Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 13

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 13

–**–**–

گھر سے نکلتے ہی اسے ٹیکسی مل گئی ۔ایک دفعہ مڑ کر اس نے غم زدہ نظروں سے اس گھر کو دیکھا جہاں اس نے زندگی کے بہترین پل بِتائے تھے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی ۔ جہاں اس کا محبوب اس کا منتظر تھا ۔کسی کی ہمدردی میں وہ اپنی خوشیاں داو¿ پر نہیں لگا سکتی تھی ۔یوں بھی اسے یقین تھا کہ دانیال کو اب رشتوں کی کمی نہیں ہوگی ۔مسکان کی مہربانیوں سے وہ متوسط طبقے میں شامل ہو گیا تھا ۔

اسے اگر غم تھا تو اپنے بد تمیزانہ روےے کا تھا جو وہاں سے نکلتے ہوئے اسے اپنانا پڑا تھا ۔ عائشہ جیسی شفیق ، مخلص اور پیار کرنے والی خاتون سے اس طرح کا رویہ اسے کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا تھا اور پھر دانیال کے ساتھ تو اس نے زیادتی کی حد کر دی تھی۔ مگر یہ سب اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا تھا۔ اگر وہ یہ انداز نہ اپناتی تو ماں بیٹا کبھی اس کی جدائی برداشت نہ کر پاتے ۔ اب زیادہ سے زیادہ انھیں وقتی طور پر دکھ محسوس ہوتااور بعد میں وہ سنبھل جاتے ۔پھر یہ بھی انسان کی سرشت میں ہے کہ وہ ہزاروں نیکیوں اور احسانا ت کو یاد نہیں رکھتا اور ایک چھوٹی سی خطا کو بنیاد بنا کر کسی سے بھی ساری زندگی نفرت کر سکتا ہے۔اسے یقین تھا کہ دانیال کی محبت کونفرت میں ڈھلتے دیر نہیں لگی ہو گی ؟ کون غیرت مند مرد بیوی کا تھپڑ برداشت کر سکتا ہے ۔اور دانیال کی غیرت مندی میں اسے مطلق شبہ نہیں تھا ۔

موبائل فون نکال کر وہ حماد کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔

”جی محترما ؟….“اسے حماد کی چہکتی آواز سنائی دی ۔

اس نے کہا۔”میں گھر واپس آرہی ہوں ؟“

”پر کیوں ؟“وہ حیران رہ گیا ۔

”کیا نہیں آنا چاہےے ؟“

”ہزار دفعہ آو¿۔“حماد جلدی سے بولا۔”لیکن جس مقصد کے لےے اتنے پاپڑ بیلے ہیں وہ تو پورا ہو جائے ؟“

”ڈاکٹر نزہت رفیق کہہ رہی تھیں میں ماں بننے والی ہوں ۔“مسکان نے شرماتے ہوئے اسے خوش خبری سنائی۔

”کیا ؟….ایک دم ….یعنی تم نے مجھ سے چھپائے رکھی یہ بات؟“

وہ خفگی سے بولی ۔”چھپانے کے بچے !….آج دس بجے خود مجھے معلوم ہوا، اوراب بارہ بجے میں گھر کی طرف روانہ ہوں ۔“

”اوہ سویٹ ہارٹ ….آئی لو یو ۔“حماد خوشی سے بھرپور لہجے میں کہا ۔

مسکان کی ذہنی رو دانیال کی طرف بہک گئی اس نے کبھی بھی اسے ….”آئی لو یو ۔“ نہیں کہا تھا۔ زبانی اظہار کے بجائے وہ ہمیشہ اپنے احساسات سے اسے یقین دلاتا ،کہ مسکان اس کے لےے کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔

”شاید اب اس کے دل میں میری نفرت بھر چکی ہو ؟“مسکان دکھی ہو گئی ۔

اسے خاموش پا کر حماد دوبارہ بولا۔”اچھا میںاس وقت تھوڑا مصروف ہوں ۔اور یہ مصروفیت چند گھنٹوں تک ختم ہوتی نظر نہیں آتی ۔باقی باتیں مل بیٹھ کے ہوں گی ؟فی الحال میں چوکیدار کو فون کر بتا دیتا ہوں تاکہ وہ آپ کو گھر میں گھسنے دے۔“

”کیوں ؟….اب تک مسکین چچا نہیں لوٹا ؟“ مسکین ان کے پرانے چوکیدار کا نام تھا ۔

”چھٹی ختم ہونے پرآیا تھا ،میں نے ایک ماہ کی مزید چھٹی اور تنخواہ پکڑا دی ۔ایک دفعہ تو پریشان ہو گیا کہ شاید ہم اسے فارغ کرنا چاہتے ہیں ،مگر میری یقین دہانی پر خوش ہو کر دعائیں دیتا رخصت ہو گیا۔یہی سلوک میں نے نصرت اور شہناز سے کے ساتھ بھی کیا ۔“(نصرت اور شہناز ان کی گھریلو خادمائیں تھیں)

”اچھا ٹھیک ہے میں آج ہی انھیں واپس بلا لیتی ہوں ؟“

”آپ کی مرضی میڈم صاحبہ !“کہہ کر حماد نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

”مجھ سے بھی زیادہ اہمیت ہے کام کی ؟“ اس نے خود کلامی کرتے ہوئے موبائل فون پرس میں رکھ لیا۔

اپنی کوٹھی کے سامنے ٹیکسی رکوا کر وہ اتر گئی ۔حماد اس کے بارے چوکیدار کو بتا چکا تھا اس نے مودّبانہ انداز میں سلام کہا۔

سر کے اشارے سے وہ اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اندرونی عمارت کی جانب بڑھ گئی۔ اپنی کوٹھی اسے اجنبی اجنبی لگ رہی تھی ۔ایک ادھیڑ عمر کی عورت اسے گھر کی صفائی کرتی نظر آئی ،وہ یقینا حماد نے گھریلو کام کے لےے رکھی ہوئی تھی ۔

”جی بی بی!“مسکان کو کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ مستفسر ہوئی ۔

مسکان نے جواب دینے کے بجائے پوچھا۔”کیا نام ہے تمھارا؟“

”رضیہ۔“کہہ کر وہ سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگی ۔

”تو رضیہ بی بی ….میں اس گھر کی مالکن ہوں ۔“

”آپ بیگم صاحبہ !….مگر ….؟“اسے خاصی حیرانی ہوئی تھی ۔شاید وہ حماد کو غیر شادی شدہ ہی سمجھتی رہی تھی ۔

”اچھا فی الحال اگر مگر چھوڑو اور مجھے ایک کپ چاے پلا دو ۔“وہ اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔ جب تک عدت نہ گزر جاتی اس نے حماد کو قریب نہیں آنے دینا تھا ۔عدت کی سوچ پر اس کے دماغ میں دانیال کی افسردہ شکل لہرانے لگی۔

”یقینا مجھے کوس رہا ہو گا ،دھوکے باز ،فریبی ،گھٹیا عورت،اب اس نے انھی خطابات سے مجھے یاد رکھنا ہوگا ۔“اس کے دل کو کچھ ہونے لگا ۔

”کتنا چاہتا تھا ،دیوانہ تھا اپنی مشی کا ۔اور کیسے چاہت سے پکارتاتھا مِشّی ….مشی ….مشی ۔“ اس کے دماغ میں دانیال کی آواز گونجنے لگی ۔

”شاید اداس ہو ؟“اس کی سوچیں دانیال کی ذات پر مرتکز تھیں۔”ہاں اداس تو ہوگا،یہ ممکن ہی نہیں کہ اسے اپنی مشی کی جدائی کا غم نہ ہو ؟….لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اب وہ اس کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا ۔“

ملازما چاے بنا کر لے آئی ۔چاے پیتے ہوئے اچانک اس کے دماغ میں دانیال کی آواز گونجی….

”مشی !….ساری چاے پی جاتی ہو،آدھا کپ تو بخش دیا کرو نا ؟“

وہ کہتی ۔”تھرماس بھرا ہوا ہے محترم ۔“

جواب ملتا۔”میں تمھارے جھوٹے کی بات کر رہا ہوں ؟“

مسکان کے لبوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی اور وہ زیر لب بڑبڑائی ۔”پاگل نہ ہو تو ۔“ چاے کا ادھ بھرا کپ تپائی پر رکھ کر وہ لیٹ گئی ۔اور اپنی سوچوں کو حماد کی طرف موڑنے لگی ۔اس کا محبوب قریباََ پانچ مہینے سے اس سے جسمانی طور پر دور تھا ۔ اور اب مزید آٹھ نو مہینے کی دوری اسے سہنا تھی ۔کیونکہ یہ بات تو وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش)ہوتی ہے ۔

”پتا نہیں دانیال طلاق دینے میں لیت و لعل کرتا ہے یا آسانی سے مجھے آزاد کر دے گا ؟“ اس کی ذہنی رو ایک بار پھر دانیال کی طرف مڑ گئی ۔”اگر اس طلاق دینے سے انکار کر دیا تو لازماََ ہمارے لےے مسئلہ بنے گا ۔ کیونکہ خلع کے لےے میں عدالت کا دروازہ بھی نہیں کھٹکھٹا سکوں گی ۔“ اچانک اسے احساس ہوا کہ دانیال کے طلاق نہ دینے کی صورت میں مسئلہ کافی گھمبیر ہو جانا تھا۔

انھی خیالوں میں کھوئے اسے اونگھ آگئی ۔

وہ ایک خوب صورت پہاڑی تھی ،چاروں طرف اونچے نیچے سرسبز درخت پھیلے تھے ۔ ہلکی ہلکی چلنے والی ہوا اور آسمان پر چھائے بادلوں نے ماحول کو انتہائی حد تک دل فریب بنا دیا تھا ۔ ایک چشمے کے قریب رک کر اس نے اپنے ساتھی سے کہا۔

”دانی!….“ یہیں بیٹھتے ہیں….دیکھو نا؟ کتنے خوب صورت پھول کھلے ہیں؟“

وہ اسے چاہت سے دیکھتے ہوئے بولا۔”ان میں سے ایک بھی میری مشی جیسا نہیں ہے۔ دیکھو تمھیں دیکھ کرکتنے شرمندہ شرمندہ سے لگ رہے ہیں۔“

وہ خواب ناک لہجے میں بولی ۔”جھوٹا ۔“

وہ رونی صورت بنا کر بولا ۔”تمھیں تو میری ہر بات جھوٹ لگتی ہے ۔“

وہ شوخی سے بولی ۔”جھوٹ، ہمیشہ جھوٹ ہی لگتا ہے ۔“

اچانک دانیال کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمودار ہوئے اور وہ خوف زدہ لہجے میں بولا۔

”چلو مشی یہاں سے جانا پڑے گا ۔وہ یہاں بھی پہنچ گیا ۔“

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”کون پہنچ گیا ؟“

مگر دانیال اس کی بات کا جواب دےے بغیر اسے ہاتھ سے پکڑ کر ایک طرف کھینچنے لگا ۔ انھوں نے دو تین قدم ہی اٹھائے تھے کہ اچانک انھیں قہقہے کی بازگشت سنائی دی ۔

”ہا….ہا….ہا….مجھ سے بچ کر کہاں جاو¿ گے کالے ؟“

اس نے مڑ کر دیکھا وہ حماد تھا ۔ایک دیو قامت شخص کے روپ میں ۔وہ دونوں اس کے سامنے بچے دکھائی دے رہے تھے ۔

”مشی!…. جلدی بھاگو وہ پہنچ گیا ۔“دانیال نے اسے زور سے کھینچا ۔مگر حماد ایک جست میں ان کے سر پر پہنچ گیا تھا۔اس نے دانیال کو گریبان سے پکڑ کر دھکا دیا اور وہ لڑھکیاں کھاتا دور جا گرا ۔ اس کے ساتھ اس نے مسکان کا بازو تھاما اور بولا ۔”چلو میرے ساتھ ؟“

دانیال اٹھ کر چلایا ۔”خبیث !….چھوڑو میری مشی کو ؟“

حماد استہزائی لہجے میں بولا۔”یہ میری ہے مسٹر حبشی!“

”نہیں ….نہیں ….یہ میری ہے ۔یہ میں کسی کو نہیں دوں گا ۔اگر تم نے اسے نہ چھوڑا تو میں تمھیں قتل کر دوں گا۔“ دانیال غصے سے حماد کی طرف بڑھا ۔مگر حماد کا تھپڑ کھا کر ایک مرتبہ پھر دور جا گرا ۔حماد مسکان کا بازو تھامے پہاڑی کے اوپر چڑھنے لگا ۔اس کی رفتار کافی تیز تھی ۔دانیال نیچے گر کر اٹھا اور ان کے تعاقب میں دوڑ پڑا ، اس کے ساتھ اس کی زور زور سے پکارنے کی آوازیں آرہی تھی ۔کبھی وہ حماد کو دھمکانے لگتا اور کبھی ”مشی ….مشی ۔“ پکارنے لگتا۔اس کی دردناک آوازیں زیادہ دیر مسکان سے برداشت نہ ہوئیں اور اس نے منمناتے ہوئے حماد سے کہا ۔

” مجھے اس کے پاس جاناہے ؟“

”ہا….ہا….ہا۔“حماد کا قہقہہ کافی بھیانک تھا ۔”اچھا ، یہ بات ہے ؟….یہ لو پھر جاو¿ اس کے پاس ۔“ اس نے مسکان کو بلندی سے نیچے کی طرف دھکا دیا ۔ اس کے منہ سے کافی بلندبانگ چیخ خارج ہوئی اور ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی ۔

اس کا سارا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔دل کی دھڑکن بے قابو ہو رہی تھی ۔اسی وقت ملازما خواب گاہ میں داخل ہوئی ۔

”بیگم صاحبہ !….کیا ہوا ؟“

”کچھ نہیں ،سب ٹھیک ہے ۔تم جاو¿ اپنا کام کرو ۔“اور وہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔ اس نے اٹھ کر فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس کا تکلف کےے بغیر بوتل کو منہ لگا کر غٹا غٹ پانی پینے لگی ۔

خواب کے اثر سے ابھی تک اس کا دل لرز رہا تھا۔پانی پی کر اس نے بوتل واپس فرج میں رکھی اور چند لمحے فرج سے ٹیک لگا کر کھڑی رہی ۔گھڑی پر نظرڈالنے پر اسے پتا چلا ،کہ ظہر کی نماز اس سے قضا ہو گئی ہے ۔ گھنٹے کی سوئی پانچ کا ہندسا عبور کر چکی تھی ۔

”کیا دانیال نے نماز پڑھی ہو گی ؟“اس کے ذہن میں ایک بارپھر دانیال کا نام آیا۔

”شٹ ! ….“ اس نے سر ہلا کر اس کی سوچوں کو جھٹکا۔

”پتا نہیں حماد اتنی دیر کیوں کر رہا ؟“خود کلامی کرتے ہوئے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی کہ عصر کی اذان سنائی دینے لگی تھی ۔

٭……..٭

”پھر تو مبارک ہو جناب !….آپ باپ بننے والے ہیں ؟“فریحہ نے مسکراتے ہوئے اسے مبارک باد دی ۔

”میں نہیں محترما!…. ہم کہو۔اس بچے کو ہم دونوں نے مل کر پالنا ہے ۔مسکان بے چاری تو منوں مٹی تلے پڑی ہو گی ۔“

فریحہ نے منہ بنایا۔”اسے پالنے میں تو کوئی قباحت نہیں ۔ فقط یہ ڈرہے ،کہ کہیں شکل و صورت باپ کی نہ لے آئے؟“

”نہیں یار! ….کچھ حصہ تو ماں سے بھی وصول کرے گا۔یہ بھی ممکن ہے بالکل ماں پر چلا جائے ؟“

”اور حماد صاحب کو اپنی پیاری سیٹھ زادی کی یاد دلاتا رہے ؟“

”شٹ اپ یار! ….اس خوشی کے موقع پر بد مزگی پیدا نہ کرو ۔“

”اچھا مسکان صاحبہ کا کیا حال ہے ؟….کہیں اس کالے کے غم میں صاحب فراش تو نہیں ہو گئیں؟“

”وہ تو گھر جا کر پتا چلے گا نا ؟….میں ابھی تک اس سے نہیں ملا ہوں ۔بس فون پر اس نے اطلاع دی ہے کہ وہ واپس آ گئی ہے ۔“

”بڑے ظالم ہو بھئی ،بے چاری کب سے منتظر ہو گی ؟“

”بھاڑ میں جائے ۔ اس کے چونچلے مجھ سے نہیں اٹھائے جاتے ۔اور اب تو سر خ رو ہو کر لوٹی ہے ،پتا نہیں کتنے نخرے دکھائے گی۔“

”اچھا مرنے والی کی آخری خواہش ہی سمجھ کر اس کے نخرے برداشت کر لینا۔“

”یہ کیا ؟“حماد نے حیرانی سے کہا ۔”اپنی سوکن کی طرف داری کر رہی ہو ؟“

”ہاں۔“وہ اطمینان سے بولی ۔”اپنا مال ،اولاد اور محبوب شوہر تک وہ میرے لےے چھوڑ کر جانے والی ہے ۔اتنا تو حق بنتا ہے نا غریب کا ؟کہ زندگی کے آخری دن اپنے محبوب کی معیت میں گزار سکے ۔“

”ٹھیک ہے جی !….جو حکم ہو سرکار کا ؟ورنہ تو میں اس کی شکل دیکھنے کا بھی روادار نہیں ۔ایک غیر مرد کے ساتھ ڈیڑھ ماہ گزار کر آرہی ہے ۔مجھے تو سچ میں اس سے کراہیت محسوس ہو رہی ہے ۔“

”اس نے تمھارے حکم کی تعمیل کی ہے ؟“فریحہ نے جان بوجھ کر مسکان کی طرف داری جاری رکھی ۔ ورنہ تو حماد کی باتوں سے اسے دلی سکون مل رہا تھا ۔

”فری !….یقین کرو ،تمھاری چاہت پانے کے بعد مجھے کوئی لڑکی اچھی ہی نہیں لگتی ۔“

”ہاں یاد آیا ،دانیال صاحب نے اسے طلاق دے دی ہے نا ؟“

”معلوم نہیں ،ابھی جا کر پوچھوں گا ۔“

”کہیں بگڑ ہی نہ جائے ،مسکان جیسی لڑکی کو وہ کب چھوڑنا چاہے گا ۔یاد نہیں اس کی تصویر دیکھ کر اس نے مجھے بھی نظر انداز کر دیا تھا ۔“

”تمھیں نظر انداز نہیں کیا تھا جان !….سنا نہیں انگور کی جس بیل تک رسائی نہ ہو پائے وہ ہمیشہ کھٹے ہوتے ہیں۔“

”تو آپ کا خیال ہے وہ آسانی سے مسکان صاحبہ کو طلاق دے دے گا ۔“

”آف کورس،اس میں اتنی جرا¿ت نہیں ہے کہ انکار کر سکے ۔“

”فرض کیا اس نے انکار دیا پھر کیا کرو گے ؟“

’میرا خیال ہے اس موضوع پر ہم کافی تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں ۔

”کیا ….؟اس کے قتل کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا ؟“

”تمھیں کیا فکر اس کی زندگی کی ؟“

”بھاڑ میں جائے اس کی زندگی ۔مجھے تمھاری فکر ہے ؟“

”فری !….بارش سے پہلے بھیگنے کی بات نہ کرو،جب وہ انکار کرے گا تو طریقے بھی کئی مل جائیں گے ۔اور قتل سب سے آخری حل ہے ۔“

”ویسے میرے ذہن میں ایک اچھوتی تجویز ہے۔“فریحہ نے انکشاف کیا ۔

”ذرا میں بھی سنوں؟“وہ ہمہ تن گوش ہوا ۔

فریحہ جھجکتی ہوئی بولی ۔”اگر میں اس کالے کو شادی کی پیش کش کروں ۔اور شرط رکھوں کہ پہلے وہ مسکان کو طلاق دے گا ۔ اور پھر طلاق ہونے کے بعد ٹھینگا دکھا دوں ؟“

”اس صورت میں تمھیں اس سے تنہائی میں ملاقات کرنا پڑے گی ہے نا ؟“

”ضروری تو نہیں ،ہم پبلک مقام پر بھی مل سکتے ہیں ۔بس مجھے ذرا محبت کی اداکاری کرنا پڑے گی ۔اور یہ تو تمھیں پتا ہے نا کہ تمھارے علاوہ مجھے کوئی نہیں چاہےے؟“

”تم نے شاید ابھی تک اس بے چارے کو معاف نہیں کیا ۔اور ایک دفعہ اسے اس کی حیثیت یاددلا کر ہی تمھیں چین آئے گا ؟“

”ہاں ،صحیح کہا۔اسے کہتے ہیں ایک تیر سے دو شکار کرنا؟“فریحہ نے اپنے عزائم چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔

”چلو ڈن ہو گیا ۔مکان اور کار وغیرہ کی چھیننے کی دھمکی پر بھی اگر نہ مانا تو پھر ایسا ہی کریں گے؟“

وہ زہریلے لہجے میں بولی۔”تم دیکھنامیں اسے کیسے سبق سکھاتی ہوں ۔اگر کپڑے پھاڑ کر روڈوں پر نہ بھاگتا پھرا تو نام بدل دینا ۔“

”اس میں شک ہی کیا ہے ،اگر اس کے بجائے تم یہی دعواکسی خوب رو نواب زادے کے متعلق کرو تب بھی مجھے یقین کامل ہوگا۔یہ غریب تو تمھاری ایک مسکراہٹ کی مار ہے ۔“

”میرا خیال ہے تمھیں جانا چاہےے ؟مسکان صاحبہ بڑی شدت سے منتظر ہو گی ۔کل انشاءاللہ اس بارے تفصیلی گفتگو ہو گی۔“

”آج سبق تو پڑھ ہی نہیں سکے ہیں ؟“

وہ مزاحیہ لہجے میں بولی ۔”ضرورت ہی کیا ہے سبق پڑھنے کی ؟….ایک سیٹھ زادی کی وارث ہوں ، نوکری تھوڑی کرنامجھے ؟“

اور حماد اس کی بات پر بے ساختہ ہنستا ہوا وہاں سے باہر نکل آیا ۔

٭……..٭

وہ ظہر کی نماز کے لےے گیا تھا ،عصر کی نماز پڑھ کے لوٹا۔جتنی دیر وہ مسجد میں موجود رہا اسے دلی سکون رہا ۔ اپنے رب سے گڑ گڑا کر وہ اپنی مسکان مانگتا رہا تھا۔

”بیٹا اتنی دیر لگا دی ؟“ماں شدت سے اس کی منتظر تھی ۔

”بس ماں !….مسجد میں سکون مل رہا تھا بیٹھا رہا ؟“

”کھاناکھا کر چلے جاتے ؟“

”امی !….بھوک نہیں ہے ؟“

”بیٹا !….کب تک اس کے لےے بھوکے رہو گے ؟….ایک دن ،دو دن ،ہفتا ،مہینا یا پھر سال؟“

”امی !….قسم سے بھوک نہیں ہے ؟“

”پھر بھی کھاو¿۔بھوک نہ لگنے کا یہ مطلب نہیں ،کہ تمھارے جسم کو خوراک کی ضرورت نہیں ہے ؟“

”رات کو کھا لوں گا امی !….ابھی کھائی تو رات کو نہیں کھا سکوں گا ۔“دانیال نے بہانہ گھڑتے ہوئے جان چھڑائی ۔اور عائشہ افسو س سے سر ہلاتی وہاں سے رخصت ہو گئی ۔

وہ بیٹے کے دکھ سے واقف تھی۔بلکہ مسکان کی خفگی خود اس پر بہت گراں گزر رہی تھی ۔ وہ کیا گئی تھی کہ گھر ہی سونا سونا لگ رہا تھا ۔پوتے پوتیاں کھلانے کے خواب کی تعبیر ایک بار پھر اس سے چھین لی گئی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں گھس کر تلاوت کرنے لگی ۔شام کے لےے سالن یوں بھی بنا پڑا تھا کہ دن کا کھانا وہ خود بھی نہیں کھا سکی تھی ۔ بیٹے کو نصیحتیں کرنے والی کی اپنی بھوک بھی اڑ چکی تھی۔

دانیال اپنی خواب گاہ میں داخل ہوا ۔مسکان کے بدن کی مہک سے کمرے کی فضا ابھی تک معطر تھی۔ بیڈ پر بیٹھ کر اس نے مسکان کا تکیہ اٹھایا اور گود میں رکھ لیا ۔بے چینی بڑھی تو وہ کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھ گیا ، الماری میں مسکان کے لباس اسی طرح ٹنگے تھے۔ایک چیز بھی تو وہ ساتھ نہیں لے جا سکی تھی۔

”شاید سامان اکھٹا کرنے کے لےے دوبارہ آئے ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں گونجی۔

اچانک اسے خیال آیا کہ وہ گھر بھی اسی کی ملکیت تھا اور اتنا قیمتی گھر ،کار اور پھر دکان وہ کیسے دانیال کی ملکیت میں رہنے دے سکتی تھی ۔حالانکہ اس کی امی نے بھی دو تین دفعہ باتوں باتوں میں کہا تھا کہ مسکان کا ان کی زندگی میں آمد کا مقصد یہی تھا کہ وہ انھیں غربت اور تنگ دستی کی زندگی سے باہر نکالے۔ مگر جب تک مسکان یا اس کے کسی سرپرست کی طرف سے باقاعدہ تحریری ثبوت نہ مل جاتا وہ اس خوش گمانی میں نہیں رہ سکتا تھا کہ یہ سب کچھ اس کا ہے ۔ یوں بھی اس کے بغیر اسے دھن ،دولت اور کار کی کوئی خواہش نہیں رہی تھی ۔گو ماں اس کی دوسری شادی کرانے کا عندیہ دے چکی تھی مگر اب اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ دوسری شادی نہیں کرے گا ۔

”شاید مسکان ہی لوٹ آئے ؟“ایک امید افزا سوچ اس کے دماغ میں جاگی ۔ ”ضرور اس کے سرپرست جب شوہر سے ناراضی کا سبب پوچھیں گے ،تو اتنی چھوٹی بات پر وہ کبھی مسکان کو طلاق لینے کی اجازت نہیں دیں گے؟“

”اگر اس نے کسی کی بات بھی نہ مانی ؟….اور طلاق لینے پر مصر رہی تو کیا میں اسے طلاق دے پاو¿ں گا ؟“اس لرزا خیز سوچ کا ایک ہی جواب تھا ۔ ”نہیں ۔“لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سچ تھا کہ اس نے مسکان کی ہر بات ماننے کا عہد پہلی رات کیا تھا ۔

وہ زیر لب بڑبڑایا۔”مگر اس عہد میں مسکان سے دوری شامل نہیں تھی ۔“

موبائل فون کی گھنٹی نے اسے متوجہ کیا ۔کسی خوش گمانی پر اس نے جلدی سے موبائل نکالا۔مگر وہ مکرم خان تھا ۔

”جی خان جی !“وہ مکرم کو خان جی کہا کرتا تھا ۔

”صیب جی !….آج آپ واپس نہیں آیا خیر توتھا ؟“

اس نے جواب دیا۔”ہاں بس خیریت ہی ہے ۔“اب وہ اسے کیا بتاتا ،کہ میری دنیا لٹ چکی ہے ۔ اس غریب کے بس میں کیا تھا کہ اس کی کوئی مدد کر سکتا ۔

اس نے اجازت طلب کی ۔”تو پھر ام دکان بند کر رہاہے ۔“

”ٹھیک ہے ….خان جی اور شاید میں چند دن نہ آ سکوں ،آپ نے خود ہی دکان سنبھالناہے۔“

”خوچہ!…. پیسوں کا کیا کرنا ہے ؟“وہ سیلری کے بارے دریافت کرنے لگا۔

”یہ رقم اپنے پاس محفوظ رکھو ۔جس دن آو¿ں گا حساب کتاب کر لیں گے ۔“

”ٹھیک ہے صیب جی !“کہہ کر مکرم خان نے رابطہ منقطع کر دیا۔

اسے مکرم خان پر کامل اعتما دتھا ۔کاروبار کو ذہن سے جھٹک کر وہ دوبارہ اپنی مشی کے خیالوں میں گم ہو گیا۔اسی دوران اس کے کانوں میں مو¿ذن کی آواز آئی۔اسے یاد آیا کہ مسکان کتنا خوش ہوتی تھی اسے نماز پڑھتے دیکھ کر ۔دانیال کے قدم مسجد کی طرف اٹھ گئے ۔

٭……..٭

وہ اسے اپنے بیڈ روم میں ملی ۔حماد کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ بے اختیار اٹھ بیٹھی ۔اس کے سنجیدہ چہرے پر ہلکا سا تبسم کھلنے لگا تھا۔

”وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے ؟“حماد نے گھسا پٹا مصرع رومینٹک انداز میں پڑھا ۔

وہ ہنسی۔”یعنی ،اب یہ میرا گھر نہیں رہا ؟یہی باور کرانا چاہتے ہیں آپ ؟“

”بڑی باتیں آ گئی ہیں بھئی !….ہماری بیگم کو ؟“حماد نے آگے بڑھ کر اسے بانہوں میں بھر لیا۔ مسکان کو عجیب سا احساس ہوا ۔اس کے لہجے کا مصنوعی اور پھیکا پن بہت واضح تھا ۔ اسے گلے سے لگانے میں بھی وہ وارفتگی نہیں تھی جو بچھڑے محبوب کا خاصا ہوتی ہے ۔اچانک اسے یاد آیا کہ وہ کسی اور کی منکوحہ ہے ۔وہ آہستگی سے اس سے علاحدہ ہو گئی ۔

”یہ کیا ….؟“حماد نے خفگی ظاہر کی ۔

”حادی !….پلیز۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں، پھر کیوں مجھے مجبور کرنا چاہتے ہیں ؟“

”اس لےے کہ تم میری ہو ؟“اس کی خفگی برقرار تھی۔

”میں نے کب اس سے اختلاف کیا ہے ۔لیکن میری جان !….ابھی تک حلال تو نہیں ہوئی؟“

”اچھا ٹھیک ہے ۔“وہ گویا بادل نخواستہ مانتے ہوئے پوچھنے لگا ۔”کالو نے طلاق تو دے دی ہے نا؟“

”نہیں ….لیکن میں وہاں سے آتے ہوئے اسے کہہ کر آئی تھی کہ اگر اس نے میرے گھر کے پتے پر طلاق نہ بھجوائی تو میں عدالت پہنچ جاو¿ں گی ؟“

”پھر اس نے کیا جواب دیا ؟“

”کچھ نہیں ،خاموش کھڑا رہا ۔“مسکان کی نگاہوں میں دانیال کا وحشت زدہ چہرہ گھوما۔اور اس نے دل میں سوچا۔

”وہ ہوش میں ہی کب تھا کہ کوئی فیصلہ کرتا ؟“لیکن یہ بات وہ حماد کو نہ بتا سکی ۔جانے کیوں وہ دانیال کی محبت کو مخفی رکھنا چاہتی تھی ۔یوں بھی عورت اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے ۔وہ اپنے شریک حیات کے سامنے ،عارضی شوہر کی خوبیاں یا اس کی بے پایاں چاہت کو ظاہر کر کے ہمیشہ کے طعنے اپنا مقدر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ دانیال ماضی کا ایک باب تھا۔چاہے کتنا ہی سہانا کیوں نہ ہوتا وہ اسے اپنے مستقبل پر اثر انداز نہیں ہونے دے سکتی تھی ۔

”اس کا مطلب ہے مجھے خود اس کے پاس جانا پڑے گا ؟“

وہ سرعت سے بولی ۔”ہاں ۔“

”ٹھیک ہے میڈم صاحبہ !….کل یہ کام بھی ہو جائے گا ۔اس کے بعد تو یہ دوریاں نہیں رہیں گی؟“

مسکان اطمینان بھرے لہجے میں بولی ۔”عدت ۔“

”یعنی تین ماہ مزید انتظار ؟“

”نہیں !….جب تک بچے کی پیدائش نہیں ہوتی ۔“

”مسکان !….کیا مذاق ہے ۔سارے فرائض اور واجبات میرے پورے کرنے کے لےے رہ گئے ہیں ۔“

”یہ اللہ کی قائم کردہ حدود ہیں جناب!….اور آپ جانتے ہیں میں اس کے خلاف نہیں کر سکتی۔ اپنی دوسری شادی پر میں کتنی پریشان اور ناد م ہوں یہ بیان سے باہر ہے ۔یقین مانو اگر تمھاری محبت نے مجبور نہ کیا ہوتا تو میں اتنا بڑا قدم کبھی نہ اٹھاتی؟“

”میں بھی تو مجبور تھا ۔“حماد نے ایک مرتبہ پھر اس کی جانب پیش قدمی کی ۔

”ٹھیک ہے…. ٹھیک ہے ۔“اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے دورہی سے روکا۔”ضروری نہیں کہ گلے سے لگا کر ہی آپ اپنی مجبوری کا ثبوت پیش کریں ۔بس آپ نے کہہ دیا مجھے یقین آگیا ۔“

”چلیں جیسے تمھاری مرضی ۔“وہ مصنوعی پریشانی ظاہر کرتا ہوا کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔

مسکان کو اس کا پیش قدمی نہ کرنا بہت برا لگا ۔اسے خیال آیا۔

”کیا اس جگہ دانیال ہوتا تو وہ بھی یوں ایک بار منع کرنے پر اس کی یہ بات مان لیتا ؟ کبھی نہیں۔“ اس کے دل نے پر زور تردید کی ۔”وہ کبھی بھی مجھ سے دور ہٹنے پر راضی نہ ہوتا۔“

اور حماد ایک بار کہنے ہی پر یوں دور جا کر بیٹھ گیا جیسے اس کے نزدیک مسکان کے وجود کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ وہ اسے روک رہی تھی، صرف ناز ظاہر کرنے کے لےے ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ شریعت کی رو سے یہ غلط تھا۔ وہ چاہتی تھی اس کا محبوب زبردستی کرے ،اسے بانہوںں میں بھرلے ،وہ اسے دور دھکیلے اور وہ بار بار چمٹ جاے ، یوں جیسے اسے خود پر قابو نہ ہو۔ اور پھر تنگ ہو کر وہ دوسرے کمرے میں بھاگ جائے، دروازہ اندر سے بند کر لے ۔وہ باہر سے منتیں کر کے یقین دلائے کہ۔” اچھا دروازہ کھولو اب کچھ نہیں کہتا۔“

اور وہ کہے۔” پہلے قسم کھاو¿۔“وہ قسم کھاکر وعدہ کرے۔ اور دروازہ کھولنے پر اپنی قسم سے مکر جائے ۔

”ہاں ایسا دیوانہ ہو کہ اس کے علاوہ کسی چیز کو نظر بھر کر نہ دیکھے ۔اس کا مشغلہ ہی اس کے رخ کا دیدار ہو ،بالکل ایسے ….جیسے کہ…. ؟جیسے کہ…. ؟جیسے کہ ….؟دانیال ۔“اس کے دل نے دانیال کا نام بہ طور مثال پکارا ۔وہ گھبرا کر چونک گئی ۔مگر یہ آواز حماد نہیں سن سکا تھا وہ اس وقت دیوار پر لگی بے جان پینٹنگ کو گھور رہا تھا ۔

”کس سوچ میں گم ہو ؟“تصویر سے نظریں اٹھا کر اس نے مسکان کو گھورا ۔

”کتنی روکھی نظریں ہیں ؟“اس نے دکھ سے سوچا۔”یہ تو جیسے کسی غیر کے پاس بیٹھا ہو ؟بلکہ غیر مرد کے دل میں کم از کم خوب صورت لڑکی کو دیکھ کر کسی جذبے کا عکس تو ابھرتا۔یہ تو بالکل بے رونق اور جذبوں سے عاری نظریں تھیں۔اسی وقت حماد کی محبت میں دھڑکتے دل نے اس سمجھایا۔

”شاید دانیال کی شدید محبت کے بعد مجھے اپنے محبوب کی ہر بات قابل ِ اعتراض نظر آنے لگی ہے ؟ ضروری تو نہیں کہ ہر کوئی دانیال کی طرح محبت کرے ،اس کا اپنا انداز تھا اور حماد کا اپنا انداز ہے ۔حما د کی محبت تو پہلے بھی اسی طرح تھی ۔ اگر وہ پہلے اس طرح نہ ہوتا تب اس پر شک کیا جا سکتا تھا ۔اب جب کہ اس کی فطرت ہی ایسی ہے تو فطرت بدلنا تو ممکن نہیں ۔ سب سے بڑھ کر وہ اسے عزیز تھا ۔“

”کچھ پوچھا ہے میں ؟“اسے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولا۔

”اگر اس نے طلاق دینے سے انکار کر دیاتو ؟“مسکان نے دماغ میں گردش کرنے والی سوچ کے برعکس سوال پوچھا ۔

”یہ کیسے ہو سکتا ہے ،غریب آدمی ہے کار اور خوب صور ت گھر کا لالچ بھلاکب اس طرح کے نخروں کی اجازت دے گا ؟“

”اسے میں نے ایک دکان بھی بنا کر دی ہے ؟“مسکان نے لقمہ دیا ۔

دکان!…. کب ؟“

”مہینا ہونے کو ہے ۔“

”مجھے نہیں بتایا؟“حماد نے سر سری لہجے میں پوچھا ۔

”ذہن سے نکل گیا تھا ۔اصل میں مقصد یہی تھا کہ میرے طلاق لینے کے بعد اس کی مالی حالت کم از کم ایسی ہونا چاہےے کہ کسی دوسری جگہ شادی تو کر سکے ۔“

”چلو ٹھیک ہو گیا ۔“خلاف توقع حماد نے اس بات پر خفگی ظاہر نہیں کی تھی ۔”اب شاید،اس جھونپڑی میں جانا اسے گوارا نہ ہو؟….یوں بھی اب اسے رشتوں کی کمی نہیں رہے گی ؟“

”اچھا میری طرف سے ماں جی ….کی خدمت میں معذرت عرض کر دینا ،میں آج کچھ زیادہ بد تمیزی پر اتر آئی تھی ۔دانی کو تو تھپڑ تک مار دیا۔“

”واہ !….کیا خوب صورت نک نیم ہے ….دانی ؟“حماد کے لہجے میں طنز کا عنصر نمایاں تھا ۔

وہ خفیف ہوتے ہوئے بولی ۔”بس ماں اسے دانی کہتی تھی۔ میری بھی عادت بن گئی ۔“

”تھپڑ کیوں مارا ؟….دانی کو ؟“حماد نے استہزائی قہقہہ لگایا۔

”روکنے کے لےے مجھے بازو سے پکڑنا چاہااور میں نے تھپڑ جڑ دیا ۔“

”بہت اچھا کیا ….اب کم از کم اس کے دل میں کوئی خوش فہمی جڑ نہیں پکڑے گی ۔“

مسکان نے جھجکتے ہوئے کہا۔”اچھا حادی !….برا نہ مانےے گا لیکن انھیں نرمی سے راضی کرنا ۔“

”بہت ترس آرہا ہے ان پر ؟“وہ طنز سے باز نہ آ سکا ۔

”ہاں ….“مسکان جرا¿ت آمیز لہجے میں بولی ۔”وہ بہت مخلص اور سیدھے سادھے لوگ ہیں۔ آپ یقین کرو اس کی ماں نے کبھی مجھے بیٹی کے علاوہ مخاطب نہیں کیا ۔“

”کہنے اور سمجھنے میں بڑا فرق ہے ؟“

”صحیح کہا ….لیکن وہ بیٹی کہتی ہی نہیں سمجھتی بھی تھی۔“

”اچھا جی !….بڑا افسوس ہوا کہ تم میرے لےے اپنی ماں تک کو چھوڑ کر آ گئی ہو ۔لیکن کیا کریں، یہ تو منہ بولی ماں تھی شوہر کے لےے تو لڑکی کو حقیقی ماں بھی چھوڑنا پڑتی ہے ؟“

”مجھے محسوس ہورہاہے؟….آپ کچھ زیادہ ہی طنز اور طعنوں کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ شاید جناب کے ذہن سے یہ بات نکل گئی ہے کہ میرے اس فعل کے ذمہ دار سراسرآپ خود ہیں ۔نہ تو مجھے دوسری شادی کا شوق تھا اور نہ بچے کا۔“ اس کا مسلسل طنزیہ لہجہ مسکان سے برداشت نہیں ہو ا تھا ۔

حما دکو لگاکچھ غلط ہونے جارہا ہے ۔مسکان کے لہجے میں بغاوت کی بو صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ اس نے جلدی سے پینترا بدلا۔”سوری !….میں مذاق کر رہا تھا ۔“

”آپ کا مذاق ،سر آنکھوں پر ۔لیکن میں کسی ایسی بات پر طعنے برداشت نہیں کروں گی جس کا سبب خود آپ ہوں۔ یہ تو وہی بات ہوئی ۔الٹا چور کوتوال کوڈانٹے۔“

”اٹس اوکے مسکان !….تم تو خفا ہونے کے چکروں میں پڑ گئی ہو ؟“حماد کے ذہن میں فریحہ کا مشورہ تازہ ہو گیا۔اس نے عافیت اسی میں جانی کہ اسے ناراض نہ کرے ۔عورت ذات سے کوئی بعید نہیں ہوتا کہ کس وقت کیا کر گزرے ۔ یوں بھی اسے مسکان پہلے سے کافی بدلی بدلی لگ رہی تھی ۔ لیکن وہ اس تبدیلی کی کسی مناسب توجیہ سے قاصر تھا۔

”اچھا ایک بات کا خیال رکھنا ۔طلاق کا لفظ اس سے منہ سے ضرور کہلوانا۔“

” ٹھیک ہے ،میں اس بات کا خیال رکھوں گا ….اور باقی گپ شپ رات کھانے پر ہوگی ، ابھی میں فریش ہو جاو¿ں؟“وہ جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔

اور مسکان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: