Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 18

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 18

–**–**–

بس میں بیٹھے اس کا دماغ مختلف قسم کی سوچوں کی آما جگاہ بنا ہوا تھا ۔وہ اپنی بدصورتی سے اچھی طرح واقف تھا ۔ اس لےے فریحہ کا رویہ اس کے لےے بہت تعجب انگیز اور حیران کن تھا ۔ پہلی ملاقات کے برعکس وہ بہت بدلی بدلی لگ رہی تھی ۔ ایک ایسی لڑکی جس پر بغیر کسی اندیشے کے اعتماد کیا جا سکے،جسے اپنا سمجھا جا سکے ،جو بہت مخلص ہو ، جس سے ہر بات منوائی جا سکے ۔

جب وہ اپنی شکل و صورت اورغربت پر غور کرتا تو اسے یہ سب ایک سہانے خواب سے بڑھ کر نہ لگتا ۔ مسکان سے شادی سے پہلے وہ کسی عام شکل و صورت کی لڑکی سے بھی شادی کرنے کے لےے تیار تھا لیکن اب اس کے دل و دماغ میں ایسی تبدیلی آئی تھی کہ مسکان کے علاوہ کوئی سوجھتا ہی نہیں تھا ۔ ور نہ فریحہ جیسی لڑکی کی آفر کو ٹھکرا نا کفران نعمت ہی تو تھا ۔

اس نے سوچا۔”اگر میں فریحہ سے شادی کرلوں تو شاید اس کی سحر انگیز قربت مسکان کی یادوں سے پیچھا چھڑانے میں مدد گار ثابت ہو ؟“اس سوچ کے ساتھ اس کی بائیں جانب کی پسلیوں کے نیچے ایک ٹیس سی اٹھی ۔ اسے اپنی مشی کی ہلکی سی سرگوشی سنائی دی ۔

”دانی !….میں ابھی تک یہیں موجودہوں ۔اور یاد رکھنا یہیں رہوں گی ؟پگلے یہ توآزمائش ہے ، چاہنے والوں کوآزمایا نہیں جاتا کیا؟….کیا تم اپنی مِشّی کو مایوس کرو گے؟….یاد کرو جب کوئی بھی لڑکی تمھیں منہ لگانے کے لےے تیار نہیں تھی اس وقت میں نے اپنا سب کچھ تمھیں سونپ دیا تھا ۔آج تم ایک خوب صورت لڑکی کو اپنی مِشّی کی جگہ دے دو گے ۔بھول گئے کیا کہا تھا ،کہ تمھیں مِشّی کے بدلے کوئی حور بھی نہیں چاہےے ؟….وقت آنے پر ایک ہی لڑکی کو نہیں ٹھکرا سکے ؟“

”نہیں مِشی یہ جھوٹ ہے ،مجھے کسی کی ضرورت نہیں…. کسی کی بھی ….کسی کی بھی ؟“ اس کی واضح بڑبڑاہٹ سن کر اس کے ساتھ بیٹھے ادھیڑ عمر کے آدمی نے پوچھا۔

”بیٹا !….مجھے کچھ کہا ہے ؟“

”نن….نہیں چچا ۔“وہ گڑ بڑا گیا ۔اور وہ آدمی اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے چپ ہو گیا۔

اپنے سٹاپ پر اتر کر وہ گھر کی جانب بڑھ گیا ۔اسے اچھی خاصی تھکن محسوس ہور رہی تھی ۔دو ماہ کا آرام اسے راس نہیں آیا تھا ۔سٹاپ سے اس کے گھر تک کا فاصلہ بھی دو تین فرلانگ سے زیادہ بن جاتا تھا ۔

وہ جیسے ہی اپنی گلی میں مڑا، تین آدمی اسے اپنے گھر کے سامنے کھڑے دکھائی دےے ۔وہ یوں دروازے کے سامنے کھڑے تھے جیسے کسی کا انتظار کر رہے ہوں ۔اسے قریب آتا دیکھ کر وہ اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔اس سے پہلے کہ وہ ان سے وہاں کھڑا ہونے کی بابت استفسار کرتا ، ان میں سے ایک آدمی نے پوچھا۔

”تمھارا نام دانیال ہے ؟“

”جی جناب ۔“دانیال نے مصافحے کے لےے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔

وہ اس کے مصافحے کے لےے بڑھائے گئے ہاتھ کو نظر انداز کرتا ہوا نخوت سے بولا۔

”تو مسٹر حبشی !…. سنا ہے کہ تم، عشق معشوقی کے چکروں میں پڑے ہو ؟“

اس کے بد تمیزانہ انداز پر ایک لمحے کے لےے دانیال کا دماغ گھوما ،مگر پھر اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے تحمل سے جواب دیا ۔

”شاید!….،تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ؟“

”یہ طلاق نامہ سائن کر کے تم ہماری غلط فہمی دور کر سکتے ہو ؟“ اس نے جیب سے ایک فارم نکال کر دانیال کی جانب بڑھایا۔

”طلاق نامہ ؟“اس کی حیرانی دو چند ہو گئی تھی ۔

”ہاں طلاق نامہ۔تم مسکان بی بی کو بہ قائم ہوش و حواس طلاق دے رہے ہو ۔ورنہ دوسری صورت میںتمھارے ہوش و حواس جگہ پر نہیں رہیں گے ؟“

ایک لمحے میں اس پر ساری حقیقت واضح ہو گئی ۔مسکان طلاق لینے کے لےے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی تھی ۔اور ضرور اس بات کی سن گن فریحہ کو بھی مل گئی تھی ،اسی وجہ سے وہ مخلص لڑکی اسے پہلے سے خبردار کرنے آئی تھی ۔مگر شاید اسے دیر ہو گئی تھی ۔

”میرا خیال ہے اپنی زندگی کے بارے فیصلہ کرنے کا حق مجھے حاصل ہے اور میںاچھی طرح جانتا ہوںکہ اپنی بیوی کوطلاق دینی چاہیے یا نہیں ۔“

”اور میرا یہ ایمان ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانا کرتے ؟“اس نے دانیال کا گریبان تھاما۔اور اس کے ساتھ موجود دونوں آدمی ایک دم دانیال سے لپٹ گئے ۔وہ سخت جان ہونے کے باوجود اکیلا تھا ایک مارتا اور تین اسے کھانی پڑتیں۔

شور کی آواز سن کر عائشہ باہر نکلی ۔

”نامرادو!….کیوں میرے معصوم بیٹے کو مار رہے ہو ؟“وہ دانیال سے لپٹے ہوئے غنڈوں میںسے ایک کا بازو پکڑ کر چلائی ۔مگر اس کے ہاتھ جھٹکنے پر لہراتے ہوئے دور جا گری تھی ۔ ماں کو گرتے دیکھ کر دانیال ہوش حواس کھو بیٹھا تھا ۔اس نے ایک زور دار ٹکر سامنے والے کی ناک پر رسید کی اور وہ ”ہائے “کے ساتھ نیچے بیٹھ گیا اس کی ناک سے خون کا فوارا چھوٹ پڑا تھا۔باقی دونوں نے گھتم گھتا ہو کر اسے نیچے گرایااور اسے ٹھڈے مارنے لگے ۔ اسی وقت پولیس کی جیپ وہاں آکر رکی ۔ انسپکٹر نے نیچے اتر کر دبنگ لہجے میں پوچھا ۔

”کیا ہو رہا ہے یہاں ؟“

وہ دانیال کو چھوڑ کر جلدی سے پیچھے ہوئے اور ان کا سرغنہ جلدی سے بولا ۔

”تھانیدار صاحب !….یہ غنڈہ ہمیں زد و کوب کر رہا تھا۔“

”کیوں بے !….تو بڑا بدمعاش آیا ہے اس محلے میں ،کہ کمزوروں پر ہاتھ اٹھاتا ہے ؟“ انسپکٹر کا مخاطب دانیال تھا ۔

”جناب !….میں تو انھیں جانتا ہی نہیں ۔ابھی کام سے لوٹا ہوں ،یہ پہلے سے میرے گھر کے سامنے کھڑے تھے ۔اور میرے یہاں آتے ہی جھگڑنے لگے ۔“دانیال نے اصل صورت حال تفصیل سے بتلائی ۔

” جھوٹ کہتا ہے سر ؟….دیکھیں اس نے میرے ساتھی کی ناک توڑ دی اور اب مظلوم بن رہا ہے ۔“ سرغنہ نے ایک مرتبہ پھر واویلا کیا۔

”چلو اس بات کا فیصلہ تھانے میںہو گا، انسپکٹرنے سپاہیوں کو اشارہ کیا ،کہ وہ دانیال کو گرفتار کر لیں۔

”تھانیدار صاحب !….میں بے گناہ ہوں ۔“دانیال تھانے کا نام سن کر گھبرا گیا تھا ۔ ”مار کٹائی تو انھوں نے شروع کی تھی،میں نے تو فقط اپنے دفاع میں ہاتھ اٹھایا ہے ؟“

اسی وقت عائشہ نے آگے بڑھ کر انسپکٹر سے کہا ۔”تھانیدار بیٹا !….میرا پتر بے گناہ ہے۔ یہ تینوں مسٹنڈے اسے مار رہے تھے ۔آپ انھیں گرفتار کریں ۔“

”تم فکر نہ کر و مائی !….اگر یہ بے گناہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ؟“یہ کہہ کر وہ جیب میں بیٹھ گیا ۔ دانیال کو سپاہی پہلے سے جیپ میں بٹھا چکے تھے ۔

جبکہ تینوں غنڈے اپنی مرضی سے جیپ میں گھس کر بیٹھ گئے تھے ۔جیپ کے جانے تک عائشہ انسپکٹر کی منتیں کرتی رہی ۔مگر اس کا دل نہ پسیجا ۔دانیال پولیس کی مستعدی پر حیران تھا ۔ پولیس تو جرم ہونے کے دوسرے دن بھی جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ پاتی تھی آج جانے چند لمحوں میں کیسے پہنچ گئی تھی۔اور پھر غنڈوں کے بجائے پولیس نے اسے کیوں گرفتار کر لیا تھا ۔

٭……..٭

عائشہ کو لگ رہا تھا کہ جیسے ساری دنیا اندھیر ہو گئی ہو ۔دانیال اس کا اکلوتا بیٹا ، اس کی آنکھوں کا تارا اور جینے کا سہار اتھا ۔پولیس اسٹیشن کا نام ہی غریب کو لرزا دیتا ہے ۔اس کے تو سامنے اس کے اکلوتے بیٹے کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی ۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کا دل بند ہی ہو جائے گا ۔

پانی کے دو تین گلاس پی کر اس نے خود کو سنبھالا دیا ۔اور پھر اس مصیبت کو ٹالنے کے بارے ذہن کے گھوڑے دوڑانے لگی ۔

محلے میں کوئی ایسا متمول شخص موجود نہیں تھا جو دانیال کو تھانے سے رہائی دلا سکتا ۔ایک دفعہ اس کے جی میں آیا کہ وہ تھانے جا کر بڑے صاحب کی منت سماجت کرے شاید وہ اس پر ترس کھا لے ،مگر اس کے ساتھ اسے یہ خیال آیا، کہ اسے تو پتا ہی نہیں وہ دانیال کو کس تھانے میں لے کر گئے ہیں۔وہ کس کس تھانے میں جا کر دہائی دیتی ۔ کراچی کے تھانوں کی خاک چھانتے تو شاید اس کی عمر بیت جاتی ۔

آخر کار اس کی سوچ مسکان کی ذات پر ٹھہر گئی ۔وہی اس کے بیٹے کو تھانے سے واپس لا سکتی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ ایک متمول گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ۔گو انھیںچھوڑتے وقت اس نے جس بے رخی سے عائشہ کو مخاطب کیا تھا وہ اسے اب تک نہیں بھولا تھا ۔لیکن یہ بھی حقیقت تھی ،کہ وہ آج بھی اسے پہلے دن کی طرح عزیز اور پیاری تھی ۔اگر وہ ان کے ساتھ رابطہ نہیں رکھنا چاہتی تھی، تو یہ اس کی اپنی مرضی تھی ،ماں بیٹے کے دل کے دروازے تو اس کے لےے کھلے تھے ۔مسکان دانیال کی محبت تھی تو اسے بھی سگی بیٹی کی طرح پیاری تھی ۔ انھیںچھوڑ جانے کے بعد بھی وہ اس کی دعاو¿ں میں پہلے کی طرح موجود تھی۔

مسکان کاموبائل فون نمبر اس کے اپنے موبائل فون میں درج تھا ۔موبائل فون اٹھا کر وہ دھڑکتے دل سے مسکان کا نمبر ملانے لگی۔

٭٭٭

مسکان نے عصر کی نماز پڑھ کر جائے نمازہی پر بیٹھی تھی کہ اس کے سیل فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔وہ بے دلی سے فون کی طرف بڑھ گئی ۔موبائل سکرین پر دانیال کی ماں کا نام چمکتا دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔

”آنٹی !….آپ چھوڑیں یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ؟“اس کے ذہن میں اپنی آواز گونجی ۔

اس نے کال رسیو نہ کرنا مناسب سمجھا مگر پھر اسے خیال آیا کہ ہو سکتا ہے وہ کسی مشکل میں ہو۔

”جی….؟“اٹینڈنگ بٹن پریس کرتے ہوئے اس کے منہ سے بہ دقت تمام نکلا۔وہ امی جان کہتے کہتے رک گئی تھی۔

”بیگم صاحبہ !….میرے بیٹے کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے ۔خدا را اسے بچا لیں ۔وہ بالکل بے قصور ہے۔“

عائشہ کے منہ سے بیگم صاحبہ کا لفظ اس پر گھڑوں پانی ڈال گیا تھا، مگر اس وقت کمزوری دکھانا اسے مناسب نہ لگا ۔ اس نے حتی الوسع نارمل انداز میں پوچھا ۔

”پولیس انھیں کس وقت اور کیوں پکڑ کر لے گئی ہے؟“

عائشہ گلو گیر لہجے میں بولی۔”ابھی تھوڑی دیر ہی پہلے پکڑ کرتھانے لے گئی ہے ۔وہ بالکل بے قصور ہے ۔ تین غنڈے اسے مار رہے تھے ۔ پولیس نے آکرغنڈوں کے بجائے میرے بیٹے کو گرفتار کر لیا ۔“

”جھگڑا کس بات پر ہوا ۔اور پولیس کو کس نے بلایاتھا؟“

”پولیس کو کسی نے بھی نہیں بلایا ،خودبہ خود یہاں پہنچ گئی تھی ۔اور آتے ہی دانیال کو پکڑ لیا ۔ حالانکہ وہ تینوں غنڈے اسے مار رہے تھے۔انھیں پولیس نے کچھ بھی نہیں کہا ۔“

”کچھ معلوم ہے کہ انھیں کس تھانے میں لے کے گئے ہیں ؟“مسکان کے منہ سے لاشعوری طور پر دانیال کے لےے ”اس“ کے بجائے ”ان “ نکل رہا تھا ۔

”نہیں بیگم صاحبہ!“

”اچھا ٹھیک ہے ،میں معلوم کر لیتی ہوں ۔آپ فکر نہ کریں ،انھیں کچھ بھی نہیں ہو گا۔“

”اللہ آپ کو اجر دے بیگم صاحبہ !“عائشہ نے دل کی گہرائیوں سے دعا دی ۔مسکان نے رابطہ منقطع کر دیا ۔ عائشہ کی باتوں پر اس کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں ۔اسے بیٹی کہنے والی آج بیگم صاحبہ کے لقب سے نواز رہی تھی اور اس میں سارا قصور اس کا اپنا تھا ۔ ان تلخ سوچوں کو دماغ سے نکال کر وہ حماد کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔اسے شک تھا کہ اس کارروائی میں حماد کا ہاتھ ہو سکتا تھا ۔

”یس ؟“پہلی بیل پر کال اٹینڈ کر لی گئی تھی ۔

”کہاں ہو ؟….اب تک گھر نہیں آئے ؟“

”ذرا مصروف ہوں،ڈنرپر ملاقات ہو گی ؟“

”اچھا !….ایک بات پوچھنا ہے آپ سے ؟“

”جی ؟“

”دانیال کو آپ کی ایما پر پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے ؟“

”ہاں ….ایسے لوگ ڈنڈے ہی کو پیر مانتے ہیں ۔اب دیکھناکیسے طلاق دیتا ہے ؟“ اچانک وہ چونکتے ہوئے بولا۔”مگر تمھیں کس نے خبر دی ؟“

”اس کی ماں نے کال کی تھی سخت پریشان تھی ۔حماد !….یہ ٹھیک نہیں ہے ۔“

”تو کیا کروں ؟….ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاو¿ں ۔وہ حبشی کسی طریقے سے نہیں مان رہا ۔“

”کوئی اور طریقہ نہیں ہے کیا ؟“

”ہے!….عدم آباد کی ٹکٹ کٹوا دیتا ہوں سالے کی ۔“حماد زہر خند لہجے میں بولا۔

”اچھا کس وقت رہائی ملے گی اسے ؟“مسکان کو بے چینی محسوس ہو رہی تھی ۔

”صبح تک چھوڑ دیں گے ۔“

” کس تھانے میں بند ہے ؟“

جواباََ حماد نے اسے تھانے کے متعلق بتایا اور کال منقطع کر دی ۔

وہ عائشہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔

”جی بیگم صاحبہ؟“اس نے کال رسیو کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔

”میں نے بات کر لی ہے ۔انشاءاللہ صبح تک وہ واپس آ جائیں گے ۔آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔“

”اللہ پاک تمھیں خوش رکھے ،خوشیاں دے ،نیک اولاد……..؟“ایک دم عائشہ خاموش ہو گئی ۔ مسکان کو بھی عجیب سا محسوس ہوا تھا اور اس نے رابطہ منقطع کرنے میں عافیت سمجھی ۔ دل میں چھپا چور اسے عائشہ کا سامنا نہیں کرنے دے رہا تھا ۔

وہ بے چین ہو کر ٹہلنے لگی ۔اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے ایک دم کون سی پریشانی لاحق ہو گئی ہے۔

”شاید دانیال کا بے گناہ تھانے میں قید ہونا میرے ضمیر کو جھنجوڑ رہا ہے ؟“ اس نے خود کلامی کی۔ ”ہاں ضرور یہی بات ہے ۔“

”کیاپولیس اسے ڈرا دھمکا کے طلاق لے لے گی ؟….مگر یوں تو اس نے طلاق نہیں دینا ؟ …. شاید زدو کوب کر کے زبردستی اس بات پر مجبور کرےں؟“

”کیا زبردستی طلا ق ہو جائے گی ؟“ایک نئی سوچ اس کے دماغ میں ابھری اور وہ یہ جانے کے لےے مفتی صاحب کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔

”اسلام علیکم !“مفتی صاحب نے کال اٹینڈ کی۔

”مفتی صاحب !….ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا ؟“

”جی پوچھیں ؟“

”اگر پولیس والے کسی آدمی کو مار پیٹ کر یا ڈرا دھمکا کر مجبور کریں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو کیا اس طرح طلاق ہو جائے گی ؟“

ہاں !….اگر اس آدمی نے طلاق دے دی تو ،ہو جائے گی ؟“

”چاہے وہ طلاق نہ دینا چاہتا ہو؟“

”ہاں!….چاہے وہ نہ چاہتا ہو۔اگر کسی دباو¿ میں آکر یا جان کے خوف سے وہ اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو۔ طلاق واقع ہو جائے گی ۔“

”یہ تو ایک غریب کے ساتھ زیادتی ہے ؟“جانے کیوں مسکان دکھی ہو گئی تھی ۔

”ہاں بیٹی !….زیادتی تو ہے ۔اور ایسا کرنے والوں پر اللہ پاک کا عذاب ضرور نازل ہو گا ۔“

”مگر وہ غریب تو اپنی بیوی سے محروم ہو گیا نا ؟“مسکان کا دل رونے کو کرنے لگا تھا ۔

”لوگ بے گناہ ہو کر بھی جان سے محروم ہو جاتے ہیں ؟آپ بیوی کی بات کر رہی ہیں۔جیسے مقتول مرنا نہیں چاہتا مگر ظالم کا ظلم اسے مرنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔اسی پر مذکورہ مسئلے کو قیاس کر لو ۔“

مسکان نے دعائیہ کلمات کہتے ہوئے موبائل فون بند کر دیا ۔رات کو یکھے خواب کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ۔دانیال کے کہے الفاظ اسے نہیں بھولے تھے۔

”مِشّی !….آج تک میں یہی سمجھتا رہا، کہ تم اوپری دل سے طلاق مانگ رہی ہو ۔ معاف کرنا مجھے پتا نہیں تھا تم سنجیدہ ہو؟….اب میں تمھیں مایوس نہیں کروں گا ….زیادہ سے زیادہ مر ہی جاو¿ں گا نا؟“

صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔اب اسے یقین ہو گیا تھا کہ اسے طلاق مل جائے گی ۔ دانیال کی غم زدہ صورت اس کے تصور میں لہرائی ۔

”دانی !….میں شرمندہ ہو ں ۔میں نے تمھیں صرف دکھ دےے ہیں ۔مگر کیا کروں میں مجبور ہوں، میں بھی کسی کے وعدوں کے جال میں جکڑی ہوئی ہوں ،میرا بھی کوئی محبوب ہے ۔ میں جانتی ہوں تم مجھے بہت چاہتے ہو اور یقین کرو تمھاری یہ چاہت ہمیشہ میرے دل میں سنہری یادوں کی صورت زندہ رہے گی۔ بے شک تم مجھے برا سمجھنا ،بے وفا کہنا مجھ سے نفرت کرنایہ تمھارا حق ہے ،لیکن خدار ا مجھے بد دعا نہ دینا ۔ میں تمھارے ساتھ زیادتی کی مرتکب ہوئی ہوں ، ازالے کے طور پر میں نے تمھیں دنیاوی آسائشیں دینے کی کوشش کی مگر وہ بھی تم نے میرے منہ پر طمانچے کی طرح مار کر میرے احساس گناہ کو بڑھا دیا ہے ۔ دانی!…. تم بہت اچھے ہو ،بہت زیادہ۔ میں مسکان ہوں ،میں تمھاری مِشّی بننے کے قابل نہیں ہوں ۔ مجھے معاف کر دینا ۔“

آنکھوں سے بہتے نمکین پانی نے اس کے ہونٹوں سے لگ کر اپنی موجودی کااحساس دلایا۔تپائی پر رکھا پرس کھولنے پر اسے دانیال کا دیا رومال نظر آیا۔اس کی سماعتوںمیں دانیال کے چاہت بھرے الفاظ گونجے۔

”پتا ہے نا یہ کن کن مواقع پر استعمال ہوتا ہے ؟…. آنسوپونچھنے لےے۔اور میں بھی آپ کو یہی باور کرانا چاہتا ہوں ،کہ زندگی کے کسی بھی موقع پر اللہ نہ کرے اگر آپ کی آنکھ سے آنسو کا قطرہ نکلا تومیں اس رومال کی جگہ لے لوں گا۔“اشکوں کی روانی میں اضافہ ہوا اور دانیال رومال کی شکل میں اپنا وعدہ نبھانے لگا ۔

٭……..٭

حماد سے اس کی ملاقات کھانے کی میز پر ہو سکی تھی۔وہ کافی مطمئن اور خوش دکھائی دے رہا تھا ۔

”بیگم صاحبہ !….آج بجھی بجھی نظر آرہی ہو ؟“اس نے دیکھتے ہی مسکان کی پریشانی بھانپ لی تھی ۔

”ہاں حماد!….جانے انجانے میں ہم سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے ۔اولاد کے حصول کی خواہش میں اندھے ہو کر ہم نے ایک غریب کی زندگی میں زہر گھول دیا ہے ۔اور آج وہ ناکردہ جرم کی سزاپانے تھانے میں بند ہے ۔ اس کی ماں گھر میں تڑپ رہی ہے ۔کیا بگاڑا رتھا ان غریبوں نے ہمارا ؟“ مسکان آنکھیں نم ہو گئیں تھیں ۔

”مسکان !….پاگل مت بنو۔“حماد نے اسے جھڑکا۔”اسے تھانے میں کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ بس تھوڑا بہت ڈرا دھمکا کر طلاق نامے پر سائن لےے جائیں گے اور پھر اسے رہا کر دیں گے ۔باقی ان غریبوں کو ہم نے غربت کی زندگی سے نکالنا چاہا تھا اگر وہ خود ہی اپنے حال میں مست رہنا چاہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ؟“

”حماد!…. ہمیں شادی سے پہلے ساری صورت حال اس کے سامنے رکھ دینا چاہےے تھی ۔“

”دیکھو مسکان!….دل پر مت لو ،یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے ۔اور ہمارے اس ردعمل کا ذمہ دار وہ خود ہے ۔ اگر وہ آسانی سے طلاق دے دیتا تو کیا ہم اسے تنگ کرتے ؟تم نے بھی اس کی کتنی منتیں کی تھیں۔ جب ایک عورت اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی تو اسے کیوں طلاق نہیں دے رہا تھا ۔کیا عورت کو حق نہیں ہے اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا ۔اور پھر تم نے اس پر نوازشوں کی بارش کر دی اس کے باوجود وہ اسی ہٹ دھرمی پر قائم رہا ۔ حالانکہ کار ،مکان ،کاروبار یہ ایسی آسائشیں ہیں جن کے خواب تو نچلے طبقے کے لوگ دیکھتے ہیں تعبیر کبھی نہیں پا سکتے ۔“ حماد کی چرب زبانی سے اس کی پراگندہ سوچوں کو تھوڑا سا آرام ملا تھا، مگر اس کے باوجود وہ ٹھیک طرح سے کھانا نہیں کھا سکی تھی ۔

”اورایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو ،اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ وہ حبشی تمھاری چاہت میں ڈوب کر ایسا کر رہا ہے تو یہ تمھاری غلط فہمی ہے ۔اس خبیث کو کہیں سے سن گن مل گئی ہے کہ تم ایک سیٹھ زادی ہو اور اب وہ چھوٹے فائدے کے بجائے بڑا فائدہ اٹھا نا چاہتا ہے ۔“

مسکان کا جی چاہا کہ وہ حماد کی بات کو سختی سے جھٹلا دے ،مگر پھر اسے حیا آڑے آ گئی ۔ وہ حماد کو کیسے یقین دلا سکتی تھی کہ دانیال کی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تھا ۔وہ بلا شبہ اپنی مشی کے لےے ہفت اقلیم کی دولت کو بھی ٹھکرا سکتا تھا ۔ ورنہ دیکھا جاتا تو جتنا کچھ مسکان نے اسے دیا تھا اسے ٹھکراناکسی غریب کے بس کی بات نہیں تھی ۔اگر وہ زیادہ کا لالچ رکھتا تو اپنا مطالبہ ضرور پیش کرتا ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی کسی وضاحت کی محتاج نہیں تھی کہ مسکان کی دولت مندی کے بارے معلوم ہو نے کے بعد وہ کیسے اس دولت پر قبضہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا تھا، جبکہ مسکان عدالت سے خلع لینے کا اختیار رکھتی تھی ۔اگر وہ عدالت میں چلی جاتی تو اس صورت میں اس کے پاس کیا بچتا ۔گو وہ خلع کے لےے کبھی بھی عدالت کا دروازہ نہ کھٹکھٹاتی ،مگر اس بارے دانیال تو لا علم تھانا؟ ۔ اسے یہ کہاںمعلوم تھا کہ مسکان اس ضمن میں عدالت نہیں جا سکتی ہے؟مگر مسکان یہ سب نہ کہہ سکی اور بات بناتے ہوئے بولی ۔

”حماد !….میں نے کب کہا ہے کہ وہ مجھے چاہتا ہے۔یایہ کہ مجھے اس کی چاہت کی ضرورت ہے ۔ میں تو بس اس بات پر دکھی ہوں کہ میں نے اسے دھوکا دیا ہے ۔کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا ؟“

”میں نے بھی یہ بات نہیں کہی ہے میری جان ۔“حماد نے چاپلوسی سے اس کی تائید کی ۔

”اچھا میرا سر درد کر رہا ہے اور میں سونے جا رہی ہوں ۔“وہ کھڑی ہو گئی ۔

”کوئی ٹیبلٹ لے لینا تھی ؟“حماد کے لہجے میں ہمدردی تھی ۔مگر وہ پھیکی ہمدردی مسکان کو بہت بری لگی ۔ اس کی بات کا جواب دےے بغیر وہ اپنی خواب گا ہ میں گھس آئی ۔

دانیال کو بھی اس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میرا سر درد کر رہا ہے ۔وہ دیوانہ اتنا پریشان ہو گیا تھا کہ مسکان کا دل اس غلط بیانی پر ندامت سے بھر گیا تھا ۔اس کی ہر ادا سے مسکان کے لےے یونھی خلوص اور چاہت جھلکتی تھی ۔

”جانے کیوں اس کی ادائیں نہیں بھولتیں ؟“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی۔”کیا اس کالے جادو گر کے سحر کا کوئی توڑ نہیں ہے ۔اس نے تو مجھے اپنے حماد سے بھی دلی طور پر دور کر دیا ہے ۔“

بیڈ پر لیٹ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔اس کی طلاق لینے کی کوششوں پر دانیال کا ہر بار انکارکرنااس کے دل کو تقویت دیتا تھا ۔عین الیقین کو حق الیقین بناتا تھا کہ اس کا مجنوں خالی دعووں والا نہیں جان دینے والا ہے۔مگر اب اخیر ہو گئی تھی ،وہ کبھی بھی پولیس کے تشدد کا سامنا نہ کر سکتا اور اسے اپنی پیاری مشی کو طلاق دینی پڑ جاتی ۔

اس کے دماغ میں سوچ ابھری ۔”جب میں خود طلاق لینا چاہتی ہوں تو پھر پریشانی کیسی ؟“

”پریشان تو نہیں ہوں ….یہ تو ….یہ تو ؟….ضمیر کی سرزنش ہے کہ میں نے ایک سیدھے سادھے بندے کو دھوکا دیا ۔ اس کے عشق میں تھوڑی مبتلا ہوں کہ مجھے پریشانی ہو گی ؟“اس نے خود کو دلاسا دیا ۔ ”اور پھر ایک محب سے اس کی محبت دور کرنے کی مجرم بھی تو ہوں ؟“

”اچھا طلاق لینے کے بعد اس کی ماں کو اس بات پر راضی کروں گی کہ وہ میری معاشی مدد قبول کر لیں؟“

اس امید افزءسوچ نے اس کے دکھ کو کسی حد کم کر دیا تھا ۔وہ اپنے گناہ کے کفارہ کے بارے سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگی ۔کافی دیر تک وہ جاگتی رہی ۔جب پھر بھی نیند کی دیوی مہربان نہ ہوئی تو اسے بلانے کے لےے نیند کی گولیوں کی رشوت دینا پڑ گئی ۔

٭……..٭

مسکان کے وہاں سے جاتے ہی حماد نے بھی اپنے بیڈ روم کا رخ کیا ۔دانیال کو پولیس کے ہاتھوں اسی نے گرفتار کرایا تھا ۔تینوں غنڈوں اور پولیس نے ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق دانیال کو گھیرااور ان کی ملی بھگت سے وہ اس وقت حوالات کے اندر بند تھا ۔تھانیدار نے ایک لاکھ کی رقم وصول کرتے ہوئے اسے صبح تک طلاق نامہ سائن ہو جانے کی خوش خبری سنانے کا وعدہ کیا تھا ۔غنڈوں کو تو اس نے یہ اختیار بھی دیا تھا کہ اگر وہ رقم لے کر مان جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔اور رقم کی مقدار اس نے لاکھوں میں بتائی تھی تاکہ کسی طرح وہ حبشی مان لے ۔ یوں بھی مطلوبہ رقم وہ دانیال کو دےے گئے مکان ،کاراور دکان کو بیچ کر حاصل کر لیتا ۔اور اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ مسکان کے سامنے وہ دانیال کا گھٹیا پن ظاہر کر دیتا ۔ورنہ اتنا بے وقوف وہ بھی نہیں تھا کہ مسکان کے دل میں اس کے لےے چھپی ہمدردی نہ پہچان پاتا۔

اور آج اس کے تھانے میں جانے کی خبر پر جس طرح اس نے پریشانی کا اظہار کیا تھا اس نے اس کے دل میں انجانے اندیشے بھر دےے تھے۔ایسے اندیشے جن کی توجیہ سے وہ قاصر تھا ۔ دانیال کا ٹنٹنا جتنی جلدی ختم ہو جاتا اتنا بہتر تھا ۔ موبائل نکال کر اس نے فریحہ کا نمبر ملایا تاکہ اسے تازہ صورت حال سے آگاہ کر سکے۔

”جی جناب ؟“اس کے کانوں میں فریحہ کی شیریں آواز نے رس انڈیلا ۔

”Congratulation(مبارک ہو )فری!….“

”کس چیز کی مبارک باد جی ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔

”کل تک سیٹھ زادی بیوہ ….اوہ سوری مطلقہ ہو جائے گی ۔“

”مگر کیسے ؟“فریحہ نے بے صبری سے پوچھا ۔

ََ وہ جوش و خروش سے اسے تفصیل بتانے لگا۔ساری کہانی سن کر فریحہ نے کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا تھا ۔

”تمھیں خوشی نہیں ہوئی ؟“

”خوشی اس دن ہو گی جب تم کہو گے کہ آج سے تم فقط میرے ہو ؟“

”اس میں شک ہی کیا ہے ۔میں تو ہمیشہ سے تمھارا ہوں ۔“

”پھر مسکان کے پاس کیا کر رہے ہو ؟….میرے پاس آو¿ نا،دیکھوکہ میری راتیں تم بن کتنی سونی اور ویران ہیں ؟“

”فری میری جان !….کچھ پانے کے لےے کچھ کھونا پڑتا ہے ؟“وہ اسے سمجھانے لگا ۔

”مجھے کچھ نہیں چاہےے ….میں تھوکتی ہوں اس دولت پر۔حماد یقین کرو دولت سے خوشی نہیں ملتی، اگر دولت خوشی دے سکتی تو وہ کالاکبھی دولت کو ٹھوکر نہ مارتا ۔اسے اپنی مسکان سے محبت ہے اور اس محبت کی خاطر اس نے تھانے جانا بھی قبول کر لیا ہے ۔اور یاد رکھناپولیس تشدد کے ذریعے بھی اسے مجبور نہیں کر سکے گی ؟مجھے بھی تم سے ایسی ہی محبت درکا رہے ۔پہلے میں وقتی طور پر بہک گئی تھی ۔ اب دو تین دنوں سے میں اسی کش مکش میں ہوں کہ مجھے کیا چاہےے ؟…. بہت سوچا ،بہت دماغی ورزش کی ،اپنے دل کو ٹٹولا اور اس نتیجے پر پہنچی ۔ایک چھوٹا سا گھر ، چاہنے والا شوہر اور کھانے کو جو بھی روکھی سوکھی مل جائے ۔“

”فری !….تم مجھے کھسکی ہوئی لگتی ہو ؟….یہ سب کچھ ہم نے مل کر طے کیاتھا ،اسی وجہ سے میں نے شادی کی ، اسی وجہ سے تم سے دوری برداشت کی اور آج جب میری بوئی فصل پک کر کٹنے کے لےے تیار ہو گئی ہے تو تم مشورہ دے رہی ہو سب کچھ چھوڑ دوں ؟“

”ہاں ….ہاں ….ہاں ….میں کہہ رہی ہوں۔ مجھے کسی کے مقبرے پر محل کھڑا نہیں کرنا …. میں بے وقوف تھی ،نہیں جانتی تھی کہ محبت کیا ہوتی ہے ؟….نہیں ضرورت مجھے کسی دولت کی ۔کوٹھی ،بنگلہ ، گاڑی ،کاروبار یہ سیٹھوں ہی کو مبارک ہوں ۔اگر ہماری قسمت میں یہ دولت ہوئی تو مل جائے گی ،نہیں تو کیا ہم پاک پروردگار کی لکھی ہوئی تقدیر سے جنگ کر سکتے ہیں۔“

”یہ محبت کا بھوت تم پر اس کلوٹے سے ملاقات کے بعد سوار ہوا ہے ۔ہے نا ؟“

”ہاں !….اس میں شک ہی کیا ہے ۔وہ چاہتا ہے مسکان کو ۔اس کی محبت اس کے حوالے کر دو۔ دل کی گہرائیوں سے دعائیں دے گا ؟…. جس لڑکی کی تمھارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں اس کے لےے وہ دنیا و ما فیہا سے بڑھ کر ہے۔ وہ اس کے لےے دولت اور پر آسائش زندگی ہی نہیں ،فریحہ جیسی لڑکی کو بھی ٹھکرا سکتا ہے ۔حادی !….یقین کرو اس کی محبت میں کوئی کھوٹ نہیں ۔ ایک بار بھی تو نظر بھر کر اس نے میرے چہرے کو نہیں دیکھا ۔میں نے ایسی ادائیں دکھائیں کہ زاہدصد سالہ بھی مجھ پر فریفتہ ہو جاتامگر اسے اثر ہی نہیں ہوا ،جانتے ہو کیوں ؟….کیونکہ وہ اپنی مشی کا دیوانہ ہے ۔ حادی! …. اسے اپنی مشی لوٹا دو اور مجھے میرا حادی دے دو پلیز ۔“

”شٹ آپ ۔“حماد تپ کر بولا ۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ فریحہ اتنی احمق نکلے گی ۔

”حماد !….آج فیصلہ ہو جانا چاہےے ۔تمھیں فری یا دولت سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ؟“ فریحہ اس ڈرامے کے ڈراپ سین کے لےے تیار ہو گئی تھی ۔مسکان کو قریب سے دیکھنے پر اسے محسوس ہوا تھا، کہ اس جیسی نیک خصلت لڑکی کو قتل کر کے وہ دونوں کبھی بھی چین کی زندگی بسر نہیں کر سکیں گے ۔

”فری!….کیا ہوگیا ہے تمھیں ۔پتا ہے آج کل عام انسان کی زندگی کتنی مشکل اور دشوار گزار ہے ۔ نہ تو ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور نہ وہ انھیں زندگی کی بنیادی ضروریات ہی فراہم کر سکتے ہیں ۔یہ ترسے شب و روز اورپوری نہ ہونے والی خواہشیں ،ایسی حسرت بن کر دل میں پیوست ہو جاتی ہیں ،کہ جو جرم کی راہ کو کشادہ کر دیتی ہیں ۔ اگر کل ہم نے اپنی اولاد کو مجرم بنانا ہے تو اس سے بہتر نہیں کہ آج ہلکا پھلکا جرم کر کے ان کی زندگی آسان بنا دیں ۔“

”واہ !….عجیب منطق ہے ،بچوں کو جرم سے بچانے کے لےے خود مجرم بن جاو¿؟….اور بائی دا وے تم! ….کن بچوں کی بات کر رہے ہو ؟ہم دو میاں بیوی ہوں گے ،جب تم بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہو تو بچے کہاں سے آئیں گے ؟“فریحہ آج اس کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آ رہی تھی ۔

”فری !….کیا اپنے حماد کا ساتھ چھوڑ دو گی ؟“وہ جذباتی بلیک میلنگ پر اتر آیا تھا ۔

”نہیں حماد !….یہ سوال تو میرا ہے ؟….کیا تم اپنی فری کو چھوڑ دو گے ؟چند ٹکوں کی خاطر ؟ مجھے جواب چاہےے ؟ اگر تمھیں دولت ،کوٹھی ،کار اور ہائی سوسائٹی عزیز ہے تو فری تمھارے رستے سے ہٹ جائے گی ۔ اگر فری چاہےے تو پھر ان سب کو چھوڑنا ہوگا ۔ہم دونوں الحمداللہ تعلیم یافتہ ہیں جاب کر لیں گے بلکہ یقین کرو مسکان ہمیں ضرور اچھی جاب ڈھونڈ کر دے دے گی ۔وہ بہت اچھی لڑکی ہے ….؟“

”تمھاری یہ بکواس بند ہو سکتی ہے ؟“وہ قطع کلامی کرتے ہوئے دھاڑا۔

”حماد !….پلیز مجھے مایوس نہ کرو ،میں نے تہیہ کر لیا ہے ؟تمھیں دولت یا فریحہ سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا؟اور یہ فیصلہ ابھی اور اسی وقت کرنا ہو گا ۔“

”تم اس وقت دماغی طور پر اپ سیٹ ہو۔ میں بعد میں بات کروں گا ؟“حماد نے جان چھڑانا چاہی ۔

”اگر تم نے کوئی جواب دےے بغیر رابطہ منقطع کر دیا تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ تمھیں دولت چاہےے ۔ اور یاد رکھنا اس کے بعد فری تمھارے لےے مر جائے گی ۔“فریحہ آج اسے آزمانے پہ تل گئی تھی۔

”فری پلیز !….بڑی مشکل سے مجھے اپنے خوابوں کی تعبیر پوری ہوتی نظر آئی ہے ۔ تم اس میں روڑے اٹکانے کی کوشش نہ کرو ۔“

اس نے پوچھا ۔”کیا میں تمھارا خواب نہیں ہوں ؟“

”کیوں نہیں ہو ؟….مگر زندگی خالی محبت کے سہارے ہی تو نہیں گزاری جا سکتی نا ؟“

”مطلب تم باز نہیں آنے والے ؟“فریحہ کا لہجہ دکھ سے پر تھا ۔

وہ جھلا کر چلایا۔”تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہی ہو ؟“

”سمجھاو¿ نا؟….“اس کا لہجہ بھی بلند ہو گیا تھا ۔

”مجھے تم سے اس بے وقوفی کی توقع نہیں تھی ۔دیکھو فری!….“وہ اسے نرمی سے سمجھانے لگا ۔”یہ غریبوں کا خون چوسنے والے سیٹھ کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ۔یہ وہ آدم خور درندے ہیں جو دن رات ہم غریبوں کا شکار کر کے اپنے بڑے پیٹ بھرنے میں جتے رہتے ہیں ۔ ان کے کبھی نہ بھرنے والے شکم تمھیں تجوری اور بینک بیلنس کی صورت میں نظر آئیں گے ۔ اگر ہم ان میں سے کسی خون آشام درندے کو ہلاک کر دیں تو وہ جرم کیسے ہو گیا ؟…. میری نظر میں یہ نیکی ہے ۔“

”مجھے فلسفہ نہیں ،فیصلہ سناو¿ ؟….فری چاہےے یا دولت؟“

”فری پلیز….پلیز ….اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرو ؟“

”واہ!….اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔وسعت میں پیدا کروں ہاں؟….غلط کام تم کر رہے ہو اور قصور وار میں ہوں کہ اس جرم پر آمادہ نہیں ہورہی ۔“

”غاصبوں سے چھیننا کوئی جرم نہیں ہے ؟“

”کون غاصب؟….اور مسکان یا اس کے خاندان نے تمھارا کیا غصب کیا ہے؟….حماد !…. ان کے لےے ظالم تم ہو ۔کیا کچھ قربانی نہیں دی اس لڑکی نے تمھارے لےے ؟ یہاں تک کہ ایک ایسے بندے کی بیوی بننے کے لےے بھی تیار ہو گئی جو تمھاری نظر میں کراہیت آمیز اور بدصورت ترین شخص تھا ۔ صلے میں اسے کیا ملے گا ؟….درد ناک موت ، اس کا بچہ یتیم ہو گا اور دولت پر عیش کرے گا اس کا قاتل ۔واہ جی واہ !….اس کے باوجود وہ غاصب اور ہم ہیں مظلوم، ان کے مظالم کا شکار۔ یہی سمجھانا چاہتے ہیں مجھے آپ ؟“

”سچ بتاو¿ تمھارے کان کس نے بھرے ہیں ؟“

وہ اطمینان سے بولی ۔”میرے ضمیر نے ۔“

”اچھا کل اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے ؟“اس نے وقتی طور پر جان چھڑانا چاہی۔

”گو محبت کرنے والے سودو و زیاں کانہیں سوچا کرتے اور اس کی مثال پیش کرنے کے لےے میرے ذہن میں پھر اسی احمق کا نام آتا ہے جسے تم حبشی کہتے ہو ۔لیکن پھر بھی ڈھیٹ بن کر میں اگلا ایک گھنٹا تمھارے فیصلے کاانتظار کروں گی ۔ جواب نہ آنے کی صورت بھی میں یہی سمجھوں گی کہ تو نے اپنی فری پر دولت کو ترجیح دی ہے ۔“ یہ کہتے ہی اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

حماد سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔وہ فری کو بہت چاہتا تھا مگر دولت کو چھوڑنا بھی ممکن نہیں تھا ۔اس نے دولت کے حصول کا بے داغ منصوبہ بنایا تھا جب اس کے پورا ہونے کا وقت قریب آیا اور ساری رکاوٹیں دور ہوئیں تو فریحہ کی صورت میں نئی رکاوٹ سامنے آگئی ۔چاہت اپنی جگہ مگر اس کے لےے وہ اپنا مستقبل داو¿ پر نہیں لگا سکتا تھا ، اپنی تمناو¿ں کا خون نہیں کر سکتا تھا، اپنی حسرتوں کو برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ یوں بھی اسے امید تھی کہ فریحہ کی ناراضی مستقل بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتی تھی ۔ زیادہ سے زیادہ وہ چند ہی ماہ خفا رہتی، دولت کی ریل پیل اور پر آسائش زندگی کی چکا چوند اسے ضرور حماد کے پاس واپس لے آتی ۔اس سوچ نے اس کے اندیشوں کو اطمینان میں بدل دیا تھا ۔موبائل آف کر کے وہ آرام کرنے لیٹ گیا ۔سب سے پہلے اسے اپنے خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنا تھا اس کے بعد وہ اپنی محبت کو بھی راضی کر لیتا ۔

٭……..٭

رابطہ منقطع کر کے فریحہ مضطرب انداز میں ٹہلنے لگی ۔اسے امید تھی کہ حماد اسے دوبارہ منانے کی کوشش ضرور کرے گا، مگر اس نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ آج وہ اپنی چاہت کا امتحان لے کے رہے گی ،چاہے اس کے لےے اسے محبت سے ہمیشہ کے لےے ہاتھ کیوں نہ دھونے پڑتے ۔اس نے دس بجے حماد کو ایک گھنٹے کاالٹی میٹم دیا تھا مگر ساڑھے گیارہ بجے تک بھی جب اس کی کال نہ آئی تو اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ۔

”گویا حماد کو دولت عزیز ہے ؟“وہ خود کلامی کرتے ہوئے حماد کا نمبر ڈائل کرنے لگی تاکہ اس بات کی تصدیق اس کی منہ زبانی سن لے ۔مگر نمبر بند ہونے کا مژدہ سن کر اسے چکر آنے لگے حماد نے نمبر آف کر کے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا ۔یقینا فیصلہ کن مرحلہ آ گیا تھا ۔حماد کو اس کی ضرورت نہیں تھی ۔ اسے یاد آیا غلطی حماد کی نہیں اس کی اپنی تھی ۔حماد نے تو پہلے دن ہی سے اس پر واضح کر دیا تھا کہ اس کی پہلی ترجیح کیا ہے ۔اقرار محبت کے ساتھ ہی اس نے اپنا مستقبل بہتر بنانے کے منصوبے اس کے سامنے دہرانے شروع کر دےے تھے ۔وہ خود ہی بے وقوف تھی کہ اس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنی رہی ،یا پھر اسے بھی ہائی سوساٹی عزیز تھی ۔

بہ قول دانیال اسے حماد سے محبت نہیں تھی ۔اپنا دل و دماغ کھنگالنے پر اسے یہ بات سچ نظر آئی ۔ وہ حماد کی صورت پر فریفتہ اور اس کی خوب صورتی پر نثارتھی ۔اسی طرح حماد بھی اس کی شکل و صورت کا دیوانہ تھا اس کی شخصیت کا نہیں ۔ اگر خدا نخواستہ اس کا چہرہ کسی وجہ سے بگڑ جاتا تو شاید وہ اسے گھاس ڈالنا بھی پسند نہ کرتا ۔جبکہ دانیال کے بارے اسے سو فیصد یقین تھا کہ اگر مسکان کے چہرے پر کوئی تیزاب بھی پھینک دیتا تب بھی وہ اسے یونھی چاہتا ۔

وہ ماضی کی کھوج میں اپنے منتشر خیالات کو مجتمع کرنے لگی ۔

وہ خوب صورت تھی اوریہ بات اچھی طرح جانتی تھی۔بچپن ہی سے اسے خصوصی توجہ ملتی رہی تھی۔ وہ جب بھی کسی محفل میں شریک ہوتی ،محفل میں موجودتمام مردوں کی نظروں کا مرکز بن جاتی ۔ہائی اسکول اور پھر کالج یونیورسٹی میں بھی لڑکے جس طرح اس کے آگے پیچھے گھومتے وہ سب اس سے مخفی نہ تھا ۔ وہ بھی گوشت پوست کی بنی ہوئی تھی ۔ ایسی باتوں سے خوش ہوتی لیکن اس کے ساتھ اسے ایک ایسے مرد کی ضرورت بھی محسوس ہوتی جو اس کے خوابوں کا شہزادہ بننے کے قابل ہوتا،اس کے سینے میں بھی دل نام کا ایک لوتھڑا دھڑکتا تھا ۔کسی کو چاہنا اور اس کی تمناو¿ںکا مرکز بننا اس کی بھی دلی خواہش تھی ۔ اور پھر اسے حماد مل گیا ….وہ حماد!….جس کو اس نے پہلی ہی نظر میں دیکھ کر پسند کیا تھا ۔پھر اسے مسکان کے ساتھ مشغول دیکھ کر وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی تھی ۔بعد میں ایک اتفاقی ملاقات کے بعد وہ اس سرعت سے قریب آئے تھے کہ خودان کی بھی سمجھ میںنہ آیا کہ یہ کیا ہو گیاہے۔وہ اگر حسن کا شاہ کار تھی تو حماد بھی مجسمہ حسن کہلانے کا حق دار تھا ۔ اور یہی صورتوں کی مماثلت انھیں قریب کرنے کا باعث بنی تھی۔ وہ حماد کی چکنی چپڑی باتوں کو محبت کی معراج سمجھتی رہی ۔مسکان کی دی گئی بخشش سے وہ اسے شاپنگ کرا دیتا اوراس کی محبت پر مہر تصدیق ثبت ہوجاتی ۔مگر دانیال سے ملنے اور اس کے خیالات جاننے کے بعد اسے پتا چلا کہ محبت کیا ہوتی ہے ۔ اس نے جانا کہ محبت تو ہر فائدے نقصان سے ماورا ایک ایسا جذبہ ہے جس میں محب کی ساری تمناﺅں کا محور محبوب کی ذات ہوتی ہے ۔اس کے لےے دنیاوی عیش و آرام کو ٹھکراناکوئی معنی نہیں رکھتا ۔محبوب کی صورت کے علاوہ کوئی صورت اس کی آنکھوں میں نہیں جچتی ۔ اور یہ سب کرنے کے بعد بھی وہ کسی صلے کا طلب گار نہیں ہوتا۔

جبکہ حماد کی چاہت بھی فقط اس کی خوب صورت شکل و صور ت تک محدود تھی ۔ اس قسم کے چاہنے والے اسے ہزاروں لاکھوں مل جاتے ۔مگر ان کی محبت تب تک ہوتی جب تک وہ اسے حاصل نہ کر لیتے ، اسے تو کوئی دانیال جیسا چاہےے تھا۔ کیسی شکل ہی کا کیوں نہ ہوتا ،بس اس سے محبت کرتا ،ایسی محبت جیسے دانیال ،مسکان سے کرتا تھا ۔اسے مسکان کے نصیب پر رشک آیا ۔ دولت ،شکل و صورت اور پھر دانیال کی طرح کا بے لوث چاہنے والا ۔ اسے رب نے ہر طرح سے نوازا تھا ۔مگر حماد کو اختیار کر کے وہ ایک بہت بڑی غلطی کرنے والی تھی ۔

فریحہ کو ایک دم اس سادہ لڑکی پر پیار آیا ۔وہی مسکان جسے وہ کبھی مرکز نفرت و حقارت سمجھتی تھی، اب اسے بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔وہ دانیال کا اور اس کا ملاپ کرا کر بہت بڑی نیکی کما سکتی تھی ۔یوں بھی اس نے دانیال سے یہ وعدہ بھی کیا تھا۔ اور اس طرح شاید حماد بھی اس کی طرف لوٹ آتا ۔

”جب مسکان اسے دھتکارے گی؟ ….تو کیا مجھے دوبارہ حماد کوقبول کرلینا چاہےے ؟“

”نہیں ….کبھی نہیں ؟جو شخص آج میری چاہت پر دولت کو ترجیح دے رہا ہے وہ کل کو میرا ساتھ کیا نبھائے گا؟ اس سے بہتر ہے والدین کی مرضی کے مطابق شادی کر لوں ۔کم از کم ضمیر تو مطمئن رہے گا ؟“

پھر اسے خیال آیا ۔”اس طرح تو کسی کے ساتھ بھی شادی ہو گی تو وہ مجھے ایسی محبت نہیں دے سکے گا جس کی میں خواہش مند ہوں؟….حماد کم از کم خوب صورت تو ہے ،پھر مسکان کے بعد وہ شرمندہ ہو کر میری طرف لوٹے گا ،معافی بھی مانگے گا ۔“ سب سے بڑھ کر اس کے اپنے دل میں حماد کے لےے پسندیدگی کے جذبات پنہاں تھے ۔جنھیں وہ آج تک محبت ہی سمجھتی رہی تھی ۔

کوئی واضح فیصلہ اس سے نہیں ہو پا رہا تھا ۔نہ وہ سمجھ پا رہی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔ دانیال سے کیا ہواوعدہ نبھانا چاہتی ہے ،حماد کو صرف اپنا دیکھنا چاہتی ہے ،مسکان کا بھلا چاہتی ہے کہ وہ حماد سے جان چھڑا لے اور اپنی زندگی بچا لے یا کوئی دوسرا خوف اس کے دل میں پنہاں ہے ۔

کافی دیر کی ذہنی ورزش کے بعد آخر وہ اس بات پر تیار ہو گئی کہ مسکان سے بات کر کے اسے سمجھانے کی کوشش کرے ،کیا پتا وہ اس کی بات مان لے ۔مسکان کا نمبر اس کے پاس موجود تھا ۔وہ اس کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔بیل جانے کے باوجود وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہی تھی ۔

”کہیں حماد کی آغوش میں نہ لیٹی ہو ؟“غصہ بھڑکانے والی سوچ اس کے دماغ میں ابھری مگر اس کے ساتھ اسے حماد کی بات یاد آئی کہ….

” وہ ایک مذہبی لڑکی ہے اور بغیر نکاح کے اسے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی ۔“

دو تین کوششوں کے بعد بھی مسکان نے کال اٹینڈ نہ کی ۔اور اسے یہ کام صبح پر ٹالنا پڑا۔

اسے یقین تھا کہ وہ مسکان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔بہت قریب سے اس کا جائزہ لینے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ وہ اچھے کی اخلاق کی مالک باکردار لڑکی ہے ۔ اور مسکان ہی کو قائل کر کے وہ دانیال کو حوالات کی اذیت سے چھٹکارا دلا سکتی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: