Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 2

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 2

آج تیسرا دن تھا جب وہ آیا تو اسے ذکیہ بیگم نے اپنے پاس ہی بیٹھالیا پھر تھوڑی دیر میں وہ بھی ڈری سہمی سی کتاب لے کر نظر آئی۔۔۔
“بیٹا اس کو اب یہیں پڑھادیا کرو بہت نازک سا دل ہے اس کا چھوٹی چھوٹی بات پر گھبرا جاتی ہے میرے بغیر کہیں دل نہیں لگتا اس کا۔۔۔” ذکیہ بیگم نے بات بنائی تو وہ دل ہی دل میں حیران بھی ہوا اور غصّہ بھی آیا۔۔
“کیا میں اسے اکیلے میں کھا جاتا جتنی نرم مزاجی میں اس کو دکھا رہا ہوں اتنا ہی یہ محترمہ مجھے بدنام کرنے پر تلی ہیں اب میں اتنا بھی خوفناک نہیں ہوں۔۔۔” وہ اس سے اچھا خاصا بدگمان ہوچکا تھا۔۔۔
“بیٹھ جائیے اب کیا کھڑے کھڑے پڑھنے کا ارادہ ہے۔۔” ذکیہ بیگم وضو بنانے گئیں تو اسے موقع مل گیا اپنی بھڑاس نکالنے کا اسے ایک ہی جگہ پر کھڑا دیکھ کر وہ انگارے چباتے ہوئے بولا تو شجیہ گھبرا کر جلدی سے اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔ اور دونوں کے۔درمیان رکھے ٹیبیل پر اپنی کتابیں رکھ دیں۔۔۔
اب وہ اسے اپنے بنائے ہوئے میتھ دیکھارہی تھی جو بلکل صحیح بنا تھا۔۔ راہب کو حیرت ہوئی بغیر اس کی مدد کے اس نے یہ سوال حل کرلیا تھا جب کہ وہ اسے پہلے دن واقعی کوئی نالائق لڑکی لگی تھی مگر اب اسے لگ رہا تھا وہ جیسی۔دکھتی ہے ایسی ہے نہیں۔اسے صرف ذرا سی توجہ اور محبت کی ضرورت ہے وہ بہتر ہوسکتی ہے۔۔ راہب اپنے تجسس اور انسانوں کو جاننے کی عادت سے مجبور ہو کر شجیہ کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اس کی غیر معمولی حرکات راہب کے تجسس کو ہوا دےرہی تھی۔۔ وہ آج پورا وقت شجیہ کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اس کے حرکات و سکنات کو بھی نوٹ کر رہا تھا۔۔ وہ نفسیات جانتا تھا اور انسانوں کو جاننا ان کے مسائل سننا اور اس کو حل کرنا یہ بھی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔
ذکیہ بیگم بھی وہیں نماز پڑھنے لگیں تا کہ شجیہ کی ہمت بندھی رہے۔۔۔ آج۔دو دن کے برعکس شجیہ نے بہترین کارگردگی دکھائی کہ راہب کو خوشی ہوئی اس کا تھوڑی دیر پہلے والا غصّہ ختم ہوگیا۔۔
“اوکے شجیہ آپ نے تو آج مجھے حیران کردیا گڈ اسی طرح اگر آپ محنت کریں گی تو اچھے نمبر سے پاس ہوسکتی ہیں۔۔” راہب کے حوصلہ کن لہجے سے شجیہ کے چہرے پر جو مسکراہٹ آئی اسے دیکھ کر وہ مبہوت رہ گیا۔۔۔اس مسکراہٹ میں بہت۔سے۔دکھ اور راز چھپے تھے وہ ایسے مسکرائی تھی جیسے کوئی بچے کی بات پر مسکراتا ہو۔۔
“بیٹا تم سے اسی لئیے تو کہا تھا باقی سب تو اسے نالائق سمجھتے ہیں مگر مجھے پتا ہے میری بچی بہت لائق ہے۔۔” ذکیہ بیگم بھی نماز پڑھ کر آئی تو وہیں کھڑے ہو کر۔شجیہ کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔۔
“جی گرینی اب مجھے اجازت دیں۔۔” وہ۔جانے کے لئیے کھڑا ہوگیا۔۔
“ہاں جاؤ بیٹا اللّہ تمہیں خوش رکھے۔۔” ذکیہ بیگم نے۔ اسے دعا دیتے ہوئے رخصت کیا۔۔اور شجیہ اپنی کتابیں سمیٹ کر ذکیہ بیگم کے برابر والے کمرے میں بند ہوگئی کیونکہ آج پھر اسے اپنے ماں باپ یاد آئے تھے۔ راہب کے لہجے سے اسے اپنے ماں باپ کی شدت سے یاد آئی تھی جن کو گئے ہوئے عرصہ بیت چکا تھا۔۔۔
راہب نظر بچا کر نکلنا چاپتا کہ ہمیشہ کی طرح رباب نے اسے جالیا۔۔۔
“واہ مسٹر راہب واہ جب سے آپ اس نئی شاگرد کے ساتھ بزی ہوئے ہیں پرانے دوست کو بھول ہی چکے ہیں۔۔” رباب کے طنز پر وہ رکا اور ایک نظر اسے دیکھا جو پر اعتماد سی اس کی خو ب رو آنکھوں میں دیکھتی ناراضگی ظاہر کر رہی تھی۔۔۔ ہمیشہ کی طرح سلیو لیس برانڈیڈ شرٹ اور جینز پہنے شفاف رنگت کو مزید میک اپ کی مہارت سے۔نکھارا گیا تھا وہ بلاشبہ ایک حسین لڑکی تھی اور خود کو حسین بنانا جانتی تھی۔۔ جب کہ شجیہ ڈری سہمی فیشن سے عاری بلکہ بکھری اور الجھی سی رہتی جسے خود کو سنوارنا تو دور لباس کے رنگ بھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے تھے دوپٹے کا رنگ کچھ ہوتا قمیض کا رنگ کچھ اور۔۔ وہ پتا نہیں کیوں شجیہ اور اس کا موازنہ کرنے لگا۔۔۔
“کن سوچوں میں گم ہوگئے ہو ماما بھی تمہارا انتظار کر رہی تھیں۔۔ چلو پہلے وہاں چائے پیتے ہیں پھر کہیں باہر چلیں گے۔۔” وہ بے تکلفی سے اس کا ہاتھ پکڑے گھر کے دائیں جانب بنے لان میں داخل ہوگئی پھر وہاں سے گزرتی ہوئی وہ اس شیش محل بنے حصّے کی طرف آگئی۔۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ حصّہ بھی اسی گھر کا تھا۔۔
“ایک بات سمجھ نہیں آتی گرینی کا پورشن اس سے اتنا الگ کیوں ہے وہ اور شجیہ بھی تو اسی گھر کی فرد ہیں۔۔” راہب نے اپنی الجھن ظاہر کی۔۔
“بس گرینی کو ہم سے زیادہ شجیہ سے محبت ہے اور اس ایب نارمل لڑکی کی وجہ سے وہ ہم سے ہی الگ ہوگئیں پاپا تو اب تک ان کو یہاں کمرا دینے کے لئیے کہتے رہتے ہیں مگر وہ مانتی نہیں۔۔ اسی لئیے اب پاپا نے بھی کہنا چھوڑ دیا۔۔” رباب نے لاپروا لہجے میں کہتے ہوئے اسے لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
“ویسے تمہیں۔ کیوں ان کی اتنی فکر ہورہی ہے تمہارا تعلق ہم سے ہے تو ہماری بات کرو۔۔” رباب نے اپنے بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے مغرور لہجے میں کہا۔۔ راہب ابھی جواب دینے والا ہی تھا کہ مہوش آگئیں۔۔
“ارے راہب تم نے تو اب اپنی شکل دکھانا چھوڑ دی ہے ایسی بھی کیا مصروفیت کہ اپنوں کو ہی بھول جائیں۔۔”
مہوش نے سامنے وجاہت سے بھر پور اپنے ہونے والے داماد کو دیکھا جو جلد ہی ان کی بیٹی کا نصیب بننے والا تھا۔۔۔
انہوں نے بھی طنز کے تیر چھوڑنا اپنا فرض سمجھا “شاید رباب ان پر ہی گئی ہے۔” راہب کے دل نے سوچا۔۔
“جی آنٹی دو دن پہلے ہی تو رباب سے ملاقات ہوئی تھی بس آج کل ڈیڈ بھی ایکشن میں آئے ہوئے ہیں تو فیکٹری چلاجاتا ہوں پھر وقت بہت کم ملتا ہے۔۔” راہب نے ہنستے ہوئے کہا اور رباب کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا جو کچھ دیر پہلے ہی ملازمہ لوازمات سے بھری ٹرے کے ساتھ رکھ کے گئی تھی۔۔۔
“چلو شکر ہے تم نے کچھ ذمّہ داری تو لی۔۔” ان کے اس طرح کہنے پر راہب کو غصّہ تو بہت آیا مگر وہ برداشت کر گیا۔۔
“آنٹی ارسل نظر نہیں آرہا آج کل اس سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔۔” راہب نے جلدی بات بدلنے کی کوشش کی اور رباب کے بھائی کے بارے میں پوچھا جس سے اس کی دوستی بھی تھی۔۔۔
“وہ تو یہیں ہے بیٹا بس آپ ہی آج کل غائب ہیں۔۔” شاید شجیہ کو پڑھانے کی بات ان دونوں کو پسند نہیں آئی تھی تب ہی وہ بار بار اپنی ناگواری کا اظہار کر رہی تھیں۔۔
“ٹھیک ہے آنٹی اب اجازت دیں ڈیڈ ویٹ کر رہے ہونگے۔۔” راہب سے اب برداشت نہیں ہوا تو وہ۔ سپاٹ سے لہجے میں کہتا اب جانے کے لئیے کھڑا تھا وہ دونوں ہی اس کے لہجے اور انداز سے گھبراگئیں۔۔ ظاہر ہے اسے اس گھر کا داماد بننا تھا وہ کیسے اس کو ناراض کر سکتی تھیں۔۔۔
“نہیں بیٹا ایسے کیسے جاسکتے ہو تھوڑی دیر تو بیٹھو۔۔” مہوش نے گھبرا کے کہا۔۔
“راہب آج تو مجھے ٹائم دے دو۔۔” رباب نے لاڈ بھرے لہجے میں کہا۔۔
“پھر کبھی سوری۔۔” وہ گلاسز آنکھوں پر ٹکاتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔وہ دونوں اسے روکتی رہیں۔۔
“مام دیکھیں یہ ایسے ہی کرتا ہے جب سے اس کو پڑھانے لگا ہے مزاج ہی نہیں مل رہے محترم کے بہت روڈ ہوجاتا ہے کبھی کبھی۔۔ رباب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے روہانسے لہجے میں کہا۔۔
“یہ دونوں جادو گرنی ہیں میرا بھائی بھی اس کی وجہ سے اتنی دور ہے اب اس کے پیچھے پڑ گئی ہیں تم فکر نہ کرو ان دونوں سے نبٹنا اچھی طرح سے جانتی ہوں۔۔” مہوش نے کہا۔تو رباب نے بھی اپنے آنسو پونچھے۔۔ وہ دونوں اپنی ہی بنائی بدگمانی کی کہانی تیار کر کے بلاوجہ خود کو ہلکان کر رہی تھیں۔۔۔
بہت ہی خوبصورت منظر تھا چاروں طرف پھول ہی پھول تھے سامنے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا۔۔ نیلا آسمان کالے بادل سے ڈھکا تھا ہری گھاس کی قالین زمین پر بچھی ہوئی تھی۔۔ لال گلاب سے سجا پھولوں کا وہ جھولا جس میں چھ سال کی بچی بیٹھی اپنے ماں باپ کے ذریعے جھول رہی تھی۔۔ اس کی ہنسی میں ان دونوں کے بھی خوشی سے بھر قہقے شامل ہوجاتے۔۔ پھر ہری قالین پر آسمان سے پانی کے۔شفاف قطرے گرنے لگے تو منظر اور خوبصورت ہوگیا۔۔ مگر دیکھتے دیکھتے وہ بوندیں پانی کے فواروں میں بدل چکی تھی پھر کچھ وقت میں ہی ہرے قالین میں جمع ہوتا وہ پانی ظالم لہروں کی شکل اختیار کرچکا تھا۔۔۔ اس بچی کے چہرے پر خوف پھیل گیا دونوں نے اسے گود میں لینے کی کوشش کی مگر ایک سفاک لہر آئی اور ان دونوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی۔۔۔ وہ بچی چیختی چلاتی رہی مگر لہر کو زرا بھی رحم نہیں آیا اور پل ہی میں اس کی چھوٹی سی دنیا ختم ہوچکی تھی۔۔ وہ آنکھیں بند کئیے اس خوفناک منظر میں اکیلی رہ گئی تھی کہ اچانک ہی بارش تھم گئی اور شور سا تھم گیا اس نے ڈر ڈر آنکھیں کھولی تو منظر ہی تبدیل تھا وہ خوبصورت وادی بنجر ہو چکی تھی اس کا پھولوں سے بنا جھولا اب غائب تھا لہر کا بھی نام و نشان مٹ چکا تھا۔۔۔ سوکھی۔زمین پڑی تھی وہ سہم سی کونے میں بیٹھی تھی کہ اچانک بہت سے بھیڑیے اس طرف نکل آئے جو اس کے ہی قریب آرہے تھے۔۔ معصوم سی بچی تنہا اپنے ماں باپ کو پکار رہی تھی مگر وہاں کوئی اس کی فریاد سننے والا نہ تھا کہ ایک بھڑیا اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔۔ وہ سہم کر۔دو قدم دور ہوئی۔اس کے چاروں طرف اندھیرا چھانے لگا مگر سفاک بھیڑئیے کو اس معصوم پر ذرا بھی رحم نہیں آیا۔۔ وہ اس کے۔بہت قریب آچکا تھا بھیڑئیے کی چکمتی آنکھیں مزید تیز ہوئی اس نے اپنا وحشی سر اس کی طرف بڑھایا تھا کہ پیچھے سے اس بچی کو کسی نے دھکا دیا اور وہ بھیڑئیے کے پہنچ سے بہت دور جاگری۔۔۔
“امّی۔۔۔” اس کے حلق سے یہی۔آواز نکل سکی۔۔ شجیہ کا پورا جسم پسینے میں شرابور تھا وہ لمبے لمبے سانس لیتی سیدھی اٹھ بیٹھی۔۔
“کیا ہوا میری بچی۔۔ پھر کوئی خواب دیکھا؟” ذکیہ بیگم جو اس کے برابر بیڈ پر سوتی تھیں اس کے چیخنے سے اٹھ کر بیٹھیں۔۔ پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔۔
“دادو۔۔” وہ ان کے سینے سے لگی ہچکی سے رو رہی تھی خوف سے اس کے بدن میں لرزہ طاری تھا۔۔۔
“بس کردو میری بچی شجی یہ لو پانی پیو۔۔” وہ اسے پانی پلانے لگیں جسے وہ ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔۔۔
“دادو مجھے بچپن۔سے ایک ہی خواب کیوں آتا ہے دادو۔۔ مجھے لگتا ہے میرا خوفناک بچپن یہیں ٹہر گیا ہے۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے دادو وہ بھیڑیا ابھی بھی یہیں کہیں ہے۔۔” وہ چاروں۔طرف نظریں گھما کر خوف زدہ لہجے میں کہہ رہی تھی۔۔ ابھی تک وہ اسی خوفناک خواب کے زیر اثر تھی۔۔۔
“نہیں میرا بچہ کوئی بھی نہیں ہے یہاں آؤ سوجاؤ۔۔” وہ اس کا سر اپنی گود میں رکھے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتیں مسلسل اس پر دعا پڑھ کر دم کر رہی تھیں۔۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھی سکون آگیا تو وہ دوبارہ نیند کی وادی میں چلا گئی۔۔۔
“یا اللّہ میری بچی کی مشکلات دور کردے اسے کسی نیک انسان کے ہاتھ میں دےدے۔۔” ذکیہ بیگم کے لب مسلسل دعا کے لئیے ہل رہے تھے۔۔ اسی طرح ایک اور خوفناک رات کا اختتام ہوا۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: