Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 7

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 7

احمد صاحب بہت غصّے میں تھے ۔۔ وہ گھر آ کر راہب کا انتظار کر رہے تھے۔۔ مگر راہب کا اب تک کچھ پتا نہیں تھا۔۔۔
“آپ بیٹھ جائیں۔۔ اتنا غصّہ ٹھیک نہیں ہے آپ کی صحت کے لئیے۔۔”
لائبہ نے ان کو چوتھی بار لاؤنج میں ٹہلتے ہوئے دیکھا تو ڈرتے ہوئے کہا۔۔
“تم ابھی کچھ نہیں بولوگی۔۔ خبردار جو اب اس معاملے میں آئی۔۔ آج تو میں اس صاحب زادے کی صحیح سے کلاس لے کر رہونگا۔۔۔
سمجھتا کیا ہے خود کو ہر فیصلہ خود کرے گا ہم اس کے کچھ بھی نہیں ہیں۔۔۔” آج احمد صاحب کسی کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھے۔۔۔
لائبہ بیگم ان کی دھاڑ پر خاموش ہو کر بیٹھ گئیں۔۔۔۔
جب کہ کونے میں بیٹھی مریم بھی سہم گئی۔۔ دونوں سوچ رہی تھیں آج تو راہب کی خیر نہیں۔۔
“بھائی آج باہر ہی انتظام کرلیں سونے کا۔۔ “dad in.action…
مریم نے جلدی سے میسیج ٹائپ کر کے راہب کو سینڈ کیا۔۔۔
وہ بنا کسی مقصد کے سڑک پر گاڑی دوڑاتا رہا اور اپنا غصّہ نکال رہا تھا۔۔
تھک کر وہ ایک مال کے پاس گاڑی روک کر گاڑی کے اندر ہی بیٹھا تھا بیٹھا تھا۔۔۔
“پتا نہیں ڈیڈ کو۔کیا ضد ہے اس چڑیل کو میرے پیچھے لگادیا ہے۔۔”
راہب سٹیرینگ پر مکّا مار کر رہ گیا۔۔۔
کافی دیر بعد اس کا غصّہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے واپسی کی راہ کے لئیے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
اچانک ہی۔اس کے موبائل میں میسیج ٹون بجی تو اس نے میسیج دیکھا۔۔۔
“مطلب ہٹلر کے روپ میں آچکے ہیں؟”
اس نے مریم کو ریپلائی کیا۔۔
میسیج پڑھ کر مریم نے چور نظروں سے بھپرے ہوئے احمد لاشاری کو دیکھا۔۔۔
“آپ مذاق مت میں مت لیں بھائی بی سیریس واقعی situation is very difficult…
مریم آگے کا سوچ کر ہی ڈر رہی تھی اس نے پریشانی کے عالم میں ریپلائی کیا۔۔۔
“Ok my sister.. don’t worry you know that I am Rahib and I can handle it..
راہب نے مسکرا کر ٹائپ کر کے میسیج سینڈ کیا اور گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔
“بیٹا راہب مصیبت سے بچنے کی تمام دعا پڑھ لے آج تمہاری خیر نہیں۔۔”
راہب خود کلامی کرتا ہوا گھر کی طرف جانے لگا۔۔۔
راہب کی گاڑی کی آواز سنتے ہی مریم اور لائبہ دل ہی دل میں ڈر رہی تھیں۔۔
جب کہ احمد صاحب فوراً سیدھے ہوئے۔۔۔
“آئیے برخوردار آپ کا ہی انتظار تھا۔۔”
احمد لاشاری کا بھی اپنا ہی انداز تھا۔۔۔
“خیریت ہے ڈیڈ مورچہ تیار رکھا ہے میں نے تو اپنی طرف سے کوئی تیاری بھی نہیں کی۔۔۔
دیکھیں خالی ہاتھ ہوں مارا جاؤنگا۔۔۔”
راہب نے مصنوعی ڈرنے کی اداکاری کی اپنے خالی ہاتھ اوپر کی طرف کئیے۔۔۔۔
مریم اور لائبہ حیران سی دیکھ رہی تھیں۔۔ کیا چیز تھا راہب۔۔
“راہب سنجیدہ ہوجاؤ کیا کر کے آؤ آج وہاں؟ ؟
“آپ چاہتے ہیں میں رباب سے شادی کرلوں؟” راہب واقعی سنجیدہ ہوا اور سامنے بیٹھ کر گویا ہوا۔۔۔
“ہاں کیونکہ جس لڑکی کی وجہ سے تم رباب کو ریجیکٹ کرنے کا سوچ رہے وہ کبھی تمہارے قابل نہیں ہوسکتی۔۔۔”
وہ نرم مگر سنجیدہ لہجے میں گویا ہوئے کیونکہ راہب ان کا غصّہ ٹھنڈا کر چکا تھا۔۔۔
“واٹ!! وہ لڑکی مطلب شجیہ؟؟؟” وہ حیران تھا۔۔
“ڈیڈ یہ بات آپ کے ذہن میں کس نے ڈالی ہے؟”
سنجیدگی سے وہ۔ان۔سے سوال کر رہا تھا۔۔۔
“تم جس طرح سے اس کا خیال رکھتے ہو اس کے لئیے چیختے ہو کوئی اندھا بھی ہو اسے بھی سمجھ آجائے گا اگر وہ ایسا سوچ رہی تو غلط نہیں ہے۔۔۔”
احمد لاشاری نے شاید اسے آئنہ دکھایا تھا مگر وہ بھول چکے تھے جو لڑکا ایک جانور کو زخمی نہیں دیکھا وہ جیتی جاگتی لڑکی پر ہوتا ظلم کیسے برداشت کرتا؟؟۔۔
“ڈیڈ اگر ایسا کچھ نہیں بھی تھا تو اب ہو کر رہے گا جو شک ہے سب کو اسے یقین میں بدل دونگا۔۔۔”
وہ غصّے سے کہتا اوپر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔۔۔۔
احمد لاشاری اس کے۔دھمکی بھرے لہجے پر سنجیدہ اور پریشان ہوچکے تھے۔۔۔
جب کہ لائبہ اور مریم جو خاموش تماشائی بنی تھیں بے بسی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر رہ گئیں۔۔
کمرے میں جا کر اس کا غصّے سے برا حال تھا۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھا کچھ سوچتا ہوا موبائل نکالا کانٹکٹ لسٹ نکالا۔۔۔
اس نے موبائل پر کسی کو کال لگائی۔۔۔
“السلام علیکم انکل میں شجیہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں؟” کیا آپ میرا ساتھ دیں گے؟”
اس کے سنجیدہ سے کئیے گئے سوال پر وہ دھچکے کے زیر اثر تھے۔۔۔
“بیٹا آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ کو پتا ہے؟ ہمدردی یا غصّہ میں لئیے گئے فیصلے پچھتاوے کا باعث بنتے ہیں۔۔۔”
ظفر صاحب نے اپنے تئیں اسے اس کے فیصلے سے خبردار کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔
“انکل میں کوئی بھی decision جذبات میں نہیں لیتا اور مجھے اپنے فیصلوں پر قائم رہنا اور نبھانا آتا ہے۔۔
“آپ بتادیں میرا ساتھ دیں گے یا نہیں کیا آپ بھیجی پر بیٹی کو فوقیت دیں گے؟؟؟”
اس نے طنز بھرے لہجے میں کہا تو ظفر صاحب گڑبڑا گئے۔۔۔
“نہیں بیٹا ایسا نہیں ہے پہلی میری لاپروائی سے بیچاری کو کیا کچھ سہنا پڑا ہے۔۔۔ اب میں دل سے چاہتا ہوں اسے خوشی ملے۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ ظفر صاحب نے دل سے کہتے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔۔۔
“اوکے تھینکس۔۔” وہ بول کر فون کاٹ چکا تھا۔۔۔
اسے غصّہ اس بات پر زیادہ آتا وہ اس کے ڈیڈ تھے مگر رباب کی باتوں پر یقین کرتے۔۔۔
“انکل آپ جانتے ہیں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی اور وہ شجیہ وہ اتنی معصوم کیوں بنتی ہے؟
جب کہ مجھے پتا ہے کہ پڑھائی کے بہانے وہ کتنی باتیں کرتی ہےاس سے اور باہر ایسے ری ایکٹ کرتی ہے جیسے اس کے منہ میں زبان نہ ہو۔۔۔”
بلیک شرٹ اور جینز پہنے پرمنگ کئیے بالوں کو آگے کئیے میک اپ سے چہرے کے نقوز کو مزید نکھارا ہوا تھا۔۔
وہ احمد لاشاری صاحب کے آفس روم میں ان کے سامنے بیٹھی تھی۔۔ اور وہ اپنے کام روک کر اسے سن رہے تھے۔۔۔
ظفر صاحب ان کے کالج کے زمانے کے دوست تھے جب ان کی شادی ہوئی تو انہیں بیٹی کی خواہش تھی کیونکہ احمد صاحب کی کوئی بہن نہیں تھی۔۔
مگر راہب ہوا تو انہیں دکھ تو نہیں ہوا مگر دل میں بیٹی کی کمی رہ گئی پھر زوہا کے بعد یہ خواہش دل میں رہگئی جب راہب دو سال کا ہوا تو ظفر صاحب کی بیٹی رباب ہوئی۔۔
جس کی خوشی احمد صاحب کو سب سے۔زیادہ ہوئی اس دن سے ہی انہوں نے اسے اپنی بیٹی کہا تھا۔۔
پھر احمد صاحب کی لائبہ سے شادی ہوئی تو مریم کی پیدائش کے بعد بھی رباب کے لئیے ان کی محبت میں کمی نہیں آئی تھی۔۔
رباب اسی محبت کا فائدہ اٹھاتی تھی۔۔۔
احمد صاحب اور راہب کے اختلاف کی وجہ بھی یہی تھی۔۔۔
“میری بیٹی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ اسے کان سے پکڑ کر تمہارے پاس لاؤنگا وہ۔ تم سے کیسے شادی نہیں کرےگا میں دیکھتا ہوں۔۔”
انہوں نے اس کو کہا تو وہ خوش ہوگئی یہی تو چاہتی تھی وہ راہب کے خلاف کرنا چاہتا تھی اور وہ واقعی غصّہ ہو بھی رہے تھے راہب پر۔۔۔
وہ اس کی وجہ سے اپنے بیٹے کی خوشی کو نظر انداز کرچکے تھے۔۔۔
“خیریت ہے my little angle یہاں اداس بیٹھی ہے۔۔” چہرے پر خباثت کے رنگ لئیے فاضل اس کے سامنے تھا۔۔۔
وہ ٹیریس پر نگاہ جمائے آسمان کو دیکھنے میں مصروف تھی کہ فاضل کب آیا اسے خبر نہ ہوئی۔۔۔
“آپ۔۔۔آپ میرے کمرے میں کیوں آئے۔۔؟
وہ ہکلا کر کہتی ٹیریس سے ملحق اپنے کمرے کے باہر جانے والےدروازے کی جانب بڑھی تا کہ باہر نکل سکے۔۔۔
“اتنی جلدی کیوں ہے باہر جانے کی۔۔” وہ اس کی کلائی پکڑے سامنے آیا۔۔۔
شجیہ اس لمس سے پوری کانپ گئی۔۔۔
ایک چیخ۔اس کے لبوں سے ادا ہوئی۔۔۔
ابھی ابھی اندر آتے راہب نے بخوبی اس کی آواز سنی بلکہ ٹیریس کی طرف کھڑے ہونے کی وجہ سے دو سایہ لان میں داخل ہوتے ہی اسے نظر آئے۔۔۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں۔چڑھتا شجیہ کے کمرے کی جانب دوڑا۔۔
رباب اور مہوش بھی آواز سن کر باہر آئیں تو اس کے پیچھے چل دیں۔۔۔
اندر کا منظر دیکھ کر راہب کے چہرے پر خون سمٹ آیا۔۔۔
تم۔۔۔ راہب نے زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا کل وہ دور جا گرا۔۔
“اپنے گھر کی بیٹی پر بری نظر رکھتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی۔۔” وہ دھاڑا تھا۔۔
“اور آپ کیسی ماں ہیں؟ جسے اپنے بیٹے کے ارادے بھی سمجھ نہیں آتے۔۔۔”
اب وہ مہوش کی طرف مڑا تھا جو اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر پریشان تھیں۔۔۔
شجیہ کے آنسو نکل رہے تھے کسی کا کاندھا بھی میسر نہیں تھا جس کے گلے لگ کر رو سکے۔۔۔
“خوش ہو اب تم۔۔ پتا نہیں تمہیں کیا ملتا ہے روز یہ ڈرامے کر کے۔۔”
رباب اب آگے آئی تھی۔۔۔
“پلیز پیچھا چھوڑ دیں آپ لوگ اس کا” ہمیشہ کی طرح وہ ڈھال بنا تھا۔۔
“کیوں کیا لگتی ہے یہ تمہاری جو اس کا درد تمہیں بہت محسوس ہوتا ہے۔۔” مہوش نے طنز کے نشتر چلائے۔۔
“ٹھیک ہے آج ہی میں اس سے نکاح کرلیتا ہوں پھر بتاؤنگا کیا لگتا ہوں۔۔ انسانیت کی تو آپ لوگوں کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔”
اس کی دھاڑ اور فیصلہ کن لہجے سے سب کو سانپ سونگھ گیا۔۔
اور وہ جس کے بارے میں بات ہورہی تھی اس کے پیروں سے زمین نکل گئی مطلب اب اس کی ذات کا مزید تماشہ لگنا تھا۔۔
پیچھے کھڑی رباب کو لگا اس کی سماعت نے دھوکہ کھایا ہو وہ اس شخص کو نم آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہی تھی جس نے اپنے نام کی انگوٹھی اسے پہنائی تھی اب کس طرح وہ کسی اور کا نام لے رہا تھا۔۔۔
وہ ظفر صاحب کو کال کر چکا تھا اور خود شجیہ کے کمرے میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
فاضل ایک تھپڑ سے ہی ڈر کے باہر جاچکا تھا۔۔
مہوش الگ پریشان سی ٹہل رہی تھیں۔۔ کیونکہ وہ اب خاموش بیٹھا تھا کسی بات کا جواب دئیے بغیر۔۔۔
شجیہ سامنے بیٹھی آنے والے وقت سے خوف زدہ تھی۔۔۔
رباب نے نیچے جا کر احمد صاحب کو کال ملادی اور بڑھا چڑھا کر انہیں حالات سے آگاہ کیا۔۔
ظفر صاحب پہنچے تو ان کے ساتھ نکاح خواہ ارسل اور دو لوگ ساتھ تھے۔۔
ظفر صاحب نے شجیہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ خالی نظروں سے ان کو دیکھنے لگی۔۔۔
“بیٹا میں تمہاری حفاظت نہیں کرسکا مجھے معاف کرنا مگر میں تمہیں ایسے ہاتھوں کے سپرد کر رہا ہوں جو تمہیں کبھی رسوا نہیں کرےگا۔۔۔”
ظفر صاحب نے کہا تو وہ لاعلمی سے ان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“سائین کردو بیٹا یہ سوچ کر کہ تمہارے تایا پہلی دفع تمہارے بارے میں کوئی اچھا فیصلہ کر رہے ہیں۔۔۔”
انہوں نے کہا تو اسے بات سمجھ آئی اور پھر وہ ربورٹ کی۔طرح سائین کرتی گئی۔۔۔
مہوش سارا تماشہ۔دیکھ رہی تھیں۔۔۔
مگر ظفر صاحب کے غصّے سے خاموش تھیں۔۔
“آپ میری بیٹی کی خوشی کسی اور کو نہیں دے سکتے۔۔۔” انہوں نے سامنے آنے کی کوشش کی۔۔۔
“اگر آج آپ میری بھتیجی کی خوشیوں میں۔رکاوٹ بنیں تو میرا اور آپ کا رشتہ بھی ختم ہوجائے گا۔۔ “
سفاک لہجے سے کی ہوئی بات پر ان کے ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔۔۔
خاموشی سے کھڑی تمام کاروائی دیکھتی رہیں۔۔۔
یہاں تک کہ مبارک سلامت کا شور اٹھ گیا۔۔۔
شجیہ بدر سے شجیہ راہب بن چکی تھی۔۔۔
راہب کو ارسل نے گلے لگایا تو وہ۔حیران ہوا۔۔
“حیران مت ہو ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا۔۔ میں تمہارا دوست ہوں۔اور رہونگا اب تو میری بہن بھی تمہارے پاس ہے۔۔
وہ شجیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا تھا۔۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی راہب… تم نے اتنا بڑا قدم مجھ سے پوچھے بغیر کیسے اٹھایا۔۔۔۔”
احمد صاحب کو دیکھ کر کمرے میں خاموشی چھا گئی۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 11

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: