Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 16

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 16

–**–**–

ان کے جاتے ہی مسکان نے اپنے کمرے میںآ کر سب سے پہلے نماز پڑھی پھر بیڈ پر لیٹ گئی۔ کوئی بات اسے کھٹک رہی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر کیا بات اسے بے چین کےے ہوئے ہے ۔

شایددانیال کے ساتھ یہ سلوک اسے مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔کہ فریحہ اسے خطرناک حد تک خوب صورت لگی تھی۔اور دانیال کی یہ بات اب تک اس کے ذہن میں تھی کہ….

”ایک بدصورت سے آپ نبھاہ نہیںکر سکتیں تو دوسری کیسے کرے گی ۔وہ بھی اپنی محبت میں مبتلا کر کے کسی چاہنے والے کے ساتھ بھاگ جائے گی ۔ اور پھر وہاں سے فون کر کے مجھے کسی تیسری لڑکی کے خواب دکھا کر طلاق لے لی گی ؟“

مسکان کو لگا اس کالے جادوگر کی پیشن گوئی پوری ہونے والی ہے ۔

”میر ی بلا سے ہوتی رہے پوری ؟….اس بے ہودہ نے تومیری درخواست کو بھی در خور اعتناءنہیں سمجھا ۔“اسے دانیال کا انکار بہت برا لگا تھا ۔

اسی وقت حماد نے خواب گاہ میں جھانکتے ہوئے اپنی واپسی سے مطلع کیا ۔

”میڈم !….آئی ہیو کم بیک ۔“( I have come back)

اس نے مسکرا کر پوچھا ۔”راستے میں جھگڑا تو نہیں کیا تھا ؟“

”ایسا ہو سکتا ہے بھلا….؟کمینی تمھاری تعریفوں پر شروع ہو گئی تھی اور میں بھلا کب یہ برداشت کر سکتا ہوں؟“

”جیلس کہیں کے ؟“مسکان کھل کھلا کر ہنس دی تھی۔

”میرا خیال ہے آج میں یہیں سو جاتا ہوں ؟“حماد رومانو ی لہجے میں بولا۔

”جی تھینکس !….“مسکان کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی مگر بہ ظاہر اس نے نارمل لہجے میں کہا ۔ اسے یقین تھا کہ حماد نے اگر ذرا بھی اصرار کیا تو وہ ہتھیار ڈال دے گی ۔ وہ اول آخر اس کا شوہر ہی تو تھا ۔ اور پھر ان دنوں کالے جادو گر کے سحر انگیز لمس کے لےے اس کا بدن بغاوت پر آمادہ تھا ۔اور وہ اسے بھلانا چاہتی تھی۔

”بڑی ظالم ہو ۔“وہ مایوس کن لہجے میں کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔

”اب تک اسے اپنی محبوبہ کے احساسات کی پہچان نہیں ہوئی ۔“مسکان نے قدرے بے زاری سے سوچا۔اسے یہ نا قدری بہت بری لگی تھی۔

اس نے اٹھ کر دروازہ اندر سے کنڈی کیا کہ کہیں وہ پلٹ نہ آئے ۔شاید اس کی واپسی پر وہ خود کو روک نہ پاتی ۔

وہ عجیب متضاد خیالات کی شکار ہو رہی تھی ۔حماد کو قریب بھی نہیں آنے دے رہی تھی اور چاہتی تھی کہ وہ اس کے قریب آئے ۔دانیال سے طلاق لینا چاہتی تھی ،اس کے لےے بھر پور تگ و دوبھی کر رہی تھی مگر اس کے ساتھ یہ خواہش بھی رکھتی تھی کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو اتنی چاہت نہ دے ۔اورجو دعوے اس نے کےے ان پر پورا اترے ۔

فریحہ کو دیکھنے کے بعد اسے یقین ہو چلا تھا کہ دانیال ہار جائے گا۔ایسی لڑکی کو نظر انداز کرنا مشکل نہیں ناممکن تھا ۔ ایک بار اس کے جی میں آیا کہ دانیال کو کال کر کے فریحہ کے بارے بتا دے،مگر پھر خود کو ملامت کر کے وہ سونے لیٹ گئی ۔ حسب معمول اسے دانیال سپنے میں ملا ،پہلے وہ اس سے شکوے کرتا رہا پھر فریحہ کا پیار پا کر مسکان کی توہین پر بھی تیار ہو گیا ۔ اس نے اسے خوب گالیاں بکیں ۔بے وفا ، طوائف، چڑیل،ڈائن اور پتا نہیں کیا کیا کہتا رہا ۔

صبح کی نماز پڑھ کر وہ دوبارہ لیٹ گئی تھی ۔رات کو دوتین بار جاگنے کی وجہ سے اسے طبیعت مضمحل سی لگ رہی تھی۔ناشتا کرنے کو بھی اس کا دل نہ چاہا ۔اس کی آنکھ موبائل فون کی گھنٹی سے کھلی ۔کسی نامعلوم نمبر سے کال آرہی تھی ۔تکیے سے ٹیک لگا کر اس نے کال رسیو کی ۔

”یس ؟“

”باجی!…. ام مکرم خان بول رہا اے ۔“

”کون مکرم خان ؟“اسے حیرانی ہوئی تھی۔

”باجی!…. ام آپ کا دکان کاملازم اے نا؟….آپ کا نمبر دانیال صیب نے دیا تھا ۔ کہہ رہا تھا کہ اس نے نوکری چھوڑ دی اے۔ اور اب ام خود بیگم صیبا سے پوچھ لیا کرے۔“

”اچھا ٹھیک ہے خان صاحب !….آپ اطمینان سے اپنا کام کرتے رہیں ،اگر ضرورت محسوس کرو تو اپنے ساتھ کوئی دوسرا ملازم بھی رکھ لو ۔“

”مہربانی باجی !….اور پیسوں کا کیا کرنا اے ؟“

”کون سے پیسے ؟“ مکرم خان کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی ۔

” ایک لاکھ ستر ہزار روپے دانیال صیب کے پاس تھا۔اس نے چھے ہزار روپے اپنا تین ہفتوں کا مزدوری کاٹا اور باقی ام کو دے دیا کہ بیگم صیبا کو دے دینا ۔باقی خود ام نے جو تین دن اکیلا کام کیا ہے، اس کا بھی رقم پڑا اے؟“

”اوہ !….“اسے دانیال کی غیرت پر حیرت ہوئی ،ساتھ خیال آیا کہ ایک لاکھ روپے جو اس نے پہلی سیلری کی مد میں دیا تھا وہ بھی اس نے واپس کر دیا ہوگا۔”اچھا خان صیب !…. یہ ساری رقم تم اپنے پاس رکھو بعد میں بتا دوں گی کہ اس کا کیا کرنا ہے ؟“

”باجی امارا تنخواہ کا کیا ہوگا ؟“مکرم خان نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔

”آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟“

”ہم کو پتا نہیں ہے باجی !….دانیال صیب نے بھی نہیں بتایا تھا ۔اب تک مہینا پورا نئیں ہوا نا؟“

مسکان نے ہنس کر پوچھا ۔”اچھا کتنی تنخواہ لینا چاہو گے ؟“

سادہ دل پٹھان بولا۔”کم از کم بارہ تیرہ ہزار تو ہونی چاہےے نا باجی؟“

”نہیں بارہ تیرہ نہیں ۔“مسکان شرارت پر اتر آئی ۔

”دس ہزار سے کم پر تو میں کام نئیں کر سکتا باجی ۔“

”نہیں دس بھی نہیں ۔“

”ٹیک ہے اے باجی اس مہینے جتنی چاے دے دینا ؟ہم نے مقرر نئیں کیا تھا ۔اس کے بعد اگر دس دینا اے تو ٹیک ہے ورنہ کوئی اور بندہ ڈونڈو۔“

اس نے سوچا۔”کتنی مختصر سی خواہشیں ہیں ؟“اسے دانیال یاد آیا جس نے تین ہفتوں کے چھے ہزار روپے لےے تھے گویا ایک ہفتے کے دو ہزار اور مہینے کے آٹھ ہزار۔

”اچھا خان بھائی !بیس ہزار تنخواہ ٹھیک رہے گی ؟“

”باجی !….یہ تو کچھ زیادہ اے۔“

”اچھا بائیس ہزار ؟“

”باجی مذاق تو نہ کریں ؟“مکرم خان جھینپ گیا تھا ۔

”بڑے بھائی سے مذاق نہیں کیا جاتا خان جی !“

”پر اتنا زیادہ رقم ؟“

”اچھا خان بھائی !….ایسا ہے کہ یہ دکان آپ تنہا چلاتے ہیں ،یا کو ئی ملازم ساتھ رکھتے ہیں آپ کو میں ماہانہ پچیس ہزار دوں گی ۔اگر ملازم رکھو گے تو اسے اپنے پچیس ہزار سے تنخواہ دو گے ۔باقی جو بچت تمھارے پاس ہے ،اس سے دکان کا سامان خرید لو۔ اور اس کے بعد جو بچت ہو وہ اپنے پاس اکھٹی کرتے رہنا اس کا مصرف میں تمھیں بعد میں بتا دوں گی۔“

”ٹیک ہے باجی ۔“وہ بھرپور خوشی سے بولا ۔”اللہ پاک آپ کو بہت سارا خوشیاں دے ۔“

مسکان نے مسکراے ہوئے کال منقطع کر دی ۔اور فریش ہونے کے لےے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔اس نے دل ہی دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ دانیال سے طلاق لینے کے بعد یہ دکان اور مکان دوبارہ دانیال کے حوالے کر دے گی ۔اسے یقین تھا کہ فریحہ کا دیوانہ بننے کے بعد وہ اس کے آگے چوں چراں نہیں کر سکے گا ۔

٭……..٭

”ہیلو !….“اس نے انجان نمبر سے آنے والی کال اٹینڈ کی۔

”دانیا ل صاحب !بات کر رہے ہیں ؟“مترنم نسوانی آواز سن کر وہ حیران رہ گیا تھا ۔

”جی ….جی دانیال ہی بات کر رہا ہوں ۔“

”دانیال میں فریحہ بول رہی ہوں ۔یاد ہے نا اس دن حماد کے ساتھ ہوٹل میں آپ سے ملاقات ہوئی تھی ۔“

”جی میڈم!“ وہ خوش شکل لڑکی اسے کیسے بھول سکتی تھی ۔

” کیا اس وقت اسی ہوٹل میں آسکتے ہو ؟“اس نے دل آویز لہجے میں پوچھا۔

”خخ….خیر تو ہے ؟“

وہ مترنم ہنسی عنایت کرتے ہوئے بولی ۔”ڈر لگ رہا مجھ سے ؟اتنی بری شکل تو نہیں ہے میری؟“

اس کی شکل دانیال کے حافظے سے مٹی نہیں تھی۔وہ بے ساختہ بولا۔”آپ تو لاکھوں کروڑوں میں ایک ہیں۔“

”اچھا آئیں نا ؟….آپ سے ایک ضروری بات کرنا ہے ۔“

”ٹھیک ہے میڈم میں تھوڑی دیر میں پہنچ جاتا ہوں ۔“

”کیا فری، یا فریحہ نہیں کہا جا سکتا ؟“وہ مصنوعی ناراضی سے بولی ۔

”مم….میں آپ ؟“وہ گڑ بڑ گیا ۔اس دن تو اس نے دانیال کی کافی توہین کی تھی مگر آج فون پر اس کا لہجہ شہد میں ڈوبا ہوالگ رہا تھا۔

فریحہ نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا۔”اچھا یہاں آو¿ پھر بات کرتے ہیں ۔“

”جی اچھا ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

وہ تین دنوں کے میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا ۔مسکان کے جانے کے بعد وہ نہا بھی نہیں سکا تھا بس پانچ وقت وضو کر لیتا ۔ایک غیر عورت کے پاس جاتے اسے جھجک محسوس ہوئی کہ اسی طرح میلے کچیلے حلےے میں چلا جائے ۔وہ غسل خانے میں گھس گیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ مطلوبہ ہوٹل کی طرف جا رہا تھا۔

فریحہ اسے منتظر ملی۔ہلکے گلابی رنگ کے سوٹ میں وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔اسے دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی ۔

”تھینکس دانی !….آپ نے مجھے مایوس نہیں کیا ۔“اس نے مصافحے کے لےے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔دانیال حیرت سے ششدر ر ہ گیا تھا ۔

اس کا بے تکلفانہ رویہ ،بے باکانا انداز اور آنکھوں سے پھوٹتی چاہت ۔سب کچھ اس کے لےے اچھوتا اور حیرت انگیز تھا ۔اس نے اپنا کھردرا ہاتھ اس کے ملائم ہاتھ میں دے دیا ۔جسے اس نے بڑے معنی خیز انداز میں دبا کر چھوڑ دیا تھا ۔

”بیٹھیں ۔“اسے بیٹھنے کا کہہ کر وہ خود بھی بڑے انداز سے بیٹھ گئی ۔”کہیں میری بے تکلفی بری تو نہیں لگی ؟“ دانیال کی خاموشی کو ددیکھ کر اس نے ایسے معصومانا انداز میں پوچھا کہ دانیال کا دل دھڑکنے لگا۔

”برا تو نہیں لگا میڈم ،البتہ حیرانی ضرور ہوئی ۔“

”بھلا وہ کیوں ؟“اس نے شرارت سے آنکھیں جھپکیں ۔گویا اس نے اپنے ترکش کے سارے تیر چلانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔

”کیوں کہ پچھلی بار آپ تھوڑی تلخ ہو گئیں تھیں ۔اور آپ کے الفاظ اب تک میری یاداشت میں زندہ ہیں۔“

فریحہ چہرے پر ندامت بھرے تا¿ثرات اجاگر کرتے ہوئے بولی ۔”دانیال صاحب !…. مجھے اپنی زیادتی کا احساس ہے ،اور آپ کو اسی لےے بلایا ہے کہ معافی طلب کر سکوں ۔جانے اس دن مجھے کیا ہو گیا تھا ۔ قسم سے آپ مجھے نہ تو بدصورت لگے تھے اور نہ کوئی اور کمی دیکھی تھی میں نے ۔بس آپ کی توجہ کی کمی مجھے ایسا رویہ اپنانے پر مجبور کر گئی ۔“

”توجہ کی کمی ؟“دانیال کی آنکھوں میں چھپی حیرت گہری ہو گئی تھی ۔

”ہاں توجہ میں کمی ،یاد ہے ، آپ نے کیا کہا تھا ؟اس سیٹھ زادی کو مجھ سے خوب صورت بتایا تھا اور ایک لڑکی بھلا کب دوسری لڑکی سے کم تر ہونا پسند کرتی ہے ۔“

”میڈم !….شاید مجھ سے غلطی ہو گئی تھی ،کہ اپنے دل کی بات زبان پر لے آیا تھا ،مگر بہ خدا ایسا میں نے آپ کی توہین کے لےے نہیں کہا تھا ۔اصل وجہ یہ تھی کہ ایک تو میں ایسی محفل کے آداب سے ناواقف ہوں کہ کبھی لڑکیوں کی معیت میں بیٹھنے کا موقع نہیں ملا۔ دوسرا آپ جانتی ہیں ہر کسی کو اپنی چیز پسند ہوتی ہے اور وہ میری ہونے والی دلہن تھی ۔“

”ہونہہ!….دلہن ۔“فریحہ نے منہ بنایا۔”پاگل وہ فقط آپ کو استعمال کر رہی تھی۔“

”شاید آپ سچ کہہ رہی ہیں؟“مسکان کے ذکر پر اسے بائیں سائیڈ کی پسلیوں کے نیچے میٹھا میٹھا درد محسوس ہونے لگا ۔

”شاید نہیں یقینا کہو ،اسے اپنے پیارے شوہر حماد کے پاس لوٹنا تھا ۔“فریحہ نے زہریلے لہجے میں انکشاف کیا ۔

”حم….ماد؟“دانیال کی آنکھیں حیرت کی شدت سے پھیلیں ۔

”جی ہاں حماد ….وہی حماد جس نے آپ کو اس شادی کے لےے تیار کیا تھا ۔“

”مم ….مگر ….وہ تو ….وہ تو ….آپ کا منگیتر….؟“

”یہ بھی محض جھوٹ ہے ۔اس نے مجھے بھی دھوکے میں رکھا ۔وہ مجھ سے بھی شادی کرنا چاہتا ہے کہ میں اسے خوب صورت لگتی ہوں اور مسکان کو بھی چھوڑنا نہیں چاہتا کہ وہ سیٹھ زادی ہے ۔مجھے پہلے علم نہیں تھا کہ مسکان اس کی بیوی ہے جسے وہ ایک دن غصے سے طلاق دے چکا ہے ۔اور اب دوبارہ اس سے شادی رچانا چاہتا ہے ۔یہ بات مجھے کل اپنی ایک سہیلی کی زبانی معلوم ہوئی اور میں اس دھوکے باز پر تھوک کر چلی آئی ۔“

دانیال خاموش رہا تھا ۔

”خاموش کیوں ہو گئے ؟کیا میری بات پر اعتبار نہیں ہے ؟“

”آپ سچ کہہ رہی ہیں ….کل یہی بات مشی ،نے مجھ سے بھی کی تھی کہ وہ اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جانا چاہتی ہے ۔لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کا پہلا شوہر کون ہے ؟“

”تم اس بے وفا کو مِشّی کہتے تھے ؟“فریحہ آپ سے تم پر آ گئی ۔

دانیال نے اثبات میں سر ہلادیا ۔

”ایسی عورتیں پیار کے قابل نہیں ہوتیں دانی ؟….جو کسی کے پیار ،محبت اور وفا کو دولت کے ترازو میں تولے اسے کیا پتا محبت کیا ہے؟….ایسی خود غرض صرف اپنے بھلے کی متلاشی ہوتی ہیں ۔“

مِشّی کے متعلق ایسے ریمارکس سن کروہ تڑپ کر رہ گیا۔

”میڈم پلیز !….ایسا نہ کہیں ۔اسے کچھ بھی نہ کہیں ۔“

”کیوں نہ کہوں ؟“فری بپھر گئی ۔”سیٹھ زادی کو اتنا احساس بھی نہ ہوا کہ ایک معصوم جوان پر کیا گزرے گی ،بس اپنا الو سیدھا کر کے چلتی بنی ۔“

”میڈم !….آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے ؟“دانیال نے موضوع بدلی کیا ۔اس سے مسکان کے خلاف بات برداشت نہیں ہو سکتی تھی ۔

”میں تمھیں کیسی لگتی ہوں ؟“فریحہ نے اپنی بڑی بڑی شربتی آنکھوں سے اسے گھورا۔

”کیا مطلب ؟“دانیال حیران رہ گیا تھا ۔

”دانی !….پتا ہے ایک عورت کیا چاہتی ہے ؟….کار ،کوٹھی، بنگلا؟نہیں ،بالکل نہیں ۔ ان آسائشوں سے وہ سکون حاصل نہیں کر سکتی ۔اسے تو بس ایک ایسا شوہر چاہےے ،جو اس کے ناز اٹھاتا رہے ، اس کا وفادار رہے ،اسے سر آنکھوں پر بٹھائے ،اس کی ہر خواہش کو حکم سمجھے ،اسے اتنا پیار دے کہ وہ خود کو بھول جائے ۔چاہے اس کی شکل و صورت کیسی ہی کیوں نا ہو؟ دیکھنے میں وہ جیسا بھی لگتا ہو ؟….بس یہی ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے ؟گو کچھ ناعاقبت اندیش اس بات کو سمجھ نہیں پاتیںاور جب ان کی آنکھیں کھلتی ہیں تو کچھ باقی نہیں بچا ہوتا۔ اور یاد ہے پہلی ملاقات میں تم نے اس سے ملتی جلتی باتیں کی تھیں ۔“

”ہاں یاد ہے ۔“دانیال نے اثبات میں سر ہلایا۔

”تو میں بھی تو ایک لڑکی ہی ہوں ؟“فریحہ نے خواب ناک لہجے میں کہا ۔ اسے لگا وہ اداکاری نہیں کر رہی بلکہ یہی حقیقت بھی ہے ۔

دانیال جان بوجھ کر انجان بن گیا۔نامعلوم اس کا دل کیوں لرزنے لگا تھا۔”اللہ پاک آپ کے نصیب میں ایسا ہی چاہنے والا لکھ دے آمین۔“

”وہ چاہنے والا !….دانی بھی تو ہو سکتا ہے ؟“

”میڈم !….آپ میری کہانی سننا پسند کریں گی ؟“

”ہاں ۔“فریحہ نے دل چسپی ظاہر کی ۔

جواباََدانیال نے چند لمحے سوچ کر واقعات کوذہن میں ترتیب دیا اور پھر بولا۔

”میڈم !….میںنے ایک مزدور گھرانے میں آنکھ کھولی۔میرا بچپن اور لڑکپن ایسے ہی گزرا جیسے غریب بچوں کا گزرا کرتا ہے ۔میں نہم جماعت میں تھا کہ ابو جان کا انتقال ہوا ۔ معاشی مسائل نے آنکھیں دکھائیں ۔پڑھائی ترک کر کے میں نے آبائی پیشہ اختیار کیا۔لڑکپن میں مزدوری کتنی سخت ہوتی ہے ۔اس کا اندازہ کرنا شاید آپ کے لےے مشکل نہ ہو ؟بہ ہر حال اللہ پاک نے توفیق دی اور میں نے گھر کا چولھا بجھنے نہ دیا ۔ لیکن زندگی میں کھانا پینا ہی سب کچھ نہیں ہوتا ۔خاص کر جوان بدن کے تقاضے عجیب قسم کی سوچوں اور خیالات کوجنم دیتے ہیں۔ایک نوجوان کے لےے سب سے زیادہ پرکشش عورت کی ذات ہوتی ہے ۔وہ ایسی عورت کے خواب دیکھتا ہے جس کی طرح خوب صورت کوئی دوسری نہ ہو ؟بلکہ میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ ہر جوان کا خواب میڈم فریحہ جیسی لڑکی ہوتی ہے ۔میرا بھی یہی خواب تھا……..“وہ ایک لمحہ سانس لینے کو رکا ۔فریحہ کو لگا وہ آج اسی نشست میں اپنا مقصد حاصل کر لے گی ۔دانیال کی بات جاری رہی۔

”مگر تلاش بسیار کے باوجود خوب صورت و دلکش لڑکی تو درکنار صرف لڑکی نہ مل سکی ۔کسی جگہ غربت آڑے آئی کسی جگہ میری شکل و صورت۔تنگ آکر میں نے چور رستے سے اس جنس نایاب کو پانے کی کوشش کی اور ایک کسبی کے گھر جا نکلا۔مگر یقین کرو میڈم !….عورت کی یہ تذلیل مجھ سے دیکھی نہ گئی ۔میں نے کبھی اس طرح عورت کی خواہش نہیں کی تھی ۔ میں اسے چھوئے بغیر بھاگ نکلا۔وہاں موجود بوڑھی دلالہ نے مجھ پر آوازے کسے ،مگر میں غیرت کے نام پر بھی وہ بے غیرتی نہ کر سکا ۔میرے پاک پروردگار نے مجھے بچا لیا ۔لیکن یہ تجربہ میرے دل سے صنف نازک کی محبت ختم نہ کر سکا اور ……..“ دانیال سارے واقعات تفصیل سے فریحہ کے گوش گزار کرتا گیا ۔”……..اور پھر ایک دن مجھے حماد بھائی ملا ۔اور اس کی بہ دولت مجھے مسکان نصیب ہوئی ۔ سچ کہوں تو اس جیسی نہ پہلے کبھی دیکھی اور نہ پھر کبھی ممکن ہے ۔میں نے اسے اتنی چاہت دی ، اتنا پیار دیا ،اتنی توجہ دی ، لیکن مجھے کیا پتا تھا کہ ،وہ کسی اور کا نصیب ،کسی اور کی قسمت ہے۔ وہ چلی گئی ۔مجھے چھوڑ کر چلی گئی ؟وہ کیا کہتے ہیں….؟ “

پیار کی راہ پہ انگلی تھامے اندھا دھند چل پڑتے ہیں

نا سمجھی میں مر جاتے ہیں ہم سے سیدھے سادھے لوگ

دانیال کی آنکھیں نمکین پانی سے لبریز ہو گئیں ۔وہ ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے بولا۔

”مجھے کیا پتا تھا وہ کسی غرض سے میرے پاس آئی ہے ۔اور پتا ہے اس نے احساس گناہ کم کرنے کے لےے مجھے کار ،مکان اور ایک دکان بناکر دی،مگر یہ بھول گئی کہ میں دولت کا نہیں اس کے پیار کا بھوکاہوں۔ دولت کے حصول کے لےے میں نے بہت کوششیں کیں ،مگربہ خدا ،ان کوششوںکا مقصد دولت نہیں، بلکہ دولت کے حصول کے پسِ پردہ شریک حیات کا حصول تھا۔اور مِشّی کو پانے کے بعد میرے سپنوں کو تعبیر ملی۔ اس نے چند ہفتوں کی صورت میںپیار کی جوبھیک میری جھولی میں ڈالی ہے وہ میری زندگی کا حاصل ہے ۔میڈم آپ یقین کریں ا ب مجھے کوئی لڑکی اچھی نہیں لگتی کوئی بھی نہیں ۔بس مشی کو سوچنا ،اس کے خواب دیکھنے ،اس سے خیالوں میں باتیں کرنا ، اسے ستانا،اسے منانااور ….اور بس اس کے علاوہ کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں چاہےے مجھے ۔میں جانتا ہوں وہ اب مجھے نہیں مل سکتی ۔حماد صاحب کے مقابلے میں میری شکل و صورت، بس سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے ۔ اسی طرح شاید اس نے مشی کو مجھ سے زیادہ محبت بھی دی ہو۔“

فریحہ سانس روکے اس کی کہانی سن رہی تھی ۔اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے ۔اس کے ذہن میں خیال آیا۔”کیا حماد بھی مجھے اتنا ہی چاہتا ہے ؟“جواب اسے نفی کی صورت میں ملا ۔”اگر وہ اسے اتنا چاہتا تو یوں دولت کی خاطر مسکان کے در پرنہ پڑا ہوتا ۔“

اگلا سوال اس نے خود سے کیا”کیا میں اسے اتنا چاہتی ہوں ؟“اس مرتبہ بھی حاصل جواب نفی ہی نکلا۔”میںنے بھی تو دولت کے لےے اپنے محبوب کے لےے دوسرا حصے دار تسلیم کر لیا ۔“

”میڈم !….کس سوچ میں پڑ گئی ہو ؟“اسے خاموش پا کر دانیال نے سوال کیا ۔

وہ چونک گئی ۔فوراََ اس کا ذہن اپنے مقصد کی طرف متوجہ ہوا ۔

”دانی !….میں نے کوئی سوال کیا ہے ؟….کیا میں مسکان کی جگہ لے سکتی ہوں ؟“ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر بولی ۔

”میڈم !….بچپن ہی سے حوروں کے حسن کے چرچے سنتا آرہا ہوں ۔اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اللہ پاک کسی حور کو زمین پر اتار دے تو شاید وہ آپ کو دیکھ کر شرم ساری سے واپس لوٹ جائے۔“

فریحہ کو اس کی تعریف کا بے ساختہ انداز بہت اچھا لگا ۔وہ کھل کھلا کے ہنستے ہوئے بولی ۔

”دانی !….یہ میری بات کا جواب نہیں ہے ،سوال یہ ہے ….کہ کیا میں مسکان کی جگہ لے سکتی ہوں ؟“

اس مرتبہ دانیال نے خاموشی سے سر جھکا لیا ….

”دانیال !….کیا وہ مجھ سے خوب صورت ہے ؟“فریحہ کی سانس اتھل پتھل ہونے لگی ۔ دانیال اسے حیران کےے دے رہا تھا ۔

”نہیں میڈم !….میں یقین سے کہہ سکتا ہوں، کہ کسی سے بھی پوچھا جائے تو وہ یہی کہے گا میڈم فریحہ خوب صورت ہے ….لیکن ….؟“

” لیکن کیا….؟“اس نے بے صبری سے پوچھا ۔

وہ صا ف گوئی سے بولا۔”وہ آپ سے خوب صورت نہیں ہے پر ،مجھے لگتی ہے ۔ہر کسی سے زیادہ پیاری لگتی ہے۔“

”کیا مجھے ٹھکرا دو گے ؟“اسے اپنی آواز پاتال سے آتی محسوس ہوئی ۔اسے لگا وہ سچ مچ دانیال سے محبت کی بھیک مانگ رہی ہے ۔

”میڈم !….میں نہیں جانتا آپ کی اس آفر کے پیچھے کیا مقصد پنہاں ہے ؟البتہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کم از کم آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے ۔لیکن آپ کسی غرض کے بغیر آئی ہوتیں اور سچ مچ آپ کے دل میں میری محبت چھپی ہوتی ،تب بھی میں آپ کا ساتھ نہ دے پاتا۔حالانکہ آپ جیسی صورت گداو¿ں کے نہیں شاہوں کے حرم کی زینت ہوتی ہے پھر بھی اس فقیر کو بس مشی چاہےے ۔“

فریحہ کو حیرت کا جھٹکا سا لگا ۔وہ سادہ دل مزدور اتنا خطرناک قسم کا قیافہ شناس ہو گا اسے معلوم نہیں تھا۔ خاموش رہنا اس کے اندازے کو سچا ثابت کرنا تھا ۔وہ غصے سے گویا پھٹ پڑی۔

”شٹ اپ !….کیا میں تمھیں دھوکے باز لگتی ہوں ؟….ہر لڑکی کو تو نے مسکان سمجھ رکھا ہے؟“ یہ کہتے ہی وہ وہ اپنی جگہ پر کھڑی ہوگئی ۔مگر اس سے پہلے کہ وہ روانہ ہوتی ،دانیال نے اس کا ملائم ہاتھ پکڑ لیا ۔

”نہیں میڈم !….ایسے نہیں ۔بیٹھو میری بات سنو ۔“

اس کے ہاتھ کو کئی بار حماد نے پکڑا تھا مگر اس کالے کے کھردرے ہاتھوں میں جانے کون سا جادو تھا کہ فریحہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔عجیب قسم کی خواہشیںنے سر ابھارنے لگیں ۔ دانیال کی جرا¿ت اسے حیران کن لگی ۔وہ سخت لہجے میں بولی ۔

”چھوڑو میرا ہاتھ۔“

”نہیں چھوڑو ں گا ۔“دانیال نے انکار میں سر ہلایا۔

”چھوڑو ورنہ سب کے سامنے تھپڑ لگا دوں گی ۔“اس نے غصہ ظاہر کیا ۔

”نہیں مارو گی ؟“دانیال کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا ۔

”کیوں نہیں ماروں گی ؟“

”اس کے دو جواب ہیں ۔نمبر ایک تھپڑ مارنے والے دھمکی نہیں دیتے ۔اور نمبر دو اتنے نازک ہاتھ جب اس تھوبڑے پر لگیں گے تو درد نہیں کرنے لگ جائیں گے کیا؟“

فریحہ کے چہرے پر مسکراہٹ ظاہر ہوئی اور وہ بیٹھ گئی ۔

”دانی !….کیا یہ باتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لےے میرا نصیب نہیں بن سکتیں؟“

”میڈم !….اگر آپ اپنا مطمح نظر بتا دیں تو مہربانی ہو گی ؟“

فریحہ نے پینترا بدلا۔”دانی !….سچ تو یہ ہے کہ میں ایک غریب لڑکی ہوں ۔تمھاری مسکان نے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں تمھارے ساتھ شادی کر لوں تو وہ مجھے مالا مال کر دے گی ۔بس لالچ میں آ گئی ۔حماد ایسے ہی مجھے دھوکا دے چکا ہے ۔ اب زندگی کا کوئی مصرف ہی نظر نہیں آتا ۔“

”میڈم !….میں آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔میں مِشّی کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتا ۔ اگر آپ سے شادی کر بھی لوں تو مشی مجھے نہیں بھولے گی ۔ اور شاید دن رات اس کا تذکرہ آپ سے برداشت نہ ہو ؟ سب سے بڑھ کر مشی کو طلاق میں اس صورت میں بھی نہیں دوں گا ۔“

”وہ با آسانی، عدالت سے خلع لے سکتی ہے ؟“فریحہ ایک بار پھر اسے سمجھانے جت گئی ۔

دانیال نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔”بے شک لے سکتی ہے ،بلکہ امید واثق یہی ہے کہ جج مجھے دیکھتے ہی بغیر کسی دوسری دلیل کے کیس کا فیصلہ مشی کے حق میں کر دے گا ؟“

”تو پھر ؟“

”پھر یہ کہ میں اس کے بعد بھی مشی کو طلاق نہیں دوں گا ۔ساری زندگی اس کے انتظار میں گزار دوں گا ۔ اگر پوری دنیا بھی اسے دھتکار دے گی تب بھی میری بانہیں اسے گلے سے لگانے کے لےے پھیلی رہیں گی ا ورمیری آنکھیں اس کی راہ میں بچھی رہیں گی وہ کیا کہتے ہیں ….“

ہم یہ آنکھیں تمھارے رستے میں

زندگی بھر بچھا کے رکھیں گے

فریحہ نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا ۔دانیال اس کے لےے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوا تھا ۔

”دانی !….وہ اس ہٹ دھرمی پر مشتعل ہو کر تمھیں کوئی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ؟“

”ہاں یہ دھمکی وہ دے چکی ہے ۔اسے تو میں نے مطلع کر دیا تھا آپ سن لیں کہ اب مجھے موت زندگی سے بہت پیاری لگنے لگی ہے ۔میرے لےے سب سے بڑا صدمہ مشی کی جدائی کا تھا ۔وہ میں جھیل چکا ہوں ۔“

”اچھا !….پتا ہے ؟ صبح سے ہم باتیں کر رہے ہیں لیکن کھانے پینے کے بارے ویٹر کو کچھ نہیں بتا سکے ہیں ؟“ فریحہ نے ہنستے ہوئے موضوع بدلا۔دانیال کی نفسیات دیکھ کر اسے وہ آسان کام بہت مشکل لگنے لگا تھا ۔

دانیال نے پوچھا ۔”آپ بتائیں کیا پسند کریں گی ؟“

”مہمان تم ہو ؟“

”نہیں ….یہ آپ کا گھر نہیں ہوٹل ہے اور ہوٹل کا بل مرد کے ذمہ ہوتا ہے ۔“

”کچھ بھی کہو…. بلایا تو میں نے تھا ؟“فریحہ اڑ گئی ۔

”بھائی !….چاے اور کچھ کھانے کو لے آو¿۔“دانیال نے قریب سے گزرتے بیرے کو آرڈر پاس کر دیا ۔

”دانی !….میں اتنی غریب نہیں ہوں جتنا تم نے سمجھ لیا ہے ؟“

”اچھا چھوڑو اس لایعنی بحث کو ؟میری ایک بات مانو گی ؟“

”سن کر ہی کچھ بتا سکوں گی ؟“فریحہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا ۔

”نقاب اوڑھا کرو ۔“

”کیا ؟“وہ متعجب انداز میں ہنسی ۔”بھلا یہ کیا بات ہوئی ؟“

”میڈم !….ذرا دائیں بائیں کی ٹیبلز پر نظر دوڑاو¿ ؟“

”ہاں تو کیا ہے ؟“اس نے چاروں طرف سرسری نظر ڈالی زیادہ تر مرد اسی کی جانب متوجہ تھے اور اس قسم کی بھوکی نظروں کی وہ عادی ہو چکی تھی ۔

”حرام خور گدھ بھی انھی نظروں سے اپنے شکار کو گھورتے ہیں ؟“

وہ بے پرواہی سے بولی ۔”تو گھورتے رہیں مجھے کیا ؟“

”شاید تمھارے شوہر کو یہ پسند نہ آئے ۔یقین کرو میں بڑی مشکل سے برداشت کےے بیٹھا ہوں ۔ اگر آپ کی غلطی نہ ہوتی تو اب تک جانے کتنوں کا گریبان تھام چکا ہوتا؟“

”مگر کیوں ؟“اس کی حیرانی دو چند ہو گئی ۔

”میڈم !….اگر آپ میری ہوتیں تو میں کیسے برداشت کرتا ،کہ کوئی اور آپ کو دیکھے ۔“

”ہا….ہا….ہا….گویا تم مجھ پر کسی کی نظر بھی نہ پڑنے دیتے ؟“

”ہاں ….کسی بھی غیر مرد کی نظر نہ پڑنے دیتا ۔آپ ذرا دائیں طرف پانچویں میز پر بیٹھی لڑکی کو دیکھیں ؟“

مطلوبہ جانب فریحہ کو ایک نقاب پوش لڑکی اپنے ساتھی کے ساتھ بیٹھی نظر آئی ۔

”میڈم !….پتا نہیں وہ خوب صورت ہے یا بدصورت ۔لیکن اس کے سامنے موجود مرد جو یقینا اس کا شوہر ہو گا اسے معلوم ہے وہ کیسی ہے ۔باقی مردوں کی گندی نظروں سے وہ بچی ہوئی ہے ۔اگر شوہر کو وہ پسند ہے تو اسے کسی دوسرے کی پسندیدگی کی کیا ضرورت ؟اور اگر شوہر کو ناپسند ہے تو کسی دوسرے کی پسندیدگی سے اسے کیا حاصل ؟….میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ دلہن کو سجایا جا رہا تھا ،جو عورت آتی اس کے حسن کی تعریف کرتی مگر وہ دلہن ان ساری تعریفوں سے بے نیاز کسی گہری سوچ میں تھی ۔ایک قریبی سہیلی نے اس سے پوچھا کہ ….

”سب عورتیں تمھاری تعریف کر رہی ہیں تمھیں اس بات پرخوشی نہیں ہو رہی ؟“

اس دلہن نے بڑا پیارا جواب دیا کہنے لگی ۔”خوشی تو تب ہو گی ؟کہ جس کے لےے مجھے سجایا جا رہا ہے اسے بھی اتنی خوب صورت اور پیاری لگوں …. ان سب عورتوں کی تعریف یا تنقید سے مجھے کیا حاصل ؟“

دانیال کی بات نے اسے سوچ میں ڈال دیا تھا ۔ایک دم اسے چبھتی نظروں کا احساس ہوا اور وہ کسمسا کر رہ گئی ۔ اسی وقت بیرے نے بھی آکر ان کے سامنے چاے اور کھانے کے لوازمات رکھ دےے ۔

”میڈم میری بات بری تو نہیں لگی ؟“

”نہیں۔“ اس نے گلے میں جھولتا مختصر سا دوپٹا سر پر جمانے کی کوشش کی مگر وہ فیشن ایبل دوپٹا عورت کی تکریم کے تقاضے کہاں پورے کر سکتا تھا ۔

”میں جانتا ہوں آپ شاید میرا دل رکھنے کے لےے ایسا کہہ رہی ہیں ،مگر فری ،یقین کرو یہ عورت کی توہین ہے ۔ بہت سوں کو کہتے سنا ہے کہ پردہ آنکھ کا ہوتاہے۔اگر یوں ہے پھر تو سارے کپڑے اتار دینے چاہییں ۔ کیونکہ حیا والا بغیر کپڑوں کی عورت کو بھی نہیں دیکھے گا اور بے حیا کے تصور میں تو کپڑوں والی بھی برہنہ ہے ۔“ وہ میڈم سے براہ راست فری کہنے پر اتر آیا۔

”بہت سخت بات کہہ دی ہے تم نے ؟“فریحہ سنجیدہ ہو گئی تھی۔

’ہاں !….مگر حقیقت ہے ۔آپ نے یہ بھی سنا ہو گا کہ مغرب زدہ، بیمار ذہنیت کی عورتیں ،آزادی نسواں کے خوش کن نعرے ،مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کے دعوے اور مرد عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں، جیسی کہاوتیں سنا کر شور مچاتی رہتی ہیں ۔ کوئی ان سے پوچھے ،کیا آزادی کا مطلب لباس کی قید سے آزاد ہونا ہے ؟…. مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا مطلب، مردوں کی مشکلات میں ان کا ہاتھ بٹانا ہے یا کہ غیر مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنی عزت کا جنازہ نکالناہے اور جہاں تک ایک گاڑی کے دو پہیوں کا تعلق ہے تو گاڑی تب ہی چلتی ہے جب دونوں پہیے اپنی اپنی جگہ گھومتے ہیں ۔اگر دونوں پہےے ایک سائیڈ پر لگا دیں تو گاڑی نے گرنا ہی ہے ۔مرد کی ذمہ داریاں گھر سے باہر کی اور عورت کی گھر کی حدود میں ۔ کتنی پیاری اور مناسب تقسیم ہے ۔ایک عورت کو شوہر ،بھائی اور باپ کو کھانا پیش کرنا برا لگے اور غیر مردوں کے سامنے ویٹرس کی ڈیوٹی کرتے ہوئے وہ خود کو آزاد محسوس کرے کیا اندھی منطق ہے ؟“

فریحہ متاثر کن لہجے میں بولی ۔”دانی !….تمھاری تعلیم مڈل ہے اور باتیں پروفیسروں کی طرح کر رہے ہو ؟“

”آپ نے میری بات ماننا ہے کہ نہیں؟“

”دانی!…. مجھے عجیب سا لگے گا ۔“وہ سچ مچ روہانسی ہونے لگی ۔

”نہیں لگے گا ۔آپ اٹھیں چلیں میرے ساتھ ۔“وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا ۔

”مگر کہاں ؟“

”چلنا ہے کہ نہیں ؟“وہ مصر ہوا ۔

”اچھا چلتی ہوں ۔“وہ کھڑی ہو گئی ۔دانیال نے کاو¿نٹر پر جا کر بل ادا کیا ۔فریحہ جانے کیا سوچ کر خاموش رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹیکسی میں بیٹھے مارکیٹ کا رخ کر رہے تھے۔ایک کپڑے کی دکان سے دانیال نے کالے رنگ کی خوب صورت سی چادر خریدی اور فریحہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔

”لو یہ اوڑھو ۔“

”پاگل !….“اس نے ہولے سے مسکرا کر کہا اور چادر لے کر اوڑھ لی ۔یوں کہ اس کی صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔

”حیا عورت کا زیور ہے فری ؟“دانیال چاہت سے بولا۔”اورآو¿ اب تمھیں گھر چھوڑ دوں ۔“

”دانی !….کل ملنے آو¿ گے ؟“

”نہیں ۔“دانیال نے نفی میں سر ہلایا۔”کل سے میں مزدوری کے لےے جاو¿ں گا ۔“

”کیا ؟ اب بھی اپنی بات پر قائم ہو ۔مسکان سے سودانھیں کرنا ؟“

”کیسا سودا ؟“

”طلاق کے بدلے ،کار ،دکان اور مکان لینے کا سودا۔“

”نہیں ۔وہ کیا کہتے ہیں ….“

دل میں ہوتا تو کسی طور نکل بھی جاتا

اب تو وہ شخص بہت دور تلک ہے مجھ میں

”اگر میں کہوں پھر بھی نہیں ؟“فریحہ نے بڑے مان سے کہا۔

”فری !….تم بہت اچھی ہو ۔میں جانتا ہوں مجھے موت کے حوالے کرنے پر تم قطعی تیار نہیں ہو گی؟“

اس مرتبہ فریحہ خاموش ہو گئی تھی ۔اسے محسوس ہوا وہ کالا اسے بہت اچھا لگ رہا ہے ، اپنا اپنا،بہت قریبی ،کوئی ایسا جسے وہ برسوں سے جانتی ہے ،کوئی ایسا جس سے وہ ہر بات منوا سکتی ہے ،کوئی ایسا جو اس کی بہت عزت اور خیال رکھنے والا ہے اور کوئی ایسا جس کی جان اسے عزیز ہے ؟“

”خفا ہو ؟“اسے خاموش پا کر دانیال نے پوچھا ۔

”نہیں ۔“

”چپ کیوں ہو گئیں ؟“

”یونھی ….کہنے کو کچھ رہاہی نہیں ہے ۔کیا کہوں ؟“

دانیال پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”میں تمھیں بہت بدصورت لگتا ہوں ….ہے نا ؟“

فریحہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا،اور پھر اس کا کھردرا ہاتھ اپنے ملائم ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولی ۔”اگر گھنٹا بھر پہلے مجھ سے یہ پوچھا جاتا اور میں سچ بولنے پر مجبور ہوتی تو، میرا جواب اثبات میں ہوتا ۔“

”اور اب ؟“

وہ چند لمحے اس کے چہرے کو گھورتی رہی اور پھر بے ساختہ جھک کر اس نے دانیال کی ہتھیلی پر یاقوتی لب رکھ دےے ۔

دانیال کی آنکھوں میں نمی ظاہر ہوئی ۔”فری !….کاش تم مجھے مشی سے پہلے ملی ہوتیں ؟“ یہ کہہ کر اس نے ڈرائیور سے ٹیکسی روکنے کو کہا ۔

اس نے سائیڈ پر کرتے ہوئے ٹیکسی روک دی۔

”کیا ہوا ؟“فریحہ نے پوچھا ۔

”فری !….اپنا بہت خیال رکھنا ،بہت زیادہ ۔آئندہ مجھے کال کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔ میں تمھاری چاہت کے قابل نہیں ہوں ۔ایک تہی دست اور مفلس شخص ہوں ۔ایک د ل تھا میرے پاس جو ،اب کسی اور کے قبضے میں ہے ۔“

”دانی !….میں تمھیں کچھ بتانا چاہتی ہوں ؟“

”کوئی ضرورت نہیں ،میں تمھارے بارے اچھی سوچ رکھتا ہوں،سچ کی ملاوٹ سے اسے تلخ نہیں کرنا چاہتا ۔“ یہ کہہ کر اس نے جیب سے اپنی آخری پونجی نکالی اور ٹیکسی ڈرائیور کو کرائے کی مد میں دے دی ۔وہاں سے اسے پیدل ہی گھر تک جانا تھا ۔فریحہ اداسی سے اسے جاتا دیکھتی رہی ۔اس کے دل میں اس مخلص ،سادے اور محروم شخص کے بارے بہت زیادہ ہمدردی جمع ہو گئی تھی ۔

”باجی!…. چلیں ؟“ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا ۔

اس نے چہرے سے لپیٹی چادر درست کرتے ہوئے کہا ۔”ہاں چلو ۔“

اور ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ٹیکسی آگے بڑھا دی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: