Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 3

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 3

راہب کو شجیہ کو پڑھاتے ہوئے مہینہ ہوچکا تھا۔۔ اب وہ اس سے بہت نرم لہجے میں بات کرتا تھا کیونکہ وہ۔اونچی آواز۔سے بھی ڈر جاتی تھی۔۔
مگر اب راہب کے حوصلہ کن جملے اور نرم لہجے کی وجہ سے اس کی گھبراہٹ میں کمی آرہی تھی۔۔ مگر راہب کو اس کو جاننے کے تجسس میں اضافہ ہوچکا تھا۔۔
ذکیہ بیگم سے پوچھنے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی اسے ٹال دیا۔۔
شجیہ کے امتحان قریب تھے اب وہ اسے زیادہ وقت دینے لگا تھا یہی بات رباب کو زیادہ کھٹک رہی تھی۔۔۔
راہب آج یونی لیکچر دے کر نکل ہی رہا تھا کہ اس کے پاس رباب کی کال آگئی۔۔۔
“ہیلو۔۔” وہ فون کان سے لگاتا اپنی کار میں بیٹھنے لگا۔۔۔
“راہب کتنے مہینے ہوگئے ہمیں ساتھ کہیں بھی گئے ہوئے؟” اس کے سوال پر وہ سوچ میں پڑگیا۔۔
“پتا نہیں یار ابھی میں تھوڑا بزی ہوں۔شجیہ کے ایگزام کے بعد پلان کرتے ہیں۔۔” اس نے عام سے لہجے میں کہا کیونکہ وہ ذکیہ بیگم کے کہنے پر اسے بہت وقت دے رہا تھا وہ۔دونوں چاہتے تھے کے وہ پاس۔ہوجائے تا کہ یونیورسٹی میں اس کا ایڈمیشن ہوجائے۔۔
“تمہارے ایگزام ہے ہا شجیہ کے۔۔ میں کچھ نہیں۔سنونگی آج ہم باہر ڈنر کریں گے نو ایسکیوز اوکے۔۔” رباب حکم دے کر کال کاٹ چکی تھی۔۔ راہب سٹیرینگ پر مکّہ مار کر رہ گیا اسے رباب کی ہٹ دھرمی زہر لگتی تھی مگر مجبوری یہ تھی کہ وہ ڈیڈ کی لاڈلی تھی اسے کچھ کہنا خود پر آفت لانا تھا۔۔۔
وہ غصّہ ٹھنڈا کرتا گاڑی چلا رہا تھا مگر دماغ ابھی تک رباب کی بات پر گرم تھا راہب کی عادت نہیں تھی کسی کی بھی سننے کی وہ ایک نرم دل انسان تھا مگر ان سب کے باوجود وہ کسی کا حکم سننے کا عادی نہیں تھا وہ۔وہی کرتا جو اس کا دل چاہتا اس میں تو وہ احمد لاشاری کی بھی نہیں سنتا مگر رباب ہمیشہ اس پر حکم چلا کر اسے غصّہ دلاتی اور ڈیڈ وہ سوچنے لگا ڈیڈ اس کی زندگی میں رباب کو شامل کرنا چاہتے تھے پتا نہیں اس کی زندگی کیسے گزرے گی اس کے ساتھ۔۔۔
وہ اسی سوچ کے ساتھ گھر پہنچا۔۔
شجیہ آج کتابیں لے کر بیٹھی راہب کا انتظار کر رہی تھی کہ۔رباب آئی۔۔
“بند کرو یہ کتابیں۔آج راہب نہیں آئے گا۔۔” تحکم بھرے لہجے میں کہتی وہ بیڈ پر بیٹھی ارد گرد کا جائزہ لینے لگی۔۔ لہجے میں لاپروائی تھی۔۔
شجیہ نے اس کی بات پر نظر اٹھا کر دیکھا۔۔ پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ کیوں نہیں آئے گا۔۔ اور کتابیں اٹھا کر واپس رکھ دی۔۔
“تم اتنی عجیب مخلوق کیوں ہو یار۔۔”
رباب جھنجلائی۔اسے خاموش دیکھ کر لپ سٹک سے سجے ہونٹ کو وہ گولائی میں کر کے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
جب کہ شجیہ نے اپنی خالی آنکھیں اس کی جانب دیکھی پھر جھکالی۔۔
“پتا نہیں۔۔”
دو لفظی جواب دے کر اب وہ برابر بنے کمرے میں جانے لگی۔۔
“اوہ ایسکیوزمی میں آپ کے کمرے میں بیٹھی ہوں۔اور آپ کہاں جارہی ہیں۔۔”
رباب اپنے تحکم بھرے لہجے میں مخاطب تھی۔۔
شجیہ کا دل دھڑکنے لگا۔
“پتا نہیں اب کیا غلطی کی ہے اس نے یا کوئی کام پڑگیا ہے پھر اس سے۔۔”
شجیہ نے ذکیہ بیگم کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ اس وقت برابر کمرے میں نماز پڑھ رہی تھیں۔۔
اب اس بلا کو اسے اکیلے ہی جھیلنا تھا۔۔
“جی کہیں کیا ہوا۔۔” گھبرا کر اس نے پوچھا۔۔
دل بہت گھبرا رہا تھا اسے ابھی پڑھنا تھا اگر رباب کو ئی کام کہتی تو وہ آدھے گھنٹے سے پہلے فارغ نہیں ہوتی اور پھر فاضل بھی وہیں ہوتا اور اس کی نظریں شجیہ کے اندر آگ لگادیتی وہ نظریں اسے بہت پیچھے لے جاتی اسے اس بھیڑئیے کی یاد دلادیتی۔۔۔
“کہاں کھوگئی ہو بھئی۔۔”
رباب نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔ تو وہ ہوش میں آئی۔۔
“تمہیں کہاں پڑھاتا ہے راہب؟”
“اسی روم میں”
شجیہ نے ناسمجھی سے جواب دیا۔۔
“اوکے۔۔” اور گرینی کے سامنے تو نہیں پڑھاتا ہوگا نہ ان کی تو عبادت کا وقت ہوتا ہے یہ۔۔” وہ آنکھوں کو گھماتی اندازے لگاتی اس سے سچ اگلوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“نہیں۔دادو یہیں ہوتی ہیں اکیلے نہیں پڑھا جاتا مجھ سے۔۔”
شجیہ اس کے تفتیشی سوال پر الجھ گئی تھی۔۔ وہ مخصوص دھیمی آواز میں۔فرمان برداری۔سے جواب۔دے رہی تھی۔۔۔ اسے ایسے ہی رباب سے ڈر لگتا تھا کہ جب اسے غصّہ آتا تھا تو۔شجیہ اس کے عتاب سے نہیں۔بچتی تھی۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔ اور پڑھائی کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتا جیسے تم سے کوئی سوال نہیں کرتا؟۔۔”
کافی مطعین ہونے کے بعد پھر ایک سوال داغا۔۔
شجیہ اس کے نرم لہجے پر ہی غور کر رہی تھی۔۔ شجیہ کا دماغ اس کی بات سمجھنے سے عاری تھا۔۔۔
“نہیں کوئی اور بات کیا مجھے ڈر لگتا ہے اجنبیوں سے آپ کو پتا ہے۔۔” شجیہ نے سادگی سے جواب دیا۔۔
“ہمم اجنبی کیا تم تو فاضل سے اور ارسل سے بھی کانپ جاتی ہو بلکہ ابھی دیکھو اپنا چہری مجھ سے بات کرتے ہوئے سفید ہوگیا ہے۔۔”
رباب طنزیہ ہنسی ہنستی ہوئی کھڑی ہوگئی۔۔ اس کا کام ہوگیا تھا۔۔
شجیہ کی آنکھوں میں پانی تیر گیا۔۔
پتا نہیں وہ اتنی ڈرپوک اور بزدل کیوں تھی۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
اسی سوچ میں وہ ڈوبی تھی کہ۔اس آواز پر دونوں اچھلیں۔۔
شجیہ کے چہرے پر الجھن اور حیرت تھی تو رباب کے چہرے پر غصّہ اور خوف بھی کہ اس نے کوئی باتیں تو نہیں سن لی۔۔
“تم۔۔ تم کب آئے؟” ہمیں ڈنر پر جانا تھا پھر تم پڑھانے کیوں آئے؟”
رباب کے لہجے میں غصّہ تھا۔۔
“مس رباب میں آپ کے حکم کا غلام نہیں ہوں ہم ڈنر پر تب ہی جائیں گے جب میں ڈیسائیڈ کرونگا۔۔۔”
وہ دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے اپنے مخصوص رعب دار لہجے میں کہتا وہاں رکھی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔
“شجیہ آپ کھڑی کیا کر رہی ہیں جلدی سے کتاب لے کر آئیں۔۔” اب اس کا رخ شجیہ کی جانب ہوا تو جلدی سے کتاب لے کر اس کے سامنے رکھی کرسی میں بیٹھ گئی۔۔
رباب کا چہرہ غصّہ اور اہانت کے احساس سے سرخ ہوچکا تھا۔۔
وہ اس کے وجیہ چہرے کو دیکھ رہی تھی پھر بغیر کچھ جواب دیئیے وہ پیر پٹختی وہاں۔سے چلی گئی۔۔
اور وہ اسے پڑھانے میں مصروف ہوگیا تھوڑی دیر میں ذکیہ بیگم بھی وہیں آگئیں۔۔
“رباب تم سے جب سوالات کر رہی تھی تو تم اسے جواب کیوں دے رہی تھی؟”
پڑھانے کے بعد راہب کے منہ سے غیر متوقع سوال سن کر شجیہ نے حیرت سے اس کی شکل دیکھی۔۔۔
“اتنی حیرت سے مت دیکھو میں کافی دیر۔سے باہر کھڑا تھا۔۔ اور تمہیں کسی نے بتایا نہیں تم اس طرح آنکھیں نکال کے دیکھتی ہو تو کتنی مضحکہ خیز لگتی ہو۔۔” راہب نے بڑے مزے سے کہا تو شجیہ سٹپٹا گئی اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس پر کیا رد عمل کرے۔۔
جب کہ زکیہ بیگم جو۔بیڈ پر تسبیح پڑھ رہی تھیں اس کی بات سن کر مسکرادیں۔۔
وہ جان کر اس طرح کی بات کر کے اسے بات کرنے میں اکساتا مگر وہ خاموش ہوجاتی۔۔
آج بھی اس کی بات پر خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔ پتا نہیں یہ ایسی کیوں تھی راہب کو لگتا وہ پتھر سے سر ٹکرا رہا ہے۔۔۔
“تم نے بتایا نہیں؟” وہ کتاب سمیٹ رہی تھی پھر سوال آیا۔۔۔
“جی؟” وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“یہی کہ تم اتنی باتوں کا جواب کیوں دے رہی تھی اسے؟ تم پابند نہیں ہو کسی کے بھی سوال کے جواب دینے کی۔۔ سمجھی۔۔”
وہ اس کے سر پر ہلکا سا بجاتا ہوا بولا۔۔
جب کہ وہ۔حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی پھر ہمت کر کے اس کے لبوں سے آواز نکلی۔۔
“میں جواب نہیں دے سکتی۔۔” ڈر ڈر کر اسنے یہی جواب دیا۔۔۔
“کیوں؟”شاید راہب بھی آج جرح کے موڈ میں تھا۔۔
“مم۔۔مجھے ڈر لگتا ہے۔۔” شجیہ نے اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کو مزید پھیلا کر کہا۔۔
“واٹ!! آر یو سیریس؟” تم ڈرتی ہو رباب سے۔۔” وہ۔انسان ہے یا چڑیل۔۔ کیا تمہیں کھا جائے گی وہ۔۔؟”
راہب کو پہلے حیرت اور پھر ہنسی آئی اس کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔ گردن پیچھے کئیے وہ مسلسل ہنس رہا تھا دائیں گال پر پڑنے والا گڑھا مزید گہرا ہوا۔۔۔
شجیہ نا سمجھی سے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“پلیز اب ایسے مت دیکھنا۔۔” راہب نے ہنسی کے درمیان ہی۔اسے ٹوکا تو شجیہ نے۔گھبرا کر منہ ٹھیک کیا اسے راہب کی باتیں آج سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔ شروع میں تو وہ بہت۔سنجیدگی سے ہی پڑھا رہا تھا مگر آج اسے کیا ہوا تھا۔۔ذکیہ بیگم بھی وہیں بیٹھیں تھیں۔اور کچھ نہیں کہہ رہی تھیں۔۔
جب کہ راہب وہ تو۔جیسے ان کو۔فراموش کر چکا تھا۔۔۔
“دیکھو شجیہ یہ۔دنیا ہے اور یہاں۔کے انسان بہت ظالم ہیں۔اگر ہمیں۔ان کے ساتھ رہنا ہے تو ان کی طرح بننا پڑے گا۔۔ جس طرح تم ہو میں تو بہت حیران ہوتا ہوں۔تمہیں دیکھ کر کیسے۔سروائیو کروگی لڑکی۔۔”
وہ اب نرم انداز میں اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
“بہت سارے بچے ہیں جن کے پیرینٹس نہیں ہیں لیکن کیا سب ایسے ہی ہیں۔۔؟
راہب کے سوال پر شجیہ نے اس کی طرف دیکھا اور نفی میں گردن ہلائی۔۔۔
“تو پھر تم کیوں ہو ایسی؟ ابرو اچکا کر وہ۔اس سے۔سوال کر رہا تھا۔۔
اور شجیہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیا بتاتی اس کا بچپن جیسا۔گزرا ہے۔شاید ہی۔کسی۔کا گزرا ہو۔۔۔
“حالات سے مقابلا کرنا سیکھو لڑکی۔زندگی ابھی شروع ہوئی ہے تمہاری۔۔” وہ اس کی حالت سے بے خبر کسی بڑے کی طرح سمجھا رہا تھا۔۔
شجیہ کو سمجھ میں آیا یا نہیں مگر وہ خاموش لب کچلتی اسے سن رہی تھی۔۔
“اچھا گرینی اب میں چلتا ہوں۔۔”
شجیہ کے۔دوسرے کمرے میں جاتے ہی وہ اب ذکیہ بیگم سے اجازت مانگ رہا تھا۔۔
“بیٹا مجھےبہت خوشی ہوئی جس طرح تم نے شجی کو آج سمجھایا کوئی اپنا ہی سمجھا جاسکتا ہے۔۔میں بوڑھی اس کا صحیح سہارا نہیں بن سکی الٹا اسے اور کمزور بنادیا ہے۔۔
“پتا نہیں میرے بعد کیا ہوگا اب صرف یہی سوچ ستاتی ہے۔۔” ذکیہ بیگم واقعی اس کے لئیے پریشان تھیں۔۔
“آپ فکر نہیں کریں ٹھیک کردونگا میں اپنے student کو ہینڈیل کرنا آتا ہے مجھے۔۔” وہ اپنے مخصوص لہجے میں مسکراتا ہوا ان کو کہتا باہر نکل گیا۔۔
آج وہ آفس سے گھر آیا تو ایک نیا ہی باب کھلا ہوا تھا۔۔
“ارے بھائی آپ کا ہی تو انتظار ہے۔۔”
مریم چیخی تو راہب نے نظر دوڑائی۔۔
ڈائیننگ ہال میں محفل جمی تھی۔۔
“خیریت ہے یہاں میرے خلاف کون سی پلاننگ ہورہی ہے۔۔”
راہب نے حیران ہو کر سب کے کھلتے چہرے دیکھے اور مریم کے برابر میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔
“بھائی ہم سوچ رہے ہیں اب آپ کو بھی سدھارنے والی اس گھر میں لے آئیں۔۔”
مریم کے کہنے پر اس کا ہاتھ ڈش کی طرف جاتا ہوا رک گیا۔۔
جب کہ فراز صاحب اور لائبہ بیگم مسکرانے لگے۔۔
“ڈیڈ مطلب آپ لوگوں نے میری زندگی برباد کرنے کا سوچا ہے۔۔”
وہ مصنوعی گھبرائے ہوئے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
“برباد کیسی صاحب زادے زندگی تو اور حسین ہو جاتی ہے اگر بہترین ہمسفر ساتھ مل جائے۔۔” احمد صاحب نے مسکرا کر لائبہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
تو وہ جھنپ گئیں۔۔ “کیا آپ بھی بچوں کے سامنے شروع ہوجاتے ہیں۔۔
“کھ کھ۔۔ راہب مصنوعی گلا کھنکھار نے لگا تو سب ہی مسکرادئیے۔۔
“اب سنجیدگی کی طرف آجائیں نیکسٹ ویک میں تمہاری اور رباب کی منگنی کر رہا ہوں۔۔”
احمد لاشاری نے نیپکین سے منہ صاف کرتے ہوئے کہا تو راہب اپنی پلیٹ سے چمچ رکھ کر ان ہی کو دیکھنے لگا۔۔
“ڈیڈ میں اس کو حکم سمجھوں؟” سنجیدہ لہجے میں راہب کے کہنے پر سب خاموش ہوگئے۔۔
“میں باپ ہوں تمہارا حکم دے سکتا ہوں مگر آج تک تم نے میری۔سنی کب ہے۔۔” احمد صاحب نے خفگی بھرے لہجے میں کہا۔۔
لائبہ بیگم اور مریم پریشان سی۔دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔۔
“بلکل حکم دے سکتے ہیں یہ رشتہ بھی آپ کے حکم سے قبول کیا ہے میں نے مگر منگنی کے لئیے تیار نہیں ہوں میں۔۔
“رباب کو مجھے۔سمجھنے کا وقت دیں میں خود کو اس کے ساتھ ایڈ جسٹ نہیں کر پارہا ہوں۔۔”
راہب نے اپنی الجھن بیان کی۔۔
“کیا کمی ہے رباب میں۔۔۔ ایجوکیٹیڈ ہے، خوبصورت ہے تمہارے ساتھ قدم ملا کر چل سکتی ہے۔۔سوسائٹی میں سروائیو کر سکتی ہے۔۔ احمد صاحب رباب کے حق میں اسے قائل کر رہے تھے۔۔۔
“ڈیڈ مجھے سوسائیٹی میں سروائیو کرنے کے لئیے نہیں مجھے اپنے ساتھ سروائیو کرنے کے لئیے چاہئیے جو مجھے سمجھے جو چھوٹی چھوٹی خواہش کے لئیے میری جانب دیکھے۔۔۔
میرے حکم کی تعمیل کرے مجھ سے ڈرے بھی اور میری عزت بھی کرے اور محبت بھی۔۔” راہب ایک جذب کے عالم میں کہہ رہا تھا۔
اور رباب میں یہ خصوصیت نہیں ہے ڈیڈ وہ صرف اپنا حکم چلانا جانتی ہے اپنے سے آگے کسی کو سمجھتی نہیں۔۔ میں ایسی لڑکی کے ساتھ comfortable نہیں رہ سکتا۔۔
“she is not perfect for my life partner”
راہب نے جھنجلا کر کہا تو حمدان صاحب اس کو دیکھ کر رہ گئے۔۔
“صاحب زادے جو خصوصیت آپ کو چاہئیے وہ اس کلاس کی لڑکیوں میں کسی میں بھی نہیں ملیں گی۔۔
یہ چونچلے مڈل کلاس کے ہوتے ہیں۔۔
تم اس کلاس میں پلے بڑھے ہو ان سب کے باوجود تمہارے اندر اپنے ننھیال والوں کی چھوٹی سوچ شامل ہے۔۔
“تم میرے بیٹے ہو سمجھے۔۔۔ میرے بیٹے اور اسی سے شادی کروگے جس سے میں کہونگا۔۔۔”
حمدان صاحب اس کے وجود کو جھنجوڑ کر خود ڈائیننگ ہال سے باہر نکل گئے۔۔
مگر وہ وہیں۔بیٹھا انگاروں میں جل رہا تھا پھر وہ بھی تیزی سے اٹھا اور لائبہ بیگم کی آواز کو نظر انداز کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
“اپنی ماں کے حوالے سے وہ کوئی بات برداشت نہیں کرتا تھا اور یہی ایک اختلاف تھا جو دونوں باپ بیٹے کے درمیان تھا۔۔
وہ دو دن سےبہت الجھا ہوا تھا کمرے سے باہر بھی نہیں نکلا نہ ہی وہ شجیہ کو پڑھانے گیا۔۔
آج لائبہ بیگم نے اس کے کمرے قدم رکھا۔۔
ہر طرف چیزیں بکھری پڑی تھی۔۔
جب کہ راہب ہر چیز سمیٹ کر رکھنے کا عادی تھا۔۔
“راہب۔۔۔ راہب بیٹا۔۔” لائبہ نے سب سے پہلے لائٹ آن کی پھر اس کی بکھری کتابوں کو سمیٹا۔۔۔
اور کمفرٹ اوڑھے آڑے ترچھے راہب کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اسے اٹھارہی تھیں۔۔۔
“ماما۔۔آپ۔۔؟ آپ کیوں آئیں ملازمہ سے کہہ دیتیں۔۔ کوئی کام تھا تو۔۔”
وہ آنکھ ملتا اٹھ کر بیٹھا۔۔۔
“ماں ہوں تمہاری کیا ایک ماں اپنے بیٹے کے کمرے میں نہیں آسکتی۔۔؟”
لائبہ بیگم نے اس کی آنکھوں کی سرخی دیکھتے ہوئے خفگی سے کہا۔۔۔
“نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا۔۔” راہب شرمندہ ہوا۔۔
“بیٹا آپ دو دن سے کمرے میں بند ہو کر یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا آپ سے کوئی رشتہ نہیں ہے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔”
لائبہ آبدیدہ ہو کر بولیں۔۔۔
“نہیں ماما ایسی بات نہیں ہے۔۔ آپ نے تو مجھے سگی ماں سے بڑھ کر محبت دی ہے آپ سے تعلق کیسے توڑ سکتا ہوں۔۔۔”
راہب خود کو۔شرمندگی میں دھکیلتا محسوس کر رہا تھا۔۔
“بس بیٹا آپ یہ اس طرح کا جملہ بول کر مجھے مزید ہرٹ کرتے ہیں۔۔
مجھے اپنی ماں سمجھتے تو یہ سگی اور سٹیپ کا ورڈ آپ یوز ہی نہیں کرتے۔۔”
لائبہ کو واقعی دکھ ہوا۔۔ انہوں نے اسے پالا اسے محبت دی بہت چھوٹا سا تھا وہ جب وہ۔احمد سے بیاہ کر اس گھر میں آئیں۔۔
انہوں نے مریم کے پیدا ہونے کے بعد بھی۔اس میں کوئی فرق نہیں رکھا۔۔
مگر احمد لاشاری کی کچھ باتوں اور خاص طور پر اس کی سگی ماں کے گھر والوں کی باتوں پر وہ روڈ ہو جاتا کہ لائبہ تک سے خفا ہوجاتا۔۔۔
“اچا سوری آج آپ کو کہیں لانگ ڈرائیو پر لے کر چلتا ہوں۔میرا موڈ بھی چینج ہوجائے گا۔۔۔
“چلیں جلدی سے تیار ہوں اور وہ موٹی کو بھی بول دیں۔۔۔” اس کا اشارہ مریم کی طرف تھا۔۔۔
وہ خود واش روم میں فریش ہونے کی غرض سے چلا گیا۔۔
لائبہ اس کی پشت دیکھتی رہیں وہ ایسا ہی تھا بہت حساس بھی اور کبھی لاپرواہ۔۔۔ اچانک سے موڈ صحیح ہوتا کہ سامنے والا حیران رہ جاتا۔۔۔
احمد صاحب کی پہلی شادی ایک مڈل کلاس لڑکی زوہا سے ہوئی۔۔۔ زوہا حمدان کی ماں کی پسند تھی جو انہیں ایک ہاسپیٹل میں ملی تھی اور دل کو بھا گئی تھی۔۔۔
احمد لاشاری اس وقت پڑھتے تھے ان کی ماں نے اپنے مرنے کی دھمکی دے کر ان کی۔زبردستی شادی کی۔۔۔ جس کے نتیجے میں احمد کا روّیہ زوہا سے صحیح نہیں رہتا۔۔
اور اسی طرح ایک سال گزر گئے۔۔۔
احمد بھی شادی کر کے پچھتارہے تھے کہ ان کو کسی پارٹی میں جانا ہوتا یا اپنے دوستوں کی دعوت میں جانا ہوتا تو زوہا اپنے ازلی اعتماد کی کمی کی وجہ سے ان کے ساتھ کہیں جانے سے کتراتی تھیں۔۔
زوہا پریگنینٹ ہوئی تو بہت سی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔
مگر بچے کی خوشی ملنے کے بعد احمد کا روّیہ کا۔فی بدل گیا تھا وہ زوہا کے ساتھ بہت اچھے ہوگئے تھے۔۔ تو زوہا کو بھی ان سے ہر شکایت ختم ہوگئی تھی۔۔
پھر راہب کے پیدا ہونے کے ایک گھنٹے بعد ہی وہ اس دنیا سے چلی گئیں۔۔۔
احمد صاحب کو افسوس تو بہت ہوا مگر راہب پانچ سال کا ہوا تو انہوں نے لائبہ سے شادی کرلی جو ان کی یونی کی کلاس فیلو اور پہلی محبت بھی تھیں۔۔
مگر لائبہ نے راہب کو اپنے سگے اولاد کی طرح ہی محبت دی۔۔۔ اور راہب بھی ان کو ایک ماں کا ہی۔درجہ دیتا تھا۔۔۔
مگر احمد صاحب زوہا کے گھر والوں سے بہت خار کھاتے تھے اور راہب کو بھی ان لوگوں سے دور رکھا تھا مگر راہب کو اپنی ماں اور ان کے گھر والوں کے خلاف سننا بلکل پسند نہیں تھا۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: