Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 20

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 20

اس کے امتحان ہونے والے تھے وہ رار کے وقت سٹڈی روم میں اسائیمنٹ بنانے میں مصروف تھی۔۔
راہب کمرے میں موجود نہیں تھا۔۔۔
“پتا نہیں اتنی دیر ہوگئی ہے کبھی اتنی دیر سے روم میں آیا نہیں تھا۔۔
وہ سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔
اچانک وقت دیکھا تو رات کے بارہ بجنے والے تھےاچانک ہی لائٹ چلی گئی گئی۔۔
اور اندھیرا چھا گیا۔۔ وہ حیران ہوئی ایسا کبھی ہوا نہیں تھا۔۔۔
“ہوسکتا ہے کوئی پرابلم ہوگئی ہو۔۔”
وہ حیران سی سوچتی ہوئی موبائل کی روشنی میں کمرے میں آئی۔۔۔
بہت زیادہ اندھیرا تھا اسے خوف آرہا تھا۔۔۔
اچانک اس کا پیر کسی چیز سے ٹکرایا۔۔۔اور آواز آئی۔۔۔
اچانک ہی ہلکی مدھم روشنی آئی۔۔
“many many happy returns of the day my life….”
یہ سرگوشی راہب کی آواز تھی شجیہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ اس کے بہت قریب کھڑا تھا۔۔۔
شجیہ کو یاد آیا آج29 جنوری ہے یعنی اس کی پیدائش کا دن اور اسے یاد ہی نہیں تھا۔۔ یاد بھی کیسے ہوتا کبھی منایا ہی نہیں ہاں امی ابو جب تھے تو وہ سیلیبریٹ کرتے تھے۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔۔
“اوہ پلیز یہ رونا دھونا مت شروع کرنا۔۔”
راہب دور سے بھی سمجھ جاتا تھا کہ شجیہ کی آنکھوں میں نمی چمکی ہے۔۔۔
وہ قریب آیا اسے بازو سے تھام کر سامنے لایا جہاں ایک ٹیبیل رکھا تھا اور
اس میں خوبصورت سا دل کے شیپ میں کیک تھا۔۔۔
لال گلاب اور لال اور غبارے سے کمرہ سجا تھا جہاں شجیہ کی ساری تصویریں جگہ جگہ رکھی تھی اور ساتھ میں ایک گلاب رکھا تھا۔۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے خوشی سے ہر جگہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
ڈریسینگ ٹیبیل پر رکھی اس کی پیلے رنگ کے مایوں میں لی گئی تصویر ساتھ گلاب اور ایک کارڈ پڑا تھا جس پر شعر لکھا تھا۔۔۔
“تیری ظلفوں کے اسیر ہوئے
ہم کچھ اس طرح مرید ہوئے”
وہ مسکرا کر آگے بڑھی۔۔ سائیڈ ٹیبیل پر بھی ایسے ہی ایک تصویر اور گلاب کے ساتھ کارڈ پڑا تھا۔۔
“زندگی کی ڈھیڑوں خوشیاں ملے
کچھ اس طرح تمہارا یہ سال گزرے
مسکراہٹ نہ چہرے سے کبھی جدا ہو
غم سے نہ تمہارا کوئی واسطہ پڑے”
فلزہ ارشد
اسی طرح بیڈ پر دونوں تکئیے کے پاس پردے کے پاس جگہ جگہ اسے تصویر کے ساتھ کارڈ اور گلاب ملے۔۔۔
“راہب یہ سب کب کیا آپ نے۔۔”
وہ حیران سی خوشی سے بھر پور آواز میں بولی۔۔”
“راہب کی جان جب آپ چار گھنٹوں سے سٹڈی روم میں بند اسائیمنٹ بنانے میں مصروف تھیں۔۔۔”
وہ کھڑا دونوں ہاتھ سینے میں باندھے اس کی خوشی دیکھ کر خوش ہورہا تھا۔۔
“اب کیک کاٹیں۔۔”
وہ اسے بازو سے تھامے ٹیبیل کے پاس لایا۔۔
ٹبیل پر بھی ایک کارڈ اورگلاب کیک کے پاس رکھا تھا۔۔
“کاٹو۔۔” اسے چھری پکڑاتا وہ کہنے لگا۔۔۔
“آپ بھی۔۔” راہب کا ہاتھ تھامے اس نے کینڈیل بجھانے کے بعد کیک کاٹا۔۔۔
“سالگرہ مبارک ہو میری زندگی۔۔”
اس کے کان میں سرگوشی کرتا شجیہ کو خود سے قریب کیا۔۔۔
بلیک کلر کی فراک پہنے بال کا جوڑا بنائے اس کے دئیے ہوئے ڈائمنڈ کے ٹاپس پہنے وہ اس کو پاگل کر رہی تھی۔۔
“میرا گفٹ کہاں ہے؟” اس کی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی شجیہ نے اٹھلا کر اپنا گفٹ طلب کیا۔۔۔
“اوہ گفٹ بھی دیتے ہیں وہ تو میں بھول گیا۔۔۔”
“بھول گئے۔۔” وہ آبرو اچکاتی مصنوعی غصّہ دکھاتے بولی۔۔
راہب کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اس ے چہرے پر پڑتا گڑھا واضح ہوا۔۔۔
شجیہ کی نظریں اسکے گڑھے پر ٹک گئی۔۔
اس نے آہستہ سے اس کے گڑھے کو چھوا۔۔۔
راہب نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔
“جب یہ گڑھا گہرا ہوتا ہے ڈوب کے ابھرتا ہے تو مجھے لگتا ہے میرا دل بھی اس کے ساتھ ہی ڈوب رہا ہو۔۔۔”
آنکھوں میں محبت لئیے وہ اسے کہہ رہی تھی۔۔
راہب اسے دیکھتا رہ گیا اتنی محبت وہ اس سے کرتی ہے اسے آج محسوس ہوا۔۔
“اور مجھے تو تمہاری ہر ادا سے پیار ہے۔۔ میرا دل تو تمہاری ہر ہر ادا پر دھڑکتا ہے۔۔”
اسے خود سے مزید قریب کرتا وہ محبت بھرے لہجے میں کہتا بے خود ہوا۔۔۔
شجیہ کے دل کی دھڑکن مزید تیز ہوئی۔۔۔
اس کی پیشانی پر وہ جھکا اور اپنی محبت کا احساس بخش کر اسے پر سکون کر گیا۔۔۔
“ویسے یہ تحفہ کافی ہے نہ۔۔”
وہ اب اسے شرارت سے چھیڑ رہا تھا۔۔۔
“بلکل نہیں۔۔” وہ منہ چڑاتی بولی۔۔۔
“اچھا تو اب راہب کی جان کے لئیے محبت کافی نہیں ہے۔۔”
وہ اسے پھر چھیڑ رہا تھا۔۔۔
اس کا ہاتھ اب شجیہ کے بالوں کی طرف تھا۔۔۔
اس کے جوڑے کو آہستہ سے کھولا تو ریشمی بال کی آبشار کمر پر پھیل گئے۔۔۔
“اسے میرے سامنے کھول کر رکھا کرو راہب کی جان۔۔۔”
اب اس کے بالوں کو آگے کی طرف کرتا خمار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
شجیہ جھینپ گئی اور سرخ ہوتی وہ اس کا دھیان ہٹانے کی کوشش کرتی کہنے لگی۔۔۔
“آپ کو گفٹ نہیں دینا اسی لئیے بہانہ کر رہے ہیں۔۔۔”
وہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی نیچے دیکھتی بولی۔۔۔
راہب نے بے ساختہ قہقہ لگایا۔۔۔
“ہاہا راہب کی جان لگتا ہے تم بھی دوسری بیویوں کی طرح ہوتی جارہی ہو۔۔۔”
“دوسری بیویاں مطلب اور کتنی بیویاں ہیں آپ کی۔۔۔”
آنکھ نکال کر شجیہ نے غصّہ دکھاتے ہوئے کہا تو وہ اپنی انگلیوں پر گننے لگا۔۔۔
“ایک۔۔ دو۔۔ تین۔۔۔”
“راہب۔۔۔” ابھی وہ گن ہی رہا تھا جب شجیہ نے اس کے سینے پر ایک مکّہ رسید کیا۔۔
“ہائے ظالم بیوی۔۔۔”
وہ سینہ پکڑ کے مصنوعی تکلیف سے دہرا ہونے لگا۔۔
وہ اس سے بازو چھڑاتی مصنوعی غصّہ کر کے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
“میں نہیں کر رہی آپ سے بات جائیں باقی کی تین بیویوں کے پاس۔۔۔”
وہ منہ موڑتی بولی تو ہنستا ہوا راہب اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھا۔۔
“اوہ تو راہب کی جان جیلیس ہوتی ہیں۔۔۔” اس کا ہاتھ تھامے اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ شرارت سے گویا تھا۔۔۔
“یہ لو گفٹ۔۔”
اب وہ ایک باکس کھول رہا تھا جہاں خوبصورت سا ڈائمینڈ کا۔نیکلیس چمک رہا تھا۔۔
وہ اتنا حسین اور قیمتی تھا کہ شجیہ کی آنکھ چیندھیا گئیں۔۔۔
“اور یہ تو آج کا گفٹ ہے کل کا اسپیشیل گفٹ ابھی باقی ہے۔۔”
وہ مسکراتا ہوا اس کا لاک کھول رہا تھا۔۔۔
“اب وہ اس۔پر جھکا تھا اور اپنے ہاتھوں سے وہ۔نیکلیس بند کرتا شجیہ کے دل کو ایک بار پھر دھڑکا چکا تھا۔۔۔
اب بالوں کو پیچھے کرتا اسے اپنی محبت کا ایک بار پھر لمس بخشا وہ خود میں سمٹ گئی۔۔۔
“اب کونسا گفٹ ہے اتنا اچھا گفٹ تو دے دیا ہے۔۔ میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔ میرے لئیے آپ کا ساتھ ہی کافی ہے۔۔۔”
شجیہ کہتے ہوئے آگے آئی راہب نے اپنے دونوں بازو وا کئیے تا کہ وہ ان باہوں میں اسے سما سکے۔۔۔
شجیہ اس کے پاس آ کر ایک تحفظ کا احساس ہوا۔۔
راہب اس کی ادا پر مسکرا کر رہ گیا۔۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔
وہ اس کے سینے میں سر رکھے لیٹی تھی اور راہب نے بازو کی۔گرفت سے اسے اپنی پناہوں میں لیا تھا۔۔۔
“راہب۔۔”
نیند میں گھولی شجیہ کی آواز آئی۔۔
“جی راہب کی جان۔۔۔”
راہب نے اس کے بالوں پر اسی طرح ہاتھ چلاتے ہوئے پوچھا۔۔
“پانی پلادیں مجھے اٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا۔۔ “
منہ بنا کر اس نے لاڈ سے فرمائش کی تو راہب کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
سائیڈ ٹیبیل سے جگ سے گلاس میں پانی بھر کر اسے دیا۔۔
“تم کہو تو پلا بھی دوں۔۔”
“نہیں پی تو میں خود لونگی۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے پانی پینے لگی۔۔۔
“یہ گلاس بھی رکھ دیں۔۔۔”
ایک بار پھر لاڈ سے کہتی راہب کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔
“شجی ویسے میں ایک بات سوچ رہا تھا۔۔
وہ نیند میں جانے لگی تھی جب راہب نے پکارا۔۔
“جی کیا سوچ رہے تھے۔۔۔”
وہ نیند کی خماری میں گھولی آواز میں بولی نیند سے آنکھیں بند ہورہی تھی۔۔۔
“میں سوچ رہا تھا ہمارے بچے ہونگے تو میں پریشان ہوجاؤنگا۔۔۔”
“کیوں۔۔” راہب کی بات پر اس کی پوری آنکھیں کھل گئی نیند غائب ہوگئی تھی۔۔۔
“کیونکہ تمہارے لاڈ بھی تو بچوں کی طرح اٹھانا پڑتا ہے بچے جیلیس ہوجائیں گے تم سے کہ بابا کو تو ماما سے ہی فرصت نہیں۔۔۔”
راہب نے مستقبل کا نقشہ کھینچا تو شجیہ کو بھی ہنسی آگئی۔۔
“تو کس نے کہا آپ میرے لاڈ اٹھائیں۔۔”
رخ موڑتی مصنوعی خفگی دکھانے لگی۔۔۔
“ہاہا راہب کی جان آپ کے لاڈ تو میں زندگی بھر خوشی سے اٹھا سکتا ہوں ایک ہی تو بیوی ہے میری۔۔۔”
راہب نے بازو کی گرفت تنگ کرتے ہوئے کہا تو شجیہ کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔۔
راہب کو بھی ہنسی آگئی۔۔۔
صبح آج وہ یونی گئی تو عائزہ سمیت کچھ دوستوں نے اسے سرپرائز برتھ ڈے سیلیبیریٹ کیا۔۔
کینٹین میں۔بیٹھی وہ کیک کاٹتی ہنستی مسکراتی شجیہ کچھ سالوں پرانی والی شجیہ۔بلکل نہیں رہی تھی۔۔۔
راہب نے اسے دور سے دیکھا۔۔ شجیہ کو اس طرح پر اعتماد دیکھنے کی کتنی خواہش تھی اس کی اور آج یہ خواہش حقیقت بن کر اس کے سامنے تھی۔۔
وہ گھر آئی تو مریم نے اسے اوپر کمرے میں بھیج دیا۔۔
” شام سے پہلے آنا نہیں ہے آپ نے۔۔”
مریم نے سخت دھمکی دی تو وہ کمرے میں ہی تھی۔۔
“افف کیا مسلئہ ہے۔۔”
وہ کمرے میں پریشان ہوگئی تھی۔۔
راہب بھی آفس جا چکا تھا اگر آیا بھی تو کمرے میں نہیں تھا۔۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ راہب اندر آیا اس کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھے۔۔۔
“جلدی سے یہ پہن کر آؤ اور فوراً تیار ہو کر آؤ۔۔”
راہب نے حکم دیا تو وہ شاپنگ بیگ لے کر ڈریسینگ روم میں چلی گئی۔۔۔
مہرون کلر کی خوبصورت کام دار فراک پہنے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔۔۔
راہب آگے آیا اس نے ہمیشہ کی طرح اس کے بال کھولے۔۔۔
اس کی تیاری میں وہ پہلے دن کی طرح مدد کروارہا تھا جب شجیہ کو کچھ نہیں آتا تھا۔۔۔
شجیہ نے آئی لائنر لگایا تو اس کی آنکھوں میں ٹیڑھا لگ گیا۔۔۔”
ابھی بھی اسے صحیح سے یہ سب کرنے نہیں آیا تھا۔۔۔
اس کی آنکھوں کو دیکھ کر دونوں کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔
راہب نے آئی لائنر اٹھا کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تو شجیہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
“راہب میں کوشش کرتی ہوں دوبارہ۔۔”
شجیہ ہنستی ہوئی بولی۔۔۔
“مجھے تو اچھا لگے گا میں خود اپنی وائف کو تیار کرونگا۔۔۔
راہب نے آئی لائنر لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ویسے آپ کو یہ سب کیسے آتا ہے۔۔۔”
شجیہ آنکھیں بند کئیے راہب سے آئی لائینر لگواتی پوچھ رہی تھی۔۔۔
“ہاہا مجھے پتا تھا کہ میری وائف کیسی آنے والی ہے تب ہی مجھے آتا ہے۔۔۔”
وہ دونوں اب نیچے پہنچ چکے تھے جس کو۔ اچھی۔ طرح سے۔ ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔۔۔
وہ جیسے ہی نیچے گئی کچھ پھول اس کے اوپر گرے مریم نے اسپرے کیا پھولوں کی بارش اس کے اوپر ہوگئی۔۔۔
“Happy brth day”
دائم۔عائزہ اور نائلہ بیگم بھی موجود تھے لائبہ اور احمد بھی مسکراتے ہوئے اسے وش کر رہے تھے۔۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی سب کی محبت وصول کر رہی تھی۔۔
آنکھوں میں نمی تھی۔۔
جن محبتوں کے لئیے وہ زندگی بھر ترسی ہے آج اسے سود کے ساتھ ملی تھی۔۔۔
کیک کاٹنے کے بعد سب نے گفٹ دئیے تو مریم نے راہب کو پکارا۔۔
“بھائی آپ کا گفٹ۔۔”
“یہ لو اور میرا گفٹ ابھی کھولو۔۔ “
راہب نے ایک پیکیٹ شجیہ کو دیا سب ہی حیران ہوئے۔۔۔
شجیہ نے پیکیٹ کھولنا شروع کیا سب کی نظریں وہیں تھی۔۔۔
وہ ایک کتاب تھی۔۔ جس کاعنوان تھا جو تو میرا ہمدرد ہے۔۔۔”
اور مصنفہ کا نام شجیہ راہب لکھا تھا۔۔۔
سب کو حیرت ہوئی اور شجیہ اس کو تو خوشی سے کچھ کہا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔
“یہ آپ نے کب کیا راہب۔۔”
وہ اس کے سارے مسودے اکھٹے کر کے ایک کتاب پبلش کروا چکا تھا۔۔
جو شجیہ لکھتی تھی وہ اسے کتابی شکل میں کروا کر آج اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔۔
احمد صاحب بھی خوش ہوئے کہ وہ رباب کی وجہ سے اسے نالائق سمجھتے تھے وہ تو اتنی زہین نکلی۔۔۔
“واہ میری بھابھی تو مصنفہ بن گئیں۔۔۔”
سب نے اسے مبارک باد دی وہ بار بار کتاب میں لکھے اپنے نام پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔
رواں رواں رب کا۔شکر گزار تھا۔۔۔
آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے ۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: