Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 21

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 21

–**–**–

انسپکٹر شہباز خان اپنے دفتر میں دو نقاب پوش خواتین کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔

”اسلام علیکم تھانے دار صاحب !….“ان میں سے ایک شیریں زبان میں بولی ۔

”وعلیکم اسلام !….بیٹھیں جی!….“اس نے کرسیوں کی طرف اشارہ کیا ۔

وہ دونوں بیٹھ گئیں ۔

”جی کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی ؟“لڑکیوں کودیکھ کر اس کے کرخت لہجے میں مٹھاس در آئی تھی۔

”تھوڑی سی معلومات لینا تھی انسپکٹر صاحب ؟“اس مرتبہ دوسری لڑکی نے اس کے کانوں میں رس انڈیلا۔ وہ دونوں لا محالہ فریحہ اور مسکان تھی۔

”جی !….پوچھیں ؟“

مسکان بولی ۔”تھانیدار صاحب !….پرسوں آپ کے تھانے میں ایک ملزم لایا گیا تھا جس سے طلاق لینا تھی ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس نے طلاق دے دی تھی ؟“

تھانے دار کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ایک دم سیدھا ہوا اور کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوئے بولا ۔

”اس سے آپ کا کیا رشتا ہے ؟“

فریحہ نے کہا ۔”رشتے کو چھوڑیں انسپکٹر صاحب !….جو سوال پوچھا ہے اس کا جواب دیں ۔“

”میرا خیال ہے میں سرکار کا ملازم ہوں ؟“تھانے دار نخوت سے بولا ۔یوں بھی جب تک اسے ان لڑکیوں کی اصلیت معلوم نہ ہو جاتی وہ اصل بات نہیں پھوٹ سکتا تھا ۔

”دیکھیں سر !….آپ ہمیں اصل بات سے آگاہ کریں اور اس کے بدلے غالباََ یہ ہدیہ کافی رہے گا؟“ مسکان نے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔

تھانیدار نے للچائی ہوئی نظروں سے نوٹوں کو دیکھا ۔اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا ۔

”بی بی کچھ پتا تو چلے نا؟….اس کا طلاق دینا آپ کو مطلوب ہے یا طلاق نہ دینا ؟“

”ہمیں حقیقت معلوم کرنا ہے ،سچ بتانا جھوٹ نہیں ۔ہر دو صورت یہ رقم آپ کی ہوگی۔“

چند لمحے سوچنے کے بعد وہ بولا ۔”بی بی ہم نے اس سے طلاق نامہ دستخط کرالیا تھا، لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ طلاق نامے پر دستخط کر رہا ہے ۔باقی زبانی طور پر ہم نے بڑی کوشش کی مگر وہ طلاق دینے پر راضی نہ ہوا ۔اتنی مار تو عادی مجرم بھی برداشت نہیں کرتے ۔“

”آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟“مسکان سے اپنی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ۔

تھانیدار صاف گوئی سے بولا۔”ہاں بی بی !….بالکل سچ کہہ رہا ہوں ۔اگر مجھے پتا ہوتا کہ کون سی بات آپ کے فائدے کی ہے ،تو میں ضرور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا۔مگر اب تو میں نہیں جانتا ،کہ آپ کا مطمح نظر کیا ہے ؟“

”شکریہ انسپکٹر صاحب !….“کہہ کر وہ دونوں کھڑی ہو گئیں ۔

”مبارک ہو باجی !“کار میں بیٹھتے ہوئے فریحہ بولی ۔

”بہت بہت شکریہ ۔“مسکان نے ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اسے ساتھ لپٹا لیا۔

”باجی !….خوش تو نا؟“

”تمھیں کیا لگتا ہے ؟“مسکان چہکی۔

”اللہ کرے ہمیشہ خوش رہو۔“فریحہ نے سچے دل سے اسے دعا دی۔

”تم بہت اچھی ہو۔“

”باجی !….آپ نہیں جانتیں مجھے۔“فریحہ دکھی ہو گئی۔

مسکان سنجیدگی سے بولی ۔”واقفیت کے لےے کسی لمبی رفاقت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔“

”اچھا !….اب کہاں چلنا ہے ؟“فریحہ نے موضوع بدلا ۔

”اب ،تمھیں گھر لے چلتی ہوں ۔“

”نہیں ،وہاں نہیں جانا ۔یہ نہ ہو ؟….حماد ہمیں اکھٹا دیکھ لے ۔“

”میں دوسرے گھر کی بات کر رہی ہوں ۔“

”دوسرا گھر کون سا ؟“فریحہ نے حیرانی سے پوچھا ۔

”جہاں میں اور دانی رہتے تھے ۔“مسکان نے حسرت سے کہا۔

”پھر ٹھیک ہے باجی !….“

تھوڑی دیر بعد وہ وہاں موجود تھیں ۔اندر داخل ہوتے ہی فریحہ بولی ۔

”کتنا پیارا گھرہے اور کتنا ویران لگ رہا ہے ؟“

”ہاں فری !….رونقیں تو مکینوں کے ساتھ ہی ہوتی ہیں ۔“

”ان شاءاللہ یہ پھر آباد ہو گا ؟“

”نہیں اب تو دانی بنگلے ہی پر رہے گا میرے ساتھ ؟“

”مطلب یہ غیر آبادہی رہے گا ؟“

مسکان ہنسی ۔”نہیں !….ہر ویک اینڈ پر ہم یہاں ماضی کھنگالنے آئیں گے ۔یقین کرو فری میں کل بھی آئی تھی ، اتنا سکون ملتا ہے یہاں ،اس قدر آرام اور خوشی کہ بیان سے باہر ہے ۔“

”باجی !….یہ دانیال کی وہ محبت ہے جو تمھارے دل کے نہاں خانوں میں چھپی ہوئی ہے ۔“

”نہیں ،چھپی نہیں ،بالکل ظاہر تھی ،بس میں نے زبردستی اسے چھپایا ہوا تھا ۔میں حماد سے کےے وعدے نہیں توڑنا چاہتی تھی ؟“

”ہونہہ !….وعدے ؟“فریحہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔”اسے کسی سے بھی محبت نہیں،بس اپنا مستقبل عزیز ہے ۔وہ دولت مند بننا چاہتا ہے ،کسی بھی طرح ، کسی بھی صورت میں ۔“

مسکان نے پوچھا۔”تو جب تک وہ دولت مند نہ بن جاتا ،تم اس کا انتظار کرتی رہتیں ؟“

”ہاں ،میں بھی آپ کی طرح اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آئی ہوئی تھی ۔“

”حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے دولت مند بننے کی کوشش ہی نہیں کی ۔بس فیکڑی میں جا کر تھوڑی دیر بیٹھ کر واپس آ جاتا ۔ اس کے بجائے وہ مجھ سے کچھ سرمایہ لے کر اپنا کاروبار شروع کردیتا تو شاید اب تک ترقی کی طرف اس نے کافی کچھ سفر کر لیا ہوتا ۔“

فریحہ کا دل چاہا کہ اس کی سادگی پر قہقہہ لگائے ۔اس بے چاری کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کتنے بڑے خطرے سے نکل گئی تھی ۔مگر وہ حماد کا یہ راز ظاہر نہیں کر سکتی تھی۔وہ جیسا بھی تھافریحہ کم از کم اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی تھی۔اسے سوچ میں گم دیکھ کر مسکان بولی ۔

”میرا خیال ہے چاے پی جائے ؟“

”ضرور ،مگر چاے آئے گی کہاں سے ؟“

”یہ میرا گھر ہے جناب ۔“مسکان نے مسکراہٹ بکھیری ۔

وہ دونوں اٹھ کر کچن میں آگئیں ۔چاے بناتے ہوئے مسکان کے دماغ میں دانیال کی شبیہ لہرائی اسے لگا وہ اس کے پیچھے کھڑا ہے۔

”دانی !….ہر وقت مذاق اچھا نہیں ہوتا ۔امی جان نے دیکھ لیا تو کیا کہیں گی ؟“

”یہ مذاق نہیں ہے مشی جی !….“وہ سنجیدگی سے کہتا اور مسکان کے چہرے پر حیا آلود مسکراہٹ بکھر جاتی ۔ اسے لگتا وہ اس کے چھپے ہوئے احساسات اور پوشیدہ جذبوں سے اچھی طرح آگاہ ہے ۔وہ جانتا ہے کہ کس ناں کا مطلب ہاں ہے اور کس ہاں کو نفی سمجھا جائے ۔

”باجی !….کن خیالوں میں کھو گئی ہو ؟“فریحہ کی آواز نے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر کھینچا ۔

”آں ….ہاں ….کچھ نہیں ۔“وہ گڑ بڑا گئی تھی۔

فریحہ نے ہنس کر کہا ۔”شاید دانیال کی یاد آ گئی ؟“

”ہاں !“مسکان نے شرمیلے لہجے میں اعتراف کیا ۔”وہ اسی طرح یاد آتا رہتا ہے ۔اور فری !….تم یقین کرو وہ میری ہر بات جانتا تھا ۔ہر احساس سے واقف تھا ،میرا کوئی جذبہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں تھا ۔مجھے وہ سچ مچ جادو گر لگتا تھا، اور پتا ہے؟ میں دل ہی دل میں اسے کالا جادوگر کہتی ہوں ۔ اور جانتی ہو اس نے مجھے طلاق کیوں نہیں دی ؟….یہ ممکن ہی نہیں کہ میں اس سے کچھ مانگوں اور وہ انکار کر دے ۔اصل بات یہ تھی کہ میں دل سے طلاق لینا ہی نہیں چاہتی تھی ۔اور دیکھ لو حماد کی ساری کوششوں کا کیا نتیجا نکلا؟“

”باجی !….آپ سچ مچ بہت خوش قسمت ہیں ۔دانیال واقعی بہت مخلص اور محبت کرنے والا انسان ہے۔اور آپ کے بارے تو اس کے دل میں جو کچھ ہے اس کے لےے تو کوئی لڑکی خواب ہی دیکھ سکتی ہے ۔وہ سچ مچ اس دور کا مجنوں ہے۔“

چاے کے کپ پکڑ کر وہ بیڈ روم میں آ گئیں۔مسکان نے کہا۔

”اب بتاو¿ کیا کیا جائے؟“

”میں کیا کہہ سکتی ہوں باجی !….آپ کی زندگی ہے اور آپ نے گزارنی ہے۔بس اتنا مشورہ دوں گی ، کہ دانیال تمھیں چاہتا ہے اور حماد کو صرف دولت چاہےے ۔“

”پاگل !….یہ تو طے ہو گیا نا، کہ میں اب دانی سے طلاق نہیں لینے والی ۔میں حماد کے بارے پوچھ رہی ہوں کہ اسے کیااورکیسے جواب دیا جائے ؟“

”یہ کون سا مشکل ہے ؟….ہر کسی نے اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے ۔اس نے خود تمھیں طلاق دی تھی ، اب اعتراض کیسے کرے گا ؟“

”بھائیوں کو کیا جواب دوں ؟وہ میری دانیال سے شادی کے متعلق کچھ نہیں جانتے ۔اس طرح ایک دم سب کچھ ہو جانا….“مسکان سچ مچ الجھ گئی تھی ۔

”ہاں ،یہ پرابلم تو ہے ۔ایسا ہے کہ پہلے حماد سے باقاعدہ طلاق نامہ سائن کراو¿ ،اس کے بعد عدت گزار کر دانیال سے شادی کرلو،مطلب لوگوں کے سامنے بہ ظاہر دوبارہ نکاح پڑھا لینا ۔“

”اور ہونے والے بچے کا کیا کروں گی ؟اس کا کیا جواز پیش کروںگی؟

”اوہ !….یہ پرابلم بھی تو ہے ۔“فریحہ بھی گہری سوچ میں کھو گئی ۔پھر چند لمحوں بعد بولی ۔

”ویسے حماد چاہے تو اس پرابلم کا حل نکل سکتا ہے ۔“

”وہ بھلا کیوں چاہے گا ۔میرے اس فیصلے کے بعد وہ ہمارا لےے کیسے کچھ اچھا سوچ سکتا ہے ؟“

”میرا خیال ہے دولت کی آفر اسے اس کام پر مجبور کر دے گی ۔بلکہ ایسا ہے میں بھی اس سے بات کرتی ہوں،شاید میری محبت کا بھرم رکھ لے ۔پہلے تو نہیں رکھا تھا لیکن آپ کی طرف سے صاف انکار اسے میری محبت کی طرف مائل کر دے گا ۔“

”تو پھر واپس چلتے ہیں ۔میں شام تک اس سے بات کر لوں گی ،شام کے بعد تم اس سے بات کر لینا۔“

”ٹھیک ہے باجی !….یہی بہتر فیصلہ ہے ۔“فریحہ نے کہا اور وہ وہاں سے نکل آئیں۔

٭……..٭

”آج تو ڈائننگ ٹیبل پر رونق چھائی ہے ؟“مسکان کو کھانے پر اپنا منتظر پا کر حماد چہکا ۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی جانب لوٹ آئی ہے ۔

”مسٹر حماد!….پلیز بیٹھیں ۔آپ سے ضروری بات کرنی ہے ؟“

”خیر تو ہے ؟….یہ کس لہجے میں مجھے مخاطب کیا جا رہا ہے ؟….میں تمھارا حادی ہوں مسکان !….“

”ماضی کو چھوڑو حماد صاحب !….میں نے تھانے دار سے معلوم کر لیا ہے۔ طلاق نہیں ہوئی ،اور اب میں طلاق لینا بھی نہیں چاہتی ۔“

”کیا ….کیا…. کیا ؟….تمھارا دماغ تو جگہ پر ہے نا ؟“پریشانی کے عالم میں اس سے اور کچھ نہ کہا گیا ۔

”ہاں ….دماغ ابھی جگہ پر آیا ہے ۔انجانے میں مجھ سے ایک بہت بڑ ا گنا ہ ہونے جا رہا تھا ۔یوں بھی ہمارا تعلق بہت واجبی سا تھا ۔ایسے تعلق کا ختم ہونا ہی ہم دونوں کے لےے مفید ہو گا ؟وہ کیا کہتے ہیں ….“

تعارف بوجھ بن جائے تو اس کا بھولنا بہتر

تعلق روگ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا

وہ افسانہ جسے تکمیل دے دینا ہو ناممکن

اسے اک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

”مسکان !….میں تمھیں چاہتا ہوں ؟“حماد اتنی جلدی ہار ماننے کے لےے تیار نہیں تھا ۔

مسکان رسان سے بولی۔ایک ایسا مرد جو اپنی بیوی کو غیر کی جھولی میں پھینک دے اس کے منہ میں پیار و محبت جیسے الفاظ نہیں جچتے ۔“

”کیا چاہتی ہو ؟“اس مرتبہ حماد کا لہجہ بدلا ہوا تھا ۔

”دانیال سے شادی کر نا چاہتی ہوں ،بلکہ سوری ،شادی تو ہماری ہو چکی ہے بس دنیا کے سامنے اس شادی کا اعلان کرنا چاہتی ہوں ۔“

”میرا خیال ہے یہ اتنا آسان نہیں ہو گا ؟“حماد کے لہجے میں شامل سختی مسکان کے لےے حیران کن تھی۔ یہ تو وہ جانتی تھی کہ حماد احتجاج کرے گا مگر یوں بیگانے دشمن کا سا لہجہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا ۔

”کون روکے گا مجھے ؟“وہ بھی ترش ہو گئی ۔

”میں ….تمھارا شوہر حماد روکے گا تمھیں! ….اس بے حیائی سے ۔پہلے مجھ سے طلاق تو لے لو ؟“

”تم مجھے طلاق دے چکے ہو ؟“مسکان چلائی ۔

”کب ؟….کوئی گواہ ،دستاویزی ثبوت ۔“

”میرے پیٹ میں جو بچہ ہے ڈی این اے ٹیسٹ سے پتا لگانا مشکل نہیں کہ وہ کس کا ہے ؟“

حماد زہر خند لہجے میں بولا۔”اس سے یہ کب ثابت ہو گا کہ بچے کا باپ تمھارا شوہر بھی ہے ۔ اس سے تو فقط تمھاری بدکاری ظاہر ہوتی ہے ۔میری آنکھوں میں دھول جھونک کر تم جانے کس یار کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہی ہو ؟“

”شٹ آپ !….“مسکان چلائی ۔

”یو شٹ آپ !….مس سیٹھ زادی ،یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔اگر تم نے عدالت سے رجوع کر کے خلع لینے کی کوشش کی تو یاد رکھنا میں تمھارے مرے باپ کی عزت کا سرِ عام جنازہ نکال دوں گا ۔آج کا میڈیا بہت تیز ہے ۔ تمھارے پاس نہ تو طلاق کے گواہ موجود ہیں نہ دوسر ی شادی کا کوئی ثبوت ہے ۔کسی غیر سے پہلے اپنے بھائی تمھاری گردن کاٹنا پسند کریں گے ۔میں فقط اپنے بانجھ پن کا سرٹیفیکیٹ پیش کروں گا؟آگے تم خود جانتی ہو کیا ہوگا ؟“

مسکان کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا ۔اسے لگا جس کام کو وہ آسان سمجھ رہی تھی وہ بہت مشکل ثابت ہونے والاہے ۔وہ گہری سوچ میں گم ہو گئی ۔ چند لمحے بعد بولی ۔

”حماد !….تمھیں کیا قیمت درکار ہے ؟“

”کوئی قیمت نہیں ….تم دانیال سے طلاق لے کر دوبارہ مجھ سے شادی کرو اور بس اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں ۔“یہ کہہ کر وہ اٹھ گیا ۔ مسکان بھی اپنی خواب گاہ میں آگئی ۔مسئلہ بہت گھمبیر ہو گیا تھا ۔سب سے بڑھ کر حمل کا مسئلہ تھا ۔ حماد اسے آسانی سے بدکار ثابت کر سکتا تھا ۔اس مسئلے کا ایک ہی حل تھا اور وہ تھا، ابارشن۔اس کے علاوہ وہ حماد سے چھٹکارا نہیں پا سکتی تھی ۔فریحہ کا نمبر ڈائل کر کے وہ اسے صورت حال سے آگاہ کرنے لگی ۔

٭……..٭

حماد کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں ۔وہ جیتی ہوئی بازی ہار رہا تھا ۔اپنے تیئں اس نے مسکان کو دھمکی دے دی تھی مگر وہ اپنے بھائیوں کو اعتماد میں لے کر ساری صورت حال سے آگاہ کر دیتی تو اس کے لےے بہت بڑی مشکل کھڑی ہو جاتی ۔سیٹھ فہیم اور وسیم سے ٹکر لینا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔

وہ اسی سوچ میں گم تھا کہ فریحہ کی کال آنے لگی ۔اس سارے بکھیڑے میں اسے فریحہ کا ہاتھ بھی نظر آ رہا تھا ۔ اس نے کال اٹینڈ کےے بغیر کاٹ دی ۔فریحہ نے چند بار ٹرائی کی اور پھر خاموش ہو رہی ۔

وہ رات حماد نے کانٹوں پر لوٹتے گزاری ۔ساری رات وہ اس مسئلے کا حل تلاش کرتا رہا ۔ صبح وہ ناشتا کےے بغیر گھر سے نکل آیا ۔اسے کامران کی تلاش تھی جو میٹرک تک اس کا کلاس فیلو رہا تھا اور اس کے بعد غربت نے اسے پڑھنے کا موقع نہیں دیا تھا اس کا والد ایک مزدور تھا لیکن اس نے مزدوری کے بجائے دوسرا رستا اختیار کیا تھا ۔اور وہ تھا جرم کا رستا۔کامران کے ایک مخصوص دوست کے بارے وہ جانتا تھا ۔اس کی کار کا رخ اسی ہوٹل کی طرف ہو گیا جہاں اسے کامران کا ایڈریس مل سکتا تھا ۔

حماد تھرڈ ائیر میں تھا جب ایک دن کامران اسے قیمتی کار ڈرائیو کرتا ہوا ملا ،اس وقت وہ کامران کے بجائے ”کامی خنجر“ تھا ۔حماد اس دن یونیورسٹی بس کے چھوٹ جانے پر پیدل گھر جا رہا تھا ۔ اچانک ایک قیمتی کار اس کے قریب آن رکی تھی اور پھر کامران کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا ۔

”ارے کامران تم!…. اور یہ کار کس کی ہے ؟“

”میری ہی ہے یار !….“اس کے بیٹھتے ہی کامران نے کار آگے بڑھا دی تھی ۔

”مگر ….؟“

”مگر یہ کہ اس کے لےے مجھے اپنے نام کی قربانی دینی پڑی۔ آج کل میں کامی خنجر ہوں ، ایک نامی گرامی مجرم ، پولیس کو کئی کیسزمیںمطلوب ہوں ۔مگر تمھیں حیرانی ہو گی کہ ا بھی میں ایک تھانیدار کے ساتھ لنچ کر کے آ رہا ہوں ۔“

”یار بڑی ترقی کر لی ہے؟“حمادکے لہجے میں ستائش تھی ۔

”ہاں ….اور تم بھی مجھے جوائن کرسکتے ہو ۔“اس نے فوراََ آفر کر دی ۔

”نہیں یار !….بڑی مہربانی،میں یوں ہی ٹھیک ہوں۔“

وہ ہنسا۔”ڈر گئے ۔“

”نہیں !….لیکن میں اس فیلڈ چل نہیں سکتا ۔“

”ہاں جانتا ہوں ….یوں ہی مذاق کر رہا تھا ۔“

اسے گھر کے سامنے ڈراپ کر کے اس نے کہا تھا ۔”اگر کبھی میری ضرورت پڑے تو ضرور آواز دینا۔“

حماد نے کہا ۔”اپنا سیل فون نمبر تو دے دو ؟“

”نہیں میرا سیل فون نمبر اور ایڈریس بدلتا رہتا ہے ۔اگر کبھی میری ضرورت پڑے تو محلہ لنگی شاہ میں تھری ٹو ون ہوٹل کے منیجر سے میرا ایڈریس پوچھ لینا وہ میرا دوست ہے ۔“

اپنی کار تھری ٹو ون ہوٹل کی پارکنگ میں روکتے ہوئے حماد استقبالیہ کی طرف بڑھ گیا ۔ جہاں ایک خوب صورت عورت براجمان تھی ۔اس سے رہنمائی لے کر وہ تھوڑی دیر بعد منیجر کے کمرے میں تھا ۔

”جی سر !….آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“ادھیڑ عمر منیجر شائستگی سے مستفسر ہوا ۔

وہ بغیر کسی تمہید کے بولا ۔”مجھے کامران بھائی کا سیل فون نمبر یا ایڈریس مل جائے گا ؟“

”کامران ….؟“

”جی ،کامران ….جو آپ کے لےے غالباََ کامی خنجر ہے ۔“

”آپ کا تعارف ؟“منیجر کے لہجے میںشکوک کی پرچھائیاں لرزیں ۔

”حماد ….وہ کلاس فیلو ہے میرا ۔“اس نے اپنا نام بتا کر کامی سے اپنے تعلق کی وجہ بھی بتا دی۔

”پلیز آپ تشریف رکھیں ۔“اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ اندرونی کمرے کی طرف چل پڑا اس کی واپسی چند منٹ بعد ہوئی ۔

”حماد صاحب !….وہ تھرڈ فلور کمرہ نمبر فورٹی فائیو میں موجود ہے ۔آپ انھیں وہیں مل لیں ۔“

”تھینکس۔“ کہہ کر وہ باہر نکل آیا ۔مطلوبہ کمرے میں کامی اسے منتظر ملا ۔

”سنا بھئی پڑھاکو شاہ !….کیسے یاد کیا ہم مجرموں کو ؟“پرتپاک انداز میں اسے گلے سے لگاتے ہوئے کامی نے پوچھا ۔

”کامران بھائی !….ایک کام آن پڑا تھا ۔“

وہ ہنسا ۔”کوئی مرڈر وغیرہ کرانا ہے کیا ؟“

”ہاں ۔“وہ سنجیدگی سے بولا ۔

”ارے واہ !….میں نے تو مذاق کیا تھا ۔خیر بتاو¿ کون ہے وہ ؟“

حماد نے جیب سے مسکان کی تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔

”ارے ظالم !….ایسی لڑکی بھی بھلا قتل کی جاتی ہے ۔کیا چکر ہے ؟کوئی محبت وغیرہ ….؟ دھوکا دہی کی کارروائی؟آخرکیوں پھول ایسی لڑکی کے پیچھے پڑ گئے ہو ؟“

”اسے اغواءکرنا ہے ۔اور اس کے بھائیوں سے تاوان مانگنا ہے ۔تاوان ملے یا نہ ملے آپ نے اسے قتل کر دینا ہے ۔لیکن کوشش کرنا ہے کہ اس کے بھائیوں کی کسی غلطی کو آڑ بنا کر یہ کام کیا جائے ،میرا مطلب اس کے قتل سے ہے ۔“

”تاوان کے بغیر قتل کر دیا تو مجھے کیا حاصل ہو گا ؟“اس بار کامی کا لہجہ سراسر کاروباری تھا ۔

”دس لاکھ ۔پانچ کام سے پہلے ۔“حماد نے جیب سے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔ ”پانچ کام کے بعد ۔“

”کوئی اتا پتا ؟“

”یہ مرحوم سیٹھ داود کی بیٹی اور سیٹھ فہیم اور سیٹھ وسیم کی بہن ہے ۔شاید نام سنا ہو گاآپ نے؟“

اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ بولا۔”ایک غیر متعلقہ بات ،صرف اس لےے پوچھ رہا ہوں کہ آپ میرے کلاس فیلو رہے ہیں ۔قتل کرانے کی وجہ جان سکتا ہوں ؟“

چند لمحے سوچنے کے بعد حماد بولا ۔”یہ میری بیوی ہے ۔اور میں اس کی جائیداد کا وارث ہوں ۔“

”ہا….ہا….ہا۔“کامی نے بلند بانگ قہقہہ لگایا۔”واہ رے پڑھاکو شاہ !….تو ہم سے بھی تیز نکلا؟“

”تو کب تک کام ہو جائے گا ؟“حماد نے شرمندہ ہوئے بغیر پوچھا ۔

”کل تک یہ بلبل ہمارے ہاتھ میں ہو گی ۔اور ہاں ،اگر ہم کوئی شغل میلہ کرنا چاہیں ؟…. تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ؟“

”نہیں ۔“وہ گھٹیا پن سے بولا ۔”میری طرف سے کھلی چھوٹ ہے ۔بس مجھے چند دن کے اندر اس کی لاش چاہےے ہو گی ۔لاش کے وصول ہوتے ہی آپ کے بقایا پانچ لاکھ مل جائیں گے۔اگر تاوان کی کوئی رقم لے سکو تو وہ آپ کا بونس ہو گیا۔“یہ کہتے ہی وہ جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔

”بیٹھو نا ؟….کوئی ٹھنڈا گرم تو پوچھا ہی نہیں آپ سے ۔“کامی نے اسے روکنے کی کوشش کی ۔

”نہیں پھر کبھی سہی ۔“اس نے الوداعی مصافحے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔اور پھرجیسے اچانک اسے یاد آیا اور وہ بولا۔ ”یاد آیا…. سیٹھ زادی نقاب بھی اوڑھتی ہے ۔“

” آپ جائیں جناب !….اب یہ ہمارا کام ہے ۔“کامی نے کہا ۔اور حماد سر ہلاتا ہوا وہاں سے نکل آیا ۔

٭……..٭

”باجی !….وہ میری کال اٹینڈ ہی نہیں کر رہا ؟“مسکان کو فریحہ کی پریشان کن آواز سنائی دی ۔

”پر کیوں ؟“مسکان کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا تھا ۔

”کیا کہہ سکتی ہوں ؟….ہو سکتا ہے اسے اس سارے معاملے میں میرا ہاتھ نظر آرہا ہو؟….بلکہ دیکھا جائے تو واقعی میں اس کی ذمہ دار ہوں ۔“

”اس کی محبت کہاں غائب ہوگئی ؟“

”آپ کوبتایا تو تھا۔پہلے وہ اپنے مستقل کا سوچتا ہے پھر محبت کی باری آتی ہے ۔وہ ہمیشہ دماغ کی سنتا ہے ۔“ فریحہ کی آواز میں شرمندگی تھی ۔

”فری !….میں اس کا مطالبہ پورا نہیں کر سکتی ۔اب اس کے ساتھ ایک پل بتانا بھی کارِدار ہے۔یقین کرو، رات اس کے لہجے میں ایسی اجنبیت اور روکھا پن تھا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔“

”خیر !….یہی دعوا، وہ آپ کے متعلق بھی کر رہا ہو گا ۔آخر آپ نے بھی تو اسے ہری جھنڈی دکھادی ہے ؟“

”میں نے فقط حقیقت حال بیان کی تھی ،جب ہم ایک نہیں ہو سکتے اور میں کسی دوسرے کی بیوی ہوں تو اس بات پر چراغ پا ہونے کی کیا تُک ہے ؟“

”باجی !….کسی دوسرے کی بیوی تو آپ ایک منصوبے کے تحت بنی تھیں ۔“

”فری !….تم مجھے غلط ثابت کرنے پر تلی ہو ؟“

”نہیں ،صرف حقیقت سے پردہ اٹھا رہی ہوں ۔ایک ایسا آدمی جسے کامیابی چند قدم پر نظر آ رہی ہو اور اچانک اسے پتا چلے کہ جسے وہ منزل سمجھ رہا تھا وہ رستا کھو جانے کا نشان ہے ۔آپ خود سوچیں اس پر کیا گزرے گی ۔میں صبح آو¿ں گی آپ کی طرف ۔ شاید اس سے بالمشافہ ملاقات کرنے پر کوئی بہتری کی صورت نکل آئے ؟“

مسکان نے کہا ۔”نہیں پھر ایسا ہے کہ کل ڈنر ہمارے ساتھ کرو ۔“

”ٹھیک ہے باجی !“کہہ کر فریحہ نے رابطہ منقطع کر دیا۔

٭……..٭

”بیٹا !….طبیعت کیسی ہے اب ؟“عائشہ نے دانیال کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔

” ٹھیک ہوں ماں جی !“دانیال نے ماں کو تسلی دی ۔گو اس کے جسم کا جوڑ جوڑ درد کر رہا تھا مگر یہ بات ماں کو بتانا اسے تکلیف دینا ہی تھا ۔

”بیٹا!….اگر ہو سکے تو فیکٹری سے کچھ رقم ایڈوانس لے آو¿ ۔گھر میں کھانے کو کچھ بھی موجود نہیں ہے ۔ بعد میں آہستہ آہستہ واپس کر دینا۔“

”مگر میں اس دن ….ایڈوانس لے تو آیا ……..“اچانک اسے یاد آیا کہ وہ رقم تو پولیس کے قبضے میں تھی ۔دانیال نے سختی سے ہونٹ بھینچ لےے ۔ ”ٹھیک ہے ماں جی میں لے آتا ہوں ۔“

”بیٹا !….بات کیوں بدل دی ۔تم پہلے کچھ اور کہہ رہے تھے ؟“

”ہاں ماں جی !….جس دن جھگڑا ہوا تھا اس دن بھی میں کچھ ایڈوانس رقم لا رہا تھا مگر وہ پولیس والوں نے رکھ لی ،مالِ غنیمت سمجھ کر ۔“

”ان سے تو اللہ پوچھے گا ……..“عائشہ خاتون پولیس والوں کو کوسنے لگی ۔

دانیال ہمت کر کے اٹھ گیا ۔دوپہر کے دس بج رہے تھے ۔گھر سے نکل کر وہ سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگا۔کون سا ایسا دوست تھا جس سے وہ کچھ قرض مانگ سکتا۔ایک مرتبہ تو اس نے سوچا کہ وہ فریحہ سے مانگ لے مگر پھر اسے شرم آڑے آگئی ۔ایک لڑکی سے وہ کیوں کرادھار طلب کرتا ،جبکہ وہ بے روزگار بھی تھی ۔

آخر کار اس نے اپنے دوست انور سے مدد طلب کرنے ارادہ کیا اور سٹیل مل کی جانب بڑھ گیا ۔اس وقت اس نے وہیں ہونا تھا ۔کرایے کے نام پر اس کی جیب میں پھوڑی کوڑی بھی نہیںتھی ۔ اسے پیدل ہی وہاں تک جانا تھا ۔اللہ پاک کا مبارک نام لے کر وہ چل پڑا ۔سٹیل مل تک پیدل چلنا اس کے لےے مسئلہ نہیں تھا مگر پولیس والوں کے وحشیانہ تشدد کے بعد یہ آسان کام بھی اس کے لےے مشکل ترین بن گیا تھا ۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ آہستہ آہستہ چلتا رہا ۔رستے میں کبھی کبھی وہ ایک دو منٹ کے لےے رک کر آرام بھی کر لیتا تھا ۔اس نے آدھے سے زیادہ سفر طے کر لیا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا ۔ موبائل سکرین پر مشی کا نام دیکھ کر اس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا ۔

٭……..٭

رات کو وہ ڈنر نہیں کر سکی تھی مگر اس کے باوجود صبح اس نے چاے کے ساتھ کچھ لینا پسند نہ کیا ۔اس کی بھوک ہی مر گئی تھی ۔چاے پی کر وہ کچھ دیر باغ میں ٹہلتی رہی ۔جب زیادہ جی گھبرایا تو گھر سے باہر نکل آئی اس کا رخ اسی جنت کی طرف جہاں اسے دلی سکون ملتا تھا ۔وہ چھوٹا سا گھر گویا چین وآرام کا مرقع تھا ۔

وہ گھر سے تھوڑی ہی دور آئی تھی کہ ،اسے فٹ پاتھ پر دانیال نظر آیا ۔وہ سر جھکائے جانے کہاں جا رہا تھا ۔ اس کے سستی سے اٹھنے والے قدم اس کی جسمانی حالت کا پتا دے رہے تھے ۔اس نے بے ساختہ انڈیکیٹر دے کر کار سائیڈ پر لے جا کر روک دی ۔ اگلے لمحے وہ موبائل نکال کر اسے کال ملانے لگی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: