Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 11

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 11

–**–**–

موبائل فون بند کر کے اس نے مسکرا کر سامنے بیٹھی فریحہ کی طرف دیکھا۔

”کیسا رہا ؟

”بہت ڈرا دیا ہے بے چاری کو ؟“

”غضب خدا کا !….مجھے پتا نہیں اور محترما ہنی مون منا رہی ہے ۔“

فریحہ نے فخریہ لہجے میں پوچھا۔”یاد ہے…. میں نے کیا کہا تھا ؟“

”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ،میں نے ذرا سی سختی کی تو رونے لگ گئی۔میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں ،تمھیں پتا نہیں اصل بات اور ہے ۔“

”ذرا میں بھی سنوں ؟“فریحہ نے دلچسپی ظاہر کی۔

”وہ بہت نرم مزاج اور اسلامی سوچ رکھنے والی لڑکی ہے ۔تم اسے آسانی سے بنیادپرست کہہ سکتی ہو ۔ وہ اس کالے کو خوش کر کے اپنے دل سے احساس گناہ ختم کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ وہ اس شادی کو سراسر دھوکا اور فریب سمجھ رہی ہے۔“

”تم خود ہی تو کہہ رہے تھے کہ اس نے ایک چھوٹا سا خوب صورت مکان ،اور ایک سوزکی کار اس کے حوالے کر دی ہے ۔کیا یہ کم تھا ۔وہ بچی نہیں ہے اچھی طرح جانتی ہے ۔اصل بات وہی ہے جو میں نے پہلے سے پیشن گوئی کر دی تھی۔اور اب بھی تمھیں متنبہ کر رہی ہوں ،اس پر گہری نگاہ رکھنا ۔یہ نہ ہوغلط فہمی میں یہ بازی ہار جاو¿؟…. نہ مسکان بی بی رہے اور نہ اس کی دولت جائیداد۔وہ کیا کہتے ہیں ….

قسمت کی خوبی دیکھئے ،ٹوٹی کہاں کمند

دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا

”اس کالے کلوٹے کے لےے مسکان مجھے چھوڑے گی ؟….ناممکن ….؟“حماد نے نفی میں سر ہلایا۔

”حماد !….احتیاط اچھی ہوتی ہے ۔یہ نہ ہو بعد میں ہمارے پاس پچھتانے کوکچھ نہ رہے ۔ اور جہاں تک دانیال کی بد صورتی کا تعلق ہے ،کالی صورت کوئی بدصورتی کی علامت نہیں ہے ۔وہ صحت مند ہے ، جسمانی لحاظ سے مضبوط ہے،متناسب جسم ، چہرے پر کوئی عیب نہیں ،کسی بیماری یا عارضے میں مبتلا نہیں۔ سب سے بڑھ کر اس کے پاس ایسا ترسا ہوا دل ہے جو صرف مسکان صاحبہ کے لےے دھڑکتا ہے اور اس کی ہر جائز، نا جائز خواہش تسلیم کرنے کے لےے بے تاب رہتا ہے ۔ تو پھر وہ کیسے اس کی جانب مائل نہیں ہو گی ؟“دانیال کے متعلق فریحہ نے دل میں چھپائے خیالات بے ساختہ اگل دےے۔

حماد بھڑکتا ہوا بولا۔”تمھارے کہنے کا مطلب ہے وہ کلوٹا ہر لحاظ سے ایک آئیڈیل شوہر ہے ، ہے نا ؟اور میں عیب دار ہوں ۔نہ تو سمارٹ ہوں اور نہ صحت مند ہوں ؟“

”بات سمجھنے کی کوشش کرو ،یہ سب میں مسکان کے نقطہ نظر سے کہہ رہی ہوں َ“فریحہ نے جلدی سے بات سنبھالی۔ ” میرے نزدیک وہ آج بھی پہلے دن کی طرح ہی نفرت انگیز ہے ۔ اور یوں بھی موضوعِ بحث تمھاری مسکان ہے ، میں نہیں ؟“

”اگر میں یہ کہوں کہ مسکان تم سے بھی بڑھ کر مجھے چاہتی ہے ؟“

”تو ٹھیک ہو گا ۔یوں بھی، میں کیا اور میری چاہت کیا ؟“فریحہ کے چہرے پر خفگی بھرے تاثرات نمودار ہوئے۔

”خفا ہونے کی ضرورت نہیں ۔یہ حقیقت ہے ۔کیا تم میرے لےے دانیال سے شادی کر لو گی ؟ …. نہیں نا ؟…. جبکہ اس نے میری خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھی بھر لیا ۔ اور یہ بھی دیکھو وہ ایک سیٹھ زادی ہے۔ اور بیوی ہوکر شوہر کی معاشی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے ۔مطلب میری کسی بھی طرح محتاج نہیں ۔پھر بھی میری کسی بات کو رد نہیں کرتی۔اور کیا محبت کے سینگ ہوتے ہیں ؟“

فریحہ طیش میں آکر بولی۔”تو رکھو اسے اپنے پاس ۔نہ علاحدہ کرو خودسے؟“

”یہ بھی ممکن نہیں ؟….میں خود تو اپنی فری کو چاہتا ہوں نا؟….ایسی ہزار مسکانوں کو میں فری کے قدموں میں قربان کر دوں ۔“

”مجھے نہیں چاہےے تمھاری محبت ۔“فریحہ نے منہ پھلا لیا ۔

”دیکھو مجھے مجبور نہ کرو ؟“حماد دھمکی دیتا ہوا بولا۔”کمرے کا دروازہ بند ہے،یہ نہ ہو مجھے کوئی دوسرا طریقہ استعمال کرنا پڑے؟“

”تم ہاتھ لگا کر دیکھو؟ایسی چیخیں ماروں گی، میرے گھر والے تو کیا پورا محلہ اکھٹا ہو جائے گا؟“

”تم دوبارہ بکواس کرو ؟“

”سچ کہا ہے نا ؟“فریحہ یہ کہہ کر دروازے کی طرف بھاگی اور پھر دروازے پر رک کر بولی ۔ ”استاد جی !….میں آپ کے لےے چاے لاتی ہوں ۔“

حماد کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی ۔فریحہ اسے حقیقت میں بہت عزیز تھی۔ اور مسکان سے اس کا واسطہ ©©©©©فقط ضرورت کی حد تک تھا ۔اس کی اہمیت سونے کا انڈا دینے والی مرغی جتنی تھی ۔ کہ انڈوں کے حصول کے بعد مرغی کی حیثیت باقی نہیں رہتی ۔اور حماد اس مرغی کا پیٹ چاک کر کے سارے انڈے اکھٹے ہی حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس کے ذہن میں فریحہ کے بیان کےے اندیشے کلبلائے ۔ مگر اس نے سر جھٹک کر ان ناممکن سوچوں کو دورجھٹک دیا ۔

وہ روزانہ فریحہ کے گھر عصر کی اذان کے وقت آتا ۔آج وہاں آتے ہوئے اس نے ضروری سمجھا کہ مسکان سے ملتا آئے کہ وہ چند روز سے ا سے نہیں مل سکا تھا ۔اس دن وہ رات کو اس کی کار دینے گیا تب بھی اس سے نہیں مل سکا تھا اور کار کی چابی دانیال کی ماں کے حوالے کر کے واپس لوٹ آیا تھا ۔ لیکن آج بھی اس کا مسکان سے ملنے کا ارادہ پورا نہیں ہو سکا اور جب دانیال کی ماں نے بتایا کہ ….

”وہ تو گھومنے کے لےے کراچی سے باہر گئے ہوئے ہیں ۔“اس کا دماغ گھوم گیا تھا ۔ فریحہ کے پاس آکر اس نے مسکان کواچھی خاصی جھاڑ پلادی ۔

انھی سوچوں کے دوران اسے مسکان کا ایس ایم ایس موصول ہوا ۔”ہم ایبٹ آباد سے نکل پڑے ہیں ۔“

حماد کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ کھلنے لگی ۔اور وہ زیر لب بڑبڑایا۔

”مظلوم سیٹھ زادی؟عشق نے ہیر بنا دیا ہے ۔وہ بھی کچے گھڑے پر دریا پار کرتے ڈوب گئی تھی اور اس بے چاری نے بھی مارے جانا ہے۔اُسے پانی نے ڈبویا تھا اِس کا خاتمہ حماد کی محبت نے کر دیناہے۔“

٭……..٭

فون بند کرکے وہ خیالوں میں کھو گئی ۔دانیال کا ذرا سا” بکواس بند کرو ۔“کہنے پراس نے سخت قسم کی ناراضی کا اظہار کیا تھا ۔اس کے برعکس حماد اسے اچھی خاصی جھاڑ پلا چکا تھا پھر بھی اسے ذراسا بھی محسوس نہیں ہو ا تھا ۔اس نے سوچا ۔

”شاید محبت اسی کو کہتے ہیں؟کہ محبوب کی کوئی بات بری نہ لگے ؟“

وہ زیادہ دیر بیٹھی نہ رہ سکی کہ اسے جلدی جلدی وہاں سے جانے کی تیاری کرنا تھی۔

جب دانیال نہا کر باتھ روم سے باہر نکلا تو مسکان مختصر سا سامان سمیٹ کر بیگ میں ڈال رہی تھی ۔

”مشی !….یہ کیا ؟“

”واپس چلنا ہے ابھی کے ابھی ۔“وہ کھردرے لہجے میں بولی ۔

اس کا لہجہ ایسا نہیں تھاکہ وہ نہ چونکتا۔”مِشّی !….خیر تو ہے ؟“تولیا بستر پر پھینک کر وہ اس کے قریب آیا ۔

”ہاں خیریت ہے ۔“اس نے دانیال سے نظریں ملانے سے گریز کیا ۔

”مِشّی !میری طرف دیکھو ؟“دانیال نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنی جانب متوجہ کیا۔

وہ تپ کر بولی۔”بتا دیا نا؟…. کچھ نہیں ہے ؟“اس کے دماغ میں حماد کی باتیں ہتھوڑے کی طرح ضربیں لگا رہی تھیں۔دانیال کو واقعی اس نے کچھ زیادہ ہی اہمیت دینا شروع کر دی تھی ۔

”م….مم….مجھ سے کوئی قصورسرزد ہو گیاہے ؟“اس کا رویہ دیکھتے ہوئے دانیال ایک دم گھبرا گیاتھا۔

اس نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔دانیال کی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھیں۔

”روم سروس کو کھانے کا بتا دو ….ہمارے پاس وقت کم ہے،بس جو بھی پکا ہے منگوا لو ؟“ اس کے سوال کا جواب گول کرتے ہوئے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔دانیال کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اسے سخت الجھن ہورہی تھی ۔مگر حماد کی تلخ باتیں سننے کے بعد وہ تسلی کے دو بول بھی نہ کہہ سکی ۔پہلے اس کی اپنی محبت تھی بعد میں کسی اور کا نمبر آتا تھا ۔ پھر بہ قول حماد انھوں نے دانیال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا ۔اور جتنا کچھ اسے اس شادی سے ملا تھا اتنا وہ ساری زندگی بچت کر کے نہیں بنا سکتا تھا ۔ اس نے کیا دیا تھا مسکان کو؟ …. اگر وہ شادی کر کے اس کے ساتھ ایک ماہ گزارتی اور اسے کوئی مالی فائدہ نہ پہنچاتی تب بھی فائدہ دانیال ہی کا نظر آتا تھا ۔ مہینا بھر ایک حسین دوشیزہ کا شوہر ہونا، ہر کسی کانصیب نہیںہوتا۔

ان سوچوں کے باوجود باتھ روم میں گھستے ہی اس کی آنکھیں برسنے لگیں ۔ وہ کیوں رو رہی تھی اس بارے وہ خود بھی کچھ نہیں جانتی تھی ۔حماد کی جدائی ، دانیال کی بے بسی ،اپنی الجھنیں ،پتا نہیں کس بات پر اس کا دل کٹا جا رہا تھا ۔وضو کرتے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں کو خوب دھویا ۔

جب وہ باہر نکلی تو کھانا آ گیا تھا ۔دانیال گہری سوچ میں گم تھا ۔

”چلیں جی وقت نہیں ہے ؟“اس نے دانیال کو کھانے کی طرف متوجہ کیا ۔

دانیال نے زخمی نظروں سے اس کی جانب دیکھا مگر وہ اس سے نظر چراتے ہوئے کھانا شروع کر چکی تھی ۔ دانیال سے شادی کے بعد پہلا دن تھا کہ اس نے پہلا نوالا خود توڑ کر کھایا تھا ۔وہ تھوڑی دیر اضطراب میںہاتھ مروڑتا رہا اور پھربے دلی سے نوالا توڑ کر کھانے لگا ۔

مسکان جانتی تھی کہ وہ صرف اسے دکھانے کے لےے نوالے چبا رہا ہے ۔خود مسکان کے حلق سے بھی نوالے نہیں اتر رہے تھے مگر حماد کی باتیں ایسی نہیں تھیں کہ وہ دل سے جھٹک پاتی ۔

”تم اس کالے کلوٹے کے ساتھ ہنی مون منا رہی ہو،رنگ رلیاں منا رہی ہو،گل چھرے اڑا رہی ہو؟ بدصورت کے ساتھ تمھارا یہ برتاو¿ ہے، خوب صورت ہوتا تب تو تم ہر حد پار کر جاتیں ؟ “

اس کے کھانا کھانے تک وہ بھی اس کا ساتھ دیتا رہا ۔

اس کی عاجزی نے مسکان کو غمگین کر دیا ۔اس نے سوچا ۔

”حماد کون سا میری حرکات کو دیکھ رہا ہے ؟ اس نے واپسی کا کہا ہے تو لوٹ جاتی ہوں ، لیکن دانیال کو جدا ہونے سے پہلے اذیت دینا کہاں کی عقل مندی ہے؟“

اس نے نوالا بنا کر دانیال کے منہ کی طرف بڑھایا۔اتنی زیادہ توہین کے بعد کوئی غیرت مند وہ خیرات قبول نہ کرتا ،مگر دانیال کے دل میں مسکان کو جو مقام حاصل تھا۔ اس کے بعد کسی بھی قسم کی غیرت مندی کا اظہار بعید تھا۔

اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کے ہاتھوں سے نوالاکھالیا ۔لیکن اس کے ساتھ ہی آنکھوں کے اندر کے پانی کو بہنے کا موقع مل گیا تھا ۔

مسکان تڑپ اٹھی ۔”اے دانی !….کیا ہوا ؟“

”کچھ نہیں ،خوشی کے آنسو ہیں ۔“وہ زبردستی مسکرا دیا ۔”ڈر گیا تھا کہ تم سچ مچ خفا ہو گئی ہو؟“

”نہیں گھر سے فون آیاتھا ۔مجھے کافی جھاڑ پلائی گئی ہے کہ بغیر بتائے میں اتنی دور کیوں آئی ہوں ۔ بس اس وجہ سے پریشان ہو گئی تھی ۔“

”مِشّی !….ایک بات کہوں ؟“

”جی ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

”یہ بات نہیں ہے ،جو تم نے ابھی بتائی ہے ،اصل بات کچھ اور ہے ؟“دانیال پر اعتماد لہجے میں بولا۔

مسکان نے بات گول مول کرنے کی کوشش کی تھی۔مگر دانیال نے اس کی غلط بیانی کو پکڑ لیا تھا۔اس کی بات صحیح ہوتے ہوئے بھی حقائق کے خلاف تھی ۔

”دانی !….مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ؟“اپنے لہجے میں اعتماد کا فقدان خود اسے بھی محسوس ہو رہا تھا۔ تو دانیال کو کیوں نہ پتا چلتا جو حقیقی معنوں میں اس کا نبض شناس تھا۔

”مِشّی !….میں تم سے اصل بات نہیں اگلوا رہا ۔تمھیں صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ؟“

” صفائی کیوں پیش کروں گی ،میں چور تھوڑی ہوں ؟“مسکان کے لہجے میں چھلکتی تلخی نے ایک بار پھردانیال کو پریشان کر دیا تھا ۔

”میں نے ایسا کب کہا ہے کہ تم کوئی غلط بات چھپا رہی ہو ؟….میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اصل بات کچھ او ر ہے ؟“

”چھوڑو اس موضوع کو اور چلو۔“مسکان اٹھ کھڑی ہوئی ۔دانیال بھی بیگ اٹھا کر اس کے ساتھ ہو لیا۔مسکان کا رخ پارکنگ کی طرف ہو گیا جبکہ وہ ریسپشن پر جا کر ہوٹل کا حساب بے باق کر نے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ کار میں بیٹھے واپسی کا رخ کر رہے تھے۔مسکان حماد کو واپسی کی اطلاع دینا نہیں بھولی تھی۔

وہ بہ مشکل حویلیاں تک پہنچے تھے کہ مسکان کو نیندنے آلیا۔اس نے سر جھٹک کر نیند بھگانے کی کوشش کی مگر اس کی کوشش بے سود رہی۔اسی وقت دانیال نے اسے مشورہ دیا ۔

”میرا خیال ہے تمھیں سو جانا چاہےے؟“

”نہیں آپ اکیلے بو ر ہو جائیں گے ۔“مسکان نے ایک بار پھرسر جھٹک کر نیند بھگانے کی کوشش کی ۔

دانیال نے کار روک کر کہا ۔”پلیز مِشّی!…. لیٹ جاو¿۔دو تین گھنٹے آرام کر لو پھر میں تمھیں اٹھا دوں گا ۔اور خود لیٹ جاو¿ں گا ۔“

”اچھا ٹھیک ہے ۔“مسکان نیچے اتر کر پچھلی نشست پر منتقل ہو گئی ۔گھر سے آتے وقت وہ ایک خوب صورت کمبل ساتھ لائی تھی۔کار کے اندرفضا معتدل تھی۔اس نے کمبل سیٹ پر بچھایا اور لیٹ گئی۔زندگی میں پہلی بار اس نے اتنی مشقت اٹھائی تھی۔ذہنی طور پر ڈسٹرب ہونے کے باوجود ،وہ چند منٹوںہی میں گہری نیند میں کھو گئی ۔

دانیا ل ڈرائیونگ کرتے ہوئے مسکان کے روےے پر غور کرتا رہا ۔ آج مسکان اسے بہت زیادہ اجنبی اور پرائی لگ رہی تھی ۔یوں جیسے اس کے ظاہر اور باطن میں فرق ہو ۔گواس کی طبیعت کا تضاد پہلے دن سے دانیال پر واضح تھا۔ مگر آج وہ تضاد کھل کر سامنے آگیا تھا ۔پہلے کبھی کبھی اسے مسکان کی آنکھوں میںاتنی چاہت نظر آتی کہ وہ مسرور ہو جاتا اور کبھی وہی آنکھیں بالکل بے گانی اور پرائی پرائی لگتیں ۔آج وہ کبھی کبھی چھلکنے والی چاہت بھی معدوم ہو گئی تھی۔ایسا کیوں تھا ۔ کیا وہ فراڈ تھی اور دانیال کے قریب آنے میں اس کا کوئی مفاد پوشیدہ تھا ؟یا وہ کسی کے مجبور کرنے پر وہ اس کے قریب آئی تھی۔بہ ظاہر اسے کوئی بات نظر نہیں آ رہی تھی ۔اس کی شخصت میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ اتنی حسین اور امیر کبیر لڑکی اس کے قریب ہوتی ۔ مختلف الٹی سیدھی سوچیں اس کے دماغ میں سرگرداں رہیں ۔ اسے سب سے زیادہ ڈر مسکان کے بچھڑنے کا تھا ۔کسی بھی لڑکی کے طلب گار کو اب مسکان کے علاوہ کوئی درکار نہیں تھی ۔ چاہے وہ کوئی حور ،اپسرایا مس یونیورس کیوں نہ ہوتی ۔

٭……..٭

مسکان کی آنکھ کھلی تو چند لمحے وہ بے خیالی میں پڑی رہی ۔پھر اسے یاد آیا کہ وہ کہاں لیٹی ہے۔اسی لمحے اس کے کانوں میں دانیال کے گنگنانے کی آواز آئی ۔وہ ہلکی آواز میں گنگنا رہا تھا ۔اس کی آواز تھوڑی سی بھاری ہونے کے باوجود مسکان کو بہت پیاری لگی ۔اس نے گیت کے بولوں پر کان لگا لےے۔وہ بڑی لے میں گنگنا رہا تھا ….

کیا بگاڑا تمھارا اس دل نے

ساتھ مانگا تمھارا اس دل نے

اس طرح کیوں کیا کنارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

اب بھی تم سے گِلے بلا کے ہیں

اور رشتے بھی انتہا کے ہیں

اس لےے پھر تمھیں پکارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

کیسے مانوں کہ تم ہی سچے ہو

یہ الگ بات ہے کہ اچھے ہو

ہاں تمھارا قصور سارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

تیری آنکھوں میں اشک آئیں نا

دکھ کبھی ڈھونڈ تجھ کو پائیں نا

تیرا غم کب مجھے گوارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

تیری باتیںکہاں بھلا پاو¿ں

کاش تم کو کبھی بتا پاو¿ں

ہر تعلق مجھے گوارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

ماضی اپنا نہ حال اپنا ہے

اور فردا بھی جھوٹا سپنا ہے

کیا عجب زندگی کا دھارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

یہ دعا ہے کبھی نہ غم دیکھو

ڈھیروں خوشیاں سدا صنم دیکھو

اب تری یاد ہی سہارا ہے

یاد رکھنا یہ دل تمھارا ہے

مسکان ان بولوں میں کھو سی گئی تھی۔وہ کافی دیر انھی بولوں کو دہراتا رہا ۔مسکان مستقبل کے بارے سوچنے لگی ۔ اس کے جانے پر دانیال کا رد عمل کیا ہوگا۔ یہ سوچ اسے بے چین کر گئی ۔اچانک اسے یاد آیا کہ وہ کافی دیر سے ڈرائیونگ کر رہا ہے ۔مسکان کی طرح وہ بھی تو تھکا تھا ۔اس کا خیال تھا وہ دو تین گھنٹے سو چکی تھی۔اس نے پرس سے موبائل فون نکال کر وقت دیکھا تو حیران رہ گئی ۔ساڑھے تین بجے کا وقت تھا۔وہ بے ساختہ اٹھ بیٹھی ۔

”ارے دانی !….مجھے اٹھایاکیوں نہیں ؟“

”بس ابھی اٹھانے والا تھا ؟“

”وقت دیکھا ہے آپ نے ؟….میں نے کہا تھا مجھے دو تین گھنٹوں بعد جگا دینا ۔اور اب سات آٹھ گھنٹے ہونے کو ہیں۔“

”مشی !….تم گہری نیند سوئی تھیں ،اور مجھے بھی کوئی خاص نیند نہیں آرہی تھی اس لےے اٹھانا مناسب نہ سمجھا ؟“

اس وقت وہ ایک ہوٹل کے قریب سے گزر رہے تھے ۔جس کے ساتھ پٹرول پمپ بھی بنا ہوا تھا۔

مسکان نے کہا۔”کار ہوٹل کی طرف موڑ دو ، یہاں مسجد ضرور ہوگی ۔ عشاءکی نماز ہم دونوں نہیں پڑھ سکے ہیں ۔ اور کار میں پٹرول بھی ختم ہونے والا ہو گا؟“

”نہیں ،پچھلے پٹرول پمپ سے میں نے ڈلوا لیا تھا ۔“کہہ کر دانیال نے کار ہوٹل کے اندر موڑ دی ۔وہاں دو تین پسنجرگاڑیا ں پہلے سے رکی ہوئی تھیں ۔اور سواریاں چاے وغیرہ پی رہی تھیں۔ہوٹل کے کونے میں بنی ایک چھوٹی سی مسجد دیکھ کر وہ اس طرف بڑھ گئے ۔ وضو کر کے دونوں نے نماز پڑھی ۔اور پھر ایک فیملی کیبن میں بیٹھ کر ناشتا کر لیا ،کہ وقت کی بچت ہو۔

دوبارہ کار میں بیٹھتے ہوئے جب دانیال نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تو مسکان نے کہا ۔

”دانی !…. اب آپ کو آرام کرنا چاہےے؟“

”نہیں صبح کی نماز پڑھ کر لیٹوں گا ۔“وہ بے پرواہی سے بولا ۔اور مسکان مصر ہوئے بغیر اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔

”آپ کو اب تک نیند نہیں آرہی ؟“

”نہیں ۔اصل میں میں جاگنے کا عادی ہوں نا ؟….جب تک بیوی نہیں ملی تھی اس کے حصول کی تمنا نہیں سونے دیتی تھی۔ اور جب مل گئی تو چھن جانے کے خوف نے نیندیں اڑا دی ہیں ؟“

”یوں الٹے سیدھے وہم دل میں نہ پالا کرو ۔“وہ اسے سمجھانے لگی ۔”بالفرض اگر میں آپ سے بچھڑ بھی جاتی ہوں تو کیا دنیا میں لڑکیوں کی کمی ہے ۔آپ کو مجھ سے کئی گنا زیادہ خوب صورت لڑکیاں مل جائیں گی ۔“

”سب سے پہلے تو تم یہ تصور ہی ذہن سے نکال دو کہ میرے لےے اس دنیا کی کوئی لڑکی ،تم سے زیادہ تو کیا ، تمھارے جتنی بھی خوب صورت ہو سکتی ہے ؟…. یہ اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ اور بالفرض اگر ظاہری طور پر کوئی خوب صورت ہے بھی سہی تب بھی دانیال کو نہیں چاہےے۔“

”پاگل !….“مسکان نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی ۔”جب ایک کم عمر خوب صورت دوشیزہ جناب کو حاصل ہوگی تو مسکان بچاری کو آپ ایسے بھلائیں گے جیسے اس کا وجود ہی نہیں تھا۔“

”مِشّی !….مجھے تیس سال تک تو کوئی واجبی صورت کی لڑکی ہی نہ مل سکی پھر اب کہاں میرے لےے کم عمر دوشیزائیں قطار باندھے کھڑی ہوں گی ؟“

”پہلے آپ مزدور تھے،اور اب ایک کاروباری آدمی ۔“

وہ گلو گیر لہجے میں بولا۔”مشی !….اب مجھے کوئی نہیں چاہےے ،کوئی بھی نہیں ۔خدا را تم دور نہ جانا۔“

”کوئی بھی کسی سے دور نہیں ہونا چاہتا دانی !….حالات دور کر دیتے ہیں۔“

دانیال کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ ابھری اور وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”من چاہی اور حالات کی مسلط کی ہوئی دوری میں بہت فرق ہوتا ہے ۔“

مسکان جانتی تھی کہ وہ ایک لاحاصل بحث میں الجھے ہیں۔اسے دانیال کو چھوڑ کر جانا تھا ۔

”یوں بھی کوئی کسی کی جدائی میں نہیں مرتا ۔“ایک تلخ سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے پوچھا۔

”اچھا چھوڑو اس فضول موضوع کو ،یہ بتاو¿ کون سا کاروبار پسند ہے آپ کو؟“

”کاروبار ….کیسا کاروبار ؟“

”اب میں آپ کومزدوری تو نہیں کرنے دوں گی؟“

”اور کاروبار کرنا مجھے نہیں آتا ؟“

”آپ نے امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھوڑی کرنا ہے ۔کوئی جنرل سٹور یاکپڑوں کی دکان کھولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔“

”میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا ؟“

”بالکل نہیں کیا ہوگا۔اور اس کی وجہ لاعلمی یا نالائقی کے بجائے مواقع کا نہ ملنا ہے۔“

”چلیں جی !….یہ بھی کر لیں گے ۔“

”اچھا گلوکاری بھی کرتے ہو؟…. بہت خوب صورت گیت گنگنا رہے تھے؟“

”مشی !….میں نہیں جانتا ،میں کیا گا رہا تھا ،بس یہ میرے اپنے ذہن کی اختراع تھا ، اس تک بندی کو اگر آپ گیت سمجھتی ہیں تو آپ کی مرضی۔ “

صبح کی اذان کے وقت وہ درہ پیزو میں تھے۔ایک مسجد میں نماز کی ادائی کے بعد جب وہ دوبارہ کار میں بیٹھنے لگے تو دانیال، مسکان کے کہے بغیر عقبی نشست پر لیٹ گیا ۔دن کے دس بجے وہ ڈیرہ غازی خان پہنچ گئے تھے۔ایک معیاری ہوٹل میں کھانا کھا کر وہ رکے بغیر آگے بڑھ گئے ۔ڈرائیونگ کی ذمہ داری دوبارہ دانیال نے سنبھال لی تھی۔رستے میں نماز پڑھنے کے علاوہ انھوں نے آرام نہیں کیا تھا ۔ رات کے دو بجے کے قریب جا کر دانیال نے اپنے گھر کے سامنے بریک لگائی ۔ مسکان فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ رہی تھی۔کار کے رکتے ہی اس نے اٹھ کر پوچھا۔ ”کیا ہوا؟….رک کیوں گئے؟“

دانیال مسکرایا۔”کیوں کہ گھر آ گیا ہے ؟“

مگر وہ یہ نہ کہتا تب بھی مسکان کو پتا چل گیا تھا۔اس نے نیچے اتر کر بیل دی ۔

”کون ؟“تھوڑی دیر بعد عائشہ کی سہمی ہوئی آواز آئی ۔

”امی جان!….یہ میں ہوں مسکان ۔“

عائشہ خاتون نے جھٹ دروازہ کھول کر اسے بانہوں میں بھر لیا ۔دانیال بھی کار کو وہیں لاک کر کے ماں سے پیار لینے لگا۔ لیٹنے سے پہلے مسکان نے حماد کو کراچی پہنچ جانے کا میسج کر دیا تھا ۔

٭……..٭

صبح کی نماز پڑھ کردونوں نے اکھٹے ناشتا کیا ۔ناشتے کے برتن سمیٹتے ہوئے مسکان تو کچن میں گھس گئی جبکہ دانیال دوبارہ لیٹ گیاتھا۔

برتن دھو کر وہ ساس کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔عائشہ اس سے سفر کی تفصیلات سننے لگی ۔ آٹھ بجنے میں چند منٹ رہتے تھے کہ اس نے عائشہ سے کہا۔

”امی جان !مجھے کار واپس کرنے جانا ہے ؟….تھوڑی دیر تک واپس آ جاو¿ں گی ۔“

”اے ہے بیٹی !….اکیلے جائے گی ؟“عائشہ خاتون حیران رہ گئی تھی۔

”ہاں ماں جی !….دانیال سویا ہے نا ؟“

”تو اٹھے گا ،تو دے آئے گا واپس ؟“

”ماں جی میں کون سا کسی انجان جگہ جا رہی ہوں ۔وہ بھی اپنا گھر ہی ہے ۔“

”اچھا ٹھیک ہے بیٹی ۔“عائشہ خاتون بادل نخواستہ راضی ہوتے ہوئے بولی ۔ ”احتیاط سے جانااور جلدی واپس آنے کی کوشش کرنا ۔“

مسکان نے سلیقے سے نقاب اوڑھا اورگھر سے باہر نکل آئی ۔وہ سیدھی مل میں پہنچی ۔ ایم ڈی مجیب اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا ۔تھوڑی دیر وہ اس کے آفس میں بیٹھ کر گپ شپ کرتی رہی اور پھر مطلب کی بات پر آگئی ۔

”انکل !….ایک غریب رشتا دار کے لےے چھوٹے موٹے کاروبار کا بندبست کرنا ہے ،لیکن بھیا کو پتا نہیں چلنا چاہےے ۔“

مجیب مسکرایا۔”بیٹی !….بالکل اپنے والد پر گئی ہو ؟بہ ہر حال فکر نہ کرو،ہو جائے گا بندوبست ۔ بس یہ بتا دو کس طرح کا، کاروبار صحیح رہے گا ؟“

”کوئی جنرل سٹور ،ہوزری (Hosiery) یا کاسمیٹکس (Cosmetics)شاپ ، کلاتھ (Cloth) ہاو¿س وغیرہ ۔ کچھ بھی چلے گا ۔“

”کوئی قریبی رشتا دار ہے یا یونھی کسی غریب کو سہارا دے رہی ہو ؟“

مسکان نے ایک لمحے کے لےے سوچا،دل سے مشورہ لیااور بے ساختہ بولی ۔

”انکل !….بہت قریبی ہے ؟“

”ٹھیک ہے بیٹی!….صدر بازار میں اپنے کچھ گودام ہیں۔میرا ارادہ وہاں مارکیٹ بنانے کا تھا ۔ اس پراجیکٹ پر شاید کچھ عرصہ لگ جائے اس سے پہلے میں وہاں ایک جنرل سٹور بنو ادیتا ہوں؟“

”کتنے دن لگ جائیں گے ؟“

”بیٹی !….کسی بھی گودام کی اچھی طرح صفائی کرا کے رنگ و روغن کر دیں گے ، تعمیر تھوڑا کرنا ہے اور اس کام میں زیادہ سے زیادہ دو تین دن لگیں گے ؟بس آپ یہ طے کر دیں کہ اس میں سامان کون سا رکھوانا ہے ؟“

”ہوزری اور کاسمیٹکس کا سامان مناسب رہے گا ۔“

”اور کچھ ؟“مجیب نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا۔

”نہیں انکل !….بس یہ کافی ہے ۔“

”حماد میاں !….بڑی باقاعدگی سے تشریف لا رہے ہیں ؟“مجیب نے انکشاف کیا۔

”اچھا؟“مسکان حیرانی سے بولی ۔”بڑی بات ہے ،ویسے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں یا ….؟“

”نہیں بڑی دلچسپی لیتے ہیں۔امید یہی ہے کہ جلد ہی ایک بڑے بزنس مین کے طور پر سامنے آئیں گے ۔اور کیا تمھیں نہیں پتا کہ وہ یہاں آتے ہیں ؟“

”نہیں پتا تو ہے ،مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ با قاعدگی سے آتے ….بس چنددنوں سے کچھ ذاتی مصروفیات میں الجھی تھی۔“

”نو دس بجے تک پہنچ جاتے ہیں ۔“

”ہاں !….اٹھتے ہی نو بجے ہیں محترم !….صبح کی نماز کبھی پڑھی ہی نہیں جناب نے ۔“ یہ الفاظ مسکان کے لبوں پر تھے کہ حماد اندر داخل ہوا ۔

مجیب نے کہا۔”بڑی لمبی عمر ہے جناب !….ابھی آپ کا تذکرہ ہو رہاتھا ۔“

”اوہ !….یہاں تو میڈم صاحب بھی تشریف فرما ہیں۔زہے نصیب ،کیا قسمت ہے اس دفتر کی ؟“ حماد نے کسی حیرانی کا اظہار کےے بغیر کہا۔

مسکان بھی کہاں خاموش رہنے والی تھی فوراََ بولی ۔”میں تو چھاپہ مارنے آئی تھی کہ محترم حماد صاحب تشریف لاتے بھی ہیں یا مفت کی تنخواہ ہی بٹورتے رہتے ہیں ۔“

”نہیں جی ….یہ غریب سترہ آنے اپنی ڈیوٹی پر حاضری دیتا ہے ۔کیوں مجیب صاحب ؟“ حماد نے مجیب سے تصدیق چاہی۔

“مجیب جھٹ بولا۔”وہ تو میں آپ کی آمد سے پہلے بتا چکا ہوں میڈم کو ۔“

”گویامیڈم کو مطمئن کر دیا آپ نے ۔اب تنخواہ میں بڑھوتری کے چانس موجود ہیں ؟“

مسکان نے مسکرا کر کہا۔”فی الحال تو اسی تنخواہ پر گزارا کرو ۔“

”ہاں جی !….میڈم کو بھلا کب فکر کہ ایک غریب آدمی اس تھوڑی سی تنخواہ پر کیسے گزارا کرتا ہے ، کیوں کر اپنی بیوی کے ناز اٹھاتا ہے اور کیسے بچوں کو پالتا ہے ؟“

اس کی باتوں پر مجیب اور مسکان کے قہقہے گونجے ۔

مسکان نے بہت دنوں بعد اپنے محبوب کو دیکھا تھا ۔ وہ ذرا بھی تو نہیں بدلا تھا ۔ اچانک اسے خیال آیا کہ مشکل سے دو ہفتے تو اس کی شادی کو ہوئے ہیں جس کو جانے وہ کتنا عرصہ سمجھ رہی تھی۔اس نے گہری نگاہوں سے حماد کا جائزہ لیا۔ اسی وقت اس کے ذہن میں دانیال کی تصویر ابھری ۔حماد اس سے بہت خوب صورت تھا ۔اگر اس وقت وہ کسی سے کہتی کہ وہ حماد اور دانیال کا موازنہ کر رہی ہے تو سننے والا یقینا اس کی دماغی صحت پر شک کرتا ۔ یہ کوے اور مورکو ملانے والی بات تھی۔اس نے سرہلاکر دانیال کی سوچوں کو اپنے تئیں دور جھٹکا۔مگر اسے خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی ۔اس کا دل دانیال اور حماد کا موازنہ کرتا رہا ۔ وہ جب بھی مسکان کے پاس بیٹھا ہوتا اس کے چہرے کو تکتا رہتا اور حماد اپنی عادت کے مطابق بات کرتے ہوئے سرسری انداز میں اس پر نگاہ ڈال لیتا تھا ۔ اسے حماد کی آنکھوں میں وہ جذبہ مفقود نظر آیا جو دانیال کی آنکھوں سے ہر وقت روشنی کی طرح پھوٹتا رہتاتھا۔

”مجیب صاحب !….چاے ہی منگوا لیتے؟“

”ضرور ۔“کہہ کر مجیب نے چپڑاسی بلانے کے لےے بیل دی ۔

مسکان اٹھتے ہوئے بولی ۔”آپ چاے پیئں ،مجھے کہیں جانا ہے ۔“

حماد نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔”ہاں میڈم کے پاس اتنا وقت کہاں کہ نچلے درجے کے ملازمین کے پاس بیٹھ سکیں ؟“

وہ مسکرائی ۔”چند دن جناب !….پھر وقت ہی وقت ہے ۔“

حماد بھی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔”ٹھیک ہے جناب !….ہم بھی خوش خبری کے منتظر ہیں ۔ یوں بھی دوریاں سہنا ہمارے نصیب میں لکھا ہے۔

اسی وقت چپڑاسی اندر داخل ہوا ۔مجیب اس سے مخاطب ہوا ۔

”ایک اچھی سی چاے لے آو¿۔“

”جی جناب ۔“کہہ کر وہ مڑا ،اچانک مسکان کو یاد آیا کہ وہ اپنی کار وہیں چھوڑنے آئی تھی۔وہ چپڑاسی کو بولی۔

”احمد چاچا!….چاے رہنے دو ۔“اور حماد کی طرف متوجہ ہوئی ۔”حماد واپسی پر چاے پی لینا مجھے ذرا گھر تک ڈراپ کر دو ۔“

وہ اپنی جگہ چھوڑتا ہوا بولا۔”ٹھیک ہے میڈم !….مگر تمھاری کار بھی تویہیں کھڑی ہے ؟“

مسکان اس کی بات کا جواب دےے بغیر دفتر سے نکل آئی ۔حماد بھی اس کے ساتھ ہو لیا ۔ پارکنگ میں داخل ہوتے ہوئے وہ بولی ۔”میں کار گھر چھوڑنے آئی تھی۔پھر مجھے یاد آیا وہاں تو نیا چوکیدار ہوگا ،کیا شناخت کراتی پھروں گی۔“

”ہاں میں سمجھ گیا تھا ۔“حماد نے اثبات میں سر ہلادیا۔

اپنی کار کی چابی حماد کے حوالے کر کے وہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔

کار پارکنگ سے نکالتے ہوئے حماد نے طنزیہ انداز میں کہا۔”بڑے سیر سپاٹے ہو رہے ہیں محترما!“

”حماد !….یقین مانو،گھر میں فارغ بیٹھی بور ہو رہی تھی ،سوچا کچھ آو¿ٹنگ ہی ہو جائے گی ۔ مجھے کیا پتا تھا آپ یوں چراغ پا ہو جائیں گے ؟“

”یہ خوب کہی ….کیا مجھ سے پوچھا نہیں جا سکتا تھا ۔“

وہ ہنسی ۔”شوہر کی موجودی میں کسی دوسرے سے پوچھنے کی کیا تُک ہے ؟“

”مسکان زیادہ بکواس کی ضرورت نہیں سمجھیں؟میری مجبوری کا مذاق نہ اڑاو¿۔“

”سوری حادی !….بہ خدا میرے ذہن میںایسی کوئی بات ہی نہیں تھی۔اور یاد ہے نا میں نے آپ کو بھی شمالی علاقہ جات میں ہنی مون منانے کا کہا تھا ۔ آپ تو مانے نہیں ……..“

”اور دانیال مان گیا ؟“حماد نے اس کے ہونٹوں سے بات اچکی ۔

”ہاں ۔“مسکان نے اثبات میں سر ہلادیا۔”اس میں شک ہی کیا ہے ۔کتنی منتیں کی تھیں آپ کی ؟“

حماد نے پوچھا۔”یاد ہے ،فون پر تم نے کہا تھا یہ دانیال کی خواہش تھی؟“

”یہ بھی سچ ہے ۔پہلے اس نے خواہش ظاہر کی تھی اور بعد میں، میں نے سوچا کہ گھر میں فضول وقت گزارنے سے بہتر ہے ،اپنی یہ تمنا تو پوری کر لوں ۔حماد صاحب تو نہ پہلے ساتھ گئے اور نہ بعد میں جائیں گے ۔“

”اچھا جو ہوا سو ہوا ….اب جب واپس آو¿ گی تو تمھیں لے چلوںگااورپورا مہینا وہاں گزاریں گے۔ایسے کہ ہمارا ننھا منا سا پھول بھی ہمارے ساتھ ہو گا؟“

مسکان نے خاموشی سے سر جھکا لیا ۔اسے یاد آیا کہ دانیال کے کاروبار کے بارے تو اس نے حماد کو مطلع ہی نہیں کیا ۔بعد میں معلوم ہونے پر اس نے لازماََ شور کرنا تھا۔مگر پھر کچھ سوچ کر اس نے ارادہ بدل لیا ۔اگر وہ پہلے بتا دیتی اور حماد اسے منع کر دیتا تو اس کے لےے یہ کام کرنا ممکن نہ رہتا ۔اس کے بر عکس بعد میں پتا چلنے پر وہ زیادہ سے زیادہ تھوڑا بہت خفا ہوتا ، دانیال سے جنرل سٹور تو واپس نہ چھینتا ۔

اسے گھر کے دروازے پر اتار کر حماد واپس مڑ گیا۔گھر داخل ہونے سے پہلے اس نے انکل مجیب کو بھی فون کر کے بتا دیا تھا کہ، کاسمیٹکس شاپ کی خبر اس کے شوہر سے مخفی رکھے۔

”جانتا ہوں بیٹی !….تم بھی اپنے باپ کی طرح چھپ کر نیکی کر تی ہو ۔“

”تھینک یو انکل ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

گھر کا دروازہ کھلا تھا ۔وہ دستک دےے بغیر اندر داخل ہوئی ۔دانیال ابھی تک نہیں اٹھا تھا ۔ عائشہ خاتون اسے کچن میں مصروف نظر آئی ۔

وہ کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولی ۔”امی !….میں سارے دن کے لےے تو نہیں گئی تھی کہ آپ نے باورچی خانہ سنبھال لیا؟“

”بیٹی !….فارغ بیٹھ کر بھی تو وقت نہیں گزرتا نا ؟“

”کیا بنا رہی ہیں ؟“وہ پتیلی کا ڈھکن اٹھا کر اندر جھانکنے لگی۔

”چنے کی دال۔دانی اب تک سویا ہے اور گھر میں دال کے علاوہ کچھ تھا نہیں ۔سوچایہی بنا دوں ۔“

”بہت اچھا کیا ،مجھے چنے کی دال بہت اچھی لگتی ہے ۔“

”بیٹی!…. ہم غریبوں کو اچھی نہ لگے تب بھی یہی کھانا پڑتی ہے ۔“

”اب آپ انشاءاللہ غریب نہیں رہیں گے ماں جی !….اور میں ذرا دانی کو جگا لوں ۔“ کہتے ہوئے وہ اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: