Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 12

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 12

–**–**–

تیسرے دن اسے مجیب کی کال رسیو ہوئی ۔
”بیٹی !….آپ کے حکم کی تعمیل کر دی ہے ۔“
”انکل !….گناہ گار تو نہ کریں ؟میں آپ کو حکم دے سکتی ہوں بھلا ۔بیٹیاں والد یا چچا ہی کو کام بتاتی ہیں اور یہ حکم نہیں بیٹیوں کا حق ہوتا ہے ۔“
”مذاق کر رہا تھا بیٹی !….میں نے کبھی سدرہ اور تم میں فرق نہیں کیا ہے ۔“وہ جانتی تھی کہ سدرہ ، مجیب کی اکلوتی بیٹی کا نام ہے ۔
”اچھا انکل !….مجھے ایڈریس سمجھا دیں میں وہیں آکر جائزہ لینا چاہتی ہوں ؟“
اور مجیب نے اسے دکان کا ایڈریس سمجھا دیا۔
”ٹھیک ہے انکل میں آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچ جاو¿ں گی۔“رابطہ منقطع کر کے اس نے ساس کو کہا۔
”امی !….میں نے انکل سے دانیال کی دکان کی بابت بات کی تھی ۔آج دکان کا کام مکمل ہو گیا ہے ، میں وہیں جا رہی ہوں ۔دانیال کو یہ بات نہیں بتانا ۔ عصر کے وقت تینوں وہیں چلیں گے ؟“
”بیٹی !….پہلے بھی تمھارے احسان کم نہیں ،ہیں مزید زیر بار نہ کرو ؟“
مسکان خفگی سے بولی۔”بیٹی بھی کہتی ہیںاور یوں غیروں کی طرح شکر یہ بھی ادا کرتی ہیں ؟“
”اللہ تمھیں سکھی رکھے ،نیک اور فرمان بردار اولاد دے ،شوہر کی محبت اور توجہ ہمیشہ تمھیں حاصل رہے….“ عائشہ خلوص دل سے اسے دعائیں دینے لگی ۔
مسکان گھر سے نکل کر صدر بازار کی طرف بڑھ گئی ۔مطلوبہ دکان ڈھونڈنے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی۔انکل مجیب اس کا منتظر تھا ۔کافی وسیع و عریض دکان تھی ۔مجیب نے اسے بہت اچھی طرح ڈیکوریٹ کرایا تھا ۔دکان کی پیشانی پر داو¿د جنرل سٹور کا نام چمک رہا تھا ۔باپ کا نام پڑھ کر مسکان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔
وہ گلو گیر لہجے میں بولی۔”انکل !…. بہت پیارا نام رکھا ہے سٹور کا ؟“
”ہاں بیٹی!….وہ بے وفا بھول تو نہیں سکتا نا ؟….اتنے لمبے سفر پر اکیلا نکل گیا ۔ حالانکہ عہد و پیمان اس نے ہمیشہ ساتھ نبھانے کا کیا تھا ۔“
”انکل !….پاپا یاد آتے ہیں آپ کو؟“
”نہیں ….“مجیب نے نفی میں سر ہلایا۔”یاد وہ آتے ہیں جو کبھی بھولے ہوں۔ تمھارے پاپانہ صرف میرے اچھے دوست تھے، بلکہ بہت بڑے محسن بھی تھے ۔آج میں جو کچھ ہوں ان کی مہربانیوں کے طفیل ہوں ۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے بزنس مین کے روپ میں ولی اللہ تھے۔“
”ہاں انکل !….پاپا واقعی بہت اچھے تھے۔“
”اسی لےے تو اتنی جلدی اس بے وفا دنیا کو چھوڑ کر حقیقی گھر لوٹ گئے ۔“
باپ کے تذکرے پر اس کی آنکھیں اشک بار ہو گئی تھیں ۔
مجیب اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔”بیٹی روتی کیوں ہو ؟میں ہوں نا تمھارا باپ ، رونا تو مجھے چاہےے جس کا سرپرست چلا گیا ؟“اس کی آنکھوں میں بھی نمی جھلکنے لگی تھی۔
وہ دونوں تھوڑی دیر سوگوار بیٹھے رہے ۔پھر اس خاموشی کو مسکان نے توڑا ۔
”انکل !….کوئی ایسا ایمان دار ملازم مل جائے گاجو اس کاروبار سے واقفیت رکھتا ہو ؟“
”کیوں نہیں بیٹی !….ایک چھوڑ دس ملازم مل جائیں گے ۔“
”نہیں انکل !….ایک ہی کافی ہے ۔جو دکان کا کام سنبھالنے کے ساتھ مالک کو بھی اس کام سے واقفیت دلا سکے۔“مسکان جانتی تھی کہ دانیال تجارت کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھا۔ کوئی ایماندار اور ہوشیار ملازم ہی صحیح طریقے دکان سنبھال سکتا تھا ۔
”ٹھیک ہے بیٹی !….کل مطلوبہ آدمی یہاں پہنچ جائے گا ۔اور اب مجھے اجازت دو اور خود اچھی طرح دکان کا جائزہ لے لو ،کوئی چیز کم ہو تو فون کر کے بتا دینا ۔“
”میں بھی چلتی ہوں انکل !….اور کمی بیشی بعد میں پوری ہوتی رہے گی ۔“
دکان لاک کر کے مجیب نے چابی اس کے حوالے کی اور اپنی کار میں بیٹھ کر فیکٹری کی طرف روانہ ہو گیا ۔مسکان بھی گھر لوٹ آئی ۔
”دانی صاحب !….اب اٹھ بھی جائیں ؟“خواب گاہ میں داخل ہو کر اس نے دانیال کو آواز دی ۔
وہ انگڑائی لیتا ہوا بولا۔”بڑی دور سے آوازیں دی جا رہی ہیں مَشّی ؟“
وہ مسکرائی۔”ہاں !….کہتے ہیں نا دودھ کا جلا ،چھاچھ بھی پھونک مار کے پیتا ہے اور سانپ کاکاٹا رسی سے بھی ڈرتا ہے ۔کل آپ کو قریب آ کے ہی جگایا تھا نا؟“
”مِشّی !….مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔“
”شاید !….لیکن آپ سے ہر قسم کی امید رکھی جا سکتی ہے۔“دانیال کی معیت میں رہتے رہتے وہ بھی اس کی طرح باتیں کرنے لگی تھی۔وہ خود کو دل سے حماد کا سمجھتی ،لیکن عجیب بات یہ تھی کہ دانیال کا ساتھ اسے عجیب قسم کا سکون بخشتاتھا جس کی توجیہ سے وہ خود قاصر تھی ۔
”اگر قریب نہیں آنا تو پھر جگانے کا مطلب ؟“وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔
مسکان نے پیچھے مڑ کر کمرے کے دروازے کے کھلا ہونے کا اطمینان کر لیا ،کیونکہ دانیال سے کوئی بعید نہیں تھا وہ چھلانگ لگا کر بھی اسے جکڑ سکتا تھا اور اس وقت اس کے ہاتھ آنے کا مطلب اسے اچھی طرح معلوم تھا ۔
”مطلب یہ ہے جناب! کہ اب روزگار کی سوچو ؟یوں کب تک بستر پر پڑے اینڈتے رہو گے؟“
”طعنے دے رہی ہو ؟“اس نے بہ ظاہر سنجیدہ لہجے میں پوچھا ۔
”آپ کو شک ہے ؟“مسکان ترکی بہ ترکی بولی ۔اور وہ قہقہہ لگا کے ہنس پڑا ۔
”مشّی کی بچی !….یہ نہ سوچنا کہ تم کمرے سے نکل کر جان بچا لو گی ،میں امی جان سے نہیں ڈرتا۔“
”یہ گیدڑ بھبکیاں کسی اور کو دینا۔“مسکان نے آنکھیں نکالیں ۔
”اچھا ٹھیک ہے سرور حیات !….کل سے یہ خادم فیکٹری جانا شروع کر دے گا ۔اب خوش ؟“
”ہزار دفعہ کہا ہے ،فیکٹری کو بھول جاو¿۔اور اب اٹھو کہیں جانا ہے ۔“
”کہاں ؟“
”یہ پتا چل جائے گا ۔دس منٹ بعد اگر تیار نہ ہوئے تو ….؟“
”تو کیا کر لو گی؟“تکیہ سر کے نیچے رکھ کر دوبارہ لیٹتے ہوئے اس نے اسے چڑایا۔
”تو یہ کہ ،آج سے میں امی جان کے ساتھ سویا کروں گی ۔“
وہ چھلانگ لگا کر واش روم کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔”ہو گیا تیار جی !….ہو گیا تیار ، پانچ منٹ بھی نہیں لگیں گے۔“
اور مسکان ہنستی ہوئی باہر نکل گئی ۔کبھی کبھی وہ سوچتی ۔”کاش یہ مزاج اور یہ عادتیں حماد کی ہوتیں ۔ وہ بھی اس کا ایسا ہی دیوانہ ہوتا ،کہ ذرا سی جدائی کی دھمکی پر تڑپ اٹھتا،اس کی بڑی سے بڑی خطا کھلے دل سے معاف کر دیتا ،غلطی مسکان کی ہوتی اور معافی وہ مانگتا،اس کی سالن سے لتھڑی انگلیوں کو چاٹنا سعادت سمجھتا، وہ جس حال میں ہوتی اس کی صورت کو پسند کرتا ،اس کا پسندیدہ مشغلہ مسکان کے چہرے کا دیدار ہوتا ۔اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتا،اس کا جھوٹا پینے پر ضد کرتا اور ….اور….اور وہ سب کچھ کرتا جو دانیال کرتا ہے ۔
”امی جان !….تیار ہو جائیں،جانا ہے کہیں ۔“
”کہاں جانا ہے بیٹی ؟“عائشہ اس وقت تلاوت کر رہی تھی ۔مسکان کی بات سن کر قرآنی مجید کو بند کر کے اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔
”بتایا تو تھا آپ کو ؟“
”تم نے تو عصر کے وقت جانے کی بات کی تھی ؟“عائشہ کو اس بات بھولی نہیں تھی ۔
”نہیںابھی چلیں گے اور آج دوپہر کاکھانا بھی ہوٹل میں کھائیں گے ۔ اب آپ اٹھ جائیں؟“
”اچھا بیٹی !“وہ قرآن مجید کے گرد غلاف لپیٹنے لگی ۔اس کے تیار ہونے تک دانیال بھی تیار ہو گیا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ گاڑی میں بیٹھے دکان کی جانب رواں دواں تھے۔ڈرائیونگ کی ذمہ داری مسکان نے سنبھالی تھی۔دوکان کے سامنے کار روک کر وہ نیچے اتری ،ماں بیٹا بھی اس کی دیکھا دیکھی نیچے آگئے تھے۔مسکان نے دکان کی چابی دانیال کے حوالے کرتے ہوئے کہا ۔
”تالا کھول کر شٹر اٹھاو¿؟“
دانیال نے کوئی سوال کےے بغیر تالا کھول کر شٹر اٹھا دیا ۔شٹر کے پیچھے مجیب نے مضبوط شیشے کا دروازہ لگوایا تھا ۔
”امی!…. اب آپ آگے آئیں ۔“مسکان نے عائشہ کو دعوت دی ۔”یہ دروازہ آپ کھول کر اپنے بابرکت قدم اندر رکھیں ۔“
عائشہ نے آگے بڑھ کر دروازہ دھکیلا۔اور دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی ۔ دکان کی چمک دیکھ کر اس کی آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں۔دانیال اور مسکان بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر داخل ہوئے۔
”یہ دکان ……..؟“
”دانیال صاحب !….کی ہے ؟“مسکان نے شوخ مسکراہٹ سے اس کا فقرہ مکمل کیا۔
”مم….مگر میں ….“فرطِ جذبات سے وہ اپنا فقرہ مکمل نہ کر سکا ۔
وہ اس کی بات پر دھیان دےے بغیر عائشہ کو مخاطب ہوئی ۔
”امی جان !….کیسی لگی بیٹے کی دکان ؟“
عائشہ اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی ۔”بیٹی !….میں نہیں جانتی ،مجھ گناہ گارکی کون سی ادا اس پاک پرودگار کو پسند آئی کہ تمھارے جیسی بہو اللہ پاک نے میرے نصیب میں لکھ دی ۔“
وہ ہنستے ہوئے بولی ۔”بس کریں امی جان !….کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھا رہی ہیں مجھے ۔“
”نہیں بیٹی !….یہ سچ ہے ۔“عائشہ نے اس کا ماتھا چوم لیا ۔
”دانیال صاحب !….آپ کھڑے کیا دیکھ رہے ہیں ؟ادھر اپنی جگہ سنبھالیں ،ماں بیٹی نے خریداری کرنی ہے؟“
دانیال جھجکتے ہوئے شوکیس کے پیچھے ہو گیا ۔
مسکان نے اگلا حکم دیا۔”اب ہم سے پوچھیں کیا خریدنا ہے ؟“
دانیال مسکرایا۔”محترما !….جو عورت خریداری کے لےے جاتی ہے ،دکاندار اس سے یوں پوچھتا ہے کہ ،باجی کیا لینا ہے ؟ تو کیا آپ سے بھی میں ….؟“
وہ کھسیانی مسکراہٹ سے بولی ۔”بڑے بے شرم ہو؟….چلیں امی ہم خود پسند کرتی ہیں۔“
عائشہ کے ساتھ مل مسکان نے اپنی اور اس کی ضرورت کی چند چیزیں پسند کیں اور دانیال کے سامنے ڈھیر کرتے ہوئے بولی ۔
”جناب !….یہ بل بنا دیں۔“
”محترما !….آپ پہلی گاہک ہیں اس وجہ سے آپ کے ساتھ خصوصی رعایت کی جائے گی ۔ بل تو زیادہ بن رہا ہے ،بس آپ ایک لاکھ دے دیں ۔“
”غضب خدا کا دانی!….“مسکان چلائی ۔”ایک لاکھ ؟….اگر یہی ریٹ رہا اس دکان کا تو لوگوں نے دکان کے اندر آنا تو کیا سامنے سے گزرنا بھی چھوڑ دینا ہے ۔“
دانیال اطمینان سے بولا۔”مس !….ادائی کرنی ہے تو ٹھیک ہے ،ورنہ آپ اگلی دکان پر تشریف لے جا سکتی ہیں۔“
”کیا کہنے !….“مسکان نے منہ بناتے ہوئے پرس سے چیک بک نکالی اور سچ مچ ایک لاکھ کا چیک سائن کر کے اس کی طرف بڑھا دیا ۔
دانیال نے چیک وصول کر کے مندرجات پر نگاہیں دوڑائیں ،وہ انگلش نہیں پڑھ سکتا تھا مگر ہندسوں کو تو اچھی طرح جانتا تھا ۔ایک لاکھ کا عدد دیکھ کر اسے خاصی حیرت ہوئی تھی۔
”مس !یہ چیک اصل تو ہے نا ؟“
” میں آ پ کو فراڈ لگتی ہوں؟“مسکان نے آنکھیں نکالیں ۔
”کسی کے چہرے پر نہیں لکھا ہوتا سمجھیں،اور یہ غصہ اپنے خاوند کو دکھانا۔“
”دانی !….اگر یہی برتاو¿ رہا تو اس دکان کا پہلا اور آخری گاہک میں ہی ہوں گی ؟“
عائشہ نے کہا۔”اچھا بیٹا !اب یہ چیک میری بیٹی کو واپس کرو ، یہ بل اس کا شوہر ہی آکر ادا کرے گا ۔“
”یہ لیں محترما!….“دانیال نے اس کی طرف چیک بڑھایا۔
”نہیں ۔“مسکان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”اب آپ اپنی پہلی کمائی سے ہمیں کھانا کھلائیں گے ۔اور شام کو اپنی بیوی یعنی ما بدولت کو شاپنگ بھی کرائیں گے۔“یہ کہہ کر وہ عائشہ کو بولی ۔ ”چلیں امی بڑی سخت بھوک لگی ہے ؟“
دانیال چیک جیب میں ڈال کر ان کے ہمراہ ہو لیا ۔مسکان ایک امیر لڑکی ہے ،اس بات کا اندازہ اسے پہلے دن سے ہوگیا تھا۔مگر وہ اس قدر امیر ہے یہ دانیال کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔اس کے لےے اتنی قیمتی دکان کی خریداری اور پھر ایک لاکھ کا چیک اس بے پرواہی سے کاٹا جیسے چند روپے کسی کو دے رہی ہو ؟آخر وہ کون تھی ؟اوردانیال میں ایسی کیا بات تھی کہ اس نے اسے شادی کے لےے چنا تھا ۔ سارے معاملے میں کوئی گڑ بڑ ضرورتھی ،مگر اس کا دماغ اس گڑ بڑ کو جانچنے میں ناکام رہا تھا ۔مسکان کی طبیعت کا تضاد اسے شرع دن سے اچنبھے میں ڈالے ہوئے تھا۔
کار میں بیٹھتے ہوئے اس نے” داو¿د جنرل سٹور “پڑھ کر مسکان سے پوچھا ۔
”مشی !….یہ تمھارے والد محترم کا نام ہے نا ؟“
”آپ کو کیسے پتا ؟“اسے حیرانی ہوئی تھی ۔
”جی!…. نکاح کے وقت میں نے مسکان بنت داو¿د ہی کو قبول کیا تھا ۔“
اس کی بات نے مسکان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی ۔
”اگردکان کا یہ نام پسند نہیں ،تو اپنی پسند کا نام بھی رکھ سکتے ہو؟“اس نے کھلے دل سے اسے اجازت دیتے ہوئے کہا۔
”نہیں !….یہ بہت پیارا نام ہے۔اور ان شاءاللہ میں اپنے بیٹے کا نام بھی داو¿دہی رکھوں گا ۔“
مسکان نے سوچا۔”ہاں اسے محبت کہتے ہیں؟کہ محبوب سے جڑی ہر چیز پیاری لگے۔“
مطلوبہ بینک کے سامنے کار روک کر اس نے دانیال کو کہا ۔”آپ چیک کیش کرا لیں؟“
دانیال سر ہلاتا ہوا نیچے اتر گیا ۔ایک لمحے کے لےے اس کے دل میں خیال گزرا کہ یہ چیک کہیں نقلی نہ ہو ،مگر پھر اسے اپنی سوچ پر ہنسی آ گئی ۔مسکان کبھی بھی اس کی سبکی گوارا نہیں کر سکتی تھی۔اس کے لےے لاکھوں کی دکان خریدنے والی کے لےے ایک لاکھ کی کیا حیثیت تھی۔اس کے اندازے کے مطابق چیک آسانی سے کیش ہو گیا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک بہترین ہوٹل کے فیملی کیبن میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے۔
٭……..٭
مسکان نے دانیال کومزدور سے ایک کاروباری آدمی بنا دیا تھا ۔نچلے طبقے سے اٹھا کر متوسط طبقے میں لاپھینکا تھا ۔ پیدل چلنے والے کو گاڑی کا مالک بنا دیا تھا۔اس کی ایما پر وہ میٹرک کی کتابیں بھی خرید لایا تھا۔رات کے وقت وہ باقاعدگی سے دو تین گھنٹے مسکان سے سبق پڑھتا۔دکان پر بھی کتابیں اس کے پاس ہوتیں ۔مجیب صاحب نے ادھیڑ عمر کے ایک بہترین آدمی کو اسے تربیت دینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔مکرم خان ایک قابل اعتماد بھروسے والا آدمی اور اپنے کام کا ماہر تھا۔دانیال بہت تیزی سے کاروباری گر سیکھ رہا تھا ۔جلد ہی دانیال کے اندر کے مزدور نے ایک پر اعتما دکاروباری شخص کی جون بدل لی ۔ دو تین ہفتوں کے اندر ہی اس نے دکان میں پڑے سامان میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا تھا ۔
سب کچھ سیکھنے کے بعد بھی دانیال مکرم خان کی عزت میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کرتا ۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ دکان کا مالک اور مکرم خان ملازم ہے ۔اس کے اخلاق نے مکرم خان کو اس کا گرویدہ بنالیا تھا ۔وہ شکل کا کالا اندر سے کتنا اچھا اورکھرا تھا اس کا اندازہ مکرم خان کو چند دنوں ہی میں ہو گیا تھا ۔
دکان پر بہت زیادہ مصروفیت کے باوجود دانیال دن کا کھانا اپنی مشی کے ہاتھوں ہی سے کھاتا۔ اس نے کئی دفعہ دبے لفظوں میں اسے کھانا ساتھ لے جانے کی تلقین کی تھی ،مگر ایسی کوئی بھی بات دانیال کو بالکل منظور نہیں تھی جس سے مسکان سے ذرا بھی دوری کا احساس پیدا ہوتا ۔حد تو یہ تھی کہ وہ باقاعدگی سے ہر گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد دو تین منٹ موبائل فون پربھی بات کر لیتا۔
دن کے ساڑھے بارہ بجے وہ دکان مکرم خان کی صوابدید پر چھوڑ کر گھر کا رخ کرتا ، دوپہر کا کھانا کھا نے تک نمازکا وقت ہوجاتا،نماز کی ادائی کے بعدوہ دو اڑھائی بجے کے قریب واپس آجاتا۔اس کی واپسی کے بعد مکرم خان نماز اور کھانے کی بریک کرتا۔
ان کی شادی کو ڈیڑھ ماہ ہو گیا تھا ۔دوپہر کا کھانا بناتے ہوئے مسکان کو دانیال کی کال موصول ہوئی ۔
”جی محترم !….؟گھنٹا پورا ہو گیا ہے ؟“کال رسیو کرتے ہوئے مسکان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
”مشی !….یہ تمھارے لےے گھنٹا ہوگا؟مجھے تو سال برابر ایک منٹ لگتا ہے ،اب خود اندازہ کر لو ، شوہر غریب ساٹھ سال بعد بھی اپنی جان سے پیاری شریک حیات سے بات نہ کرے ؟“
”فضول باتوں کا مقابلہ ہو تو ٹرافی آپ سے کوئی نہیں لے جا سکتا ؟“
وہ برجستہ بولا۔”آپ بھی نہیں لے جا سکتیں ؟“
”ہونہہ !….میں کس کھیت کی مولی ہوں؟“
”گاجر ،مولی تو میں نہیں جانتا ،البتہ یہ پتا ہے کہ تم بیوی ہو اور……..“
اس سے پہلے کہ دانیال کی بات مکمل ہوتی اسے زور سے ابکائی آئی اور وہ جلدی سے کچن میں بنے واش بیسن پر جھک گئی ۔اس کے ساتھ ہی اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔اس کے ذہن میںگونجا….
”الوداع دانی!….“
دانیال سے جدائی کی گھڑی سر پر آگئی تھی ۔کلی کر کے اس نے دوبارہ موبائل فون کان سے لگایا۔ وہ ایک تسلسل سے”ہیلو…. ہیلو “ کر رہا تھا ۔
وہ جلدی سے بولی ۔”جی ….جی ؟“
اس نے شکوہ کیا۔”کہاں چلی گئی تھیں ؟“
”کہیں نہیں یہیں ہوں ؟“
”اچھا اپنا خیال رکھنا،اب گھر آکر بات ہو سکے گی ؟“دانیال ہمیشہ یوں بات کرتا جیسے ایک گھنٹا بہت طویل عرصہ ہو ۔ہر بار رابطہ منقطع کرتے ہوئے وہ اس کو اپنا خیال رکھنے کی تلقین ضرور کرتا۔
اس سے رابطہ منقطع کر کے وہ اسے چھوڑنے کا منصوبہ سوچنے لگی ۔یوں ایک دم طلاق کا مطالبہ عجیب سا لگتا تھا ۔
پھر اس کے سالن پکانے اور روٹیاں بنانے تک دانیال آ گیا ۔
”مِشّی !….کیا ہوا ؟“اس کی اتری صورت دیکھ کر وہ ایک لمحے میں جان گیا تھا کہ کوئی گڑ بڑ ضرورہے ۔
”کچھ نہیں ….کچھ بھی تو نہیں ۔“وہ گڑ بڑا گئی ۔
”کچھ تو ہے ؟“ اس نے کھانے کی ٹرے ایک طرف کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا ۔ مسکان نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے اشارے پر کھنچی چلی گئی ۔ اگلے لمحے وہ اس کی فراخ چھاتی پر سر رکھ کر سسک پڑی۔
”مِشّی !….میری جان کیا بات ہے ؟“دانیال گھبرا گیا تھا ۔
مگر وہ خاموشی سے آنسو بہاتی رہی ۔
”کچھ پتا بھی چلے گڑیا !….آخرکیا بات ہے ؟….کیا امی جان نے کچھ کہا ہے ؟“
”نہیں ۔“مسکان نے آنسو صاف کرتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
”پھر ؟“
”دانی !….کوئی بات نہیں ہے؟بس یونہی کبھی کبھی دل بھر آتا ہے ۔مجھے خود بھی سمجھ نہیں آتی؟“ مسکان جھوٹ نہیں بولتی تھی ،مگر اس وقت اسے جھوٹ ہی میں عافیت نظر آئی ۔
دانیال بیڈ سے ٹیک لگاکراس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔مسکان نے علاحدہ ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔اسے عجیب طرح کا سکون محسوس ہو رہا تھا ۔پھر اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب اسے نیند آگئی ۔
آنکھ کھلنے پر اسے دانیال اسی ہیئت میں بیٹھا نظر آیا ۔وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی ۔دیوار پر ٹنگی گھڑی اسے پانچ بجے کا اعلان کرتی نظر آئی ۔کھانا ٹھنڈا ہو گیا تھا۔
وہ خفت سے بولی ۔”اتنی دیر گزر گئی ؟“
”کتنی دیر ؟“دانیال نے چونک کر گھڑی کی سمت نگاہ دوڑائی ۔”اوہ !….تمھاری قسم مجھے پتا ہی نہ چلا ۔ میں تو بس یہی دعا مانگ رہا تھا کہ وقت ٹھہر جائے اور میری مِشّی یونھی میرے سینے سے لپٹی رہے۔“
”دانی!….پہلے بھی آپ نے کئی دفعہ میری قسم کھائی ہے ۔اس طرح قسم کھانا گناہ ہوتا ہے ۔ بس اللہ پاک کی قسم کھایا کرو اور کسی کی نہیں ۔“
”ٹھیک ہے ملانی جی ؟“
”اچھا میں کھانا گرم کر کے لاتی ہوں ….تمھیں بھوک لگی ہو گی ؟“
”نہیں تمھارے قرب نے میری بھوک پیاس ختم کر دی ہے ۔“
وہ دکھی ہو گئی۔”ہاں دانی !….یہ محبت بھی عجیب روگ ہے ،قرب کی خوشی بھی بھوک اڑا دیتی ہے اور ہجر کا دکھ بھی کھانا پینا چھڑا دیتا ہے ۔“
دانیال خوفزدہ لہجے میں بولا۔”مِشی !….مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ؟“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”کس چیز سے ؟“
”پتا نہیں ،لیکن مجھے لگتا ہے کوئی انہونی ہونے والی ہے ؟“
”میں یہ برتن چھوڑ آو¿ں ۔“اس نے ٹرے اٹھا کر کچن کا رخ کیا ۔وہ شاید جادو گر تھا کہ اس کی ہر بات بغیر اس کے بتائے جان لیتا تھا ۔اب بھی مسکان کے روےے سے اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ کوئی خاص بات ضرور ہے ۔مسکان کوئی ایسی تجویز سوچنے لگی جس سے وہ دانیال سے جھگڑا شروع کر سکے ۔وہ رات اس نے دانیال کے ساتھ اس وارفتگی سے گزاری کہ اس کے سارے اندیشے دھل گئے تھے ۔صبح وہ ہنسی خوشی کام پر روانہ ہو گیا ۔اس کے جانے کے تھوڑی دیر بعد وہ بھی گھر سے نکل آئی ۔عائشہ خاتون قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی ۔اس نے ساس سے پوچھنے کی بھی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی۔وہ گھر سے نکل کر تھوڑی دور ہی آئی تھی کہ دانیال کی کال آنے لگی۔وہ لازماََ دکان پر پہنچنے کی اطلاع دینا چاہ رہا تھا ۔ مگر اس نے نمبر بزی کر کے موبائل آف کر دیا ۔وہ جانتی تھی کہ اس کی یہ حرکت اسے پریشان کر دے گی اور وہ بغیر تاخیر کے گھر پہنچے گا ۔ لیکن ایسا اس نے جان بوجھ کر کیا تھا ۔جھگڑا شروع کرنے اور قطع تعلق کے لےے کوئی بہانہ تو اسے بھی چاہےے تھا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ ایک مہنگی اورمشہور گائنالوجسٹ کے کلینک میں موجود تھی۔وہاں رش نہ ہونے کے برابر تھا۔نو بجے لیڈی ڈاکٹر پہنچی اور دس بجے مسکان کا نمبر آگیا ۔آدھے گھنٹے بعد وہ اس خوش خبری کے ساتھ رخصت ہورہی تھی کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔
وہ واپس روانہ ہوئی۔ گھر پہنچتے ہی اپنے اندازے کے مطابق اسے دانیال صحن میں ٹہلتا ملا۔عائشہ خاتون بھی برآمدے میں پریشان سی بیٹھی تھی ۔جیسے ہی وہ کار گیراج میں روک کر باہر نکلی۔دانیال بے تابی سے آگے بڑھا ۔
”مشی !….کہاں گئی تھیں ، اور موبائل کیوں بند کر دیا تھا ۔“
وہ اس کی بات کا جواب دےے بغیر کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
”وہ اس کے پیچھے اندر چلا آیا ۔”مشی !….کیا ہوا؟ خیر تو ہے ؟تم اس طرح امی جان کو بتائے بغیر کہاں گئیں تھیں۔“
وہ اس کی طرف مڑی۔”تو کیا میرا گھر سے باہر جانا بھی منع ہے ۔یا میں اس گھر میں قیدی ہوں اور تمھاری ماں مجھ پر داروغہ مقررہے ؟“
اس کا تلخ لہجہ اور نشتر الفاظ سن کر دانیال کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
”م….مم ….میں نے ایسا کب کہا ہے مشی!….میں تو ….میں تو ۔“
”رہنے دیں ۔“مسکان نے مزید زہر اگلا۔”میرے کال کاٹنے پر تم گھبرا کر گھر بھاگے آئے ، اور تھوڑی دیر گھر سے باہر رہنے پر یوں تفتیش شروع کر دی گویامیں فاحشہ ہوں۔“
ہمیشہ آپ کہنے والی تم کے لفظ سے مخاطب تھی۔دانیال دونوں ہاتھوں سے سر تھامتے ہوئے کراہا۔”میں نے کب کہا ایسا؟….میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا؟“
مسکان کی زہر فشانی جاری رہی ۔”ہر لفظ منہ سے نہیںنکالا جاتا۔کچھ باتیں بن کہے پتا چل جاتی ہیں؟“
”مشی !….پلیز مجھے بتاو¿ اصل بات کیا ہے ؟“دانیال نے اس کے بازو سے پکڑنا چاہا۔
”چھوڑو مجھے ۔“مسکان نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کرالیا۔
اسی وقت عائشہ اندر داخل ہوئی ۔اور دانیال کو پیچھے کھینچتے ہوئے بولی ۔
”دانی !….تم جاو¿ یہاں سے ،میں خود بات کرتی ہوں بیٹی سے ۔“دانیال کو کہہ کر وہ مسکان کو مخاطب ہوئی ۔ ”بیٹی کیا بات ہے ؟کیوں غصے میں ہو ؟“
اور اس مرتبہ مسکان نے بد تمیزی کی انتہا کر دی ۔”آنٹی !….آپ چھوڑیں یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے؟“
”آنٹی ….؟“عائشہ کے چہرے پر تاریکی چھا گئی تھی۔ماں جی کہنے والی کے منہ سے آنٹی سن کر اس کا دماغ ماو¿ف سا ہو گیا تھا ۔وہ خاموشی سے مڑی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔
”مسٹر دانیال !….میں یہاں سے جا رہی ہوں ۔اب میں اس گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی ۔ کل تک مجھے طلاق کے کاغذ بھجوا دینا،ورنہ مجھے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا ۔“
”مشی !….ہوش میں تو ہو ؟“دانیال نے آگے بڑھ کر اسے تھامنا چاہا۔پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ حقیقی خفگی کا علاج تو موجود ہے ،لیکن بناوٹی اور خود ساختہ ناراضی کسی تدبیر سے ختم نہیں ہوسکتی ۔
اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے ،مسکان نے اس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا ۔وہ سن ہو کر رہ گیا تھا ۔اس کے بدن سے گویا جان نکل گئی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتا اس نے دروازے کو تھام لیا۔جبکہ مسکان اپنے تھپڑ کا ردعمل دیکھے بغیر وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔
٭……..٭
مسکان کے نازک اور ملائم ہاتھ اسے پھول کی طرح لگتے تھے۔ وہ مذاق مذاق میں اس پر گھونسوں کی بارش کر دیتی اور اسے یوں محسوس ہوتا جیسے دولھا پر گلاب کی پتیاں برسائی جاتی ہیں۔لیکن آج اس کے ملائم ہاتھ کے تھپڑ نے دانیال کے بدن سے سانس نکال دی تھی ۔اور یہ کمال، تھپڑ کا نہیں اس نفرت کا تھا جو اس تھپڑ کے پس پشت کار فرما تھی۔
جانے کتنی دیر وہ بے حس و حرکت دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا رہا ۔یہ سب اسے ایک بھیانک خواب لگ رہا تھا ۔اس کے اندر اتنی ہمت مفقود تھی کہ وہ اپنے چٹکی ہی کاٹ کے خواب نہ ہونے کا یقین کر سکتا۔
”شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ جلد لوٹ آئے ۔“پاگل دل نے اسے بہلایا۔
”میں نے بھی تو غلطی کی ہے ،اس طرح بد تمیزی سے اس سے باز پرس کرنے لگا ۔ آخر موبائل فون بند کرنا اس کی مجبوری بھی تو ہو سکتی تھی؟“دل نے سارا قصوراپنے سر لے لیا ۔
”اگر وہ بدتمیز یا بد دماغ ہوتی تو پہلے دن سے اس کا رویہ ایسا ہوتا۔وہ تو میری امی کو ماں کہتی ، گھر کے سارے کام اپنے ہاتھوں سے کرتی ،مجھے آرام پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کرتی ۔ضرور بالضرور اسے کوئی مسئلہ ہے ،اور اس وقت وہ ذہنی طور پر حاضر نہیں تھی؟“دل کی طرف داری جاری رہی ۔
پھر اسے یاد آیا کہ گزشتہ کل وہ بہت پریشان تھی اور اس کے کئی بار پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نہیں بتایا تھا ۔ لیکن اس کے ساتھ اس کے ذہن میں گزری رات کی پرچھائیاں لہرائیں،کتنی پرجوش تھی اور کیسے اپنی وفا کا اظہار کرتے ہوئے چاہتیں نچھاور کر رہی تھی ۔
”وہ ضرور لوٹے گی ….“اس کے وجدان نے پکارا ۔مگر اس کے ساتھ ایک بھیانک خیال نے اسے لرزا دیا”کب لوٹے گی ؟….اور کیااس کے لوٹنے تک زندہ رہ پاو¿ںگا ؟“
اپنے بے جان وجود کو گھسیٹتے ہوئے وہ بستر تک لایا۔مقدر ایک بار پھر اس کے ساتھ مذاق کر گیاتھا ۔ بیوی مل کے چھن گئی تھی۔اور یہ فقط بیوی ہی نہیں اس کے سپنوں کی تعبیر تھی۔
وہ خیالوں میں اس سے گلے شکوے کرنے لگا۔
”مِشّی تم ایسی تو نہ تھیں ؟….اپنے شوہر پر ہاتھ اٹھانا تم نے کہاں سے سیکھا۔اورمیں نے کوئی الزام تو نہیں دیا تھا،پریشان ہو گیا تھا کہ تمھیں کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو؟ اور ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا ،اس سے پہلے بھی میں تمھارے لےے پریشان ہوتا رہا ہوں ۔ اور اگر پوچھ ہی لیا تھا تو یہ اتنا بڑا قصور تو نہیں تھا۔برا لگا تھا، تو کہہ دیتیں ۔میں کبھی نہ پوچھتا ۔اس سے پہلے کب تمھاری مرضی کے خلاف کیا ہے ؟ مشی خدارا لوٹ آو¿….میں تمھارے بغیر ادھورا ہوں ،نامکمل ہوں۔مشی آجاو¿ اپنی ہر بات منوا لو ۔ میرا کوئی قصور تو بتلاو¿۔اگر فقط پوچھنا ہی میرا قصور ہے تو،یہ اتنا بڑا قصور تو نہیں ہے کہ معاف نہ کیا جا سکے ۔ “اور پھر وہ آنسو روکنے کی ہمت کھو بیٹھا۔نمکین پانی ایک تسلسل سے تکیے میں جذب ہونے لگا۔
یونھی لیٹے آنسو بہاتے جانے کتنا وقت بیت گیا ۔سیکنڈ سال اور گھنٹے صدیاں بن گئے تھے۔ اچانک اس کے کانوں میں اذان کی مقدس آواز آئی ۔
”مِشّی کیا نماز کے لےے جگانے بھی نہیں آو¿ گی ۔دیکھو تم نہ آئیں تو میں نہیں جاو¿ں گا مسجد ۔خفا ہوتی ہو تو ہوتی رہو ۔خود ہی عہد توڑا ہے تم نے ؟….یاد ہے کہا تھا ؟کہ میں اگر نماز پابندی سے پڑھتا رہا تو تم خفا نہیں ہو گی ….بتاو¿ کب چھوڑی ہے نماز ….نہیں نا چھوڑی ؟تو پھر تم نے کیوں مجھے چھوڑ دیا ؟“
”دانی صاحب !….اٹھ جائیں اذان ہو گئی ہے ۔“اس کے دماغ میں اپنی مشی کی آواز گونجی۔ اس نے جھٹ آنکھیں کھول کر دیکھا ۔
”مشی !….سامنے آو¿ نا ؟کہاں چھپ گئیں ۔مِشی ….مشی ؟“وہ باآواز بلند اسے پکارنے لگا۔ اسی وقت عائشہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔اس کی سرخ ہوتی آنکھیں اس کے رونے کی گواہی دے رہی تھیں ۔
”بیٹا!….وہ چلی گئی ہے ۔کسے آوازیں دے رہو ہو ؟“
”نہیں ماں ….ابھی اس نے مجھے آواز دی ہے ۔قسم سے امی ! میں سچ کہہ رہاہوں ؟ …. وہ یہیں کہیں چھپی ہے ؟“
”وہ ہمارے دلوں میں چھپی ہے میرے لال!“عائشہ ،بیٹے کا سر سینے سے لگا کر بے آواز رونے لگی ۔
”امی !….آپ کو یقین کیوں نہیں آتا ؟“
”پگلے !….وہ یہاں رہنے کے لےے تھوڑی آئی تھی ؟وہ تو بس اللہ پاک نے ہماری حالت سدھارنے کے لےے بھیجی تھی ۔تمھیں مزدور سے تاجر بنانے کے لےے بھیجی تھی ۔جیسے ہی اس کا کام ختم ہوا ،وہ چلی گئی ۔اب اسے بھول جاو¿ بیٹا!….جانے والے اس طرح نہیں لوٹا کرتے ؟“
”ماں جی !….وہ آپ سے بھی تو بد تمیزی سے پیش آئی ہے ۔وہ ضرور معافی مانگنے آئی ہو گی ۔ آپ ایک دفعہ گھر میں دیکھ تو لیں ،تنگ کر رہی ہمیں ۔پتا ہے نا ؟کتنی شرارتیں کرتی ہے ؟ چھوٹی بچی بن جاتی ہے۔“
عائشہ سسکی ۔”بیٹا !….وہ ایسی نہیں تھی کہ کسی بڑے سے بد تمیزی سے پیش آتی یا شوہر سے زبان درازی کرتی ۔ پگلے!…. وہ ہمیں چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔اور اسی وجہ سے اس نے ایسا رویہ اپنایا تاکہ ہم اس سے نفرت کر سکیں ۔“
”پر وہ ہمیں چھوڑنا کیوں چاہتی تھی ؟“
”پتا نہیں میرے لال !….یہ تو میرے رب کو یا پھر خود اسے معلوم ہو گا ؟“
”اگر چھوڑنا ہی تھا تو آئی کیوں تھی ؟“
”بتایا تو ہے ؟ ہمیں غربت کی بھٹی سے نکالنے کے لےے۔“
”غربت کی بھٹی سے نکالنے ،کہ،یادوں کے آلاو¿ میں ڈالنے؟“
”کسی کی نیکی کا یوں مذاق نہیں اڑاتے بیٹا ؟“
”یہ کیسی نیکی ہے ا ماں!….چند ٹکے دے کر ہمیشہ کا روگ مقدر میں لکھ گئی ۔“
”کیسا روگ پتر!…. ایسا نہیں کہتے ؟ اب تمھارے پاس دولت ہے کار ہے ، خوب صورت گھر ہے، اب تو رشتوں کی لائن لگ جائے گی۔ایک چھوڑ ،دو شادیوں کر لینا ؟“
”ماںجی !….مجھے اپنی مشی چاہےے ۔اگر اس کے بدلے سو لڑکیاں بھی ملتی ہیں تو مجھے قبول نہیں۔“
”اچھا اٹھو نماز پڑھو….اپنے اللہ سے مانگو ،اس ذات سے جس کے لےے کوئی بات ناممکن نہیں؟“
اور دانیال سر ہلاتے ہوئے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: