لاک ہونے کی آواز آئی۔۔۔
شجیہ نے سر اوپر اٹھایا مگر راہب کے دیکھنے کے انداز سے وہ جھینپ گئی اور دوبارہ سر جھکالیا۔۔۔
“ہاہا لڑکی یہ شادی کے ایک سال بعد کون شرماتا ہے۔۔۔”
راہب مسکراتا ہوا اس کے سامنے بیڈ پر نیم دراز ہوا۔۔
“اس طرح دیکھیں گے تو شرم تو آئے گی۔۔۔”
شجیہ جھینپتے ہوئے بولی تو راہب کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔
“اچھا پھر کیسے دیکھوں آپ ہی بتادیں محترمہ۔۔۔”
اب وہ ذرا سا جھکا تھا۔۔۔
شجیہ نے اپنے دونوں مہندی بھرے ہاتھوں سے چہرہ چھپایا۔۔۔
“کنفیوز مت کریں راہب۔۔۔”
شجیہ کے اس طرح شرمانے کے انداز سے ایک بار پھر راہب کا قہقہ کمرے میں گونجا۔۔
“جی راہب کی جان جیسا آپ کا حکم۔۔۔”
وہ اب پیچھے ہو کر دونوں ہاتھ کاندھوں سے پیچھے کر کے مزید پھیل کر بیٹھ گیا۔۔۔
“ویسے مجھے لگا کسی نے میری بیوی بدل دی ہو۔۔”
راہب کی بے تکی بات پر شجیہ نے آنکھیں نکالی۔۔۔
“مطلب میں نے تو اچھی سیدھی سادھی سی پیاری سی شجیہ بھیجی تھی مگر واپس تو کوئی چڑیل آئی میری تو چیخ نکل جاتی اگر مریم ساتھ نہ ہوتی۔۔۔”
وہ شرارت سے کہتا اسے واقعی میں اس نے پریشان کردیا۔۔۔
“کیا میں چڑیل لگ رہی ہوں۔۔ بلکل بھی اچھا میک اپ نہیں ہوا۔۔ اسی لئیے تو میں کرتی نہیں ہوں۔۔۔”
تیزی سے روہانسے لہجے میں کہتی وہ اپنی میکسی سنبھالے بیڈ سے نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
“تا کہ ڈریسینگ ٹیبیل کے آئینے پر اپنا عکس دیکھ سکے۔۔۔
راہب کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔
وہ بیڈ سے اتر ہی رہی تھی کہ راہب نے ایک جھٹکے سے اس کی کلائی پکڑی اور وہ سیدھا اس کی جانب گری راہب کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو بچانے کی سعی کرتی وہ لڑکھڑائی تھی جسے راہب نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے تھام لیا۔۔۔
راہب کے لمس شجیہ کے لئیے سکون کا باعث تھے جیسے اپنی ساری تھکن اس کے سپرد کر کے وہ پرسکون ہوناچاہتی تھی۔۔۔
“میری آنکھوں میں دیکھو جان آئینہ تو کبھی کبھی جھوٹ بھی کہتا ہے۔۔۔”
خمار بھرے لہجے میں کہتا وہ ایک بار پھر شجیہ کو جھینپنے پر مجبور کر گیا۔۔۔
“تیرے گلے سے لگ کے تجھ کو
ایک بات بتانی ہے
تیرے سینے میں جو دھڑکتا ہے دل
وہ میری ہی نشانی ہے…. “
راہب نے آہستہ سے اس کے کان میں یہ شعر پڑھا تو وہ خود میں سمٹ گئی۔۔۔
راہب آج اپنی محبتوں کی شدت اس پر نچھاور کرنا چاہتا تھا۔۔۔
شجیہ نے بھی خود کو اس کے سپرد کردیا۔۔۔
دونوں کی ہنسی راہب کی مدھم سرگوشی کچھ وعدے کچھ عہد و پیماں ان کی زندگی کی نئی شروعات کی گواہی تھی۔۔۔
دور کھڑا چاند بھی دونوں کی محبتوں پر مسکرادیا۔۔۔
اظفر اور ارسل راستے میں ہی تھے جب ایک کال نے ارسل کے اوسان خطا کردئیے۔۔۔
“بابا وہ رباب کا ایسیڈینٹ ہوا ہے وہ ہاسپیٹل میں ہے۔۔۔”
ارسل نے یہ خبر سنائی تو ان کو لگا ان کی سماعت نے دھوکہ کھایا ہے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ہاسپیٹل پہنچ چکے تھے اور جو خبر وہاں ملی ان کا سر شرم سے جھک گیا۔۔۔
اس نے وافر مقدار میں ڈرگز لیا ہوا تھا جس کی وجہ سے کار ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔۔۔
مہوش بھی وہیں پہنچ گئیں اور اپنی قسمت پر رو رہی تھیں کہ جب رباب باہر جارہی تھی انہوں نے روکا کیوں نہیں۔۔
انہیں یاد آیا وہ کتنی پاگل ہورہی تھی یہی سوچ کر کے آج راہب اور شجیہ کا ریسیپشن تھا۔۔
“میں احمد انکل سے پوچھونگی انہوں نے میرے ساتھ یہ زیادتی کیوں کی۔۔ میں شجیہ کی معصومیت کا پردہ دنیا کے سامنے چاک کرونگی۔۔
لیکن اسے راہب سے چھین کر رہونگی۔۔۔”
وہ دیوانوں کی طرح کمرے سے نکل رہی تھی جب مہوش نے اسے روکا۔۔
“حالت دیکھی ہے تم نے اپنی؟ کوئی نہیں سنے گا وہاں تمہیں رباب۔۔۔”
بیٹی کی حالت دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رورہا تھا۔۔۔
ڈرگز لینے کی وجہ سے آنکھوں کے گرد حلقے خوبصورت چہرہ سیاہ ہورہا تھا۔۔
اور خود وہ ہوش میں نہیں تھی۔۔۔
“نہیں ماما دیکھئیے گا میں راہب کو لے آؤنگی وہ میرے ساتھ آئے گا۔۔”
وہ واقعی ہوش میں نہیں تھی۔۔۔
اپنے بچوں کو برباد کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ والدین کا ہوتا ہے جو جائز نانائز کا فرق سمجھائے بغیر بچے کی ہر ضد پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر وہ سب کو اپنا غلام سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔۔
مہوش روتی رہیں روکتی رہیں مگر وہ ان کو بھی دھکا دے کر جاچکی تھی۔۔۔
وہ واقعی آج ایک بے بس ماں لگ رہی تھیں۔۔۔
اظفر صاحب الگ مہوش سے منہ موڑے کھڑے تھے ارسل بھی وہیں پریشان سا تھا۔۔۔ البتہ فاضل کا کچھ نہیں پتا تھا۔۔۔۔
اڑتالیس گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تو ایک درد ناک خبر اس کی منتظر تھی۔۔۔
نیچلے کا دھڑ اس کا ہمیشہ کے لئیے مفلوج ہوچکا تھا۔۔۔
اس خبر سے رباب کو نفسیاتی دھچکہ پہنچا تھا۔۔
وہ چیختی چلاتی نفسیاتی مرض کا شکار ہوچکی تھی۔۔۔
ایک اور قیامت ان کے گھر پر آئی۔۔ فاضل کو کسی لڑکی کے قتل کے کیس میں پولیس پکڑ چکی تھی۔۔۔
کیونکہ اس کے غیر اخلاقی میسیجز اور کچھ نازیبہ تصاویر سب فاضل کے خلاف جارہے تھے۔۔۔
اظفر صاحب کمرے میں بند ہوچکے تھے کسی کا سامنہ کرنے کی ہمت ان میں موجود نہیں تھی۔۔۔
ایک ارسل ہی تھا جو خود کو مضبوط کر کے مہوش کو سنبھال رہا تھا۔۔۔
مہوش کو لگ رہا تھا ان کی دنیا اجڑ چکی ہے۔۔۔
ان کی تربیت بے جا لاڈ پیار اور دوسروں سے کی گئی ناانصافی آج مکافات عمل کی شکل میں ان کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
وہ اب اس کے ساتھ یونی جاتی تھی اس کا اب آخری سال ہی تھا یونی میں۔۔
اب سب شجیہ کا بھی احترام کرتے کیونکہ وہ مسز راہب بن چکی تھی لوگوں کی نظروں میں…
راہب اس کا ہر طرح سے خیال رکھتا اور محبت تو روز بروز بڑھتی جارہی تھی مگر وہ ٹیچر بہت سخت تھا اس کی بھی کوئی رعایت نہیں تھی۔۔۔
لیٹ آنے پر وہ باہر کر چکا تھا مگر پھر اسے منا کر لے گیا۔۔
شجیہ اپنے ماضی کے گرداب سے نکلی اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔۔
راہب اسے کسی انعام کی طرح لگتا جو خدا کی طرف سے اسے نواز دیا گیا تھا۔۔۔
یونی سے واپسی پر وہ اس کے بازو سے سر ٹکائے اپنی تھکن مٹارہی تھی اور وہ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتا ایک ہاتھ سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے گاڑی میں سونگ پلے کردیا۔۔ دھیمی دھیمی موسیقی اور گانے کے بول شجیہ کو اپنے دل کی آواز لگ رہے تھے۔۔۔
تیری دھڑکنوں سے ہے زندگی میری
خواہشیں تیری اب دعائیں میری
کتنا انوکھا بندھن ہے یہ
تیری میری جان جو ایک ہوئی
لوٹونگا تیرے پاس وعدہ ہے میرا
مر بھی جاؤں کبھی
جو تو میرا ہمدرد ہے جو تو میرا ہمدرد ہے
سہانا ہر درد ہے جو تو میرا ہمدرد ہے۔۔
دھیما سا گنگناتی وہ اس کے کاندھے سے سر ٹکاتی اپنے دل کا حال بیاں کر رہی تھی۔۔۔
مریم اور دائم کی بات پکّی ہوگئی تھی آج نائلہ دائم اور عائزہ کے ساتھ ان کے گھر پر موجود تھی تا کہ مریم کو انگوٹھی پہنا سکیں۔۔
راہب نیچے دائم کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔
جب کہ شجیہ اور عائزہ اوپر مریم کو تیار کر رہی تھیں۔۔۔
“بھابھی مجھے شرم آرہی ہے اتنا تو تیار نہ کریں۔۔۔”
شجیہ نے لپ سٹک لگانے کے لئیے شیڈ پسند کی تو وہ روہانسی ہو کر بولی۔۔۔
شجیہ اور عائزہ مسکرادیں۔۔۔
“افف میری پیاری مریم تمہاری شادی نہیں ہے جو اتنا شرمارہی ہو منگنی ہے۔۔۔”
شجیہ نے جھنجلا کر کہا۔۔۔
“اسی لئیے تو شرم آرہی ہے کہ سب کے سامنے کیسے بیٹھونگی۔۔۔”
مریم روہانسی ہوئی۔۔۔
“بھابھی بھائی آپ کو کھا نہیں جائیں گے جو اتنا شرما رہی ہیں۔۔۔”
عائزہ نے چھیڑتے ہوئے کہا تو مریم چپ ہوگئی۔۔
لیکن دل ہی دل میں ضرور بولی۔۔
“تمہارے بھائی کے دیکھنے کا انداز ہی ایسا ہوتا ہے کوئی بھی شرما جائے۔۔۔
سفید رنگ کی سرخ امتزاج کی فراک پہنے وہ کوئی ایسپرا لگ رہی تھی۔۔۔
شجیہ اور عائزہ اسے ساتھ لے کر آئیں تو دائم کی نظریں اس پر سے ہٹنا بھول گئیں۔۔
سفید رنگ کے شلوار قمیض میں وہ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
دلکش مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھا وہ اپنی آن بان لئیے مریم کے دل کو دھڑکا چکا تھا۔۔
“اب انگوٹھی پہناؤ بیٹا۔۔۔”
نائلہ بیگم کے کہنے پر دائم نے نرمی سے مریم کا مخروطی ہاتھ تھاما اور آہستگی سے ڈائمنڈ کی رنگ اس کی انگلی میں پہنادی۔۔۔
مریم کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔
“مبارک ہو اب تم جلد میری ہونے والی ہو۔۔۔”
اس سرگوشی پر مریم سرخ ہوگئی۔۔۔
ایک بھرپور شام کا اختتام ہوا جہاں دو دلوں کے دل ایک ساتھ دھڑکنا شروع ہوچکے تھے۔۔۔
محبت نے اپنے پر پھیلانا شروع کردئیے تھے۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: