Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 6

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 6

صبح شجیہ کی آنکھ کھلی تو ذکیہ بیگم کو اب تک سوتا دیکھ کر اس کو تعجب ہوا۔۔۔
“دادو۔۔دادو۔۔ وہ انہیں مسلسل پکار رہی تھی۔۔
مگر دوسری طرف جواب نہ پا کر اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار آگئے۔۔
اس کا دل کسی انہونی کے ڈر سے بری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔
“دادو۔۔۔۔ بری طرح چیخ کر وہ انہیں جھنجوڑ رہی تھی۔۔۔
ان کی سانسیں چیک کی تو وہ بلکل نہیں چل رہی تھی۔۔
“نن۔۔۔ننہیں۔۔۔۔ وہ دور ہٹ گئی۔۔ دیوار سے لگ کر آنکھیں بند کئیے کانپ رہی تھی۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے جلدی میں وہ ظفر صاحب کے پورشن کی طرف دوڑی۔۔۔۔
وہاں سب بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے جب وہ گھبرائی سی وہاں پہنچی۔۔۔
“کیا ہوا بیٹا؟ “سب ٹھیک ہے؟”
ظفر صاحب کی نظر سب سے پہلے اس پر پڑی۔۔۔ اس کی اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر وہ گھبرا گئے۔۔۔
“وہ۔۔وہ۔۔۔ داد۔۔دادو۔۔۔” اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی الفاظ بھی ادا نہیں ہورہے تھے۔۔۔
ظفر صاحب ذکیہ بیگم کا سنتے ہی فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے اور بغیر کسی۔سے کچھ کہے تیزی۔سے شجیہ کے ساتھ باہر کی جانب بھاگے۔۔۔
“صبح۔صبح کون سا ڈرامہ۔سٹارٹ ہوگیا؟” رباب نے اپنے پرمنگ کئیے ہوئے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے مزاق اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
“بیٹے کو اپنے پاس بلانے کا بہانہ ہوگا آج کل ایسے بھی ان کا دل وہیں زیادہ لگ رہا ہے۔۔”
مہوش نے بھی نخوت سے کہہ کر اپنے گلاس میں جوس انڈیلا۔۔۔
“مام رباب پلیز سٹاپ اٹ۔۔ بیمار ہیں وہ نجانے کیا ہوا ہے آپ لوگوں کو صرف اپنی فکر رہتی ہے۔۔” ارسل ان دونوں کو کہتا تیزی۔سے اٹھا اور وہ بھی ذکیہ بیگم کے پورشن کی طرف بڑھا۔۔۔
“دیکھا مام یہ نیا ہمدرد تیار ہوگیا ہے۔۔” رباب نے بائل ایگ لیتے ہوئے تمسخرانہ لہجے میں کہا۔۔۔
جب کہ مہوش اب تک اپنے بڑے بیٹے کے لہجے کے غم میں تھیں۔۔ کہ ان کا لاڈلا بیٹا ان کو کس طرح بول کر گیا۔۔۔
ان سب معاملے سے الگ فاضل مزے سے ناشتہ کرتا ساتھ ساتھ موبائل میں طھی مصروف تھا۔۔۔
“کیا ہوا ہے دادو کو تایا آپ بتا کیوں نہیں رہے۔؟ شاید زندگی میں پہلی بار اس کی آواز اتنی بلند ہوئی تھی۔۔
وہ سب ہاسپیٹل میں تھے۔۔ ڈاکٹر نے دیکھتے ساتھ ہی۔ایکسپائیر قرار دے دیا تھا۔۔
شجیہ کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی زندگی کا آخری سہارا بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔۔۔
وہ دھاڑے مار کر رونا چاہتی تھی مگر وہ نہیں روسکی اور پھر جنازہ بھی اٹھ گیا لوگ اسے تسلّی دیتے رہے۔۔ مگر وہ ایک طرف کونے میں بیٹھی خاموش تماشائی بنی تھی۔۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو نہیں ٹپکا۔۔۔
“بیٹا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تمہاری۔دادو ہم۔سب کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔۔”
ظفر صاحب کو اس کی حالت دیکھ کر خوف آیا۔۔۔
اس نے ان کی بات پر اپنی خالی نظریں ان کی طرف اٹھائی۔۔۔
ظفر صاحب کا کلیجہ پھٹنے لگا اس کی حالت دیکھ کر۔۔۔
وہ۔شدید صدمے کے زیر اثر تھی جہاں۔رونا بہت ضروری تھا ورنہ یاداشت چلے جانے یا پاگل ہونے کے اثرات تھے۔۔۔
“انکل اس کا رونا بہت ضروری ہے۔۔” تین دن گزرنے کے بعد راہب نے اس کہ حالت دیکھتے ہوئے ان سے کہا۔
وہ اسے اپنے پاس لے آئے تھے اس وقت وہ لاؤنج میں سب کے ساتھ بیٹھی بھی الگ ہی لگ رہی تھی۔۔
راہب بھی آج وہیں تھا تو اسے اس طرح دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوا۔۔
“بیٹا ہم نے ہر ممکن کوشش کر لی مگر اس کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آتا۔۔”
ظفر صاحب پریشانی سے گویا ہوئے۔۔۔
“اگر آپ کہیں تو میں کوشش کروں؟ ” راہب نے ان سے اجازت مانگی۔۔۔
“بلکل بیٹا تم بھی اپنی کوشش کرلو ہوسکتا ہے تمہیں کامیابی ملے۔۔۔” ظفر صاحب نے بخوشی کہا۔۔
مگر سامنے بیٹھی موبائل میں مصروف رباب کے منہ کے زاویے بگڑ گئے۔
مگر اس وقت ظفر صاحب کے سامنے شجیہ کے خلاف وہ کچھ نہیں کہہ سکتی تھی اسی لئیے خاموش رہنا پڑا۔۔۔
“دوسرے دن راہب پھر آیا تھا اور آج وہ شجیہ کے لئیے ہی خاص طور پر یہاں تھا۔۔۔
لان میں اکیلا بیٹھا دیکھ کر وہ وہیں آگیا۔۔
“گرینی بہت اچھی تھیں۔۔ تمہیں پتا ہے انہیں صرف تمہاری فکر رہتی تھی۔۔
لاسٹ ٹائم بھی انہوں نے مجھ سے صرف تمہارے بارے میں بات کی۔۔”
وہ جو خاموشی سے لاتعلق بیٹھی تھی اس کی بات پر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
“وہ صرف یہی چاہتی تھیں تم اس معاشرے میں سر اٹھا کر جیو لوگوں کا مقابلہ کرنا سیکھو پڑھو اتنا کہ خود کی پہچان بنا سکو۔۔”
راہب کو اس کے سر اٹھانے سے تقویت ملی تو وہ بات مکمل کر گیا۔۔۔
“میں اکیلے نہیں رہ سکتی میں دادو کے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔ مجھے راتوں میں ڈر لگتا ہے۔۔۔”
ان۔تین دن میں اس نے پہلی بار کوئی بات کی تھی۔۔
ظفر صاحب بھی اسے دیکھ کر وہیں آگئے تھے اور اب شجیہ کے اس طرح بولنے پر وہ پر سکون ہوئے چلو اس کی خاموشی تو ٹوٹی۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی اور پھر دھاڑے مار کر رونے لگی شاید زندگی میں کبھی نہ روئی ہو۔۔۔
راہب کو اس وقت اس چھوٹی سی لڑکی پر بڑا ترس آیا۔۔۔
اسے رونے کے لئیے کسی کا کندھا بھی میسر نہیں تھا۔۔
ظفر صاحب ہی تھے وہ بھی ہر وقت آفس میں رہتے کون تھا جو اس کی سنتا۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ رو کر ہلکان ہوگئی تو ظفر صاحب نے اسے میڈیسن دے کر کمرے میں بھیج دیا۔۔ تھوڑی دیر میں وہ نیند کی وادی میں چلی گئی۔۔۔
آج راہب واپسی پر صرف شجیہ کو سوچ رہا تھا۔۔ وہ ایک رحم دل انسان تھا اس کے لئیے اپنی آنکھوں کے سامنے کسی کو تڑپتا اور سسکتا دیکھنا بہت مشکل تھا۔۔۔
“تم شجیہ کو کچھ زیادہ سیریس نہیں لے رہے۔۔”
آج راہب اسے کچھ کتابیں دینے آیا تو رباب نے اس پر طنز کے نشتر چلائے۔۔۔
“ہاں ویسے یہ کام تم لوگوں کا تھا وہ تمہاری کزن ہے مگر جب اپنے رشتے بے حس ہوجائیں تو دوسروں کو آگے بڑھنا ہوتا ہے اللّہ جس کو مدد کے قابل سمجھے۔۔۔”
راہب نے لاپروائی سے کہتے ہوئے واپسی کی راہ لی۔۔۔
رباب کو یہ بات مرچی کی طرح لگی وہ جی جان سے جل گئی۔۔۔
“تم یہ جتانا چاہتے ہو کہ ہم۔اس کا خیال نہیں رکھتے تم بہت بڑے ہمدرد ہو اس کے۔۔۔”
وہ اس کے راستے میں آئی۔۔۔
“یہ تم خود کہہ رہی ہو میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔
اور پلیز میرا ٹائم ویسٹ مت کرو مجھے اور بھی بہت کام ہے۔۔۔” ماتھے سے آگے آئے بال کو وہ جھٹکتا دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے لاپروائی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔
رباب جل کر خاک ہوگئی شجیہ کی نفرت اس کے دل میں کئی گناہ اضافہ کر گئی۔۔۔
راہب اب ظفر صاحب کے کہنے پر اسے ٹیوشن دینے آرہا تھا کیونکہ ایک وہی تھا جس کی بات وہ سمجھ بھی جاتی تھی۔۔۔
ذکیہ بیگم کی وفات کو ایک مہینہ ہوچکا تھا۔۔۔
شجیہ کی زندگی مزید اس پر تنگ ہوگئی تھی۔۔
راہب کے بڑھتی ہوئی ہمدردی اس کے لئیے مصیبت بن رہی تھی۔۔
رباب اور مہوش اس کے اوپر طنز کے نشتر چلاتے پھر پڑھائی کے وقت اسے مختلف کاموں میں لگا کر وہ ایک طرح سے اپنی جلن کا بدلہ نکال رہی تھیں۔۔
اور یہ سب ظفر صاحب کی غیر موجودگی میں ہوتا۔۔۔
دوسری طرف فاضل نے اس کی زندگی کو عذاب بنادیا تھا۔۔
ویسے وہ دیر سے رات کو گھر آتا شجیہ کی کوشش ہوتی وہ بہت کم اس کے سامنے آئے۔۔
اور اگر شجیہ نظر آجاتی تو وہ اپنی کمینگی دکھانا نہیں بھولتا۔۔۔
آج راہب کے گھر والوں کو ڈیٹ فکس کے لئیے گھر آنا تھا۔۔
مہوش نے صبح سے ہی۔شجیہ کو مختلف کاموں میں لگایا ہوا تھا اور وہ خاموشی سے کام میں جتی تھی۔۔
صبح کالج کی بھی چھٹی ہوگئی تھی۔۔۔
ان لوگوں کا خیال تھا کہ راہب آج اسے پڑھانے نہیں آئے گا۔۔ وہ رات میں ہی سب کے ساتھ ڈنر کے لئیے آئے گا۔۔
بلکہ رباب نے اسے کال کر کے منع بھی کردیا تھا۔اس کے باوجود وہ شام میں حاضر تھا۔۔
جسے دیکھ کر مہوش اور رباب گڑبڑا گئیں۔۔
“ارے تمہیں تو منع کیا تھا آج۔۔ کیا ضرورت ہے بیٹا اس لڑکی کے لئیے خود کو تھکانے کی۔۔
وہ تو کالج بھی نہیں گئی کب سے سورہی ہے۔۔”
مہوش نے راہب سے جھوٹ کہا۔۔
“کیا کالج نہیں گئی؟” مگر آج تو اس کا اہم ٹیسٹ تھا۔۔۔” راہب پریشان ہوا اور غصّہ بھی آیا۔۔
مہوش دل میں گھبرائیں اگر اسے سچ پتا چل گیا تو۔۔
ہاں۔دیکھو سب اس کا خیال رکھ رہے مگر اسے ہی اپنا کوئی خیال نہیں۔۔”
مہوش نے بات بنائی جب کہ رباب پارلر گئ ہوئی تھی تا کہ مزید فریش نظر آسکے۔۔۔
وہ ابھی جانے کا سوچ ہی رہا تھا اہک فلگ شگاف چیخ سے دونوں ہل گئے۔۔
راہب چونکا یہ تو شجیہ کی آواز ہے۔۔
“بی بی جی وہ۔شجیہ بی بی کا ہاتھ جل گیا ہے۔۔”
اس سے پہلے راہب کچھ سمجھتا نوری نے آکر اطلاع۔دی۔۔
راہب بغیر کچھ سنے کچن کی طرف گیا جہاں شجیہ اپنا ہاتھ لئیے تکلیف سے تڑپ رہی تھی۔۔
راہب کا دماغ گھوم گیا۔
“آپ لوگوں
اس سے پین الٹ گیا تھا اور اس کے ہاتھ پر گرم آئل گر گیا تھا۔۔
ہاتھ بری طرح جھلس گیا تھا وہ اسے بر وقت ہاسپیٹل لے کر گیا۔۔۔
جب کہ مہوش کا سوچ سوچ کر ہی برا حال تھا کہ ظفر کو پتا چلے گا تو کیا ہوگا۔۔۔
وہ ہاسپیٹل سے واپس پہنچا تو ظفر صاحب بھی اس کے ساتھ تھے راہب نے ان کو کال پر اطلاع دی تو وہ وہیں چلے گئے۔۔۔
وہ لوگ پہنچے تو احمد اور لائبہ بھی یہاں موجود تھیں۔۔
“ڈیڈ میں ایسی جگہ رشتہ نہیں جوڑ سکتا جہاں انسانیت کی اہمیت نہ ہو۔۔”
اس کے دو ٹوک فیصلے سے سب حیران اور پریشان ہوگئے۔۔۔
تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو بر خوردار۔۔” احمد لاشاری غصّے سے کھڑے ہوگئے۔۔۔
“ڈیڈ میں جانتا ہوں میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہ مجھے بہت پہلے کر لینا چاہئیے تھا۔۔۔
“یہ کوئی وجہ نہیں ہے راہب وہ لڑکی ان کا پرسنل میٹر ہے تمہیں خدمت خلق کرنے کا شوق ہے کرو مگر میرے فیصلے سے انکار کا حق تمہیں نہیں ہے۔۔”
احمد صاحب شدید غصّے کے عالم میں بول رہے تھے۔۔۔
ظفر صاحب خاموش بیٹھے تھے وہ جو شجیہ کا حال دیکھ کر آئے تھے۔ان کے اندر ہمت باقی نہیں تھی کہ وہ کچھ بھی بول سکیں۔۔
ایک طرف بیٹی تو ایک طرف بھتیجی تھی۔۔۔
راہب ابھی کچھ تماشہ نہیں چاہتا تھا اسی لئیے خاموشی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔
لائبہ اور احمد بھی زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکے تھوڑی دیر میں وہ بھی چلے گئے۔۔ اس کی تاریخ پکی ہونی تھی کچھ بھی نہیں ہوسکا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں جا کر بند ہوگئی۔۔
ظفر صاحب لائبریری میں چلے گئے انہوں نے مہوش سے کوئی بات نہیں کی جب کہ مہوش سر پکڑ کر رہ گئیں۔۔۔
شجیہ ان کی بیٹی کی خوشیوں کے پیچھے پڑی تھی۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: