Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 2

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 2

–**–**–

اگلے دن وہ دوبارہ چچا خیر دین کے پاس موجود تھا ۔

”عجیب کہانی سنا رہے ہو دوست ؟“اس نے گہری سانس لے کر کہا۔”گویا تمھارا مطمح نظر عورت ذات تھی ہی نہیں ؟“

”یہ بات نہیں ہے چچا۔میں چاہتا ہوں ….میں چاہتا ہوں ….پتانھیں کیا چاہتا ہوں ؟“وہ اپنی سوچ کو لفظوں کے قالب میں نہ ڈھال سکا ۔

چچا خیر دین نے منہ بنایا ۔”تو پھر میں کیا مشورہ دوں ….مسئلہ بتاو¿ گے تو حل ڈھونڈوں گا ناں؟“

”دراصل!….میری خواہش ہے کہ وہ فقط میری ہو،دوکان دار نہ ہو شریک حیات ہو، اس طرح اگر جسمانی تقاضے پورے ہوتے بھی رہیں تو بھوک نہیں مٹتی ….اور پھر ودوستوں سے یہ بھی سنا ہے کہ ایسی عورتیں مختلف قسم کے موذی امراض کی پوٹ ہوتی ہیں یہ نہ ہو کوئی لاعلاج مرض چمٹ جائے۔ اور سب سے بڑھ کر آخر کب تک یہ فالتو خرچ برداشت کروں گا ؟“

”برخوردار !….باتیں تو تم سمجھ داری کی ،کر رہے ہو؟…. اور میری نظر سے بھی یہ اوجھل نہیں تھیں….فقط تمھارا مسئلہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے….بہ ہر حال اب مسئلہ سمجھ میں آگیا ہے …. تمھیں دولت حاصل کرنا پڑے گی ، اچھی خاصی دولت ۔تب رشتا ملتے دیر نہیں لگے گی ۔“

”چچا !….دولت تو ہر کسی کا مسئلہ ہے ۔کیا غریب کی شادی نہیں ہوتی اور ساری دلہنیں دولت والوں کے حصے میں آتی ہیں؟ “

”ہوتی ہیں ….کیوں نہیں ہوتیں مگر اس میں رشتا داری ،پیار محبت ،وٹہ سٹہ اور اسی طرح کی وجوہات کا رفرما ہوتی ہیں جبکہ تمھارا نہ تو قریبی رشتا دار زندہ ہے ،نہ بہن ہے کہ اس کے بدلے شادی کر لو اور جہاں تک تعلق ہے پیار محبت کا ….تو تم خود اچھی طرح واقف ہو وضاحت کی ضروت نہیں ہے۔“

”پر دولت آئے گی کہاں سے ؟….مزدوری کرکے تو میں دولت مند بننے سے رہا؟“

”شاید ایک ٹی ٹی تمھارے لےے کافی ہو ،بلکہ تم تو چھری چاقو سے بھی کام چلا لو گے اچھے خاصے جاندار ہو ؟“

”مم….میں سمجھا نہیں؟“

”یہ کراچی ہے میاں ….دن کو مزدوری کرو رات کواوور وقت لگاو¿؟“

اس کی آنکھوں میں ہنوز حیرانی دیکھ کر چچا خیر دین نے مزید وضاحت کی ۔”یار روازنہ ڈکیتی کی کتنی وارداتیں ہوتی ہیں تم بھی قسمت آزمائی کر لو۔“

”یا….یا….نی….یعنی….آپ کا مطلب ہے میں لوٹ مار شروع کر دوں؟“

”اس کے علاوہ تمھارے پاس کوئی رستا بھی نہیں ہے ….باقی غور کر و تو پاکستان میں جس کا داو¿ چلتا ہے وہ لوٹ مار سے باز نہیں آتا ۔ حکمران ، وڈیرے، چوہدری ،پولیس جسے دیکھو اس کام میں پیش پیش ہےں۔ تو پھر تم کیوں نہیں کر سکتے ؟“چچا خیر دین نے اسے حجت بازی کے قابل نہیں چھوڑا تھاوہ ایک عزم لےے وہاں سے اٹھ آیا۔

٭……..٭

کمانی دار چاقو جیب میں ڈالے وہ کافی دیر سے سنسان گلی میں ٹہلتے ہوئے کسی اکیلے شخص کا منتظر تھا ۔ اور پھر اسے اپنا مطلوبہ آدمی نظر آیا۔وہ عجلت میں دکھائی دے تھا۔سٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں اسے دور سے دیکھتے ہی دانیال نے چاقو ہاتھ میں پکڑ لیا ….اس کے قریب پہنچتے ہی اس نے کہا ۔

”رکو !….ہاتھ اوپر اٹھاو¿؟“اس کی آواز کی لرزش واضح تھی کہ وہ پہلی مرتبہ یہ کام کر رہا تھا ۔ مگر اس آدمی کا رد عمل دیکھ کر دانیال کو یک گونہ اطمینان ہوا ۔ وہ تھر تھر کانپنے لگ گیا تھا۔

”ج….جج….جناب ….میں غریب آدمی ہوں۔ڈڈ……..“

”خاموش۔“اس نے کڑک کر قطع کلامی کی ۔”جو کچھ جیب میں ہے باہر نکالو ۔“اس بار وہ اپنے لہجے میں اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب رہا تھا ۔

اس نے ایک پرانا سا بٹوا نکال کر دانیال کی طرف بڑھا دیا ۔

”موبائل بھی ادھر دو ؟“دانیال نے اگلا حکم دیا، اس نے لرزتے ہاتھوں ایک سستا سا موبائل بھی اس کی جانب بڑھا دیا ۔

”اب بھاگو یہاں سے “دانیال نے دبنگ لہجے میںکہا اور وہ چہرے پر حسرت و لاچاری کے تاثرات لےے چل پڑا ۔

دانیال نے بٹوا کھول کر دیکھا اس میں سولہ سو کے بہ قدر رقم موجود تھی ۔اگر وہ موبائل پانچ چھے سو کا بھی بک جاتا تو دو ہزار کے قریب رقم اس نے پہلی واردات میں حاصل کر لی تھی۔اور یہ کام اسی رفتار سے جاری رہتا تو جلد ہی وہ دولت مند بن سکتا تھا۔

اس سوچ نے اسے صرف ایک لمحے کے لےے خوش کیا اور اس کے ساتھ ہی دانیال آنکھوں میں اس ادھیڑ عمر شخص کی حسرت زدہ صورت گھوم گئی جسے تھوڑی دیر پہلے ہی وہ لوٹ چکا تھا ۔سٹریٹ لائیٹ کی روشنی میںنظر آنے والے اس کے چہرے تاثرات یقیناََبھلانے کے قابل نہیں تھے ۔

پھر جانے اس کے دل میں کون سے جذبے نے سر ابھارا کہ وہ اس کے تعاقب میں بھاگ پڑا،اور۔چند منٹ ہی بعد اسے جا لیا۔بھاگتے قدموں کی آواز سن کر اس نے مڑ کر دیکھا ۔ دانیال کو پہچانتے ہی اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمودار ہوئے ۔

”کہاں جا رہے تھے ؟“اس کے قریب رک کر دانیال نے ہانپتے ہوئے پوچھا ۔

”ڈڈ….ڈاکٹر کے پاس ۔“

”کیوں ؟“

”گھر والی بیمار ہے ۔“

اچھا یہ لو ….“دانیال نے بٹوا اور موبائل اس کی جانب بڑھایا ۔

”شش….شکریہ جناب“اس نے جھجکتے ہوئے دونوں چیزیں تھام لیں ۔اس کے چہرے پر حیرت کے تاثرات واضح تھے ۔دانیال کی اپنی جیب میں بھی اس وقت چند سو روپے پڑے تھے جو وہ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔

”یہ بھی رکھ لو ۔“

”جج….جی ؟“وہ گھبرا گیا تھا۔

”کچھ نہیں یار!…. تمھیں ضرورت ہے ،بیوی کا علاج کراو¿….یوں بھی بیویاں قسمت والوں کو ملتی ہیں …. اسے کچھ ہو گیا تو شاید دوسری نہ ملے ؟“ دانیال نے پیسے زبردستی اس کے ہاتھ میں پکڑائے اور واپس مڑ گیا ۔یہ بہت مشکل کام تھا، اپنے جیسے غریبوں کا خون چوسنا اس کے بس سے باہر تھا ۔

٭……..٭

فریحہ اس کے دل و دماغ پر چھا گئی ،یہ پہلی لڑکی تھی جس پر اس نے بے دریغ رقم لٹائی تھی۔اپنا جیب خرچ اور مسکان سے ملنے والی رقوم بھی ۔فریحہ بھی اپنے وعدے پر قائم تھی۔اچھے خاصے دولت مند اور متمول خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لڑکوں کی پیش قدمی کو اس نے در خورِاعتنا نہیں سمجھا تھا ۔دونوں چھپ کر ملتے تھے زیادہ تر ان کارابطہ موبائل پر ہوتا ۔یوں بھی ہوتاکہ یونیورسٹی گارڈن کے ایک کونے میں فریحہ بیٹھی ہوتی اور دوسرے کونے میں حماد۔اور دونوں موبائل فون پر مصروف گفتگو ہوتے ۔ان کی اس احتیاط پسندی کا یہ فائدہ ہوا کہ کسی کو بھی ان کے مابین تعلقات کا علم نہ ہو سکا ۔اتوار کو وہ اکھٹے لنچ کرتے۔اس کے علاوہ جب بھی مسکان یونیورسٹی سے ناغہ کرتی اس دن دونوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملتا ۔ فریحہ بے باک اور آزاد خیال ہونے کے باوجود اس حد تک جانے کو تیار نہیں تھی کہ بعد میں اس کے پاس فخر کرنے کو کچھ نہ بچتا ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ حماد بھی اسے میلا کرنے کو تیار نہیں تھا ۔وہ اسے حقیقی معنوں میں چاہتا تھا ۔دلی جذبات پر کسی بھی طرح پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔وہ دونوں ایک دوسرے کے احساسات سے اچھی طرح واقف تھے ۔ان کے ملاپ میں سہانے مستقبل کے خواب نے ظالم سماج کا کردار ادا کیا ہواتھا ۔

٭……..٭

اس دن مسکان یونیورسٹی نہیں آئی تھی ۔حماد نے میسج بھیج کر اس سے نہ آنے کی وجہ پوچھی مگر اسے جواب نہ ملا۔اسے حیرانی ہوئی کیونکہ ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا کہ مسکان نے اس کے میسج کا جواب دیناگوارا نہیں کیا تھا۔دس پندرہ منٹ انتظار کے بعد اس نے ایک اور پیغام ارسال کیا کہ شاید پہلے وہ واش روم وغیرہ میں ہو مگر جواب ندارد۔غصے کے ساتھ اسے حیرانی بھی ،مجبوراََ اسے کال کرنی پڑی ۔جب کال بھی اٹینڈ نہ کی گئی تو اسے یقین ہو گیا کہ اس کی فریحہ سے محبت کا راز فاش ہو گیا ہے ۔اور اسی وجہ سے مسکان اسے نظر انداز کر رہی ہے۔یہ بات اسے پریشان کرنے کے لےے کافی تھی۔اس نے فوراََ فریحہ کو کال کر کے اس بارے آگاہی دی ۔

”تو کیا؟“اس کے لہجے میں بے پرواہی تھی ۔

”فری !….میرا مستقبل داو¿ پر لگا ہے؟“اس کے لہجے سے پریشانی عیاں تھی ۔

”کوئی داو¿ پر نہیں لگا ….تھوڑی دیر تک خود تمھیں فون کرکے گلہ شکایت کرے گی ۔آخر اسے بھی تو تم سے محبت کا دعوا ہے ۔ بس تھوڑی سی منت کرائے گی ،تجدید وفا کے وعدے وعید اور بس….کہہ دینا یونھی میرے ساتھ بیٹھ کر لنچ کر لیا تھا اور کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا مطلب یہ تو نہیں ہوتاکہ اس سے محبت ہو گئی ۔الٹا اسے مطعون کر ناکہ وہ تم پر شک کرتی ہے۔ اور کسی دوسرے کے کہنے پر تمھیںاتنا بڑا الزام دے رہی ہے ۔ دیکھنا تمھاری منت سماجت شروع کر دے گی۔“

”فری جان !….تم نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا ۔“بہت بڑا بوجھ اس کے سر سے ہٹ گیا تھا ۔

”میرے حادی کی شخصیت ایسی نہیں کہ کوئی لڑکی اسے ٹھکرا سکے ۔“وہ چاہت سے بولی اور حماد نے اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔

اگلا پیریڈ شروع ہونے کو تھا ۔لاسٹ سمیسٹر چل رہا تھا اور اچھی پوزیشن کے حصول کی تمنا میں وہ کوئی پیریڈ مس نہیں کرتا تھا ۔ پیریڈ کے دوران ہی مسکان کی کال آنے لگی ۔وہ فریحہ کی قیافہ شناسی کا قائل ہو گیا۔کال ڈس کنکٹ کرتے ہوئے اس نے جلدی سے اسے ایس ایم ایس لکھ کر بھیج دیا ۔

”کلاس میں ہوں دس منٹ بعد بات ہو گی ۔“

ٹھیک گیارہ منٹ بعد مسکان کی کال دوبارہ آنے لگی ۔

”یس ؟“اپنا مقدمہ لڑنے کے لےے وہ تیار تھا ۔

”حماد !….“اسے مسکان کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی اور پھر اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔

”ارے ….ررے ….کیا ہوا ؟“وہ ایک دم گھبرا گیا ۔

”حماد پاپا….؟“کہہ کر وہ پھر رونے لگی ۔

”شاید سیٹھ کو ہمارے تعلقات کی بھنک پڑ گئی اور اس نے بیٹی کو یونیورسٹی جانے سے روک دیا؟“ایک پریشان کن سوچ اس کے دماغ میں گونجی ۔

”اگر تم روتی رہو گی تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ کیا مسئلہ ہے ؟“وہ حقیقت جاننے کے لےے بے تاب تھا۔

”حماد !….پاپا نہیں رہے ۔“مسکان نے روتے ،سسکیاں بھرتے اپنی بات مکمل کی ۔

”کیا ….؟“وہ حیرانی سے چیخ پڑا تھا ۔اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے رستے کا ایک بہت بڑا کانٹا صاف ہو گیا ہے ۔ دل میں امڈ پڑنے والی بے ساختہ خوشی کو دباتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”مگر کیسے ….؟وہ تو بھلے چنگے تھے ؟“

”ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔“مسکان کی سسکیاں اسے تواتر سے سنائی دیتی رہیں ۔

”بہت افسوس ہوا سن کر ….مگر ڈئیر پتا ہے نا ؟ہر ذی روح نے ایک نہ ایک دن ضرور رخصت ہونا ہے۔کسی نے آج ،کسی نے کل ۔ہم جانے والوں کو روک تو نہیں سکتے نا؟“وہ اسے تسلی دینے لگا ۔

”مگر ایسے اچانک موت بھی تو برداشت نہیں ہوتی نا؟….حماد وہ بہت اچھے تھے ۔ میرے پاپا دنیا کے سب سے اچھے پاپاتھے ۔“

”صحیح کہا ۔ہر باپ فرماں بردار اولاد کے لےے دنیا کا سب سے اچھا باپ ہوتا ہے ۔ اور انکل تو باقی دنیا کے لےے بھی بہت اچھے تھے ۔“ حماد کو اس کی ہاں میں ہاں ملانی پڑی ۔

چند منٹ مزید اسی قسم کی گفتگو کے بعد اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔اگلے لمحے وہ فریحہ کو یہ خوش خبری سنا رہا تھا ۔ سیٹھ داو¿د کی وفات کے بعد مسکان خود مختار تھی اور اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ باپ کے ترکے کی بھی وارث۔اس کی ماں کئی سال پہلے ہی وفات پا چکی تھی ۔

”بڑی خوشی ہو رہی ہے مسکان کو پانے کی ؟“فریحہ نے اس کی خوشی کا الٹا مطلب لیا ۔

”اف فری !….“اس نے سر پیٹ لیا ۔”ہر وقت الٹی سوچ تمھاری کھوپڑی میں پلتی رہتی ہے ۔ یہ مسکان کو پانے کی نہیں، منزل کے قریب ہونے کی خوشی ہے ۔اور منزل کے حصول ہی میں میری جان فری کا ملاپ مضمر ہے ۔“

”مذاق کر رہی تھی یار۔“فریحہ کی شوخ ہنسی نے اس کے کانوں میں رس گھولا۔

”تمھاری خفگی ،مجھے مذاق میں بھی گوارا نہیں ہے۔“

”اچھا نابابا…. ؟سوری۔ “وہ نا ز سے اٹھلائی ۔

”کوئی بات نہیں جان !تمھاری کوئی بات بری نہیں لگتی ۔“

”ہاں بات تو نہیں ،البتہ میں ضرور بری لگتی ہوں ؟“فریحہ پھر شوخ ہونے لگی ۔

”اچھامذاق چھوڑو….آج میں اس کے گھر تعزیت کے لےے جاو¿ں گا۔اوکے ؟“

”میں بھی چلی جاو¿ں ؟“

”اگر تمھاری سہیلیاں جانے لگیں تو چلی جانا؟“

”ان کو تو اب تک پتا ہی نہیں ہے اس حادثے کا ۔“

”تو جب پتا چل جائے اور وہ جانے لگیں تو تم بھی چلی جانا محترمہ!“

”مگر انھیں پتا کیسے چلے گا ؟مسکان ہماری کلاس فیلو تو نہیں نا ؟“

”تو پھرجانا فرض ہے کیا ؟“اس نے کہا اور وہ مسکرا دی ۔

٭……..٭

”تو امیروں کو لوٹو ….ان کے پاس کافی رقم ہوتی ہے ؟“چچا خیر دین نے ہار نہیں مانی تھی۔

”پر کیسے ….؟میرے پاس کوئی گروہ تو ہے نہیں کہ انھیں لوٹ سکوں۔“دانیال حیرانی سے مستفسر ہوا۔

”بہت آسان ہے ….کسی سیٹھ کے بچے کو اغواءکر لو،یوں بھی سکول چھٹی کے وقت کافی رش ہوتا ہے ۔“

”پکڑا گیا تو جان سے جاو¿ں گا ؟“

”اغواءکرنے کی سزا پھانسی نہیں ہوتی میاں،چند ماہ یا زیادہ سے زیادہ سال بھر قید ۔ لیکن یہ امکان سو میں ایک فیصد بھی نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں مجرم گرفتار نہیں ہوا کرتے ۔“

٭……..٭

پیپرز کے بعد وہ فارغ تھا ۔رزلٹ آنے سے پہلے اس نے مسکان کو شادی کے لےے تیار کرنا شروع کر دیا ۔ اس وقت وہ یونیورسٹی کنٹین کے ایک گوشے میں بیٹھے چاے پی رہے تھے جب حماد نے یہ ذکر چھیڑا ۔

”میرا خیال ہے ہمیں شادی کر لینا چاہےے؟“

”اتنی جلدی ،کیسے ممکن ہے….؟ابھی تک تو پاپا کا کفن بھی میلا نہیں ہوااور پھر میری تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی؟“

”انکل کی موت کا جتنا افسوس تمھیں ہے مجھے اس سے کم نہیں ؟وہ صرف تمھارے باپ ہی نہیں ایک اچھے انسان بھی تھے ۔لیکن ان کا ہم ساری زندگی سوگ نہیں منا سکتے ۔کیونکہ سوگ منانے سے جانے وانے نہیں لوٹاکرتے ۔اوربہ خدا اگر ہمارے سوگ منانے سے ان لوٹنے کا ذرا سا بھی امکان ہوتا تو میں ساری زندگی شادی نہ کرتا ۔باقی جہاں تک تمھاری تعلیم کا تعلق ہے تو یہ دنیاوی تعلیم کس کام کی۔ تم کوئی سوشل ورکر تو نہیں ہو، نہ کوئی کاروباری عورت ہو، پھر ایم بی اے کی ڈگری کا کیا فائدہ ؟“

”محترم !….پاپاایک وسیع کاروبار ترکے میں چھوڑ گئے ہیں ۔اور بھائیوں کے ساتھ میں بھی وارث ہوں ۔ توآپ کاکیا خیال ہے سارا کاروبار ملازمین پر چھوڑ دوں گی ؟“

”میں کس لےے ہوں ….؟یا مجھ پر اعتبار نہیں ہے ؟“

”اپنی جان سے بڑھ کر اعتبار ہے ۔“

”پھر ؟“

”پھر یہ کہ ،تھوڑا انتظار نہیں ہو سکتا ؟“

”نہیں ….بالکل نہیں ۔تم سے دوری مجھے زہر لگتی ہے ؟“اس نے محبت جتائی ۔

”دو ر کب ہوں ؟“وہ شوخی سے ہنسی ۔”پاس ہی تو بیٹھی ہوں ۔“

”مجھے تو فون پر بات کرنے اور یوں بیٹھ کر بات کرنے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ؟ فون پر بھی تمھارے لمس سے محروم رہتا ہوں اور یوں بھی چھونہیں سکتا؟“

”ہا….ہا….ہا۔“اس نے قہقہہ لگایا۔”تو تصویر پر گزارا کر لو نا؟“ مسکان کی ہنسی یقیناََ ترنم سے بھرپور تھی مگر وہ فریحہ کے سحر میں گرفتا ر تھا۔اس خوب صورت ہنسی نے اسے بالکل متا¿ثر نہیں کیا تھا ۔ محبوبہ کو اگر چاہنے والے کے چہرے پر اپنی اداو¿ںکا اثر نظر نہ آئے تو وہ بے چین ہو جاتی ہے ،عجیب قسم کی تشنگی اور بے چینی محسوس کرتی ہے ۔مسکان بھی تو عورت ذات ہی تھی ۔اسے بھی یہ بات شدت سے کھلتی مگر وہ اس کی توجیہ سے قاصر تھی کہ آخر کیوں کبھی کبھی اس کا دل حماد سے اوب جاتا ہے ۔ کیوں اسے حماد کی چاہت میں کمی نظر آنے لگتی ہے ۔ اس وقت بھی اپنے قہقہے کے جواب میں حماد کا نارمل چہرہ اسے بالکل اچھا نہ لگا ۔ شوخی بھری ہنسی کااثر اس کے چہرے سے غائب ہو گیا۔

اس کی کیفیات سے بے خبر حماد اپنی رو میں بولا ۔”بتاو¿ نا ؟….کتنا انتظار کرنا پڑ ے گا؟“

”میں کیا کہہ سکتی ہوں اس بارے ؟“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی ۔“

”ارے واہ ….تم نہیں ،تو کیاتمھاری سہیلیاں بتائیں گی ؟“

”کیا دو تین سال صبر نہیں ہو سکتا ؟“

”دو تین ماہ بھی نہیں ہو سکتا ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا ۔

”اوکے جناب !….میں آپ کی خواہش نہیں ٹھکرا سکتی ۔اپنے والدین کو ہمارے گھر بھیج دینا بھائی فہیم سے مل کر سب طے کر لیں گے ۔“یہ کہتے ہوئے اس کی پلکیں حیا سے جھک گئی تھیں ۔اس وقت اگر حماد کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوتی تو اسے محسوس ہوتا کہ وہ حیا آلود چہرہ فریحہ کے بے باک چہرے سے کتنا خوب صورت ،دلکش اور پرکشش ہے ۔مگر حماد کسی اور کے عشق میں مبتلا تھا اور محبوب اگر بدصورت بھی ہو تو کسی دوسرے کا حسن متاثّر نہیں کرتا فریحہ تو خود حسن کا شہکار تھی ۔مسکان غریب کی کیا دال گلتی ۔

”تم نے اسے بتایا ہے میرے بارے ؟“

”آج بتا دوں گی ۔اور یوں بھی اس نے خود بھی ایک متوسط گھرانے میں شادی کی ہے یقینا میری پسند پر ناک بھوں نہیں چڑھائے گا ۔“

”تو پھر کب بھیجوں ابو جان کو ؟“

”جب جی چاہے ۔“یہ کہہ کر وہ آہستہ سے ہنسی ۔”یہ نہ ہو ابھی بھیج دو ؟“

حماد بھی اس کے انداز پر ہنس پڑاتھا ۔

٭……..٭

اگلے تین چار دن وہ مسلسل ایک ایسے سکول کی نگرانی کرتا رہا جہاں کسی غریب کے بچے کا تعلیم حاصل کرنا ناممکنات سے تھا ۔ پانچویں دن اسے موقع مل گیا ،وہ نہایت پیاری سی بچی تھی اس کی عمر پانچ چھے سال کے قریب ہو گی ۔چھٹی کے وقت بچے گیٹ سے باہر نکلے اور پارکنگ ایریا میں منتظر قیمتی گاڑیوں میں بیٹھنے لگے اس بچی نے دائیں بائیں دیکھا اور اپنی کار کو موجود نہ پا کر واپس مڑنے لگی ۔وہ دھڑکتے دل سے آگے بڑھا اور اس کا بازو تھامتے ہوئے بولا ۔

”چلو گڑیا ….اپنی گاڑی وہاں کھڑی ہے ۔“

اس نے معصومیت سے پوچھا ….”آپ نئے انکل ہیں ؟“

”ہاں گڑیا!….میں نیا ڈرائیور ہوں ۔“اور وہ اطمینان سے سرہلاتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑی ۔چند قدم لینے کے بعددانیال نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اسے گود میں اٹھا لیا۔تھوڑا ساچلنے کے بعد ہی مجھے اسے خالی ٹیکسی نظر آئی جو اس کے اشارے پر رک گئی ۔دانیال نے پچھلی نشست سنبھال لی وہ معصومیت سے پوچھنے لگی ….

”انکل !….یہ گندی گاڑی ہماری تو نہیں ہے ؟“

”کار آج پاپا لے گئے ہیں ۔“ دانیال نے اسے پیار سے پچکارا ،وہ نہیں چاہتا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور کوکوئی شک گزرے۔

”پاپا کی تو اپنی کار بھی ہے ….پھر وہ مما کی کار کیوںلے گئے ہیں ؟“

”پاپا کی کار خراب تھی گڑیا۔ “

”وہ خود اس گندی کار میں جاتے ناں ؟“

”اچھا کل سے وہ اس کار میں جائیں گے ….اب خوش ؟“

”ہاں ….اب ٹھیک ہے۔“اس نے معصومیت سے سر ہلا دیا ۔

رستے میں کولڈ ڈرنک شاپ پر دانیال نے اسے آئس کریم بھی لے کر دی ۔اس کے ساتھ اس نے چند چاکلیٹس بھی لے لی تھیں ۔گھر سے تھوڑی دور اس نے ٹیکسی رکوائی اورڈرائیور کو فارغ کر کے نیچے اتر آیا ۔

”انکل ہم کہاں جا رے ہیں ؟“بچی کافی چالاک تھی۔

”گڑیا یہاں سے ہم پیدل جائیں گے ؟“

”کیوں انکل ….گاڑی میں چلیں نا ؟“

”نہیں…. اپنی گڑیا کو میں گود میں اٹھا کر چلوں گا ۔“دانیال نے اسے اٹھایا اور وہ ہنسنے لگی ۔

”انکل آپ بہت اچھے ہیں ….پہلے والا انکل مجھے گود میں نہیں اٹھاتاتھا ۔“

”اچھا میری گڑیا کا نام کیا ہے ؟“دانیال نے اس کے پھول سے گال کو چوما۔

”ماہین….امی جان ماہی کہتی ہیں ۔“

”اچھا ….۔“ اس نے لہجے میں مصنوعی حیرانی سموئی۔

وہ فخریہ لہجے میں بولی ” پاپامجھے گڑیارانی کہتے ہیں ۔“

”ٹھیک ہی کہتے ہیں “اس نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا ۔

”انکل آپ مجھے روازانہ لینے آئیں گے نا ؟“ دانیال کے ہاتھ سے دوسری چاکلیٹ جھپٹتے ہوئے اس نے معصومیت سے پوچھا ۔

”ہاں ،اب تو میں روزانہ اپنی گڑیا رانی کو لینے آو¿ں گا۔“اس کے لہجے میں حقیقی پیار کی جھلک تھی ۔پہلی دفعہ بھیجے جانے والی منگنی کی انگوٹھی اگر واپس نہ آئی ہوتی تو وہ بھی شاید اتنی بچی کا باپ ہوتا ۔

”انکل یہ ہمارا گھر تونہیں ہے؟“ وہ جیسے ہی گھر کے دروازے میں داخل ہونے لگا وہ تیزی سے بولی ۔

”یہ میرا گھر ہے گڑیا!….“

”پر مجھے تو اپنے گھر جانا ہے ۔امی کے پاس جانا ہے۔“وہ مچل گئی ۔

”پاپا نئی کار لے کے آئیں گے نا اس میں چلیں گے ….یہ پرانی والی تو گندی تھی ،تم نے خود کہا کہ یہ گندی کار ہے تو گندی کار میں میں اپنی گڑیا رانی کو کیسے لے جاتا ؟“

”پاپا کس وقت لے کے آئیں گے کار ؟“

”بس آنے ہی والے ہوں گے ۔“اس نے اسے بہلایا ….اسی وقت ماں کمرے سے نکلی اور حیرانی سے بولی۔

”دانی ….یہ کسے اٹھا لایا ہے ؟“

”پتا نہیں اماں!….کس گلشن کا پھول ہے ،اکیلی پھر رہی تھی میں گھر میں لے آیا کہ اعلان کرا دوں گا جس کی ہوئی لے جائے گا ۔“

”کتنی پیاری ہے “ماں نے ممتابھرے لہجے میں کہتے ہوئے اسے دانیال سے لے لیا ۔

”آنٹی !….امی کے پاس جانا ہے ،مجھے بھوک لگی ہے ۔“

”آنٹی نہیں، میں دادی ہوں میری شہزادی ۔“دانیال کی ماں اسے بے ساختہ چومنے لگی ۔

”اچھا دادو۔“اس کے معصومیت بھرے الفاظ نے عائشہ خاتون کو بے کل سا کر دیا ۔

”دانی !….سنا ہے ،یہ مجھے دادو کہہ رہی ہے ۔ہائے او میرے ربّاکب مجھے دادی کہنے والے پیدا ہوں گے ؟“

”پہلے ان کی ماں تو پیدا ہونے دو اماں ۔“حسرت سے کہتے ہوئے وہ باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا۔ماہین بھوکی تھی،گو اس کلاس کے لوگ ،ایسے گھروں میں پکا ،کھانا تو درکنار چکھنا بھی معیوب سمجھتے ہیں، مگر وہ معصوم بچی ان کلاسوں سے مبرا تھی ۔ رات کی بچی ہوئی مسور کی دال ،تازہ روٹی کے ساتھ اس نے بڑی رغبت سے کھائی تھی۔عائشہ خاتون کے ہاتھ سے کھانا کھانے کے بعد وہ اسی کی گود میں ہی لیٹ گئی اوراس سے باتیں کرتے کرتے چند ہی لمحوں بعد اسے نیند آگئی ۔

”اماں اسے چارپائی پر لٹا دو ۔“

”نہیں پتر!…. مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ “اس کی ماں اسے گود میں سلانے پرہی بہ ضد رہی ۔وہ وہاں سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں آگیا ،بچی کا سکول بیگ اپنے ساتھ لانا وہ نہیں بھولا تھا ۔اب اسے بچی کے والد سے رابطے کی کوئی صورت پیدا کرنی تھی اوراس کی یہ مشکل ماہین کی ہوم ورک بک نے آسان کر دی جس پر اس کے والد کا موبائل نمبر لکھاہوا تھا اور یہ نمبر اس کی ساری کاپیوں پر درج تھا لازماََ یہ اس کے والد یا والدہ کا کام تھا۔نمبر اپنے پاس نوٹ کر کے وہ باہر نکل آیا۔

٭……..٭

اتنے بڑے گھرانے میں رشتا طلب کرنے کے لےے جانا اس کے والد کو بہت مشکل لگا ۔مگر بیٹے کی ضد کے سامنے اسے ہتھیار ڈالنے پڑے۔

سیٹھ داود کی محل نما کوٹھی کے سامنے ٹیکسی سے اترتے ہوئے حماد کے والد رفیق علی کو ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا کہ انھیں ہاں سننے کو ملے گی ۔اس کے بر عکس اس کے دل میں توہین کا اندیشہ جاگزیں تھا۔ خود حماد کا دل بھی ڈانو ڈول ہو رہا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک مرتبہ تعزیت کے سلسلے میں یہاں آ چکا تھا مگر آج معاملہ دوسرا تھا ۔

”جی کس سے ملنا ہے ؟“ان کے گیٹ کے قریب پہنچنے سے پہلے مستعد چوکیدار نے آگے بڑھ کر استفسار کیا۔ مو¿دب ہونے کے باوجود اس کے لہجے میں چھپا تحکم محسوس کیا جا سکتا تھا۔

”سیٹھ فہیم سے ہماری ملاقات طے ہے ۔“حماد نے با اعتماد انداز میں جواب دیا ۔

”جناب آپ کے نام ؟“

”حماد علی ….اور یہ میرے والد صاحب ہیں رفیق علی ۔“

انھیں وہیں رکنے کا اشارہ کر کے چوکیدار پیچھے مڑا اور ذیلی کھڑکی کھول کر ساتھی چوکیدار کو ان کی آمد کی غایت بتانے لگا ۔ دوسرے چوکیدار نے غالباََ انٹر کام پر ان کے متعلق کسی سے اجازت لی تھی کہ چند منٹ کے بعد انھیں اندر جانے کی اجازت مل گئی ۔

”آئیں جی ۔“چوکیدار نے ان کے لےے گیٹ کھولتے ہوئے مو¿دبانہ لہجے میں کہا ۔

”دونوں اندر داخل ہو گئے ۔محل نما کو ٹھی کا وسیع صحن عبور کر کے وہ اندرونی عمارت کے قریب پہنچے ۔ وہاں ان کی رہنمائی کے لےے ایک ملازم کھڑا تھا ۔انھیں ہمراہ لےے وہ ایک سجے سجائے ڈرائنگ روم میں پہنچا اور صوفہ سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

”آپ بیٹھیں جناب ….سیٹھ صاحب کو اطلاع کر دی ہے وہ آیا ہی چاہتے ہیں ۔“

وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئے ۔چند منٹ بعد ایک ملازما چاے کی ٹرالی دھکیلتی ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی ۔ٹرالی درجنوں لوازمات سے بھری ہوئی تھی ۔چینی کا پوچھ کر ملازما نے دو کپ چاے بنا کر انھیں پکڑائی اور ان کے سامنے رکھی ٹیبل پر کھانے کی مختلف اشیاءچن دیں ۔ اور ٹرالی دھکیلتی وہاں سے نکل گئی ۔اس کا والد رفیق علی سخت مرعوب نظر آ رہا تھا ۔اتنے قیمتی صوفے پر وہ زندگی میں پہلی مرتبہ بیٹھا تھا ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ سیٹھ فہیم سے کس طرح اس کی بہن کا رشتا طلب کرے گا ۔جبکہ اس کے اندازے کے مطابق ان کے ملازمین کی تنخواہ بھی اس سے زیادہ ہونی تھی ۔بیٹے نے اسے بری طرح پھنسا دیا تھا ۔

انھیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا ۔وہ بہ مشکل چاے پی پائے تھے کہ سیٹھ فہیم ڈرائینگ روم میں داخل ہوا ۔ وہ ے ساختہ کھڑے ہو گئے ۔

”پلیز بیٹھیں ۔“فرداََ فرداََ دونوں سے مصافحہ کر کے سیٹھ فہیم نے انھیں بیٹھنے کا کہا اور خود ان کے سامنے نشست سنبھال لی ۔

”تو آپ کا نام حماد ہے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کر رکھا ہے ؟“ان کے بیٹھتے ہی سیٹھ فہیم نے بغیر کسی تمہید کے احماد کا انٹر ویو لینا شروع کر دیا ۔

”جی جناب ۔“حماد کا لہجہ خود بخود مو¿دبانہ ہو گیا تھا۔

”تو حماد صاحب !….بات یہ ہے کہ مسکان مجھے بہن نہیں بیٹی کی طرح عزیز ہے ۔ میں کبھی یہ نہ سنوں کہ آپ نے اسے دکھ دیا ہے ۔ باقی مجھے تمھاری شخصیت میں کوئی بات قابل اعتراض نظر نہیں آ رہی …. صرف ایک شرط پیش کروں گا، مسکان کو والدین سے علیحدہ رکھو گے ۔ اینڈ دیٹس آل ۔“سیٹھ فہیم نے ایک ہی منٹ میں بات مکمل کر دی تھی ۔ دونوں کے دل میں پرورش پانے والے اندیشے بھک سے اڑ گئے تھے ۔

حماد کے کچھ کہنے سے پہلے رفیق علی نے جواب دیا ۔

”سیٹھ صاحب !….میں خودشادی شدہ اولاد کو اپنے ساتھ رکھنے کا قائل نہیں ہوں ۔ حماد کا بڑا بھائی بھی شادی کے بعد ہم سے علیحدہ رہ رہا ہے ۔اور حماد کے لےے بھی علیحدہ مکان کا بندوبست کردوں گا۔“

”نہیں محترم !….“سیٹھ فہیم نے نرم لہجے میں کہا ۔”آپ کو مکان کا بندوبست کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مسکان کی اپنی کوٹھی موجود ہے ۔اور باقی علاحدہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بیٹے سے ملنے نہیں آ سکتے یا بیٹا آپ کے پاس نہیں جا سکتا ۔ایسی کوئی بات نہیں ہماری طرف یہ روزانہ آپ لوگوں کو ملنے جا سکتا ہے ۔آپ کی مالی امداد کر سکتا ہے ۔ بس ہماری بہن کو اس کے لےے مجبور نہیں کرے گا ۔“

”ٹھیک ہے سیٹھ صاحب !….“جواب اس بار بھی رفیق علی نے ہی دیا تھا ۔حماد کا دل بلیوں اچھل رہا تھا ۔ اتنا مشکل مرحلہ اس آسانی سے عبور ہو جائے گا اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔

”اوکے پھر ؟“سیٹھ فہیم کھڑا ہو گیا ۔”کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔چلیں ہمارے ساتھ کھاناتناول فرمائیں ؟…. باقی شادی کا پروگرام کل پرسوں تک آپ کو مل جائے گا ۔“

”معذرت چاہیں گے سیٹھ صاحب !….کھانا ہم کھا کر آئے ہیں ….اب اجازت لیں گے؟“ رفیق علی کو کبھی امرا کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔اور وہ نہیں چاہتا تھاکہ وہاں اس کا تماشا بن جائے ۔

”جیسے آپ کی مرضی ۔“سیٹھ فہیم نے اصرار نہیں کیا تھا ۔وہ دونوں اس سے مصافحہ کر کے وہاں سے نکل آئے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: