Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Last Episode 22

0

جو تو میرا ہمدرد ہے از فلزہ ارشد آخری قسط نمبر 22

مریم دلہن بنی بیٹھی تھی دل تھا کہ گھبرارہا تھا۔۔۔
کہ اچانک دائم کمرے میں آیا۔۔ مریم کے ہاتھوں میں پسینے آنے لگے وہ حد سے زیادہ نروس ہورہی تھی۔۔
اپنے ہاتھوں کو دیکھتی نظریں جھکائے لرزتی پلکیں خوبصورتی کی تمام ہتھیاروں سے لیس وہ نازک سی لڑکی سییدھا دائم کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا آگے آیا۔۔ اور جیب سے ایک باکس نکال کر اس کے سامنے بیڈ پر دو زانو ہو کر بیٹھا۔۔۔
مریم نے نظریں اٹھائی مگر دائم کی آنکھوں میں محبت کی شدت وہ برداشت نہیں کرسکی اور دوبارہ نظریں جھکا گئی۔۔۔
دائم نے نرمی سے اس کا مخروطی ہاتھ تھاما اور باکس سے خوبصورت کنگن نکال کر اس کے ہاتھ میں پہنادیا۔۔۔
مگر ہاتھ اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔۔۔
“تعریف کروں یا پہلے اپنی محبت کی داستان سناؤں؟ “
اس کا ہاتھ تھامے وہ اس کے بلکل قریب نیم دراز ہوکر مریم کی ٹھوری کو اونچا کرتے پوچھ رہا تھا۔۔۔
“جو آپ کا دل چاہے۔۔”
اس نے لرزتی پلکوں کے ساتھ جھکی نظروں سے کہا۔۔۔
“ہائے میرا دل تو اپنی بیوی سے محبت کرنے کا چاہ رہا ہے۔۔۔”
دائم مزید قریب ہوا اس کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔۔۔
مریم کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔۔۔
دائم کی محبت کے آگے وہ ہار مان گئی اور محبت ایک بار پھر کروفر سے کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔
محبت کی جیت ہوگئی تھی کیونکہ محبت کی نیت اور لگن سچی تھی۔۔ نہ کوئی وعدے نہ کوئی دعوہ محبت کی پہلی چاہت محبوب کو حاصل کرنا ہی ہوتا ہے محبوب کی خوشی محبوب کے آنسو پر تکلیف ہوتی ہے۔۔
اور دل چاہتا ہے ہم جس سے محبت کریں وہ ہمارے پاس رہے۔۔۔
محبت تو یکطرفہ بھی پروان چڑھ سکتی ہے مگر محبت کا اصول ہے کہ محبت کو حاصل کرلیا جائے اور نکاح سے بہتر کوئی راستہ نہیں محبت کو نکاح کے ذریعے متعتبر کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔
کہتے ہیں محبت میں حاصل کئیے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔۔ مگر میرا خیال ہے ایسی محبت اذیت کے سوا کچھ نہیں دیتی۔۔۔
محبت دوسرے کے سہارے کے بغیر مرجھا جاتی ہے۔۔ اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔۔
محبت میں شدت تب تک ہی بڑھتی ہے جب دوسرے کا ساتھ ہو۔۔ اور جو کہتے ہیں محبت صرف دیکھنے کا بھی نام ہے کسی کی ہنسی پر خوش ہونے کا نام ہت مگر فطری بات ہے محبت ساتھ مانگتی ہے محبت حاصل کرنا چاہتی ہے۔۔
دن پر لگا کر اڑ رہے تھے۔۔۔ شجیہ نے ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دیا۔۔۔
راہب کی گود میں وہ گلابی سی ننھی گڑیا اپنی آنکھیں بند کئیے باپ کی محبت محسوس کر رہی تھی۔۔
اور راہب تمام رشتوں کو محبت بانٹنے والا تمام رشتوں کے ساتھ انصاف کرنے والا اپنی لخت جگر کو تو ٹوٹ کر چاہنے والا تھا۔۔
باپ بننے کا احساس ہی اتنا پیارا تھا۔۔۔ اس کی آنکھیں خوشی سے نم تھی۔۔۔
لائبہ اور احمد صاحب بھی پوتی کو دیکھ کر خوش تھے۔۔۔
“بہت بہت شکریہ رایب کی جان اتنا بڑا تحفہ دینے کے لئیے۔۔۔”
بیڈ پر لیٹی شجیہ سے بول کر وہ اس کی پیشانی پر جھکا اور احترام سے اسے محبت کا احساس بخشا۔۔۔
شجیہ کے چہرے پر ماں بننے کی ایک الگ ہی چمک تھی۔
جو اس کے چہرے کو مزید حسین بنارہی تھی۔۔۔
“شجیہ نے راہب کی گود سے ننھی پری کو لیا۔۔ ایک ٹھنڈک سا احساس اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔۔۔
مریم بھی دائم کے ساتھ اس ننھی پری سے ملنے آئی تھی۔۔۔
وہ بھی پھپھو کے رتبے پر فائز ہو کر بہت خوش تھی۔۔۔
زندگی میں کبھی کبھی ہمیں اتنے غم مل جاتے ہیں کہ بعد میں خوشیوں کی ہی بارش مسلسل ہم پر برستی ہے۔۔
شجیہ کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔۔۔ بچپن سے اس نے اتنا کچھ دیکھ لیا کہ اپنی زندگی کے اٹھارہ سالوں میں وہ ساٹھ سال جی چکی تھی۔۔
بچپن نے ہی زندگی کے ایسے حقائق بتائے کہ وہ دنگ رہ گئی۔۔
خدا کسی کو بے آسرا نہیں چھوڑتا دائم کی صورت میں اسے زندگی مل گئی جینے کی آس مل گئی۔۔۔
دس سال بعد۔۔۔۔
“شجیہ مان جاؤ میری جان۔۔۔ میرے بچوں کی ماں۔۔”
راہب مسلسل اسے منانے میں لگا تھا اور شجیہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔۔
“یار تم تو بچوں سے بھی زیادہ تنگ کرتی ہو۔۔”
راہب کے کہنے پر شجیہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔
“ٹھیک ہے نہ منائیں مجھے کس نے کہا اپنا ٹائم ویسٹ کریں میرے لئیے۔۔۔”
شجیہ ناراضگی بھرے لہجے سے کہتی کھڑی ہوگئی۔۔۔
“ارے راہب کی جان کہا تو سوری یہ دیکھو کان پکڑ لئیے اب تو مان جاؤ۔۔۔”
راہب اس کے سامنے گھٹنوں کے بل کان پکڑے بیٹھ گیا۔۔۔
“ارے ماما آپ نے میرے بابا کو کب سے ایسے بیٹھایا ہوا ہے۔۔۔ اٹھ جائیں بابا۔۔۔ آپ نے تو ماما کی ہر بات مان کر ان کی عادت بگاڑ دی ہے۔۔۔”
سات سالہ حفصہ کی بات پر شجیہ نے آنکھیں نکالی۔۔
جب کہ راہب کا جاندار قہقہ فضا میں گونجا۔۔۔
“بس کیا کروں بیٹا شروع سے ہی عادت بگاڑ دی اب چینج کرنا مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔”
راہب نے حفصہ کو آنکھیں مار کر کہا تو دونوں باپ بیٹی کی ہنسی سے کمرہ گونجنے لگا۔۔۔
“ٹھیک ہے دونوں باپ بیٹی کو بہت ہنسی آرہی ہے نہ صحیح ہے جائیں دونوں آج بھی اکیلے چلے جائیں۔۔۔”
شجیہ مصنوعی خفگی سے کہتی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
راہب اور حفصہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔۔۔
“اوہ حفصہ کی ماما جان ہم تو مذاق کر رہے تھے۔۔۔”
راہب اور حفصہ۔دونوں نے ایک ساتھ یک ذبان ہو کر کہا تو شجیہ کو ہنسی آگئی۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پیار سے حفصہ کے گال پر پیار کیا۔۔۔
آپ کی ماما آپ سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتیں۔۔۔”
“مجھ پر بھی اگر یہ عنایت کردو تو کیا ہی بات ہوجائے۔۔۔”
راہب نے شرارت سے کہتے ہوئے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تو شجیہ اتنے سال گزرنے کے باوجود آج بھی وہ پہلے کی طرح بلش کر گئی۔۔
اور راہب نے ہمیشہ کی طرح اسکا شرمایا ہوا روپ دلچسپی سے دیکھا۔۔۔
اچانک کمرے کا دروازہ کھولا تو تینوں نے مڑ کر دیکھا۔۔۔
لائبہ بیگم کے ساتھ تین سالہ ازہان راہب داخل ہوا۔۔۔
“یہ بھی ہمارا بچہ ہے مام میں تو بھول ہی جاتا ہوں۔۔ آجا میرا شیر۔۔۔”
راہب نے قہقہ لگاتے ہوئے ازہان کو گود میں اٹھایا۔۔ جس کی آنکھیں بلکل راہب کی طرح براؤن تھی چہرے پر معصومیت سجائے وہ اس کے گود میں چڑھ گیا۔۔۔۔۔
راہب کی بات پر شجیہ اور لائبہ مسکرا دیں۔۔
“نہیں یہ تو میرا لال ہے اس کے کپڑے گندے ہوگئے تو چینج کروانے لائی ہوں۔۔۔
ورنہ لان میں دادا کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے صاحب زادے۔۔۔”
لائبہ نے کہا تو شجیہ ہنستی ہوئی اس کے کپڑے نکالنے اٹھ گئی۔۔۔۔
“دادو میں آپ کی کچھ نہیں لگتی۔۔۔”
آبرو اچکاتی بلکل شجیہ کے انداز میں کہتی حفصہ نے سب کو مسکرانے پر مجبور کردیا۔۔۔
“تم تو ہمارے گھرکی تتلی ہو جان۔۔۔ تم سب ہی تو اب ہمارا سب کچھ ہو۔۔۔۔”
لائبہ نے پیار سے حفصہ کے گال کو چھوتے ہوئے کہا۔۔۔
“حفصہ آپ کا دوپٹّہ۔۔۔”
وہ سب تیار ہورہے تھےباہر ڈنر پر جانے کے لئیے جب حفصہ کو شجیہ نے دوپٹّہ پکڑایا۔۔۔۔
شجیہ نے پہلے اس کے سر کو سکارف سے اچھی طرح کور کیا پھر سائیڈ پر دوپٹہ رکھا۔۔۔
وہ۔ سکارف میں شجیہ کو اتنی معصوم لگی کہ شجیہ نے اس کے گال چوم ڈالے۔۔۔۔۔۔
“ماما کل سکول کے پیون نے میرا ہاتھ پکڑا اورگال پر بھی ہاتھ لگانے لگے کہہ رہے تھے میں آپ کو ٹافی دونگا۔۔۔”
حفصہ معصومیت سے بتارہی تھی۔۔۔
“شجیہ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
“بیٹا پھر آپ نے کیا کیا۔۔۔؟”
“میں نےکہا میں دوسروں سے چیز نہیں لیتی پھر میں ہاتھ چھڑا کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔”
حفصہ نے کہا تو شجیہ نے بے ساختہ اسے سینے سے لگالیا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا۔۔۔
ہمارا معاشرہ بھیڑئیے کی شکل اختیار کیوں کر رہا ہے یہاں جگہ جگہ گند کیوں ہے؟ “
“بیٹا آپ کو یاد ہیں نہ میری باتیں۔۔”
شجیہ نے حفصہ سے پیار سے پوچھا۔۔
“بلکل ماما ۔۔ اپنے ہاتھ یا اپنے جسم میں کسی کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دینا ہے اور مجھے خود بھی اچھا نہیں لگتا ماما۔۔۔۔”
حفصہ نے شجیہ کی باتوں کو معصومیت سے دہرایا تو شجیہ نے اسے گلا لگا کر اپنی بیٹی کی حفاظت کے لئیے دعا کی۔۔۔
“یا اللّہ میرے بچوں کو ان بھیڑیوں سے حفاظت فرما۔۔۔۔
ہم کب تک صرف برا کرنے والے کو برا بھلا بولیں گے۔۔۔ جنہوں نے برا کیا ان کو تو سزا ملے گی۔۔
مگر کیا ہم اپنے معاشرے کو درست کرنے سے پہلے اپنے گھر کو ہی صحیح نہ کر لیں پہلے ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے پہلے خود صحیح ہونا ہے۔۔۔
اپنی بچیوں اور بچوں کو شروع سے غلط اور صحیح کی تمیز سیکھا دیں۔۔۔
تو وہ بڑے تک ان چیزوں سے دور رہیں گے۔۔ بچپن کی بات ہمیشہ یاد رہتی ہے۔۔۔
“یہ موبائل آپ کے ہاتھ میں کیوں ہے حفصہ۔۔؟”
شجیہ نے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا جو حفصہ بیڈ پر بیٹھے گیم کھیل رہی تھی ۔۔۔۔
“ماما ایک گیم کھیل لوں؟”
معصومیت سے پوچھا تو شجیہ کا دل ایک پل کے لئیے نرم ہوا مگر دوسرے پل اس نے دل کو ڈپٹا۔۔۔
“ماما کی جان آپ کو بتایا تھا نہ میری جان کی آنکھیں خراب ہوجائیں گی۔۔۔ اس کو استعمال کر کے۔۔۔
“آپ کو اگر کچھ نظر نہیں آئے گا تو آپ اتنی پیاری دنیا کیسے دیکھیں گی؟
آپ پڑھ کر بابا کی طرح ٹیچر کیسے بنیں گی؟”
شجیہ نے پیار سے کہتے ہوئے حفصہ کو کہا تو وہ آنکھوں کا سن کر ہی ڈر گئی۔۔۔
“نہیں ماما مجھے آنکھیں خراب نہیں کرنی اب میں موبائل استعمال نہیں کرونگی۔۔۔
حفصہ نے خوف سے کہا تو شجیہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور صوفے پر بیٹھے کام میں مصروف راہب نے پیار اور تشکر سے شجیہ کو دیکھا۔۔۔
“اچھا حفصہ یہ پزل تو مکمل کریں مجھ سے بلکل نہیں ہورہا پھر میں آپ مجھے بک سے سٹوری سنائیں گی۔۔۔”
شجیہ نے اسے پزل باکس دیا تو حفصہ نےجوش سے تھام۔لیا۔۔۔۔
والدین اپنے بچوں کو موبائل پکڑوا کر خود پر سکون ہوجاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے ہی زہر دے دیا ہے۔۔۔
راہب اور شجیہ کہیں سے واپس آرہے تھے وہ دونوں گاڑی میں تھے جب شجیہ نے گاڑی رکوائی۔۔”کیا ہوا راہب حیرت سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
“یہ دیکھیں راہب۔۔ یہاں تایا کا گھر ہے۔۔۔
آج اتنے سال ہوگئے چلیں۔۔۔”
شجیہ نے بہت آس سے کہا اس کا دل مچل رہا تھا وہاں جانے کے لئیے۔۔۔
“لیکن شجی تم بھول گئی ہو ان لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے؟”
راہب نے حیران ہو کر پوچھا۔۔۔
“میں کون ہوتی ہوں یاد رکھنے والی میرے خدا نے بہتر انصاف کیا بلکہ مجھے ان کے حالات ہر بھی افسوس ہے میں نے کبھی بد دعا نہیں دی تھی۔۔۔”
شجیہ نے غمگین لہجے میں کہا تو راہب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دی اور ظفر ولا جہاں اب ویرانیاں اور۔خاموشی تھی وہاں دونوں آگئے۔۔۔
ظفر صاحب اولاد کے غم کو برداشت نہیں کرسکے اور اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔
فاضل کو سزائے موت ہوگئی تھی۔
ارسل ہی مہوش اور رباب کا سہارا تھا ۔۔۔۔
مہوش معذور بیٹی کے ساتھ ان سے ملیں اور رو پڑی۔۔۔
کتنی کمزور اور بے بس لگ رہی تھیں۔۔۔ شجیہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔۔۔
“میں بھول گئی تھی کہ خدا بھی ہے جو سب دیکھ رہا ہے۔۔ میں ظلم کرتی رہی اور خود کو بادشاہ سمجھ بیٹھی اپنے بچوں کو تمام چیز دی اور چھین کر لینا سیکھایاصبر اور تربیت کرنا ہی بھول گئی مجھے معاف کردو شجیہ۔۔۔”
وہ شجیہ کے آگے ہاتھ جوڑے رورہی تھی۔۔
شجیہ نے فوراً گلے لگایا ۔۔۔
رباب بھی اب بہتر تھی مگر اب بھی وہ شجیہ کو دیکھ کر چیخنے لگی تو راہب شجیہ کو لے کر وہاں سے چلاگیا۔۔۔
“راہب آپ کا بہت شکریہ۔۔۔”
شجیہ نے راہب کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“شکریہ کس بات کا۔۔۔”
راہب نے اس کے بالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور اپنا حصار مضبوط کیا۔۔۔
“اپنی زندگی میں مجھے شامل کرنے کا شکریہ پھر مجھے زندگی میں آگے بڑھنا سیکھایا اس کا شکریہ میرے بہترین شوہر میرے بچوں کے بہترین باپ بننے کا شکریہ۔۔۔”
شجیہ نے نم آواز سے محبت سے بھر پور لہجے کے ساتھ کہا۔۔۔
“شجیہ ہر انسان غلطی کا پتلا ہے مجھ سے بھی غلطی ہوئی ہوگی مگر صرف میری اچھائی ڈھونڈنے کا شکریہ اور ہاں میری زندگی بن کر میرا ساتھ دینے کا شکریہ۔۔۔”
راہب نے بھی اس کے انداز میں کہا تو شجیہ کو ہنسی آگئی۔۔۔
“راہب آپ نے ثابت کردیا کہ ہر مرد حوس کا بھوکا نہیں ہوتا۔۔
مرد کی اچھی تربیت کی جائے تو وہی مرد آپ کا محافظ آپ کی نسل کا محفاظ بن سکتا ہے۔۔۔
مرد کو اللّہ نے اتنی طاقت دی ہے وہ ہر مصیبت سے لڑ سکتا ہے برداشت کرسکتا ہے۔۔
ایک ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرد کی تربیت بہترین انداز میں کرے ہر لڑکی کی عزت کروائے۔۔
ایک باپ کی ذمہ داری ہے بیٹے کو بہترین دوست بنائے اس کے ہر اچھے کام میں اس کا ساتھ دے۔۔ اگر ڈیڈ آپ کی ہر چیز میں مخالفت کرتے تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہوتے انہوں نے ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا۔۔۔
شجیہ نے کہا تو راہب نے سر ہلایا۔۔” بلکل ماں باپ اپنی انا کے چکر میں اپنی اولاد کو برباد کردیتے ہیں۔۔۔”
“اور ایک بیوی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شوہر کا ساتھ دے اور اس کے گھر والوں سے محبت کرنے میں بھی اس کا ساتھ دے اگر بیوی ساتھ نہیں دیتی تو مرد جلدی تھکنے لگتا ہے۔۔
ایک عورت سمجھتی ہے مرد صرف پیار توجہ دے اور وہ خوداپنی ذمہ داری بھول جاتی ہے۔۔
جب کہ عورت اگر مرد کو زرا سا پیار اور توجہ دے گی تو مرد پوری زندگی اس پر قربان کردے گا۔۔۔
ان دونوں کی خوشیوں کا راز ہی یہی تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا اور نبھایا تھا۔۔۔۔
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: