Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 22

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 22

–**–**–

وہ ٹھٹھک کر رکا اور اگلے لمحے اس کی رندھی ہوئی آواز رسیور سے برآمد ہوئی ۔

”جی….؟“

اس” جی “میں جانے کتنی سسکیاں ،آہیں ،گلے ،شکوے ،التجائیں ،امیدیں اور حسرتیں مقید تھیں ۔

”دانی !….پیچھے مڑ کر دیکھو،میں چند قدم کے فاصلے پر کار میں بیٹھی ہوں ،میرے پاس آ جاو¿۔“

دانیال سرعت سے مڑا ۔مسکان کی کار پہچاننے میں اسے کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔یہ وہی کار تھی جس پر وہ اپنی جانِ حیات کے ساتھ ہنی مون منانے گیا تھا ۔وہ نپے تلے قدم رکھتا قریب پہنچا ۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوچ سرگرداں تھی۔ کہ…. ”جانے اس نے کس لےے یوں سر راہ آواز دی ہے۔“

”بیٹھو ۔“اس کے قریب پہنچتے ہی مسکان نارمل لہجے میں بولی۔

دانیال خاموشی سے بیٹھ گیا ۔مسکان نے کار آگے بڑھا دی ۔کار کے ائر کنڈیشنڈ ماحول میں اسے ٹھنڈک کا احساس ہوا مگر یہ اس ٹھنڈک سے بہت کم تھی جو مسکان کے پکارنے پر اس کے دل کو پہنچی تھی۔

”کہاں جا رہے تھے ؟“مسکان کی شیریں آواز نے اس کے کانوں میں رس انڈیلا ۔

”سٹیل مل ۔“

”کیوں ….میرا خیال ہے تمھاری جسمانی حالت اس قابل نہیں کہ مزدوری کر سکو ۔“ مسکان نے سرسری انداز میں بات آ گے بڑھائی ۔وہ اندازہ لگانا چاہتی تھی کہ آیا وہ اس سے کتنا خفا تھا ۔ چند دنوں میں ہی ان کے درمیان بہت بڑی خلیج حائل ہو گئی تھی ۔ کیونکہ بہ ظاہر جدائی کی گھڑیاں چند دنوں پر مشتمل تھیں مگرمسکان کو یہ عرصہ صدیوں پر محیط لگ رہا تھا ۔

دانیال آہستہ سے بولا ۔”دوست کو ملنے جا رہا تھا ۔“

”تو ٹیکسی، رکشا کرا لیتے؟“

”خیال ہی نہیں آیا ۔“دانیال کرایہ نہ ہونے کی بات گول کر گیا ۔

”خیال نہیں آیا ….یا پیسے نہیں تھے ؟“مسکان نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا ۔

”پیسے نہیں تھے ۔“وہ صاف گوئی سے بولا ۔جواباََ وہ خاموش رہی۔دانیال بھی گو مگو کی کیفیت میں بیٹھا رہا ۔ یہاں تک کہ وہ گھر کے سامنے پہنچ گئی ۔وہ نیچے اتری ،دانیال بھی اس کی تقلید میں نیچے اترا۔

کار لاک کر کے وہ گھر کا دروازہ کھولنے لگی ۔

”آئیں ۔“اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے کار کے ساتھ کھڑے دانیال کو پکارا ۔

وہ اس پیچھے اندر داخل ہو گیا ۔اس بہشت سے بے دخل ہوئے اسے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود یہ عرصہ اسے بہت طویل لگ رہا تھا ۔ خواب گاہ کادروازہ کھو ل کر وہ اندر گھس گئی وہ بھی سحر زدہ سا اس کے پیچھے چلا آیا ۔

وہ پیچھے مڑی ۔اور پوچھا ۔

”دانی خفا ہو ؟“گو وہ دانیال کا جواب جانتی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ وہ دیوانہ اس سے خفا ہی نہیں ہوسکتا تھا، اس کے باوجود وہ پوچھنے سے باز نہ آ سکی ۔

دانیال نفی میں سر ہلا کر رہ گیا ۔مسکان نے گاو¿ن اتار دیا ۔دانیال ایک ٹک اسے گھورے جا رہا تھا ۔ مسکان نے ایک بار نظر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا مگر ان آنکھوں سے پھوٹتی بے پایاں چاہت کا سامنا نہ کر سکی اور شرما کر سر جھکا لیا ۔

”ہاں اسے محبت کہتے ہیں ۔“اس کے اندر سے آواز آئی ۔”یہ ہوتی ہے چاہت ،کہ زبان کا کام بھی آنکھیں سنبھال لیتی ہیں ۔“

”آو¿ بیٹھو ۔“مسکان نے اس کا کھردرا ہاتھ تھاما ۔اور اس کے ساتھ اس کے دل میں جانے پہچانے جذبے ہلکورے لے کر بیدار ہو گئے۔کھلی آنکھوں میں اس خواب گاہ کے اندر گزرے دن فلم کی طرح چلنے لگے ۔

دانیال نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر آنکھوں سے لگایا اور پھر ہتھیلی کی پشت چومتا ہوا بولا ۔

”مشی !….میری جان ،میرا خیال ہے میں خواب دیکھ رہا ہوں ؟“

مسکان نے کہا ۔”نہیں ،یہ تعبیر ہے ۔“وہ بیڈ پر بیٹھ گئے ۔

”مشی !….ایک بات پوچھوں ؟“

”پوچھو ؟“

”تم اب بھی میری بیوی ہو نا؟….میری شریک حیات ہو نا ؟۔ انجانے میں طلاق نامہ دستخط کرنے سے طلاق تو نہیں ہوتی نا ؟“اس کے لہجے میں ہزاروں اندیشے پنہاں تھے ۔

”ہاں میں تمھاری بیوں ہوں ،تمھاری شریک حیات تھی اور ہوں ۔اور اس طرح طلاق نہیں ہوتی ۔اگر طلاق ہوئی ہوتی تو مسکان تمھیں یہاں نظر نہ آتی ؟“ مسکان کے لہجے میں امڈتی چاہت دانیال کو حیرا ن کر گئی تھی۔

”مشی !….“وہ چیختے ہوئے بے قابو ہو گیا تھا ۔پھر الفاظ نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ۔محبت کی انتہا میں عموماََ زبانیں گنگ ہو جایا کرتی ہیں ۔اس نے مسکان کو اپنی جانب کھینچا ۔وہ مقناطیس کی طرح اس کے ساتھ چمٹ گئی تھی ۔ جانے کب سے وہ ان لمحات کے سپنے دیکھ رہی تھی ۔پھر بہت ساری دیر گزر گئی ۔وہ یقناََ اذان کی آواز تھی ۔دانیال اس کے بازو پر سر رکھ کر سو گیا تھا ۔وہ خود بھی غنودگی کے عالم میں تھی ۔اذان کی آواز سن کر وہ کسمسائی ۔

”دانی !….اٹھو نماز نہیں پڑھنی ؟“اس نے دانیال کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔

”امی جان !….امی جان !….دیکھو نا ؟مشی ادھر ہی ہے ۔“وہ ہڑ بڑا کر اٹھا اور چلانے لگا ۔

”اے دانی !….ہوش میں آو¿۔“مسکان کے جھنجوڑنے پر وہ چونک گیا ۔چند لمحے اس کی طرف حیران نظروں سے گھورنے کے بعد اس کے چہرے پر چھائی وحشت کم ہوئی اگلے لمحے وہ اس سے لپٹ گیا ۔

”مشی ….مشی ….مشی !….تم یہیں ہو نا ؟….ہاں تم یہیں ہو ،تم تو ہمیشہ سے میرے پاس ہی ہوتی ہو ، بس کبھی کبھی مجھے تنگ کرنے کے لےے لحظہ بھر کے لےے اوجھل ہوتی ہو ،ورنہ تم مجھ سے کب دور ہوئی ہو ؟“

اس نے چاہت سے پوچھا ۔”دانی !….کیوں بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو ۔“

”پتا ہے مشی !….ہمیشہ اذان کے وقت تم مجھے جگانے آتی تھیں ۔تمھارا گیلا ہاتھ میں اپنے ماتھے پر محسوس کرتا اور پھر تم چھپ جاتیں ،میں آوازیں دیتا مگر تم جواب نہ دیتیں ،امی جان مجھے سمجھاتی تھیں کہ تمھاری مشی نہیں آئی ۔مگر جانتا تھا امی کو پتا نہیں ہے ۔تم آیا کرتی تھیں نا ؟“اس نے بچوں کی سی معصومیت سے پوچھا ۔

مسکان کی آنکھوں میں نمی ابھری اور وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی ۔

”ہاں ،میں ہمیشہ سے تمھارے پاس ہی تو تھی ۔“

”پاس ہی رہنا جانِ حیات !….پاس ہی رہنا ۔نہیں تو میں نہیں رہوں گا ۔“

”چپ !….ایسی باتیں نہیں کرتے ۔“مسکان نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔

”یہ سچ ہے مشی !….“

”اچھا!…. یہ گپ شپ بعد میں ہو گی، پہلے نماز پڑھو ۔“اور وہ سر ہلاتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔ نماز پڑھ کر مسکان کو سخت بھوک کا احساس ہوا ۔

”دانی !….مجھے تو بھوک لگی ہے ۔“

دانیال نے جواب دیا ۔”مجھے بھی ۔“

مسکان نے مشورہ دیا ۔”تو چلیں !….کسی ہوٹل میں کھا لیتے ہیں ۔“

اس نے مسکان کے کومل ہاتھ تھام کر کہا ۔”نہیں !….تم خود بناو¿….کتنی صدیوں سے ان ہاتھوں کی پکی روٹی نہیں کھائی ۔“

”کیا ….کیا…. کیا ؟یہ صدیوں کہاں سے آ گئیں محترم!….؟“مسکان نے آنکھیں نکالیں۔

وہ اطمینان سے بولا ۔”تم سے دور ہونے پر ایک منٹ ایک سال کے برابر لگتا ہے ۔باقی کا حساب خود لگا لو،میری تعلیم یوں بھی نہ ہونے کے برابر ہے ؟“

”اچھا ایسا ہے ،میں روٹیاں بناتی ہوں۔ آپ سالن لے آئیں ڈراما باز کہیں کے ۔“ مسکان نے کہا۔ آج وہ تن من دھن سے خود کو دانیال کا محسوس کر رہی تھی ۔اس کا محبت بھرا انداز دانیال کی روح تک کو سرشار کر رہا تھا ۔

”اچھا ٹھیک ہے جاتا ہوں ۔لیکن تھوڑی دیر ہو جائے تو گبھرانا نہیں ۔“

”دیر کیسی !….؟“

دانیال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”وہ دراصل ہوٹل والے پیسے لے کر سالن دیتے ہیں ۔تو پہلے تو بھیک مانگ کر اتنی رقم اکٹھی کرنے پڑے گی نا کہ، دو آدمیوں کا سالن خرید سکوں ۔“

”بے شرم ۔“وہ ہنسنے لگی ۔

”بے شرمی کاہے کی ؟….بھیک مانگ رہا ہوں ڈاکا تو نہیں ڈال رہا ؟“

”اچھا بکواس نہ کرو ،یہ لو پیسے ۔“اس نے پرس سے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کی طرف بڑھا ئی ۔

”میں ہوٹل خریدنے نہیں جارہا ؟“

”ہاں ….ہاں جانتی ہوں ۔باقی کے پیسے اپنے پاس رکھ لینا بعد میں حساب لے لوں گی ۔ اب ڈرامے چھوڑو اور جلدی جاو¿بھوک سے برا حال ہے ۔ “دانیال سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا ۔جبکہ وہ کچن میں گھس کر آٹا گوندنے لگی ۔ اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔دانیال کی پر جوش اور بے پایاں محبت نے اسے نہال کر دیا تھا ۔وہ بھی کتنی بے وقوف تھی کہ اس مسرت بھری زندگی کو ٹھوکر مار کر چل دی تھی ۔

وہ دل ہی دل میں فریحہ کی شکر گزار ہوئی جس کی رہنمائی کی بدولت وہ دوبارہ اپنی جنت میں لوٹ آئی تھی ۔ اسے امید تھی کہ وہ دونوں مل کرآج رات حماد کو بھی کسی نہ کسی طرح راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔حماد کو راضی کرنے کے لےے وہ ہر قیمت دینے کو تیار تھی ۔دانیال کے لوٹنے تک وہ دو تین روٹیاں پکا چکی تھی ۔ وہ کچن میں بیٹھ کر اسے روٹیاں پکاتے دیکھتا رہا ۔روٹیاں بنا کر وہ خواب گاہ میں آ گئے ۔وہی جگہ تھی جہاں دانیال اس کے ناز نخرے برداشت کرتا ، اسے ہاتھوں سے روٹی کھلاتا ، اس کا جھوٹا پی کر تعریفوں کے ڈونگرے برساتا ۔آج بھی دانیال کے روےے میں سرِمو فرق نہیں آیا تھا ۔ وہ اسی طرح اپنی مشی کی ایک ایک بات پر قربان جا رہا تھا ۔ فرق آیا تھا تو مسکان کے روےے میں ۔جو پہلے اس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتی اور آج ا سے چمٹی جا رہی تھی ۔

”مشی !ایک بات پوچھوں ؟“وہ زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکا تھا ۔

”منع کس نے کیا ہے ؟“

”آج تم بہت بدلی بدلی لگ رہی ہو ؟“

وہ ہنسی ۔”کیوں یہ تبدیلی بری لگ رہی ہے کیا ؟“

”نہیں….یہ تو ایسی تعبیر ہے کہ جس کا میں سپنا بھی نہیں دیکھ سکا تھا ۔مگر ڈر لگتا ہے کہیں یہ کسی آزمائش کا آغاز نہ ہو ؟“

”پگلا نہ ہو تو ؟“وہ چاہت بھرے لہجے میں بولی ۔”اب کیسی آزائش ؟….آپ ہر امتحان میں سر خ رو ہو چکے ہیں ۔“

”مشی !….مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔اتنی زیادہ مسرت کا تو میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔اگر یہ سپنا ہوا تو میں بے موت مارا جاو¿ں گا ۔“

مسکان نے اسے ڈانٹا۔”چپ !….ایسی باتیں نہیں کرتے ۔“اس کے ساتھ اس نے کھانے کے برتن ایک طرف رکھے اور اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی ۔دانیال اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا ۔

”دانی !….فریحہ بہت پیاری ، اچھی اور مخلص لڑکی ہے ۔“

”ہاں !….بالکل ،اسی کی بہ دولت تو مجھے اپنی مشی واپس ملی ۔“

”دانی !….وہ تو مجھ سے کئی گنا زیادہ خوب صورت ہے ، کنواری بھی ہے ۔اور اس نے آپ کو شادی کی پیش کش بھی کی تھی پھر اس کی آفر قبول نہ کرنے کی وجہ ؟“

”یہ کس نے کہا کہ وہ تم سے خوب صورت ہے ؟“

”اس میں شک ہی کیا ہے ؟“مسکان ناز سے اٹھلائی ۔

”مشی صاحبہ !….یہ میرے دل سے پوچھو نا؟ کہ کون خوب صورت ہے میری مشی سے ۔“

”اچھا پتا ہے میری مجبوری کیا تھی ؟اور میں کس وجہ سے آپ سے دور ہوئی ؟“

”نہیں ،نہ جاننا ہی چاہتاہوںاور نہ تم اپنے بیتے دنوں کی کوئی بات مجھے صفائی پیش کرنے کی نیت سے سنانا۔“

”دانی !….ایک بات یاد رکھنا ،الحمد اللہ مجھے اپنی عزت و حرمت ہمیشہ سے عزیز رہی ہے ۔ آج تک مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد نہیں ہوا،کہ مجھے نظریں جھکانے کی ضرورت پڑے ۔میں مطلقہ ہوں، جب تک پہلے شوہر کے عقد میں تھی وہی میرے جسم و جاں کا مالک تھا ۔اب آپ کی منکوحہ ہوں تو بس مجھے آپ ہی مجھے چھو سکتے ہیں۔“

”اگر اس کے بر عکس ہوتا تو کیا دانیال کے دل سے اس کی مشی کی چاہت کم ہو سکتی تھی ؟“

وہ شرارت سے مسکرائی ۔”کیا پتا ؟….منہ ہی نہ لگاتے ؟“

”منہ ہی نہ لگاتے ۔“دانیال نے اس کی ناک کی پھننگ کو پکڑ کر مروڑا۔

”اچھا !….آپ نے پھر وہی مزدوری شروع کر دی تھی ؟“

”تواور کیا کرتا؟….“

”دکان جو تمھارے حوالے کر کے گئی تھی ؟“

”تمھارے بدلے وہ حقیر سی دکان قبول کر لیتا۔“

”تو اور کیا چاہےے ؟“

”مشی کے بدلے تو تخت و تاج بھی ٹھکرا دیتا ۔“دانیال نے اس کی ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔

”بے وقوف !….“وہ ہنسی ،اور پھر کہنے لگی ۔”وہ دکان تمھارے نام کر دی تھی میں نے ۔اور اس پر تمھارا قبضہ ہے۔ میں چاہوں بھی تو تم سے واپس نہیں لے سکتی ۔“

”تم میری جان بھی لے سکتی ہو ،دکان تو بہت معمولی چیز ہے ۔“

”جانتے ہو ؟….تمھارا مکرم خان میرا بھائی بن گیا ہے ؟“مسکان نے موضوع بدلا۔

”ہاں….بہت اچھا انسان ہے ۔“دانیال نے اثبات میں سر ہلایا۔

”اچھا ٹھہرو اس سے بات کرتے ہیں ۔“مسکان موبائل فون نکال کر مکرم خان کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

”اسلام علیم باجی !….“مکرم خان کی بھاری آواز رسیور سے برآمد ہوئی ۔مسکان نے سپیکر آن کر دیا تھا ۔

”خان بھائی کیسے ہو ؟“

”باجی !….ام بلکل ٹیک اے ۔“

”کوئی مددگار ساتھ رکھا ہے یا اکیلے ہی جڑے رہتے ہو ؟“

”ابی تک تو کسی کو نہیں رکھا ۔“

”اچھا تمھارے دانیال صاحب سے صلح ہو گئی ہے ۔اور یہ دکان میں نے اسے بیچ دی ہے ۔“

”پھر تو ام خوش ہے باجی !….دانیال صاحب تو بہت اچا آدمی ہے۔“

”بس اب سارا حساب کتاب اس کے حوالے کر دینا ۔“مسکان نے ہنستے ہوئے کہا ۔

”ٹیک ہے باجی ۔“مکرم خان نے کہا اور مسکان کال ختم کرتے ہوئے بولی ۔

”کیسا ہے دانی صاحب!….؟“

”مشی !….نہ تو مجھے دکان چھننے کا کوئی دکھ تھا۔ اور نہ واپس ملنے کی کوئی خوشی ہوئی ؟“

”نظر تو خوش آرہے ہو ؟“

”تم!…. اچھی طرح جانتی ہو،یہ کس بات کی خوشی ہے ؟“دانیال نے اس کی خوب صورت آنکھوںمیں جھانکا۔

”اچھا یہ اپنی کار کی چابی بھی لے لو ؟“اس نے پرس سے کار کی چابی نکال کر اس کی جانب بڑھائی ۔

”شکریہ !“اس مرتبہ دانیال منہ بناتے ہوئے بولا ۔اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔

”چلیں امی جان کو لے کے آتے ہیں ۔“مسکان اٹھ بیٹھی ۔

”چلو ۔“دانیال بھی اٹھ گیا تھوڑی دیر بعد وہ دانیال کے گھر کی طرف جا رہے تھے ۔ ڈرائیونگ کی ذمہ داری دانیال نے سنبھالی ہوئی تھی ۔گھر کے سامنے کار روکتے ہوئے وہ بولا ۔

”خبردار مشی !….معافی وغیرہ کے چکروں میں نہ پڑنا ۔امی جان تم سے بالکل ناراض نہیں ہیں ۔“

”جی محترم !….میں اپنی امی کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں ۔“کہتے ہوئے وہ نیچے اتر گئی ۔

عائشہ خاتون صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی تھی ۔دانیال کے ساتھ نقاب پوش لڑکی کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی اس کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔ بیٹیوں کی سی بہو کو وہ بڑی آسانی سے پہچان گئی تھی ۔اسی وقت مسکان نے نقاب الٹ دیا رہا سہا شک بھی دور ہو گیا ۔وہ بے صبری سے اٹھی ۔مسکان بھی بھاگ کر اس سے لپٹ گئی ۔

”میری بچی ۔“عائشہ اس کی آنکھوں اور ماتھے پر بوسے دیتے ہوئے اس کی بلائیں لینے لگی ۔نہ کوئی شکوہ ہوا ،نہ گِلہ اور نہ شکایت ۔نہ یہ ہی پوچھا کہ کیوں لوٹی ہو ۔بیٹیوں کے لےے تو یوں بھی ماں کی آغوش وا رہتی ہے ۔

جذبات کا طوفان تھما تو مسکان بولی ۔

”امی جان !….میں آپ کو لینے آئی ہوں ….چلیں اپنے گھر ۔“

”چلو بیٹی !….“عائشہ فوراََ تیار ہو گئی ۔مسکان کو ناراض کرنے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔

مسکان کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ اس آسانی سے ہو جائے گا ۔اتنے غیرت مندلوگ کہ ہر چیز کو ٹھوکر مار کر چلے جائیں ۔مگر اس کے ذرا سے بلانے پر بغیر کسی حجت کے یوں جھٹ سے تیار ہو جانا ؟…. یقینا وہ اسے اپنا سمجھتے تھے۔ایسا اپنا جو کبھی پرایا نہ ہو سکے ۔

دانیال نے اس گھر سے صرف مسکان کا شبِ عروسی کا لباس لیا تھا ۔

مسکان نے دھیمی آواز میں پوچھا ۔”اب تو کپڑوں والی آ گئی ہے ۔اب بھی یہ جوڑا سنبھالتے پھرو گے ؟“

”تمھیں کیا پتا کہ میں یہ لباس کس مقصد سے لا یا تھا ؟“

”محبت اور خوشبو چھپائی نہیں جا سکتیں دانی !“

اس نے کہا ۔”مشی !….میں جانتا تھا ایک دن دوبارہ تمھیں پا لوں گا ۔“

مسکان خاموشی سے کار کا دروازہ کھول کر عائشہ کے ساتھ بیٹھ گئی ۔وہ دانیال کی وارفتگی سے واقف تھی۔ بعید نہیں تھا کہ وہ ماں کے سامنے اس سے لپٹ جاتا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ گھر پہنچ گئے تھے۔مسکان نے واپسی کی اجازت چاہی ۔

”کیا مطلب ؟….تم کہاں جاو¿ گی ؟“دانیال نے حیرانی سے پوچھا ۔

وہ بے بسی سے بولی ۔”دانی !….دو تین دن تک تمھیں میرے بغیر رہنا ہو گا ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے ، وہ جیسے ہی حل ہوتا ہے میں ہمیشہ کے لےے یہیں آ جاو¿ں گی یا تمھیں اپنے پاس بلا لوں گی ۔“

”کیسا مسئلہ ؟“اس کی حیرانی دور نہیں ہوئی تھی ۔

”حماد !….تھوڑی پریشانی پیدا کر رہا ہے ،بعد میں تفصیل بتاو¿ں گی ۔بس ایک دو دن صبر کرو میں تمھاری ہوں اور تمھاری رہوں گی ان شاءاللہ ۔“

دانیال نے بے بسی سے سر ہلا دیا ۔”میں ہمیشہ تمھارا منتظر رہوں گا جان !….“

مسکان نے عائشہ خاتون کے پاس جا کراس سے اجازت لی اور واپسی کا قصد کیا ۔

٭……..٭

ڈائننگ ٹیبل پر فریحہ کو دیکھ کر حماد حیران رہ گیا تھا ۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی جری ہو جائے گی۔ مگر اب اسے مسکان کے بارے میں اطمینان تھا اور اس کا موڈ خوشگوار تھا ۔

”بڑی بات ہے جی ،آج تو ہمارے گھر میں اجالا ہو رہا ہے ؟“اس کا لہجہ خوش گوار سہی ،مگر انداز طنزیہ تھا ۔

فریحہ نے پھیکی مسکراہٹ سے پوچھا ۔”کیسے ہو ؟“

”زندہ ہوں ۔“

وہ شاکی لہجے میں بولی ۔”گو خفا ہونا میرا حق تھا اس کے باوجود میں منانے چلی آئی ۔ عورت ہوں نا ، جھکنا میری فطرت ہے ۔“

”جھکنے آئی ہو، یا جھکانے ؟“حماد کے لےے اس کی آمد کے مقصد کے بارے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔

”حماد تمھیں سمجھوتا کرنا پڑے گا ۔میری خاطر ۔“فریحہ کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی ۔ مسکان اس دوران خاموش بیٹھی رہی ۔

”اوکے !….کیا چاہتی ہو ؟“

”باجی !…. کی بات مان لو ۔“

”ہاں، میں کل سے اسی متعلق سوچ رہا تھا ۔اوراس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارا علاحدہ ہو جانا ہی بہتر رہے گا۔“

”حادی !….“فریحہ فرطِ جذبات سے چیخ اٹھی ۔”مجھے یقین تھا تم مجھے مایوس نہیں کرو گے ؟“

وہ مسکرایا۔”تم سے تو میں بعد میں نبٹوں گا پہلے سیٹھ زادی سے نبٹ لوں ۔“وہ مسکان کی طرف متوجہ ہوا ۔ ”تو محترما !…. طلاق وغیرہ کا ڈراما کس طرح سٹیج کریں گے ؟“

”اس بارے تو ہم نے کوئی منصوبہ ہی نہیں بنایا ۔“

”ٹھیک ہے تم سوچو ،دو دن کے اندر کوئی فیصلہ کر لو ۔پرسوں تک میں یہیں رہوں گا کوٹھی میں ۔اور اس کے بعد چلا جاو¿ں گا ۔لیکن ہماری طلاق کی خبر فی الحال راز رہے گی اور ہم لوگوں کی نظر میں اسی طرح میاں بیوی بنے رہیں گے ،کیونکہ ہم جو کچھ کر چکے ہیں اس کی خبر اگر سیٹھ فہیم صاحب کو ہو گئی تو شاید وہ ہمیں کبھی معاف نہ کرے ۔“

مسکان نے کہا۔”تھینکس حماد صاحب !….مجھے امید تھی کہ آپ اسی طرح بڑے پن کا مظاہرہ کریں گے ۔ اور جہاں تک بھیا کا تعلق ہے تو اسے میں خود بے خبر رکھنا چاہتی ہوں ؟“

”میرا خیال ہے ڈنر شروع کریں ۔یوں بھی آپ دونوں کوئی تجویز سوچو گی تو پھر ہی بات ہو سکے گی؟“

وہ اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ ہو گئیں ۔ دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حماد اتنی آسانی سے مان جائے گا ۔ مسکان دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی اور فریحہ خوش تھی کہ اس کا حماد لوٹ آیا تھا ۔گو اسے دولت بہت عزیز تھی مگر اسے بھی تو چاہتا تھا ۔وہ جیسا بھی تھا اسے قبول تھا ۔

ڈنر انھوں نے خاموشی سے کیا ۔حماد کسی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا ۔ڈنر کر کے وہ ان سے اجازت لے کے اٹھ گیا ۔اس کی اس حرکت کو فریحہ نے خفت پر محمو ل کیا ،کہ بہ ظاہر نظر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا تھا اور اس نے مسکان کے قتل کا منصوبہ بھی بنایا ہوا تھا ۔”شاید اسے گمان ہو کہ میں نے مسکان کو سب کچھ بتا دیا ہے ؟“فریحہ نے سوچا اور مسکرا دی ۔ اس نے سوچا کہ اسی وقت اٹھ کر حماد کو ساری بات بتا دے مگر پھر وقت دیکھ کر نہ جا سکی ۔

”باجی !….اب مجھے ڈراپ کر دیں ،ہمارا آج کا مشن تو پورا ہو گیا ،باقی منصوبہ کل سوچیں گے ۔“

”تھوڑی دیر رک جاتیں ؟“

”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا ۔”اتنی رات تک گھر سے باہر رہنا ٹھیک نہیں ،گو پاپا نے مجھے بہت آزادی دے رکھی ہے ،مگر مجھے بھی تو کچھ سوچنا چاہےے ۔“

”صحیح کہا ۔“مسکان اٹھ کھڑی ہوئی ۔تھوڑی دیر بعد اس کی کار فریحہ کے گھر کی طرف رواں دواں تھی۔وہ ایک بار فریحہ کی ماں سے بھی مل چکی تھی ۔آج ڈنر کے لےے بھی وہ خود اسے پک کرنے گئی تھی ۔

٭……..٭

صبح ناشتے کے بعد مسکان گھر سے نکل آئی ۔دانی کی یاد ساری رات اس کے دل میں کروٹیں لیتی رہی تھی ۔ اب جبکہ سارا مسئلہ حل ہو گیا تھا تو اس کا دل اس سے ملنے کے لےے مچلنے لگا ۔ پہلے اس کا ارادہ ہوا کہ کال کر کے بتا دے کہ میں آ رہی ہوں مگر پھر اس نے دانیال کو سرپرائز دینے کا سوچا اور اطلاع دےے بغیر چل پڑی۔

وہ اس وقت ایک ایسی سڑک سے گزر رہی تھی جس پر رش نہ ہونے کے برابر تھا ۔اچانک اس کی کار کا پچھلا ٹائر دھماکے سے پھٹ گیا ۔اس نے بڑی مشکل سے تیز رفتار کار کو سنبھالا ۔اگر رش ہوتا تو وہ لازماََ ایکسڈنٹ کر بیٹھی ہوتی ۔ کارسڑک کے کنارے لگاکر وہ نیچے اتر آئی ۔فالتو ٹائر ڈگی میں موجود تھا لیکن ٹائر بدلنا اس کے بس سے باہر تھا ۔وہ اسی سوچ میں تھی کہ اس کا کیا حل کرے ۔ اچانک ایک سوزکی کار والا اس کے قریب آ کر رکا ۔اور مہذب لہجے میں پوچھا ۔

”بہن!….خیر تو ہے ،کیا ہوا ؟“

”بھائی!…. ٹائر برسٹ ہو گیا ہے ۔“وہ پریشان کن لہجے میں بولی ۔

”کیا فالتو ٹائر نہیں ہے ؟“وہ کار سے نیچے اتر آیا ۔اس کے ہمراہ ایک دوسرا آدمی بھی بیٹھا تھا وہ بھی نیچے اتر آیا تھا۔

”بھائی !….ٹائر تو ہے ؟“

”چابی ادھر دو ۔“اس نے مسکان کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس نے بے جھجک اسے چابی تھما دی ۔

”زاہد !….میری مدد کرو ۔“ڈگی کھول کر وہ اپنے ساتھی کو بولا ۔اور اس کا ساتھی اس کے ساتھ ہو لیا ۔ دس پندرہ منٹ کے اندر انھوں نے ٹائر تبدیل کر لیا تھا ۔

”یہ لیں بہن ۔“پرانا ٹائر ڈگی میں رکھ کر اس نے چابی مسکان کی طرف بڑھا ۔

”بھائی!…. بہت بہت مہربانی ،اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے ۔“مسکان ان کا شکریہ ادا کرکے کار میں آبیٹھی ،ابھی اس نے سلف لگایاہی تھا کہ زاہد نامی آدمی نے مخالف سمت میں آ کر دروازہ کھٹکھٹایا ۔دروازہ ان لاک کر کے وہ مستفسر ہوئی ۔

”جی بھائی ؟“مگر اس وقت اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں جب زاہد دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں خوفناک شکل کا پسٹل نظر آ نے لگا ۔

”میرا خیال ہے مس !یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی کہ کوئی بھی غلط حرکت تمھاری جان لے سکتی ہے ۔“

”کک ….کون ہیں آپ ،اور یہ کیا مذاق ہے ؟“مسکان کا دم گھٹنے لگا تھا ۔

اسی وقت دوسرا مرد مسکان والی سائیڈ سے آکر کھڑکی پر جھکا اور اگلے لمحے اس نے جیب سے رومال نکال کر مسکان کی ناک پر رکھ لیا ۔گو مسکان نے نقاب اوڑھی تھی مگر وہ ناگوار بو کابھبکا ایک باریک کپڑا نہیں روک سکا تھا ۔ چند سیکنڈ میں اس کا دماغ اندھیروں میں گم ہو گیا ،اور وہ ایک سائیڈ پر لڑھک گئی ۔

”باس اسے سنبھالومیں اپنی کار میں گیا ۔“زاہد نامی آدمی بولا ۔اور دوسرے آدمی نے جو لازماََ کامی خنجر تھا ۔ سر ہلاتا ہوا مسکان کو دوسری سیٹ پر دھکیل کر ڈرائیونگ سنبھال لی ۔مسکان کو اس نے اس انداز میں ایڈجسٹ کر لیا جیسے وہ سو رہی ہو ۔چند لمحوں بعد وہ دونوں کاریںایک مخصوص سمت میں روانہ ہو گئی تھیں ۔ مسکان کے اغوا میں انھیں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ۔کار کا ٹائر ان کے ایک موٹر سائیکل سوار ساتھی نے سائیلنسر لگے پسٹل سے برسٹ کیا تھا اور وہاں رکنے کے بجائے آگے نکل گیا تھا ۔باقی کا کام توقع سے بھی آسان ثابت ہوا تھا ۔

٭……..٭

مسکان کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک کمرے میں پایا۔کمرے کا دروازہ بند تھا ۔کمرے میں ایک پرانا کارپٹ بچھا تھا اور وہ اسی پر لیٹی تھی ۔کمرے کے بڑے دروازے کے ساتھ ایک چھوٹا دروازہ نظر آیا جو لازماََ واش روم کا تھا ۔ اس کے ذہن میں مختلف سوالات گردش کر رہے تھے مگر جواب ندارد تھے۔کمرے میں ٹیوب لائیٹ جل رہی تھی ۔ اس نے کلائی پر بندھی سنہری ریسٹ واچ پر نگاہ دوڑائی ۔دس بجنے والے تھے ۔اسے اندازہ لگانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ وہ کئی گھنٹے تک بیہوش رہی تھی ۔ اور اس وقت رات کے دس بج رہے تھے۔

اتنا تو وہ جانتی تھی کہ وہ اغوا ہو چکی ہے مگر ،کیوں ؟….یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔

”شاید تاوان طلب کرنے کے لےے ایسا کیا گیا ہو ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔

”مگر ان لوگوں کو میری امارت کے بارے کیا معلوم ؟“ایک دوسری سوچ نے پہلی سوچ کو جھٹلانا چاہا۔

”یقینا کار دیکھ کر انھوں نے اندازہ لگا لیا ہو گی کہ موٹی آسامی ہے ۔“وہ انھی سوچوں میں کھوئی لیٹی رہی ۔جب کافی دیر تک کوئی اندر نہ آیا تو اس نے اٹھ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی،مگر حسب توقع دروازہ بند تھا۔وہ پریشانی سے کمرے میں ٹہلنے لگی ۔اس کے جسم سے گاو¿ن اتار لیا گیا تھا ۔دوپٹا بھی غائب تھا ۔یوں ننگے سر اجنبی جگہ میں اسے بے چینی ہو رہی تھا ،لیکن اس کا کوئی حل نہیں تھا ۔اچانک کمرے کے باہر کسی کے پاو¿ں کی چاپ ابھری اور وہ چونک کر دروازے کی سمت متوجہ ہو گئی ۔ بولٹ کھول کر ایک مرد اندر داخل ہوا ۔وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گئی تھی ۔یہ وہی تھا جس نے چابی مانگ کر ڈگی کھولی تھی ۔ اجنبی مرد کے سامنے خود کو ننگے سر پا کر وہ عجیب سا محسوس کرنے لگی ۔

”مس !….میرا نام ۔“وہ ایک لمحے کے لےے رکا ۔”میرا خیال ہے تمھارے لےے جاننا ضروری نہیں ہے البتہ کام ہے قتل و غارت ،ڈاکے ، اغوا برائے تاوان اور ….“وہ ایک لمحے کے لےے رکا ۔”خیر وہ بھی جلد پتا چل جائے گا ۔فی الحال تو اپنے پیارے بھیا سیٹھ فہیم صاحب کا سیل فون نمبر عنایت فرما دو ۔“

وہ آہستہ سے بولی ۔”مجھے زبانی یاد نہیں ہے ۔البتہ میرے سیل فون میں درج ہے ۔“

اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اس موبائل فون نکالا۔موبائل فون آف تھا ۔اسے آن کرتے ہوئے اس نے پوچھا ۔

”کس نام سے درج ہے ؟“

”بھائی فہیم کے نام سے ۔“

اس نے اسی کے موبائل سے نمبر ڈائل کیا ۔پہلی گھنٹی پر ہی کال اٹینڈ کر لی گئی تھی ۔

”مسکان !….کہاں ہو تم ؟“اس کے لہجے سے مترشح پریشانی ظاہر کررہی تھی کہ وہ مسکان کی گمشدگی سے واقف ہے۔

”سیٹھ صاحب !….یہ میں ہوں ۔اور تمھاری پیاری ، خوب صورت بہن اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہے ،قسم سے اتنی پیاری لڑکی آج تک نظر سے نہیں گزری ۔دوپٹا بھی سر پر نہیں اوڑھا ۔ رات اتنی تاریک نہیں جتنا ان زلفوں نے اندھیرا کر دیا ہے ؟“اس کی زبان اس کی شکل سے بھی زیادہ گھٹیا تھی ۔مسکان حیا سے سمٹ گئی تھی۔

سیٹھ فہیم حلق کے بل دھاڑا ۔”کون ہو تم بد بخت ،شاید تمھیں زندگی عزیز نہیں ہے ؟“

”دھیرج سیٹھ صاحب !….دھیرج ۔شاید تمھیں کسی نے بتایا نہیں کہ بہنوں کے بھائی کسی کو دھمکیاں نہیں دیتے ،خاص کر اس آدمی کو جس کے قبضے میں ان کی بہن ہو ….بے وقوف کچھ بھی ہو سکتا ہے؟“

”کیا چاہتے ہو ؟“سیٹھ فہیم نے مشکل سے خود پر قابو پایا تھا ۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ فی الحال وہ غصہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔

”اب کی ہے نا عقل مند بھائیوں والی بات ۔مجھے پانچ کروڑ روپیا چاہےے ۔کل شام تک ۔“

”مل جائے گا ۔“سیٹھ فہیم بلا تامل بولا ۔”میری بہن کو کچھ نہیں ہونا چاہےے ۔“

”ہاں زندہ واپس ملے گی بھئی ۔“اس نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا۔

”میں نے کہا اسے ہاتھ بھی نہ لگا نا۔“سیٹھ فہیم کا پارہ ایک مرتبہ پھر بلند ہونے لگا ۔

”پھر دس کروڑ لگیں گے ۔“اس نے مطالبہ بڑھانے میں دیر نہیں کی تھی ۔

سیٹھ فہیم نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”تمھارے منہ میں مرد کی زبان نہیں لگتی؟….پہلے پانچ کروڑ اور ابھی دس ہو گیا ،تھوڑی دیر بعد پندرہ ہو جائے گا ؟“

”گو مجھے اپنی مردانگی کا اظہار کرنے کے کئی طریقے آتے ہیں اور تجھے یقین بھی بہت اچھی طرح سے آجائے گا۔ لیکن تیر ی پہلی اور آخری غلطی سمجھ کے معاف کر دیتا ہوں ۔باقی بات سمجھنے کی کوشش کروجناب سیٹھ صاحب!…. پانچ کروڑ تمھاری بہن کو زندہ چھوڑ دینے کے تھے ،اب تو نے کہا بالکل ہاتھ نہیں لگا نا تو میں نے پانچ مزید بڑھا دےے ۔“

”تمھیں وعدہ کرنا ہوگا کہ اس کے بعد میری بہن کو ہاتھ بھی نہیں لگاو¿ گے ؟“

”پکا وعدہ ۔“وہ خباثت سے ہنسا ۔

”ٹھیک ہے پیسے مل جائیں گے ،تم میری بہن سے بات کراو¿۔“

”یہ لو کرو بات ۔“اس نے مسکان کی طرف موبائل فون بڑھایا۔

”بھیا !….“کہہ کر وہ سسکیاں بھرنے لگی ۔

”گھبرانا نہیں گڑیا ۔“سیٹھ فہیم نے اسے تسلی دی ۔میں کل شام تک تمھیں رہا کرا لوں گا ۔

”جی بھیا !….“وہ آنسو روکتے ہوئے آہستہ سے بولی ۔اسی وقت اس نے فون اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا ۔

”یقین آگیا نا مسٹر سیٹھ ؟“

”پیسے کیسے اور کہاں پہنچاو¿ں ؟“سیٹھ فہیم نے جلدی سے پوچھا ۔مسکان کا رونا اس کے دل پر چھریاں چلا رہا تھا۔

”یہ کل بتا دیا جائے گا ۔اور میرا خیال ہے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ پولیس کو اس بات کی خبر نہیں ہونی چاہےے ۔“

”نہیں ہوگی ۔“سیٹھ فہیم نے اسے اطمینان دلایا۔

رابطہ منقطع کر کے اس نے موبائل فون آف کر دیا ۔

”تو مس مسکان !….مجھے کامی خنجر کہتے ہیں ۔اور پوچھنا یہ تھا کہ تم اتنی خوب صورت کیوں ہو ؟بالکل بھولی بھالی۔ اگر مجھ سے شادی کرنا چاہو تو میں دس کروڑ معاف کر سکتا ہوں ۔“

مسکان نے بے بسی سے سر جھکا لیا وہ اس کی خبیث نظروں اور گندی باتوں پر وہ تلملانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔

”اوہ !….یاد آیا ،تم تو شادی شدہ ہو نا ؟….تو کیا ہے یار !….طلاق لے لینا ۔تمھارا حماد مجھ سے خوب صورت تو ہو گا مگر میرے جتنی مردانگی نہیں ہے اس میں ۔“

مسکان کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔وہ کیسے حماد سے واقف تھا ۔

”شاید یہ لوگ پہلے سے میری نگرانی کراتے رہے ہوں ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔

”مگر اس طرح تو انھیں دانیال کے بارے بھی خبر ہونی چاہےے ۔“

”تو کیا سوچا ہے ؟“اس کے قریب ہو کر کامی نے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی ۔

”پپ….پلیز۔“وہ پیچھے ہوتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں بولی ۔

”نہیں بی بی !….یہاں کوئی پلیز وغیرہ کام نہیں آتی ۔“اس مرتبہ کامی نے بے باکی سے اس کا ہاتھ پکڑا ، مسکان نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر نہ چھڑا سکی ۔

”پلیز ….دیکھو بھیا تمھیں منہ مانگی رقم ادا کرنے پر راضی ہو گئے ہیں ۔“

”او کم آن یا ر!….کچھ نہیں ہوتا ۔تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے پہلی مرتبہ کسی نے ہاتھ پکڑا ہے ۔ شادی شدہ لڑکی تو ان لمحات کو انجوائے کرتی ہے ۔“

”چھوڑو مجھے کمینے ۔“مسکان زیادہ دیر اس کی دست درازی برداشت نہ کر سکی ۔ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس نے اس کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا ۔

”تمھاری یہ جرا¿ت ۔“کامی غرایا اوراگلے لمحے ہر اندیشہ بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ اس پر جھپٹا ، مسکان کی ہر مزاحمت بے کار گئی تھی ۔اچانک کمرے کا دروازہ کھول کر کوئی اند ر داخل ہوا ۔

”باس !….جیرا واپس آ گیا ہے ۔“یہ منظر شاید اس کے لےے نیا نہیں تھا اس لےے بغیر جھجکے اس سے مخاطب ہوا تھا۔ کامی ،مسکان سے علاحدہ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔

”ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں ۔“

”نہیں باس !….میرا خیال ہے آپ کے جانے کے بعد یہاں میری ضرورت پیش آئے گی ؟“ اس نے مسکان کی طرف دیکھتے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔

”اسے میرے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا ۔“کونے میں سمٹی مسکان کو دیکھتے ہوئے اس نے زہر خند لہجے میں کہا ۔

”باس !….یہ تو زیادتی ہے ۔“

”شٹ آپ !“کہہ کر اس نے نووارد کو دفع ہونے کا اشارہ کیا ۔اور خود بھی اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا۔ دروازہ لاک کرنا وہ نہیں بھولا تھا ۔مسکان گھٹنوں میں سر دےے بے آواز روتی رہی ۔اس کے دماغ میں گزشتہ روز دانیال سے کی گئی گفتگو گونجی….

”آج تک مجھ سے کوئی ایسا کام سرزد نہیں ہوا جس سے مجھے نظریں جھکانے کی ضرورت پڑے؟“

”کیا یہ بڑا بول تھا اور اب میرے پاس عزت و حرمت کا فخر باقی نہیں رہے گا ؟“ایک لرزہ خیز سوچ اس کے دماغ میں ابھری ۔کامی کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس کے بھائی سے کیا گیا وعدہ نبھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔ یوں بھی ایسے لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا ۔

”اب اس سے جان بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ میں خود کشی کر لوں ؟….مگر کیا اس طرح میری بخشش ہو جائے گی ؟….حرام موت مرنا کب جائز ہے ؟……..شاید عزت بچانے کے لےے جائز ہو ؟“ اس کا دل مختلف خیالات کی آما جگاہ بنا رہا مگر وہ کوشش کے باوجود خود کشی کی کوشش نہ کر سکی۔اور اپنی عزت کی سلامتی کے لےے اپنے اللہ سے دعا کرتی رہی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: