Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 19

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 19

–**–**–

جیپ تھانے کے سامنے جا کر رک گئی ۔ سپاہیوں نے بدتمیزی سے دانیال کو گریبان سے پکڑ کر نیچے اتارااور کھینچتے ہوئے اندر لے گئے ،جبکہ تینوں غنڈے بڑے اطمینان سے اتر کر اندر کی جانب چل دئےے تھے ۔

اندر جا کر تینوںنے بغیر کسی دعوت کے کرسیاں سنبھال لی تھیں ۔ انسپکٹر نے اپنی نسشت سنبھالی اور شاہانہ انداز میں غنڈوں کے سرغنہ سے مستفسر ہوا ۔

”ہاں جی !….اب بتاو¿ کیا معاملہ ہے ؟“

سرغنہ نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور پھر تفصیلاََ دانیال کے جرم پر روشنی ڈالنے لگا ۔

”سر !….میری ایک قریبی عزیزہ کا مسئلہ ہے ۔اس کی اپنے شوہر سے کسی گھریلو مسئلہ پر ان بن ہوئی اور غصے میں آکر شوہر نے اسے طلاق دے دی ۔ غصہ اترا ،دونوں پشیمان ہوئے اور اس مسئلے کا ایک ہی حل، شرعی حلالہ انھیں سوجھا۔اس ضمن میں وہ غریب اس بد بخت کے چنگل میں پھنس گئے ۔یہ ایک اوباش اور بد کردار شخص ہے ۔ لڑکی نے اپنے شوہر کو پانے کے لےے عارضی طور پر اس خبیث سے شادی کی اور جب طلاق کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کر دیا ۔اب دو ماہ ہو گئے ہیں وہ لڑکی اس سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور یہ اسے عشق و محبت کی کہانیاں سنا رہا ہے ۔شریف بچی ہے ،اگر اس بات کا ڈھنڈورا پیٹے تو بدنام ہو جائے گی ۔ تنگ آکر اس نے مجھے درخواست کی کہ اس سے بات چیت کر وں ،اسی مقصد کے لےے میںاس کے گھر گیا تھا ۔اس نے بات تو کیا سننا تھی ذلیل کر کے گھر سے نکال دیا ۔ میرے ساتھی کی ناک بھی ٹکر مار کے توڑ دی۔ یہ تو شکر ہے کہ آپ آگئے ورنہ شاید یہ ہمیں جان سے مار دیتا ؟“

”ہاں بھئی !….اس کے جواب میں تمھارا کیا موقف ہے ؟“ انسپکٹر نے تیکھے لہجے میں دانیال سے پوچھا۔

دانیال نے کہا۔”تھانیدار صاحب !….میں بالکل بے قصور ہوں ،یہ شخص سراسر جھوٹ کہہ رہا ہے ۔ میں ابھی کام سے لوٹا ہوں یہ میرے گھر کے سامنے پہلے سے موجود تھے ۔مجھے دیکھتے ہی انھوں نے میرا نام پوچھا اور پھر بڑی بد تمیزی سے کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں ،میرے انکار پر یہ مجھے مارنے لگے ۔ میری ماں نے مجھے چھڑانا چاہا تو اس پر بھی انھوں نے ہاتھ اٹھایا،میں آخر انسان ہی ہوں ،مجھے بھی غصہ آگیا اور جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ “

انسپکٹر نے کہا ۔”چلو !جو ہوا سو ہوا،اب تم طلاق نامے پر دستخط کر دو تاکہ مجھے یقین آ جائے کہ تم بے گناہ ہو ؟“

انسپکٹر کی بات سن کر سرغنہ نے جیب سے طلاق نامہ نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا ۔

”تھانیدار صاحب !….یہ میرا گھریلو معاملہ ہے؟“دانیال میں جانے کہاں سے اتنی جراَت آ گئی تھی ۔

”معاملے کے بچے ۔“ساتھ کھڑے سپاہی نے اس کے منہ پر تھپڑ جڑتے ہوئے کہا ۔ ”سائن کرتے ہو کہ آپریشن تھیٹر کی سیر کراو¿ں ؟“

اس مرتبہ کچھ کہے بغیر دانیال نے سختی سے ہونٹ بھینچ لےے تھے ۔

”میرا خیال ہے تمھیں عزت راس نہیں آئی ؟“ انسپکٹر نے زہر خند لہجے میں پوچھا ۔

اسی وقت سرغنہ نے لقمہ دیا ۔”تھانے دار صاحب !….اگر طلاق دینے کے لےے کوئی رقم وغیرہ درکار ہے تو مطالبہ کرے ،جتنی رقم چاہےے ہو گی ہم ادا کرنے کے لےے تیار ہیں ؟“

”میرا خیال ہے اب تو تمھیں اعتراض نہیں ہونا چاہےے ؟“ انسپکٹر نے خوشی سے دانت نکالے ۔ ”بتا کتنی رقم چاہےے ؟….دس ہزار ،بیس ہزار تیس ہزار ؟“

”تھانیدار صاحب !….یہ لاکھوں کا مطالبہ کرے اسے اگلے ایک گھنٹے کے اندر ادا کر دےے جائیں گے ؟“

”لل ….لاکھوں ؟“انسپکٹر کی زبان لڑکھڑا گئی تھی ۔

”ہاں سر!…. لاکھوں ….جتنے ہزار کی آپ نے بات کی ہے اتنے لاکھ پر سودا کر لے ؟“ سرغنہ بڑے سٹائل سے بولا ۔

”میرا خیال ہے کیس حل ہو گیا ؟….چل جوان !….سائن کر یا ر!….تو تو بیٹھے بٹھائے لکھ پتی بن گیاہے ؟ ہمیں بھی کچھ بخشش دے دینا ؟ایسے مواقع بار بار نہیں ملا کرتے “ انسپکٹر کے لہجے میں عجیب سی حسرت تھی ۔

”مجھے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں ،اور نہ میں اپنی بیوی کو طلاق ہی دوں گا ؟“دانیال پر عزم تھا۔

’اسے دیکھو ؟….بے وقوف !….رقم لے کر اپنی جان بچا لو،نہیں تو، تم نے منتیں کرنی ہیں کہ میں طلاق دیتا ہوں اور ہم نے نہیں ماننا ،کہ بچو!…. ٹھہرو ابھی محبت کی کہانی کا اختتام کر لیں ؟“

”تھانیدار صاحب !…. آپ زیادتی کر رہے ہیں ؟یہ عدالت کا کیس ہے ۔اس بات کا فیصلہ جج کرے گا ؟“

”بلے بھئی بلے !….“ انسپکٹر مزاحیہ لہجے میں بولا۔”دلدار!….سن رہے ہوجناب کی باتیں ، قسم سے یہ تو پورا وکیل ہے ،اور اسے تو قانون کی ساری شقوں کا پتا ہے ،یوں کرو ،جناب کو لے جاو¿ اور جتنی قانونی شقیں اسے معلوم ہیں اپنے پاس درج کر لو ،کام آئیں گی ۔ایسے عاشق روزانہ تو ہاتھ نہیں آتے ؟“

”جی سر !….“دلدار نامی سپاہی زہریلے لہجے میں بولا۔اور دانیال کو دروازے کی طرف دھکا دیتے ہوئے بولا ۔ ”چل بے !….تیری تولاٹری نکل آئی ہے ۔“

دانیال خاموشی سے اس کی بتائی سمت چل پڑا تھا ۔دوسرے دو سپاہی بھی ان کے ہمراہ چل دےے ۔بے گناہ ، غریبوں کو اذیتیں دے کر ان کی چیخیں اور کراہیں سننا ان کا دل پسند مشغلہ تھا ۔ مظلوموں پر ظلم و ستم ڈھا تے ان کے ضمیر مردہ ہو چکے تھے ۔

وہ اسے دھکے دیتے ایک اندرونی کمرے میں لے گئے تھے ۔سہ پہر کو بھی وہاں ملگجا اندھیرا چھایا تھا ۔ کمرے کے وسط میں ایک لکڑی کا تختہ پڑا تھا جس کے ساتھ کنڈے لگے تھے ۔ ان کنڈوں کے ساتھ چمڑے کے مضبوط تسمے بھی بندھے ہوئے تھے ۔

”چل بے مجنوں !….کپڑے اتار ؟“دلدار قہر آلود لہجے میں بولا۔

وہ گڑ بڑا کر بولا۔”کک…. کپڑے مگر کیوں ؟“

اس کیوں کا جواب اسے تھپڑوں اور لاتوں کی صورت میں ملا ۔ان کی تُندی دیکھ کر دانیال کے دل میں خوف کی لہر پیدا ہوئی، مگر پھر راحت جاں کا چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے آیا اور اس کا سارا ڈر اور خوف ہوا بن کر اڑ گیا ۔

”مِشّی !….میں ہر آزمائش میں پورا اتر کر دکھاو¿ں گا ۔دیکھ لینا تمھارا دیوانہ اتنا بھی کمزور نہیں کہ دو ٹھڈے کھا کر تمھیں خود سے علاحدہ کر لے ۔یہ افتخار چھیننے کی اجازت میں کسی کو نہیں دوں گا ؟“

سپاہی اس کے بدن سے لباس نوچ رہے تھے اور وہ اپنی مشی سے مکالمے میں مشغول تھا ۔

تھوڑی دیر بعد ہی وہ اسے لباس سے بے نیاز کر کے لکڑی کے تختے پر الٹا لٹا کر باندھ چکے تھے ۔ اگلا مرحلہ کافی مشکل اور دشوار گزار تھا ۔چمڑے کا مضبوط چابک ایک تواتر سے اس کی پیٹھ اور کولہوں پر برسنے لگا ۔ دانیال نے چیخیں روکنے کے لےے ااپنے دانت سختی سے بھینچ لےے تھے ،مگر کب تک ؟ وہ ایسا تشدد نہیں تھا جس کے سامنے کوئی انسان ٹھہر سکتا ۔

لتر پریڈ کے بعد اسے پانی کے ٹب میں غوطے دےے جانے لگے ،پھر بجلی کا کرنٹ ، مرچوں کی دھونی، الٹا لٹکا کر بازووں سے وزن باندھنا ۔سر پر شاپر چڑھا کر سانس روکنا ….ان کے پاس تو اذیت رسانی کے نت نئے طریقے تھے ۔ گویااس فن میں وہ ڈگری ہولڈر تھے ۔ دورانِ تفتیش دانیال کئی بار بے ہوش ہوا۔ چیخیں مار مار کر اس کا حلق بند ہو گیا تھا مگر وہ بڑی دلچسپی اور دل جمی سے اپنے کام میں مشغول رہے ۔

مگر یہ اذیت ،تکلیف اور درد دانیال کے دل سے اس کی مشی کی یاد کو نہیں نکال سکا تھا ۔ کافی دیر بعد جب وہ بازو¿ں کے بل لٹکا تھا اور اس کے پاو¿ں سے وزن بندھا ہواتھا ۔تھانیدار اندر داخل ہوا ۔

”ہاں پتر !….کیا خیال ہے ؟….طلاق دینا ہے کہ نہیں ؟“اس کا لہجہ تاو¿ دلانے والا تھا ۔ اسے یقین تھا کہ دانیال کے سارے کس بل نکل چکے ہوں گے اور اس کے استفسارپر وہ منتوںزاریوں پر اتر آئے گا۔مگر اس کے بر عکس دانیال کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔

”تھانیدار صاحب !….جب مرد فوت ہو جاتا ہے تو اس کی بیوہ کو طلاق کی ضرورت نہیں پڑتی۔“

”یہ پاگل تو نہیں ہو گیا ؟“ انسپکٹر سپاہیوں سے مخاطب ہوا ۔

دلدار نے جلدی سے جواب دیا ۔”نہیں جناب مکر کر رہا ؟“اور پھر دانیال کو جھانپڑ رسید کرتا ہوا بولا۔ ”ابے !….صاحب کی بات کا جواب دو ۔“

دانیال پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”دے تو دیا ہے ؟“

”صاحب نے پوچھا ہے، طلاق دینا ہے کہ نہیں ؟“دلدار نے انسپکٹر کی بات دہرائی ۔

”تو بتا دیا ہے نا جناب !….مجھے قتل کر دو اسے خود بہ خود طلاق ہو جائے گی ،کیوں کہ میرے لےے توطلاق دینا ناممکن ہے ۔“

”دلدار !….تمھارے لےے شرم کا مقام ہے ۔ایک ملزم آپریشن روم میں کھڑا ہو کرانسپکٹر شہباز خان سے فلمی ہیروز کی طرح مکالمہ بازی کررہاہے ؟“

”معافی چاہتا ہوں جناب ….“دلدارنے دانت پیستے ۔”میں نے سوچا شاید ٹریلر سے یہ کہانی سمجھ جائے گا، مگر لگتا ہے اسے پوری فلم دکھانی پڑے گی ؟“

”اوکے !….تمھاری سزا ہے کہ یہ جب تک مانتا نہیں تم آرام نہیں کر سکتے ۔“ انسپکٹر حکم جاری کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ جب کہ دانیال کی آزمائش کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ۔

٭……..٭

مسکان کی آنکھ دن چڑھے ہی کھل سکی تھی اس نے پہلی بار نیند کی گولیاں لی تھیں اور صبح کی نماز بھی قضا کر بیٹھی تھی۔بیل دے کر اس نے ملازما کو بلایااور اسے ناشتا لگانے کا کہہ کر باتھ روم میں گھس گئی ابھی تک اسے غنودگی محسوس ہو رہی تھی اور سر بھی بھاری بھاری ہو رہا تھا ۔

نہانے سے اس کی کسل مندی دور ہو گئی ۔کپڑے تبدیل کر کے اس نے ڈائینگ روم کا رخ کیا۔ ملازما اس کے سامنے ناشتا چن کر باہر نکل گئی ۔ ایک بھرپور نیند لینے کے بعد اسے تھوڑی بہت بھوک محسوس ہورہی تھی ۔توس پر شہد لگا کر اس نے دانتوں سے کاٹا اور چاے کا سپ لینے لگی ۔ گھڑی گیارہ بجنے کا اعلان کر رہی تھی ۔ اسے یقین تھا کہ حماد فیکٹری جا چکا ہو گا ۔ اذیت ناک سوچوں سے چھٹکارے کے لےے وہ اپنے کاروبار کے بارے سوچنے لگی ۔ اس کی فیکٹری اورٹرانسپورٹ سروس بہت اچھی طرح چل رہی تھی ۔ انکل مجیب ایک اچھے منتظم تھے ۔ انھی سوچوں کے دوران اسے خیال آیا کہ وہ کافی دنوں سے بھائیوں کو بھی ملنے نہیں جا سکی ہے ۔اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ آج وہاں ضرور جائے گی ۔چاے کا ایک کپ پی کروہ دوسرا کپ بھرنے لگی ۔

کپ اٹھا کر اس نے ہونٹوں سے لگایا ہی تھا، کہ حماد مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا ۔اس نے ہاتھ میں ایک سادہ سی فائل پکڑی تھی ۔مسکان کا دل کسی انجانے اندیشے سے دھڑکنے لگا ۔وہ قریب آکر خوشی سے چہکا۔

”Congratulationمیری جان !….یہ لوسائن شدہ Paper Divorce(طلاق نامہ)“

چاے کا کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کرمیز کی سخت سطح سے ٹکرایا ۔نازک کپ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ،گرم چاے کے چھینٹے اس کے ملائم ہاتھ اور کپڑوں پر گرے ،مگر کپ کی طرح کرچی کرچی ہوتے احساسات نے اسے سن کر دیا تھا ۔اس کا دھواں دھواں ہوتا چہرہ دیکھ کر حماد نے گھبرا کر پوچھا ۔

”مسکان خیر تو ہے ؟“

مگر وہ اس کی بات کا جواب دےے بغیر اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی۔

”مسکان ….مسکان ؟“حماد نے اسے آواز دی،اور پھر اسے رکتے نہ دیکھ کر وہ اسے روکنے کے لےے اس کی جانب بڑھا مگر اس نے اپنی خواب گاہ میں گھس کر دروازہ کنڈی کر دیا تھا ۔

٭……..٭

حماد نے ایک دو بار دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر اس کے دروازہ نہ کھولنے پر یہ کوشش ترک کر دی ۔ یقینا وہ اسے سنبھلنے کا موقع دینا چاہتا تھا ۔

مسکان گرنے کے انداز میں بیڈ پرلیٹ گئی تھی ۔اسے سمجھ نہ آئی کہ اس کی آنکھوں کے سوتے کیوں پھوٹ پڑے ہیں ۔جس بات کے لےے وہ اتنی بے چین تھی اس کے پورا ہونے پر غم کیسا ،دکھ کا احساس کیوں ، یہ رونا دھونا کوئی اور کہانی سنا رہا تھا ۔

”میں رو کیوں رہی ہوں؟“اس نے خود سے سوال کیا ۔”یہی تو میں چاہتی تھی ،آخر کب تک برداشت کرتا ، پولیس کا غیر انسانی تشدد بڑوں بڑوں کے گھٹنے لگو ادیتا ہے وہ غریب تو ایک مزدور ہے۔“

”پتا نہیں مار سہتے ہوئے اس نے مجھے کتنی بد دعائیں دی ہوں گی ؟….دانی !…. مجھے معاف کر دینا یہ میری منشا نہیں تھی ۔میں تمھاری گرفتاری پر رضامند نہیں تھی۔ یقین کرو میرا….میں ایک بے بس حوّا زادی ہوں ۔ جسے بس وفا نبھانا آتا ہے ،کسی کے ساتھ کےے وعدے نبھانا میری مجبوری تھی ۔میں ہمیشہ ہمیشہ کے لےے حماد کی نفرت کیسے برداشت کرتی ؟…. اللہ پاک کی قسم اگرتم مجھے حماد سے پہلے ملے ہوتے تو ، تمھارے پاو¿ں دھو دھو کر پیتی ،مگر میںعورت ذات ہوں ،تم سے پہلے کسی کے ساتھ مرنے جینے کے عہد و پیمان باندھ چکی ہوں ،اسے زبان دے چکی ہوں ،اپنا آپ اس کے حوالے کر چکی ہوں ،تمھارے ساتھ شادی بھی اس کی خواہش کی تکمیل کے لےے تھی۔ گو اس شادی نے مجھے دو حصوں میں تقسیم کر دیا لیکن سالوں کی رفاقت اور چند ہفتوں کے عارضی ساتھ کا بھلاکیا مقابلہ۔ پھر یہ بھی دیکھو دانی!…. حماد بانجھ ہے اور اس کے عیب سے میں واقف ہوں ، اگر میں اس کا ساتھ چھوڑدیتی تو یقینا وہ یہی سوچتا کہ میں نے اس کے بانجھ پن کی وجہ سے کنارہ کر لیا ۔اوردانی …. پتا ہے نا؟ خاندانی عورت یوں نہیں کیا کرتی۔وہ اپنے شوہر کو کسی دکھ ،بیماری اور عیب کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیا کرتی ۔مرتے دم تک ساتھ نبھایا کرتی ہے ۔ میں بھی خاندانی عورت ہوں ۔میری سرشت میں وفا شامل ہے ۔دانی !…. تمھاری چاہت کی کوئی حد نہیں ۔ تم نے مجھ پرجو پیار محبت ،نچھاور کی وہ میرے لےے کسی انمول خزانے سے کم نہیں تھی ۔ہر لڑکی ایسی چاہت اور ایسے چاہنے والے کے خواب دیکھا کرتی ہے ،مگر تعبیر خال ہی کسی کا مقدر بنتی ہے ۔ میں نے بھی ایسے سپنے دیکھے تھے اور ان کی تعبیر تمھاری صورت میں میرے سامنے آئی، لیکن تم نے بہت دیر کر دی ،جب میں پرائی ہوئی تو تم آگئے۔ اب کیا ہو سکتا تھا ،بکی ہوئی چیز کا مالک تو دکاندار نہیں ہوا کرتا ،اس پر تو خریدنے والے گاہک کا حق ہوتا ہے نا؟میں بھی تو کسی اور کی ملکیت ہوں ….

اک بڑی بھول ہو گئی تم سے

اس کو مانگا کہ جو پرایا ہے

جو کسی اور تن کا سایاہے

آنسو ایک تسلسل سے اس کی آنکھوں سے رواں رہے ۔

”دانی!…. تم آکر دیکھو تو سہی تمھاری آنکھوں میں آنسو لانے والی خود کتنا رو رہی ہے ۔اتنے آنسو کہ تمھارا رومال بھی نہ پونچھ سکے۔الوداع دانی!…. الوداع۔“دانیال سے معافی مانگتے اور خود کو دلاسا دیتے جانے کتنی دیر گزر گئی پھر آہستہ آہستہ حواس اس کا ساتھ چھوڑنے لگے نیند کی مہربان دیوی نے اسے اپنی آغوش میں لیا اور وہ ہر غم سے بے نیاز ہو گئی ۔

مگر کبھی کبھی غم اتنے شدید ہوتے ہیں کہ شعور کی منزل پھلانگ کر لاشعور کے تہہ خانے میں گھس جاتے ہیں ۔اسی طرح لاشعور میں چھپے گلے شکوے بھی نیند کی حالت میں ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔

اسے زخموں سے چور دانیال دکھائی دیا جو لنگڑاتا ہوا اس کی جانب آ رہا تھا ۔

”مشی !….مجھے معاف کر دو ،میں تمھارے معیار پر پورا نہ اتر سکا ؟“

وہ غصے سے چلائی ۔”دانی !….میں نے سوچا بھی نہیں تھا ،کہ تم اتنے بودے نکلو گے ؟…. پولیس کے ذرا سے دھمکانے پر اپنی مشی کو خود سے جدا کر دیا؟…. نفرت ہے مجھے تم سے، تمھاری محبت سے ،تمھارے بلند و بانگ دعوو¿ں سے ۔ جھوٹے !….اتنا دم نہیں تھا تو پہلے ہی شکست تسلیم کر لیتے ۔میرے کہنے پر طلاق دے دیتے ،نہ شکل اچھی ہے اور نہ کردار ہی کسی قابل اور اپنانے چلے ہو سیٹھ داو¿د کی بیٹی کو ہونہہ !….تف ہے تمھاری جوانی پر ،تمھارے اس مضبوط بدن پر جو میری نظر میں ناقابل ِ شکست تھا ؟….کاش تم نے ایک دن برداشت کر لیا ہوتا۔جان سے تو نہیں مار سکتے تھے نا تمھیں، میں آج رہا کرا لیتی ۔مگر تو نے میرا نہیں، محبت کا اپمان کیا ہے ،میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی ….کبھی نہیں ؟“

”مِشّی !….تمھاری قسم میں مجبور تھا ۔میں ……..“

”شٹ آپ !….“وہ دھاڑی ۔”مت کہو اپنی گندی زبان سے مجھے مشی ۔“

”بیگم صاحبہ !….میں معافی کا طلب گار ہوں ۔اور چاہتا ہوں تم صرف ایک دفعہ کہہ دو، بس ایک بار ، کہ تم بھی مجھے چاہتی ہو؟اس کے بعد میں اپنی منحوس صورت لے کر کہیں دور چلا جاو¿ں گا ۔…. صرف ایک دفعہ بیگم صاحبہ!…. دیکھو میں نے ہر نعمت ،ہر آسائش ،ہر خوشی تمھارے لےے ٹھکرا دی ، اب تو میں مجبور کر دیا گیا تھا ،ورنہ ہار تو میں نے اب بھی نہیں مانی تھی ۔ گو جانتا ہوں میں تمھارے قابل نہیں ہوں ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں تم سے نسبت کا افتخار کھونانھیں چاہتا تھا ۔ لیکن مجبور کر دیا گیا ،بے بس کر کے مجھ سے میرا مان چھین لیا گیا ۔اب بس یہی حسرت ہے کہ تم ایک بارمیری محبت کا اقرار کرلو تاکہ میں یہاں سے کہیں دور چلا جاو¿ں ؟“

”ہاں !….یہ سچ ہے ۔لیکن اب کیا فائدہ اس اقرار کا ؟“وہ رو دی ۔

دانیال کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے جھپٹ کر اسے سینے سے لگا لیا ۔ اس کے فراخ اور مضبوط سینے کا لمس مسکان کی روح تک کو سرشار کر گیا ۔اسے لگا جانے وہ کب سے اس چھاتی سے لپٹنے کو بے تاب پھر رہی تھی ۔ وہ شاید صدیوں اس سے چمٹی رہتی اور پھر بھی سیراب نہ ہوتی مگر ایک دم اسے یاد آیاکہ وہ اب اس کے نکاح میں نہیں رہی تھی ۔ اس نے کسمساتے ہوئے اس کی بانہوں کے گھیرے سے نکلنا چاہا ۔

”دانی !….پلیز مجھے چھوڑو ،اب میں تمھاری نہیں رہی ؟….تم مجھے طلاق دے چکے ہو ؟“

”ہا….ہا….ہا“دانیال کے ہونٹوں سے بلند بانگ قہقہہ برا ٓمد ہو ا۔”مِشّی !…. میری جان وہ جھوٹ تھا میں نے تمھیں طلاق نہیں دی ،یقین کرو میں مر سکتا ہوں تمھیں طلاق نہیں دے سکتا ،یہ تو بس تم سے اقرارِ محبت کرانے کا ایک بہانہ تھا۔“

”چل فراڈےے کہیں کے ؟“وہ اس کی فراخ چھاتی پر مکے برسانے لگی اور بے تحاشا ہنسنے لگا …. اچانک اس کا ہنستا چہرہ معدوم ہونے لگا اور اس کی ہنسی جیسے کراہوں میں بدلی اور بتدریج اس کی آواز موبائل فون کی ٹون میں بدل گئی ۔اس نے آنکھیں کھولیں ،خواب کے منظر کی جگہ اسے اپنی خواب گاہ کی منقش دیواریں دکھائی دیں ۔جب تک وہ خواب کی کیفیت سے باہر آتی موبائل فون کی ٹون بند ہو چکی تھی ۔

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا کسی انجان نمبر سے بیس سے زیادہ کالیں آئی ہوئی تھیں۔کال ہسٹری چیک کرنے پر اسے پتا چلا کہ رات کو بھی اس نمبر سے اسے مس کالیں موصول ہو چکی تھیں۔اس کا دل عجیب قسم کے اندیشوں سے بھر گیا ۔ یقینا یہ کالیں رات اس کے نیند کی گولیاں کھانے کے بعد آئی تھیں ۔صبح وہ لیٹ جاگی تھی اور موبائل فون چیک نہیں کر سکتی اور پھر اس کے دوبارہ سونے کے بعد کالیں آئی تھیں۔وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کال بیک کرنے لگی ۔

٭……..٭

فریحہ نے موبائل بیڈ پر پٹخا اور سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔مسکان اس کی کال اٹینڈ نہیں کرر ہی تھی ۔رات کو اگر وہ سوئی تھی پورا دن تو سوئی نہیں رہ سکتی تھی ۔ صبح ناشتے سے فارغ ہو کر ، یونیورسٹی جاتے ہوئے اور پھر وہاں سے واپسی کے وقت وہ مسلسل اسے رنگ کرتی رہی تھی ۔

”یقینا وہ انجان نمبر کو نظر انداز کرر ہی ہے؟“ایک ممکنہ سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔

”مطلب اب مجھے رسک لیتے ہوئے اس کا پاس جانا پڑے گا ؟“وہ سو چنے لگی ،کہ کس طرح حماد کی غیر موجودی میں اس کے پاس جا سکے گی۔اس سے پہلے کہ سوالیہ سوچیں کسی نتیجے پر پہنچتیں اس کا موبائل فون بجنے لگا ۔سکرین پر مسکان کا نام چمکتا دیکھ کر اس نے جھٹ کال رسیو کی ۔

”اسلام علیکم !“

”وعلیکم السلام !“

مسکان کے لہجے سے اسے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اسے پہچان نہیں سکی تھی ۔

”باجی !….میں فریحہ بول رہی ہوں ۔“

”اوہ فریحہ !….“مسکان کے منہ سے اطمینان بھری سانس خارج ہوئی ۔”کیسی ہو ؟“

”ٹھیک ٹھاک باجی !….میں کل رات سے آپ کا نمبر ملا رہی ہوں۔“

”سوری !….رات جب آپ نے کال کی میں میڈیسن لے کے سوئی تھی۔ طبیعت کچھ ناساز تھی، صبح دیر سے جاگی، موبائل چیک نہ کر سکی اورناشتا کر کے دوبارہ سو گئی ،اور ابھی آپ کی کال کی وجہ ہی سے جاگی ہوں۔“

”خیر تو ہے ؟کیا ہوا طبیعت کو ؟“

”ہاں خیر ہے ،بس سر درد تھا ،احتیاطاََ میڈیسن لی تھی ۔اور آپ سنائیں کیسے یاد کیا ؟ وہ بھی اس شدت سے کہ درجنوں کالز کر ڈالیں ؟“

”باجی !….ایک ضروری کام کے سلسلے میں آپ سے ملاقات کرنا تھی؟“

” آجائیں ۔“

”نہیں وہاں نہیں ،کسی ایسی جگہ جہاں کوئی اور نہ ہو ؟“

”تو میں اکیلی ہوںنا ؟“

”میں نہیں چاہتی کہ اس ملاقات کی خبر حمادکوہو ۔“

مسکان نے حیرانی سے کہا ۔”میں سمجھی نہیں ؟“

”اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے ؟میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں اس طرح کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو، خصوصاََ حماد کو تو بالکل پتا نہ چلے ۔“

مسکان راضی ہوتے ہوئے بولی۔”ٹھیک ہے میں تمھارے پاس آ جاتی ہوں ۔“

” یہ ٹھیک رہے گا ۔آپ مجھے گھر سے پک کر لیں پھر کہیں اطمینان سے بیٹھ جائیں گے ؟“

مسکان نے پوچھا۔”اپنا ایڈریس بتاو¿؟“

جواباََ وہ ایک مشہور شاپنگ پلازہ کا نام لیتے ہوئے بولی ۔”میں وہاں آپ کی منتظر ہوں گی ۔“

مسکان نے اوکے کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔

٭……..٭

دانیال نے بہ مشکل آنکھیں کھولیں ۔تھانیدار کے اشارے پر سپاہی نے ایک اور پانی کا گلاس اس کے چہرے پر پھینکا ۔ آنکھیں کھلنے کے باوجود اس کا دماغ گھوم رہا تھا ۔

”اٹھ جا پتر !….تمھاری ضمانت ہو گئی ہے ۔“اس کی سماعتوں میں تھانیدار کی زہریلی آواز گونجی ۔

یہ خوش خبری بھی اس کے جسم میں اٹھنے والی درد کی لہروں کی شدت کو کم نہیں کر سکی تھی ۔

”یہ لو اپنے ضمانت نامے پر دستخط کرو ۔“تھانیدار نے انگریزی میں چھپا ایک کاغذ اس کی جانب بڑھا کر ایک خانے میں انگلی رکھ دی ۔

کانپتے ہاتھ سے پین پکڑ کر اس نے ٹوٹے پھوٹے دستخط کےے ۔حفظ ماتقدم کے طور پر تھانیدار نے اس کا انگوٹھا بھی کاغذ پر لگوایا اور سپاہی سے بولا ۔

”اسے واپسی کا کرایہ دے کر رخصت کر دو ۔“

سپاہی اسے ہاتھ سے پکڑ کر تھانے سے باہر لایا اوراس کے ہاتھ پر سو روپے کا نوٹ رکھ کر وہ واپس مڑ گیا ۔

اس کی جیب میں موجود نقدی پر پولیس والے پہلے سے ہاتھ صاف کر چکے تھے ۔ غنیمت تھا کہ اس کا موبائل انھوں نے واپس کر دیا تھا ۔

ایک رکشا روک کر وہ اس میں بیٹھ گیا ۔گھر کے سامنے اتر کر اس نے قدموں کی لرزش پر قابو پایا کہ اس کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر اس کی ماں کو دکھ ہوتا۔مگر اس کی یہ کوشش بام ِ عروج تک نہ پہنچ سکی ۔اسے گھر میں داخل ہوتادیکھتے ہی ماں تڑپ کر آگے بڑھی اور اسے اپنی شفیق آغوش میں لے لیا ۔

”ال©©©لہ پاک ان ظالموں کو برباد کرے کیا حال کر دیا میرے لال کا ۔“عائشہ خاتون رونے لگی ۔

”میں ٹھیک ہوں ماں ۔“دانیال نے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔مگر وہ ماں ہی کیا جو اولاد کی تکلیف محسوس نہ کر سکے۔ اسے چارپائی پر لٹانے تک وہ پولیس والوں کو کوستی رہی اور پھر کچن میں جاکر اس کے لےے دودھ گرم کرنے لگی ۔ ہلدی ملا گرم دودھ پی کر دانیال کو تھوڑا سا سکون محسوس ہوا۔ماں سرھانے بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی ۔

”بیٹا !….کون تھے یہ موئے غنڈے اور کیوں جھگڑ رہے تھے تم سے ؟“

””پتا نہیں ماںجی !…. کون تھے ۔“دانیال نے اصل بات سے پردہ اٹھانا مناسب نہ سمجھا ۔ یوں بھی مسکان کا گلہ اس کی زبان پر نہیں آسکتاتھا۔

”پولیس والے کیا تفتیش کرتے رہے ؟“

”پولیس بھی تو غنڈوں کا ساتھ دیتی ہے نا ماں !….؟“

”اچھا پتا ہے دانی!…. انھوں نے تمھیں اتنی جلدی کیوں رہا کر دیا ؟“

”نہیں ماں !….بس ابھی تھوڑی دیر پہلے تھانیدار نے کہا کہ میری ضمانت ہو چکی ہے اور میں جا سکتا ہوں ۔اس نے ضمانت کرنے والے کا نام نہیں بتایا اور نہ میں پوچھ سکا ۔“

”مسکان بیٹی نے تمھاری ضمانت کرائی ہے ۔“عائشہ پیٹھ پیچھے اسے بیٹی کہنے سے بازنہ آ سکی ۔

”مم…. مگر ماں ….“وہ حقیقت اگلنے لگا تھا کہ ایک دم اس نے بات بدل دی ۔ ”اسے کیسے پتا کہ میں تھانے میں ہوں ؟“

وہ اطمینان سے بولی ۔”میں نے بتایا تھا ۔“

”ماں جی !….کسی بیگانے کو تکلیف دینا اچھی بات تو نہیں ہے نا ؟“

”وہ بیگانی نہیں ہے بیٹا !….“

وہ ماں سے بحث نہ کر سکا اور خاموش رہا ۔اس کا دماغ اس الجھن میں پھنس گیا تھا کہ آخر اسے قید کرانے والی نے اپنا مقصد حاصل کےے بغیر اس کی ضمانت کیوں کرا دی ۔

”ممکن ہے اس کی گرفتاری میں حماد کا ہاتھ ہو ۔یوں بھی اسے فریحہ خبردار کر چکی تھی ۔“ ایک خوش کن سوچ اس کے دماغ میں گونجی اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔

”اللہ پاک کرے میرا بیٹا ہمیشہ مسکراتا رہے ۔“اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر بے ساختہ عائشہ کے دل سے دعا نکلی ۔

٭……..٭

مسکان گاو¿ن پہن کر گھر سے باہر نکل آئی ۔حماد کی کار گیراج میں موجود نہیں تھی ۔ جانے وہ کہاں گھومتا پھر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے حماد کا مسکراتا چہرہ لہرانے لگا ۔طلاق نامہ سائن کرا کے وہ کتنا خوش نظر آرہا تھا ۔ اس کی خوشی سے مسکان کو اندازہ ہو تا تھا کہ وہ بھی اسے کتنا چاہتا ہے ۔

”دانیال سے بھی زیادہ چاہتا ہے ؟“ایک باغیانہ سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔ اس کے ساتھ اسے یاد آیا کہ طلاق کی خبر سن کر اس نے جو رد عمل ظاہر کیا تھا لازماََوہ حماد کے لےے بہت تکلیف دہ ثابت ہوا ہو گا۔ یوں اس کی کسی بات کا جواب دےے بغیر اپنی خواب گاہ میں گھس جانا ،دروازہ بھی اندر سے کنڈی کر دینا ۔آخر کیا سوچا ہو گا اس نے کہ میں دانیال کے طلاق دینے کی خبر براداشت نہ کر پائی اور یہ سن کر حواس باختہ ہو گئی ؟….اسے سخت ندامت محسوس ہوئی ۔

”یقینااس وقت میں ہوش میںنہیں تھی ورنہ کبھی یوں نہ کرتی ۔“اس نے خود کو تسلی دیناچاہی ۔ مگر اس کے ساتھ یہ روح فرسا خیال اس کے دل میں ابھرا کہ یہ بات تو اور زیادہ معیوب تھی کہ وہ اس خبر پر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی ۔

”میں کہہ دوں گی کہ مجھے اس بات پر افسوس ہوا کہ دانیال نے میرے بارے کیا سوچا ہو گا؟ میں اتنا گر گئی کہ اسے گرفتار کرا دیا ۔“مگر یہ بہانہ بھی اسے ہضم نہ ہوا ۔

”نہیں میں اس کی ماں کا نام لوں گی ،کہ مجھے دانیال کی ماںکو پہنچنے والی اذیت کا دکھ تھا ۔اس بوڑھی عورت پر کیا بیتی ہو گی جس کا جوان بیٹا ،بے گناہ پولیس کسٹڈی میں موجود ہو ؟….مگر وہ پولیس کسٹڈی میں تو گزشتہ رات تھا ۔ اب تو حمادفقط طلاق کی خوش خبری لایا تھا اور اس کے ساتھ دانیال کی رہائی بھی مشروط تھی۔“

”نہیں میں جھوٹ نہیں بولوں گی ۔صاف صاف بتا دوں گی کہ مجھے معلوم نہیں کس وجہ سے میرا یہ حا ل ہوا ۔اگر اس کے بعد حماد نے طعنہ بازی کی کوشش کی تو میں اس سے علاحدگی اختیار کر لوں گی ۔شک کی دیمک رشتوں کو چاٹ جایا کرتی ہے۔اگر اس کے ذہن میں کسی ایسی ویسی بات نے جنم لے لیا ،توہمارا علاحدہ ہو جاناہی بہتررہے گا ۔“

”اگر علاحدہ ہی ہونا تھا تو دانیال سے دامن کیوں چھڑایا ؟“اس کی پراگندہ سوچوں کو کوئی مرکز نہیں مل رہا تھا ۔ اپنا ہر فعل اس کی نظر میں الجھا ہوا تھا ۔ دھیان بٹانے کے لےے اس نے سوچوں کا رخ فریحہ کی جانب موڑا ۔

جانے وہ کیوں اس سے علاحدگی میں ملنا چاہتی ہے؟…. حماد کو بے خبر رکھنے کی بات تو اس کے لےے اور زیادہ حیران کن تھی ۔

وہ بتائے ہوئے سٹاپ پر جا کر رک گئی ۔ابھی وہ دائیں بائیں ہی دیکھ رہی تھی کہ ایک نقاب پوش لڑکی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بے تکلفی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔

”ارے آپ !….اور یہ نقاب ؟“اسے وقتی حیرانی ہوئی مگر پھر اسے یاد آیا کہ وہ اس ملاقات کو پوشیدہ رکھنے کی متمنی تھی ۔ ”اچھا چھپنے کی غرض سے نقاب اوڑھا ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے کار آگے بڑھا دی تھی۔

”نہیں ….آج کل باقاعدگی سے نقاب اوڑھنا شروع کر دیا ہے ۔“

”اچھی خبر ہے ۔مبارک ہو ۔“مسکان نے اس کی حوصلہ افزائی کی ۔

”دانیال کے بعد دوسری شخصیت آپ ہیں جس نے میرے اس عمل کو سراہا ہے ۔ورنہ تو تنقید ہی سننے کو ملی ہے ۔“

”دانیال !….؟“مسکان کو اس کے ذکر پر حیرانی ہوئی تھی ۔”اس سے تعلقات کب اس نہج پر پہنچے کہ وہ آپ کی ذاتیات کے بارے رائے دینے لگا ؟“

”جس دن آپ کو طلاق دلانے کے سلسلے میں اس سے ملی تھی ۔“

”مم….مجھے طلاق دلانے ….؟“وہ گڑبڑا گئی ۔

”ہاں ،آپ کو….اور باجی !….مجھ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں مجھے ساری کہانی معلوم ہے۔“

”حماد نے بتایا ہو گا ؟“مسکان گہرا سانس لے کر رہ گئی ۔

”تو اور کون ہو سکتا ہے ؟“فریحہ اطمینان سے بولی ۔

”اسے ایسا نہیں کرنا چاہےے تھا ؟….جبکہ ہمارے درمیان ہوا طے ہوا تھا، کہ کسی تیسرے کو یہ معلوم نہیں ہوگا؟“

”شاید میں دوسری ہوں ۔“فریحہ کاا نکشاف ایسا نہیں تھا کہ مسکان کو اچنبھا نہ ہوتا ۔ اس نے کار ایک ہوٹل کی پارکنگ میں موڑتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔

”فریحہ صاحبہ !….میں سمجھ نہیں پائی ۔“

”حالانکہ میں بہت واضح انداز میں کہہ چکی ہوں کہ میں دوسری ہوں ….مطلب تیسری آپ ہیں ، حماد اور میرے درمیان آنے والا ایک عارضی رشتا ۔“فریحہ کے نارمل لہجے میں کہی گئی بات بھی مسکان کو برچھے کی طرح لگی ۔

”میرا خیال ہے آپ !….حواسوں میں نہیں ہیں ۔“مسکان کے لہجے میں اعتماد کا فقدان تھا۔

”اندر آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“فریحہ نیچے اتر گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ ایک فیملی کیبن میںآمنے سامنے بیٹھی تھیں ۔

”جی اب بولیں ؟“مسکان اس کی طرف متوجہ ہو گئی ۔

”باجی !….بات کچھ طویل ہے ،میں کوشش کرتی ہوں کہ مختصراََ ساری صورت حال آپ کے گوش گزار کر سکوں۔ جیسا کہ آپ جانتی ہیں ، یونیورسٹی آمد کے ساتھ میں کئی دل پھینک لڑکوں کی منظورِ نظر بن گئی تھی مگر میں نے کسی کو لفٹ نہیں کرائی کیوں کہ یونیورسٹی بھر میں مجھے صرف ایک ہی صورت پسند آئی تھی اور وہ صورت حماد کی تھی ……..۔“

”ایک منٹ۔“مسکان نے قطع کلامی کی ۔”حماد تو تمھارا ….کزن ہے نا ؟“

”نہیں یہ جھوٹ ہے ۔اسے میں نے پہلی بار یونیورسٹی میں دیکھا ۔پھر پتا چلا کہ وہ آپ کو چاہتا ہے ، میں نے اپنے جذبات دل میں چھپا لےے اور شاید یہ محبت بھرے احساسات ہمیشہ میرے دل کے نہاں خانوں میں چھپے رہتے مگر ایک دن حماد نے پہل کرڈا لی اور اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ میری طرح وہ بھی مجھے چاہتا تھا ……..“

”پھرتو آپ لوگوں کو شادی کر لینا چاہےے تھی ؟“مسکان نے ایک مرتبہ پھر قطع کلامی کی ۔

”یہی توبد قسمتی تھی، کہ حماد ،جہاں میری محبت میں گرفتار تھا وہیں اسے اپنے مستقبل کی بھی فکر تھی، ہمارا پروگرام تھا کہ جب وہ آپ کے ذریعے کوئی مقام حاصل کر لے گا توپھر ہم شادی کر لیں گے ۔“ فریحہ نے ساری حقیقت سے پردہ اٹھانا مناسب خیال نہ کیا۔

”اب یہ ساری بات مجھے کیوں بتا رہی ہو ؟“

”باجی !….دانیال آپ کو بہت زیادہ چاہتا ہے ۔اور میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اس کی محبت اسے واپس لوٹاو¿ں گی ۔“

”شاید تم میری ذاتیات میں دخیل ہو رہی ہو ؟“مسکان کے لہجے میں سختی در آئی ۔

”نہیں !بہنوں کے مسائل اور مشکلات ایک ہوتی ہیں ۔“فریحہ کے لہجے میں چھپا خلوص محسوس کرنے کے لےے عقل کل ہونا ضروری نہیں تھا ۔ ایک حساس دل آسانی سے اس کے احساسات کی سچائی جان سکتا تھا ۔ مسکان نے دلی طور پر مطمئن ہونے کے باوجود کہا۔

”اس رشتے کی آڑ میں دیا جانے والا دھوکا بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔“

فریحہ نے اعتبار دلاتے ہوئے کہا ۔”دھوکا دوں تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھوں ۔“

”نہیں ….“مسکان نے بے ساختہ اس کا ہاتھ تھام لیا ۔”اتنی بڑی قسم کی ضرورت نہیں تھی ۔“

”اب تو یقین کرو گی نا ؟“

مسکان کے لہجے میں اداسی در آئی ۔”کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں کہ جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنے کو دل چاہتا ہے ۔“

”صحیح کہا!….“فریحہ نے اس کی تائید میں سر ہلایا ۔”اور انھی میں ایک حقیقت یہ ہے کہ دانیال تمھیں روح کی گہرائیوں سے چاہتا ہے ،اتنا کہ جس کا خواب ہر لڑکی جوان ہوتے دیکھنا شروع کر دیتی ہے مگر تعبیر کا پھل کسی خوش قسمت کے حصے ہی میں آتا ہے ۔ اور آپ بھی انھی گنی چنی خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں ۔“

”دانیال میری منزل نہیں رستے میں آنے والا عارضی پڑاو¿ تھا۔اور عارضی ٹھکانہ جتنا بھی دل فریب اورآرام دہ ہو، منزل نہیں ہو سکتا ؟“

”کبھی کبھی انسان ،منزل کو سنگ راہ سمجھ کر آگے نکل جاتا ہے ،اتنا آگے کہ واپس پلٹنے پر منزل سچ مچ سنگ راہ بنی ہوتی ہے۔ اور پھر پچھتاوے کے الاو¿ میں جل کر بھسم ہونا ہی مقدر ٹھہرتا ہے ۔“فریحہ دکھی ہو گئی تھی ۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب دانیال نے اسے دیکھ کر کہا تھا ۔

”صاحب یہ تو بہت خوب صورت ہے کیا یہ مان جائے گی ؟“ اس وقت اگر وہ سچ مچ مان جاتی تو آج کسی چاہنے والے کے پیار کے سائے میں آرام سے زندگی گزار رہی ہوتی ، لیکن اس وقت تو اس کی آنکھوں پر بھی لالچ کی پٹی بندھی ہوئی تھی ۔

”تو سمجھو میں بھی آگے جا چکی ہوں ….شاید آپ کے علم میں نہ ہو دانیال مجھے طلاق دے چکا ہے۔“

”کیا ؟“اب حیران ہونے کی باری فریحہ کی تھی ۔

”سچ کہہ رہی ہوں ۔حماد کی ایما پر پولیس اسے تھانے لے گئی تھی ،اور یہ تو آپ جانتی ہیں وطنِ عزیز کی پویس کسی غریب آدمی سے کوئی بات منوانے کی کتنی ماہر ہے ۔“

”مجھے یقین کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے ….دانیال ایسا نہیں کر سکتا ۔“

”وہ کر چکا ہے ۔پولیس کا تشدد عشق و محبت بھلا دیتا ہے ۔“مسکان کے لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی تلخی در آئی ۔

”مگر زبردستی کی طلاق ……..؟“

”ہو جاتی ہے ۔“مسکان نے قطع کلامی کی ۔

”باجی!…. دیکھ لینا یہ جھوٹ ہو گا ….ویسے یہ بات آپ کو بتائی کس نے ہے ؟“

”حماد نے ،وہ طلاق نامہ سائن کرا کر لایا تھا ۔“

فریحہ نے کہا۔”اس کی بات قابل ِ اعتبار نہیں ہے ۔“

”وہ میرا شریک حیات ہے ۔“مسکان کو اس کی بات بری لگی تھی ۔

فریحہ اطمینان سے بولی ۔”تھا ….“

”ہم دوبارہ نکاح کر لیں گے ۔“

”باجی !….اگر وہ آپ کے ساتھ مخلص ہوتا تو خدا قسم میں کبھی آپ کے رستے میں نہ آتی ۔“

”آپ !….کب سے میری اتنی غم خوار بن گئیں ۔صاف کہو نا ؟ آپ کا اصل مقصد حماد کا حصول ہے ۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکان کو کہنا پڑا۔

”اس میں کوئی شک نہیں کہ میں آپ کی بہتری کی خواہاں ہوں۔ابھی تھوڑی دیر پہلے میں اتنی بڑی قسم کھا چکی ہوں ۔“

”فریحہ !….تم نے مجھے الجھا دیا ۔“مسکان آپ سے تم پر آ گئی تھی ۔

”نہیں باجی !….الجھن میں آپ پہلے تھیں ۔حماد آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہے ، مجھے وہ چاہتا ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دولت کو بھی نہیں چھوڑ سکتااور آپ اتنی پڑھی لکھی ہیں کیا آپ کو حماد اور دانیال کی چاہت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ؟ عورت تو مرد کی نظریں دیکھ کر سمجھ جاتی ہے ، آپ تو دونوں کو بہت قریب سے دیکھ چکی ہیں ۔پھر بھی سمجھ نہیں پائیں کہ کون آپ کے ساتھ مخلص ہے ؟“

مسکان سر پکڑ کر بیٹھ گئی ،چند لمحوں بعد کراہنے کے انداز میں بولی ۔”سب سمجھتی ہوں ، کون مجھے کتنا چاہتاہے ؟ لیکن حماد سے کےے گئے وعدوں، ساتھ نبھانے کی قسموں نے مجھے نادیدہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ میںوہ سب کچھ کیسے بھلا سکتی ہوں؟“

”جھوٹی قسمیں اوروعدے بھلانا کون سا مشکل ہے؟ “

”مجھ پر اس کا ،کوئی جھوٹ نہیں کھلا ۔فقط ایک غیر عورت کے کہنے پر میں اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتی ہوں؟“

”اس نے میرا تعارف اپنی چچا زاد کے طور پر کرایا ،حالانکہ وہ میرا چچا زاد تو کیا دور پار کا رشتا دار بھی نہیں ہے ۔ میرا رشتا ایک فرضی شخص سے جوڑا ، آپ دونوں کے بیچ ہونے والی ایک ایک بات مجھے بتا دی اور جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟“

”اس جھوٹ میں تم بھی شامل تھیں ۔دو جھوٹوں کے درمیان پھنسی ہوں ۔کیا پتا تم اب بھی جھوٹ بول رہی ہو ؟“

”باجی !….آپ بار بار مجھ پر بے اعتباری کا اظہار کر رہی ہیں ۔میں صاف بتا چکی ہوں کہ حماد مجھے چاہتا ہے ،لیکن مجھ سے بھی زیاہ اسے دولت عزیز ہے ۔جبکہ دانیال کو دولت کی نہیں آپ کی ضرورت ہے ۔اس کا باطن اتنا اجلا ہے کہ اس کے لےے حما دجیسی کئی صورتیں قربان کی جا سکتی ہیں ۔“

”اب وہ میرا نہیں رہا ۔“مسکان کی آنکھوں میں نمی ظاہر ہوئی ۔”اور تم چاہتی ہو جس کے لےے اس سے طلاق لی اسے بھی چھوڑ دوں ۔“

”باجی !….فی الحال سوچو،میں بھی دانیال سے مل کر طلاق کی بابت پوچھتی ہوں ۔ رات کو فون پر بات ہو گی ۔ اور خدارا حماد کو اس ملاقات کا پتا نہیں چلنا چاہےے۔“

”اوکے ۔“مسکان نے اثبات میں سر ہلادیا۔

”میرا خیال ہے اب چاے پی لینا چاہےے ؟“فریحہ نے مسکراکر کہا اورمسکان کے ہونٹ بھی ہنسی کے انداز میں کھنچ گئے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: