Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 8

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 8

سب کی نظر احمد صاحب کی طرف اٹھی رباب روتی ہوئی ان کے پاس آئی۔۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگالیا۔۔۔
“دیکھا ڈیڈ اس نے اپنی معصومیت سے پاپا کو بھی اپنی طرف کرلیا کہ وہ اپنی بیٹی کو چھوڑ کر اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔۔۔”
رباب ان کے سینے سے لگی روتی ہوئی کہہ رہی تھی۔۔۔۔
“افسوس آرہا ہے مجھے تمہیں اپنا دوست کہتے ہوئے ظفر۔۔ تمہیں اپنی بیٹی کے آنسو نظر نہیں آرہے۔۔۔ تم نے اپنی بیٹی پر کسی اور کو فوقیت دی۔۔۔
اب احمد صاحب کا رخ ظفر صاحب کی جانب تھا۔۔۔
“تم بھی تو یہی کر رہے ہو۔۔” ان کا اشارہ رباب کی طرف تھا جس پر انہوں نے تڑپ کر رباب کو دیکھا۔۔۔
اس کا کوئی باپ نہیں ہے تو اس کا مطلب اس پر خوشیوں کا کوئی حق نہیں اسے ان لوگوں کے پاس چھوڑ کر تڑپتا ہوا دیکھوں۔۔ بھتیجی ہے میری یہ اور یہ بیٹی میں نے انصاف کیا ہے دونوان میری اپنی بچیاں ہیں جو مجھے ٹھیک لگا میں نے اس کا ساتھ دیا ہے بیٹی ہے تو غلطی میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتا۔۔۔
تم بھی اپنی آنکھیں کھولو غلط اور صحیح میں فرق جان جاؤ گے۔۔۔”
ظفر صاحب احمد صاحب سے کہہ کر کمرے سے چلے گئے۔۔۔
“ڈیڈ گھر چل کر بات کریں۔۔”
راہب آگے آیا۔۔۔
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی اور خبردار جو میرے گھر آنے کی کوشش بھی کی۔۔۔
احمد صاحب بھی راہب کو دھمکی دے کر چلے گئے۔۔۔
رباب بدمزہ ہوئی وہ تو سمجھی تھی وہ یہ رشتہ ختم کروادیں گے شجیہ کو کچھ کہیں گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو اسے احمد صاحب پر بہت غصّہ آیا۔۔۔
شجیہ پر قہر بھری نظریں ڈال کر وہ بھی کمرے۔ سے نکل گئی۔۔۔
اب صرف ارسل راہب اور شجیہ کمرے میں رہ گئے تھے۔۔۔
“یار انکل غصّے میں ہیں تمہارا رہنے کا مسئلہ ہے تو میں بندوبست کردیتا ہوں۔۔۔”
ارسل نے پیشکش کیا تو راہب نے فوراً منع کردیا۔۔۔
“نہیں یار وہ کہیں گے تو کیا میں نہیں جاؤنگا۔۔۔ اگر آج نہیں گیا تو بات اور بڑھ جائے گی۔۔۔ میں جاؤنگا تو وہیں اپنی ماں اور بہن کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔
شجیہ نے اس کی بات پر نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
میری وجہ سے کتنی پریشانی اٹھانی پڑے گی ان کو بھی۔۔”
وہ سوچ رہی تھی دو آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر نکلے۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی اب میری جب بھی ضرورت ہو پکار لینا فوراً حاضر ہوجاؤنگا۔۔”
ارسل نے کہا تو راہب نے۔ اسے گلے لگالیا۔۔
“تھینکس۔۔”
“چلو اب چلتا ہوں پتا نہیں گھر پر کیا کیا ہوگا ڈیڈ نے۔۔” راہب نے کہہ کر اس سے رخصت کی اجازت لی۔۔۔
“آؤ۔۔” اس نے اب شجیہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔
وہ بت بنی اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“میں بھی جاؤں؟؟۔۔۔” حلق سے پھنسی ہوئی آواز سے اس نے ہچکچا کر مشکل سے یہ سوال ادا کیا۔۔۔
“مسز شادی ہوئی ہے ہماری آپ کو یہاں چھوڑنے کا رزق تو میں نہیں لے سکتا۔۔ ظاہر سی بات ہے اب تو میرے ساتھ ہی جانا ہے جہاں بھی میں لے جاؤں۔۔۔
چاہے جہنم ہی کیوں نہ ہو۔۔۔”
راہب نے اس کے قریب آ کر اس کے کان کے۔ پاس شرارت سے کہا اور خود ہی اس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے لگا۔۔۔
شجیہ کو پہلی بار کسی مرد کے لمس سے تحفظ محسوس ہوا۔۔۔
وہ روبورٹ بنی اس کے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔
ارسل حیرت۔ سے۔ دیکھ رہا تھا اتنے ٹینشن والے ماحول میں بھی وہ مسکرا رہا تھا اور ریلکس تھا واقعی وہ راہب تھا۔۔
ارسل۔ نے دل سے ان دونوں کے لئیے دعا کی۔۔۔
گیٹ کے پاس پہنچے تو ظفر صاحب بھی آگئے۔۔۔
“بیٹا مشکل آئے گی لیکن تم ثابت قدم رہنا۔۔” وہ راہب سے کہہ رہے تھے۔۔
“اور بیٹا تم اپنے حسن اخلاق کی بدولت وہاں کے لوگوں کا دل۔ جیتنے کی کوشش کرنا اب راہب کا سہارا ہے تمہارے پاس کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
وہ شجیہ کے سر پر ہاتھ رکھے کہہ رہے تھے تو وہ بے ساختہ ان کے سینے سے لگ گئی اور آنسو لڑیوں کی صورت بہنے لگے تھے۔۔۔
ایک احساس جو اسے ہوا تھا وہ یہی تھا کہ وہ یہ گھر یہ رشتے ہمیشہ کے لئیے چھوڑ کر جارہی ہے۔۔۔
بھلے سے اس گھر سے اس کی کوئی اچھی یادیں وابستہ نہیں تھیں لیکن اپنی۔ زندگی کا ایک وقت اس نے اسی گھر میں۔ گزارا تھا۔۔۔
“چلیں۔۔۔” راہب نے نرمی سے اسے ظفر صاحب سے الگ کیا اور اسے ساتھ لگا کر گاڑی تک لایا اور آگے کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھایا۔۔۔
شجیہ اپنے دکھ میں اتنا غرق تھی اس نے راہب کی قربت محسوس ہی نہ کی۔۔۔
پھر خود ظفر صاحب سے مل کر ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔۔۔ اور گاڑی سٹارٹ کر کے دروازے سے گھر سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
“رونا بند کرو یار مجھے لڑکیوں کو چپ کروانے کا کوئی خاص ایکسپیرینس نہیں ہے۔۔۔”
راہب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے جھنجلا کر کہا جو مسلسل سو سو کر رہی تھی۔۔۔
شجیہ کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا یہ اچانک اس کی زندگی کس طرح بدلی تھی۔۔۔
پورے راستے پھر وہ خاموش رہی بس آنسو تھے جو ہر تھوڑی دیر بعد آنکھوں سے بغاوت کرتے اور باہر آجاتے۔۔۔
“اترو۔۔” وہ ہوش میں آئی جب راہب دروازہ کھولے اسے اترنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے اپنے۔ قدم زمین میں رکھے اور گاڑی سے باہر آئی۔۔۔
اس نے دیکھا سامنے شاندار سا محل نما گھر تھا۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ لئیے اندر آگیا۔۔۔
لاؤنج میں داخل ہوا۔۔۔
جہاں احمد صاحب اسے دیکھ کر ہی کھڑے ہوگئے۔۔۔
“کیوں لائے ہو اسے یہاں۔۔۔؟ وہ غصّے س دھاڑے۔۔۔
“کیونکہ یہ اب اس گھر کی بہو ہے۔۔۔ جہاں میں رہونگا وہیں یہ بھی رہے گی۔۔۔”
راہب اطمینان سے آگے آیا اور جیب میں ہاتھ ڈالے آرام سے ان سے کہا۔۔۔
“تم بھی نکل جاؤ میرے گھر سے نہ تم میرے بیٹے ہو آج سے اور اسے تو میں بہو مانتا ہی نہیں۔۔۔”
نفرت سے کہہ کر انہوں نے رخ موڑ لیا۔۔۔
شجیہ کا دل کانپنے لگا۔۔۔
“کیا یہاں۔ سے بھی وہ رسوا کر دی جائے گی۔۔۔”
“ڈیڈ میں آپ کے کہنے پر اپنی ماں اور بہن کو نہیں چھوڑ سکتا نہ آپ کو چھوڑ سکتا ہوں آپ دھکے دے کر بھی نکالیں گے تو میں یہیں واپس آؤنگا۔۔۔ کیونکہ میرا ٹھکانا یہی گھر ہے اور میرے اپنے صرف آپ لوگ۔۔۔۔
راہب نے نرم سے لہجے میں کہا تو احمد صاحب آگے آئے۔۔۔
“ٹھیک میں دھکے دے کر نکال رہا ہوں جاؤ ابھی اور اسی وقت یا پھر اسے چھوڑ کر آؤ۔۔۔ ہم یا پھر یہ دونوں میں سے ایک منتخب کرو۔۔۔”
انہوں نے ترپ کا پتّا پھینکا۔۔۔
“آپ اب نا انصافی کر رہے ڈیڈ اسے بھی نہیں چھوڑ سکتا جسے اتنے لوگوں کے سامنے خدا اور رسول کو گواہ بنا کر اسے اپنی زندگی میں شامل کیا ہے۔۔۔۔”
راہب نے تڑپ کر کہا۔۔ تو لائبہ جو کب سے بیٹھی تھیں آگے آئیں۔۔
بس کردیں احمد آپ کا کوئی حق نہیں کہ میرے بیٹے کو اس گھر سے نکالیں۔۔۔
آپ کو ضرورت نہیزن ہوگی اس کی لیکن اس کی ماں اور بہن کو ضرورت ہے اس کی۔۔۔
آپ خود غرضی کی حد پار کر تے وقت یہ بھی بھول گئے کہ صرف آپ کا رشتہ نہیں ہے اس سے میرا بھی ہے۔۔۔
ایک ماں کو اس کے بیٹے سے جدا کر کے آپ کو سکون نہیں ملے گا۔۔۔”
لائبہ نے جذباتی ہو کر آگے آ کر راہب کو بازو سے پکڑا۔۔ مبادا وہ کہیں چلا نہ جائے۔۔۔ تو راہب نے انہیں اپنے ساتھ لگالیا۔۔۔
“آپ ایموشنل ہورہی ہیں۔۔۔” احمد صاحب لائبہ کہنے پر ٹھنڈے پڑے۔۔۔
“ٹھیک ہے صرف آپ کے کہنے پر میں نے رہنے کی اجازت دی ہے مگر اسے کہئیے گا اس لڑکی کو میری نظروں سے دور رکھے۔۔۔۔”
وہ نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔۔۔
شجیہ اتنی نفرت پر کانپ گئی۔۔ مطلب امتحان اور باقی تھے۔۔۔
واہ مام آپ نے بتادیا آج آپ واقعی میری مام ہیں۔۔۔ کیا ایموشنل بلیک میل کیا ہے۔۔۔
وہ لائبہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے شرارت سے کہہ رہا تھا۔۔۔
“تمہیں ایکٹنگ لگ رہی ہے یہ؟ ” وہ صدمے سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“ہاہا میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔”
“بھائی آپ کبھی تو سیریس ہو جایا کریں ۔۔ اتنی بڑی بات ہوگئی پھر بھی آپ ریلیکس ہیں۔۔۔”
مریم کو بہت حیرت ہوتی جب راہب سخت سے اخت حالات میں بھی آرام۔ سے رہتا۔۔
“چلو موٹی دماغ مت کھاؤ میں جب سیریس ہوگیا تو خود روگی۔۔۔”
راہب نے اس کے سر پر چپت رسید کی۔۔۔
“تم دونوں اپنی باتوں میں اس کو بھول گئے ہو جسے لائے ہو۔۔۔
“مریم جاؤ بھابھی کو کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
لائبہ نے کہا تو مریم جلدی سے آگے آئی۔۔۔
“آئیے بھابھی۔۔” وہ اسے لے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“تھینکس۔۔۔” وہ لائبہ کے گلے میں ہاتھ ڈالے کہہ رہا تھا۔۔۔
“تھینکس کس لئیے۔۔۔”
لائبہ نے مسکرا کر خوب رو بیٹے کو دیکھا جو ان کا سگا بیٹا نہیں تھا مگر اس سے بڑھ کر تھاانہیں لگتا ہی نہیں کہ اس نے ان کے کوکھ سے جنم نہیں لیا ہے بلکہ انہیں ویسے ہی محبت محسوس ہوتی جیسے مریم کے لئیے۔۔۔
“اس لئیے کہ آپ کو پتا تھا آج میں نکاح کر رہا ہوں آپ کو سب پتا تھا آپ نے میرا ساتھ دیا۔۔۔ اور میری بیوی کو اپنے دل میں جگہ دی۔۔۔”۔وہ آنکھ مارتا ان کو کہہ رہا تھا۔۔۔
تمہاری بیوی میری بہو ہے صاحب زادے اب جاؤ اس کو ٹائم دو۔۔۔” لائبہ نے اس کے کان پکڑ کر شرارت سے کہا۔۔۔
“ارے اس کے ساتھ تو بہت ٹف ٹائم گزرنے والا ہے۔۔ وہ تو بات کرتی ہوئی کانپ جاتی ہے۔۔۔”
راہب نے بھی شرارت سے کہا تو لائبہ کو بھی ہنسی آگئی۔۔۔۔۔
“یہ راہب بھائی کا کمرا ہے اور آج سے آپ کا بھی۔۔۔” یہاں بیٹھ جائیں آرام سے۔۔”
مریم نے شجیہ کو بیڈ پر بیٹھنے کہا۔۔۔
مگر وہ سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
وہ حیرت سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔
وائٹ فرنشڈ ہوا بڑا سا کمرا آف وائٹ کلر کی تھیم کی تمام چیزیں اس کمرے میں موجود تھیں۔۔۔
کھڑکی میں لگے بھاری کرٹن بھی آف وائٹ کلر کے تھے۔۔۔
دیواروں پر جگہ جگہ راہب کی تصویر لگی تھی۔۔۔ جہاں وہ کبھی کوئی ایوارڈ لیتا مسکرا رہا تھا تو کبھی کوئی میڈل پہنتا فتح کے تفاخر سے سر بلند تھا۔۔۔
“یہ بھائ کی تصویریں ہیں گولڈ میڈیلیسٹ ہیں بھائی۔۔۔ پڑھائی کے ہر میدان میں انہوں نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔۔۔”
مریم نے فخر سے بتایا۔۔۔
“میں نالائق بی اے کرنے والی لڑکی راہب سر کے قابل نہیں تھی۔۔۔سر نے ہمدردی میں خود کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے۔۔”
شجیہ کو اس وقت اپنا آپ بہت چھوٹا لگا راہب کے آگے۔۔۔
“آپ آرام سے بیٹھیں میں بھائی کو بلاتی ہوں۔۔۔”
وہ جانے لگی کہ راہب اندر داخل ہوا۔۔۔
“اچھا ہوا آپ آگئے بھائی میں آپ کو ہی بلانے جارہی تھی۔۔”
“ذرا کچھ کھانے کا انتظام کردو بہت بھوک لگی ہے۔۔”
راہب نے مریم کو کہا۔۔
“جی بھائی۔۔ یہیں بھجوادوں یا نیچے لگانا ہے۔۔”
مریم نے مڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“یہیں لادو یار باہر تو ہٹلر بیٹھیں ہیں۔۔”
راہب نے بات کو مزاح کا رنگ دیا۔۔
مریم سر ہلا کر کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
اب کمرے میں صرف شجیہ اور راہب تھے۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھا اپنے جوتے اتارنے لگا پھر گھڑی۔اتار کر سائیڈ ٹیبیل پر رکھی۔۔
کچھ وقت خاموشی سے سرک گئے۔۔
وہ اپنے ہاتھ گود میں رکھے انہیں۔دیکھنے میں مصروف تھی جب راہب کی آواز پر چونکی۔۔۔
“یہاں آجاؤ آرام۔ سے بیٹھ جاؤ۔۔” راہب اب آستین کے کف موڑتے ہوئے اسے دیکھتا ہوا کہنے لگا۔۔۔
شجیہ نے اس کی بات پر سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔ اور نفی میں گردن ہلا کر سر جھکا لیا۔۔
راہب خاموش ہوگیا۔۔ابھی اس میں بہت محنت کرنی تھی اپنا اعتماد جیتنا تھا۔۔۔ اسے اپنے ہونے کا یقین دلانا تھاابھی بہت وقت تھا۔۔۔
وہ چینج کرنے کی۔ غرض سے ڈریسینگ روم میں چلا۔ گیا۔۔۔
“پتا نہیں کیسے رہے گی وہ اس کے ساتھ۔۔ اس نے رو کبھی اس سے بات کرنے کی بھی کوشش نہیں کی تھی مشکل سے پڑھائی کے وقت کوئی سوال کرتی۔۔۔
اب پوری زندگی گزارنی تھی۔۔۔
شجیہ کا سوچ سوچ کر برا حال تھا۔۔ آگے کا سوچ کر ہی وہ کانپ رہی تھی۔۔۔
اپنی سوچ میں محو تھی جب وہ نائٹ ڈریس میں۔ فریش سا باہر آیا۔۔
“تم بھی چینج کرلو ریلیکس ہوجاؤ دوستانہ انداز میں اسے کہہ رہا تھا جب شجیہ نے اسے اس طرح دیکھا تو اسے یاد آیا۔۔۔
“اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا تمہارا تو کوئی ڈریس بھی نہیں آیا۔۔ جلدی جلدی میں ان چیزوں کا خیال ہی نہیں رہا۔۔”
وہ سر پر ہاتھ رکھ کر جیسے خود کی یاداشت پر ماتم کر رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔
“میں مریم سے کہتا ہوں تم رات تک گزارا کر لو میں کل لادونگا۔۔۔” وہ جانے لگا جب شجیہ نے اسے جلدی سے روکا۔۔۔
“نہیں ٹھیک ہے۔۔ میں ایسے ہی صحیح ہوں۔۔” اس کو اچھا نہیں لگا کوئی اس کی وجہ۔ سے ڈسٹرب ہو۔۔
اسی لئیے۔ جو اتنی دیر سے خاموش تھی بول اٹھی۔۔۔
راہب اس کے ایسے بولنے پر پہلے حیرت کا شکار ہوا پھر مسکرادیا۔۔
“اوکے۔۔ جیسے تمہاری مرضی۔۔” راہب نے اسے دیکھا وہ عام سے تھری پیس کاٹن کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس تھی اور چہرہ میک اپ سے پاک تھا۔۔۔
کیا دلہن تھی اور کیا شادی ہوئی تھی اس کی راہب کو دکھ ہوا۔۔۔
دروازے پر دستک ہوئی راہب کے یس کہنے پر ملازمہ داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔۔۔
“تھینکس۔۔” وہ ٹرے لے کر صوفے پر ہی بیٹھ گیا۔۔۔
ملازمہ کھانا دے کر چلی گئی۔۔۔
درمیان میں ٹرے رکھا اور خود ایک پاؤں صوفے پر ایک زمین پر رکھ کر بیٹھا۔۔
چلو اب جلدی سے کھانا شروع کرو مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔
شجیہ نے اسے دیکھا اتنے لمبے چوڑے وجود کو صوفے پر مشکل ہورہی تھی مگر اس کے خاطر وہ یہاں بیٹھا تھا۔۔۔
شجیہ خاموشی سے چھوٹے چھوٹے لقمے بناتی منہ میں ڈالتی رہی۔۔۔
کھانا خاموشی سے ختم کرنے کے بعد راہب نے ٹرے سائیڈ پر رکھا۔۔۔
اب سونے کا مسلئہ تھا۔۔۔
جو اس کے ساتھ بیٹھنے پر ہچکچا رہی ہے۔۔ وہ بیڈ پر سونے کے لئیے کیسے تیار ہوسکتی ہے۔۔۔
اس کے ذہن کو سمجھنے کے لئیے کچھ وقت چاہئیے۔۔ راہب نے سوچا۔۔
“تم بیڈ پر آجاؤ۔۔ میں وہاں سوجاؤنگا۔۔۔”
راہب نے کہا تو شجیہ کو بہت عجیب سا محسوس ہوا اس کا دل دھڑکا۔۔
واقعی رشتہ بدل چکا تھا اسے احساس ہوا۔۔
وہ خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی اور بیڈ کے پاس کھڑی ہوگئی۔۔
جب تک راہب بیڈ سے نہیں اترا وہ وہاں سے نہیں ہلی۔۔
راہب صوفے پر لیٹا تو وہ بیڈ پر بیٹھی مگر لیٹی نہیں تھی۔۔
راہب نے جان کر آنکھیں بند کر لی جب اسے لگا کہ راہب سو گیا ہے تو وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔
اس کی زندگی بدل گئی تھی آج اس کا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔۔۔ ابھی تو رباب کا ری ایکشن باقی تھا۔۔
پتا نہیں راہب یہ رشتہ نبھا سکے گا یا نہیں۔۔۔ آخر اس کا مستقبل کیا ہے۔۔۔
شجیہ مسلسل سوچ رہی تھی۔۔۔۔
صبح راہب کی آنکھ کھلی تو وہ چینج کر کے پہلے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
تا کہ شجیہ کو کسی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔
رات کو دیر سے نیند آنے کی وجہ سے شجیہ دیر تک سوتی رہی۔۔اور شاید ذکیہ بیگم کے۔ انتقال کے بعد وہ پہلی بار سکون سے سوئی جہاں کسی فائز کا ڈر نہ تھا۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھی تو صوفے پر دیکھا راہب نہیں تھا اس کا مطلب وہ جا چکا ہے۔۔۔
شجیہ کو سکون ہوا۔۔۔
اچانک کمرے میں۔ دستک ہوئی تو وہ پریشان ہوئی۔۔۔
“بھابھی اٹھ گئیں آپ۔۔؟” مریم کی آواز آئہ تو اسے اطمینان ہوا۔۔
اس کے آواز دینے پر وہ اندر آگئی۔۔ ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔۔۔
“اب جلدی سے فریش ہو کر آئیں اور فوراً یہ ناشتہ فنش کریں۔۔۔ آپ کے شوہر مجھے خاص ہدایت کر کے گئے ہیں۔۔ کہ ان کی بیوی کا خیال رکھوں۔۔”
مریم کو شاید بولنے کی عادت تھی۔۔
شجیہ نے بھائی کے نام پر اسے دیکھا یہ پوچھ نہیں سکی کہ وہ خود کہاں ہے۔۔۔
“بھائی یونی ورسٹی گئے ہیں پڑھانے۔۔”
مریم شاید اس کی۔ سوچ پڑھ چکی تھی۔۔۔۔
شجیہ منہ ہاتھ دھو کر آئی تو مریم جا چکی تھی وہ آرام سے ناشتہ کرنے لگی اکیلے میں اس سے کھایا جارہا تھا اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔۔۔
وہ کمرے میں ہی بیٹھی رہی پھر احمد صاحب کے آفس جانے کے بعد مریم کمرے میں آئی اور اسے اپنے ساتھ نیچے لے آئی۔۔۔
لائبہ اس سے چھوٹے موٹے سوال کرتی رہیں۔۔۔ مریم اپنی باتونی طبیعت کی وجہ سے اسے بھی بولنے پر اکسا رہی تھی۔۔۔
پھر اپنے ساتھ کچن میں لے آئی جہاں وہ آج کل ویڈیوز دیکھ کر نئی نئی ڈشز تیار کر رہی تھی۔۔۔
آج وہ کیک بنارہی تھی تو شجیہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔
یہ سب راہب کے بتائے ہوئے منصوبے پر ہی کر رہی تھی جس کا مقصد شجیہ کو دوسری سرگرمیوں میں لگانا ہے تا کہ اس کا اعتماد بڑھے۔۔۔
راہب گھر آ بھی گیا تھا مگر اسے پتا نہیں چلا۔۔۔
مریم کے ساتھ اسے واقعی مزہ آرہا تھا۔۔۔
جب ملازمہ نے راہب کے بلانے کی اطلاع دی تو وہ مرے ہوئے قدموں سے کمرے میں گئی۔۔
“یہ تم نے اپنی جگہ فکس کر لی ہے کیا؟”
“جی!!” وہ جو ابھی راہب کے بلانے پر۔۔
کمرے میں آئی تھی۔۔ صوفے پر بیٹھتے ہی راہب کی بات پر حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
“مطلب مجھ سے کوئی الرجی ہے؟ اتنے فاصلے پر بیٹھتی ہو جیسے میرے قریب آنے پر تم پتھر کی ہوجاؤگی۔۔”
اس کی بات پر شجیہ نے پہلو بدلا۔۔۔
“یہاں آؤ۔۔” اس نے تحکم بھرے لہجے میں بیڈ پر اپنے برابر میں اشارہ کرتے ہوئے حکم دیا تو وہ جزبز ہوئی۔۔۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں یہیں پر آپ کو کوئی ضروری کام تھا مجھ سے؟؟”
شجیہ نے گھبرا کر جلدی سے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔
“میری دور کی نظر کمزور ہے۔۔ اتنی دور سے مجھے بات کرنے میں مسلئہ ہوگا۔۔ یہاں آ کر بیٹھو۔۔۔”
اب رعب دار لہجے میں کہا تو شجیہ مرے ہوئے قدموں سے چلتی ہوئی آئی اور بیڈ کے کنارے ٹک گئی۔۔۔۔
“اور قریب۔۔” راہب نے کہا تو وہ روہانسی ہوگئی۔۔ اور تھوڑا سا کھسک کر آگے کو ہوئی۔۔۔
یہاں آؤ اس نے اپنے برابر میں جگہ بنائی۔۔۔
“آپ بولیں مجھے کچن میں کام ہے۔۔۔
شجیہ وہاں سے ہلے بغیر بولی۔۔۔
“جاؤ تم کام کرلو بات بعد میں ہوجائےگی تمہارے لئیے کام زیادہ اہم ہے۔۔۔۔
وہ اچانک ہی سنجیدہ ہوا اور بول کر رخ موڑ گیا۔۔
شجیہ فوراً ہی پریشان ہوئی۔۔۔
راہب کو اچانک احساس ہوا اس نے غلط کیا۔۔۔
کل تو وہ سوچ رہا تھا اسے وقت دینا ہے اور آج ہی۔ اس نے خود کو سرزش کی۔۔
فوراً موڈ ٹھیک کیا۔۔
“ارے تم ابھی سے کام کر رہی ہو۔۔ کس کی ہمت ہوئی میری بیوی سے کام کروانے کی۔۔۔ ” وہ مصنوعی غصّے سے کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے حیرت سے اس کے بدلتے ہوئے روپ کو دیکھا۔۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 36

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: