Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 17

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 17

–**–**–

۔“

فریحہ کی بات سن کر حماد ششدر رہ گیا تھا۔

”پہلے ہی دن ناکامی کا اعتراف کر رہی ہو ؟“

”ہاں !….کیونکہ وہ جان تو دے سکتا ہے، مسکان کو طلاق نہیں دے سکتا ۔“

”مطلب اسے زندگی عزیز نہیں ہے ؟“حماد کے لہجے میں درندگی جھلکی ۔

”حماد !….تم ایسا کچھ نہیں کرنے والے ؟“فریحہ کے لہجے میں چھپی گھبراہٹ اسے حیران کر گئی۔

”فری !….کیا ہوا ہے تمھیں ؟“

”مم….مجھے کچھ نہیں ہوا ؟“اس نے گڑبڑاتے ہوئے وضاحت کی ۔”لیکن میں تمھیں قاتل نہیں دیکھنا چاہتی؟“

”شٹ آپ یا ر!“حماد نے اسے جھڑکا ۔”میرے سارے منصوبے کی راہ میں ایک احمق روڑے اٹکا رہا ہے اور تم اس کی طرف داری کر رہی ہو ؟“

”یو شٹ آپ !….“فریحہ تپ کر بولی ۔”وہ میرا یار ہے نا کہ تم اس طرح بکواس کر رہے ہو ؟تم اچھی طرح جانتے ہو اس کے بارے میرے دل میں کیا ہے؟پھر ایسی بکواس کا مطلب ؟“

”فری !….کامیابی چند قدم کے فاصلے پر رہ گئی ہے ؟اور ایک گدھا فضول ضد میں اڑ گیا ہے ۔ پتا ہے نا ….؟ جب گھی سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو کیا کیا جاتا ہے؟“

”ہاں ….پتا ہے ؟گھی گرم کر لیا جاتا ہے ۔کیونکہ ٹیڑھی انگلی ڈبے میں پھنس کر زخمی بھی ہو سکتی ہے ؟“

”فری!….میں مذاق نہیں کر رہا ؟“

”میں بھی مذاق نہیں کر رہی ۔تم دانیال کو ہاتھ بھی نہیں لگاو¿ گے ۔وہ ایک مظلوم اور بے ضرر شخص ہے۔“

”تو کیا کروں ؟“

فریحہ نے کہا۔”ایک بات پوچھوں ؟“

وہ بے زاری سے بولا۔”پوچھو؟“

”دولت عزیز ہے یا فری ؟“

”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ؟“

”وضاحت کرو؟“

”فری عزیز ہے ۔“

”ٹھیک ہے ۔لعنت بھیجو اس دولت پر مجھے نہیں چاہےے یہ عیش ۔بہت ہو گیا تم میرے پاس آ جاو¿؟“

”فری !….ہر وقت فضول کی نہ ہانکتی رہا کرو؟“

وہ جذباتی ہو گئی ۔”بس !….یہی محبت تھی۔اس احمق ،گنوار اور گدھے نے تو اپنی مسکان کے لےے ہر قسم کی آسائش کو ٹھوکر مار دی ۔ویسے صحیح کہتے ہو کہ وہ احمق ہے، کوئی احمق ہی ایسا کر سکتا ہے ۔ورنہ عقل و شعور رکھنے والا ایک لڑکی کے لےے بھلااتنی قربانی دے سکتا ہے ؟…. یوں بھی دولت ہو تو کئی لڑکیاں مل سکتی ہیں۔ پیسے کی جھلک دکھاو¿ ،کئی فریحائیں دوڑ کر گلے سے لگ جائیں گی ۔اور دولت نہ ہو تو کوئی خانہ بدوش بھی نہیں ملتی ؟“

حمادنے زہر خند لہجے میں پوچھا ۔”اس ساری بکواس کا مطلب ؟“

وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی۔”تم دانیال کو کچھ نہیں کہو گے ؟“

حماد اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا بولا۔”وہ کل کا سورج نہیں دیکھ سکے گا ۔“یہ کہہ کر وہ جانے کے ارادے سے مڑا ۔مگربہ مشکل دو تین قدم لے پایا ہو گا کہ اسے فریحہ کی آواز سنائی دی ۔

”حماد !…. یہ میرا وعدہ ہے تمھارے ساتھ ،اگر دانیال مرا توفریحہ بھی تمھیں زندہ نہیں ملے گی ؟“

٭……..٭

حماد کے قدم رک گئے تھے ۔وہ تعجب سے فریحہ کی طرف مڑا ۔

”تمھاری اس بکواس کا مطلب کیا ہے ؟“

وہ اطمینان سے بولی ۔”وہی جو تم نے سمجھا ۔“

”میرا خیال ہے وہ کالا تمھیں کچھ زیادہ ہی عزیز ہو گیا ہے ۔“

”اگر تم دیکھنے والی نظر رکھتے تو یقینا اس بات میںتمھیںمیر ی وہ محبت نظر آجاتی جو تم پر کوئی آنچ آتے نہیں دیکھ سکتی ۔“

”وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔چند لمحوں بعد اس کے منہ سے نکلا۔

”فری !….تم کیا چاہتی ہو ؟“

وہ حتمی لہجے میں بولی ۔”تمھیں قتل کی اجازت نہیں دوں گی ….اینڈ ڈیٹس آل ۔“

اس نے جھلا کر پوچھا ۔”تو پھر یہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی ؟“

”میں نہیں جانتی ۔“

”میں جانتا ہوں ….لیکن تمھارا رویہ میرے لےے حیران کن ہی نہیں پریشانی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ یہ سارا پلان پہلے سے طے تھا ۔“

”نہیں ….صرف مسکان کی موت پہلے طے ہوئی تھی ۔اور اب میرا جی اس سے بھی کھٹا ہو گیا ہے۔“

”یہ بکواس اپنے پاس رکھو ۔فی الحال میں اس حبشی سے نبٹنے کا کوئی پلان سوچ لوں ،پھر دیکھوں گا تم کیسے روکتی ہو مجھے ؟“ یہ کہہ کر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر چل دیا ۔اس مرتبہ فریحہ نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اس کے جاتے ہی وہ بیڈ پر لیٹ کر اس گورکھ دھندے پر غور کرنے لگی۔اس کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کا کیا بنے گا ؟….حماد کی محبت جس پر اسے کبھی ناز ہوا کرتا تھا ،آج دانیال کی محبت کے سامنے ہیچ نظر آ رہی تھی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ مسکان اتنی خوش قسمت ہو سکتی ہے ۔دانیال کی بے لوث چاہت نے اس کی سوچ میں بھی انقلاب پیدا کردیا تھا ۔وہ کالا کلوٹا جسے وہ شرم سار کرنے گئی تھی ،وہ بد صورت جسے اس نے نیچا دکھانا تھا ، وہ کنگلا جس نے اس کے انتقام کا نشانہ بننا تھا ،اسے پتا ہی نہ چلا وہ اسے کیسے اتنا اچھا لگنے لگااوراسے بے حد ہمدردی محسوس ہونے لگی ۔اس ہمدردی کے پس پردہ کیا جذبہ کا رفرما تھا یہ وہ نہ جان سکی ۔

٭……..٭

مسکان کے لےے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ دانیال فریحہ جیسی لڑکی کو دھتکار دے گا ۔ مگر حماد کے چہرے پر چھائے ناکامی کے واضح تاثرات اس ان ہونی کی تائید کر رہے تھے ۔

”اب کیا ہوگا ؟“اس نے سرسراتے لہجے میں پوچھا ۔

”اب ؟….اب تم دیکھنا میں کیا کرتا ہوں ؟“حماد کی آنکھیں شعلے برسانے لگیں ۔ اس کے ساتھ وہ دل ہی دل میں اس دن کو کوس رہا لگا جب اس نے ایسے خبطی کو استعمال کرنے کے بارے سوچا تھا۔

”حماد!…. پلیز کوئی غلط حرکت نہ کرنا ۔“

”تم فکر نہ کرو ،کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے میں قانون کی گرفت میں آ سکوں ؟“

”پھر بھی ؟بتاو¿ تو سہی ؟مجھے پریشانی ہو رہی ہے ؟“

”ساری پریشانیاں اور تفکرات بھلا کر آرام کرو ۔ ان سب پریشانیوں کے لےے میں ہوں نا؟“ یہ کہہ کر وہ اپنی خواب گاہ میں گھس گیا ۔ایک مبہم سا منصوبہ اس کے ذہن میں تھا ۔اور وہ اکیلے میں غور کر کے اسے حتمی شکل دینا چاہتا تھا ۔

اس کے جانے کے بعد مسکان نے سالن کا ڈونگا اپنی جانب کھسکایااور پلیٹ میں سالن نکال کر کھانے لگی ۔اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ جاری تھی ۔دانیال نے اپنے ہر دعوے کو سچ کر دکھایا تھا۔اس کی مسکان سے محبت میں کوئی کھوٹ بھی نہیں مل پایا تھا ۔

کھانا کر وہ تھوڑی دیر کوٹھی میں لگی نرم گھاس پر ننگے پاو¿ں ٹہلتی رہی اور پھر اپنے کمرے میں آگئی۔ بیڈ پر لیٹ کر وہ اس گتھی کو سلجھانے لگی کہ آخر اس پریشانی کی خبر میں خوشی کا کون سا پہلو پنہاں ہے کہ اس کا دل باغ باغ ہو رہا ہے ۔اسے اپنے ان احساسات پر ندامت ہوئی ۔اگر حماد اُس کی یہ کیفیت جان لیتا تو وہ اسے منہ دکھانے کے بھی قابل نہ رہتی ۔اس کے دماغ میں رہ رہ کر حماد کا وہ فقرہ گونجنے لگتا کہ جو اس نے اسے ایبٹ آباد سے واپس بلانے کے لےے کہا تھا ۔

” یہ تو ایک بدصورت مرد کے ساتھ تمھارابرتاو¿ ہے، اگر کوئی خوب صورت مردہوتا تو شاید تم ہر حد عبور کر لیتیں، ہے نا ….؟“

”وہ حماد کی محبت میں سرخ رو رہنا چاہتی تھی۔اس نے دانیال کی سوچوں کو دماغ سے جھٹکا اور حماد کے ساتھ بِتائے سہانے پل یاد کرنے لگی ۔ شروع شروع میں وہ کیسے اس کی گاڑی کے رستے میں کھڑا چشم بہ راہ رہتا ۔ وہ کلاس کی طرف جاتی تو اس کے پیچھے پیچھے چلتا ۔لائبریری میں مطالعہ کرنے جاتی تو اس کے قریب کسی کرسی پر ڈیرہ جما کر کتاب پڑھنے کے بہانے اسے تکتا رہتا ۔یہاں تک کہ اس نے مسکان کو اپنی جانب مائل کر لیا تھا ۔ اور محبت کے لفظ سے بیزاری محسوس کرنے والی اس راہ پر سر پٹ دوڑنے لگی تھی۔یہاں تک کہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے ایک غیر مرد کے ساتھ تنہائی میں کئی ملاقاتیں بھی کر ڈالیں تھیں ۔یہ علاحدہ بات کے اس نے حماد کو ہاتھوں کے علاوہ بدن کا کوئی حصہ چھونے کی اجازت نہیں دی تھی ۔

حماد کی ابتدائی محبت کی تندی و تیزی کو یاد کرتے ہوئے اچانک اسے محسوس ہوا ،کہ حماد سے محبت کے عہد وپیمان ہونے کے بعد اس کی وارفتگی میں بتدریج کمی آتی گئی ،یہاں تک کہ شادی کے بعد وہ محبت جانے کہاں غائب ہو گئی تھی ۔ مسکان نے کبھی اپنی محبت میں کمی نہیں دیکھی ، مگر حماد کی توجہ میں بہت فرق آگیا تھا ۔وہ اس بات کو سمجھ نہیں پائی تھی ۔اس کے خیال کے مطابق یہی محبت کا منطقی انجام تھا ۔مگر دانیال کی محبت پا کر اسے پتا چلا تھا کہ حقیقی محبت کیا ہوتی ہے ۔اس کی ہر بات ،ہر ادا اورہر عمل سے مسکان کی محبت یوں ٹپکتی تھی جیسے سوراخ زدہ چھتے سے شہد ٹپکتا ہے ۔یا کسی کٹی ہوئی شریان سے خون ابلتا ہے ۔ مسکان کے نفرت بھرے روےے کے باوجود اس کی محبت میں کمی نہیں آئی تھی ۔

ایک دم اسے خیال آیا کہ وہ حماد کو یاد کرتے کرتے پھر دانیال کوسوچنے لگی ہے۔

”اف یہ کالا جادو گر ؟“وہ غصے سے بڑبڑائی اور کروٹ بدل کر تمام خیال سے ذہن سے نکال کر سونے کی کوشش کرنے لگی ۔

”مِشّی ؟“اس کے ذہن میں دانیال کی سرگوشی گونجی ۔

”کیا ہے ؟سونے دو نا ؟“دوسری سرگوشی اس کی اپنی تھی ۔

وہ کہتا ۔”اگر چاند کا دیدار نصیب نہیں ہو گا تو نیند کیسے آئے گی ؟“

وہ شرارت سے کہتی ۔”سمجھو آج چاند رات کو دیر سے نکلے گا ؟“

اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا ۔”ٹھیک ہے جی!…. آپ سوئیں میں تو چاند کے نکلنے کا انتظار کروں گا ۔“

”اف!“کہہ کر وہ اس کی جانب کروٹ بدل لیتی ۔

وہ اس کی ناک کی پھننگ پکڑ کر کہتا ۔”نخرے دیکھو مشی صاحبہ کے ۔گویااحسان کر رہی ہے مجھ پر ؟“

”ٹھیک ہے ،نہیں کرتی احسان ۔ جا رہی ہوں امی جان کے ساتھ سونے ۔“وہ اٹھنے کی کوشش کرتی مگر وہ جھپٹ کر اسے پکڑلیتا اور اگلا پورا گھنٹا اس کی منت سماجت کرتا رہتا ۔مسکان کی آنکھوں سے نیند غائب ہو جاتی ۔ پتا نہیں کیوں اس کا منتیں کرنااسے اچھا لگتا۔حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی ہوتی،کہ کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جس کی بدولت منت کی ضرورت پڑے، مگر پھر بھی وہ اس کے منانے سے محظوظ ہوتی۔وہ منانے کے لےے صرف الفاظ استعمال نہیں کرتا تھا ۔کبھی کبھی یہ منانا پوری رات جاری رہتا ۔اور صبح کی اذان کے ساتھ مسکان کو غصہ آتا کہ رات اتنی مختصر کیوں تھی ۔

وہ اسے نہ سوچنے کا تہیہ کر کے بھی اسے سوچتی رہی ۔اور پھر اس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔

”مجھے صرف مشی چاہےے ۔اگر جنت سے حور بھی لا کر دو تو قبول نہیں ہے ….نہیں ہے ….نہیں ہے۔“

”کیا کرے مشی ؟“اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔”بے وقوف، احمق،جاہل ، گنوار تمھیں مسکان ہی ملی تھی محبت کرنے کے لےے ۔وہ جو خود کسی کی محبت میں گرفتار ہے ۔“

مگر دانیا ل مسکراتا رہا ۔”پگلی !….یہ کوئی اپنے بس میں تھوڑی ہوتا ہے ؟….اور آج تم نے فریحہ کو بھیجا تھا، مجھے ورغلانے کے لےے ،ہے نا ؟بھول گئیں تھیں میں نے کیا کہا تھا ؟“

”نہیں یاد تھا ….بس آزمانا چاہتی تمھیں ؟“

”ہا….ہا….ہا،مشی !…. کب میری محبت پر یقین آئے گا تمھیں ؟….اچھا ایک بات بتاو¿ ،لیکن تمھیں اللہ پاک کی قسم سچ بتانا ؟“

”پوچھو ۔“

”کیا ؟سچ مچ طلاق چاہےے تمھیں؟“

وہ سوچنے لگی ….کافی دیر گزر گئی ۔

اس نے ایک مرتبہ پھر پوچھا ۔”بتاو¿ نا؟….“

وہ سسکی ۔”ہاں ۔“

دانیال کے مسکراتے چہرے پر کرب آمیز تاثرات ہویدا ہوئے اور وہ ہولے سے بولا۔

”مِشّی !….آج تک میں یہی سمجھتا رہا، کہ تم اوپری دل سے طلاق مانگ رہی ہو ۔ معاف کرنا مجھے پتا نہیں تھا تم سنجیدہ ہو؟….اب میں تمھیں مایوس نہیں کروں گا ….زیادہ سے زیادہ مر ہی جاو¿ں گا نا؟“ یہ کہہ کر دانیال کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے سے معدوم ہونے لگا ۔

اس نے ہچکچاتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا ۔”بات سنو ؟“مگر وہ غائب ہو گیا تھا ۔ اور اس کے ساتھ اس کی آنکھ کھل گئی ۔

٭……..٭

دانیال اس دن سویرے ہی گھر سے نکل گیا تھا ۔سٹیل مل کے ساتھیوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ ایک جفا کش اور محنتی شخص تھا ۔ایسے مزدوروں کو ہر کوئی پسند کرتا ہے ۔وہ کافی دنوں کے بعد کام پر لوٹا تھا ۔مسلسل آرام انسان کو کتنا ناکارہ کر دیتا ہے اس کا اندازہ اسے دو تین گھنٹوں کے بعد ہی ہو گیا جب وہ اچھی خاصی تھکن محسوس کرنے لگا ۔اس کی جفا کشی کی وجہ سے سارے ساتھی اسے” ربوٹ“ کہتے تھے۔جیسے ہی تھکن کے آثار اس کے چہرے سے ہویدا ہوئے اس کے دوست انور نے پوچھا ۔

”لگتا ہے آج ربورٹ میں کوئی ٹیکنکل خرابی آئی ہوئی ہے ؟“

وہ ہنسا۔”نہیں یا ر!….ٹیکنکل خرابی نہیں ہے ،پرزوں کو ہلکا زنگ لگ گیا ہے ،دو ماہ آرام جو کر لیا ہے ؟“

”تمھاری ہمت ہے یار!…. دو ماہ کے بعد کام کو ہاتھ لگایا ہے اور دو تین گھنٹے سے مسلسل شروع ہو ؟“

”نہیں اب تھوڑا آرام کروں گا ۔“وہ سائیڈ پر ہو کر بیٹھ گیا ۔انور نے بھی اس کا ساتھ دیا اور کنٹین والے کو چاے کا بتا کر اس کے ساتھ آ بیٹھا۔

”اچھا تم نے بتایا نہیں ہے کہ اتنا عرصہ کہاں غائب رہے ہو؟“

”کہیں نہیں یار !….ایک دکان پر کام کرنے کا موقع ملا تھا ،بعد میں مالک سے ان بن ہو گئی اور میں لوٹ آیا ۔“

”مگر دکانوں والے تو بہت کم تنخواہ دیتے ہیں ،اور پابندی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ؟“

دانیال نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ۔”ہاں یہ تو ہے ….آٹھ نو ہزار سے بھلا کہاں گزارا ہوتا ہے ؟…. البتہ کام آسان ہوتا ہے ۔“

”آٹھ نو ہزاربھی نہیں دیتے ہیں ۔“انور نے منہ بنایا۔”ویسے حیرانی کی بات یہ ہے کہ روبوٹ کب سے آرام پسند ہو گیا ؟“

”نہیں!…. آرام پسند تو خیرنہیں ہوا ،بس بڑھاپے کا خیال آگیا تھا، کہ کب تک یہ جفا کشی کی زندگی گزاریں گے ۔کوئی ایسا کام ہونا چاہےے جس میں بڑھتی عمر رکاوٹ نہ بن سکے ۔“

”بڑھتی عمر کیا یار ؟چند سال کے اندر بچے جوان ہو جائیں گے ۔پھر وہ جانیں اور ان کا کام ۔جوانی ان پر لٹا دی، بڑھاپے میں وہ سنبھالیں گے ۔“

دانیال ٹھنڈا سانس لے کر خاموش ہوگیا ۔اسی وقت انور کو یاد آیا کہ اس نے تو شادی ہی نہیں کی تھی ۔ اس نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے پوچھا ۔”ویسے تعجب ہوتا ہے کہ آپ جیسا جوان ابھی تک شادی کرنے میں ناکام رہا ہے ؟“

شادی کے ذکر پر دانیال کی آنکھوں کے سامنے اپنی مشی کا کومل چہرہ لہرانے لگا ۔

”چھوڑو یار !….اس موضوع کو ۔“وہ پلیٹ سے سموسا اٹھا کر کھانے لگا جو کنٹین والا لڑکا ان کے سامنے رکھ گیا تھا ۔

چاے پی کر وہ دوبارہ کام کرنے لگے ۔وہاں انھیں دیہاڑی کے بجائے کام کی مقدار پر اجرت ملتی تھی ۔ اس لےے جو مزدور جتنا آرام کرنا چاہتا اسے ٹوکا نہیں جاتا تھا ۔

ظہر کی اذان کے وقت اس کا موبائل بجنے لگا ۔فریحہ کی کال تھی ۔

”جی فری !….“اس نے کال اٹینڈ کی ۔

”دانی !….کہاں ہو ؟“

”سٹیل مل میں ۔“

”کس وقت چھٹی کرو گے ؟“

”قریباََ شام کی اذان کے وقت ۔“

”ابھی نہیں کر سکتے ؟“

”کیوں ؟“

”تم سے ملنا ہے ؟….ایک ضروری بات کرنی ہے ۔“

”مگر میں نہیں سننا چاہتا ۔“اس نے سختی سے انکار کر دیا ۔

وہ حکمیہ لہجے میں بولی ۔”ٹھیک آدھے گھنٹے بعد تم اسی ہوٹل میں ہو گے، جہاں کل ملاقات ہوئی تھی ۔“

”اگر نہ آیا تو ؟“

”دانی !….آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں لگنا چاہےے ۔“اس کے لہجے میں عجیب اعتماد تھا ۔

”اگر میرے پاس اپنی گاڑی ہو تب بھی وہاں تک گھنٹے سے زیادہ وقت خرچ ہو گا ؟“

”اچھا تم کس سٹیل مل میں کام کرتے ہو ؟“

جواباََاس نے سٹیل مل کا نام بتا دیا ۔

”اوکے !….میں شالیمار ریسٹورینٹ میںآرہی ہوں۔سٹیل مل سے یہاں تک دس منٹ کا رستا ہو گا ؟“فریحہ نے اسے نئی جگہ بتائی ۔

”تم اس وقت کہاں ہو ؟“

”میں ٹیکسی میں ہوں ۔پہلے پرنس ہوٹل جا رہی تھی ،لیکن اب ڈرائیور کو شالیمارکا بتا دیا ہے ۔ مجھے وہاں پہنچنے میں آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں لگے گا ؟“

”کیا ملنا بہت ضروری ہے ؟“

وہ غصے سے بولی ۔”نہیں ….لیکن تمھیں آنا پڑے گا اور کچھ ….؟“

دانیال نے کہا ۔”اچھا ٹھیک ہے محترما!“اور فریحہ نے ہنستے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔

دانیال نے اس دن کے ساتھ اگلے پورے ہفتے کی دیہاڑی ایڈوانس وصول کر لی کہ اس کے پاس خرچا بالکل ختم تھااور سٹیل مل سے باہر نکل آیا۔مذکورہ ہوٹل وہاں سے تھوڑے فاصلے پر تھا ۔ ویگن میں بیٹھ کر وہ چند منٹ میں وہاں پہنچ گیا ۔

فریحہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی ۔ وہ اس کا انتظار کرنے لگا ۔اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا، جلد ہی اسے ہوٹل کے داخلی دروازے سے کالی چادر اوڑھے ایک لڑکی اندر داخل ہوتی دکھائی دی ۔ اس کی قامت سے دانیال نے اسے آسانی سے پہچان لیا تھا ۔ ایک لمحہ رک کر اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی اور پھرسبک سری سے چلتی اس کے سامنے آ ئی اوربیٹھتے ہی پوچھا۔

”میں لیٹ تو نہیں ہو گئی ؟“

”نہیں!….میں ابھی پہنچا ہوں ۔“

”کھانا کھایا ہوا ہے ؟“

”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

”میں بھی کھا کے گھر سے نکلی ہوں، بس چاے کا بتا دو ؟“

اور دانیال بیرے کو چاے کا بتا کر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔

وہ کہنے لگی ۔”دانی !…. تمھیں زحمت تو ہوئی ہو گی اور….؟“

دانیال نے ہنستے ہوئے قطع کلامی کی ۔”کوئی زحمت نہیں ہوئی میڈم….تم جیسی لڑکی صدر مملکت کو بھی پکارے تو وہ سر کے بل دوڑا چلا آئے گا ۔ ایک مزدور کی کیا مجال کہ اسے یہ زحمت لگے ۔اس کے لےے تو یہ خوش قسمتی کی بات ہے ؟“

”یہ لڑکی تو تمھیں اپنانے کے لےے تیار ہے بس ، اتنی چاہت دے دینا جتنی مسکان پر نچھاور کرتے ہو ؟“

مسکان کے ذکر نے اسے اداس کر دیا تھا ۔”پگلی دل پر اختیار تھوڑی ہوتا ہے ۔اور باقی یہ حقیقت ہے کہ میں تمھارا ملازم بننے کے لائق بھی نہیں ہوں ؟“

فریحہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔”آپ میں کس چیز کی کمی ہے ؟“

”نہ ،دولت ،نہ شہرت ،نہ نسب اور نہ صورت کون سی چیز ہے میرے پاس ۔وہ کیا کہتے ہیں ؟ کم از کم از اتنی شکل و صورت تو ہو شوہر کی کہ بیوی اسے آنکھ بھر کے دیکھ ہی سکے ؟“

وہ ندامت سے بولی۔”دانی ! یہ میرے کہے الفاظ ہیں۔اور آپ اچھی طرح جانتے ہو یہ الفاظ صرف غصے کے اظہار کے لےے میرے منہ سے نکلے تھے ۔ ورنہ آپ میں ،کوئی ایسی کمی نہیں ہے جس پر اعتراض کیا جا سکے ۔“

”فری !…. یقین کرو جب تم نے یہ الفاظ کہے تھے ،اس وقت بھی مجھے یقین تھا کہ تم یہ سب غصے میں کہہ رہی ہو۔ اور میں حیران بھی تھا کیونکہ بہت عام شکل و صورت کی لڑکیاں تو مجھے دل کی گہرائی سے ناپسند کریں اور تم ایسی حور شکل لڑکی میرے تعریف نہ کرنے کو توہین جانے ؟“

”اچھا پتا ہے میں نے تمھیںکیوں بلایا ہے ؟“

”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔

”اگر میں کہوں تمھیں سچ مچ شادی کی آفر کرنے آئی ہوں تو تمھارا کیا رد عمل ہو گا ؟“

”کل تم مجھے دھوکا دینے آئی تھیں ….لیکن آج تمھارے لہجے میں خلوص کی جھلک ہے ،اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے اور نہ تم حماد ہی سے محبت کرتی ہو ورنہ کبھی مجھے شادی کی آفر نہ کرتیں۔ وہ اپنی شکل و صورت کی وجہ سے تمھیں پسند ہے اور مجھ سے تمھیں ہمدردی ہو گئی ہے۔جبکہ محبت بالکل انوکھا جذبہ ہے ۔محبت کرنے سے نہیں ہوتی ۔ورنہ جہاں تک شکل و صورت کا تعلق ہے ،حقیقت تو یہ ہے ،کہ اگر میں اس بھرے پرے ہوٹل میں اعلان کر دوں کہ اس لڑکی سے کس نے شادی کرنی ہے تو مجھے یقین ہے یہاں تمھیں پانے کے لےے قتل و غارت شروع ہو جائے گی ۔ کیونکہ تم بغیر کسی شک وشبہ کے اس قابل ہو ۔“

”ہاں!….محبت تو وہ ہوتی ہے،جو تمھیں مسکان سے ہے ؟“

”پتا نہیں وہ کیا ہے ؟“

”اچھا !….میں نے تمھیں محتاط رہنے کا مشورہ دینے کے لےے بلایا تھا ۔اگر ہو سکے تو چند دن کے لےے گھر چھوڑ کر کہیں دائیں بائیں ہو جاو¿۔اور مسکان کی فکر نہ کرنا اگر خدا نے چاہا تو میں اسے تمھاری زندگی میں لے آو¿ں گی ۔اس وقت اس کی آنکھوں پر کسی کی جھوٹی محبت کی پٹی بندھی ہے ۔جب یہ پٹی اتر جائے گی تو اسے تمھاری طرف آنے سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔“

”کک ….کیا ….سچ مچ ….تم ایسا کرو گی؟“دانیال نے بے اختیار اس کا ملائم ہاتھ تھام لیا ۔

فریحہ سنجیدہ لہجے میں بولی ۔”ہاں !….میری کوشش ہو گی کہ تمھیں تمھاری مسکان مل جائے اور مجھے میراحماد ۔“

”فری !….میں نے کہا نا؟….سچ تو یہ ہے کہ تمھیں حماد سے محبت نہیںہے ۔“

”وہ مجھے اچھا لگتا ہے ،اور میں نے خود اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا ۔“

”ہاں وہ بہت خوب صورت ہے ۔“دانیال نے اثبات میں سر ہلایا۔

فریحہ نے اشتیاق سے پوچھا۔”کیا…. تمھیں میرا حماد سے ملنا پسند نہیںہے ؟“

”نہیں،بس یہ دعا کرتا ہوں کہ تمھیں کوئی ایسا ملے جو تمھیں بہت زیادہ محبت اورتوجہ دے ۔ تمھارا ہر طرح سے خیال رکھے ۔“

فریحہ مسکرائی ۔”بڑی دعائیں دی جارہی ہیں ؟….مسکان سے ملنے کی امید دلائی ہے اس لےے؟“

”نہیں ….تم نے مجھے بہت بڑا مان دیا ہے ۔تمھارے چہرے پر سجا نقاب دیکھ کر میرا سینا فخر سے چوڑا ہو گیا ہے اور……..“اتنا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا ۔

”اور کیا ؟“وہ بے صبری سے مستفسر ہوئی ۔

”فری !….کل تم نے میرے ہاتھ کو بوسا دیا تھا ۔یاد رکھنا اس بوسے میں شامل خلوص نے مجھے ہمیشہ کے لےے تمھارا مقروض کر دیا ہے ۔ اگر مجھے مشی کی بیماری لاحق نہ ہوتی تو یقینا میں ساری زندگی تمھارا غلام بن کر جینا بھی گوارا کر لیتا۔البتہ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ ،میری جان کے بدلے بھی تمھاری کوئی ضرورت پوری ہو سکے تو مجھے بے جھجک آواز دے دینا ؟“

”پتا ہے ؟کل میں نے اپنی غربت اور مسکان کی آفر کے بارے جو کچھ کہا تھا وہ جھوٹ تھا ۔“

”ہاں جانتا ہوں فری !….تم نہ غریب ہو اور نہ امیر ۔بس متوسط خاندان سے تعلق رکھتی ہو ۔ اور جہاں تک میرا اندازہ ہے تمھیں اس کام کے لےے حماد نے بھیجا ہے ۔اسے اپنی محبوبہ کو یوں کسی غیر مرد کے پاس نہیں بھیجنا چاہےے تھا ؟“

فریحہ فخر سے بولی ۔”اسے مجھ پر اعتماد ہے ؟“

”نہیں !….اسے تم سے محبت نہیں ہے اس لےے ؟“

”یہ بات تم اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو ؟“

”کیونکہ میں اپنی مشی کو کبھی کسی غیر مرد کے پاس نہ بھیجتا ۔“

”تم محبت کی کسوٹی تو نہیں ہو ؟….تمھیں اپنی مشی پر اعتماد نہ سہی ،اسے تو ہے ۔“

چند لمحے سوچنے کے بعد وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔”شاید تم صحیح کہہ رہی ہو ؟“

فریحہ کے چہرے پر عجیب سے تاثرات ابھرے ۔دانیال ایک مرتبہ پھر اسے پریشان کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس نے دانیال کی محبت پرجان بوجھ کر طعنہ زنی کی تھی ۔تاکہ وہ یہ بات کہہ سکے کہ فریحہ حماد کے اعتماد پر پوری نہیں اتری اور اس سے محبت جتانے لگی ،مگر اس کے بجائے اس نے شکست قبول کرنے میں عافیت جانی اور فریحہ کو شرمندہ کرنے کے بجائے اپنی تذلیل گوارا کر لی تھی ۔

”میرا خیال ہے تمھارے دل میں کچھ اور ہے ؟“وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔

”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”تم بہت اچھی ہو فریحہ۔مجھ سے ہمدردی کا مطلب یہ نہیں کہ تم نے حماد کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔یہ تو فقط تمھارے ہمدرد دل کی کارستانی ہے ۔“

”میں تمھیں شادی کی آفر بھی کر چکی ہوں ؟“فریحہ اسے جھٹلانے پر تلی تھی۔

”اس میں حماد کے روےے کا گہرا عمل دخل ہے ۔یقینا وہ تمھیں وہ اہمیت نہیں دے سکا جس کی تم حق دار ہو ؟“

”اور تم نے مجھے وہ اہمیت دی ہے ؟….یہی کہنا چاہتے ہو نا ؟“فریحہ نے بہ ظاہر طنزیہ لہجے میں کہا۔

اس نے نفی میں سر ہلایا۔”مشی کے علاوہ میں کسی کو اہمیت دے ہی نہیں سکتا ۔“

”اس میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ؟“فریحہ سچ مچ بپھر گئی ۔

دانیال نے مسکراتے ہوئے اس کا ملائم ہاتھ تھاما۔”فری !تم بہت اچھی ہو ؟“

اور فریحہ بے ساختہ ہنس پڑی تھی ۔

وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا ۔”فری میری ایک بات مانو گی ؟“

”کہو ؟“

”خدا را کسی سے محبت نہ کرنا ؟….کسی بھی شخص کو اپنے دل میں جگہ نہ دینا کہ اس کے نہ ہونے سے تمھیں موت و زندگی برابر لگے ۔“

”ہمیں چلنا چاہےے ؟“فریحہ اس کالے جادو گر سے ڈر گئی تھی ۔

”ہاں چلو ۔“وہ اٹھ کر کاو¿نٹر کی طرف بڑھ گیا ۔

فریحہ جانتی تھی کہ وہ غریب ہے مگر اس کے ساتھ اسے یہ بھی علم تھا کہ وہ کبھی بھی یہ گوارا نہیں کرے گا، کہ فریحہ بل ادا کرے ۔فریحہ اس کے بارے اتنا کچھ کیسے جان گئی تھی اس بارے وہ خود بھی حیران تھی ۔بہت سی باتیں جو وہ اس کے بارے سوچتی وہ ویسے ہی کرتا تھا۔فریحہ کو یقین تھا کہ وہ اس سے ہر بات منوا سکتی ہے ۔اور پھر حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس نے کبھی بھی اس کی آنکھوں میں کسی غلط جذبے کو ابھرتے نہیں دیکھا تھا ۔حالانکہ یہ جذبے وہ کئی مرتبہ حماد کی انکھوں میں بھی سرسراتے دیکھ چکی تھی ۔وہ واقعی ایک سچا اور کھرا شخص تھا ۔اور اس قابل تھا کہ اس سے محبت کی جا سکتی ۔فریحہ کو محسوس ہوا کہ اسے کسی ایسے شخص ہی کی تلاش تھی مگرمسکان بازی لے گئی تھی ۔ اسے یاد آیا پہلی مرتبہ جب دانیال نے اسے دیکھا تو کیسے گھبرا گیا تھا۔ اس کے الفاظ آج بھی فریحہ کی یاداشت میں زندہ تھے ۔اس نے گڑ بڑا کر کہا تھا ….

’صاب !….یہ تو بہت خوب صورت ہے ؟….یہ مجھے قبول کر لے گی ؟“

”ہاں اس وقت اس کے دل میں مسکان کا قبضہ نہیں تھا ۔اس وقت اگر میں اسے قبول کر لیتی تو یقینا آج اس کی ملکہ ہوتی؟ …. مگر کیایہ حماد سے اچھا ہے ….میں ایسا کیوں سوچ رہی ہوں ؟“

”چلیں ؟“دانیال نے قریب آکر اسے خیالوں کی دنیا سے نکالااور وہ سرہلاتے ہوئے اس کے ہمراہ ہو لی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: