Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 5

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 5

شجیہ صرف سات سال کی تھی جب بدر اور الماس کسی شادی سے واپسی سے آرہے تھے۔۔ ہائی وے پر ان کا بہت برا ایکسیڈینٹ ہوا اور وہ دونوں اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی زندگی سے ہار گئے۔۔
مگر قدرت نے اتفاقی طور پر شجیہ کو محفوظ رکھا۔۔
شجیہ بھی ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتی مگر آج قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔۔
شجیہ کو ذکیہ بیگم نے آج اپنے پاس رکھ لیا کہ وہ ان کے ساتھ آئے گی۔۔
اصل میں شجیہ کی زندگی تھی۔۔۔
سات سال کی بچی کو اتنی عقل تو نہیں تھی کہ اس کے ماں باپ اچانک ہی اس سے بچھڑ کر کہاں چلے گئے۔۔۔
وہ راتوں کو ڈرتی اپنی ماں کو پکارتی مگر ذکیہ بیگم نے اسے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔۔۔
شروع میں مہوش نے شجیہ کی دیکھ بھال کی مگر وہ جلد اکتا گئیں۔۔
ظفر صاحب کا اتنا رعب تھا کہ وہ سامنے میں کچھ نہیں کرسکتی تھیں۔۔۔
مگر انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے انداز میں تربیت کی اور شجیہ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔۔۔
“ارے شجیہ یہ تو بہت مہنگے ٹوائز ہیں۔۔ آپ اسے توڑ دوگی۔۔ چھوڑو اسے۔۔”
مہوش نے رباب کے کھلونے اس کے ہاتھ سے لے لئیے۔۔
شجیہ کو چھوٹے سے ہی انہوں نے اپنے رعب میں رکھا۔۔
“یہ کیا ہے؟ یہ بچوں کی جگہ ہے کھیلنے کی؟ خبردار اگر آئیندہ آپ مجھے یہاں نظر آئیں۔۔”
وہ اس کا ہاتھ اتنی سختی سے دباتیں کہ اس کی چیخ نکل جاتی۔۔
اور اس دن کےبعد سے وہ کبھی لان کے پاس نظر نہیں آتی۔۔
ذکیہ اور ظفر صاحب کو لگتا کہ مہوش شجیہ کا خیال رکھتی ہے اسی لئیے وہ دونوں۔اطمینان سے رہتے مگر مہوش نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی اولاد کی محبت میں کوئی حصّے دار بنے اسی لئیے وہ شجیہ کو ظفر صاحب کی آنکھوں سے اوجھل رکھتیں۔۔
اور ان کے پیچھے وہ شجیہ سے بہت بری طرح پیش آتیں۔۔۔
مہوش کا بھائی کسی کام کے سلسلے میں دبئی سے پاکستان آیا تو مہوش نے اپنے بھائی کو اپنے گھر میں جگہ دی۔۔
کیونکہ نوید کا پاکستان میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔۔
نوید کو آئے ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا اس کے آنے سے رباب ارسل اور فاضل جہاں بہت خوش تھے وہیں شجیہ بہت خاموش اور ڈری ڈری سی رہنے لگی تھی۔۔۔
شجیہ اب آٹھ سال کی ہوچکی تھی اسے روّیوں کی سمجھ آنے لگی تھی۔۔
مہوش کا ظفر اور ذکیہ کے سامنے میٹھا بننا اور بعد میں اپنی جلن نکالنا اسے بخوبی سمجھ آگیا تھا۔۔
حالات نے اسے اپنی عمر سے زیادہ بڑا کردیا تھا۔۔
“ارے شجیہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ چلو آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔۔
وہ لان کی کرسی میں بیٹھی ڈرائینگ کی کاپی میں پینسل سے نشانات بنارہی تھی جب نوید کے مکار بھرے لہجے پر وہ اسے دیکھ کر وہ خوف سے کانپنے لگی۔۔۔
“ارے تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے میں تمہیں کھا جاؤنگا۔۔”
سامنے والی کرسی میں بیٹھا وہ اس کے ہاتھوں پر ہاتھ پھیرتا اپنی حوس مٹارہا تھا۔۔۔
“انکل مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔ آپ رباب کو لے جائیں۔۔۔”
وہ جلدی سے کرسی سے اتر گئی۔۔
“ارے مجھے تو آپ کو ہی لے کر جانا ہے۔۔”
وہ اس کے سرخ اور پھولے ہوئے گال پر چٹکی کاٹتا اپنی حوس بھری نظریں اس پر جمائے کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ کو اس لمس کی سمجھ نہیں تھی مگر اسے لگتا جو ہورہا ہے وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
“ارے نوید تم یہاں کیا کر رہے ہو رباب وغیرہ تمہارا انتظار کر رہی ہیں کہ تم آئس کریم کھلانے لے کے جارہے ہو۔۔”
اس وقت مہوش کی آمد سے نوید گڑبڑاگیا جب کہ شجیہ نے سکون کا سانس لیا۔۔۔
“جی آپی میں تو جارہا تھا میں نے سوچا شجیہ اکیلے بور ہوگی تو اسے بھی لے جاؤں۔۔”
اپنے مکار لہجے میں کہتا واقعی شجیہ کا سب سے بڑا ہمدرد لگا۔۔۔
“اسے کیا بور ہونا ہے اسے تو بس اکیلے ہی رہنا پسند ہے تم اس سے زیادہ اپنی ہمدردی مت دکھایا کرو۔۔”
مہوش کو نوید کا اس طرح ہمایت کرنا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔
“اچھا آپی جارہا ہوں آپ تو پیچھے پڑ جاتی ہیں۔۔” اپنے دل کا چور پکڑے جانے کے خوف سے وہ جان چھڑاتا جلدی سے بھاگا۔۔۔
ذکیہ بیگم ان دنوں اپنی بہن کی عیادت کرنے حیدر آ باد گئی ہوئی تھیں۔۔
نوید کو اپنی درندگی دکھانے کا کھل کر موقع مل رہا تھا۔۔۔
وہ بہت خوش تھا کہ شاید اب اسے آسانی ہو۔۔۔
شام میں مہوش اپنی کسی دوست کے گھر گئی ہوئی تھی۔۔
اور رباب وغیرہ اپنا ہوم ورک کر رہے تھے جب نوید لان میں بیٹھی خاموش شجیہ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر زبردستی اوپر بنے سٹور روم میں لے آیا۔۔۔
“ششش آواز نہیں نکالنی ورنہ میں آپ کو بہت مارونگا بلکہ یہ دیکھو۔۔ اس کی طرح جلادونگا۔۔”
وہ اسے اندھیرے میں سٹور روم میں لے آیا تھا اور موبائل پر ایک بچی کی جلنے کی ویڈیو دکھا کر اسے ڈرا رہا تھا تا کہ اس کے کسی عمل پر وہ چیخ نہ سکے۔۔۔
وہ ویڈیو ایسے ہی ایف بی سے آئی وائرل ویڈیو تھی۔۔
مگر شجیہ کو ڈرانے میں کافی کار آمد ہوئی۔۔۔
وہ خاموشی سے خوف سے کانپ رہی تھی اس میں اتنی بھی ہمّت نہ تھی کہ وہ منہ سے کوئی بھی آواز نکال سکے۔۔۔
اس سے پہلے وہ درندہ اس کے قریب آتا اور اپنی حوس پوری کرتا کہ شجیہ خوف سے بے ہوش ہوگئی۔۔۔
اسے زمین پر گرتا دیکھ کر نوید کے ہوش ٹھکانے آگئے ساری درندگی دو منٹ میں دور ہوئی اب وہ اپنے پکڑے جانے کے خوف سے آگے کا لائحمل سوچ رہا تھا۔۔۔
وہ اسے اسی طرح گرا ہوا چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔
“شجیہ کہاں ہے؟ ” رات ہوگئی تھی ظفر صاحب آفس سے آئے تو سب سے پہلے شجیہ کی غیر موجودگی محسوس کی۔۔۔
“یہی ہوگی اپنے روم میں پتا نہیں اتنا اکیلے اکیلے کیوں رہتی ہے۔۔”
مہوش نے اپنے لہجے میں اس کی فکر گھولنے کی کوشش کی۔۔۔
“نوری شجیہ کو کھانے کے لئیے بلا کر لاؤ” انہوں نے ملازمہ کو۔ حکم دیا تو وہ چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ اس کی غیر موجودگی کی خبر لارہی تھی۔۔۔
“ایسے کیسے نہیں ہے کہاں جاسکتی ہے وہ؟”
ظفر غصّے میں آگئے تھے۔۔
“ارے آپ کیوں پریشان ہورہے ہیں بچی ہے یہی کہیں ہوگی”
مہوش ان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوچکا تھا تمام ملازم اور ظفر خود پورے گھر میں تلاش کر چکے تھے مگر اس کا کہیں بھی پتا نہیں چل رہا تھا۔۔۔
ظفر صاحب بہت زیادہ پریشان تھے جب کہ خوف زدہ تو مہوش بھی ہوگئی تھیں اور انہیں شجیہ پر ہی غصّہ آرہا تھا جو بلاوجہ ان کی لائف ڈسٹرب کرنے کی وجہ بنی ہوئی تھی۔۔۔
نوید اس وقت سے ہی غائب تھا۔۔۔
جب سب جگہ سے ہار مان کر ظفر صاحب تھک کر بیٹھ گئے تو نوری کی دی گئی اطلاع ان کے اوپر بجلی بن کے گری۔۔۔
“صاحب جی میں نے بےبی کو نوید صاحب کے ساتھ سٹور روم کی جانب جاتے دیکھا تھا۔۔
بغیر کچھ سنے وہ سٹور روم کی جانب بھاگے۔۔
مہوش بھی ان کے پیچھے پیچھے گئی۔۔۔
“سٹور روم کا دروازہ کھولتے ہی ظفر صاحب کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی۔۔۔
شجیہ کا وجود زمین پر اوندھا پڑا تھا۔۔
“انہوں نے اسے اٹھایا تو مدھم سی سانسیں چل رہی تھی۔۔
“گاڑی نکالو” ملازم سے گاڑی نکالنے کا کہہ کر وہ اسے گود میں لے کر ہاسپیٹل کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔
مہوش نے ان کے پیچھے آنے کی کوشش کی تو انہوں نے غصّے سے سرخ آنکھوں سے دیکھا کہ مہوش کے اندر خوف سے سنسنی پھیل گئی اتنے غصّے میں انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔
مہوش نے فوراً نوید کو کال کر کے اس واقعے کو جاننے کی کوشش کی تو وہ سن کر ہی ڈر گیا کہ اس کا نام آچکا ہے اس نے جھوٹی سچی کہانی سنادی کہ وہ یہاں پر تھا ہی نہیں وہ تو کافی دیر سے گھر کے باہر ہے۔۔۔
مہوش نے بھی اس بات پر یقین کر لیا۔۔
ہاسپیٹل جا کر ظفر کو پتا چلا کہ شدید خوف کے زیر اثر شجیہ بے ہوش تھی۔۔
وہ نوید کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے تا کہ پتا چلے۔اس نے ایسا کیا کیا ہے اور اسٹور روم میں وہ کس طرح اور کیوں گئی مگر نوید کا فون بھی آف جارہا تھا۔۔۔
بعد میں خبر آئی کہ وہ دبئی واپس جا چکا ہے۔۔
اس خبر سے ظفر صاحب کو یقین ہوگیا کہ ضرور اس نے کچھ غلط کرنے کی کوشش کی ہے۔۔
انہیں شدید غصّہ تھا مگر شجیہ کے ہوش میں آنے سے پہلے وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھے۔۔۔
ذکیہ بیگم بھی دو گھنٹے میں ہی خبر ملتے ہاسپیٹل آچکی تھی۔۔۔
“کسی نے بچی کو ذہنی اذیت دینے کی کوشش کی ان کو ہراسمنٹ میں رکھا گیا ہے۔۔”
ڈاکٹر کے الفاظ ان دونوں پر بجلی بن کر گزری۔۔۔
“کیونکہ بچی بے ہوشی کے حالت میں مسلسل چیخ رہی ہے کسی کو ہاتھ لگانے سے منع کر رہی ہے۔۔”
اور ایسا صرف ہراسمنٹ کے کیس میں ہی ہوتا ہے۔۔۔”
وہ بے ہوشی کی حالت سے باہر آچکی ہے مگر ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود ہوش میں آنا ہی نہیں چاہتی”
ڈاکٹر کہہ رہا تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔
ظفر صاحب شرمندہ سے ذکیہ بیگم سے نظریں چرا رہے تھے۔۔
“آپ بچی کے کون ہیں؟” اور بچی کو کس کے پاس چھوڑا تھا آپ لوگوں نے؟”
ڈاکٹر کے سوالات انہیں مزید شرمندگی میں دھکیل رہے تھے۔۔۔
ہماری سب سے بڑی غلطی ہی یہی ہوتی ہے کہ بچی ہے انکل ہیں کھیل رہے بچی کے ساتھ کوئی بات نہیں۔۔
لیکن کچھ درندوں کے لئیے وہ بچی نہیں ہوتی وہ عورت کا جسم ہوتا ہے جس سے وہ مرد اپنی حوس پوری کرنا چاہتا ہے۔۔۔
ہم اسی خوش فہمی میں رہ کر اپنے بچے اور بچیوں کو انکل آنٹی نما درندوں کے حوالے کر کے پر سکون ہوتے ہیں۔۔۔
اس واقعے کو ہفتہ ہوچکا تھا۔۔۔ شجیہ کو ہوش آچکا تھا۔۔
مگر اسے بخار رہنے لگا تھا۔۔۔ راتوں کو چیخ کر اٹھنا اندھیرے میں ڈرنا اس کو سائکو بنارہا تھا۔۔۔
ہاسپیٹل سے ڈسچارج ہونے کے بعد ذکیہ بیگم اسے لے کر بدر صاحب کے پورشن میں آگئیں۔۔
ظفر صاحب نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ نہ جائیں مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔۔۔
گھر تو ایک ہی تھا مگر پورشن الگ تھا۔۔
ظفر صاحب اس کی پڑھائی سے لے کر ہر چیز کی ضرورت پوری کر رہے تھے۔۔۔
روز وہ دونوں کا حال بھی پوچھتے۔۔۔
مگر مہوش نے خود بھی اور بچوں کو بھی ان سے دور کر لیا۔۔۔
ظفر صاحب نے کافی دن تک مہوش سء بات چیت بند رکھی مگر کب تک وہ ان کی بیوی تھی اسی لئیے کچھ دن بعد پھر سب پہلے جیسا ہوگیا۔۔
مگر مہوش کے دل میں شجیہ کے لئیے نفرت مزید بڑھ چکی تھی۔۔۔
وہ اپنے بھائی کو قصوار سمجھنے کے بجائے بھائی سے دوری کا سبب اسے سمجھتی تھی۔۔۔
وقت بڑھتاچلا گیا مگر شجیہ وہیں بچپن کے خوف کے زیر اثر بڑھی اور اس کی زندگی وہیں ٹہر گئی۔۔۔
لوگوں سے دور رہنا خاموش رہنا اور خوابوں میں ڈرنا اس کی عادت میں شامل ہوچکا تھا۔۔۔
پھر وقت نے اسے فاضل کی صورت میں ایک اور نوید لا کھڑا کیا تھا۔۔۔
جس کی نظریں بلکل نوید کی طرح اسے آر پار محسوس ہوتیں۔۔۔
اس کا خوف کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا چلا گیا۔۔۔
ماضی کے باب سے نکل کر ذکیہ بیگم حال میں آئیں تو سامنے بیٹھے راہب کی آنکھیں بھی نم تھی۔۔۔
تو یہ وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ لڑکی نارمل بی ہیو نہیں کرتی۔۔۔
اسے بہت دکھ ہوا اس عمر میں لڑکیاں نئے خواب دیکھتی ہیں شوخ اور چنچل ہوتی ہیں مگر ظالم دنیا نے اسے کیا بنادیا تھا۔۔۔
آج راہب شجیہ کے فارم لے کر آیا تھا مگر شجیہ کا رد عمل اس کے لئیے بہت حیرت زدہ تھا۔۔۔
وہ یونی ورسٹی جانے سے خوف زدہ تھی۔۔۔
پھر ذکیہ بیگم سے بہت استفسار کرنے پر انہوں نے اس کے سامنے اس کی ماضی کی کتاب کھول دی۔۔۔
شجیہ اس وقت شاید سوچکی تھی وہ کمرے میں موجود نہیں تھی۔۔۔
پھر راہب نے اسے کالج سے سمپل بی اے کرانے کا فیصلہ کیا۔۔۔
“آج ظفر صاحب آئے تو راہب بھی ان کے ساتھ تھا وہ ذکیہ بیگم سے ملنے آیا تھا۔۔ ان کی طبیعت مزید بگڑ چکی تھی۔۔ شجیہ بھی وہہیں ان کے برابر میں بیٹھی تھی۔۔۔
شجیہ کے ذہن نے اس دن راہب کے متعلق جو بات سوچی وہ اس پر شرمندہ تھی۔۔۔ آج وہ۔اس بات کو فراموش کر چکی تھی۔۔
دوسری طرف راہب نے شجیہ کو دیکھا تو اس کے دل میں اس دن والی کیفیت یاد آئی شاید شجیہ سے ہمدردی اس کے دل کو بدل رہی ہے اس نے اپنے دل کو ڈپٹا اور ذکیہ بیگم کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
“بیٹا جاؤ راہب کے لئیے چائے لے کر آؤ۔۔”
ذکیہ بیگم نے شاید شجیہ کو منظر سے غائب کرنا چاہا۔۔
وہ خاموشی سے چلی گئی۔۔۔
“بیٹا مجھے لگتا ہے اتنے دنوں میں جتنا شجیہ کو تم نے سمجھا اور اس نے اب تک جتنا امپروو کیا ہے وہ سب تمہاری بدولت ہے۔۔
بیٹا اس کا میرے سوا دنیا میں کوئی نہیں ہے۔۔
ذکیہ بیگم نے تمہید باندھی اور وہ خاموشی سے ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
میری صرف اتنی سی خواہش ہے کہ یہ پڑھ لکھ کر پر اعتماد بن جائے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کے قابل ہو۔۔
میری آخری۔خواہش سمجھ لو میں چاہتی ہوں اگر مجھے کچھ ہو بھی جائے تو اسے پڑھائی میں آگے بڑھنے میں تم مدد کرنا۔۔۔
“آپ فکر نہ کریں شجیہ کو پڑھائی میں جو بھی ہیلپ ہوگی میں ضرور مدد کرونگا۔۔
راہب تھوڑی دیر بعد وہاں سے چلا گیا لیکن ظفر صاحب کا فی دیر تک ان کے پاس بیٹھے رہے۔۔ پھر ان کے جانے کے بعد ذکیہ بیگم سو گئیں۔۔
آج شجیہ کو عجیب سی گھبراہٹ ہورہی تھی جیسے کچھ ہونے والا ہو مگر اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک دیا۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: