Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 9

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد قسط نمبر 9

شجیہ کو آئے ہفتہ ہوچکا تھا اب بھی راہب سے بے تکلفی نہیں ہوسکی تھی۔۔۔
وہ جاب سے آیا تو شجیہ کو اپنے پاس بلایا۔۔۔
“جی” وہ سامنے کھڑی تھی۔۔۔
“سنو!! یہ شاپنگ بیگ دیکھ لو میں نے اپنے انداز سے تمام چیزیں لے لی ہیں پھر بھی کسی چیز کی کمی ہو تو مجھے بتادینا۔۔۔
راہب اسے شاپنگ بیگ کی طرف اشارہ کر کے خود واش روم میں چلا گیا۔۔۔
راہب کے جانے کے بعد شجیہ نے شاپنگ بیگ دیکھنا شروع کیا۔۔۔
نئے سٹائلیش سے برانڈیڈ ریڈی میڈ سوٹ جو کم سے کم ایک مہینے تک چل جاتے۔۔
اس کے ساتھ سینڈیلز جوتے۔۔
اور چند میچینگ کی جیولری بھی تھی۔۔
یہاں تک کے میک اپ کے سمان دیکھ کر بھی شجیہ کو حیرت ہوئی۔۔
یہ سب تو شجیہ نے بھی کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔۔اور کچھ خالص زنانہ چیز کو دیکھ کر وہ شرم سے سرخ ہوگئی۔۔۔
افف ان چیزوں کی بھی راہب کو فکر تھی۔۔۔
شجیہ ان چیزوں کو جلدی سے رکھنا چاہتی تھی کہ وہ باہر آگیا۔۔
اس کی گھبراہٹ اور سرخ چہرے کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ تمام چیزوں پر اس کی نگاہ پڑ چکی ہے۔۔
وہ اپنی مسکراہٹ دباکر الماری سے اپنی شرٹ نکالنے لگا۔۔۔
“اس سائیڈ میں تم اپنی چیزیں رکھ دو۔۔۔
وہ۔ایک سائیڈ کی طرف خالی کرتا بولا۔۔۔
شجیہ سرخ چہرے کے ساتھ جلدی جلدی وہ شاپنگ بیگ سے۔ چیزیں نکال کر رکھنے لگی۔۔۔
راہب بھی وہیں کھڑا اپنی۔ شرٹ پہننے لگا۔۔۔
ایک تو وہ اس رشتے کو لے کر اب تک حیرت اور پریشان تھی یہ رشتہ قبول کرنا ہی اس کے لئیے مشکل تھا اوپر سے راہب کا اچانک اس کے لئیے ایسا روّیہ شجیہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہوگئی۔۔۔۔
راہب اس کی گھبراہٹ دیکھ کر ایک طرف ہوگیا تا کہ وہ آرام سے اپنا کام کرے۔۔۔
شجیہ نے چور نظروں۔سے تیار ہوتے راہب پر ایک نظر ڈالی وہ رائل بلو کلر کی شرٹ پہنے بالوں کو سیٹ کئیے نک سک سے تیار اب خود پر فریگنینس کی بارش کر رہا تھا۔۔
چوڑی پیشانی ہلکی براؤن آنکھیں جس کی چمک سے سامنے والے کی آنکھیں چندھیا جائیں۔۔
بلکل صاف رنگت جس پر براؤن داڑھی۔۔ دیکھنے والے کو کسی ترکش نوجوان کا گمان ہو۔۔۔
وہ ایک مکمل ہینڈ سم شخص تھا جس کی خواہش ہر لڑکی کرتی ہے۔۔۔
پھر ایک نظر خود پر ڈالی۔۔ کل والا پرپل کلر کا پرنٹڈ سوٹ پہنے سر پر بڑا سا دوپٹّہ لئیے وہ خود کو راہب کے ساتھ میل کھاتی نہیں لگی۔۔۔۔۔ ایک ٹیس اس کے دل سے اٹھی۔۔
پتا نہیں راہب کا ہمدردی میں لیا یہ فیصلہ کب تک چلتا ہے نجانے کب راہب کو یہ ہمدردی بھاری لگنے لگ جائے۔۔
وہ مکمل تیار ہو کر اپنا سراپا آئینے میں دیکھنے لگا۔۔۔ اچانک آئینے میں شجیہ کا سراپا آیا تو وہ اس کی پشت دیکھتی کسی سوچ میں مگن تھی۔۔۔
شجیہ کا سراپا ایک نظر دیکھ کر اس نے اسے آواز دی۔۔
“سنو۔۔”
“جی” وہ اس سے نظریں نہیں ملارہی تھی کیونکہ اس کے سامنے وہ خود کو بہت کمتر سمجھ رہی تھی۔۔۔
وہ الماری کی طرف آیا اور اپنے لائے ہوئے کپڑوں میں سے ایک بلو کلر کی سٹائلیش سی کرتی نکال کر اس کے حوالے کی۔۔۔
“یہ چینج کر کے آؤ۔۔” راہب نے اسے حکم دیا۔۔
اس کی بات سمجھ کر وہ بغیر کچھ کہے وہ ڈریس لے کر ڈریسینگ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
راہب وہیں بیڈ پر بیٹھا موبائل میں مصروف ہوگیا۔۔۔
شجیہ تھوڑی دیر بعد باہر آئی تو راہب نے اس کا جائزہ لیا۔۔
“ہمم ٹھیک۔۔ سنو یہ دوپٹّہ سر سے اتارو۔۔”
وہ اس کے دوپٹے کی طرف اشارہ کرتا کہہ رہا تھا۔۔
شجیہ نے گھبرا کر اسے دیکھا اس کی عادت ہی نہیں تھی دوپٹّہ سر سے اتارنے کی۔۔اور وہ بھی راہب کے سامنے اسے سوچ کر ہی عجیب لگ رہا تھا۔
رشتہ تو بدل گیا تھا مگر تکلف کی دیوار ابھی باقی تھی اسی لئیے وہ جھجک رہی تھی۔۔۔
اسے ایسے ہی کھڑا دیکھ کر وہ کھڑا ہوگیا۔۔ اس کے سر سے دوپٹّہ ہٹایا۔۔
یہ سب اس نے اتنی جلدی کیا شجیہ کھڑی دیکھتی رہی۔۔
اب وہ اسے دیکھتا ہوا پیچھے گیا۔۔
شجیہ کی گھبراہٹ کی پرواہ کئیے بغیر اس کا ہاتھ اس کے بالوں کے پاس گیا۔۔
شجیہ نے آنکھیں بند کر لیں اس کے ہاتھوں میں پسنیے آنے لگے۔۔
اس کے پیروں کی لغزش واضح تھی۔۔۔
زبان تالو سے چپک چکی تھی وہ کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں لگ رہی تھی۔۔
پتا نہیں وہ کیا کرنے والا ہے یہی سوچ اس کے ذہن میں پنپ رہی تھی۔۔۔
راہب نے اس کے بالوں کو پونی کے قید سے آزاد کیا۔۔
لمبے ریشمی بال کمر پر پھیل گئے۔۔
“اسے سلجھاؤ۔۔” برش اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے حکم صادر کیا۔۔
وہ جو خوف سے آنکھیں بند کر چکی تھی اس کی آواز پر آنکھیں کھلی۔۔
اور شرمندگی سے اس کے ہاتھ سے برش لیا اور آئینے کے سامنے وہ اپنے لمبے بالوں کو آگے کئیے سلجھارہی تھی۔۔
ہاتھ کانپ رہے تھے کیونکہ وہ جیب ہاتھ میں ڈالے آئینے میں اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“میں کھا نہیں جاؤنگا تمہیں ریلیکس رہ کر کام کرو۔۔” گھنبیر لہجے میں کہا تو وہ جزبز ہوئی۔۔۔
“اس کا اچھا سا اسٹائل بناؤ۔۔” اب نیا حکم سن کر وہ روہانسی ہوگئی۔۔
“مم۔۔ مجھے نہیں آتا۔۔” اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔۔
“افف لڑکی تمہیں آتا کیا ہے؟ ” وہ اچھا خاصا جھنجلا گیا۔۔۔
“ادھر آؤ۔۔” وہ ہاتھ میں برش لئیے اس کی طرف مڑا۔۔
وہ حیران ہوئی۔۔
راہب نے اس کے بالوں کو لے کر آدھے بال میں اپنے لائے ہوئے سامان میں سے کیچر نکال کر لگایا۔۔۔
ایک طرف کے بالوں کو آگے کی طرف کیا۔۔۔
اور شجیہ کو کاندھے سے پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا۔۔
“اس میں تمام سامان نکالو۔۔”
وہ شاپنگ بیگ کی طرف اشارہ کرتا کہہ رہا تھا۔۔
شجیہ نے اس میں سے تمام چیزیں نکال کر ڈریسینگ ٹیبیل پر رکھی۔۔۔
میک اپ کی تمام چیزوں کو وہ شاید اتنی چیزیں خود پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔
کچھ کا تو نام بھی نہیں معلوم تھا۔۔
راہب ایک ایک چیز کو اٹھا کر دیکھ رہا تھا پھر اسے فاؤنڈیشن دیا۔۔
“یہ لگاؤ۔۔”
شجیہ حیرت سے ہاتھ میں پکڑے فاؤنڈیشن دیکھ رہی تھی۔۔
پھر جیسے تیسے اس نے لگالیا۔۔
“اس کو مکس کرو۔۔” راہب نے اسے کہا پھر اس کا اناڑی پن دیکھ کر وہ خود آگے آیا۔۔
“دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو مکس کیا۔۔۔
پہلی بار کسی کے لمس سے اسے ڈر نہیں لگ رہا تھا صرف جھجک تھی۔۔۔
“اب یہ لگاؤ۔۔” اس نے ایک ہلکے کلر کی لپ سٹک دی۔۔
وہ اس نے لگا لی۔۔
“گڈ۔۔”
اب وہ اس کا دوپٹّہ۔ کاندھے پر ایک طرف رکھ رہا تھا۔۔
“یہ پہنو۔۔” وہ اب چھوٹے چھوٹے ٹاپس اس کے کان میں ڈال رہا تھا۔۔
ننھے ننھے ڈائمنڈ کے ٹاپس اس کے کانوں کی رونق بڑھا رہے تھے۔۔۔
“ڈیڈ کو مڈل۔ کلاس کی سر پر دوپٹّہ لئیے کچن میں دوڑتی لڑکیاں نہیں پسند۔۔ انہیں اپ ٹو ڈیٹ لڑکیاں اچھی لگتی ہیں جو میرے ساتھ کھڑی ہوں تو میرے ساتھ ججے اور ہمارے کلاس میں سب کے ساتھ میل کھا سکے۔۔”
دھڑام۔۔۔ ساری خوش فہمیاں چکنا چور ہوئی تھیں۔۔ وہ خواب جو ابھی دیکھا بھی نہیں تھا چکنا چور ہوا۔۔۔
دل کی دھڑکن جو ابھی بڑھی تھی اچانک ہی مدھم ہونے لگی۔۔ آنکھوں میں نمکین پانی تیرنے لگا۔۔
“تو یہ صرف ڈیڈ کو خوش کرنے کے لئیے کیا جارہا تھا۔۔ شجیہ نے تلخی سے سوچا۔۔۔۔
“i hope you understand” میں نے آج کر کے دکھا دیا ہے کل سے تم مجھے اسی حلیے میں نظر آؤگی۔۔۔”
وہ اس کے دل کی حالت سے بے خبر اسے مزید حکم دے رہا تھا۔۔۔
“ہاتھ آگے کرو۔۔”
اس کے ہاتھ لئیے وہ اب سونے کے باریک سے نازک سے کنگن پہنارہا تھا۔۔
اس نے اب اس کا رخ آئینے کی جانب کیا تو وہ حیران رہ گئی۔۔
پہلی بار شاید اس نے اپنے چہرے پر کچھ
استعمال کیا تھا۔۔ کیونکہ وہ کسی تقریب میں بھی بہت کم جاتی تھی اگر گئی بھی تو میک اپ سے عاری چہرہ ہوتا۔۔۔
وہ عام لڑکیوں سے بہت مختلف زندگی جی رہی تھی۔۔ خود بھی ڈر ڈر کر رہتی دوسرا ذکیہ بیگم بھی اسے کوئی سنگھار نہیں کرواتی وہ خود نہیں چاہتی تھیں کہ وہ اتنی اچھی لگے کہ حوس بھری نگاہیں اس کی جانب اٹھے۔۔
اسی لئیے وہ بھی احتیاط کرتیں۔۔۔
راہب نے اس کی جانب نظریں کی تا کہ اس کی تیاری کا جائزہ لے سکے۔۔
مگر نگاہ پڑتے ہی وہ بھی ساکت ہوگیا۔۔
خوبصورت تو وہ تھی مگر زرا سے سنگھار سے ہی وہ ایک نئے روپ میں آگئی۔۔ کہیں سے وہ چھوٹی سی گھبرائی ہوئی شجیہ نہیں لگ رہی تھی۔۔
بلکہ کوئی حسین دوشیزہ لگ رہی تھی۔۔۔
بڑی بڑی سیاہ آنکھیں گھنی پلکیں جو بار بار گر رہی تھی۔۔۔
سفید دودھیا رنگت تیکھے نقوش اور تراشے ہوئے ہونٹوں پر لگی لپ سٹک چہرے کو چار چاند لگارہی تھی۔۔۔
راہب کو اچانک ہی اس نئے رشتے کا احساس ہوا۔۔۔
وہ بے ساختہ ہی اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئیے جھکا تھا۔۔۔
شجیہ اس کے قریب آنے پر ششدر رہ گئی وہ فوراً ہی دوقدم پیچھے ہٹی۔۔۔
اس کے اس طرح ہٹنے پر وہ ہوش میں آیا۔۔۔
راہب کو غصّہ آیا مگر جب اس کے چہرے کی جانب دیکھا وہ شرمندہ ہوگیا۔۔۔
شجیہ خوف سے کانپ رہی تھی۔۔ اس کےچہرے پر خوف پھیلا تھا۔۔۔
راہب آگے آیا وہ دیوار سے لگ گئی۔۔۔
“i m sorry پتا نہیں کس طرح اور کیوں میں یہ کرنے لگا تھا۔۔۔
“لیکن پلز پرامس کچھ نہیں کرونگا ادھر آؤ۔۔”
نرمی سے اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا جسے شجیہ نے ڈرتے ڈرتے تھام لیا۔۔
یہ بھی سچ تھا وہ اس کی بات آرام سے سن لیتی تھی۔۔۔
“۔ہمارا نکاح ہوا ہے۔۔۔ میں تمہارا شوہر ہوں۔۔ ہزبینڈ وائف ریلیشن پتا ہے تمہیں کیسا ہوتا ہے؟”
وہ۔اس سے بچوں کی طرح سوال کر رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے سر نیچے ہی جھکا کر رکھا۔۔۔
“اچھا چھوڑو یہ ٹاپک پھر کبھی۔۔”
“لیکن میرے چھونے پر اس طرح پریشان نہیں ہوا کرو۔۔۔ سمجھی”
وہ۔اس کے سر پر پیار سے ہلکا سا بجا کر کہہ رہا تھا۔۔
شجیہ خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔
“اچھا سنو۔۔ میرے کچھ دوست آرہے ہیں۔۔۔
رباب نے آفس میں سب کو اطلاع دی ہے کہ میں نے شادی کر لی ہے اور رباب اب اپنا غصّہ اسی طرح نکالے گی۔۔
you know?? اس نے تمہار بارے میں بھی لوگوں کو بہت عجیب باتیں کی ہیں۔۔۔
اس بات پر شجیہ نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔
“میں ہوں تمہارے ساتھ مگر تمہیں اب مقابلہ کرنا ہے سب کا۔۔ “
وہ اسے سمجھاتا رہا اور وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔۔ پتا نہیں اس کی زندگی میں نجانے اور کتنے امتحان لکھیں ہیں۔۔وہ اب کمرے سے جانے لگا۔۔۔
“ہاں جب تک میں نہ بلاؤں نیچے مت آنا۔۔”
وہ اسے حکم دے کر نیچے چلا گیا۔۔۔
راہب کے جانے کے بعد شجیہ اپنے ہاتھوں کی لکیریں دیکھنے لگی۔۔۔
اسے یقین تھا راہب اس ہمدردی کے بوجھ کو زیادہ دن نہیں سنبھال سکے گا۔۔۔
وہ خود کو راہب پر بوجھ ہی سمجھ رہی تھی۔۔۔
شجیہ نے آئینہ دیکھا اسے اپنا آپ اچھا نہیں لگا کیونکہ وہ شوہر کے لئیے تیار نہیں کی گئی تھی۔۔ بلکہ لوگوں کو دکھانے کے لئیے تیار کی گئ تھی۔۔ تا کہ وہ راہب کے ساتھ کھڑے ہو کر راہب کے قابل لگے۔۔۔
شجیہ کا دل خراب ہوا اپنی خوشی اور اپنی مرضی اس کی۔زندگی میں کہیں نہیں لکھا تھا۔۔
وہ سوچ میں محو تھی جب راہب دوبارہ اندر آیا۔۔۔
“نیچے آؤ اور بلکل اعتماد سے سب کے سوال کا جواب دینا۔۔۔”
شجیہ نے اس کی بات پر گھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔
“میں کیسے؟ ” پھنسی ہوئی آواز نکلی۔۔۔
“پریشان مت ہو میں ہوں۔۔ سب کا سامنہ کرنا پڑے گا آنکھیں بند کرنے سے پریشانی ختم نہیں ہوتی۔۔”
اس نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شجیہ نے بغیر کچھ کہے اسے ہاتھ دے دیا۔۔
نیچے جا کر شجیہ نے ڈرائینگ روم میں قدم رکھا تو اتنے لوگوں کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔۔
اس کے پیر ڈگمگائے تو راہب نے اس کے ہاتھ پرگرفت سخت کی۔۔۔
رباب شجیہ کو اس طرح تیار اور اس نئے روپ میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔
راہب کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ دیکھ کر وہ حسد کا شکار ہوئی۔۔۔
“Hayee gays meet my wife”
“شجیہ راہب۔۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر آگے آگیا۔۔
رباب اور راہب کے کچھ دوست جو آفس میں ان کے کولیگ تھے۔۔ رباب نے آج۔سب کو اطلاع دی کہ راہب نے احمد صاحب سے بغاوت کر کے اس کی کزن سے شادی کر لی۔۔۔
جس نے راہب کو اپنی معصومیت کا جال پھنسا کر اس سے شادی کی کہ راہب رباب سے کی منگنی کو بھول گیا۔۔۔
اور۔شجیہ کا نقشہ اس طرح کھینچا تھا کہ ایسی لڑکی ہے جسے پہننے اوڑھنے کی تمیز نہیں اور راہب کے بلکل قابل نہیں تھی۔۔۔
شجیہ کو دیکھ کر سب حیران ہوئے وہ رباب کے بتائے گئے نقشے کے مطابق بلکل پوری نہیں اتر رہی تھی۔۔۔
“waow Rahib your wife is very pretty” ثانیہ نے شجیہ کی تعریف کی فوراً شجیہ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔۔
رباب اس تعریف پر جل کر خاک ہوگئی اس کا پلان ناکام ہوگیا تھا۔۔۔
“ہاں راہب she is very innocent ہمیں تو کچھ اور ہی بتایا۔گیا تھا۔۔۔”
اب آیان نے رباب کی طرف اشارہ کر کے طنز کیا تو رباب کا دل چاہا وہ یہاں سے بھاگ جائے وہ شجیہ کی انسلٹ کروانے آئی تھی مگر اپنی انسلٹ ہوتا دیکھ کر اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ شجیہ کا وجود ختم کردے۔۔۔
سب شجیہ سے پیار سے ملے۔۔۔ سب کی محبت اور راہب کے دئیے گئے حوصلے سے اس کی۔گھبراہٹ میں کمی آئی اور وہ اعتماد سے مسکرا کر سب سے ملی۔۔۔
جنید نے ہاتھ بڑھایا تو راہب نے فوراً تھام لیا۔۔ یہ ہر مرد سے ہاتھ نہیں ملا تیں۔۔۔
راہب کی بات پر جیند کھسیانی سی ہنسی ہنس دیا۔۔
“آپ کی qualification کیا ہے؟” ایمن نے۔سول کیا تو رباب کو کمینی سی خوشی ہوئی۔۔
شجیہ گھبرا گئی۔۔
“بھئی ابھی یہ student ہیں اور ان کا ٹیچر میں ہوں تو ظاہر سی بات ہے راہب لاشاری کی student بھی ان کی طرح قابل ہونگی۔۔۔ “
راہب نے بات بنائی تو سب ہم ہم کرنے لگے۔۔۔
“اچھا آپ کو راہب کہ سب سے اچھی بات کیا لگتی ہے؟” فری نے سوال کیا تو سب ہی شرارت سے اس کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
“راہب کی ساری ہی اچھی بات ہے کوئی ایک کیا بتائیں اور مجھ سے پوچھو تو مجھے تو شجیہ کے نام سے اس کی معصومیت سے اس کی ہر ادا سے عشق ہے۔۔۔”
ایک بار پھر شجیہ کے بولنے سے پہلے راہب بول پڑا اور شرارت سے ایک آنکھ مار کر کہا تو سب معنی خیز سے ہنسنے لگے۔۔
جب کہ۔شجیہ راہب کے اس انداز پر جھینپ گئی۔۔۔
“راہب تمہیں یہ تو نہیں پتا ہوگا تمہاری انوسینٹ وائف بچپن میں چائلڈ ایبیوز کا شکار ہوئی ہیں۔۔۔”
رباب سے اور برداشت نہیں ہوا تو اس نے اپنے تئیں راہب سمیت سب کے سر پر بم پھوڑا۔۔
محفل میں سانپ سونگھ گیا مگر راہب اطمینان سے بیٹھا رہا۔۔۔
شجیہ کے چہرے کا رنگ سفید ہوچکا تھا سب کی نظریں جو اس کی جانب رشک سے اٹھ رہی تھی اب ان آنکھوں میں حقارت تھی۔۔۔
“رباب تم خود اپنے ماموں کو لوگوں میں ہائیلائیٹ کرنا چاہتی ہوں تو میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔”
راہب کی بات پر اب تمام نظریں رباب کہ سمت اٹھیں۔۔ اب گھبرانے کی باری رباب کی تھی۔۔۔ وہ سمجھی تھی راہب کچھ نہیں جانتا۔۔۔
“ہاں گائز رباب کے سگے ماموں نے یتیم بے سہارا سات سال کہ بچی کو ہراساں کرنے کی کوشش ضرور کی تھی۔۔
مگر قدرت نے اسے تمام آفت اور مصیبت سے میرے لئیے محفوظ رکھا تھا۔۔۔
“اور آئیندہ میری وائف کا پاسٹ کھولنے کی کوشش کی تو مس رباب آپ اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ سکیں گی۔۔۔”
سرد آواز سے رباب کی طرف کہتا وہ ایک طرح سے سب کو وارن کر رہا تھا۔۔۔
اس کے لہجے کی سختی اور سرخ۔ آنکھوں سے نکلتے شعائع رباب کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔۔۔
وہاں بیٹھے سب ہی اس وارننگ کو بخوبی سمجھ گئے۔۔۔
وہ شجیہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے نکلنے لگا اور جاتے جاتے رکا۔۔۔
“آپ سب میرے گھر میں آئے ہیں اسی لئیے کھانا کھا کر ضرور جائیے گا۔۔ اب نئی نئی شادی ہوئی ہے ہم ہزبینڈ وائف کو کچھ ٹائم سپینڈ کرنے دیں۔۔”
ٹیک کئیر پھر ملاقات ہوگی۔۔۔” وہ شجیہ کو لے کر نکل گیا۔۔۔ اس کے بعد کسی میں رکنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔
ہر کوئی رباب کو برا بھلا کہہ رہا تھا وہ بھی پیر پٹختی چلی گئی۔۔۔۔
شجیہ بیڈ پر بیٹھ کر سسک رہی تھی جب اسے کسی کا لمس محسوس ہوا۔۔۔
وہ اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے دودھ کا گلاس دے رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
“پی لو ابھی گھبرا کر تم نے آدھا خون خشک کردیا ہوگا اپنا۔۔۔”
وہ دوستانہ انداز میں کہتا اس کے سامنے بیٹھا۔۔۔
اس کے اس طرح بیٹھنے پر وہ تھوڑا پیچھے ہٹی راہب نے محسوس تو کیا مگر وہ نظر انداز کر گیا۔۔۔
“اب آنسو صاف کرو ورنہ پھر میں کرونگا تو تم کانپنا شروع ہوجاؤگی۔۔”
راہب نے کہا تو وہ جلدی سے اپنے آنسو دونوں ہاتھوں سے صاف کرنے لگی۔۔
راہب کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔۔۔
“آج جو کچھ ہوا وہ ہمیشہ ہوگا۔۔ تمہیں خود کو لوگوں کے سوال کے لئیے تیار رہنا پڑے گا۔۔
میں کبھی نہ بھی ہوں تمہارے پاس تب بھی تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
اس کے یخ ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لئیے کہہ رہا تھا۔۔۔
شجیہ نے۔ صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔۔۔
“اب کل سے پڑھائی شروع کرنی ہے۔۔
میں کل کتابیں لا کر دےدونگا۔۔
امتحان شروع ہونے والے ہیں تیاری کرو۔۔ کل سے میں اسی ٹائم میں پڑھاؤنگا جیسے وہاں پڑھاتا تھا۔۔”
چلو اب سوجاؤ بہت رات ہوگئی ہے۔۔”
وہ۔ اب بیڈ سے اٹھ چکا تھا۔۔۔
شجیہ اس کے سامنے بے آرام رہتی اسی لئیے وہ۔ سٹڈی روم میں چلا جاتا۔۔۔
کبھی وہیں سوجاتا اور کبھی اس کے سونے کے بعد کمرے میں آتا اور صوفے پر سوجاتا۔۔۔
شجیہ کو یہاں آۓ ایک مہینے سے زیادہ ہو چکے سے تھے۔۔۔
اس کے امتحان ہونے والے تھے۔۔۔
راہب اس کی کتابیں بھی گھر سے لے آیا تھا۔۔۔
گھر کا کوئی بھی کام کرنے کو نہیں تھا بسس راہب کے چھوٹے موٹے کام ہوتے جو وہ فوراً کر لیتی اور باقی کا وقت وہ شدید بوریت میں گزار رہی تھی۔۔۔
لائبہ اس سے بات کر لیتیں تو وہ جواب دےدیتی۔۔۔
مریم کالج۔سے آ کر اس کے ساتھ وقت گزار لیتی تو وہ اچھا محسوس کرتی۔۔۔۔
مگر احمد صاحب کی نفرت اور بیزاری بھری نگاہیں وہ محسوس کرتی تو ہمت ہار جاتی۔۔۔
احمد صاحب اسے دیکھتے ہی رخ موڑ لیتے وہ ان کی موجودگی میں نیچے جانے سے گریز کرتی۔۔۔
راہب کے کہنے پر اس نے خود کو بہت تبدیل کرلیا تھا مگر پھر بھی احمد صاحب کی نفرت میں فرق نہیں پڑا تھا۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ راہب اس سے بات نہ کرتا تھا یا اس پر توجہ نہ دیتا تھا بلکہ وہ اب کچھ زیادہ ہی شجیہ کی طرف متوجہ ہو رہا تھا۔۔
اسی لیے وہ راہب کے رات کو آنے سے پہلے ہی سوجاتی تھی اور اگر نیند نہ آتی تو بھی آنکھیں بند کر کے وہ خود کو سویا ہوا ہی ظاہر کرتی تھی۔۔۔
اور صبح راہب کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ فریش ہو کر راہب کے جاگنے کا انتظار کرتی۔۔۔
آج صبح جاتے ہوئے راہب اس کی کتابیں نکال کر اس کے ذمے ٹیسٹ لگا کر گیا تھا اور وہ کمرے میں بیٹھی کتاب کھولے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔
آج وہ معمول سے زیادہ کنفیوز ہو رہی تھی کیونکہ پہلے راہب صرف اس کے لیے اس کا ٹیچر اور رباب کا منگیتر تھا مگر اب وہ اس کا شوہر تھا اور پھر راہب کے بدلے بدلے انداز دیکھ کر وہ اور بھی گھبرا رہی تھی۔۔۔
“وہ کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی تھی۔۔۔راہب کے آنے کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔
گھڑی پہ ایک نظر ڈال کر وہ اور جلدی ٹیسٹ دہرانے لگی اور کچھ ہی سیکنڈز میں راہب دروازے کی ناب گھما کر کر کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔
“السلام علیکم”۔۔۔ شجیہ نے ہمیشہ کی طرح نظریں جھکا کر سلام کیا۔۔۔
“وعلیکم السلام”۔۔۔ وہ ٹائ کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا اسے سلام کا جواب دے کر سوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔
“کھانا لے آؤں آپ کے لیے؟”۔۔۔ اس نے مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔۔۔
اب وہ ضرورت کے تحت تھوڑی بہت بات کرلیتی تھی۔۔۔
“نہیں بھوک نہیں ہے۔۔تمہیں پڑھا لوں پھر دیر سے دونوں ساتھ میں کھانا کھائیں گے”۔۔۔
وہ نرمی سے بولا مگر شجیہ اس کا جواب سن کر ایسے گھبرائی تھی جیسے اس نے پتا نہیں کیا کہہ دیا ہو۔۔۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”۔۔۔ وہ اسے خاموش دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔
“کک کچھ نہیں”۔۔۔ وہ اپنی گھبراہٹ پر قدرے قابو پاتی ہوئی بولی۔۔۔
“یہاں بیٹھو”۔۔ وہ نرمی سے اسے اپنے دائیں جانب سوفے پر اشارہ کرتا ہوا بولا اور خلافِ معمول وہ کوئ سوال کیے بغیر جھجھکتی ہوئ اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔
“کیوں نہیں سوچ رہی کچھ؟”۔۔۔ اس کے بیٹھتے ہی اس نے اگلا سوال پوچھا۔۔۔
“جی؟”… شجیہ اس کے سوال پر حیران ہوئ تھی۔۔۔
“پورے دن میں کتنی بار یاد کیا تھا مجھے؟”۔۔
اب کی بار راہب نے سوال بدلا۔۔۔
“مم میرا ٹیسٹ ہے آج”… وہ گھبراتی ہوئ کتابوں کی طرف اشارہ کرتی ٹاپک چینج کرنے کی کوشش کرتی ہوئ بولی۔۔۔
“ہاں۔۔۔آج امتحان ہے تمہارا”۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام کر دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئیں چند آوارہ لٹوں کو اس کے کان کے پیچھے کرتا ہوا زومعنی لہجے میں بولا تو شجیہ کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئ تھی۔۔
اس نے اپنی ہاتھ راہب کے ہاتھوں سے آزاد کروانے چاہے مگر راہب کی گرفت ڈھیلی نہ ہونے کی وجہ سے ناکام رہی تھی۔۔۔
“تم سے میں نے۔کچھ دن پہلے کوئی سوال پوچھا تھا؟”
اس کے لہجے اور سوال پر شجیہ نے حیرت سے دیکھا۔۔
ہاتھوں کی گرفت اب بھی سخت تھی۔۔۔
“ہزبینڈ وائف کے ریلیشن کے بارے میں۔۔” وہ اس کے چہرے کو فوکس کرتا معنی خیزی سے گویا ہوا۔۔۔
اس کی بات سن کر شجیہ کی پیشانی پر قطرے نمودار ہونے لگے۔۔۔
ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں۔۔۔
راہب نے اس کا گھبرانا جھجکنا محسوس کیا۔۔۔
وہ صرف دیکھنا چاہ رہا تھا کیا شجیہ اس رشتے کو دل سے قبول کر چکی ہے یا نہیں۔۔۔
اور آج شجیہ کی گھبراہٹ میں خوف نہیں تھا بلکہ شرم اور جھجک واضح تھی۔۔۔
وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔۔
“ہمم چلو تمہارے پیپر تک اس ٹاپک پر بات نہیں کرتے مگر پیپر کے بعد اطمینان سے اس کو ڈسکس کریں گے۔۔۔”
وہ معنی خیزی سے اطمینان سے کہتا اب اس کے ٹیسٹ کے سوال لکھنے لگا۔۔۔
مگر شجیہ کا سکون غارت ہو چکا تھا وہ جو بھی یاد تھا سب بھولنے لگی۔۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: