Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 10

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 10

–**–**–

وہ صبح سویرے ناشتا کر کے آگے روانہ ہو گئے ۔شام تک وہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے تھے۔رات وہیں گزار کراگلے دن وہاں سے روانہ ہوئے ۔اس مرتبہ انھوں نے ایبٹ آباد جا کر دم لیا ۔ ”یہاں کا موسم تو بہت اچھا ہے ؟….اپریل کا آغاز ہے اور اچھی خاصی ٹھنڈ ہے ،گرم پانی نہ ہوتا تو شایدغسل کرنا ممکن ہی نہ رہتا ؟“ ”یہ ایبٹ آباد ہے جناب !….اگر ہم کراچی چھوڑ کر یہاں آئے ہیں تو کچھ سوچ ہی کر آئے ہیں ۔“ ”اچھا اب اٹھو نا ؟….نہانا نہیں ہے ؟“ ”نہیں جی ،مجھے سردی لگ رہی ہے ۔“ ”تو پھر کھانے کا بتا دوں ؟“ ”ہاں ۔“ دانیال نے روم سروس کو کھانے کا آرڈر نوٹ کرادیا ۔کھانا تیار ہونے تک وہ بالکونی میں آگئے تھے۔ ایبٹ آباد شہر چاروں اطرف سے پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے ۔پہاڑی پر بنے ہوئے گھروں سے چھلکتی روشنی عجیب اور دلکش قسم کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ ”کتنا خوب صورت منظر ہے دانی !“مسکان وہ منظر دیکھ کر مبہوت ہو گئی تھی۔ ”شاید !….مگر جو منظر میں دیکھ رہا ہوں اس سے خوب صورت نہیں ہے ؟“ ”آپ کیا دیکھ رہے ہیں ……..؟“کہتے ہوئے مسکان نے اس کی جانب نگاہ دوڑائی تو وہ اسی کی طرف متوجہ تھا ۔مسکان کے چہرے پر حیا کی لالی گھٹا کی طرح پھیلی اور وہ جذبات سے پر آواز میں بولی ۔ ”ادھر دیکھو نا ؟….یہ منظر کراچی میں دیکھنے کو نہیں ملے گا ۔“ ”جو دیکھ رہا ہوں ،اگر یہ ہمیشہ دیکھنے کو ملتا رہے تو مجھے کسی اور منظر کی طلب ہی نہیں رہے گی ۔“ وہ ہلکے سے مسکرائی ۔”بالکل پاگل ہیں ؟“ ”ہاں لا علاج پاگل ۔“دانیال نے اثبات میں سر ہلا کر کہا ۔”اور پتا ہے مِشّی تم مجھے اتنی پیاری کیوں لگتی ہو ؟“ ”مجھے کیا پتا ؟“ دانیال نے قہقہہ لگا کر کہا۔”کیونکہ تم ہو ہی پیاری ۔“ اور مسکان جو کسی اہم بات ،سننے کی خواہش میں بڑے دھیان سے اس کی جانب متوجہ تھی کھل کھلا کر ہنس پڑی۔اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا۔ ”جوکر !….“ ”میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ یہ مذاق میں نہیں کہا۔“ مسکان کے کچھ کہنے سے پہلے دروازے پر دستک ہوئی ۔اس کے ساتھ آواز آئی …. ”روم سروس سر!“ ”یس آجاو¿۔“مسکان کے چہرہ ڈھانپتے ہی دانیا ل نے آواز دے کر بیرے کو اندر بلالیا۔ بیرے کے اندر داخل ہوتے ہی سالن کی خوشبو پھیل گئی ۔انھوں نے چکن کڑاہی کا آرڈر دیا تھا۔ کھانے کے برتن ٹیبل پر سجا کر وہ بیرا باہر نکل گیا ۔ ”مشی !آجاو¿ قسم سے بہت بھوک لگی ہے ۔“ وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی ۔ ”ہاں ہل چلاتے رہیں ہیں نا آپ، کہ بہت بھوک لگی ہے ؟“ ”نہیں میںجتنا زیادہ خوش ہوتا ہوں اتنی زیادہ بھوک لگتی ہے ۔“ ”تو جناب کس بات پر خوش ہیں ؟“ ”تمھیں پانے سے بڑھ کر بھی کوئی خوشی کی بات ہو سکتی ہے ؟“ ”جناب !….بات آج کے دن کی ہو رہی ہے ؟“ ”تو میں بھی یہی کہہ رہا ہوں محترما!….مِشی کو پانے کی خوشی اتنی مختصر تو نہیں ہو سکتی کہ شادی کے ایک ہفتا بعد ختم ہو جائے۔ یہ خوشی تو زندگی کی آخری سانس تک قائم و ادائم رہے گی ۔“ ”چاہے تمھاری مشی صاحبہ بھی نہ رہے ؟“ دانیال کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔”بکواس نہ کرو ۔“ مسکان جیسے سن ہو کر رہ گئی تھی ۔دانیال کا جھڑکنا اسے اتنا ناگوار گزرے گا، یہ اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا نوالا واپس ہاٹ پاٹ میں رکھ کر وہ اٹھ گئی ۔ دانیال بوکھلا کر بولا۔”اے مشی!…. کیا ہوا ؟“ اسے جواب دےے بغیر وہ بیڈ پر لیٹ گئی ۔ دانیال کے چہرے پرشرمندگی اور خجالت بھرے تاثرات سجائے اس کے قریب پہنچا ۔ ”مشی !….اللہ قسم مذاق میں کہا ہے ۔میری توبہ اگر آئندہ ا یسا کچھ بھی کہا ،میری کیا؟میری آئندہ نسلوں کی بھی توبہ ۔“ مسکان نے اس کی بات کا جواب دےے بغیر اپنا چہرہ دوپٹے سے ڈھانپ لیا ۔ ”مشی !….معاف کر دو ،دیکھو میں نے ہاتھ جو ڑ دےے ہیں ….خدا را میرا مقصد وہ نہیں تھا جو تم نے سمجھا ۔یاد ہے نا میں نے پہلی رات تمھیں بتا دیا تھا کہ میں ایک گنوار شخص ہوں ۔ اگر کوئی بات خلافِ طبیعت پانا تو مجھے ٹوک دینا ۔یہ نہیں کہ بدلے میں مجھے ناقابل بیان اذیت دے دو ۔“ وہ بھرائی ہو ئی آواز میں بولی ۔”میں نے کو ن سی اذیت دی ہے ؟“اپنا لہجہ اسے خود بھی بہت عجیب لگا تھا ۔ دانیال نے اتنی سخت بات نہیں کہی تھی ۔مگر اس نے چند دنوں میں اسے جس سنگھاسن پر بٹھا دیا تھا اس کے بعد لہجے کی ذرا سی سختی بھی اسے گولی کی طرح لگی تھی۔ ”مشی !تمھارے التفات میں ذرا سی کمی مجھے جس اذیت سے ہم کنار کر رہی ہے ، اس کا اندازہ بھی نہیں ہے تمھیں ۔“ ”اور آپ نے جو کہا ہے بکواس نہ کرو ،اب میری باتیں آپ کو بکواس لگنے لگی ہیں ؟“ ”اچھا میں نے بکواس کی ہے ؟اب تو اٹھ جاو¿،کھانا ٹھنڈا ہوجائے گا ؟“ ”ٹھیک ہے ،آپ کھا لیں مجھے بھوک نہیں ہے ؟“ ”مشی !….پلیزمعاف کر دو نا ؟“وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے لجاجت سے بولا۔ ”میں نہیں ہوں خفا ۔بس بھوک نہیں ہے ۔آپ کھائیں۔“ اس مرتبہ کوئی جواب دےے بغیر وہ اٹھ گیا ۔ مسکان کوسخت بے چینی محسوس ہوئی ۔کیادانیال اس کے بغیر کھانا کھا لے گا؟کیا اس کے محبت کے دعوے محض زبانی کلامی تھے؟ اسے دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی ۔اس نے سوچا …. ”کیا وہ باہر نکل گیا ہے ؟“دوپٹا چہرے سے ہٹا کر اس نے دیکھا وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔ ”یہ کدھر نکل گیا ؟“اس کا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔ وہ بے چین ہو کر بیڈ سے اٹھ گئی۔ کھانااسی طرح ٹیبل پر رکھا تھا ۔مسکان کو خود بھی سخت بھوک لگی ہوئی تھی مگر دانیال کا جھڑکنا اسے بہت زیادہ محسوس ہوا تھا ۔اور پھر اس کے اندازے کے مطابق وہ سخت پریشان ہو گیا تھا ۔اس کی پشیمانی بھری منتیں سن کر مسکان کو ایک انوکھا احساس ہوا تھا ۔اس کے اندرموج زن چاہے جانے کے جذبے کو تسکین ملی تھی ۔کہ کسی کے لےے وہ اتنی اہم بھی ہو سکتی ہے ۔ وہ اس کے انتظار میں بے چینی سے ٹہلنے لگی ۔ ”شاید مجھے منانے کے لےے کوئی تحفہ لینے گیا ہو ؟“ایک امید افزا سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔ اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی ۔ ”پتا نہیں کون سا تحفہ لائے گا دیوانہ؟“اسے اپنے روےے پر ندامت ہوئی ۔جانتے بوجھتے اس نے اسے دکھ دیا تھا ۔یوں بھی اس کا جھڑکنامحبت کے اظہار کے لےے تھا ۔مسکان نے اپنے بارے کہا تھا کہ چاہے میں رہوں یا نہ رہوں ،اور یہ بات اسے کیسے گوارا ہو سکتی تھی ۔وہ پریشانی سے ٹہلتی رہی ۔اسی دوران بیرا برتن اٹھانے آیا مگر مسکان نے اسے دروازے ہی سے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ…. ”برتن فارغ نہیں ہیں صبح لے جانا۔“ جلد ہی اسے انتظار سے کوفت ہونے لگی ۔اچانک ایک خطرناک خیال اس کے دماغ میں ابھرا۔ ”کہیں اس نے خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا ہو ؟“ گھڑی دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ اسے وہاں سے نکلے گھنٹا ہو گیا تھا ۔ کار کی چابی اٹھا کر وہ باہر نکل آئی ۔ہوٹل کے ہال میں نظر دوڑانے پر اسے وہ نظر نہ آیا ۔ وہ پارکنگ میں آگئی ۔ کار پارکنگ سے نکالتے ہوئے ایک خیال کے تحت اس نے کار روکی اور نیچے اتر کر ہوٹل کے مین گیٹ پر کھڑے دربان کی طرف بڑھ گئی ۔ جس وقت وہ دونوں وہاں پہنچے تھے اس وقت بھی وہی دربان گیٹ پر موجود تھا۔ اس نے دربان سے دانیال کی بابت دریافت کیا ۔ اس نے دائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔”باجی !….وہ اس طرف جا رہا تھا ؟“ ”آپ اسے جانتے تو ہیں نا ؟“مسکان کو خیال آیا کہیں وہ کسی اور کو اس کا شوہر نہ سمجھے ہوئے ہو ۔ ”بہت اچھی طرح جانتا ہوں باجی!اس نے کریم کلر کے شلوار سوٹ پر کالی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔“ ”مہربانی بھائی ۔“کہہ کر وہ دوبارہ کار میں بیٹھی اور اس طرف روانہ ہو گئی جس طرف دربان نے اس کی رہنمائی کی تھی۔ اجنبی شہر کے انجان رستوں پر ایک آدمی کو ڈھونڈنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی برآمد کرنے کے مترادف تھا ۔ اسے محسوس ہوا کہ کچھ بہت غلط ہو نے والا تھا ۔ مسکان کی ناراضی یقینا اس دیوانے کی برداشت سے باہرتھی ۔ ٭……..٭ رات اتنی نہیں بیتی تھی ،سڑک پر اچھی خاصی چہل پہل تھی ۔دائیں بائیں کا جائزہ لیتی ہوئے وہ آہستہ روی سے ڈرائیو کرتی رہی ۔آگے جا کر ایک بغلی سڑک دائیں مڑ رہی تھی ۔ چند لمحے رک کر اس نے سوچا اور پھر مڑے بغیر آگے نکلتی چلی گئی ۔اسے یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ کہیں وہ کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں نہ بیٹھ گیا ہو ۔ لیکن اس کی ذہنی حالت کے پیش نظر یہ بعید تھا کہ وہ ایسا کرتا۔وہ دائیں بائیںمڑنے والی بغلی سڑکوں پر مڑے بغیر سیدھے نکلتی گئی ۔ اس اندھیرے میں اجنبی شہر کی سڑکوں پر سفر کرتے وہ خود کو بہت اکیلا اور تنہا محسوس کر رہی تھی۔اسے لگ رہا تھا جیسے بہت بڑا سہارا اس سے چھن گیا ہو ۔ اور پھر اس کے خود کو کوئی نقصان پہنچا نے کی صورت میں تووہ اپنے آپ کو کبھی معاف نہ کر پاتی ۔میاں بیوی پیار محبت میں اس بھی کئی گنا بڑی باتیں کر جاتے ہیں ۔ ایک عام سی بات کا اس نے بتنگڑ بنا دیا تھا ۔ حالانکہ حماد کئی بار اس سے بھی سخت الفاظ میںاسے مخاطب کر چکا تھا مگر اسے محسوس نہ ہوا تھا ۔ کار کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی میں اچانک اسے دور سے سفید رنگ کے لباس کی جھلک نظر آئی اور اس کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔اس نے دانیال کو پا لیا تھا ۔ سپیڈ بڑھا کر وہ اس کے قریب پہنچی مگر وہ اپنے آپ میں مگن چلتا رہا ۔ اس نے ایک دم زور سے ہارن دیا ۔وہ جلدی سے ایک طرف ہو گیا ،گویا اس کے لےے رستا چھوڑ رہاتھا ۔ مسکان نے دوبارہ اور سہ بارہ ہارن دیا ۔تیز ہارن اسے گہرے خیالات سے باہر لائے اور وہ کار کی طرف متوجہ ہوا ۔ ”دانی ! کے بچے کار میں بیٹھو ۔“کار روک کر اس نے مصنوعی غصے سے اسے آواز دی ۔ ”تم ….؟“وہ حیران رہ گیا تھا ۔دوسرے لمحے وہ لپک کر قریب آیااور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ ”مشی !….تم ؟“ مسکان نے آنکھیں نکالیں ۔”جی ہاں میں ….اس طرح بغیر بتائے آنے کا مطلب بتا سکتے ہیں آپ ؟“ ”مشی!…. میں تو ….میں تو ….یونھی بس ۔“ مسکان اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اٹھلائی ۔”اتنا برا لگا ہے میرا لاڈ کرنا ۔میں تو یونہی تھوڑا سا نخرہ دکھا رہی تھی اور آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ آئے ۔“ اچانک مسکان نے اس کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوتے دیکھی ۔ کچھ زیادہ ہی ڈوز دے دی تھی اس نے ۔اس سے پہلے کہ وہ سچ مچ رو پڑتا ،مسکان نے زور دار قہقہہ لگایا۔ ”ہا….ہا….ہا….اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ہے نا ؟دانی !….سوری میں نے کچھ زیادہ ہی تنگ کر دیا آپ کو ۔“ ”مشی !….میں واقعی بہت بے وقوف ہوں ۔مجھے یوں نہیں کہنا چاہےے تھا ۔اور دوسری بے وقوفی یہ کی کہ بغیر بتائے نکل آیا۔“ ”یہ سڑک تو مانسہرہ کی طرف جاتی ہے ،جناب نے کہاں تک جاناتھا ۔“مزاحیہ انداز اپنا کر وہ اس کے احساس گناہ کو کم کرنے لگی ۔ناکردہ گناہ کا احساس بہت تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے ۔وہ محبت کے اسرار و رموز سے واقف نہیں تھی مگر پچھلے چند دنوں سے اس پر بہت سی باتوں کا انکشاف ہو رہا تھا۔اور یہ یقینادانیال کی بے پایاں محبت کا اعجاز تھا ۔ ”کہیں نہیں مشی !….بس ابھی لوٹ آنا تھا ۔“ ”ابھی لوٹ آنا تھا ؟“مسکان نے چڑانے کے انداز میں اس کی نقل اتاری اور وہ ہنس دیا ۔ ”مشی ایک بات کہوں ؟“ ”بالکل نہیں ۔اب تمھاری ایک بھی نہیں سنوں گی ۔“اس نے کار موڑی اور واپس چل دی ۔ ”اچھا تمھیں یہ کس نے بتایا تھا کہ میں ادھر جا رہا ہوں ؟“ وہ ہنسی ۔”جب آپ مجھے آنکھیں بند کر کے ڈھونڈ سکتے ہیں تو کیا میں یہ نہیں کر سکتی ؟“ ”تمھارے بدن سے تو خوشبو آتی ہے ۔اور ایک محدود سے کمرے میں خوشبودار وجود کو ڈھونڈنا کون سا مشکل ہے ؟“ ”یہ اپنی اپنی صلاحیت کی بات ہے جناب ۔اور آپ کچھ پوچھنے والے تھے ۔“ ”پوچھنا نہیں کہنا چاہتا تھا ۔“ ”کیا ؟“ ”تم بہت اچھی ہو ؟….تمھارے جیسی بیوی قسمت والوں کو ملتی ہے ….“ ”اب ان قصائد کا کوئی فائدہ نہیں ۔“مسکان نے منہ بناتے ہوئے قطع کلامی کی ۔ ”آپ کی غلطی کی سزا ملے گی۔ ان باتوں سے معافی نہیں مل سکتی ۔“ ”ملزم کو ہر الزام قبول ہے ۔اور سزا کے لےے فدوی کا سر تسلیم خم ہے ۔“ کار ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑی کر کے وہ نیچے اترے ۔مسکان نے کہا۔ ”پہلے سزا تو سن لیں ؟“ ”نہیں سزا سنانے سے پہلے تم یہ سن لو کہ سزا میں مشی سے دوری کی کوئی شق شامل نہیں ہو گی ۔ اب سناو¿؟“ مسکان حیرت کا جھٹکا سا لگا ۔وہ ایک بار پھر بغیر کہے مسکان کی بات کو جان گیا تھا ۔وہ اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے بولی ۔ ”دانی صاحب !….سزا ملزم سے پوچھ کر مقرر نہیں کی جاتی ۔اور سزا کو مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ مستحقِ سزا کو ایسی سرزنش کی جائے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی کا سوچ بھی نہ سکے ۔“ وہ احتجاجی لہجے میں بولا۔”مشی !….ظلم کی ایک حد مقرر ہے اورپاکستان کے قانون میں سب سے بڑی سزا پھانسی ہے۔ تم اس سے بڑی سزا ایک چھوٹے سے جرم کے بدلے کیسے دے سکتی ہو ؟“ مسکان نے دروازہ ان لاک کیا اور وہ دونوں کمرے میں داخل ہوگئے ”اچھا بھوک لگی ہے کہ نہیں ؟“ وہ رونی صورت بنا کر بولا۔”پہلے سزا کا تعین ہونے دو اس کے بعد ہی کچھ پتا چلے گا ۔“ مسکان بے ساختہ ہنس پڑی۔ ”اچھا سزا یہ ہے کہ ….کہ ….کہ….“اس نے سوچنے کاپوز بنایا ،اور پھر چٹکی بجاتے ہوئے بولی ۔ ”ہاں….آپ کو آج اپنے ہاتھوں سے مجھے کھانا کھلانا پڑے گا۔“ ”مشی !….میری جان ۔“دانیال فرط مسرت سے اس سے لپٹ گیا ۔”یہ سزا ہے یا انعام ؟“ ”پتا نہیں ؟….لیکن اب جلدی کرو اس سے پہلے کہ پیٹ میں دوڑنے والے چوہے بلیاں بن جائیں۔“ ”مگر کھانا تو ٹھنڈا ہو گیا ہے ، پھول!“ وہ مسکرائی۔”کوئی بات نہیں گملے ۔“ ”واہ!….میں گملاکیسے ہوا ؟“ ”جیسے میں پھول ہوئی ؟“ ”پھول تو خیر تم ہو ؟….گلاب کی پتی سے بھی نازک ہونٹ،اتنے ملائم رخسار، کلی کی نرماہٹ لےے ہوئے کومل سی ناک۔پھول نہیں تو کیا ہے؟بلکہ جس پھول سے تمھیں نسبت دی جائے وہ بھی خود پر رشک کرے گا ؟ وہ کیا کہتے ہیں…. نقاب الٹے ہوئے جب بھی چمن سے وہ گزرتا ہے سمجھ کے پھول ،تتلی اس کے لب پر بیٹھ جاتی ہے وہ شرما کر بولی ۔”ایویں جھوٹی تعریفیں نہ کیا کرو ۔“ ”تمھیں کیسے یقین آئے گا ؟“ ”اگر آپ!…. یقین دلانے میں جتے رہے تو لازماََ یقین تو آجائے گا،مگر بھوک کی وجہ سے شاید یقین کرنے والی باقی نہ رہے ؟“ ”اوہ سوری ….“کہہ کر وہ اسے کھانا کھلانے لگا ۔ ٭……..٭ ”شکر ہے میں نے آپ کے کہنے پر بوٹ پہن لےے تھے؟“مسکان چڑھی سانسوں کے ساتھ ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ وہ اس وقت ”سربن “پہاڑی کی اونچائی سر کر رہے تھے۔پہاڑی کی اونچائی پر پتھروں کی مدد سے لکھا ہوا” لبیک “ کا نعرہ ان کی توجہ کا باعث بنا تھا ۔انھیں پوچھنے پر پتا چلا تھا کہ وہ لکھائی ایبٹ آباد میں قائم فرنٹیر فورس رجمنٹ سنٹرکے جوانوں نے کی تھی ۔ ”ابھی تک تو پہلی چڑھائی ختم نہیں ہوئی اور تم تھک گئیں ؟“ وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔”جی جناب !….میں سیر کرنے کے لےے آئی ہوں ۔کسی مقابلے میں حصہ نہیں لےنے کے لےے نہیں ۔“ دانیال اس کے سامنے پلتھی مار کر بیٹھ گیا ۔”ویسے مشی !….کتنی صاف و شفاف فضا ہے ،جی چاہتا ہے یہیں گھر بنا لوں ۔ بس میں ہوںاورمیری مشی ۔“ ”اچھا جی!…. جب بنا لینا تو اپنی مشی کو بھی بلا لینا ،فی الحال تو چلو ۔“وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ان کا سفر دوبارہ شروع ہو گیا ۔ وہ پہلی چڑھائی سر کر چکے تھے۔تھوڑی سی اترائی کے بعد دوبارہ چڑھائی شروع ہو گئی ۔ مسکان جلد ہی تھک گئی تھی ۔ایک بڑے سے پتھر سے ٹیک لگاتے ہوئے وہ بولی ۔ ”اف !….چڑھائی چڑھنا کتنا مشکل ہے ؟“ ”سچ کہا !….بلند ہونا بہت مشکل ہے ،لیکن کسی کی انکھوں سے گرنے میں ایک لمحہ لگتا ہے ۔“ ”مفکر صاحب !….میں پہاڑ کی چڑھائی کی بات کر رہی ہوں ۔“ ”چڑھائی کوئی بھی ہو مشی!….پہاڑی کی ہو یا کردار کی ،دنیاوی ترقی کی ہو یا آخروی درجات کی ، ایک مشکل مرحلہ ہے۔ دیکھو نا ؟شیطان نے ہزاروں سال کی عبادت کے بعد ایک مقام حاصل کیا ۔اور صرف ایک کلمہ¿ غرور نے اسے پاتال سے زیادہ گہرائی میں دھکیل دیا ۔“ مسکان نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اس لیکچر کے بجائے اگر تم مجھے اوپر چڑھنے میں مدد دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔“ ”کیوں نہیں ۔“دانیال نے اسے بازوو¿ں میں بھر کر اوپر اٹھا لیا ۔ ”اررے ….یہ کیا ۔“وہ بوکھلا کر بولی ۔”صرف ہاتھ پکڑ کر سہارا دو ۔“ ”ایسے ہی ٹھیک ہو ۔“اسے کندھے پر ڈالے وہ اطمینان سے اوپر چڑھنے لگا۔ ”دانی !….پلیز نیچے اتارو مجھے ،کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا ؟“ ”کوئی کہہ کر دیکھے ؟….سر نہیں پھاڑ دوں گا اس کا ؟….جانتی ہو جب میری شادی نہیں ہوئی تھی تو شادی شدہ حضرات بھی مجھے اسی طرح تاو¿ دلاتے ۔ کسی نے موٹر سائیکل پر بٹھائی ہوتی، کسی نے کار میں،کوئی ساحل سمندر پر بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھومتے نظر آتے ۔آج اللہ پاک نے جب مجھے ایک ایسی شریک حیات عنایت فرما دی ہے جیسی کسی کے پاس نہیں تو میں بھی اپنی مرضی کروں گا ۔سب سامنے اسے ٹرافی کی طرح ہاتھوں میں اٹھا کر گھوموں گا ۔“ ”اف دانی !….میرے پیٹ میں تکلیف ہو رہی ہے ؟“وہ آہستہ سے کراہی ،اور دانیال نے اسے جلدی سے نیچے اتار دیا ۔ ”کیا ہوا مشی ؟“اس نے بے صبری سے پوچھا ۔ وہ اطمینان سے بولی۔”کچھ بھی نہیںہوا….جھوٹ بولاہے ۔ویسے تو آپ نے اتارنا نہیں تھا؟“ ”میں دوبارہ اٹھا لوں گا؟“دانیال نے اسے دوبارہ پکڑنے کے لےے ہاتھ پھیلائے ۔ وہ پیچھے ہٹتی ہوئی بولی ۔”اگر اب مجھے ہاتھ لگایا تو میں شور مچا دوں گی ۔“ ”کوئی غم نہیں ۔“ ”قسم سے خفا ہو جاو¿ں گی ؟“ ”اچھا ٹھیک ہے…. ٹھیک ہے ،صرف ہاتھ سے پکڑ کر کھینچوں گا ۔“ گھنٹے بھر بعد وہ آہستہ روی سے چڑھتے لکھائی کے قریب پہنچ گئے تھے۔وہاں تھوڑی دیر رک کر وہ مزید اوپر چڑھنے لگے۔چوٹی پر پہنچ کر وہ بیٹھ گئے ۔ دوسری جانب اکا دکا گھر نظر آرہے تھے۔ مسکان بولی۔”مجھے تو سخت بھوک لگی ہے ؟“ ”مجھے تم سے بھی زیادہ لگی ہے۔“دانیال نے پیٹھ پرلدا بیگ کھول کر پیک کھانا نکال لیا ۔ انھوں نے سپیشل پراٹھے اور کباب تیار کرا کے پیک کرائے تھے۔ مسکان شرارت سے بولی۔”ہاں اتنی موٹی تازی بیوی کو اوپر تک کھینچ کر لانا پڑا، بھوک تو لگے گی۔“ ”تم اور موٹی تازی ….پاگل جتنا وزنی لوہا میں نے لوڈ ان لوڈ کیا ہے ،اس کے بعد سو کلو گرام تک کا وزن اٹھانا مجھے مذاق لگتا ہے ۔اور جہاں تک تمھاری بات ہے ، قسم سے گلاب کے پھول سے بھی ہلکی لگی ہو ؟“ ”بس بس زیادہ مسکا لگانے کی ضرورت نہیں ۔“ ”ہاں جی !….ہمارا سچ کہنا بھی اب خوشامد کے زمرے میں آئے گا ۔اللہ ایسی اکھڑ مزاج بیوی، میرے علاوہ کسی کو نہ دے ۔“ مسکان جو اکھڑ مزج کے الفاظ سن کر آنکھیں نکالنے لگی تھی ،مکمل بات سن کر مسکرا دی ۔ ”اچھا دانی !….یہ بتاو¿ ،اگر آپ کی شادی کسی دوسری لڑکی سے ہوئی ہوتی تو کیا اسے بھی اتنی چاہت دیتے ؟“ مسکان نے کئی دنوں سے دل میں مچلتا سوال پوچھ ہی لیا۔ دانیال بالکل خاموش ہو گیا ۔مسکان کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا ۔وہ منتظر نگاہوں میں اسے گھورنے لگی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اسے چھوڑ کر چلی جائے گی، پھر بھی جانے کیوں وہ اسے یونھی اپنا دیوانہ دیکھنا چاہتی تھی۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے زبان کھولی۔ ”مشی !….مجھے شادی کی خواہش تھی،اور بہت زیادہ تھی ۔جوان بدن کے تقاضے ایسے نہیں ہوتے کہ انھیں ٹالا جا سکے ۔ یہاں تک کہ میں ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لےے ایک مرتبہ جسم فروش عورت کے پاس بھی پہنچ گیا ،مگر میرے اللہ نے مجھے بچا لیا ۔مجھے اس سے کراہت محسوس ہوئی اور میں اس کے جسم کو ہاتھ لگائے بغیر وہاں سے نکل آیا۔میں نے شادی کے لےے کتنی دعائیں مانگیں کتنی کوششیں کیں یہ بیان سے باہر ہے ۔پھر میں نے سوچا ، شادی کے لےے دولت ضروری ہے ۔ کوئی بھی لڑکی تب میری جانب متوجہ ہو گی، جب میرے پاس موٹر کار،بنگلہ اور اچھا کاروبار ہوگا۔ اس خیال نے مجھے جرم کی ترغیب د ی۔ میں نے لوگوں کو لوٹنے کا ارادہ کیا،پر ناکام رہا میرا ضمیر اس بات پر راضی نہ ہوا کہ کسی غریب کی جیب کاٹ کر اپنی جیب بھروں ۔پھر میں نے امیر آدمی کی بچی اغوا کی مگر بغیر تاوان لےے چھوڑ دی ۔ ایک ملک دشمن نے مجھے دہشت گردی کی کارروائی میں شامل ہونے پر کثیر دولت کی خوش خبری سنائی ۔لیکن میں اپنی خوشیوں کے لےے دوسروں کے گھر نہیں اجاڑ سکتا تھا ۔میں نے اس ذلیل کی، گھٹیا آفر کو دھتکار دیا ۔پھر میں نے ایک شادی دفتر سے رجوع کیا مگر وہ دھوکا باز تھے،خوب صورت لڑکیوں کی تصاویر دکھا کر مجھ جیسے شادی کے تمنائیوں کو لوٹنے والے۔وہاں بھی منہ کی کھانے کے بعد میں نے شادی کا خیال دل سے نکال دیا۔ اس کے بعد مجھے تم ملیں ۔میرے رب کا ایسا انعام جسے میں اپنی ذات پر رب کی لازوال رحمتوں کی تکمیل کا نام دے سکتا ہوں ۔اگر تمھارے علاوہ کوئی بھی لڑکی مجھے ملی ،ہوتی مجھے ضرور عزیز ہوتی ۔میں اس کے حقوق پورے کرتا ، اس پر کبھی ظلم یا زیادتی نہ کرتا ۔مگر اللہ پاک کی قسم میں نے اس بارے بہت سوچا ،بہت غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جتنی محبت مجھے تم سے ہے اتنی کسی سے نہیں ہوسکتی ۔میں تمھاری تصویر دیکھ کر ہی فریفتہ ہو گیا تھا ۔“ وہ بڑے غور سے اس کی باتیں سنتی رہی ۔وہ سچ کہہ رہا تھا ۔اس کا ہر لفظ ظاہر کر رہا تھا کہ اس کی باتوں میں کوئی تصنع اور بناوٹ نہیں تھی۔اس کی آخری بات سن کر مسکان کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔وہ موضوع بدلتے ہوئے بولی ۔ ”میرا خیال ہے پراٹھے پہلے ہی ٹھنڈے ہیں ۔اور رزق کو انتظار کرانا بھی کوئی اچھا فعل نہیں ہے ؟“ ”یہ تو ہے ؟“دانیال نے اثبات میں سر ہلا کر اس کی تصدیق کی ۔اور دونوں کھانے کے ساتھ انصاف کرنے لگے ۔اس بلندی پر کھانے کا لطف دوبالا ہوگیا تھا ۔ ”اب اگر چاے مل جاتی نا ؟“پانی پی کر مسکان لیٹتے ہوئے بولی ۔ ”چلو ان گھر والوں کے زبردستی کے مہمان بنتے ہیں ؟“دانیال نے قریبی گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مشورہ دیا ۔ ”چلو !….“مسکان غیر متوقع طور پر اس ایڈونچر کے لےے تیار ہو گئی ۔وہ دوسری جانب نیچے اتر گئے ۔ چڑھائی کی نسبت اترائی آسان تھی وہ چند منٹ میں گھر کے نزدیک پہنچ گئے ۔گھر سے باہر لگے ایک گھنے سے درخت کے نیچے دو چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے۔انھیں دیکھ کر وہ ان کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ ”بیٹا کیا نام ہے ؟“مسکان نے جھک کر بچے کے گال تھپ تھپاتے ہوئے پوچھا ۔ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔”یاسر!“ ”اور تمھارا کیا نام ہے گڑیا ؟“مسکان بچی سے مخاطب ہوئی ۔ مگر وہ خاموشی سے اسے گھورتی رہی ۔یوں بھی وہ بچے سے چھوٹی تھی ۔اسے خاموش دیکھ کر بچے نے جواب دیا۔ ”آنٹی اس کا نام بسمہ ہے۔“ اسی وقت ایک عورت نے گھر سے باہر جھانکا ۔اجنبی عورت کو اپنے بچوں سے بات چیت کرتے دیکھ کر وہ قریب آگئی ۔ وہ شاید ان بچوں کی ماں تھی ۔ ”سلام بہن ۔“اس نے مسکان کو سلام کر کے مصافحے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔ ”وعلیکم اسلام !“مسکان نے خوش دلی سے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ ”سلام بھائی !“اس نے دانیال کے سامنے سر جھکا کر کہا۔ ”وعلیکم السلام بہن ۔“دانیال نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ”آپ لوگ یقینا مسافر ہو ؟“ مسکان نے جواب دیا ۔”ہاں باجی!“ ”آئیں نا ؟….کھانے کا وقت ہے ؟“اس نے بے تکلفی سے دعوت دی ۔ ”کھانا تو ہم نے کھا لیا ہے باجی ۔“ ”تو پھر چاے پی لو ۔“اس نے ان کی دل لگتی کہی ۔اور وہ بغیر کسی تکرار کے اس کے ہمراہ ہو لےے۔ گھر میں دو خواتین اور بھی موجود تھیں ۔دانیال کو اکیلے کمرے میں بٹھا کر وہ مسکان کو ساتھ لے گئیں۔تھوڑی دیر بعد یاسر نامی بچہ تھرماس اور چاے کا کپ اس کے لےے لے آیا ۔ مسکان عورتوں میں ہی بیٹھ گئی تھی۔چاے پینے کے بعد بھی اسے آدھا گھنٹا مزید مسکان کا انتظار کرناپڑا ۔گھر سے نکلتے وقت مسکان نے صحن میں کھڑے بچوں کے ہاتھ پر ایک ایک بڑا نوٹ رکھ دیا۔میزبان خاتون نے چیخ کر اسے منع کیا مگر مسکان مسکرا کر بولی ۔ ”تمھیں نہیں دے رہی باجی ،اپنے بھانجوں کو دے رہی ہوں ۔“ واپسی کے لےے انھوں نے دوسرا رستا استعمال کیا تھا ۔جو مسکان کو میزبان خاتون سے پتا چلا تھا۔ واپس پہاڑ پر چڑھنے کے بجائے وہ نیچے اترے اور روڈ پر پہنچ گئے ۔وہاں سے انھیں ایک خالی ٹیکسی مل گئی ۔ ان کا رخ ایبٹ آباد کی مشہور اور تاریخی مسجد ،الیاسی مسجد کی طرف ہو گیا ۔ ان کی ہوٹل میں واپسی عصر کی اذان کے بعد ہی ممکن ہو سکی تھی۔ دانیال شاور لینے کے لےے باتھ روم میں گھس گیااسی وقت مسکان کے موبائل فون پر حماد کی کال آنے لگی ۔ وہ تھکی تھکی آواز میں بولی ”یس ؟“ ”مسکان !….تم اس وقت کہاں ہو ؟“حماد کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ وہ یک دم سنبھل کر بیٹھ گئی ۔ ”مم ….میں اس وقت عارضی طور پر کراچی سے باہر ہوں ۔“اس نے بات کو گول مول کرنا چاہا۔ ”میں نے پوچھا کہاں ہو ؟“حماد نے اپنی بات دہرائی ۔ ”ایبٹ آباد ۔“اس سے جھوٹ نہ بولا گیا ”وہاں کس مقصد سے گئی ہو ؟“حماد کا لہجہ بہت سنجیدہ تھا۔ ”وہ دانیال کہہ رہا تھا کہ اس نے کوئی پہاڑی علاقہ نہیں دیکھا تو میں نے سوچا چلو اس بہانے آو¿ٹنگ ہو جائے گی ….“ ”شٹ آپ ۔بند کرو بکواس“حماد دھاڑا ۔”مجھے صرف بچے کی خواہش تھی، یہ نہیں کہ میں تمھیں کسی اور کے پاس رنگ رلیاں منانے کے لےے بھیجنا چاہتا تھا۔ میں نے کئی دنوں کی تلاش کے بعد ایسا بدصورت مرد تلاش کیا کہ جس کی طرف تمھارا دل مائل نہ ہو ؟ اور تم اس کالے کلوٹے کے ساتھ ہنی مون منا رہی ہو ،گل چھرے اڑا رہی ہو پہاڑی مقام پر ۔ بھول گیا تمھیں اپنا حماد ،جسے بستر اس طرح کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے جیسے گدے کے بجائے کانٹے بچھاے گئے ہوں ۔اور یہ تو ایک بدصورت مرد کے ساتھ تمھارابرتاو¿ ہے اگر کوئی خوب صورت ہوتا تو شاید تم ہر حد عبور کر لیتیں ہے نا ….؟“ ”نہیں حادی نہیں ….پلیز ؟“وہ رو پڑی ۔”ایسی کوئی بات نہیں ۔میرا وہ مقصد ہر گز نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ میں تو…. میں تو….بس احساس ندامت کم کرنا چاہتی ہوں ؟ایک بھولے بھالے مزدور سے ہم نے غلط بیانی کی ۔سوچاکم از کم اس کی ایک چھوٹی سی خواہش ہی پوری کر دوں ،وہ پہاڑی علاقہ دیکھنا چاہتا تھا ۔ اور یہ اتنی بڑی بات نہیں تھی ۔میں کوئی خوشیاں منانے نہیں آئی یہاں ؟“ حماد تلخی سے بولا۔”محترما !….اتنا خوب صورت مکان ،ایک سوزکی کار اور ایک خوب صورت لڑکی کی معیت میں ماہ ڈیڑھ ماہ کی عیاشی ۔اور کیا چاہےے اس بھیک منگے کو ؟“ ”حادی !….پھر بھی ہم نے اسے اندھیرے میں تو رکھا نا ؟“ حماد دو ٹوک لہجے میں بولا۔”میں کچھ نہیں جانتا ….تم ابھی ابھی وہاں سے واپسی کا قصد کرو ۔“ ”صبح واپسی……..“ ”میں نے کہا ابھی اسی وقت ،اگلے دس منٹ میں مجھے ایس ایم ایس آ جانا چاہےے کہ تم وہاں سے چل پڑی ہو؟“ ”حادی!….میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ۔“مسکان سخت تھکی ہوئی تھی۔اس وقت اتنے لمبے سفر پر نکلنا بہت مشکل تھا۔ ”ابھی ….اسی وقت ،یا پھر کبھی نہیں ؟“ ”اوکے ….اوکے ،ہم آدھے گھنٹے میں روانہ ہوتے ہیں ۔“ ”اگر تم نہ نکلی ،تو ……..؟“ وہ گھبرا گئی اور روہانسی ہو کر بولی ۔”آرہی ہوں نا…. آرہی ہوں۔“اور حماد نے رابطہ منقطع کر دیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: