Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 21

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 21

شجیہ کی دو دن سے طبیعت بہت عجیب سی ہورہی تھی۔۔
وہ خود پریشان تھی۔۔ آج بھی صبح یونی جانے کے لئیے اٹھنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔۔۔
اور یہ پہلی بار تھا۔۔ راہب اٹھ چکا تھا۔۔۔ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔۔
وہ بیڈ پر آنکھیں بند کئیے لیٹی تھی جب راہب واش روم سے باہر آیا۔۔
“شجی یونی نہیں جانا ہے۔۔”
اس کی پیشانی پر اپنی محبت کا لمس دیتا وہ اسے اٹھا رہا تھا۔۔
شجیہ نے آنکھیں کھول کر اسے مسکرا کر دیکھا۔۔۔
“اٹھی ہوئی تھی بس لاڈ اٹھوانے کے لئیے جان کر آنکھیں بند تھیں۔۔”
وہ مصنوعی ڈانٹ کر پیار سے بولتا ہوا ڈریسینگ ٹیبیل کی طرف مڑا۔۔
“بلکل جب تک آپ لاڈ سے نہیں اٹھائیں گے میری صبح کیسے ہوسکتی ہے۔۔۔”
وہ آئینے میں اس کا عکس دیکھتی بولی جو اب بالوں میں برش کر رہا تھا۔۔۔
“اب لاڈ اٹھوالیا ہے تو اٹھ جائیں بیگم صاحبہ کیونکہ جب یہ ہزبینڈ ٹیچر کے روپ میں ہوتا ہے تو بہت سخت ہوتا ہے۔۔۔”
راہب اپنی شرٹ کے بٹن لگاتا شرارت سے اسے چھیڑ رہا تھا۔۔
“ہاں تب یہ ہزبینڈ جن کے روپ میں ہوتا ہے۔۔”
شجیہ نے جل کر کہا تو راہب کا قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔
“آج دل نہیں چاہ رہا یونی جانے کا طبیعت میں بہت سستی ہورہی ہے”
شجیہ نے کاہلی سے کہا تو راہب جلدی سے آگے آیا۔۔۔
“کیا ہوا ہے؟ اتنی دیر سے باتیں بنارہی ہو پہلے نہیں بتاسکتی تھی۔۔۔”
راہب تفکر بھرے لہجے سے کہتا اس کے قریب آیا۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا بس طبیعت میں بوجھل پن ہے۔۔۔”
تو اٹھو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔”
راہب اس کو بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے راہب آپ تو جائیں۔۔۔”
شجیہ نہیں چاہتی تھی اس کی وجہ سے وہ پریشان ہو۔۔۔
“واہ تمہیں بیمار چھوڑ کر چلا جاؤں۔۔۔ اٹھو اب فوراً اور تم سے مشورہ نہیں مانگا۔۔۔ اسی لئیے خاموشی سے تیار ہو۔۔۔”
راہب نے تحکم بھرے لہجے میں کہا تو وہ منہ بناتی اٹھ کر تیار ہونے لگی۔۔۔۔
وہ دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ کو she is pregnant “
ڈاکٹر کی اس بات پر راہب کا دل خوشی سے۔بلیوں۔اچھلنے لگا۔۔
بہت انتظار تھا اسے اس وقت کا۔۔۔ بہت خواہش تھی کہ اس کی فیملی مکمل ہو اور آج وہ دن بھی آگیا تھا۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا وہ شجیہ کو اتنی بڑی خوشی دینے پر باہوں میں لے۔۔
اپنی اس خواہش پر اسے ہنسی آگئی۔۔۔
شجیہ کی نظریں نیچے جھک چکی تھی۔۔۔ شرم سے وہ سرخ ہورہی تھی۔۔۔
“بہت خیال رکھنا ہے آپ کو اپنا اور منتھلی چیک اپ لازمی کروانا ہے۔۔”
ڈاکٹر کے مختلف ہدایت کے بعد وپ دونوں واپسی کے لئیے کھڑے ہوگئے۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی راہب نے مسکراتے ہوئے شجیہ کو دیکھا جو اس خبر کو سننے کے بعد ہی گلنار ہورہی تھی۔۔۔
“بہت بہت شکریہ راہب کی جان مجھے اتنا بڑا تحفہ دینے کے لئیے۔۔۔”
محبت سے راہب نے اس کے گود میں رکھے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔
شجیہ نے جھینپ کر اسے دیکھا۔۔ ماں بننے کا احساس ہی اس کے چہرے پر روشنی بکھیر رہا تھا۔۔۔
راہب ڈرائیو کرتے ہوئے ہی اس کے ماتھے پر جھک کر محبت کی مہر رکھ چکا تھا۔۔
“جگہ تو دیکھا کریں راہب کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔”
وہ جھینپتی ہوئی خفگی سے بولی۔۔۔
“تم نے خبر ہی ایسی دی ہے کہ مجھے جذبات پر قابو پانا مشکل ہورہا ہے۔۔”
اب اس کو ہاتھوں کو لے کر اپنے لبوں سے لگایا تھا۔۔۔
اور محبت بھری آنکھیں بار بار شجیہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔
گھر میں اس خبر نے سب کے چہرے پر خوشی بھر دی تھی۔۔۔
احمد صاحب نے اپنے پوتے پوتی کی آمد میں اس کے لئیے ابھی سے کمرہ تیار کروانا شروع کردیا تھا۔۔
لائبہ بیگم بھی بہت خوش تھیں اور مریم کی شادی کی شاپنگ کرتے ہوئے وہ چھوٹے بچوں کی بھی ڈھیر ساری چیزیں لے آتیں۔۔
شجیہ ان سب کی محبتوں پر حیران بھی تھی اور خوش بھی تھی۔۔
اسے اللّہ نے اس کی توقع سے بڑھ کر خوشی نواز دی تھی۔۔
مریم بھی بہت خوش تھی کہ وہ پھپھو بننے والی ہے لیکن اسے اس بات کا افسوس تھا کہ تب تک وہ اس گھر سے جا چکی ہوگی۔۔۔
“بھابھی میں تو نہیں رہونگی تب تک گھر پر۔۔۔
کتنا شوق تھا مجھے اپنے بھتیجے بھتیجی سے کھیلنے کا۔۔۔”
مریم نے روہانسی شکل بنا کر کہا۔۔
تو شجیہ اور پاس بیٹھی لائبہ کے
چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
“تو تم روز یہاں آجانا دائم منع تو نہیں کرے گا۔۔ اور پھر تمہارے خود کے بچے ہوجائیں گے تو کونسا تمہیں فرصت ملے گی۔۔۔”
شجیہ نے پیار سے اس کی ٹھوری کو چھوتے ہوئے کہا تو مریم جھینپ گئی۔۔۔۔
شجیہ کے امتحان شروع ہوچکے تھے۔۔
“راہب یونی جانے میں اتنا عجیب لگتا ہے بس جلدی سے ایگزام ختم ہوں۔۔”
شجیہ بیڈ ہر بیٹھی جوس پی رہی تھی۔۔
راہب سامنے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ مصروف تھا۔۔۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔
“محترمہ ابھی شروعات ہے اور آپ کو عجیب سے لگ رہا ہے۔۔۔”
راہب کے شرارت سے کہنے پر شجیہ نے پاس پڑا کشن اس کے اوپر پھینکا۔۔۔
تو راہب کا بھاری قہقہ فضا میں گونجا۔۔
“اور اوپر سے مریم کی شادی بھی آرہی ہے میں صحیح سے ڈریسینگ بھی نہیں کرسکونگی۔۔۔”
شجیہ کو ایک اور دکھ ستانے لگا۔۔۔
راہب اس کے نئے دکھڑے پر کھل کر مسکرایا۔۔
اب وہ لیپ ٹاپ بند کرتا اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
“شجی اگر تم نے آئینہ نہیں دیکھا ہے تو دیکھ لو۔۔ ایک مہینہ ہی ہوا ہے ابھی تم ہر طرح کی ڈریسینگ کرسکتی ہو پگلی ۔۔۔”
اس کی بات پر شجیہ منہ بنا کر بیٹھ گئی ہاں ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ۔۔۔
مگر شجیہ کو آج کل عجیب و غریب فکر ستاتی رہتی۔۔۔
راہب اب صوفے سے اٹھ کر اس کے سامنے آیا۔۔۔
“راہب کی جان اب زرا پڑھائی پر بھی دھیان دیں لاسٹ سیمیسٹر ہے آپ کا۔۔۔
اب جلدی سے پڑھ لو دل لگا کر سمجھی۔۔۔”
وہ اب قریب آ کر ہمیشہ کی طرح اس کے سر ہر ناک کرتا ہوا بولا۔۔۔
شجیہ کے ہاتھ سے خالی جوس کا گلاس رکھا اور کتاب پکڑاتا ہوا وہ واش روم میں چلا گیا۔۔۔
شجیہ منہ بناتی پڑھائی میں مصروف ہوگئی۔۔۔
گھر میں شادی کے ہنگامے شروع ہوچکے تھے۔۔۔
“آج مریم اور دائم کا نکاح تھا وہ مریم احمد سے مریم دائم بن چکی تھی۔۔
رخصتی دو دن بعد تھی۔۔
مریم نے دائم کو صرف ایک دو بار دیکھا تھا۔۔
اور بات بھی یوں ہی راہ چلتے ہوئے تھی۔۔ دائم کی آنکھوں میں اپنے لئیے محبت دیکھ چکی تھی۔۔۔
مگر دائم کو صحیح سے جانتی نہیں تھی۔۔ اسی لئیے گھبراہٹ فطرتی تھی۔۔۔
دائم کی بولتی آنکھیں اس کے چہرے کے سامنے لہرائی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔
وہ کروٹ لے کر سونے کی کوشش کرنے لگی جب مریم کا فون بج اٹھا۔۔
نمبر دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوئی۔۔ رنگ بجتے بجتے بند ہوگئی۔۔
وہ دوبارہ آنکھ بند کرنے لگی کہ ایک بار پھر بیل بجی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔”
نیند میں گھلی آواز سے مریم نے کہا تو مقابل اس آواز پر جی جان سے فدا ہوا۔۔۔
“مجھے نہیں پتا تھا یہ سریلی آواز نیند میں مزید خوبصورت ہوجاتی ہے۔۔”
بھاری آواز میں۔قہقے کے ساتھ کی گئی بات پر مریم پریشان ہوئی۔۔
“آپ کون۔۔”
مریم نے گھبرا کر پوچھا تو ایک بار پھر فون کے اس پار
قہقہ گونجا۔۔
“ایک دن کے شوہر کو بھول گئیں آپ بہت افسوس ہوا۔۔۔”
دائم نے جیسے افسوس کرتے ہوئےکہا تو مریم چونکی۔۔۔
“اوہ آپ جی خیریت کال کی۔۔۔”
مریم نے جلدی سے بات بدلی اور وقت دیکھا۔۔۔
“کیوں اپنی بیوی کو کسی وجہ سے کال کرنی پڑے گی؟”
دائم نے مسکراتے لہجے میں کہا۔۔
“نن۔۔ نہیں میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔”
مریم نے گڑبڑا کر کہا کہیں مقابل کو برا نہ لگ جائے نیا نیا رشتہ بنا تھا۔۔ وہ کنفیوز ہورہی تھی۔۔۔
“اچھا تو مطلب نئے نئے شوہر کا کال کرنا اچھا لگا پھر آپ کو؟”
اب وہ اس سے کچھ اگلوانے کی کوشش میں ایسا سوال کر رہا تھا۔۔
وہ تصور میں مریم کا گھبرایا ہوا چہرہ سوچ رہا تھا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
“افف۔۔ کہاں پھنس گئی میں۔۔۔”
مریم بری طرح جھنجلائی۔۔۔
“آپ کو نیند نہیں آرہی؟”
وہ جواب دینے کے بجائے الٹا اس سے سوال کرتی دائم کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گئی۔۔۔
“اس سوال کا مطلب ہے کہ آپ کو نیند آرہی ہے۔۔ “
دائم نے قہقہ لگاتے ہوئے بلکل صحیح اندازہ لگایا تو مریم جھینپ گئی۔۔۔
“چلیں کوئی بات نہیں دو دن بعد تو آپ کو بلکل بھی سونے نہیں دونگا۔۔ اسی لئیے آج نیند پوری کر لیں۔۔ اللّہ حافظ۔۔۔۔۔”
دائم نے معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے کال بند کی تو مریم اس بےباکی سے کی گئی بات پر گھبراگئی۔۔
ہاتھوں میں پسینے آگئے۔۔۔
“افف۔۔۔”
اس کی باتوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے وہ جھرجھری لیتی سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
نیند میں جانے سے پہلے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔۔۔
آج مریم کی بارات کا دن تھا۔۔۔
مریم مہرون کلر کے لہنگے میں حسین لگ رہی تھی تو دائم بھی بلیک شیروانی میں غضب ڈھا رہا تھا۔۔۔
شجیہ کو راہب اب تک نظر نہیں آیا تھا پتا نہیں وہ کہاں تھا۔۔۔
ادھر ادھر نظر دوڑاتی وہ راہب کو دیکھ رہی تھی۔۔
شجیہ نے مہرون کلر کی شرٹ اور فان کلر کا خوبصورت غرارا پہنا تھا۔۔۔
اور ہلکے میک اپ کے ساتھ میچینگ جیولری پہنے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔۔۔
“بیٹا راہب کو دیکھا ہے تم نے ؟”
وہ سٹیج سے اتر رہی تھی جب لائبہ بیگم نے اس سے ہوچھا۔۔۔
“نہیں ماما میں نے بھی کافی دیر سے نہیں دیکھا۔۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔۔”
وہ پریشان سی ڈریسینگ روم کی طرف ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا وہ چیخنے والی تھی کہ مقابل اس کے منہ میں ہاتھ رکھ کر کھینچ کر ڈریسینگ روم میں لے گیا۔۔۔
“راہب۔۔۔” اندر آ کر اس نے راہب کو دیکھا تو اس کے دل کی رفتار نارمل ہوئی۔۔۔
“مجھے ایسا لگ رہا ہے آج میں ایک بار پھر تمہاری محبت کا شکار ہوچکا ہوں۔۔۔”
دونوں ہاتھ شجیہ کے اطراف میں دیوار پر رکھے اس کے جانے کے تمام راستے مستود کئیے اس کے چہرے کو اپنے حصار میں لیتے کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ کے چہرہ گلنار ہوا۔۔۔ ہر دفعہ وہ اس کی محبت میں اسی طرح سرخ ہوجاتی تھی۔۔
“تمہارے ہاتھوں کو اس کی ضرورت ہے۔۔۔”
اس کے ہاتھوں پر گلاب کے کنگن پہناتا ہوا اسکے بالوں کی لٹوں کو پیار سے کھینچا۔۔۔
آج شجیہ نے بالوں کو کھول کر رکھا تھا۔۔۔
اب وہ اس پر جھکتا اپنی محبت کا احساس بخش کر پیچھے ہوا۔۔۔
“راہب باہر چلیں سب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔”
شجیہ اس کی محبت کے حصار سے نکل کر خود پر قابو پاتے ہوئے بولی۔۔۔
“چلو۔۔”
راہب اس کا ہاتھ تھامے باہر نکل آیا۔۔
سب کی دعا میں مریم رخصت ہوئی۔۔۔
آج کی خوبصورت تقریب کا اختتام ہوا۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: