Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 20

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 20

–**–**–

حماد کے لےے مسکان کا رد عمل حیران کن ہی نہیں پریشان کن بھی تھا ۔طلاق کی خبر پر اس طرح حماد کو نظر انداز کر دینا عجیب کہانی سنا رہا تھا ۔اس کے دماغ میں الٹے سیدھے اندیشے کلبلانے لگے ۔اس نے خود سے سوال کیا۔

”کہیں میں دیر نہ کر دوں ؟….کہ پوراپانے کے لالچ میں آدھے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں ۔“

”نہیں ….نہیں یہ ایک وقتی شاک ہے ۔“وہ بڑبڑایا۔مذہبی خیالات کی حامل لڑکی کو طلاق کی خبر سن کر جذباتی ہونا ہی تھا ۔

آدھے گھنٹے کے قریب وہ ڈرائینگ روم میں ٹہلتا رہا کہ شاید مسکان باہر نکل آئے مگر وہ یقینا مکمل سوگ منانے کے موڈ میں تھی ۔اس نے فریحہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا مگر پھر اسے یاد آیا کہ فریحہ تو اس سے سخت خفا ہے ۔اس وقت اس کی اپنی ذہنی حالت اس قابل نہیں تھی کہ فریحہ کو منانے کا متحمل ہو سکتا ۔

وہ گھر سے باہر نکل آیا اس کا رخ تھانے کی طرف تھا۔مسکان کا رد عمل دیکھ کر اس کے دل میں جو اندیشے پیدا ہوئے تھے ان میں ایک طلاق کی تصدیق کا بھی تھا ۔جس وقت تھانیدار نے اس کے حوالے یہ فائل کی تھی وہ صرف دستخط دیکھ کرمسکان کو یہ خوشخبری سنانے دوڑ پڑا تھا ۔

تھوڑی دیر بعد وہ تھانیدار کے سامنے موجود تھا ۔

”اسی کے دستخط ہیں جناب !….“تھانیدار خوشامدانہ انداز میں بولا ۔”بلکہ میں نے تو حفظ ماتقدم کے طور پر انگوٹھا بھی لگوا لیا تھا کہ کہیں غلط دستخط کر کے، بعد میں مکر نہ جائے ۔“

”سائن کرتے وقت اسے یہ علم تو تھا نا؟ کہ وہ طلاق نامہ سائن کر رہا ہے ؟“

تھانیدار نے منہ بنایا۔”تو اور اسے یہاں میں نے اپنی ،سالانہ کارکردگی رپورٹ سائن کرانے کے لےے بلایا تھا؟“

”اس کے منہ سے بھی طلاق کہلوائی تھی نا ؟“حماد نے پوچھا اسے تھانیدار کا انداز اعتماد سے خالی نظر آ رہاتھا ۔

”محترم!…. آپ کو ثبوت چاہےے ،اور ثبوت کاغذ ہوا کرتا ہے ۔“

حماد کی تسلی نہیں ہوئی تھی مگر اس نے تھانے دار سے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے نکل آیا،کہ یہ بعد کا مسئلہ تھا ۔یوں بھی مسکان نے چند گھنٹے سوگ منا کر نارمل ہو جانا تھا اور اس کے بعد وہ شرمندگی کے باعث کبھی دانیال کے گھر کا رخ نہ کرتی ۔

اچانک ایک نیاخیال اس کے دماغ میں ابھرا،اس نے سوچا کہ دانیال کو ٹٹولنا چاہےے آخر اس کے ارادے اب کیا ہیں ۔ اس کی کار کا رخ دانیال کے گھر کی طرف ہو گیا ۔ دروازہ عائشہ نے کھولا تھا ۔اسے پہچانتے ہی اس نے پر خلوص مسکراہٹ سے اس کا استقبال کرتے ہوئے کہا ۔

”حماد بیٹا!….کیسے بھول پڑے ؟“یہ کہتے ہی اس نے ایک طرف ہو کر اسے اندر آنے کا رستا دیا ۔

”آنٹی !….کیا بتاو¿ںکن بکھیڑوں میں پڑا ہوں۔“حماد رسمی جواب دیتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔

”ہاں بیٹا!….سب کے اپنے غم اور اپنے مسائل ہیں ۔“دروازہ بند کر کے وہ بھی اس کے پیچھے ہولی۔

حماد پہلی مرتبہ اس گھر میں آیا تھا ۔درو دیوار سے لپٹی غربت اسے حیران کر گئی۔اس مفلسی میں بھی دانیال نے ان لوگوں کی آفر ٹھکرا کر غیر معمولی غیرت کا ثبوت دیا تھا ،ایسی غیرت جو حما دکی نظر میںحماقت تھی ۔

حماد کو دیکھ دانیال کر ششدر رہ گیا تھا ۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمودار ہوئے ۔

”لیٹے رہو ،لیٹے رہو ۔“حماد جلدی سے بولا ۔کسی ظاہری زخم کے باوجود اس کی حالت نازک تھی۔پولیس کا غیر انسانی تشدد جانور بھی برداشت نہیں کر سکتے وہ تو پھر انسان تھا ۔حماد اس کے ساتھ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔

”کیا ہوا تھا ؟“دانیال سے مصافحہ کرتے ہوئے اس نے ایسے انداز میں پوچھا جیسے وہ اس معاملے سے بے خبر ہو ۔

”پولیس پکڑ کر لے گئی تھی بیٹا !“دانیال کے بجائے عائشہ جواب دینے لگی ۔”تین غنڈوں نے دانی سے جھگڑا کیا اور پولیس نے ان مسٹنڈوں کے بجائے میرے بیٹے ہی کو پکڑ کر لے گئی ۔“

”ماں جی !….آپ چاے لے آئیں نا ؟“دانیال نے ماں کے سامنے اصل بات سے پردہ اٹھانا مناسب نہ سمجھا ۔

”لائی بیٹا !….“عائشہ خاتون باہر نکل گئی ۔

دانیال تیکھے لہجے میں مستفسر ہوا ۔”حماد صاحب !….آپ کو علم نہیں ہے ،کیا ہواتھا ؟“

”علم تو خیر ہے ۔اسی وجہ سے تو تمھاری خیریت معلوم کرنے آگیا ۔“

”تو پھر ؟“

”بس آنٹی کے سامنے مناسب نہیں تھا کہ میں اصل بات اگلتا ،تم نے بتا تو نہیں دیا آنٹی کو ؟“

”کیا ؟“دانیال انجان بن گیا ۔

”یہی کہ اس ساری کارروائی میں مسکان کا ہاتھ ہے ۔جس وقت آنٹی نے اسے فون کیا میں وہیں بیٹھا تھا ۔ آنٹی کی سادگی پر وہ دیر تک ہنستی رہی ۔“

دانیال کولگا کوئی چیز اس کے اندر چھن سے ٹوٹ گئی ہے ۔اذیت کے آثار اس کے چہرے پرظاہر ہوئے ۔حماد کی بات کا جواب دےے بغیر اس نے آنکھیں بند کر کے اپنا سر تکےے پر دھر دیا ۔

”مسٹر دانیال !….حقائق کا سامنا کرنے کی کوشش کرو ۔یاد ہے نا میں نے اس دن کیا کہا تھا؟“

”حماد صاحب !….اگر انسان کوپہلے سے آنے والی تکلیف کا پتا چل جائے تب بھی تکلیف کی اذیت میں کمی نہیں ہوتی ۔جیسے موت کی آمد سے سب واقف ہیں تو کیا اس واقفیت کی وجہ سے وقتِ نزع کی سختی میں کمی واقع ہو سکتی ہے ؟“

”ویسے اگر آپ پہلے طلاق دے دیتے تو میرا خیال ہے فائدے میں رہ جاتے ،دیکھو طلاق تو اس نے اب بھی لے لی ہے ؟“حماد مطلب کی بات پر آگیا ۔

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”میں نے کب طلاق دی ہے ؟“

”تھانے میں ….یہ دیکھو !سیٹھ زادی صاحبہ نے مجھے یہ طلاق نامہ دیا ہے کہ باقاعدہ رجسٹرڈ کرا دوں ۔“

دانیال نے اس کے ہاتھ سے فائل لے کر کھولی اس میں پڑا فارم انگریزی میں تحریر تھا البتہ اپنے دستخط پہچاننے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی ۔

”ےے….یہ تو ضمانت نامہ ہے۔جو صبح تھانیدار نے مجھ سے دستخط کرایا تھا؟“

”جھوٹ بولا تھا اس نے،یہ طلاق نامہ ہے اور اب مسکان تمھاری بیوی نہیں رہی۔“

”جب مجھے علم ہی نہیں تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے تو طلا ق کیسے ہوجاے گی؟“

حمادنے اطمینان سے کہا۔”طلاق زبردستی بھی ہو جاتی ہے میاں،اور یوں بھی سیٹھ زادی صاحبہ کو ثبوت چاہےے تھا جواسے مل گیا ہے۔“

اسی وقت عائشہ چاے کے برتنوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی ۔چاے پیالیوں میں ڈال کر اس نے حماد اور دانیال کو پکڑائیں اور باہر نکل گئی ۔جہاںدیدہ عورت نے ماحول پہ چھائی گمبھرتا محسوس کر لی تھی ۔

دانیال نے اچانک پوچھا ۔” آپ مشی کے پہلے شوہر ہیں نا؟“

ایک لمحے کو تو حماد گڑبڑا گیا تھا مگر پھر سنبھلتے ہوئے اعتماد سے بولا ۔

”ہاں ۔“

” فریحہ بی بی کا کیا ہو گا ؟“

وہ دل پر جبر کر کے بولا ۔”اس سے تم شادی کر لو ۔“

دانیال بے ساختہ بولا ۔”میں اس کے قابل نہیں ہوں ؟“

”تو کیا مسکان کے قابل ہو ؟“حماد نے اس کے کانوں میں زہر انڈیلا ۔جب بلی تھیلے سے باہر آگئی تھی تو اس نے کوئی لگی لپٹی نہ رکھی ۔

”نہیں ….لیکن اس بن رہ نہیں سکتا ۔“

”تو اب کیا کرو گے ؟“

”صبر ۔“

”پہلے کر لیتے ؟“

”بغیر کوشش کے صبر کرنا حسرت کا باعث بن جاتا ہے ۔ہمیشہ یہ سوچ بے چین رکھتی کہ اگر میں تھوڑی کوشش کرلیتا تو مشی کو پا لیتا ۔اب میں اپنی تمام صلاحیتوں ،کوششوں اوردعاو¿ںکو بروے کار لا کر بھی اسے نہ پا سکا تو خود کو تو دوش نہیں دوں گا نا ؟“

”عجیب منطق ہے ؟“حماد نے منہ بنایا ۔

دانیال نے اپنا دفاع کیا ۔”میری جگہ اگر تم ہوتے توشاید ایسا ہی کرتے ۔“

”میں تمھیں احمق نظر آتا ہوں،کہ اپنا مستقبل ایک لڑکی خاطر برباد کر دیتا؟“

”محبت ،سود و زیاں نہیں دیکھتی ۔“

”ہونہہ!….محبت ….یہ قصے کہانیوں میں ہی اچھی لگتی ہے ۔حقیقی زندگی میں ایسے جذبات کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ خود اندازہ لگاو¿ اگر تم مسکان کی آفر قبول کر لیتے توکتنے فائدے میں رہتے ۔ بعینہ اسی طرح مجھے بھی مسکان نے آفر کی کہ فریحہ کو چھوڑ کر اس سے شادی کر لوں اور میں نے اس کی یہ آفر قبول کر لی حالانکہ فریحہ مسکان سے خوب صورت بھی ہے اور میری محبت بھی ہے ۔“

”یہ تو خیر غلط ہے کہ تمھیں فریحہ بی بی سے محبت ہے ۔بلکہ پہلے فریحہ بی بی بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ وہ تمھیں چاہتی ہے ۔“

”اور تم نے اس کی یہ غلط فہمی دور کر دی ؟“حمادنے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔

”میں نے نہیں ،آپ کے روےے نے جناب !….“

”بہ ہر حال اس موضوع کو چھوڑو ،میری آمد کا مقصد یہ ہے، کہ تمھیں اپنے بارے صفائی پیش کر سکوں۔میں اس حد تک جانے پر تیار نہیں تھا ۔میرا خیال تھا کہ صلح صفائی سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا ۔لیکن تمھاری مشی صاحبہ سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔ بہ قول اس کے وہ میرے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتی ۔“

”ہاں !….آپ واقعی اس قابل ہیں کہ کوئی لڑکی آپ کو ٹوٹ کر چاہ سکے ۔اور مشی کے ساتھ تو آپ کی جوڑی خوب سجتی ہے ۔“دانیال وسیع قلبی سے بولا ۔اس کی بات نے حماد کو ششدر کر دیا تھا ۔جب وہ بولا تو یہ حیرانی اس کے ایک ایک لفظ سے ٹپک رہی تھی ۔

”پاگل !….اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہو اور اسے طلاق دینے پر بھی راضی نہیں تھے ؟“

”حماد صاحب !….بتایا ہے نامجھے مسکان کی خوشی عزیز ہے ۔باقی جہاں تک طلاق دینے کا تعلق ہے وہ تو میں نے اب بھی نہیں دی ۔یہ فخر قیامت تک میرے پاس رہے گا کہ مشی میری بیوی ہے ۔اور یہ جو کاغذ کا ٹکڑا آپ لےے پھر رہے ہیں ،اس کی اہمیت میری نظر میں ردی کے کاغذ جتنی ہے ۔ اگر وہ اس ٹکڑے پر مطمئن ہو کر آپ کے نکاح میں واپس جا رہی ہے توبہ سرو چشم جائے میں کون سا اس پر کوئی مقدمہ کر رہا ہوں یا حق جتا رہا ہوں ؟“

” یہ بات تمھیں کس نے بتائی کہ مسکان میری بیوی تھی ؟“

”فریحہ بی بی نے ۔“

”بہت عقیدت سے نام لے رہے ہو اس کا،یاد ہے نا….؟ پہلی ملاقات میں کن الفاظ سے تمھارا استقبال کیا تھا؟“ حماد کو فریحہ کے بارے اس کا انداز پسند نہیں آیا تھا ۔وہ فریحہ کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتا تھا ۔

دانیال اطمینان سے بولا۔” اس کاوہ رویہ مصنوعی تھا ۔“

”اب بھی شاید وہ کسی مقصد کے حصول کے لےے شیریں زبان ہوئی ہو ؟“

”جانتا ہوں ،لیکن جب میں نے انکار کر دیا پھر اخلاق برتنے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا نا؟….وہ تو اب بھی مجھ سے رابطے میں ہے اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ ……..؟“دانیال مسکان سے ملاپ کی بات پھوٹنے والا تھا ، کہ ایک دم اسے یاد آیا مسکان تو طلاق لینے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔ ”خیر وہ بہت اچھی ہے ،بہت زیادہ ۔“

”گویا !….جناب کو اب فریحہ سے محبت ہو گئی ہے ؟“حماد حقارت سے ہنسا ۔

”حماد صاحب !….محبت لباس نہیں کہ جس وقت دل چاہاتبدیل کر لیا یا پہلے سے اچھا یا نیا لباس خریدا تو پرانا اتار کر پھینک دیا۔ مشی کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔اور فریحہ بی بی مجھے اس وجہ سے اچھی نہیں لگی کہ وہ خوب صورت ہے ، بلکہ وہ اس لےے اچھی لگی کہ وہ اچھی ہے ۔“

”مجھے چلنا چاہےے ؟“حما دجانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔

”حماد صاحب !….برا نہ مانو تو ایک بات کہوں ؟“

وہ اشتیاق سے بولا ۔”جی ضرور ؟“

”فریحہ بی بی بہت اچھی ہے ۔اور آپ دونوں کی جوڑی بہت سجتی ہے ۔“

حماد نخوت سے ہنسا ۔”سچ کہا !….مگر اس صورت میں بھی مسکان تمھیں نہیں ملنے والی ۔“

دانیال نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا ۔”مجھے ڈر تھا، کہ تم کچھ ایسا ہی کہو گے ؟“

حماد طنزیہ انداز میں ہنسا۔”تو اور کیا کہوں ؟یہی حقیقت ہے ۔“

”میں مشی کو حاصل کر چکا ہوں وہ میری ہے ،بے شک اسے مجھ سے نفرت ہو،وہ کتنا ہی دور بھاگے ، کتنی ہی لا غرضی برتے ،پولیس کے ذریعے زبردستی طلاق حاصل کرتی پھرے ،مجھ پر جتنے ظلم ڈھائے ،اسے میں اپنے دل سے نہیں نکال سکتا اور اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ کی منت کرنے سے میں اسے پا لوں گا تو مجھے منت کرنے میں کوئی شرم مانع نہیں تھی ۔مگر میں جانتا ہوں یہ بات آپ کے بس سے باہر ہے ۔یوں بھی وہ آپ کے مستقبل سدھارنے کی چابی ہے۔ اور آپ احمق تو نہیں ہیں نا؟….جس دولت کی خاطر اپنی محبت کو ٹھکرایاوہ کسی کو بھیک میں تھوڑی دے دو گے ؟“

”کہتے ہیں چھوٹے دماغ والے باتیں بہت بڑی کرتے ہیں ؟“دانیال کی باتوں نے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی ۔

”صاحب جی !….چھوٹے لوگ باتیں ہی کر سکتے ہیں ۔ کچھ اورکر سکتے تو باتیں نہ کرتے ۔“ دانیال نے اس کی بات کا برا نہیں مانا تھا ۔

”اب مسکان میری عزت ہے ،اور میں تمھیں تنبیہ کر رہا ہوں اگر اس کا رستا کاٹنے کی کوشش کی یا اس کے پیچھے کوئی دوسری بکواس کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔“

”مجھ سے لڑنے کے لےے تمھیںاپنے مقام سے نیچے آنا پڑے گا محترم ۔اور یقینا اپنے مقام سے نیچے آنا کوئی گوارا نہیں کرتا ؟“

”بہتر یہی ہو گاکہ تم مجھے اپنے مقام ہی پر رہنے دو ۔ورنہ میں نیچے آیا تو تمھیں مزید نیچے جانا پڑے گا ۔ اور اتنا تو تم جانتے ہو کہ تمھارے نیچے اب زمین ہے ؟“

”تم بھی کوشش کرو کہ اپنے قدموں تلے زمین کو رہنے دو ۔ورنہ پتا ہے نا ؟جب زمین نیچے سے نکل جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے ؟“

”بہت بولنا آگیا ہے ؟“حماد کا لہجہ غصے سے پر تھا ۔

دانیال بے پرواہی سے بولا ۔”غالباََ آپ جا رہے تھے ؟“

حماد اسے گھورتا ہوا باہر نکل گیا ۔ان کی ملاقات کا اختتام اچھا نہیں رہا تھا ۔

٭……..٭

مسکان واپس گھر میں آگئی ۔فریحہ کی باتیں رہ رہ کر اسے جھنجوڑ رہی تھیں ۔اچانک اسے یاد آیا کہ حماد نے جب فریحہ کے منگیتر کا ذکر کیا تھا تو اسے بتایا تھا کہ وہ انجینئر ہے ۔اور بعد میں فریحہ نے کہا وہ ڈاکٹر ہے ۔اس نے اس وقت بھی پوچھا تھا مگر وہ یہ کہہ کر ٹال گیا تھا کہ مجھے کیا پتا محترما کا منگیتر کیا ہے ۔لیکن چند منٹ بعد جب فریحہ نے فون پر بات کی تھی تو اس نے منگیتر کو یہ کہا تھا کہ وہ اور حماد اسے لینے ائیر پورٹ آئیں گے ،گویا حماد اس کے منگیتر سے واقف ہوا۔ اس صورت میں ڈاکٹر کو انجینئر کہنا ….واقعی فریحہ اور حماد نے اسے بے وقوف بنایا تھا ۔ بعد میں یہ بات اس کے دل میں کھٹکتی رہی تھی مگر اس کی سمجھ میںنہیں آیا تھا کہ کیا بات اس کے دل میں کھٹک رہی ہے ۔

وہ آنکھیں بند کر کے حماد کے گزشتہ روےے پر غور کرنے لگی ۔کس قدر کمی تھی اس میں خلوص کی ،کتنی محبت تھی اسے دولت سے ،قیمتی تحائف پا کر وہ شادی سے پہلے بھی کتنا خوش ہوتا تھا ۔مسکان کی قربت اس کے نزدیک کسی اہمیت کی حامل نہیں تھی ۔اس کے بر عکس دانیال غریب ہونے کے باوجود دولت کو کتنی حقارت سے دیکھتا تھا ۔کار، مکان، دکان پا کر وہ اتنا خوش نہیں ہوا تھا جتنا مسکان کی محبت بھری پیش قدمی سے ہوتا تھا ۔اسے لگا وہ ہیرے کو ٹھوکر مار کر چمکتے ہوئے شیشے کے ٹکڑے کو سنبھالتی رہی ۔

کتنی غیرت تھی دانیال میں ،سہاگ رات کو اس نے ایک حقیر رومال سہی مگر اپنی دلہن کو منہ دکھائی ضرور دی تھی ۔ اور حماد نے تو اس کے بھائی کا دیا تحفہ ہی اس کے منہ پر مارا تھا ۔مہر کی رقم اس کے بھائی نے بیس لاکھ لکھوائی تھی مگر اتنا تو وہ بھی جانتی تھی کہ یہ رقم بس دنیا والوں کو دکھانے کی خاطر ہی لکھوائی گئی ہے ورنہ حمادتوشاید بیس ہزار بھی نہ دے پاتا ۔ وہ مسکان سے دولت لینے آیا تھا دینے نہیں ۔

اسے یہ بھی یاد آیا کہ وہ کورٹ میرج کا کتنی شدت سے مخالف تھا ۔اور اس کی وجہ یقینا یہ تھی کہ اسے مسکان نہیں، اس کی دولت چاہےے تھی۔

”بات اب بھی نہیں بگڑی ،میں نے کون سا دوبارہ حماد سے شادی کر لی ہے ؟“

”مگر دانیال نے تو طلاق دے دی ہے؟اب اسے پانے کے لےے کسی اور سے شادی کرنا پڑے گی اور جب وہ طلاق دے گا تو پھر دانیال کے پاس جا سکوں گی ۔اور اگر وہ چمٹ گیا تو ….؟ نہیں نہیں میں دوبارہ اس جہنم میں نہیں اتروں گی۔ شادی ہی نہیں کروں گی ،ہونے والے بچے کے ساتھ ہی بقیہ زندگی گزار لوں گی بس بہت ہو گیا ،اب میں کسی کا کھلونا نہیں بنوں گی ؟“

”کاش !….میں نے دانیال سے طلاق لینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا ؟“اسے اپنے فعل پر پچھتاوا محسوس ہو ا۔اسے شدت سے دانیال کی یاد آئی ۔اس نے دانیال کو دئےے ہوئے گھر کی چابی اٹھائی اور ایک مرتبہ پھر گھر سے نکل آئی۔ اس کا رخ اس گھر کی طرف تھا جہاں اس نے اپنی زندگی کے چند بہترین دن گزارے تھے۔ وہ گھر جو حقیقی معنوں میں جنت تھا اور اب اپنے مکینوں کی راہ تک رہا تھا ۔کار گلی میں کھڑی کر کے وہ اندر گھس گئی ۔ ایک مانوس سی بو اس کی ناک سے ٹکرائی، ایک لمبا سانس لے کر اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔ تھوڑی دیر وہ اسی طرح کھڑی ماضی میں گم رہی اور پھر اپنا بیڈ روم ان لاک کر کے اندر گھس گئی ۔

”مشی !….کیا ہے یا ر کبھی دن کو بھی لیٹ جایا کرو ۔تھوڑا آرام کر لیا کرو ؟اکیلا پڑا تمھیں آوازیں دیتا رہتا ہوں۔“ دانیال کی شوخ آواز اس کی سماعتوں میں گونجی ۔

”اس آرام سے بے آرامی بھلی ۔“اپنے کہے الفاظ اسے بھولے نہیں تھے۔

”اف !….اتنی میٹھی چاے توبہ توبہ ۔“

”جھوٹا ….“کہتے ہوئے جانے کیوں اس کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہو جاتا تھا ، چہرہ گلاب کے پھول کی مانند کھل جاتا اور اس کا جی چاہتا وہ ایسے جھوٹ بولتا رہے اور وہ سنتی رہے ۔

بیڈ پر دانیال کا لباس پڑا تھا ۔وہ مسکان کی طرف سے دےے گئے لباس یہیں چھوڑ گیا تھا ۔ کپڑوں کو ہینگر میں ڈال کر اس نے الماری میں لٹکایا اور بیڈ پر لیٹ گئی ۔گزشتہ رات خواب آور ٹیبلٹس سے وہ گہری نیند سوئی تھی ،پھر دن کو بھی کافی دیر سوئی رہی تھی لیکن اس بیڈ میں جانے کون سا سکون مقید تھا ،کہ وہاں لیٹتے ہی اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔

”بس لیٹتے ہی سو گئی مشی صاحبہ !“

”آپ سارا دن سوئے رہتے ہیں اور مجھے رات ہی کو موقع ملتا ہے ؟“

”تو سو جایا کرو دن کو کسی نے منع کیا ہے کیا ؟“

وہ شرارت سے کہتی ۔”جب آپ دکان پر جایا کریں گے نا ؟….پھر سو یا کروں گی ۔“

”اب کیا ہے ؟“وہ پوچھنے پہ بہ ضد ہوتا ۔

وہ مسکرا کے کہتی ۔”اب پتا نہیں کیا ہے ۔لیکن بہ ہر حال سو نہیں سکتی ۔“

شام کی اذان اس کے کانوں میں پڑی اور وہ اٹھ گئی ۔وضو کر کے اس نے نماز پڑھی اور پھر وہاں سے نکل آئی ۔

حماد بڑی شدت سے اس کا منتظر تھا ۔

”کہاں رہ گئیں تھیں تم ؟“وہ بے تابی سے مستفسر ہوا ۔

”تھا ایک ضروری کام۔“وہ اس کے پاس رکنے کے بجائے اپنے بیڈ روم میں گھس گئی ۔وہ اس کے پیچھے چلا آیا ۔

”مسکان !….کیا بات ہے تم کچھ کھنچی کھنچی لگ رہی ہو؟“

”نہیں ،ایسی توکوئی بات نہیں ۔“

”مسکان !….میں تمھارے احساسات سے واقف ہوں ،مگر جان !….یہ ہماری مجبوری تھی ۔“ حماد نے اسے کندھوں سے تھامنے کی کوشش کی ۔

مسکان پیچھے ہوتے ہوئے بولی ۔”پلیز !….مجھے چھوا مت کریں ۔میں آپ کی بیوی نہیں ہوں ۔“

وہ کرسی سنبھالتے ہوئے ڈھٹائی سے بولا ۔”تو بن جاو¿ گی؟،طلاق ہو گئی ہے شادی بھی ہو جائے گی۔“

”یہ بعد کا مسئلہ ہے ۔“

”آج تمھارا موڈ کچھ زیادہ ہی خراب ہے ؟“حماد نے حسب سابق اسے اپنے غصے سے ڈرانا چاہا ۔

”پلیز ،مجھے اکیلا چھوڑ سکتے ہو ؟“وہ اس کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر بولی ۔

حماد کا دماغ بھک سے اڑ گیا ۔وہ ہرگز پہلے والی مسکان نہیں لگ رہی تھی ۔وہ خاموشی سے اس کے بیڈ روم سے نکل آیا ۔ مسکان کے تیور بتا رہے تھے کہ کوئی ان ہونی ہو گئی ہے ۔مگر وہ اتنی جلدی شکست تسلیم نہیں کر سکتا تھا ۔

٭……..٭

مسکان اسے گھر ڈراپ کر کے چلی گئی تھی۔جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو عصر کی اذان ہو رہی تھی ۔ اپنے کمرے میں گھس کر اس نے دانیال کا نمبر ڈائل کیا ۔

”جی فری بی بی !“

”دانی !….کہاں ہو اس وقت ؟“

”گھر میں ہوں ۔“

”تھانے سے کس وقت لوٹے ؟“

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”تمھیں کیسے پتا کہ میں حولات میں بند تھا ؟“

”حماد نے بتایا تھا ۔اور میں نے تمھیں خبردار کر تو دیا تھا ؟“

”مطلب ،میری گرفتاری میں حماد کا ہاتھ تھا ۔“

”ہاں ،سو فیصد۔“

”وہ آج اپنی صفائی دینے آیا تھا ۔“

”کون ….؟حماد…. ؟“فریحہ نے حیرانی سے پوچھا ۔

”ہاں ….کہہ رہا تھا ۔میری گرفتاری میں مسکان کا ہاتھ تھا ۔“

”غلط کہہ رہا تھا،اس بے چاری کو اس بات کا علم تمھاری ماں کی کال ملنے پرہو ا۔“

دانیال کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے ۔”فری !….سچ کہہ رہی ہو؟“

”ہاں ،مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی ۔اور یہ بتاو¿ تم نے طلاق کیوں دے دی ؟“

وہ حیرانی سے بولا۔”طلاق تو نہیں دی ۔تھانیدار نے کہا کہ تمھاری ضمانت ہو گئی ہے اس لےے ضمانت نامہ دستخط کر دو ۔ میںنے دستخط کر دےے بعد میں حماد وہی کاغذ لے کے پہنچ گیا کہ یہ طلاق نامہ تھا اور طلاق ہو گئی ہے ۔“

فریحہ جوش سے بولی ۔”میرا خیال ہے اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔اور یہی بات میں نے مسکان کو بھی کہی تھی کہ دانیال کبھی طلاق نہیں دے گا ؟“

”اس سے کب ملاقات ہوئی ؟“مسکان کے ذکر نے دانیال کے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی ۔

فریحہ رسان سے بولی ۔”ابھی تھوڑی دیر پہلے ۔“

”فری !….سچ بتاو¿ ،وہ ٹھیک تو تھی نا ؟….پریشان تو نہیں تھی ؟“

”دانی !….بس چند دن انتظار کرو ،ان شاءاللہ تمھیں ضرورکوئی خوش خبری سناو¿ں گی ۔“

”فری بی بی !….اب ساری امیدیں خاک میں مل گئی ہیں ۔وہ کیا کہتے ہیں ….؟

ع کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔“

”فری !….پرسے بھی اعتبار اٹھ گیا ہے ؟“فریحہ عجیب سے مان سے بولی ۔

”نہیں !….اس اندھیرے میں ایک تم ہی تو امید کی کرن ہو ۔“

”اچھا یہ بتاو¿ پولیس والوں نے تم پر تشدد تو نہیں کیا تھا ؟“

دانیال خاموش ہو گیا ۔

”دانی!…. بتاو¿ نا پلیز ؟“فریحہ ملتجی ہوئی ۔

”کہتے ہیں اپنوں کے ساتھ درد بانٹنے سے درد کی شدت میں کمی آتی ہے ،مگر جو تکلیف گزر چکی اسے زیر بحث لاناپیاروں کو گراں گزرے گا؟“

”جو پوچھا ہے اس کا جواب دو ۔“

”ہاں!….یہ پاکستانی پولیس تھی،۔اور میں ایک غریب مزدور ،کئی دفعہ بے ہوش ہوا ۔مگر طلاق نہیں دی میں نے۔ آخر ضمانت کے کاغذ کہہ کر طلاق نامہ دستخط کرایاگیا۔وہ بھی میں بغیر پڑھے دستخط نہ کرتا، مگر مجھے انگلش پڑھنا نہیں آتا۔اور وہ انگلش میں لکھا تھا ۔“

فریحہ حسرت سے بولی ۔”واقعی مسکان کی خوش قسمتی میں کلام نہیں ۔بہ ہر حال تم غم نہ کرو اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔آج مسکان سے میری بات ہوئی ہے ،تمھارے لےے اس کے دل میں نرم گوشہ موجود ہے ۔ اصل میں وہ بہت اچھی اور مخلص لڑکی ہے اور اس نے کسی کو زبان دی ہوئی ہے بس یہ بات اسے کھائے جا رہی ہے ۔“

”کس کو زبان دی ہوئی ہے ؟“

”حماد کے علاوہ کون ہو سکتا ہے ؟“فریحہ نے کہا ۔”اچھا فی الحال تم آرام کرو میں کوشش میں لگی ہوں، جیسے ہی کوئی اچھی خبر ملی میں تمھیں آگاہ کردوں گی۔“

”فری !….شاید میں تمھارے احسانوں کا بدلہ نہ چکا سکوں ۔“

”دوبارہ احسان کا نام نہ لینا اور اب آرام کرو ،خدا حافظ ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

٭……..٭

حماد کو لگا وہ بازی ہار رہا ہے ۔یقینا اس کے اور مسکان کے بیچ کوئی تیسرا دخل انداز ہو رہا تھا ۔ اور وہ تیسرا کون ہو سکتا تھا؟…. دو جمع دو چارکی طرح اس کا جواب واضح تھا ۔تیسری شخصیت فریحہ کی تھی ۔ لیکن فریحہ اور اس کے خلاف کوئی حرکت کرے یہ ناممکنات میں سے تھا ۔مگر اس کے علاوہ کوئی اور موجود ہی نہیں تھا جو اس ساری کہانی سے واقف ہوتا ۔

”شاید کسی تیسرے کے بغیر ہی مسکان بدل گئی ہو ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔

”یوں بھی عورت ذات ہے جس کی سوچ پنڈلی میں ہوتی ہے ۔اورعورت ذات کے لےے ترسے اس کالے کلوٹے کی باتوں کو بھلانے میں شاید دشواری پیش آ رہی ہو ۔امید ہے زیادہ دن اپنے حماد سے دور نہیں رہ پائے گی ۔ما بدولت کو ٹھکرانا اتنا بھی تو آسان نہیں ۔“اس نے اپنی شکل و صورت کو سراہا ۔اس وقت وہ یہ بھول گیا تھا کہ احساسات کا دارومدار شکل و صورت پرنہیں ،توجہ پر ہوتا ہے۔وہ توجہ ہی ہوتی ہے کہ ایک بے شعور اور معصوم بچے کو ماں کی گود کے علاوہ کہیں چین نہیں آتا ،ایک بے زبان اور عقل و شعور سے تہی دامن جانور اپنے مالک کے پاس بھاگا چلا جاتا ہے ۔

”اگر فریحہ سے بات کرلوں۔“اس نے موبائل فون نکالا مگرپھرایک دوسری سوچ نے اس کاارادہ ملتوی کر دیا۔”وہ الو کی پٹھی پیچھے پڑ جائے گی کہ میں سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف لوٹ جاو¿ں۔“

”تو پھر کیا کروں؟؟؟“

”چند دن انتظار کر کے دیکھ لیتا ہوں ،اگر سیٹھ زادی صاحبہ کے سر سے پیار محبت کا بھوت اتر گیا تو ٹھیک ہے ورنہ زیادہ کا لالچ چھوڑ کر آدھے ہی پر گزارا کرناہو گا ۔یوں بھی کون جانتا ہے کہ ہماری طلاق ہو گئی تھی۔ یا دانیال سے اس کی شادی ہوئی تھی ۔اگر دانیال نے گڑ بڑ کی کوشش کی تو اسے بھی مروا دوں گا ۔“

تسلی بخش تجویز نے اسے سوچوں کے گرداب سے نکالا اور وہ ڈائننگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔

٭……..٭

کھانااس نے بیڈ روم ہی میں منگوا لیا تھا ۔اور پھر کھانے کے دوران ہی فریحہ کی کال آگئی ۔

”باجی !….کیا ہو رہا ہے؟“

”کھانا کھا رہی ہوں ۔“

”اچھا یہ بتائیں؟اگر کسی کوکہا جاے کہ اس کاغذ پر سائن کرو یہ تمھارا ضمانت نامہ ہے۔وہ سائن کر دے بعد میں اسے پتا چلے کہ وہ طلاق نامہ تھا، کیا اس طرح طلاق ہو جائے گی؟“

”مولانا صاحب کہہ رہے تھے زبردستی بھی طلاق ہو جاتی ہے ۔اس طرح تو اس نے مرضی سے سائن کےے ہیں ، وہ پہلے پڑھ لیتا نا ؟“

”اگر مندرجات انگلش میں ہوں اور وہ انگلش پڑھ نہ سکتا ہو پھر ؟“

”مجھے مفتی صاحب سے رجوع کر نا پڑے گا ،تم ایک منٹ انتظار کرو میں ابھی پوچھ لیتی ہوں ۔“ مسکان نے رابطہ منقطع کر کے مفتی صاحب کا نمبر ڈائل کیا ۔

”اسلام علیکم !….“کال اٹینڈ ہوتے ہی مفتی صاحب کی بھاری آواز اس کی سماعتوں میں گونجی ۔

”وعلیکم اسلام !….مفتی صاحب ایک مسئلہ دریافت طلب ہے ؟“

”جی بیٹی !….پوچھو ؟“

”مفتی صاحب !….اگر پولیس والے کسی ملزم کو کہیں کہ یہاں دستخط کرو یہ تمھارے ضمانت کے کاغذات ہیں اور اصل میں وہ طلاق نامہ ہو تو کیا اس طرح طلاق ہو جائے گی ؟….یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ان کاغذات کے مندرجات انگریزی زبان میں ہیں اور مذکورہ آدمی انگلش نہیں پڑھ سکتا ۔“

”جس طرح آپ بتا رہی ہیں بیٹی !….ایسے طلاق نہیں ہوتی ۔“

”مگر آپ نے تو بتایاتھا زبردستی بھی ہو جاتی ہے ۔“

”ہاں ،مگر اس صورت میں طلاق دینے والے کو پتا ہوتا ہے کہ وہ طلاق دے رہا ہے ۔اور مسﺅلہ صورت میں وہ آدمی لاعلم ہے ۔جیسے روزہ دار اگر غلطی سے کھا پی لے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے ،مگر بھولے سے یا لا علمی کھا پی لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔“

”غلطی اور بھول میں کیا فرق ہے مفتی صاحب ؟“

”وضو کرتے ہوئے کلی کی ،روزہ یاد تھا مگر پانی غلطی سے نگل لیا ۔اسے غلطی کہتے ہیں ۔جبکہ روزہ یاد نہیں تھا اور پیاس لگی پیٹ بھر کر پانی پی لیا روزہ نہیں ٹوٹا ۔“

”مفتی صاحب !….اللہ تعالی ٰ آپ کو اجر دے ۔“سلام کہتے ہوئے اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔ اگلے لمحے وہ فریحہ سے بات کر رہی تھی ۔

”فری !….تمھیں یقین ہے نا بات اسی طرح ہوئی تھی؟“

”ہاں باجی !….دانیال نے اسی طرح بتایا ہے ،مزید تصدیق کے لےے آپ تھانے دار صاحب سے رابطہ کر سکتی ہیں ۔ “فریحہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔

”ٹھیک ہے کل اکھٹے چلیں گی ،مجھے پتا ہے وہ جس تھانے میں بند تھا ۔“

”باجی !….پرس میں کچھ پیسے بھی رکھ لینا ،یہ پولیس والے بڑے حرام خور ہوتے ہیں ۔“

”جانتی ہوں ،تم فکر نہ کرو ۔“

”مفتی صاحب !نے کیا بتایا ہے ؟“فریحہ نے اشتیاق سے پوچھا ۔

”ان کے مطابق ،اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔“

”باجی!…. یاد ہے میں نے کیا کہا تھا ۔دانیال آپ کو کسی صورت طلاق نہیں دے گا ۔چاہے اس کی گردن اڑا دی جائے ۔“

”اس یقین کی وجہ ؟“

”آپ کے ناروا سلوک کے بعد بھی وہ آپ کے بارے کوئی ایسی ویسی بات سننا پسند نہیں کرتا ۔ یقین کرو باجی ، میں نے بعد میں اسے سچے دل سے شادی کی پیش کش کی تھی ،مگر وہ خوب صورتی سے ٹال گیا ۔ تمھارے علاوہ اسے کوئی لڑکی بھی قبول نہیں ۔باجی !….یقین کرو اس نے کبھی مجھ پر غلط نگاہ بھی نہیں ڈالی ،کہتا ہے ان آنکھوں کو بس اپنی مشی کے دیدار کی خواہش ہے ۔اتنی محبت کرنے والا تھوڑی سی پٹائی کے بدلے ہار نہیں مان سکتا ۔اور پتا ہے پولیس والوں کی مار سے وہ کئی مرتبہ بے ہوش ہوا مگر طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوا ۔“

”بے وقوف !….“مسکان آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی مگر اس کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں کھل گئے تھے۔

”ہاں !….بے وقوف تو وہ ہے ۔محبت کرنے والے سارے بے وقوف ہی تو ہوتے ہیں ، ہمیشہ خسارے کی تجارت کرتے ہیں ۔منافع چھوڑ دیتے ہیں اور نقصان رکھ لیے ہیں ۔اس پاگل نے بھی کسی سے محبت کی ہے اور ٹوٹ کر کی ہے۔ اب کہاں پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔“

”بڑی طرف داری ہو رہی ہے ؟“مسکان ہنسی ۔

”باجی !….وہ ایک کھرا انسان ہے ۔کسی کا چہرہ اجلا ہوتا ہے ،اس کا دل اجلا ہے ۔“

”فری !….کل اکھٹے بیٹھ کر سارا لائحہ عمل طے کریں گے ۔تھانے سے اصل حقیقت پوچھ کر سوچیں گے کہ حماد کو کیسے جواب دیا جائے ۔“

”ہاں باجی !….اور اپنا خیال رکھنا اور محتاط رہنا ،کسی پر بھی اعتبار نہ کرنا ۔“

”میں سمجھی نہیں ،تم کیا کہنا چاہتی ہو ؟“

”باجی !….میں کہہ رہی ہوں اپنا خیال رکھنا ۔اور خیال رکھنے کا مطلب خیال رکھنا ہی ہوتا ہے ۔“

”اوکے جناب !….اب اجازت ؟“

”خدا حافظ باجی !“فریحہ نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

بستر پر لیٹتے ہی مسکان کی آنکھوں میں ہنستے مسکراتے دانیال کا چہرہ ابھرا اور اس نے سکون بھرے انداز میں آنکھیں بند کر لیں ۔

”بس چند دن میری جان ،تمھاری مشی تمھارے پاس ہو گی ،تمھارے سارے دکھ ،سارے زخم ، سارے غم سمیٹ لے گی ۔بس جتنی آزمائشیں آنی تھیں وہ بیت گئیں ۔میں ہار گئی تمھاری محبت جیت گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: