Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 4

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 4

“راہب کے احتجاجاً کمرا بند کرنے سے بھی احمد صاحب کے فیصلے میں رد و بدل نہیں آیا۔۔ تو راہب کو ہار ماننی پڑی مگر وہ خاموش تھا۔۔
“شجیہ کے امتحان ختم ہونے والے تھے راہب اسے روزانہ پڑھانے جاتا مگر بہت خاموش خاموش رہتا آج خلاف معمول شجیہ نے پڑھائی کے بعد خود اس سے سوال کیا وہ دنگ رہ گیا کہ شجیہ بھی بات کرسکتی ہے۔۔۔
” آپ کی رباب آپی سے شادی ہورہی ہے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ میرے ریلیٹیو بن گئے۔۔”
دھیمی ہی صحیح لیکن سچی خوشی سے بھر پور آواز سن کر راہب بہت حیران ہوا۔۔
“ارے ہماری شجیہ کے منہ میں زبان بھی ہے۔۔”
راہب واقعی خوش ہوا۔۔
شجیہ مبہم سا مسکرا کر دوبارہ اپنے خول میں بند ہوچکی تھی۔
مگر راہب سوچ رہا تھا یہ ایسی ہے نہیں ہے زرا سی توجہ اسے بدل سکتی ہے۔۔
“امّی میں نے رباب کا رشتہ پکّا کردیا ہے راہب کے ساتھ۔۔
ظفر صاحب ذکیہ بیگم کے پاس آئے تھے۔۔
“اللّہ اس کے نصیب اچھے کرے۔۔”
ذکیہ بیگم نے دل سے دعا کی جب کہ وہ چاہتی کچھ اور تھیں۔۔
“امّی میں آپ کو لینے آیا ہوں۔۔” پلیز آپ مجھے منع نہیں کریں گی۔۔اور میرے پورشن میں رہیں گی۔۔
شجیہ میری بھی بھتیجی ہے۔۔
سالوں پہلے جو بھی ہوا مجھے بھی اس پر غصّہ ہے مگر رشتوں سے منہ موڑ لینا صحیح تو نہیں ہے نہ شجیہ اکیلے رہ رہ کر بہت عجیب سی ہوگئی ہے۔۔
اگر یہ ہمارے ساتھ بیٹھے گی رہے گی تواس کے ذہن میں بھی تبدیلی آئے گی۔۔۔
“یہ بھی اس گھر کا حصّہ ہے بیٹا پھر رات کے کھانے میں تو وہیں ہوتی ہوں۔۔”
بس اب آخری وقت اپنے بیٹے کی یاد میں گزارنا چاہتی ہوں اور یہاں۔جگہ جگہ اس کی یادیں بکھری پڑی ہیں۔۔”
مجھے لگتا ہے اگر میں یہاں سے گئی تو میرا بدر مجھ سے ناراض ہوجائے گا۔۔”
ذکیہ بیگم آبدیدہ ہوئیں تو ظفر صاحب کی آنکھیں بھی بھائی کی یاد میں نم ہوگئیں۔۔
ایک ہی تو بھائی تھا وہ بھی بے رحم حادثے نے ان سے چھین لیا۔۔۔
ذکیہ بیگم شجیہ کی وجہ سے ہی جانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہاں جا کر وہ اور زیادہ خوف زدہ ہوجاتی تھی۔۔۔
“شجیہ بہن کی منگنی ہے تمہارے امتحان بھی ختم ہوگئے تو تم بھی بھر پور حصّہ لو اور تیاری میں مدد کرو۔۔”
ظفر صاحب نے شجیہ کو مخاطب کیا جو ناشتے کے لوازمات دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
صبح ناشتے میں ظفر صاحب کے کہنے پر آج ذکیہ اور شجیہ ظفر پیلیس میں موجود تھیں۔۔۔
کل ہی شجیہ کا آخری پیپر تھا۔۔۔
“ہاں شجیہ مجھے بھی تمہاری بہت ہیلپ کی ضرورت ہے اب تو ایگزام کا بہانہ بھی نہیں ہے۔۔۔”
رباب نے ٹوسٹ کا ٹکرا اپنے منہ میں ڈالتے ہوئے ظفر صاحب کا ساتھ دیتے ہوئے شجیہ کو مخاطب کیا۔۔۔
شجیہ جی جان سے کانپ گئی وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ۔اس سے کس طرح کی ہیلپ ہوسکتی ہے۔۔۔
ظفر صاحب کے سامنے رباب اور مہوش کا لہجہ بھی شجیہ کے ساتھ شیریں ہوجاتا۔۔۔
“ارے آج تو بڑے بڑے لوگ ناشتے کی ٹیبیل پر نظر آرہے ہیں۔۔”
فاضل جس کی صبح شاید ابھی ہوئی تھی اس کی نظریں شجیہ پر پڑی تو وہ اپنی حوس بھری نگاہیں اس پر ٹکا کر بظاہر ہنس کر کہتے ہوئے شجیہ کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔
شجیہ جو اس کے آنےسے ہی پریشان ہوچکی تھی اس کے اس طرح بیٹھنے سے وہ اور زیادہ گھبرا گئی۔۔۔
غیر محسوس انداز سے اس نے۔اپنی کرسی کو تھوڑا کھسکانے کی کوشش کی۔۔۔
فاضل ترچھی نگاہوں سے اس کا کھسکنا محسوس کر چکا تھا۔۔
اور کمینی سی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتا وہ ناشتے میں مصروف ہوچکا تھا۔۔۔
مہوش اور باقی گھر کے افراد منگنی کے فنکشن کو ڈسکس کر رہے تھے۔۔
ارسل خاموشی سے بیٹھا اپنے موبائل میں مصروف تھا۔۔۔
آج ظفر پیلیس میں رنگوں کی بہار آئی ہوئی تھی۔۔۔
برقی قمقمے جگمگا رہے تھے۔۔
سامنے بنے پھولوں کے سٹیج پر پریوں جیسی شان کے ساتھ رباب کچھ فتح کرنے کے سرشار سی مسکرارہی تھی۔۔۔
تو برابر میں سنجیدہ سا راہب شہزادے جیسی آن بان لئیے خلاف معمول خاموش سا بیٹھا تھا۔۔۔
وائٹ کلر کے فراک میں شجیہ خاموش سی ایک کونے میں بیٹھی تھی۔۔۔
پہلی بار اس کے دل میں راہب کو دیکھ کر یہ خواہش پیدا ہوئی۔۔
“کاش میری زندگی میں بھی کوئی ایسا شخص آئے۔۔۔”
اسے نہیں پتا تھا اس کے دل سے یہ نکلی دعا عرش تک پہنچ چکی تھی۔۔۔
“چلو بیٹا انگوٹھی پہناؤ۔۔” راہب کب سے کونے میں بیٹھی شجیہ کو تک رہا تھا اسے احساس بھی نہیں ہوا۔۔
جب لائبہ بیگم نے اس کے ہاتھ میں رنگ تھمایا تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔
“یہ آج اس کے دل کو کیا ہوا تھا۔۔۔
جسے وہ بچی سمجھتا تھا آج وہ اتنی بڑی کیوں لگ رہی تھی کہ دل کو ہی بھا گئی تھی۔۔۔
راہب غائب دماغی سے رباب کو انگوٹھی پہنارہا تھا۔۔۔
دوسری جانب نجانے شجیہ کو کیا ہوا وہ یہ منظر دیکھ نہیں سکی اور اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
ہر طرف مبارک باد کی آواز آرہی تھی۔۔۔
رباب کے چہرے پر کچھ پالینے کی خوشی تھی تو راہب کے چہرے پر کچھ کھو دینے کا ملال۔۔۔
شجیہ کے آنکھوں سے آنسو کیوں آرہے تھے وہ خود انجان تھی۔۔۔
بے۔ دھیانی میں جاتے ہوئے وہ سامنے سے آتے فاضل سے جا ٹکرائی۔۔۔
“افف اپنے اس نازک سے سراپے پر اتنا ظلم تو نہ کرو جان۔۔۔”
گاضل نے اسے۔ دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے کمینگی بھرے لہجے میں کہا۔۔
شجیہ اس کے لمس سے ہی بدک گئی۔۔۔
اس کے اندر آگ سی لگ گئی۔۔۔
وہ لمس اسے کئی سالوں پیچھے لے گیا۔۔۔
بے ساختہ وہ چیخنے لگ گئی۔۔۔
“چھوڑو مجھے چھوڑو مجھے۔۔” اس کے اس طرح چیخنے سے وہ گھبرا گیا۔۔۔
چیخ سن کر گھر کے افراد کی بھی اس طرف نظر اٹھی۔۔۔
ظفر صاحب وہاں پہنچے تو راہب سے بھی نہیں رہا گیا۔۔
وہ بھی اسٹیج سے نیچے اترتا لان کے اس جانب گیا جہاں سے اس کے چیخنے کی آواز گئی تھی۔۔۔
“بابا یہ گر رہی تھی میں نے تو صرف سنبھالا ہے ورنہ بہت بری چوٹ آتی۔۔”
فاضل معصوم بنا اپنی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
وہ آنکھیں بند کئیے ذکیہ بیگم کے سینے سے لگی بری طرح کانپ رہی تھی۔۔۔
“اچھا تم اندر جاؤ۔۔” ظفر صاحب نے اسے بھیج دیا جب کہ ذکیہ بیگم بھی شجیہ کو لئیے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔
سب جانتے تھے شجیہ کو کس بات کا خوف تھا اسی لئیے فاضل سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا۔۔
یہی بات راہب کے لئیے حیران کن تھی کیونکہ وہ شجیہ کے ماضی سے انجان تھا۔۔۔
“یہ راہب کو کیا ضرورت تھی ہیرو بن کے وہاں جانے کی۔۔”
رباب شدید غصّہ تھی۔۔۔
“اس لڑکی نے اب میرے بیٹے کو بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
“پہلے میرے بھائی پر الزام لگا کر مجھ سے دور کیا اب میرا معصوم بیٹا نظر آگیا ہے کلموہی کو۔۔۔”
مہوش کو اپنے بیٹے کا غم ستا رہا تھا۔۔
“تمہیں کیا ضرورت تھی وہاں جانے کی؟ “
راہب کے آتے ہی رباب شروع ہوچکی تھی۔۔۔
“بس کرو رباب مہمان دیکھ رہے ہیں۔۔”
مہوش نے اسے چپ کروایا تو وہ چپ ہوگئی مگر راہب کو بہت برا لگا اس کا اس طرح سوال کرنا۔۔۔۔
“تمہاری کزن کے ساتھ کوئی پرابلم ہے؟ its mean بچپن میں کوئی ایسا واقعہ یا کوئی حادثہ پیش آیا تھا اس کے ساتھ؟”
وہ نفسیات میں دلچسپی رکھتا ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ بات کی طے تک نہ پہنچ پاتا۔۔
آج منگنی کے دوسرے دن وہ لوگ ڈنر کرنے آئے تھے۔۔۔
اور آج کے اتنے اہم ڈنر پر رباب شجیہ کے ذکر پر بہت بد مزہ ہوئی۔۔۔
“مجھے لگا تم یہاں مجھ سے کوئی رومانٹک باتیں کروگے۔۔ مگر تم نے تو یہاں شجیہ نامہ کھول دیا ہے۔۔”
رباب نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا۔۔۔
ریڈ اسٹائلیش سے ٹاپ کے ساتھ جینز پہنے اچھے سے میک اپ کے ساتھ وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔
“تمہیں لگتا ہے میں رومانٹک باتیں کرسکتا ہوں؟” راہب نے ہنستے ہوئے الٹا اس سے سوال پوچھا۔۔۔
“کیوں تم لڑکے نہیں ہو یا میں حسین نہیں ہو یا تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو؟” وہ اچھا خاصا غصّہ ہوگئی اس کی بات سن کر۔۔۔
“ہمارے درمیان ابھی ایسا ریلیشن نہیں ہے کہ ہم کوئی رومانٹک باتیں کریں۔۔ میرے خیال سے ان سب باتوں کے لئیے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہئیے۔۔
نکاح کے بعد ہی یہ سب اچھا لگتا ہے۔۔۔
راہب نے جوس کا گلاس گھماتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔۔
“ohh my God راہب تم اتنے سطحی ذہن کے ہو میں سوچ بھی نہیں۔سکتی تھی۔۔۔” رباب جیسے اس کی بات سن کر صدمے میں آچکی تھی۔۔۔
“میں تو شروع سے ایسا ہی ہوں تم نے ہی مجھے سمجھنے میں غلطی کی۔۔۔”
راہب نے جوس ختم کر کے گلاس ٹیبیل پر رکھتے ہی کہا۔۔۔
“اب چلیں۔۔” وہ اس کی طرف دیکھتا کہہ رہا تھا۔۔
رباب خاموشی سے اس کے ساتھ ریسٹیورینٹ سے باہر آگئی۔۔۔غصّہ تو اب بھی اسے اس پر تھا مگر وہ راہب کے رعب دار لہجہ دیکھ کر ضبط کر گئی۔۔۔
کچھ بھی ہو راہب کے انداز میں کچھ ایسا تھا کہ۔رباب جیسی بے خوف لڑکی بھی اس سے ڈر جاتی۔۔۔
آج صبح سے ہی ذکیہ بیگم کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔۔۔
ظفر صاحب بھی آج آفس سے آتے ہی ان کے کمرے میں چلے گئے۔۔۔
“امّی اب آپ کوئی بہانہ نہیں کریں گی۔۔ اور آج ہی میرے ساتھ چلیں۔۔”
ظفر صاحب نےاٹل لہجے میں کہا۔۔۔
“نہیں اب تو صرف آخری سانس باقی ہے اب کیا فائدہ۔۔؟”
ذکیہ بیگم کے اس طرح کہنے پر پاس کھڑی شجیہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔
“دادو آپ کے علاوہ میرا کوئی بھی نہیں ہے ایسی باتیں نہیں کیا کریں۔۔”
ظفر صاحب کی موجودگی کو فراموش کئیے وہ ان کے گلے لگ کر رونا شروع ہوچکی تھی۔۔۔
“بیٹا میں ہوں نہ تمہارا تایا تم خود کو اکیلا کیوں سمجھتی ہو؟”
ظفر صاحب نے اس کو اس طرح روتا دیکھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“بیٹا اگر راہب آئے تو اسے میرے پاس بھیجنا اور اس بات کا علم رباب یا مہوش کو نہ ہو۔۔”
ذکیہ بیگم نے کہا تو ظفر صاحب حیران ہوئے۔۔۔
“راہب سے کیا کام ہے آپ کو؟ آپ مجھے بتائیں۔۔”
“بیٹا اپنی ماں کی۔آخری خواہش سمجھ کر ہی پوری کردو۔۔۔”
ذکیہ بیگم نے کمزور سی آواز میں کہا تو ظفر صاحب شرمندہ ہوئے۔۔
“آپ پریشان نہیں ہوں کل ہی وہ آپ کے پاس آجائے گا۔ بس آپ میڈیسن وقت پر لیں اور اپنا خیال رکھیں۔۔”
ظفر صاحب وہاں سے چلے گئے ۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: