Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 15

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 15

–**–**–

مسکان بڑی شدت سے حماد کی منتظر تھی ۔اپنے اضطراب کو کم کرنے کے لےے اس نے مطالعے کا سہار لیا ،مگر نظریں کتاب کے صفحات پر اور سوچیں کہیں اور سرگرداں تھیں۔تنگ آ کر اس نے کتاب بند کی اور اٹھ کر ٹہلنے لگی ۔حمادکی کار گھر میں داخل ہوتے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔اور جونھی وہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوا ، اس نے بے تابی سے پوچھا۔

”طلاق دے دی اس نے ؟“

”یار !….وہ تو بالکل ہی احق اور بے وقوف آدمی ہے ۔“حماد نے دانیال کی بے وقوفی کو کوسا ۔

”طلاق تو دے دی ہے نا ،اس نے ؟“مسکان نے سوال دہرایا ۔

”نہیں ….“حماد نے نفی میں سر ہلایا۔

مسکان کو بے پایاں خوشی کا احساس ہوا ۔اسے خود سمجھ میںنہیں آ رہا تھا کہ طلاق کے حصول کے لےے بے چین ہونے کے باوجود اس خبر پراسے خوشی کیوں ہورہی تھی ۔اپنی خوشی پر حیرانی کا پردہ ڈالتے اس نے پوچھا ۔

”مگر کیوں ؟“

”بتایا تو ہے احمق ہے ۔ “حماد نے اس کی لو سٹوری سنانے سے گریز کیا۔

”آپ نے اسے سمجھایا تو تھا نا ۔“

”بہت زیادہ ۔“

”گھر سے نکالنے کی دھمکی دینا تھی ۔“

”یہ لو گھر اور کار کی چابیاں ۔“اس نے کار اور گھر کی چابیاں نکال کر ٹیبل پر رکھ دیں ۔

”کک….کیا….مطلب وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں ؟“مسکان کودلی دکھ ہوا تھا ۔

”ہاں ….اور بے وقوفی کی حد دیکھو ،اتنی آسائشوں کو ٹھوکر مار کر جا رہا تھا ،لیکن کپڑوں کا ایک گھٹیا جوڑا اٹھا کر لے گیا ۔محترم فرما رہا تھا،یہ کپڑے مسکان کو ہم نے لے کر دےے تھے ۔ ہا….ہا….ہا۔ہے نا لطیفہ ۔“ حماد نے قہقہہ لگایا۔کے

مسکان کو محسوس ہوا کہ اس کے دل کو کوئی مٹھی میں لے کر دبا رہا ہے ۔اسے یہ جاننے میں دیر نہ لگی کہ وہ کیوں اس کے استعمال شدہ کپڑے اٹھا کر لے گیا ہے ۔حالانکہ شادی کے دوسرے تیسرے دن اس نے مسکان سے معذرت چاہتے ہوئے کہا تھا ۔

”مِشّی !….میں جانتا ہوں ،سہاگ رات کے کپڑے تمھارے معیار سے بہت گرے ہوئے تھے ۔ لیکن تم نے انھیں پہن کر بڑے پن کا ثبوت دیاہے ۔اگر تم یہ نہ پہنتیں تو شاید امی جان اپنی نظروں سے گر جاتی ۔“

ایسا گھٹیا لباس وہ صرف اپنی مشی کی یادگار کے طور پر اٹھا کر لے گیا تھا ۔

”آپ نے مزید پیسوں کی آفر کی تھی۔“مسکان کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

”ہاں ….“حماد نے اثبات میں سر ہلایا۔

”تو اب کیا کریں ؟“اس نے پریشانی ظاہر کی ۔مگر حیرانی کی بات یہ تھی کہ اسے دل میں دور دور تک پریشانی کا گزر نظر نہ آیا ۔اسے یہ اطمینان حاصل ہو گیا تھا کہ دانیال کے مکالمے جھوٹے نہیں تھے ۔ وہ واقعی کسی کے لےے اتنی اہم تھی ۔گو اس کی چاہت میں پہلے بھی کوئی شبہ نہیں تھا مگر اب تو مزید شواہد مل گئے تھے۔

”کر لیں گے کچھ نہ کچھ۔“حماد نے دانت پیسے۔ایک تھرڈ کلاس مزدور نے اس کے منہ پر طمانچا مارا تھا ۔

اس کی ماں سے بات کرنا تھی ۔وہ ضرور اسے سمجھاتی ۔“

”اس سے بھی بات کی تھی ۔مگر وہ بیٹے کو سمجھانے پر تیار نہیں ہوئی ….بس کیا بتاو¿ں یار ، اپنے فائدے نقصان ہی کو نہیں پہنچانتے احمق لوگ ۔“

”ہاں !….ہر کسی کے فائدے نقصان کے اپنے معیار ہوتے ہیں ۔اور پھرجان ِ حیات کو اپنی زندگی سے چند ٹکوں کی خاطر بے دخل کر دیا جائے ، یہ کون منظور کر تا ہے۔“ مسکان نے دل ہی دل میں سوچا مگر زبان سے یہ کہنے کے بجائے بولی ۔

”کوئی طریقہ سوچو نا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔“

اچانک ہی حماد کے ذہن میں خیال آیا۔”اگر تم خود اس سے بات کر لو ۔“

”مم ….میں اس کیسے بات کروں ۔“مسکان گھبرا گئی ۔

”فون پر ….امید ہے تمھاری بات نہیں ٹالے گا ۔“

”ٹھیک ہے ….۔“وہ تیار ہو گئی ۔”غصے سے بات کروں یا…. ؟“

حماد نے ایک لمحہ سوچ کر کہا۔”نہیں نرمی اور پیار سے سمجھاو¿۔اگر نہ مانے پھر غصہ بھی دکھا دینا ۔

اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے دانیال کا نمبر ڈائل کیا ۔اس سے بچھڑے چوبیس گھنٹے ہونے کو تھے لیکن اسے محسوس یہ ہو رہا تھا جیسے وہ کئی سالوں سے علاحدہ ہوں ۔پہلی بیل پر کال رسیو کر لی گئی ۔ اور اس کے ساتھ اس کی سماعتوں میں دانیال کی سسکیاں گونجیں ۔وہ پر سکون لہجے میں بولی ۔

”دانی !….میری بات سنو ؟“

”جی ؟“وہ بہ مشکل بول پایا تھا ۔

”دانیال !….آپ بہت اچھے ہیں ،لیکن دیکھو میں مجبور ہوں ،میں کسی اور کو چاہتی ہوں ،اس نے غصے میں آکر مجھے طلاق دے دی تھی ، او ر میں نے آپ کے ساتھ شادی حلالہ کی نیت سے کی تھی ۔میں شاید دوسرے ہی دن طلاق کا مطالبہ کر دیتی مگر آپ کی تنگ دستی دیکھ کر چند دن رک گئی ۔اور اب جب آپ اس قابل ہو گئے ہیں ، کہ ایک عزت دار زندگی گزار سکیں تو واپس آگئی ہوں۔حماد میری ایما پر آپ کے پاس گیا تھا مگر آپ نے اسے مایوس کیا ۔ اس لےے مجھے خود بات کرنا پڑ گئی ہے ۔میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے طلاق دے دیں تاکہ میں اپنی چاہت کو دوبارہ حاصل کر لوں ۔“

اس کے منہ سے بہ مشکل آواز نکلی ۔”مِشّی میں مر جاو¿ںگا ….یہ ….یہ میرے لےے ناممکن ہے۔“

”دانیال پلیز !….آپ مجھے چاہتے ہیں نا ؟….تو پھر محبوب کی تو ہر بات مانی جاتی ہے۔“

وہ کراہنے کے انداز میں بولا….

حوصلہ کر تو لوں بچھڑنے کا

سانس لینا مگر ضروری ہے

”بچھڑ تو گئے ہو مجھ سے یوں بھی ۔اگر آپ طلاق نہیں دو گے تو میں عدالت کے ذریعہ خلع حاصل کر لوں گی “ مسکان نے اسے سمجھانے کی کوشش جاری رکھی۔

”بے شک عدالت سے رجوع کر لو ،مگر میں طلاق نہیں دے سکتا ….اپنے ہاتھوں اپنا گلا کیسے گھونٹوں ؟ اپنی شاہ رگ پر کیسے پاو¿ں رکھوں ؟“

”دانی !….میں آپ کی دوسری شادی کرا دوں گی ،یقین کرو ایسی لڑکی سے جو مجھ سے کئی گنا زیادہ خوب صورت اور کم عمر ہو گی ۔ اور کیا چاہےے آپ کو ؟“

وہ مصرہوا۔”مجھے صرف مشی چاہےے ۔اگر جنت سے حور بھی لا کر دو تو قبول نہیں ہے ….نہیں ہے ….نہیں ہے۔“

”یاد ہے ….؟آپ نے وعدہ کیا تھا کہ میری ہر بات مانیں گے ۔“مسکان نے اس کا عہد یاد دلایا۔

”ہاں ….مگر اس میں تم سے دوری کی کوئی شق شامل نہیں تھی ۔“

”مسٹر دانیال !….یہ تم اچھا نہیں کر رہے ۔جب میں تمھارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی پھر زبردستی ہے کیا۔“

”مِشّی میرے حال پر ترس کھاو¿….نہ کرو ایسا ….میں مر جاو¿ں گا ….یقین کرو، کھانے کا لقمہ اور چاے کا گھونٹ حلق سے اتارنے کے لےے زبردستی کرنا پڑتی ہے ۔امی جان الگ رو رہی ہیں ….“

”بھاڑ میں جاو¿ تم دونوں ….“وہ بپھر گئی ۔”پہلے میری اپنی خوشیاں ہیں ۔اور کیا تم اس قابل ہو کہ کوئی لڑکی تمھارے ساتھ زندگی گزار سکے ؟“ مسکان نے دل پر جبر کرتے ہوئے ایسے فقرے ادا کےے جو دانیال کو اس کی ذات سے نفرت دلاتے ۔

”پھر دوسری لڑکی سے شادی کرانے کی آفر کس لےے کر رہی ہو ۔ایک بدصورت سے آپ نبھاہ نہیںکر سکتیں تو دوسری کیسے کرے گی ؟….وہ بھی اپنی محبت میں مبتلا کر کے کسی چاہنے والے کے ساتھ بھاگ جائے گی ۔ اور پھر وہاں سے فون کر کے مجھے ایک تیسری لڑکی کے خواب دکھا کر طلاق لے لی گی ۔ اور ہاں تم جتنا چاہے نفرت کا اظہار کرو میں جانتا ہوں تم مجھ سے نفرت نہیں کرتی ہو اور بالفرض یہ سب تمھارے دل کی آواز تھی تب بھی مجھے تم اتنی ہی عزیز ہو جتنی کہ پہلے تھیں ۔“

”میرا خیال ہے ،تمھیں عزت راس نہیں آرہی ۔“مسکان کو اس کا انکار بہت زیادہ کھل رہا تھا ۔

”میں عزت کے قابل نہ سہی ۔لیکن تم سے ناتا نہیں توڑوں گا ۔میں مولوی صاحب سے پوچھ چکا ہوں ۔تم خلع لے ہی نہیں سکتی ہو ،قانونی طور پر تمھارے پاس کوئی ایسا بہانہ موجود نہیں جس کے بل پر مجھ سے علیحدگی حاصل کر سکو ۔“

”شٹ آپ !….“وہ زور سے چلائی ۔”میں تم جیسے آدمی کو ملازم بھی نہیں رکھتی ہوں اور تم میرے شوہر بننے کے خواب دیکھ ہے ہو ۔“

”نہیں مِشی !….خواب نہیں دیکھ رہا میں ہوں ۔تم میری بیو ی ہو ؟….میری ملکہ ، میری رانی ہو؟“

”بند کرو یہ بکواس ،زہر لگتی ہیں مجھے تمھاری یہ گھٹیا باتیں ؟….بے وقوف تم سے شادی کا مقصد ہی یہ تھا کہ تم نہایت بد صورت تھے ۔اور یہ میرے محبوب شوہر کا حکم تھا سمجھے۔“

”صحیح کہا!….میں بہت بد صورت ہوںاور یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں۔تم بے شک میرے پاس نہ آو¿،مگر میں تمھارے شوہرہونے کا افتخار نہیں کھو سکتا ۔“

”مسٹر !….بہت پچھتاو¿ گے۔“مسکان نے اسے دھمکایا،مگر اپنے الفاظ اسے خود بہت کھوکھلے لگے تھے۔

”کل سے موت مجھے اتنی پیاری لگ رہی ہے کہ بتا نہیں سکتا۔“

”تف ہے تمھاری چاہت پر، جو محبوب کو یوں دکھ دے رہے ہو ۔“

”مشی ……..“اس نے کچھ کہنا چاہا، مگر مسکان نے اس کی بات سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا ۔ اور سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ مسئلہ کافی گھمبیر ہو گیا تھا۔

حماد کو پہلے تو اس کی باتوں پر تپ چڑھا، مگر اس کی آخری گفتگو نے اسے مطمئن کر دیا تھا۔

”حادی !….اب کیا ہو گا ؟“مسکان سچ مچ پریشان ہو گئی تھی ۔

”فکر نہ کرو !….میں آخری کوشش کرتا ہوںکہ انگلیاںسیدھی کر کے گھی نکل آئے ، نہیں تو انگلیاں میری یوں بھی ٹیڑھی ہیں ۔“

”آ….آپ کیا کریں گے ؟“اس کا زہریلا لہجہ سن کر مسکان گھبرا گئی تھی۔

”بس یہ مجھ پر چھوڑ دو کہ میں کیا کروں گا۔“

”میں آپ کوکسی غلط حرکت کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی۔“

”لاتوں کے بھوت ،باتوں سے نہیں مانتے محترما۔“

”نہیں حماد !….یہ مسئلہ بات چیت سے طے کرنے والا ہے ۔“

”اگر بات چیت سے طے نہ ہو سکا پھر ،کیا تم عدالت میں جا سکتی ہو ؟“

”اسی لےے میں نے شروع دن سے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔“

”طعنے دے رہی ہو ؟“حماد نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔

”نہیں !….صرف یہ احساس دلا رہی ہوں ،کہ خود کو عقل کل اور عورت کو ناقص العقل سمجھنا چھوڑ دو ۔“

وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”جب انسان کو کسی چیز کا جنون ہوتا ہے تو وہ اسے حاصل کرنے کے لےے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔“

”کیا بچے کی محبت میری چاہت سے بھی بڑھ کر تھی ۔“مسکان دکھی ہو گئی ۔

”نہیں ….“حماد نے جلدی سے کہا ۔

”آپ کا عمل ان الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتا۔اگر میری محبت زیادہ ہوتی تو یوں غیر مرد کی جھولی میں مجھے نہ پھینکتے ۔“

وہ چرب زبانی سے بولا۔”پھینکتا تو واپس گلے سے نہ لگاتا۔اور اگر کبھی غیرمردکا طعنہ دوں تو میری زبان کاٹ دینا ۔تم آج بھی میرے لےے شروع دن کی طرح پاکیزہ ہو۔“

مسکان کو اس کی بات بہت اچھی لگی تھی ،وہ بے ساختہ بولی ۔”آئی لو یو حادی ….“

”می ٹو جان۔“حماد اطمینان کا سانس لیتے ہوئے بولا۔وہ پکی پکائی فصل کو کسی بے وقوفی سے خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

”اچھا !….بتائیں نا آپ کا ارادہ کیا ہے؟“مسکان نے دل آویز لہجے میں پوچھا۔اتنے عرصے بعد اس نے حماد کے منہ سے محبت بھرے بول سنے تھے۔

”بس چند دن انتظار کرو پھر تمھیں نیا منصوبہ بتاو¿ں گا۔“

”نہیں ابھی ۔“وہ ناز سے اٹھلائی ۔

”یاد ہے نا ،میں نے تمھارے سامنے اپنی کزن فریحہ کا ذکرکیا تھا۔“

”ہاں ….وہی نا جسے دانیال تمھاری منگیتر سمجھتا ہے ۔“

”ہاں وہی ۔“حماد نے اثبات میں سر ہلایا۔”وہ بہت خوب صورت لڑکی ہے ۔گو ایک انجینئر کی محبت میں گرفتار ہے ،مگر میں اسے راضی کر لوں گا کہ وہ عارضی طور پر دانیال کو اپنی محبت کے جال میں پھانسے اور اسے مجبور کرے کہ وہ مسکان کو طلاق دے دے ۔“

”مم….مگر ،آپ نے تو اس دن یہ بتایا تھا ،کہ اسے یہ سب کہانی معلوم نہیں ۔“ مسکان کے دماغ میں شک کا ہیولہ لہرایا۔

وہ جلدی سے بولا۔”ہاں تو ؟….یہ تو میں اب بھی کہتا ہوں ۔“

”پھر ؟“

”پھر کیا ؟….میری بیگم کی رشتا دار کو لڑکا پسند نہیں آیا اور وہ طلاق لینا چاہتی ہے ۔ ایک اچھی سی شاپنگ کی آفر پر وہ فوراََ مان جائے گی ۔وہ ایسی ہی ایڈونچر پسند لڑکی ہے ۔بلکہ اس ضمن میں اس کی تم سے بھی ملاقات کرا دیتا ہوں تاکہ اسے بھی کوئی شک نہ ہو۔“

”فراڈیا نہ ہو تو۔“مسکان ہولے سے مسکرائی ۔

”ایسے لوگ فراڈ کے علاوہ بھلا کب مانتے ہیں ۔“

”لیکن حادی !….جب فریحہ دانیال کوملے گی تو لازماََ اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس کا نکاح میرے ساتھ ہوا تھا۔“ اچانک ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح اس کے دماغ میں لپکا اور اس نے بغیر کسی تاخیر کے حماد کے گوش گزار کر دیا ۔

”کیسے معلوم ہو گا ،اس دنیا میں آپ اکیلی مسکان ہیں ؟“کہہ کر اس نے سیل فون نکالا۔ اور فریحہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔اس کے ذہن میںاچانک ہی مسکان اور فریحہ کی ملاقات کرانے کا خیال آیا تھا ۔اگر وہ کبھی ان دونوں کو اکھٹا دیکھ بھی لیتی تو کم از کم کوئی شک نہ کر سکتی ۔گو اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اسے معلوم نہیں ہو سکا تھا مگر برے وقت کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ذرا سی بے احتیاطی سے بنا بنایا کھیل بگڑ سکتا تھا۔

”جی جناب!….آگئی میری یاد؟“کال اٹینڈ کرتے ہوئے اس نے ناز سے پوچھا۔

”جی محترما !….آپ کا غریب کزن حماد ہی بول رہا ہے۔“

”حماد!…. یہ کیسے بات کر رہے ہو ؟“فریحہ حیران رہ گئی تھی۔

”خیر !….میں غریب سہی ،پر میری بیگم غریب نہیں ہے ۔اور اس نے آج ڈنرپر آپ کوبہ نفس نفیس بلایا ہے ؟“

”میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تم کیا کہہ رہے ہو ؟“

”ٹھیک ہے ….ٹھیک ہے ۔کنجوس تمھیں پک کر لوں گا گھر سے ؟….ٹیکسی والے کو دس روپے دینے سے تو تمھاری جان جاتی ہے نا ۔“

”حماد !….کیا تمھاری بیگم صاحبہ ساتھ بیٹھی ہے۔“

”ہاں ….اور تیار رہنا تمھاری ایڈونچر پسند طبیعت کے لےے میں نے ایک کام ڈھونڈا ہے۔“

وہ جھلا کر بولی ۔”حماد !….مجھے تمھاری بکواس بالکل سمجھ میںنہیں آرہی ؟“

”اوکے چھے بجے میں تمھیں لینے آو¿ں گا ۔“حماد نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

”چلیں جی بیگم صاحبہ!….فریحہ بی بی کو ڈنر کی دعوت دے دی آپ کی جانب سے۔اب بس اچھے سے کھانے کا بندوبست کرو ۔اور اس سے ملاقات پر ایک سرپرائز بھی ملے گا آپ کو ۔“

”کیسا سرپرائز؟“مسکان نے حیرانی سے پوچھا ۔

”سر پرائز کا مطلب سرپرائز ہی ہوتا ہے ۔“

”ویسے ،وہ مان تو جائے گی نا؟“

”کیوں نہیں مانے گی ،بڑی شئے ہے ۔میری شادی کے بعد سے لے کر آج تک یہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ میں نے اسے شاپنگ نہیں کرائی ،اس بہانے اس کی شاپنگ کی ضد تو پوری ہو جائے گی نا۔“

”شاپنگ بے شک اسے دو مرتبہ کرا دینا ،شادی کی علاحدہ اور اس کام کی علاحدہ ۔“

حماد نے منہ بناتے ہوئے کہا۔”ہونہہ!….سیٹھ میں نہیں میری بیگم ہے ۔خود بیوی کا محتاج ہوں اور شاپنگ کراتا پھروں کزنز کو ۔“

’ایسا تو نہ کہیں….کیا کبھی آپ کی کوئی خواہش ٹالی ہے بیوی نے ؟“

”نہیں ….اور اسی لےے تو فخر کرتا ہوں اپنی بیگم پر ۔“حماد نے اسے مکھن لگایا۔

”بس طے ہو گیا اگر فریحہ طلاق دلانے میں کامیاب ہو گئی تو دو مرتبہ اسے آپ شاپنگ کرا دینا اور ایک دفعہ میں خصوصی شاپنگ کراو¿ں گی ۔“

”بس بس اتنے فالتو پیسے بھی نہیں ہیں ہمارے پاس ….ایک دفعہ اچھی سی شاپنگ کرا دوں گا اسے ، جو مرضی ہے خریداری کر لے ۔“

”حماد کے انداز پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی ۔

٭……..٭

اپنا گھر اسے بہت پرایا پرایا لگا ۔سامان رکھ کر اس کی ماں تو صفائی میں جت گئی اور وہ خاموشی سے چاپائی پر لیٹ گیا ۔گھر آئے بہ مشکل آدھا گھنٹا گزرا ہو گا کہ اس کے سیل فون کی گھنٹی بجی۔اس نے بد دلی سے سکرین پر نظر دوڑائی ،مشی کا نام دیکھتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اس نے بے تابی سے کال رسیو کی ۔لیکن کوشش کے باوجود وہ سلام نہ کہہ سکا ۔اور دل کا درد سسکیوں کی صورت اس نے مسکان تک پہنچایا۔اور پھر مسکان کی باتوں نے اس کی رہی سہی امیدکو بھی خاک میں ملا دیا تھا ۔اس کی باتیں دانیال کو حقیقت لگیں ۔اسے پہلے دن سے مسکان کی عادات دیکھ کر شک تھا کہ اس نے کسی مقصد ہی سے اس سے شادی کی ہے ۔آج یہ وضاحت بھی ہو گئی تھی کہ اس کی حیثیت فقط کرائے کے سانڈ یا بھاڑے کے ٹٹو جتنی تھی۔ اسے خود پر ترس آیا ۔ کتنی فضول ، بے فائدہ اور ناکارہ ذات تھی اس کی ۔

”یااللہ !….کیا ساری بد صورتی میرے نصیب میں لکھنا تھی ؟“اس نے ہولے سے اپنے رحیم و کریم رب سے شکوہ کیا ۔

اسی وقت اس کے دماغ میں مسکان نے زہریلے الفاظ ابھرے۔

”بند کرو یہ بکواس ،زہر لگتی ہیں مجھے تمھاری یہ گھٹیا باتیں ؟….بے وقوف تم سے شادی کا مقصد ہی یہ تھا کہ تم نہایت بد صورت تھے ۔اور یہ میرے محبوب شوہر کا حکم تھا انڈر سٹینڈ؟….گھٹیا باتیں ….بدصورت انسان، بے وقوف ۔ ہا….ہا….ہا؟“ اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔

”کیا ہوا بیٹے !….کیوں ہنس رہے ہو ۔“عائشہ نے خوشی کے عالم میں اس کے کمرے میں جھانکا۔

”اپنی قسمت پر ہنس رہا ہوں امی جان !“

”کیا ہوا تمھاری قسمت کو؟پگلا نہ ہو تو؟….زندگی کی خوشیاں کسی ایک عورت سے نہیں بندھی ہوتیں ، اس سے کئی گناہ اچھی اور خوب صورت لڑکیاں میرے بیٹے کی دلہن بنیں گی ۔“

”امی جان !….آج کے بعد میرے سامنے عورت ذات کا نام نہ لینا ۔“

”اچھا نہیں لیتی ،تم جاو¿کوئی سودا سلف لے آو¿۔“

”ٹھیک ہے ماں جی ۔“وہ چارپائی چھوڑ کر گھر سے باہر نکل آیا۔جیب میں ہاتھ ڈالنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کی کل پونجی چند سو روپے تھی۔اکاو¿نٹ میں دو تین مہینوں کی سیلری جمع تھی مگر وہ ساری اس شاپ کی کمائی تھی جس کا وہ مالک نہیں تھا ۔سودا سلف کی خریداری سے پہلے اس نے ایک اہم کام نبٹانا ضروری سمجھا ۔بینک میں جا کر اس نے اپنے اکاو¿نٹ سے تمام رقم نکلوائی ۔جو ایک لاکھ اورستر ہزار کے بہ قدر تھی ۔وہاں سے اس نے اپنی شاپ کا رخ کیا ۔مکرم خان اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا ۔

”صیب جی !….آپ نے تو کہا تھا چند دن بعد آئیں گے ؟“

”ہاں خان جی !پر اب آخری بار آیا ہوں ۔یہ کسی اور کی دکان تھی، مجبوری کی بنا پر مجھے کام چھوڑنا پڑ رہا ہے ۔“

”کیا مطلب صیب !….کیا یہ آپ کا دکان نہیں تھا ؟“

”نہیں خان جی !….میں بھی ملازم تھا ۔اور یہ قریباََ ایک لاکھ ستر ہزار روپے ہیں ۔ تین ہفتوں کے حساب سے میری مزدوری جتنی بھی بنتی ہے میں اس میں سے چھے ہزار رکھ رہا ہوں باقی آپ نے دکان کی مالکن تک پہنچا دینے ہیں۔اور انھیںحساب بھی سمجھ دینا ۔اس کے بعد انھی سے رابطہ کرنا ۔اگر مجھ سے کوئی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو چھوٹا سمجھ کر معاف کر دینا ۔اور یہ مالکن کا موبائل نمبر ہے ۔“اس نے مسکان کا موبائل فون نمبر ایک کاغذ پر لکھ کر اس کے حوالے کیا اور جانے کی اجازت چاہی۔

”صیب جی !….اللہ پاک آپ کو خوش رکھے ۔“

مکرم خان سے الوداعی مصافحہ کر کے وہ دکان سے باہر نکل آیا تھوڑی دیر بعد وہ روز مرہ کی ضروریات خرید کر گھر کا رخ کر رہا تھا ۔

٭……..٭

”یہ کیا ڈراما تھا جناب!“فریحہ نے اسے دیکھتے ہی پوچھا ۔

”چلو رستے میں بتاتا ہوں ۔“

”کہاں ؟“

”بتایا نہیں تھا ،آج آپ نے ہمارے ساتھ ڈنر کرنا ہے ۔“

”اچھا میں امی کو بتا دوں۔“

”ٹھیک ہے میں باہر کار میں تمھارا منتظر ہوں ۔“وہ ان کے گھر سے نکل آیا۔چند لمحوں بعد فریحہ بھی نکل آئی ۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس نے پوچھا۔

”اب بتاو¿؟“

جواباََحماد نے اسے ساری تفصیل بتا دی ۔

”گویا اب میں مسکان صاحبہ کے لےے کام کروں گی ؟“فریحہ دل پسند کام ملنے پر خوش تھی ۔ اب تک وہ دانیال کی بے توجہی فراموش نہیں کر سکی تھی ۔

”ہاں!….میں نے سوچا اگر تم سیٹھ زادی صاحبہ کے ساتھ نیکی کر رہی ہو تو اسے بھی تو پتا ہونا چاہےے کہ اسے کس نے اس جھنجٹ سے نکالا ہے ۔“

اور اس بہانے تم میرے کزن بھی بن گئے ہو ؟….بڑے حضرت ہو جی !“

”اچھا اسے تم نے یہ تا¿ثر دینا ہے گویا ہم بچپن سے بہت فری رہے ہوں ۔“

”وہ تو خیر یوں بھی ہیں ؟“فریحہ ناز سے بولی ۔

”اور کوئی ایسی بے وقوفانہ بات منہ سے نہیں نکال دینا جس سے اسے شک پڑ جائے اور ایک بار اپنے فرضی محبوب سے بھی بات کر لینا اس مقصد کے لےے آلارم لگا لو یا پھر میں تمھیں مس کال دے دوں گا، تاکہ جب تم کال اٹینڈ کرو تو اسے کوئی شک نہ ہو ؟……..“ حماد اسے باریکی سے سمجھانے لگا ۔کوٹھی تک ان کی یہی گفتگو جاری رہی ۔انھوں نے حتی الوسع کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا تھا۔گیٹ پر پہنچتے ہی وہ فریحہ کی پڑھائی کے بارے محو گفتگو ہو گئے ۔

چوکیدار نے کار پہچانتے ہی گیٹ کھول دیا تھا ۔کار پورچ میں روک کر وہ فریحہ کے ساتھ اتر گیا۔

”جانے کب وہ دن آئے گا جب ہم دونوں اس کوٹھی کے مالک ہوں گے ؟“فریحہ خواب ناک لہجے میں بولی ۔

”بہت جلد جان !“حماد آہستہ سے بولا۔

مسکان نے ڈرائینگ روم کے دروازے پر آ کے ان کا استقبال کیا ۔

”ہائے بھابی !….“فریحہ نے اس سے گلے ملتے ہوئے اس کے گال کو چوم لیا ۔

”حماد یہ تو ….؟“مسکان نے حیرانی سے حماد کی طرف دیکھا ۔

”جی محترما !….بتایا تو تھا سرپرائز ہے ۔یہ وہی فریحہ ہے آپ کی یونیورسٹی فیلو ۔جس کی وجہ سے روزانہ چار پانچ لڑکے وائس چانسلر آفس کے سامنے کھڑے ہوتے تھے ۔

حماد کی بات پر دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑی تھیں۔

”یہ آپ کی کزن ہے ؟….یونیورسٹی میں تو کبھی آپ اکھٹے نظر نہیں آئے ؟“

حماد مسمسی صورت بنا کر بولا۔”کیونکہ مجھ سے وائس چانسلر صاحب کے آفس کے سامنے کھڑا نہیں ہوا جاتاتھا؟“

اس مرتبہ دونوں نے پہلے سے بھی زوردار قہقہہ بلند کیا۔

فریحہ نے کہا۔”نہیں بھابی !….اصل میں محترم اس وقت مجھ سے خفاتھے ۔انھیں سرخ جھنڈی جو دکھائی تھی ۔“

”بکواس بند کرو !….میں تم جیسی کو گھاس بھی نہیں ڈالتا ،اگر شک ہے تو میری بیگم کو دیکھ لو ؟“

”اس وقت تک تو تمھیں بھابی نہیں ملی تھی ؟“

”جی نہیں ….تمھاری یونیورسٹی آمد سے پہلے میں نے انھیں پھانس لیا تھا ؟“حماد بے شرمی سے بولا اور مسکان کے چہرے پر حیاآلود مسکراہٹ پھیل گئی ۔اس وقت حماد کو وہ فریحہ سے کئی گنا زیادہ خوب صورت نظر آئی۔

اس نے سوچا۔”سچ کہتے ہیں حیا عورت کا زیور ہے ۔“

ان کے صوفوں پر بیٹھتے ہی ملازما نے کولڈ ڈرنک پیش کےے ۔

”اچھا اب کام بتاو¿؟“فریحہ حماد کی طرف متوجہ ہوئی ۔

”نہیں ،پہلے تمھارے دوذخ کو بھر دوں پھر بتاو¿ں گا ؟….تاکہ تم انکار نہ کر سکو ۔“

”اتنی پیار ی بھابی کے کام سے انکارکر سکتی ہوں ؟“فریحہ چاپلوسی سے بولی ۔

جواباََ حماد نے فرضی کہانی اسے سنا دی ۔

”بس !….میں نے سوچا کوئی بہت مشکل کام ہے ؟….تم شاپنگ کے لےے رقم اکھٹی کر لو دو دنوں کے اندر طلاق نامہ مل جائے گا جناب کو ؟…. اور مجھے اس کالو کا موبائل فون نمبر بھی دے دو ؟“

حماد اسے دانیال کا نمبر نوٹ کرانے لگا ۔مسکان کو فریحہ کا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔ دانیال کا ذکر اس نے بہت گھٹیا انداز میں کیا تھا ۔اس کا چہرہ دیکھ کر مسکان کو امید ہو گئی تھی کہ وہ آسانی سے دانیال کو طلاق دینے پر راضی کر لے گی ۔اس کی خوب صورتی کسی شک و شبے سے بالاتر تھی۔مسکان عورت ہو کر بھی اس کے بے پناہ حسن سے متا¿ثر ہو گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی اسے حماد پر بھی بہت زیادہ پیار آیا جو ایسی کزن کو چھوڑ کر اس کی جانب مائل ہوا تھا ۔

اس نے دل ہی دل میں سوچا ۔ ”اور محبت کیا ہوتی ہے ؟ ….ضروری تو نہیں کہ دانیال کی طرح ہر وقت محبت ،محبت الاپی جائے ؟“

”مجھے صرف مشی چاہےے ،اگر جنت سے حور بھی لا کر دو تو قبول نہیں ہے ….نہیں ہے ….نہیں ہے۔“ اس کے دماغ میں دانیال کے الفاظ گونجے ۔ اور اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی ۔”دانیال صاحب !…. اب سچ مچ کی حور ہی تمھیں مل رہی ہے ۔“

”میرا خیال ہے کھانا لگ گیا ہے ؟“حماد کی آواز نے اسے چونکا دیا ۔

”ہاں ….ہاں چلو ۔“اس نے اٹھ کر فریحہ کا ہاتھ تھاما اور اسے ڈائینگ ٹیبل پر لے آئی۔

کشادہ ٹیبل درجنوں لوازمات سے سجی ہوئی تھی ۔

”بہت ہے کہ اور منگوا لوں ؟“کرسی سنبھالتے ہی حماد نے طنزیہ لہجے میں فریحہ سے پوچھا ۔

”میں اپنی بھابی کے گھر آئی ہوں ،تمھیں خوشامد کرنے کی ضرورت نہیں ۔“فریحہ ترکی بہ ترکی بولی۔ ان کی نوک جھوک نے مسکان کو مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا ۔

”ویسے آپ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور کزن بھی تھے ۔رشتا نہ ہونے کی وجہ میری سمجھ میںنہیں آئی ؟“

”بھابی کیا بتاو¿ں !….درجنوں لڑکیاں تو محترم سے شادی کی خواہش مند تھیں ،اور یہ راجا اندر بنے پھرتے ،کسی کو لفٹ ہی نہیں کراتے تھے ۔ مجھے ایک ہینڈ سم قسم کے ڈاکٹر نے پر پوز کیا تو میں نے سوچنے میں وقت ضائع نہ کیا ۔اس وقت میں فرسٹ ائیر میں تھی اور جناب یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ تھے ۔میرے اس فیصلے پر انھیں کافی تپ چڑھا اور کافی عرصہ مجھ سے کھنچے کھنچے رہے ۔میری یونیورسٹی آمد پر بھی اسی لےے مجھے لفٹ نہیں کرائی جاتی تھی ۔ یہاں تک کہ آ پ نے آکر اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔“

”بکواس بالکل بکواس ۔“حماد نے شد و مد سے انکار میں سر ہلایا۔”تم سے محبت کرتی تھی میری جوتی ۔ شکل دیکھی ہے اپنی ۔اگر مجھے محبت ہوتی تو میں دیکھتا کوئی تمھیں کیسے لے جاتاہے ۔اور بھول گئیں کیسے روزانہ تانک جھانک کرنے آ جاتی تھیں،جب میں نے گھاس نہیں ڈالی تو ڈاکٹر صاحب کو ڈھونڈ لیا؟“

”مگر آپ نے تو کہا تھا وہ انجینئر ہے ؟“مسکان کو اس کی بات بھولی نہیں تھی ۔

”بیگم صاحبہ!….میرے علم میں تو یہی تھا کہ محترما کی نسبت ایک انجینئر سے طے ہوئی ہے ،اب یہ کہہ رہی ہیں ڈاکٹرہے۔ بلکہ کل پرسوں تک ڈاکٹر،بزنس مین بھی ہو سکتا ہے ۔اور آخر میں پتا چلے گا کہ یہ سب جھوٹی کہانیاں تھیں۔“

”تم نے مجھ سے پوچھا کب ہے، کہ میر ی نسبت کس سے طے ہے ؟“

”مجھے ضرورت ہی کب تھی ؟“

”تو پھر بکواس کا مطلب ؟“فریحہ نے آنکھیں نکالیں۔

”ارے بھئی آپ تو لڑنے لگے ….پلیز کھانا کھائیں؟“مسکان جلدی سے بیچ میں آگئی ۔

”بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ؟“حماد نے منہ بنایا ۔”انجینئر کی انکم ڈاکٹر سے کم تو نہیں ہوتی ؟“

”اب سن لی اس کی احمقانہ بات؟“فریحہ مسکان کی طرف متوجہ ہوئی۔”بات ایسے کر رہا ہے جیسے اس کے انجینئر کہنے سے ڈاکٹر انجینئر بن جائے گا ۔“

مسکان ہنس کر خاموش ہو گئی تھی۔اسی وقت فریحہ کے موبائل فون کی گھنٹی بجی ۔موبائل نکال کر دیکھنے پر اس کا چہرہ بے ساختہ کھل اٹھا تھا ۔کال اٹینڈ کرتے ہوئے وہ بولی ۔

”ہیلو سوئیٹ ہارٹ…………میں اس وقت بھابی کے گھر آئی ہوں ڈنر کرنے …….. جی جی !….حماد صاحب بھی ساتھ ہے…………نہیں اس کنجوس نے کب دعوت دینا تھی ،بھابی نے بلایا تھا…………سچ قسم سے ……..ٹھیک ہے میں اور حماد آپ کو لینے آئیں گے ائیر پورٹ پر ۔“

فون بند کرکے وہ حماد سے بولی ۔”محترم !….آپ کے جیجا جی ہفتے کو آ رہے ہیں۔انھیں ائیر پورٹ پر رسیو کرنے جانا ہے ؟“

”میں اس کا نوکر نہیں ہوں ؟“حماد نے منہ بنایا۔

”ٹھیک ہے تم نہ آنا ،میں بھابی کو ساتھ لے کے چلی جاو¿ں گی ؟“

”بھابی کو ساتھ لے کے چلی جاو¿ں گی ؟….وہ فارغ بیٹھی ہے نا ؟“حماد نے اسے چڑایا۔

”ڈاکٹر صاحب کہاں پرہوتے ہیں؟“مسکان ان کی بحث میں مخل ہوئی ۔

”لندن میں ،ای این ٹی میں اسپیشلائز کر رہے ہیں ۔“

”تھراٹ(Throat)کا سپیشلسٹ تو تب مانون گا جب تمھاری بولتی بند کرئے گا ۔ مغز کھا جاتی ہو آدمی کا ؟“ حماد نے اس پر چوٹ کی ۔

”گلا بند کرے گا تمھارا….،میری آواز تو اسے کویل کی بولی سے بھی زیادہ پسند ہے ۔ روزانہ مجھ سے لوری سن کر سوتا ہے؟ “فریحہ کہاں ہار ماننے والی تھی ۔

”میرا خیال ہے قہوہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر پیتے ہیں؟“مسکان نے مشورہ دیا ۔ جسے بغیر کسی تردد کے دونوں نے مان لیا۔خصوصی قہوہ پینے کے بعد فریحہ حماد سے مخاطب ہوئی ۔

”اب اگر مہربانی فرما کر مجھے گھر چھوڑ آئیں تو تمھارا کا احسان ہو گا ؟“

”بیٹھو نا ؟….“مسکان نے اسے رکنے کی دعوت دی ۔”تھوڑی دیر بعد چلی جانا ؟“

”نہیں بھابی ؟….“فریحہ نے انکار میں سر ہلایا۔”کافی دیر ہو گئی ہے ۔یہ نہ ہو پاپا کے ہاتھوں بے عزتی ہو جائے ؟“

”تو کیا ؟“حماد چوٹ مارنے سے باز نہ آیا ۔”پہلی دفعہ تو نہیں ہو گی کہ گھبرا رہی ہو ۔ یوں بھی دن میں تین وقت تو ہوتی ہے ،صبح دوپہر اور شام آج لیٹ نائیٹ بھی سہی ؟“

”تمھاری بے عزتی کا تو کوئی وقت بھی مقرر نہیں تھا ….انکل کو جب کوئی کام نہ ہوتا وہ تمھاری بے عزتی کرنے لگتے ؟“

”اچھا اب اپنی لڑائی بند کرو ؟“مسکان نے ہاتھ اٹھا کر انھیں روکااور پھر ملازما کو آواز دی ۔

”شہناز ! “

”جی بیگم صاحبہ!“وہ دروازے پر نمودار ہوئی ۔

”میری سنگھار میز پر ایک ڈبا رکھا ہے وہ لے آو¿۔“

”جی بیگم صاحبہ !“شہناز سر ہلاتے ہوئے اس کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔اور پھر ایک مخملیں ڈبے کے ساتھ لوٹی ۔

مسکان نے مخملیں ڈبا کھول کر فریحہ کے سامنے پکڑا ۔ایک قیمتی اور خوب صورت ہار جگمگا رہا تھا ۔ ”یہ میری طرف سے قبول کر لو ۔“

”بب ….بھابی یہ تو….؟“فریحہ سچ مچ گنگ رہ گئی تھی ۔اتنا قیمتی ہار اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا ۔

”بھابی بھی کہتی ہے اور تکلف بھی کرتی ہے ؟“پیار سے کہتے ہوئے مسکان نے وہ ڈبا اسے پکڑا دیا ۔

” اپنے ہاتھوں سے پہنا بھی دو نا ؟“حماد بھی اتنا قیمتی تحفہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔

”یہ لیں جی !“ مسکان نے وہ ہار فریحہ کی صراحی دار گردن میں پہنادیا ۔

”تھینکس بھابی !“فریحہ ممنونیت سے بولی ۔

حماد نے کہا۔”اچھا اب چلو ….پھر شور کرو گی کہ لیٹ ہو گئی ہوں ؟“

فریحہ نے مسکان سے الوداعی معانقہ کیا ،اسے گال پر بوسا دیا اورایک بار پھر اس کا شکریہ ادا کر کے حماد کے ساتھ باہر نکل آئی تھوڑی دیر بعد وہ کوٹھی سے باہر تھے۔

”حماد !….مسکان واقعی بہت اچھی ،مخلص اور پیاری لڑکی ہے ۔“

”ہاں !….تمھیں ایک ہار کیا دے دیا ،بری سے اچھی ہو گئی ؟“

”نہیں سچ کہہ رہی ہوں ….قسم سے اگر وہ مجھ سے خوب صورت نہیں تو کچھ کم بھی نہیں ہے ۔ خاص کر اس کی حیا آلود ہنسی تو جانے دیکھنے والوں پر کیا قیامت ڈھاتی ہو گی ؟“

”ہونہہ !….دیکھنے والے نہیں ،والیاں کہو ۔مردوں کے سامنے وہ آتی ہی کب ہے ؟“

”اچھا کوئی ایسا طریقہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس سے دولت تو بٹور لیں لیکن قتل نہ کریں ؟“

”ہاں ہے !….اسے دانیال صاحب کی کٹیا میں رخصت کر دیتے ہیںاور خود اس کوٹھی میں آ جاتے ہیں۔بے وقوف !…. کبھی سوچ کر بات نہ کرنا ۔“

وہ بھناتے ہوئے بولی ۔”اچھا ….اچھا جو مرضی آئے کرو ۔تم تو شاید دولت کے لےے مجھے بھی چھوڑ دو ؟“

”بکواس بند کرو ۔“حماد نے اسے لتاڑا ۔

”تم بھی منہ بند رکھو ۔“فریحہ کب چپ رہنے والی تھی ۔

”فری !….اگر ایسا ممکن ہوتا تو کیا میں خواہ مخواہ کسی کی جان لیتا ۔اور یاد رکھو،اگر اخلاقی قدروں کے پیچھے پڑے رہے تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا ۔ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔“

”حماد وہ بہت سادہ ہے ۔اتنی کہ ….اب کیا بتاو¿ں ؟تو نے دیکھا ہماری گپ شپ کے دوران کیسے خفیف سی ہو جاتی تھی ؟“

حماد نے منہ بنایا۔”میں اسے پچھلے تین سال سے دیکھ رہا ہوں تم نے آج دیکھا ہے ؟“

”اچھا جو مرضی آو¿ کرو جناب؟میں تمھارے ساتھ ہوں۔“فریحہ نے حتمی فیصلہ سنایا کہ اس کا گھر قریب آ گیا تھا۔

”تم اپنا کام ایک دو دن میں ختم کرنے کی کوشش کرو ۔“

فریحہ مغرور ہوتے ہوئے بولی ۔”وہ تو سمجھو ہو گیا ۔دو دن سے زیادہ لگے تو جو سزا سناو¿ گے مجھے منظور ہو گی ۔“

”دو دن کا عرصہ تمھارے لےے کافی زیادہ ہے ….بہ ہر حال اس سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے ۔ اور خیال رکھنا اتنی سخت ڈوز بھی نہ دے دینا بے چارے کو کہ اپنی جان ہی لے لے ؟“

جواباََ فریحہ مسکرا کر رہ گئی تھی۔اسے گھر کے سامنے اتار کر وہ واپس مڑ گیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: