Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 14

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 14

–**–**–

ایک دن میں اس نے کتنا طویل فاصلہ طے کر لیا تھا ۔مسکان کے التفات سے بے رخی ،پیار سے نفرت ،راحت سے وحشت اور سکون سے بے سکونی تک کا سفر چند گھنٹوں میں طے ہو گیا تھا ۔
گزشتہ رات ،اس کی زندگی کی یادگار رات تھی۔مسکان کی وارفتگی اور چاہت بھرے اندازنے جہاں اس کے دل کو سکون و اطمینان کی بخشا تھا، وہیں اس کی چھٹی حس نے بے چینی بھی محسوس کی تھی ۔مگر یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس پر اس طرح کوہ گراں ٹوٹ پڑے گا ۔مسکان کی جدائی کا تصور تو دور دور تک اس کی سوچ میں نہیں تھا ۔
رات کا کھانا زہر مار کرنے کے بعد وہ اپنی خواب گاہ میں گھس آیا ۔جانے والی کی یادیں اس طرح امڈ پڑیں کہ اسے سانس لینا دشوار ہو گیا ۔کمرے میں اس کے معطربدن کی باس رچی تھی اور دل و دماغ پر اس کی من موہنی صورت اور مترنم آواز کا قبضہ تھا۔آج اس پر ہجر و وفراق اور دوری و جدائی کا فلسفہ آشکارا ہوا تھا ۔
سانس چل رہا ہوتا ہے اور جسم بے جان ہوتا ہے ۔نہ بھوک لگتی ہے، نہ پیاس،نیند آتی ہے، نہ کسی کروٹ سکون ملتا ہے ، کھڑے ہوں تو لیٹنے کو دل کرتا ہے اور لیٹیں تو بے ساختہ اٹھ بیٹھنے کو من کرے ۔
”مشی !….خدا را لوٹ آو¿ ،تم جیتیں اور میں ہارا ۔میں قصور وار ہوں ،خطا کار ہوں ، تمھاری قدر نہ کر سکا اور توہین کا مرتکب ہوا ۔یہ سب کچھ مجھے قبول ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی بات ہے تو وہ بھی قبول ہے۔ بس تم لوٹ آو¿۔مجھے ہر سزا منظور ہے سوائے تمھاری جدائی کے ،دوری کے ،بچھڑنے کے ۔“
وہ اٹھ کر ٹہلنے لگا ۔قد آدم آئینے کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ اس کے سامنے رک گیا ۔ اپنی کالی رنگت دیکھ کر اس کی آنکھوں میں مسکان کی شبیہ لہرائی ۔اور ساتھ ہی ذہن میں سوال اٹھا۔
”کیا میری صورت اس قابل ہے کہ مسکان میری کمی محسوس کر سکے ؟“اس کاجواب واضح ،مگر تکلیف دہ تھا۔اس کے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی۔
”اے میرے اللہ !….میں اچھی صورت نہیں مانگتا،بس اسی صورت کو میری مشی کے لےے پسندیدہ بنا دے ۔“ وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ گیا۔عجیب منہ پھٹ اور گنوار آئینہ تھا ۔کسی غریب کا دل رکھنے کو دو جھوٹے بول ہی نہیں بول سکتا تھا ۔
یونھی ٹہلتے ٹہلتے اس کے دل میں حمادکی شکل امید کی کرن بن کر چمکی۔ وہ مسکان کو منانے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا تھا۔اس نے حماد کو کال کرنے کے لےے موبائل فون نکالا مگر وقت دیکھ کر اس کی جرا¿ت نہ ہوئی ،اور اس نے یہ کام صبح تک موخّر کر دیا ۔مگر صبح تھی کہ ہونے میں نہیں آرہی تھی ۔ہجر کی رات کی لمبائی کے قصے زبان زد عام ہیں، مگر اس شب کا عذاب جھیلنے والے بہت قلیل۔اور مسکان کی مہربانی سے وہ بھی ان اقل لوگوں میں شامل ہو گیا تھا ۔گزشتہ شب کی صبح اس نے مو¿ذن سے جتنے گلے کےے تھے آج اتنی ہی منتیں کر رہا تھا ،مگراس ہٹ دھرم نے نہ کل اس کی منت سنی تھی اور نہ آج اس کی آہ و زاری کا کوئی جواب دے رہا تھا۔کھٹورکل تاخیر پر آمادہ نہیں ہوا تھا اور آج آنے پر تیار نہیں ہورہا تھا ۔
یقینا اس شب کی طوالت کو ناپنا کسی عاشق کے بس سے باہر تھا ۔اس کے ذہن میں کسی شاعر کا شعر گونجا۔
طولِ شبِ فراق جو ناپا کبھی غریب
لیلیٰ کی زلف سے رہا دوچار ہاتھ کم
وہ ٹہلتے ٹہلتے تھک گیا،بیٹھے بیٹھے اوب گیا،لیٹے کروٹیں بدلتے تنگ پڑ گیاتو مو¿ذن کو اس پر ترس آیااوردور کسی مسجد میں اللہ پاک کی بڑائی اور عظمت کا اعلان ہونے لگا ۔مقدس آواز ہوا کی لہروں پر تیرتی اس کی سماعتوں تک پہنچی ۔اس نے گہرا سانس لے کر اپنے زندہ رہنے کا یقین کیا ۔
”کاش ….کاش ،مِشی تم میری زندگی میں نہ آئی ہوتیں ؟….کاش کوئی ایسا طریقہ ہو ،کوئی ایسا طلسم ہو ،جو تمھاری یادوں کو مجھ سے دور رکھ سکے ….
کوئی ایسا اسم عظیم ہو
مجھے تیرے دکھ سے نجات دے
اس کی آنکھوں میں غنودگی سی اتری ۔اچانک اسے اپنے ماتھے پر گیلا ہاتھ محسوس ہوااور ساتھ مسکان کی سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی ۔
”دانی!….اب تک لیٹے ہو ؟ نماز نہیں پڑھنی ؟“وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا ۔کمرا اس کے وجود سے خالی تھا ۔ مگر اس کی خوشبو اب بھی موجود تھی۔
”مِشّی پڑھتا ہوں نا ؟“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے وہ واش وم کی طرف بڑھ گیا ۔
٭……..٭
ملازما نے کھانا لگنے کی اطلاع دی اور وہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی ۔حماد پہلے سے وہاں موجود تھا۔
”میں نے سوچا آج بیگم کے ہاتھ کا بنا کھانا ،کھانے کو ملے گا مگرشاید موڈ ٹھیک نہیں تھا میڈم کا؟“
”ہاں ،تھکی ہوئی تھی ۔“طبیعت کی خرابی کے بجائے اس نے تھکن کہنا مناسب سمجھا کہ طبیعت کی خرابی کو حماد پھر دانیال کی جدائی سے جوڑ دیتا ۔
ملازما ،کھانا سرو کر کے باہر نکل گئی ۔حماد نے اپنے لےے سالن نکالا اور کھانے لگا ۔ ایک بار اس کے جی میں آیا کہ اسے کہہ دے ۔”مجھے بھی کھلاو¿….“مگر پھر شرم مانع آگئی ۔ یوں بھی محبت کرنے والوں کو چاہنے کے طریقے نہیں سکھائے جاتے ۔محبت تو ایک اندرونی جذبے کا نام ہے ۔محبوب کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا ، اس سے ہر وقت جڑے رہنا ،اس کی خواہش کو بغیر اس کے کہے سمجھ لینا ،عاشق کو اس کا وجدان سکھا دیتا ہے ۔
”آپ لیں نا سالن؟“حماد، دو تین نوالے لے چکا تھا ،اسے آرام سے بیٹھے دیکھ کر سالن کا ڈونگا اس کی جانب بڑھایا۔
ڈونگا اپنی جانب کھسکا کر اس نے تھوڑا سا سالن لیا اور بے دلی سے کھانے لگی ۔دن کا کھانا بھی وہ نہیں کھا سکی تھی مگر اس کے باوجود اسے کھانااچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
”اچھا سالن بنا ہے ؟“ تعریف کرتے ہوئے وہ پلیٹ میں دوبارہ سالن لینے لگا ۔
”جی ۔“مختصراََ کہتے ہوئے اس نے سالن کی پلیٹ سائیڈ پر کی اور سویٹ کھانے لگی ۔
”میرا خیال ہے دن کا کھاناتم نے لیٹ کھایا ہے ؟“اسے سویٹ کھاتے دیکھ کر وہ مستفسر ہوا ۔
”نہیں…. لیٹ تو خیرنہیں کھایا۔آج کل کھاتی ہی کم ہوں ۔“اس نے بات کو گول مول کیا ۔
وہ مسکرایا۔”اتنی موٹی تو نہیں ہوئیں کہ تمھیں ڈائیٹنگ کی ضرورت پڑے ؟“
”کل کس وقت وہاں جاو¿ گے ؟“وہ مطلب کی بات پر آگئی ۔
”نو بجے اٹھتا ہوں ،ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر دس ساڑھے دس بجے تک پہنچ جاو¿ں گا ۔“
”تو پھر آپ کو اس کی دکان پر جانا پڑے گا ۔وہ قریباََ آٹھ ،ساڑھے آٹھ گھر سے نکل جاتا ہے۔“
”ٹھیک ہے جی !….وہیں چلا جاو¿ں گا ۔“
”اور ہاں ،اسے میں نے بچے کی بابت پتا نہیں چلنے دیا۔ یہ نہ ہو آپ پھوٹ دیں ۔“
”میں کان سے روٹی کھاتا ہوںنا؟“حماد نے خفگی ظاہر کی ۔”مسکان صاحبہ!….مجھے تم سے زیادہ بچے کی ضرورت ہے ۔“
”ہر وقت بجلی کی تار بنے رہتے ہو ؟….کبھی پیار سے بھی بول لیا کرو ۔“
حماد نے منہ بنایا۔”اتنے پیار سے تو پکارا ہے !….مسکان صاحبہ کہہ کر ۔“
”مسکان کے بجائے مِشّی کہہ دیتے ۔“
”واٹ ….؟مِشّی ….؟یہ بھلا کیا نام ہوا ؟….مِشّی ….ہا….ہا….ہا۔“حماد کی ہنسی نے اس کا موڈ آف کر دیا تھا ۔
”میرا خیال ہے ،میں نے لطیفہ نہیں سنایا جو آپ قہقہے لگا رہے ہیں ۔“
”یار مسکان کتنا پیارا نام ہے ۔اور تم مِشّی ….بلکہ مجھے یاد آرہاہے کہ اس نام کی ایک اداکارہ بھی تھی غالباََ اسی سے متاثر ہو کر ہماری بیگم ،مسکان سے مشی بنے پر تلی ہے ؟….مگر وہ تم سے خوب صورت تونہیں تھی ؟“
”اچھا چھوڑو یہ موضوع ….کوئی اور بات کرو ؟“اسے شدت سے احساس ہوا کہ یہ بات کرنا اس کی غلطی تھی ۔ چاہنے والے بتانے کے محتاج نہیں ہوا کرتے ۔
کہیں وہ کالا تمھیں مِشّی کہہ کر تو مخاطب نہیںکرتا تھا ؟“
وہ اس کی تردید یا تائیدکےے بغیر بولی ۔”مجھے امی جان مِشّی کہتی تھیں ؟“
”اچھا سوری ….خفا نہ ہو نا،میں بھی کہہ دیا کروں گا ۔“اس کی ماں کے ذکر پر حماد کو سنبھلنا پڑا ۔
وہ جلے کٹے لہجے میں بولی ۔”تھینک یو ،میں مسکان ہی ٹھیک ہوں ؟“
”او کم آن یا ر!….ہر وقت خفا نہیں ہوا کرتے ؟“
وہ اٹھتے ہوئے بولی ۔”اچھاچلتی ہوں ،نیند آرہی ہے۔“
”اتنی جلدی ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”ہاں ….اور یوں بھی ہمیں دور دور رہنا چاہےے۔شیطان انسان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے۔ جب تک دوبارہ نکاح نہیں ہو جاتا یہ قربت ہمیں کسی گم راہی میں بھی مبتلاکر سکتی ہے ؟“
”اف ….!“حماد دونوں ہاتھوں سے سر تھامتے ہوئے بولا۔”ملانی صاحبہ!….“
وہ زبردستی کی ہنسی ہونٹوں پر بکھیرتی اپنے بیڈ روم میں گھس گئی ۔بیڈ پر لیٹتے ہوئے بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔اس کی سمجھ میںنہیں آرہا تھا کہ وہ خوشی جو اسے اپنے گھر پہنچنے پر ہونی چاہےے تھی وہ کہاں جا چھپی تھی ۔اپنے مطلب میں کامیاب ہونے کے باوجود اداسی کی وجہ کیا تھی ….اسے عظمی اختیارضوکی مختصر سی نظم اپنے حال کے مطابق لگی ….
اداسی بے سبب ہے یا ….
سبب اس کی جدائی ہے ؟
جسے ہم نے حقارت سے ،
نخوت سے بتایاتھا
وفائیں پاس رکھو تم
محبت ،ہم سے نہ ہوگی

”نہیں ….نہیں ،میں اس سے محبت نہیں کرتی ؟“اس نے بے ساختہ اس خیال کو جھٹلایا۔” وہ اگر دیوانہ ہے تو اس بات پر اسے میں نے مجبور نہیں کیا ۔“
وہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر دن کو بھرپور نیند لینے کی وجہ سے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔وہ اپنے حالات پر غور کرنے لگی ۔حماد کی ضد کی وجہ سے اسے ماں بننے کا موقع مل رہا تھا ۔
”کیا ؟حماد اس کے بچے کو ایک باپ کا پیار دے سکے گا ؟“ایک لمحہ سوچنے کے بعد اسے جواب اثبات میں ملا۔اگر اسے بچے کی خواہش نہ ہوتی تو وہ کبھی اسے کسی دوسرے کے حوالے نہ کرتا۔اسے حماد کے الفاظ یاد آئے ۔ ”تمھارا بچہ ، میرا بھی تو بچہ ہوگا۔“
”لیکن پھر بھی اپنا بچہ تو اپنا ہی ہوتا ہے ؟کیا وہ دانیال جتنی چاہت دے سکے گا بچے کو؟“
”ہاں ….کیوں نہیں ؟“حما د کی محبت میں ڈوبا دل بے اختیار بولا۔”وہ خود بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔اس کے لےے تو اپنی بیوی کا بچہ ہی سب کچھ ہوگا؟“
اچانک اس کے دل میں ایک تلخ سی سرگوشی گونجی ۔”دانیال جتنی چاہت تو وہ بچے کی ماں کو نہ دے سکا جو اس کی اپنی محبت ہے ،ایک غیربچے کو خاک دے گا؟“
”محبت صرف دانیال کی طرح دیوانگی کے اظہار کا نام نہیں ہے ؟“اس نے ایسی گھٹیا سوچ کودماغ سے جھٹکنے کی کوشش کی ۔
”تو اور محبت ہوتی کیا ہے؟….محبت دیوانگی کا دوسرا نام ہی تو ہے ؟“غلط سوچ بھی اتنی جلدپیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی۔
وہ تلخی سے بڑبڑائی۔ ”تو ہوتی رہے محبت مجھے کیا ؟….میں نے منت نہیں کی تھی کہ مجھے چاہے ؟ میرے لےے میر ا حماد کافی ہے ۔اس کے علاوہ نہ مجھے کسی کی محبت کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی چاہت کی ؟“
”کیا وہ آسانی سے طلاق دے دے گا ؟“الجھی سوچیں دوسری سمت بہہ پڑیں ۔
”تو کیا ؟“وہ بڑبڑائی ۔”کار ،مکان اور کاروبار چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہو گا ؟“
”مطلب!…. محبت کے وہ سارے دعوے جھوٹ تھے ؟“
اچانک اسے سبکی محسوس ہوئی ۔وہ اسے ڈیڑھ ماہ تک بے وقوف بناتا رہا تھا ۔ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کو دیکھ کر وہ اپنی جان سے پیاری مشی کو طلاق دے دے گا۔اور وہ جو یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ وہ دنیا کی خوب صورت ترین لڑکیوں میں سے ایک ہے ،کہ ایک مرد اس شدت سے اسے چاہتا ہے ۔اور اس چاہنے والے کی چاہت ،کار اور کاروبار کو دیکھ کر بدل جائے گی ۔
”طلاق کی وجہ، وہ توہین بھی تو ہو سکتی ہے جو میں نے ماں بیٹے کی ہے ؟“اس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔اس کے ساتھ اسے بے ساختہ ہنسی آگئی ۔
” اس نے اب تک طلاق تو نہیں دی ؟میں پہلے ہی طے کےے بیٹھی ہوں کہ وہ طلاق دے دے گا ؟“
اس نے خود سے سوا ل کیا۔”تو کیا میں یہ چاہتی ہوں کہ وہ مجھے طلاق نہ دے ؟“
”اگر اس نے طلاق نہ د ی تو میں اپنے محبوب کو کیسے حاصل کروں گی ؟“
”پھر میں کیا چاہتی ہوں ؟“وہ جھنجلا گئی ۔
”میں چاہتی ہوں ….میں چاہتی ہوں ؟“وہ سوچنے لگی ۔”وہ مجھے طلاق دے،لیکن حماد کے کہنے پر نہیں ۔ یہ نہیںکہ اس نے مطالبہ کیاہو، مجھے اتنے پیسے دے گی تو میں اسے طلاق دوں گا ؟“
”کچھ بھی کہے بس مجھے طلاق دے دے ۔“حماد کی محبت میں دھڑکتے دل نے حتمی فیصلہ سنایا۔اوروہ لائیٹ بجھا کر سونے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر لائیٹ کے آف ہوتے ہی اسے شدت سے بیڈ کے خالی ہونے کا احساس ہوا ۔جانی پہچانی خواہشیں انگڑائی لے کر بیدار ہوئیں ۔ لطیف جذبوں نے لوہے کی طرح ٹھوس اور مضبوط بدن کو بے قرار ہو کر پکارا۔اس کے سر کو تکیہ اجنبی اجنبی محسوس ہوا، گردن کسی مضبوط بازو کی متلاشی ہوئی، چہرے کو کھردرے ہونٹوں کی بے طرح یاد آئی، ناک وحشی اورگرم سانسوں کی پھوار سونگھنے کو بے تاب ہوئی ،دونوں ہاتھ چٹانی سینے کے لمس کو ترسے اور وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی ۔اس کے تنفس کی رفتا ر تیز ہو گئی تھی۔ لائیٹ جلا کر وہ فرج کی طرف بڑھ گئی اگلے لمحے ٹھنڈے پانی کی بوتل منہ سے لگائے وہ تشنہ خواہشات کو رام کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پانی پی کر وہ ٹہلنے لگی ۔ اسے بیڈ سے ڈر لگنے لگا تھا۔
اچانک اس کے دل میں حماد کے پاس جانے کا خیال پیدا ہوا۔ وہ اس کا شوہرہی تو تھا ۔ اور اسی کی مدد سے وہ اس کالے جادو گر کے سحر سے چھٹکارا پا سکتی تھی۔اس نے نگاہ اٹھا کر بیڈ روم کے بند دروازے کو دیکھا اور اسی لمحے اس پر ندامت کی کیفیت طاری ہوئی ۔وہ شرعی طور پر دانیال کے بارے تو سو چ سکتی تھی مگر حماد فی الحال اس کے لےے غیر تھا ۔ندامت کا احساس کم کرنے کے لےے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی تھوڑی دیر بعد وہ وضو کر کے مصلے پر کھڑی اپنے پاک پروردگار کے حضور سر بہ سجود تھی ۔وہی رحیم و کریم ذات اسے گناہ کے خیال سے بچنے کی طاقت اور قوت عطا فرما سکتی تھی۔نوافل پڑھ کر اسے ذہنی سکون اور آسودگی حاصل ہوئی ۔ جائے نماز لپیٹ کر اس نے دوبارہ سونے کے ارادے سے بیڈ کا رخ کیا ،لیکن اس مرتبہ اس نے لائیٹ بجھانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
تھوڑی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد اسے نیند کی آغوش میں پناہ مل گئی ۔مگر پراگندہ خیال اور الجھی سوچوں نے نیند میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑا۔مختلف پرچھائیاں اس کے تصور میں سرگرداں رہیں۔پھر آہستہ آہستہ ان پرچھائیوں نے واضح شکل اختیار کی ۔حماد کا ہنستاہوا چہرہ اس کے سامنے آیا۔
”یقین کرو مسکان اس نے تو سکون کا سانس لیاکہ اس مزدوری سے جان چھوٹی ۔بہت شکر گزار تھا ہمارا ۔شاید تمھارا شکر اداکرنے کے لےے یہاں بھی آئے ؟“
”اچھا ….اتنی آسانی سے اس نے طلاق دے دی ؟“مسکان نے بہ ظاہر خوشی سے کہا ۔
”ہونہہ !….آسانی ….کہہ رہا تھا اگر میں نہ آتا تو وہ خود پہنچ جاتا۔بیگم صاحبہ !….دولت کا نشہ ایسا نہیں کہ اس کے مقابل کسی اور کو چیز کو اہمیت دی جا سکے ؟“
وہ آہستہ سے بولی ۔”صحیح کہا۔“اسی وقت منظر بدلا ۔دانیال سلام کرتے ہوئے اس کے سامنے آیا ۔
”سلام بیگم صاحبہ !….؟“
مسکان کو اس کے چہرے پر جھینپی جھینپی اور ندامت بھری مسکراہٹ نظر آئی ۔
”جی محترم!…. تشریف آوری کا مقصد ؟“مسکان کو اس کے جھوٹے مکالمے یاد آئے ۔
”آپ کی مہربانی سے، آج مجھے یہ مقام ملا۔میں نے سوچا آپ کا شکر یہ ادا کر دوں ؟ امی جان بھی آپ کی بہت زیادہ شکر گزار ہیں ۔“
”اوکے تھینکس !….“وہ بیزاری سے بولی ،اور وہ ایک بار پھر مووّبانہ انداز میں سلام کہتا ہوا باہر کی طرف مڑا مگر دروازے سے جھانک کر پھر واپس آگیا۔
”مِشّی !….تمھاری قسم میں مجبور تھا ،میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، مگر حماد صاحب نے مجھے دھمکی دے کر مجبور کیا؟“ اس کی آواز سرگوشی سے بلند نہیں تھی ۔
”مت کہو مجھے مشی ۔“وہ غصے سے پھٹ پڑی تھی ۔اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے دانیال اس قدر برا اور مکار کیوں لگ رہا تھا ۔وہ خود طلاق لینا چاہتی تھی اور اس نے اس کی خواہش ہی پوری کی تھی ۔ اس کا دانیال کے گھر کو چھوڑ کر آجانا ٹھیک تھاتو دانیال کا طلاق دینا کیسے برا ٹھہرایا جا سکتا تھا ۔
”پلیز میری بار سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
”کیا سمجھنے کی کوشش کروں ؟….اور کون سی دھمکی دی ہے حماد نے تمھیں ؟ذرا میں بھی سنوں۔“
”وہ کہہ رہا تھا ،کہ اگر میں نے طلاق نہ دی تو وہ کار ،مکان اور دکان مجھ سے واپس لے لے گا۔“
”اف !….اتنی سخت دھمکی ۔“وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔
”مشی !….میں غریب ……..“
”شٹ اپ !….وہ غصے سے دھاڑی۔
”شٹ اپ نہ کہو۔“دانیال نے جرا¿ت مندانہ لہجے میں کہا۔”مجھے اسی وقت دس لاکھ کا چیک کاٹ کر دو ورنہ میں اپنی طلاق واپس لے لوں گا۔“
” طلاق دے کر کیسے واپس لی جا سکتی ہے ؟“
”ہا….ہا….ہا۔“دانیال نے بھیانک آواز میں قہقہہ بلند کیا ۔”میں جب طلاق نامے پر دستخط کروں گا تو طلاق ہو گی نا سیٹھ زادی !….تمھارا کیا خیال ہے اتنی آسانی سے تمھاری جان چھوٹ جائے گی…. اب تک تو میں اپنے ہونے والے بچے کے پیسے نہیں مانگے ۔کم از کم پچاس لاکھ روپے بچے کے ادا کرنے پڑیں گے، نہیں تو بچہ میرا ہوگا۔“
”تم یہاں سے دفع ہوتے ہو یا بلاو¿ں نوکروں کو۔“
اچانک دانیال کے چہرے پر بدحواسی کے اثرات نمودار ہوئے اور وہ اس کے قریب آکر ہاتھ باندھتا ہوابولا۔”پلیز مِشّی !….مجھ سے دور نہ جاو¿،تمھاری قسم میں نے طلاق نہیں دی ۔ حماد تمھیں جھوٹا طلاق نامہ دکھا رہاہے ۔میں بھلا تمھیں طلاق دے سکتا ہوں ۔مجھے اور کچھ نہیں بس تمھاری محبت درکار ہے ۔چلو مشی ، ابھی یہاں سے بھاگ جاتے ہیں بہت دور ،اتنی دور کہ جہاں حماد پہنچ سکے اور نہ کوئی دوسرا دشمن ۔“ یہ کہہ کر دانیال نے اسے پکڑ کر سینے سے لگا لیا ۔
وہ منمنائی ۔”پلیز چھوڑو مجھے کوئی آ جائے گا ۔“
”تو آتا رہے ۔تم غیر تھوڑی ہو ؟میری شرعی بیوی ہو۔“
وہ غصے سے بولی ۔”طلاق کے بعد میں بیوی کیسے رہی ۔“
”طلاق تو صرف ایک دن کے لےے دی تھی نا۔ہمیشہ کے لےے تھوڑا دی تھی ۔ بس اب واپس لے لیتا ہوں۔“
”نہیں اب میں حماد سے شادی کر رہی ہوں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”تم اس طرح نہیں کر سکتیں،میں تمھیں جان سے مار دوں گا ۔“اس نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے اس کا گلا پکڑ لیا،اس کا دم گھٹنے لگا ۔
”چھوڑو مجھے ….ذلیل ،وحشی ،کمینے ۔“اس کے منہ بہ مشکل نکلا۔
”نہیں چھوڑو ں گا۔“دانیال غرایا۔اسی وقت حماد کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھ کر مسکان چلائی ۔
”حما د !….مجھے اس سے بچاو¿۔“
مگر وہ بجائے اس کی مدد کے دانیال کے ساتھ مل کر اس کا گلا دبانے لگا۔وہ ان دنوں کے ہاتھوں سے نکلنے کے لےے زور سے مچلی ۔اور اس کی آنکھ کھل گئی ۔ خوف سے اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔اس کے بعد اسے نیند نہ آسکی اوروہ اسی اوٹ پٹانگ خواب کے بارے سوچتی رہی ۔
٭……..٭
ناشتا کرتے ہوئے دانیال کے موبائل فون کی گھنٹی بجی ۔سکرین پر چمکتا نام پڑھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھل گئی ۔کال رسیو کرتے ہوئے وہ چہکا ۔
”جی دانیال صاحب !….کیسے یاد فرمایا؟“
مسکان سامنے بیٹھی بڑے غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دانیال کا نام سنتے ہی چونک گئی ۔
دانیال نے کہا۔”حماد بھائی !….مم ….مجھے آپ سے ایک بہت ضروری کام ہے۔“
”اچھا اس وقت میں مصروف ہوں ،تھوڑی دیر تک میں تمھاری طرف آرہا ہوں پھر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔“
”ٹھیک ہے بھیا۔“اس نے دھیرے سے کہا ۔اور۔”خدا حافظ۔“کہتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
”کیا کہہ رہا تھا؟“مسکان نے بے تابی سے پوچھا ۔
حما د نے ہنستے ہوئے کہا۔”آپ کے گلے شکوے محترما!“
”پھر بھی ؟“وہ حماد کے الفاظ جاننے کے لےے مصر ہوئی ۔
”کچھ نہیں جی !….اسے مجھ سے کوئی ضروری کام درپیش ہے ۔اب وہاں جا کر پتا چلے گا کہ وہ ضروری کام کیا ہے ؟“
”مطلب وہ گھر میں آپ کا منتظر ہو گا۔“
”ہاں !….دکان کا تو اس نے ذکر ہی نہیں کیا ۔“
اور مسکان اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہوگئی ۔
ناشتے کے بعد حماد نے تھوڑی دیر مسکان سے گپ شپ کی اور پھر اٹھتا ہوا بولا ۔
”ٹھیک ہے مسکان ….بلکہ وہ کیا کہتے ہیں مشی صاحبہ!….اگر اجازت ہو تو میں محترم دانیال صاحب کے کردار کو حتمی شکل دے آو¿ں۔“
”یہ بھونڈا مذاق چھوڑو اور سنو !….اگر وہ زیادہ آئیں بائیں کرے تو کچھ رقم کی بھی پیش کش کر دینا اور آج ہی طلاق نامہ سائن کرا لینا۔یہ نہ ہو بعد میں اس کے کانوں میں کہیں سے بچے کی بھنک پڑ جائے اور کوئی دوسری مصیبت جھیلنی پڑے ۔“
”ویسے میں دیکھ رہا ہوں ،آج کل کچھ زیادہ ہی نازک مزاج ہو گئی ہو ۔“حماد کو اس کا بھونڈا مذاق کہنے والا فقرہ بہت برا لگا تھا ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”نہیں ….بلکہ آپ کی محبت میں فرق آ گیا ہے۔“
”اچھا واپسی پر بات ہو گی ۔“حماد نے فضول موضوع پر وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا ۔یوں بھی مسکان کے دن گنے جا چکے تھے اور قربان ہونے سے پہلے اتنا حق تو بنتا تھا کہ اس کی ہر بات برداشت کی جائے ۔
آدھے گھنٹے بعد اس کی کار دانیال کے گھر کے سامنے رک رہی تھی ۔وہ شدت سے اس کا منتظر تھا ۔ اس کے دستک دینے سے پہلے دروازہ کھل گیا ۔یقینا وہ صحن میں ٹہلتے ہوئے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
”اسلام علیکم حماد بھائی !….“اس نے خوش دلی سے حماد کا استقبال کیا ۔مگر اس کے چہرے پر منڈلاتے غم کے بادل ،حمادکو واضح طور پر نظر آ گئے تھے ۔ اسے لگا کہ ،جس کام کے لےے وہ آیا ہے، شایدوہ اتنا آسان ثابت نہ ہو ۔ ساتھ ہی اس کے دماغ میں مسکان کے الفاظ بھی گونجے۔
”اگر زیادہ آئیں بائیں کرے تو کچھ رقم کی بھی آفر کر دینا ۔“ گویا وہ کمینی اچھی طرح جانتی ہے کہ دانیال اس کے عشق میں گرفتار ہے ۔
’آئیں بھیا !….وہ اسے لے کر سیدھا اپنے کمرے میں پہنچا ۔عائشہ بھی اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کچن میں چاے بنانے گھس گئی ۔
”ہاں جناب !….اب بتائیں کیا مسئلہ ہے ؟“حماد نے نشست سنبھالتے ہوئے گیند دانیال کے کورٹ میں پھینکی ۔
دانیال مضطرب انداز میں ہاتھ مروڑتے ہوئے بولا ۔”بھیا !میری سمجھ میں نہیں آرہابات کہاں سے شروع کروں ۔“
”یار !….تم ایسے پریشان ہو رہے ہو جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ پیش آگیا ہو۔“
”حادثہ تو پیش آ گیا ہے نا بھیا !….مم….مسکان مجھ سے خفا ہو کر یہاں سے چلی گئی ہے ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“حماد نے ایک فہمائشی قہقہہ لگایا۔”اللہ کے بندے ،یہ کوئی ایسی بات ہے کہ اس پر افسوس کیا جائے۔مسکان سے ہزار گنا زیادہ خوب صورت اور دلکش لڑکیاں موجود ہیں ….
ع وہ نہیں سہی اور سہی اور نہیں اور سہی ۔
”نہیں بھیا !….اب اس کے بغیرکوئی نہیں ۔“
”پاگل نہ بنو ۔“حماد نے اسے جھڑکا ۔”تمھارا کیا خیال ہے یہ قیمتی زندگی ایسی ہے کہ کسی بے وفا کے انتظار میںتیاگ دی جائے ۔“
دانیال کی آنکھوں میں نمی ظاہر ہوئی ۔”بھیا !….وہ بے وفا نہیں ہے۔….مجھے شک ہے اسے کوئی مجبوری ہے۔ اب کیا مجبوری ہے اس سے میں واقف نہیں ۔“
”کوئی مجبوری نہیں ہے اسے ۔عیاش سیٹھ زادی ہے ،جو دل میں آئے کر گزرتی ہے ۔یاد ہے نا، میں نے تمھیں روک کر شادی کی آفر کی تھی ۔“دانیال کے سر ہلانے پر اس نے بات جاری رکھی ۔ ”تمھارے بارے اس نے مجھے خود بتایا تھا، کہ میں نے اس سے شادی کرنی ہے ۔ مجھے پتا تھا کہ وہ مستقل مزاج نہیں ہے ،جلد ہی قطع تعلق پر اتر آئے گی ۔لیکن اس کے ساتھ مجھے یہ خیال بھی تھا ،کہ غریب آدمی کا کچھ نہ کچھ بھلا ضرورکر جائے گی ۔ اب دیکھو ….یہ خوب صورت مکان ، کار اور ایک قیمتی دکان تمھارے حوالے کر گئی ہے اور کیا چاہےے تمھیں ۔اب اللہ کا نام لے کر کسی اچھے خاندان میں شادی کر لو اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرو ۔“
اسی وقت عائشہ خاتون نے چاے کے برتن لاکر ان کے سامنے رکھے اور خود کمرے سے نکل گئی ۔ وہ جہاںدیدہ عورت جانتی تھی کہ اس کی موجودی میں وہ کھل کر بات چیت نہیں کر سکیں گے۔
دانیال نے چاے کا کپ بنا کر اس کی سمت بڑھاتے ہوئے کہا۔”وہ ایسی نہیں ہے بھیا !…. وہ ایک دین دار عورت ہے، اسے عیاش سمجھنے کی غلطی میں کیسے کر سکتا ہوں۔“
”دانیال میاں !….وہ کیا کہتے ہیں ؟….ہاتھی کے دانت، کھانے کے اور ،دکھانے کے اور….“
”نہیں بھیا !….وہ بہت اچھی ہے ،غلطی میری ہے ۔مجھے ایسا نہیں کہنا چاہےے تھا ۔“
”اچھا کیا بات ہوئی تھی ؟“حماد نے بہ مشکل غصہ ضبط کر کے پوچھا ۔
جواباََسارا واقعہ دہراکر دانیال نے کہا ۔
”اسے لگا کہ میں اس پر شک کر رہا ہوں ۔اور یہ تہمت وہ برداشت نہ کر سکی ۔حالانکہ بہ خدا میرا یہ مقصد بالکل نہیں تھا ۔“
”بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔لیکن اصل بات سے تم ناواقف ہو ۔چور بندہ یونھی کرتا ہے۔وہ اس وقت اپنے پہلے شوہر سے بات کر رہی تھی ۔اور تمھاری اطلاع کے لےے عرض ہے کہ وہ دوبارہ اس کے ساتھ شادی کرنا چاہ رہی ہے ۔تمھارے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بارے وہ تم سے پہلے مجھے بتا چکی ہے ۔ اور جو الفاظ اس نے تمھارے لےے استعمال کےے ہیں….وہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔مختصر یہ کہ اب اس نے طلاق لازماََ لیناہے ۔بہ قول اس کے اگر تم ایسے نہ مانے تو ہ یہ سب کچھ بھی واپس لے لے گی اور عدالت کے ذریعے خلع حاصل کرلے گی ۔اب تمھاری مرضی ، پرانی زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہو یا اس پُرآسائش زندگی کو انجوائے کرنا چاہتے ہواور ہاں اگر شادی وغیرہ کے لےے کچھ اور رقم درکار ہو تو چند لاکھ تک اس بگڑی رئیس زادی سے حاصل کر لینا کوئی مشکل نہیں ہے۔“
آخری امید بھی دانیال سے چھن گئی تھی ۔اس نے سوچا تھا کہ حماد آسانی سے ان کی صلح کرا دے گا مگر حماد نے تواس کے پاو¿ں تلے زمین بھی نکال دی تھی ۔ جو نقشہ اس نے مسکان کے کردار کو کھینچا تھا اس پر دانیال مر کر بھی یقین نہیں کر سکتا تھا ۔مگر اس کے ساتھ حماد کو جھٹلانے کی بھی کوئی وجہ موجود نہیں تھی ۔چند لمحے سوچنے کے بعد وہ دھیرے سے بولا۔
”حماد بھیا !….میں اسے طلاق نہیں دے سکتا ،یہ میرے بس سے باہر ہے ۔میں نے ایسا کیا تو مر جاو¿ں گا ۔وہ میری زندگی ہے ۔پلیز مجھے ایک دفعہ اس کے سامنے لے جاو¿ ،میں اسے منا لوں گا ۔میں جانتا ہوں وہ بہت نرم دل ہے ،میری مشی ایسی نہیں ہے جیسی آپ سمجھ رہے ہیں ۔“

”اف !….“حماد نے سر پکڑ کر کہا ۔”دانیال میاں !….کن خوابوں کی دنیا میں رہتے ہو ۔وہ تمھاری صورت دیکھنے کی روادار نہیں ہے ۔یہ تو میں نے تمھیں سمجھانے کے لےے نرم الفاظ کا سہارا لیا ورنہ تو اس نے جو کچھ تمھارے بارے بکا ہے ،وہ سب کہنے کی جرا¿ت میں اپنے اندر مفقود پاتا ہوں ۔کالا کلوٹا،جاہل ، گنوار ، بدتہذیب، بے عقل ، ان پڑھ اور جانے کیا کیا ۔میرے بھائی سمجھنے کی کوشش کرو ۔اس نے تو یہ بھی کہا ہے اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔ ایک دفعہ بتا دو، اگر نہ مانے تو دھکے دے کر گھر سے نکال دو ،کار بھی چھین لو ۔اورساتھ یہ بھی بتا دو کہ اگر تم نے دوبارہ دکان پر قدم رکھا تو جیل کی ہوا کھائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ باقی جہاں تک طلاق کا تعلق ہے ،وہ اسے عدالت سے بھی مل جانا ہے ….ان سیٹھوں کے لےے جج کو خریدنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ۔“
یہ سب سن کر دانیال کا رنگ اڑ گیا تھا ۔وہ ہکلایا….
”کک ….کیا سچ مچ ….اس نے ایسا کہا؟“
”نہیں ….اس سے بھی کچھ زیادہ بکا ہے ۔“حماد نے کامیاب اداکاری کی ۔
ایک لمحہ سوچنے کے بعد وہ اٹھااورلڑکھڑاتے قدموں سے باہر چل دیا حماد نے سوچا وہ ماں سے مشورہ کرنے جا رہا ہے ۔ اسے یقین تھا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب لوٹے گا ۔
عائشہ برامدے میں حسرت و یاس کی تصویر بنی کھڑی تھی ۔دانیال اس کے قریب جا کر رندھے لہجے میں بولا ۔ ”امی جان!…. سامان باندھ لو ،ہمیں یہاں سے جانا ہے ۔“
”جی بیٹا !….“کہہ کر وہ بغیر کسی استفسارکے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔دانیال واپس اپنے کمرے میں لوٹا۔ اور حماد کو بولا۔
”بھیا !….یہ لو کار اور گھر کی چابیاں ۔جبکہ دکان کی چابی ملازم کے پاس ہے ۔“
”کیا مطلب ؟“حماد کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئیں تھیں ۔
”بھیا !….کوٹھی ،کار اور کاروبار عزت سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔مجھے کسی کی بھیک میں دی ہوئی شاہی نہیں چاہےے ۔ وہ کیا کہتے ہیں ….
ع مانگنے والا گدا ہے صدقہ مانگے یا خراج۔
آج کے بعدہم یہاں نظر نہیں آئیں گے ۔سامان وغیرہ چیک کر لینا یہ نہ ہو بعد میں ہم پر چوری کا الزام دھر دو۔“
”تم بہت بڑی بے وقوفی کے مرتکب ہو رہے ہو۔“حمادششدر رہ گیا تھا۔دولت کے پجاری کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ کوئی ایسے بھی دولت کو ٹھوکر مار کر جا سکتا ہے ۔
”نہیں بھیا !….بے وقوفی ہم سے پہلے ہوئی ہے۔جو مسکان کے جانے کے بعد بھی یہیں پڑے رہے ۔ اور بہ خدا ہم صرف اس لےے یہاں ڈٹے ہوئے تھے کہ وہ لوٹ آئے گی ۔“
”اچھا طلاق دینے کے بارے کیا سوچا ہے ؟“
”میں اسے طلاق نہیں دوں گا ،کبھی بھی نہیں دوں گا ۔اگر وہ عدالت سے خلع لیتی ہے تو دس دفعہ لے ۔ عدالت طلاق لینے کی وجہ تو دریافت کرے گی نا ، اسے میرا قصور بتانا پڑے گا ۔ اسے یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اگر میں اس کے لےے اتنا کراہیت امیز،بدصورت اور گنوار تھا تو مجھ سے شادی کیوں کی تھی ۔اور اگر غلطی ہی سے کر لی تھی تو ڈیڑھ ماہ تک کیوں میری زندگی میں اجالا بکھیرتی رہی۔“
”او اللہ کے بندے !….تمھیں اس سے ہزار گنا زیادہ خوب صورت لڑکیاں مل جائیں گی ۔ بلکہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک اچھے خاندان میں تمھا رارشتا کراو¿ں گا۔“
وہ حتمی لہجے میں بولا۔”اب میں نے شادی نہیں کرنی بھیا!….“
حماد نے بہ مشکل اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔”تو کیا اس بے وفا کے لےے اپنی زندگی برباد کر لو گے ؟“
”ہاں ….اس کے لےے کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔“
حماد کی سمجھ میںنہیں آرہا تھاکہ کیسے اس بے وقوف کو سمجھائے۔اس کی نظر میں مسکان نہایت عام سی لڑکی تھی ۔ اس کی خوب صورتی اس درجے کی نہیں تھی کہ کسی کو یوں ہوش و خرد سے بیگانہ کر سکے ۔مگر دانیال کی باتوں نے اس کی غلط فہمی دور کر دی تھی ۔کوئی مسکان کو اتنا بھی چاہتا تھا،کہ جتنی محبت وہ فریحہ سے بھی نہیں کرتا تھا ۔ اس نے آخری کوشش کے طور پر کہا۔
”بے وقوف !….وہ غصے میں آکر تمھارا کوئی نقصان بھی کر سکتی ہے ۔“
دانیال نے ہلکے سے مسکرایا۔
پیار کرنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا؟
جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے
کہہ کر اس نے الماری کھولی ۔مسکان کے کپڑوں سے اس کے مہکتے بدن کی باس اس کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔ اس کے کپڑے وہ ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا ۔ اپنی مشی کی کوئی نشانی ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا۔ایک لمحے کے لےے اس کے جی میں آیا کہ حماد کو کہہ کر مسکان کے کپڑوں کا ایک سوٹ تو ساتھ رکھ لے ۔ اسے سخت بے بسی کا احساس ہوا ۔اور جب بہت مجبور ہو کر اس کے ہونٹ حماد کی منت کرنے کے لےے لرزنے والے تھے مالک ارض و سما نے اپنے تہی دامن بندے کی لاج رکھ لی۔اس کی نظرسرخ رنگ کے لباس پر پڑی جو مسکان نے پہلی رات زیبِ تن کیا تھا۔ ۔ اور پھر دھوے بغیر الماری میں لٹکا دےا تھا ۔کپڑوں کا وہ جوڑا اسے دانیال کی ماں ہی نے دیا تھا ۔اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا ۔جان حیات کی وہ قیمتی نشانی اس کے بے قرار دل کو کچھ نہ کچھ سہارا تو دے سکتی تھی۔اس نے وہ کپڑے ہینگر سے نکالے اور لپیٹ کر شاپر میں ڈالنے لگا ۔
حماد ہونٹ کاٹتا اسے گہری نظروں سے گھور رہا تھا ۔
”بھیا !….یہ کپڑے امی نے دےے تھے مسکان کو ۔اب جبکہ وہ ہمارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو ہم یہ کپڑے اسے کیوں دیں ؟“
سخت غصے میں ہونے کے باوجود حماد کو ہنسی آگئی ۔وہ تھرڈ کلاس کپڑے پتا نہیں مسکان نے پہنے کیسے تھے ۔شاید ان کا دل رکھنے کے لےے پہن لےے تھے ۔ اور اب وہ جوڑا دانیال صاحب واپس لےے جا رہا تھا، گویا وہ مر ہی تو جائے گی ان کپڑوں کے لےے۔
اس وقت اگر اس کے پاس دیکھنے والی نظر ہوتی تو اسے پتا چلتا ،کہ وہ آدمی جو ساری آسائشوں کو ٹھوکر مار کر جا رہا ہے اس کے لےے ایک عام سے لباس کی اہمیت ،قیمت کی وجہ سے نہیں اسے پہنے والی کے بدن کے لمس کی وجہ سے تھی۔
اسی وقت عائشہ نے آکر کہا ۔
”بیٹا !….سامان باندھ لیا ہے میں نے ۔“
”ٹھیک ہے امی جان!….“دانیال نے گھر سے لائے ہوئے کپڑوں کے دو سادہ لباس شاپر میں ڈالے ۔قیمتی جوتے اتار کر وہیں رکھے اور پلاسٹک کی چپل پاو¿ں میں ڈالتا ہوا حماد کومخاطب ہوا….
”حماد بھیا !….کوئی غلطی ہو تو معاف کر دینا ۔میں جانتا ہوں آپ کے بس میں نہیں ہے ، ورنہ ضرور ہماری صلح کرادیتے ۔ باقی آپ کی سیٹھ زادی کا بخشا سارا سامان میں نے یہیں چھوڑ دیا ہے ۔آپ ہماری تلاشی لے سکتے ہیں ۔“
”دانیال !….اب بھی سوچ لو وقت ہے ۔بلکہ یوں ہے یہیں رہ جاو¿ ، کل تک خوب سوچ لو۔“
”بھیا !….کل سے سوچ ہی رہا ہوں ۔اگر ساری عمربھی سوچتا رہا تب بھی ارادہ بدلی نہیں ہوگا۔“
”آنٹی !….آپ ہی اسے سمجھائیں۔“حماد نے عائشہ کا سہارا لینا چاہا ۔وہ خبطی تو کسی طور مان ہی نہیں رہا تھا ۔ اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ مسکان کیوں بار بار اس کے طلاق نہ دینے کی اور اسے دولت کا لالچ دے کر راضی کرنے کی بات کر رہی تھی ۔
”بیٹا!….اللہ پاک تمھیں خوش و خرم رکھے ۔میں کیا سمجھاو¿ں جوان اولاد کو،یہاں رہے گا تو میں نے گھر کا کام کاج کرنا ۔کہیں اور لے جائے گا تو میں نے گھرہی سنبھالنا ہے ۔باہر سے کما کر لانا اس کی ذمہ داری ہے ۔“
یہ کہہ کر اس نے حماد کے سر پر ہاتھ رکھا ۔دانیال نے اس سے الوداعی مصافحہ کیا اور دونوں ماں بیٹا چل پڑے ۔ گھر سے باہر قدم رکھتے وقت دانیال کا دل رقت سے بھر گیا تھا ۔وہ گھر اسے بہشت لگتا تھا ۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ قیمتی تھا ۔ بلکہ اس وجہ سے کہ اس کی مشی کے قہقہے اس گھر میں گونجتے رہے تھے،اس کی خوشبو اس گھر کے کونے کونے میں پھیلی تھی ۔اس کی یادیں چار سو بکھری تھیں ۔اس نے بڑی مشکل سے آنسوو¿ں کو روکا ہوا تھا ۔ ماں ساتھ نہ ہوتی تو شاید وہ دھاڑیں مار مار کر روتا مگر اس وقت اس کی ماں ساتھ تھی اوروہ جانتا تھا کہ اس کے رونے سے ماں کو تکلیف ہونا تھی ۔اس نے مڑ کر آخری نگاہ صحن پر ڈالی اسے برآمدے کے ستون کے ساتھ ٹیک لگائے مسکان نظر آئی ۔اسی جگہ کھڑے ہو کر وہ اسے دکان پر جانے کے لےے رخصت کرتی تھی۔
حماد حیرانی سے انھیں رخصت ہوتے دیکھتا رہا ۔ زندگی میں پہلی باراس کا واسطہ ایسے بے وقوفوں سے پڑا تھا ۔ اس کا شاطر ذہن دانیال سے طلاق نامہ سائن کرانے کے طریقے کے بارے سو چ رہا تھا۔اچانک اسے فریحہ کی آفر ،یاد آئی ۔
”ہاں!…. فری کی شکل و صورت ہی ایسی ہے کہ وہ آسانی سے اس بے وقوف کو طلاق نامے پر سائن کرنے پر راضی کر سکتی ہے ۔“اس کے ہونٹوں زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ کمروں کے دروازے لاک کرنے لگا۔ آخر مسکان کی ساری جائیداد اس کی اپنی ہی تو تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: