Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 23

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 23

–**–**–

مسکان صبح سے غائب تھی ۔اور جب وہ ڈنرکے وقت تک بھی نہ پہنچی تو حماد کو یقین ہو گیا کہ کامی خنجر اپنے مقصدمیں کامیاب ہو گیا ہے۔اس کے پاس کامی کا حالیہ نمبر موجود تھا ۔بلا دھڑک وہ اسے کال کرنے لگا ۔

وہ کال اٹینڈ کرتے ہوئے بولا۔”ہاں مسٹر پڑھاکو !….تمھارا کام ہو گیا ہے ۔دو تین دن تک تمھیں اس کی لاش وصول ہو جائے گی ۔“

”تھینکس ۔“کہہ کر اس نے کال منقطع کر دی ۔اگلے لمحے وہ سیٹھ فہیم کا نمبر ڈائل کر رہا تھا ۔

”جی حماد !….“سیٹھ فہیم اس سے عمر میں بڑا تھا اور ہمیشہ اسے نام لے کر مخاطب کرتا تھا ۔

”بھیا!…. مسکان صبح سے غائب ہے ۔اپنی سہیلی کو ملنے کا بتا کر گئی تھی ۔میں خود فیکٹری چلا گیا تھا اوروہاں سے امی جان کو ملنے چلا گیا ۔ابھی گھر لوٹا ہوں ۔اس کے نمبر پر کال کرتا رہاہوں مگر نمبر بند ہے ۔اس کی سہیلی سے پتا کیا ؟….اس نے بتایا!…. مسکان اس کے یہاں گئی ہی نہیں تھی۔“

”کبھی پہلے وہ اتنی دیر غائب رہی ہے ؟“سیٹھ فہیم گھبرا گیا تھا ۔

”نہیں بھیا !….آپ تو جانتے ہیں اس کی فطرت ؟….زیادہ سے زیادہ ،دو تین گھنٹوں کے لےے کسی سہیلی کے گھر چلی جاتی ہے اور وہ بھی مہینوں بعد ،ورنہ گھرہی پررہتی ہے ؟“

”کسی تھانے میں اطلاع دی ہے یا ڈائریکٹ مجھے ہی کال کر رہے ہو ؟“

”آپ کی اجازت کے بغیر میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تھانے وغیرہ میں اطلاع دوں ۔“

”اچھا کیا ،میں سنبھال لیتا ہوں ۔اگر کوئی اطلاع ملتی ہے تو فی الفور مجھے بتانا ۔“

”ٹھیک ہے بھیا !“سیٹھ فہیم نے کال منقطع کر دی ۔اس نے اسی وقت فریحہ کا نمبر ڈائل کر دیا ۔

”یس ۔“دوسری بیل پر کال رسیو کر لی گئی ۔

”فری !….آج مسکان تمھارے پاس آئی تھی ؟“

”نہیں ….اور میں کافی دیر سے اس کا نمبر ٹرائی کر رہی ہوںمگر نہیں مل رہا ۔کہیں دانیال کے پاس تو نہیں ہے ؟“

”اوہ !….اس کا تو مجھے خیال ہی نہیں رہا ۔ٹھہرو میں اس سے پتا کر لوں ۔“رابطہ منقطع کر کے وہ دانیال کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔

”جی حماد صاحب !“دانیال نے کال اٹینڈ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔

”آج مسکان یہاں آئی تھی ؟“

”نہیں ۔“دانیال رسان سے بولا ۔

”اوکے ۔“کہہ کر اس نے کال منقطع کرنی چاہی مگر دانیال جلدی سے مستفسر ہوا ۔

”بات سنو ؟“

”جی ؟“

دانیال نے کہا ۔”فری، کی طرف نہ چلی گئی ہو ؟“

حماد کو اس کا فریحہ کو اس بے تکلفی سے پکارنا بہت کھلا مگر وہ اپنے غصے پر قابو پاتا ہوا بولا ۔”نہیں ، تم سے پہلے اس سے پوچھ چکا ہوں ،وہاں بھی نہیں ہے ۔“

”تو پھر کہاں جا سکتی ہے ؟“دانیال نے گویا خود کلامی کی۔

”اگر پتا ہوتا تو مجھے تم سے پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔“کہتے ہوئے حماد نے کال منقطع کی اور دوبارہ فریحہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔

”پتا چلا ؟“فریحہ نے بے صبری سے دریافت کیا ۔

”نہیں ،وہاں بھی نہیں ہے ۔“

”بھائیوں کے ہاں نہ چلی گئی ہو ؟“

”پتا کرا چکا ہوں ….سیٹھ فہیم خود بھی اس کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔“

”صبح کس وقت گھر سے نکلی تھی ؟“

”میں جب اٹھا تو وہ گھر پر نہیں تھی ،ملازما بتا رہی تھی ناشتا کرتے ہی نکل گئی تھی ۔“

”تم نے فون کر کے معلوم کر لینا تھا ؟“فریحہ کے لہجے میں شامل پریشانی اسے حیران کر رہی تھی ۔ وہ مسکان جس سے وہ حد درجہ نفرت کرتی تھی آج اسے اتنی عزیز ہو گئی تھی ۔حماد نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اس نے اسے اصل بات کی ہوا نہیں لگنے دی تھی ۔

”آج پہلی دفعہ تو گھر سے نہیں نکلی تھی کہ میں تحقیقات کرتا پھرتا ۔“حماد کے لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی تلخی جھلکنے لگی ۔

”حادی !….خفا ہونے کی ضرورت نہیں ،مجھے پریشانی ہو رہی ہے ؟“

”اور میں خوش ہوں ؟“

وہ اس کے طنز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مستفسر ہوئی ۔

”آپ !….اس کی کسی ایسی سہیلی سے واقف نہیں ہیں جہاں وہ اتنی دیر گزار سکے ؟“

”نہیں ….اور اب تم آرام کرو جونھی کوئی پتا چلا تمھیں اطلاع کر دوں گا ۔“رابطہ منقطع کر کے وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے سیٹی پر ایک خوش کن دھن بجانے لگا ۔مسکان کی موت اس کے سپنوں کی تکمیل تھی۔اس وقت اسے احساس ہوا کہ وہ بے جا اتنے لمبے کھٹ راگ میں پڑ گیا تھا ۔اسے بہت پہلے یہ کر لینا چاہےے تھا ۔سیٹھ فہیم کے لےے مسکان کا ترکہ کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔اگر وہ اس کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کر دیتاتو وہ یقینا مسکان کا ساراترکہ اس کے حوالے کرنے میں تامل نہ کرتا۔ اس کے بر عکس اگر وہ آدھا مانگ بھی لیتا۔ تب بھی آدھا ترکہ ہی اس کے لےے کافی تھا ۔ زیادہ کے لالچ میں وہ آدھے سے بھی ہاتھ دھونے جا رہا تھا ۔

قریباََ سواگیارہ بجے کا وقت تھا جب اسے سیٹھ فہیم کی کال رسیو ہوئی ۔

”کچھ پتا چلا بھیا ؟“اس نے اپنے لہجے میں بے صبری سمونے کی کامیاب کوشش کی ۔

سیٹھ فہیم نے کہا ۔”ہاں ،اسے اغوا کیا گیا ہے ؟“

”ک….کس نے ؟“حماد نے پریشانی ظاہر کی ۔

”اگر یہ پتا چل جاتا تو میں اسے زندہ زمین میں نہ گاڑ دیتا ۔“

”میں اسے چھوڑوں گا تو نہیں ؟“حماد نے دانت پیسے ۔

”وہ بعد کا مسئلہ ہے ،ابھی اس نے دس کروڑ تاوان طلب کیا ہے ؟“

”بھیا !….ہم دس کروڑ دیں گے ،یہ رقم مسکان سے بڑھ کر نہیں ہے ۔“

”جانتا ہوں ،مگر پرابلم یہ ہے کہ اس کے بعد بھی اگر اس نے مسکان کو رہا نہ کیا اور اس کا کوئی دوسرا مطالبہ سامنے آگیا پھر ؟“

”بھیا !….ابھی گیند اس کے کورٹ میں ہے ،ہم مجبور ہیں ۔“

”مجبور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ۔خفیہ پولیس کے دو انسپکٹر میرے گہرے دوست ہیں میرا ارادہ ہے میں یہ معاملہ ان کے سپرد کر دوں ۔“

”بھیا !….میں اس کے حق میں نہیں ہوں ؟….آپ بے شک مسکان کی فیکٹری کے شیئر بیچ لیں یا ٹرانسپورٹ کے کاروبار کا سودا کرلیں ،لیکن یہ رقم اس کتے کے منہ پر ماریں ۔میں مسکان کو ادناسا نقصان پہنچتے بھی نہیں دیکھ سکتا ۔وہ جتنی رقم مانگتا ہے دے دیں ،میں اور مسکان روکھی سوکھی کھالیں گے ،فٹ پاتھ پر رہ لیں گے ،مگراسے کچھ ہو گیا تو شاید میں بھی نہ بچ پاو¿ں ۔“

”بے وقوفوں کی سی بات مت کرو حماد !“سیٹھ فہیم نے اسے شفقت سے ڈانٹا ۔”تمھارا کیا خیال ہے مجھے مسکان کم عزیز ہے ۔لیکن یاد رکھنا اگر ہم اس کے ہاتھ ایسے ہی بلیک میل ہوتے رہے تو ہمارے کنگال ہونے تک وہ مسکان کو اپنے قبضے میں رکھے گا ۔“

”بھیا !….اس کا پہلا مطالبہ تو پورا کردیتے ہیں نا ؟….اگر اس کے بعد اس کا کوئی مطالبہ سامنے آیا تو پھر کچھ سوچیں گے ۔“

”حماد وہ دونوں انسپکٹر بہت قابل اور اس کام کے ماہر ہیں ۔اور اس انداز میں کام کرتے ہیں کہ اغوا کار مکمل اندھیرے میں رہتا ہے ،تم بے فکر رہو ۔“ سیٹھ فہیم نے اسے تسلی دے کر کال منقطع کر لی ۔حماد کی بلا سے وہ جو بھی کرتا تھا ،اسے تو فقط مسکان سے اپنی بے پایاں محبت ظاہر کرنی تھی ،جو وہ بڑی کامیابی سے کر چکا تھا ۔

سیٹھ فہیم کی کال ختم ہوتے ہی اس نے فریحہ کو اسی وقت اس اغوا کی خبر سنائی ۔وہ اس کے سامنے بھی خود کو بے گناہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔یہ خبر فریحہ کے لےے حقیقتاََ شاک کا باعث بنی تھی اورمختلف قسم کے تشویش ناک اندیشے اس کی سوچ میں گردش کرنے لگے ۔

٭……..٭

”فری !….کیا کہہ رہی ہو ؟“دانیال ہکلایا۔اس کی آنکھوں کے سامنے جیسے اندھیرا چھا گیا تھا ۔

”دانی!….یہ سچ ہے ۔اسے کل صبح کسی نے اس وقت اغوا جب وہ ناشتا کرنے کے بعد گھر سے نکلی تھی ۔ شاید تمھاری طرف آرہی تھی یا میری طرف ۔“

”مم….مگر اسے کوئی کیوں اغوا کرے گا ؟ ….وہ تو اتنی اچھی اور نیک ہے ؟“

”پاگل !….اغوا کاروں نے تاوان وصول کرنا ہوتا ہے ۔کل رات ہی انھوں نے سیٹھ فہیم یعنی باجی کے بھائی سے دس کروڑ کا مطالبہ کر دیا ہے ۔“

”دا….دا….دس کروڑ ؟….اتنی رقم کہاں سے آئے گی ؟“

”سیٹھوں کے لےے یہ اتنی بڑی رقم نہیں ہے ،لیکن میں یہ سوچ رہی ہوں جانے وہ باجی کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہوں گے ؟“

دانیال اس کی بات کا جواب دےے بغیر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔

”دانی ایک بات پوچھوں ؟“

”آں ….ہاں ۔“وہ غائب دماغی سے بولا ۔”پوچھو ۔“

”اگر باجی کے ساتھ کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو کیا تم اسے قبول کر لو گے ؟“

”اونچ نیچ ….؟“دانیال کے لہجے میں حیرت تھی ۔

فریحہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”ہاں !….تم جانتے ہو نا وہ لڑکی ہے اور جتنی خوب صورت ہے یہ بھی تمھیں پتا ہے ،ایسی لڑکی اگر چند وحشی درندوں کے ہاتھ پھنس جائے تو وہ کوئی کمی نہیں چھوڑتے ۔“

دانیال کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”فری !….اس کا جواب مشی کو معلوم ہے ،حالانکہ اسے میں نے بتایا نہیں ۔“

”مجھے تو نہیں نا معلوم ؟“وہ پوچھنے پر مصر ہوئی ۔

”فری بی بی !….یہ تمھیں کس نے کہا کہ کسی غلیظ اور گندے مرد کی دست درازی سے کوئی معصوم لڑکی آلودہ ہو سکتی ہے ۔ پاگل یہ آلودگی صرف احساسات میں ہوتی ہے ۔پہلے شوہر سے بھی تو اس کا جسمانی تعلق رہا ہے کیا اس وجہ سے میں نے اسے کوئی ہلکا سا بھی طعنہ دیا ۔حالانکہ اس میں تو مشی کی اپنی مرضی بھی شامل تھی ، یہاں تو وہ بالکل بے قصور ہے ۔باقی یہ تو چند درندے ہیں ،اگر کراچی شہر کے سارے بدکار بھی زبردستی اسے روندتے رہیں اور کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہے ،اس کے بعد بھی وہ مجھے اتنی ہی عزیز ہو گی جتنی پہلے تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔“

فریحہ بے ساختہ بولی ۔”دانی !….آئی لو یو ۔“اور پھر جب اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ عجیب کہہ بیٹھی ہے تو فوراََ وضاحت کرتے ہوئے بولی ۔”میرا مطلب ہے مجھے تمھارے خیالات بہت پیارے لگے ،ایک عورت کو ایسے ہی ہمدرد شوہر کی ضرورت ہوتی ہے ۔“

”ہاں فری!….میں جانتا ہوں تم بہت اچھی لڑکی ہو ۔

”اچھا میں حماد کی طرف جا رہی ہوں ،کوئی نئی بات معلوم ہوئی تو تمھیں ضرور مطلع کروں گی ۔“

دانیال نے کہا ۔”میں منتظر رہوں گا۔“

”خدا حافظ ۔“کہتے ہوئے اس نے کال ختم کر دی ۔

گھر سے نکل کر اس نے ٹیکسی پکڑی اور سیدھا مسکان کی کوٹھی پر گئی ،مگر وہاں جا کر اسے معلوم ہوا کہ حماد سیٹھ فہیم کے ہاں گیا ہوا ہے ۔وہ اسے موبائل فون پر اپنی آمد کا بتانے لگی ۔

”فری!….فی الحال تم واپس جاو¿،میں سیل فون پر تمھیں تازہ صورت حال سے باخبر رکھوں گا ۔ فی الحال ہم اغوا کار کی کال کا انتظار کر رہے ہیں ۔“

وہ خاموشی سے واپس آگئی ۔دانیال کو بھی دوبارہ فون کر کے اس نے تازہ صورت حال بتا د ی تھی ۔

٭……..٭

کامی کو دیکھتے ہی جیرا کھڑا ہو گیا ۔

”ہاں جیرے!…. کیا خبر لائے ؟“

”باس !….بیس لاکھ میں سودا طے ہو گیا ہے،پرسوں ہونے والے جلسے کو کامیاب نہیں ہونے دینا ، جلسہ شروع ہوتے ہی دھماکا کرانا ہے کہ تمام لوگ منتشر ہو جائیں ۔

”مطلب صرف ایک دھماکا؟“

”جی باس !….آج کل حالات ہی ایسے ہیں ایک دھماکے کے بعد کسی نے بھی وہاں نہیں ٹکنا۔“

اس نے پوچھا ۔”رقم ؟“

”لے آیا ہوں ۔“جیرے نے ایک چھوٹا سا بیگ اس کے سامنے رکھ دیا ۔

”اوکے !….اب یوں کرو ،یہ جو نئی بی ایم ڈبلیو کار آئی ہے MS-2020 ۔ اس میں مکمل بارود فٹ کرا دو ۔“

”باس !….کیوں نئی کار کا بیڑا غرق کر رہے ہو ،کام آجائے گی ،پرانی تھوڑی کھڑی ہیں ۔“

”نہیں ،اس کی تباہی لازمی ہے ۔اس کی مالکن کو قتل کرنے کے پانچ لاکھ ایڈوانس وصول ہو چکے ہیں۔پھر یہ بھی تو دیکھو اتنی قیمتی کار پر کس کا شک جائے گا، جب اندر ایک خوب صورت لڑکی بھی بیٹھی ہو ۔چاہے وہ سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کےے بیٹھی ہو؟….دیکھنے والے تو اسے ایک انداز ہی سمجھیں گے ۔پولیس والے بھی ایسے سین سے جلد متاثر ہوتے ہیں اور چیکنگ کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔“

اسی وقت ایک اور آدمی اندر داخل ہوا ۔”سلام باس !“کہہ کر وہ بغیر اجازت کے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا تھا۔کامی نے سر کے اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا ۔

جیرے نے پوچھا ۔”میں اب جا سکتا ہوں ؟“

”ہاں ٹھیک ہے تم جاو¿۔“وہ نوارد کی طرف متوجہ ہوا ۔”نقوی !….سناو¿ کیسا رہا ؟“

”باس پنکی صاحبہ کے والد نے تاوان کی رقم دینے سے انکار کر دیا ہے ۔اس کا مطالبہ ہے کہ پہلے ہم اس کی بیٹی کو رہا کریں پھر وہ ادائی کرے گا ؟“

کامی غصے سے بولا ۔”اس کی عقل گھاس چرنے تو نہیں گئی ہے ۔“

”وہ کہہ رہا تھا کہ ،اس کا کیا بھروسا ،کہ ہم رقم لے کر اس کی بیٹی کو رہا کر دیں گے ؟“

”اسے دھمکی نہیں دی کہ ہم اس کی بیٹی کے ساتھ کیا کچھ کر سکتے ہیں ؟“

”میری دھمکی سے پہلے ہی اس نے وضاحت کر دی تھی ۔کہہ رہا تھا جو لڑکی تم جیسے غنڈوں کے قبضے میں آ جاتی ہے اس کا عزت کے ساتھ واپس آنا یوں بھی ناممکن ہے ،اگر آ جائے تب بھی لوگ یقین نہیں کرتے ۔“

کامی خنجر زہر خند لہجے میں مسکرایا۔”ویسے کہہ تو ٹھیک رہا تھا ۔تم سب پنکی بی بی سے مستفید ہو چکے ہو۔ اب تو وہ احتجاج کرنا بھی چھوڑ چکی ہے ۔“

”باس !….سنا ہے ایک نیا پٹاخہ بھی آیا ہے ؟“نقوی نے ندیدے پن سے ہونٹوں پر زبان پھیری۔

”ہاں !….لیکن وہ فی الحال میرے تصرف میں رہے گی ۔“

”تو ہمیں کب بہرہ مند ہونے کا موقع ملے گا ؟“

”شاید کبھی نہیں ۔“کامی خنجر نے نفی میں سر ہلایا۔”پرسوں وہ خود کش بمبار کا فریضہ ادا کرنے والی ہے ۔“

”باس یہ تو زیادتی ہے ۔مرنا تو اس نے یوں بھی ہے ۔“نقوی نے احتجاج کیا۔

”اچھا میں دیکھتا ہوں ،شاید میرا دل آج ہی اس سے سیر ہو جائے ۔اور کل تمھیں کچھ وقت بتانے کا موقع مل جائے ۔“

”تو باس !….پنکی کا کیا کریں ؟۔ڈیڑھ ماہ سے مفت کھلاپلا رہے ہیں اور وہ حرام خور اپنے بینک اکاو¿نٹ پر سانپ بن کر بیٹھا ہے ۔اتنا عرصہ تو ہم نے کبھی انتظار نہیں کیا ؟“

کامی ہنسا ۔”مفت کہاں کھا رہی ہے بے چاری ؟“

”پھر بھی ،اس کنجر کو کچھ تو حیا کرنی چاہےے ،آخر بیٹی ہے اس کی ۔ایک ڈیڑھ لاکھ ہی دے دیتا توکافی تھا ۔ ہماری سبکی تو نہ ہوتی ؟ “

”ہم نے کون سا پنکی کو تاوان کے لےے اغوا کیا تھا ۔بس فیشن ایبل لباس پہنے بازار میں مٹکتے دیکھا ، دل آ گیا اور اٹھا لائے ۔“

”اب امید تو یہی ہے کہ برقع اوڑھ کر نکلا کرے گی ۔“نقوی نے قہقہہ لگایا۔

کامی نے کہا ۔”ویسے اس کا تعاون دیکھ کر تو اسے رہا کرنے کو دل چاہتا ہے ؟“

”باس !….ریکارڈ خراب ہو جائے گا ؟“

”اچھا ٹھیک ہے ،یہ بعد کا مسئلہ ہے ۔اب تم جاو¿ آرام کرو ۔شاید مس پنکی بھی تنہائی محسوس کر رہی ہو؟“

” تم!…. نے اس وقت نئے پھول کا رس چوسنا ہو گاہے نا؟“نقوی حسد بھرے لہجے میں بولا ۔اور کامی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔اسے واقعی مسکان کی یاد ستانے لگی تھی ۔ اس جیسی لڑکی آج تک اس کی نظر سے نہیں گزری تھی ۔الماری سے وہسکی کی بوتل اور خالی گلاس نکال کروہ اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ قید تھی ۔اس کے پاس آج اور کل کا دن تھا ۔اس کے بعد اس بھولی بھالی ،کومل اور موہنی صورت نے یوں بھی کسی کی لالچ کی بھینٹ چڑھ جانا تھا۔

٭……..٭

دانیال کے لےے آرام کرنا دشوار ہو گیا تھا ۔وہ درد ِ قولنج کے مریض کی طرح تڑپتا رہا ۔اس کی جانِ حیات غائب تھی جانے وہ کہاں چلی گئی تھی ۔ وہ زیادہ دیر چارپائی پر نہ لیٹ سکااور اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا ۔ پھر اس کا کمرے میں دم گھٹنے لگا اور وہ صحن میں نکل آیا ۔اپنی ماں کو اس نے یہ روح فرسا خبر نہیں سنائی تھی۔

”کاش مجھے پتا چل جاتا کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے ۔“وہ بڑبڑانے کے انداز میں خود کلامی کرتا رہا ۔ اور پھر اس نے پوری رات اسی طرح بتا دی ۔صبح کی اذان کے ساتھ اس کے قدم مسجد کی طرف بڑھ گئے ۔

جانے کتنی دیر وہ سجدے میں پڑا اپنی مشی کی سلامتی کی دعائیں مانگتا رہا ۔مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جو چیز مقدر ہو جائے وہ دعا سے نہیں ٹلا کرتی ۔

مسجد سے واپس آکر وہ کمرے میں گھس کر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ پھر فریحہ کی کال آگئی ۔اور یہ جان کر تو سچ مچ اس کے قدموں سے زمین سرکنے لگی کہ اس کی مشی کسی کی قید میں ہے ۔

اسے گھر میں آرام نہ آیا وہ باہرنکل آیا اوراور بغیر کچھ سمجھے بوجھے نامعلوم سمت میں اس کے قدم اٹھتے رہے ۔ اسی دوران اسے ایک بار پھر فریحہ کی کال موصول ہوئی ۔وہ اپنے گھر واپس جانے کی بابت بتلا رہی تھی ۔ اور یہ کہ اس وقت تک بلیک میلر سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا ۔وہ بہت دیر تک چلتا رہا ۔ خالی نظروں سے ارد گرد کے مناظر دیکھتا رہا۔اسی طرح چلتے چلتے اسے پتا ہی نہ چلا کس وقت اپنے گھر کے دروازے پر لوٹ آیا۔عائشہ خاتون بیٹے کے چہرے پر چھائی وحشت دیکھ کر حیران رہ گئی تھی ۔

”دانی بیٹا!….کیا ہوا؟“اس نے پریشانی کے عالم میں پوچھا ۔

اور دانیال بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا ۔وصال کی گھڑیاں کتنی مختصر ثابت ہوئی تھیں اسے پتا ہوتا تو وہ کبھی مشی کو واپس نہ جانے دیتا ۔

اسے آنسو بہاتے دیکھ کر عائشہ کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا ۔وہ اس کا سر چھاتی سے لگا کر اسے تھپکنے لگی۔”آخر کچھ پتا تو چلے دانی !….ہوا کیا ہے ؟….کیا مسکان بیٹی سے جھگڑا ہوا ہے ؟“

اس مرتبہ دانیال نے نفی میں سر ہلایا اور بہ مشکل بولا ۔

”امی جان !….میری مشی کو کسی نے اغوا کر لیا ہے ۔“

”کیا ؟….مگر کیسے ؟“

”وہ کل صبح گھر سے نکلی ….ضرور یہاں آ رہی ہو گی ۔اور کسی نے اسے اغوا کر لیا ۔اب اغوا کار دس کروڑ روپے مانگ رہا ہے ۔“

”ہائے او میرے ربا ،….پتر !….اتنی رقم ہم کہاں سے لائیں گے ؟“

”یہ مطالبہ انھوں نے مشی کے بھائی سیٹھ فہیم سے کیا ہے ۔“

”تو مسکان بیٹی کا بھائی سیٹھ ہے ؟“

”ہاں ماں جی !….مشی کا والد بہت امیر آدمی تھا ۔“

”تو اس کے بھائی نے ،ان بد بختوں کو کیا جواب دیا ….پتا نہیں کیا حال ہو گا میری پھول سی بچی کا؟“

”وہ دس کروڑ دینے پر تیار ہو گیا ہے امی ۔اور اب وہ ڈاکوں کے فون کا انتظار کر رہے ہیں کہ کس وقت وہ انھیں رقم لانے کا بتاتے ہیں ۔“

” رقم کے بجائے جوتے پڑنے چاہییں ان بدبختوں کے سر پر ۔“عائشہ انھیں کوسنے لگی ۔

”ماں جی !….اس طرح وہ مشی کو کوئی نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ؟“

”تو یہ موئی پولیس ایسے لوگوں کو کیوں نہیں پکڑتی ؟“

”سامنے تھوڑی آتے ہیں یہ بدبخت ۔چھپے ہوتے ہیں ۔جو پکڑا جاتا ہے اپنے انجام کو پہنچتا ہے ماں جی !“

اور عائشہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلانے لگی ۔

٭……..٭

”کامی صاحب !….انسپکٹر اسلم اور عبداللہ دونوں خفیہ پولیس کے آدمی ہیں اور آپ تک وہی رقم پہنچائیں گے۔ اس کے علاوہ بھی ان کے کچھ بندے تم لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہوںگے ۔ “حماد نے کال کر کے کامی خنجر کو تفصیلی آگاہی دی ۔

”میں جانتا ہوں حماد !….یہ سیٹھ اتنی آسانی سے رقم کی ادائی نہیں کرتے ۔بہ ہر حال تم فکر نہ کرو کل تک تمھیں اپنی بیوی کی لاش مل جائے گی ۔گو ٹکڑوں میں بٹی ہوگی ۔مگر تم نے دفنانا ہی ہے نا ؟“

”ٹھیک بقیہ رقم کے لےے کوئی آدمی بھیج دینا ،یا میں خود پہنچا دوں گا ۔“

” وہ رقم تھری ٹو ون ہوٹل کے منیجر کو دے دینا ،سمجھو مجھے مل گئی ۔“

”ٹھیک ہے جناب اور بہت بہت شکریہ۔“حماد خوشی سے چہکا ۔دولت و عزت اس سے چند قدم ہی دور تھی ۔

”نہیں شکریہ تو مجھے ادا کرنا چاہےے ۔یقین کرو اتنی بھرپور لڑکی زندگی میں نہیں ملی ۔دل ہی نہیں کر رہا اسے مارنے کو ۔اگر تمھارا معاملہ نہ ہوتا تو میں اسے مستقل پاس رکھ لیتا ۔“

”اگر اس کی موت ضروری نہ ہوتی تو میری بلا سے وہ ساری زندگی تمھاری آغوش میں پڑی رہتی ۔“

”اچھا کوئی بات نہیں یار !….آج کا دن اور رات ہی کافی ہے میرے لےے ۔“

”کیوں رات مہمان نوازی دی تھی ؟“حماد گھٹیا پن سے بولا ۔

”نہیں یار !….رات بھی اس کی معیت میں گزری ہے ۔بس اچھلتی کودتی زیادہ ہے ۔لیکن کوئی بات نہیں مردکو تو اصل مزہ بھی اسی اچھل کود میں آتاہے ۔“

”اوکے !….کوئی نئی بات ہوئی تو میں تمھیں میسج یا کال کر کے مطلع کر دوں گا ۔“

”گڈ بائی۔“ کہہ کر کامی نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

حماد اس وقت سیٹھ فہیم کے گھر آیا ہوا تھا ۔یہ ساری تفصیل اس نے کوٹھی کے باغ میں جا کر کامی کو بتائی تھی ۔ یہاں وہ ٹہلنے کے بہانے نکلا تھا ۔دونوں انسپکٹر ،سیٹھ فہیم سے رقم کا بریف کیس لے کر چلے گئے تھے ۔ ان کی تمام گفتگو کے دوران حماد ان کے پاس ہی بیٹھا رہا تھا ۔سیٹھ وسیم نے بھی اپنے دوتین دوستوں کو بلایا ہوا تھا۔جب وہ دوبارہ اندر داخل ہوا توسیٹھ وسیم کا ایک دوست وہاں پہنچاہوا تھا ۔

رسمی تعارف کے بعد حماد کو پتا چلا کہ اس کا تعلق کسی خفیہ ایجنسی سے ہے ۔اور اس کا نام احمدہے ۔ حماد کا دل بے طرح دھڑکنے لگا ۔ ان ایجنسی والوں سے کوئی بعید نہیں تھا ۔

”وہ کسی ایک نمبر سے کال کرتا ہے یا نمبر بدل بدل کر کال کرتا ہے ؟“احمد وسیم کی طرف متوجہ تھا ۔

وسیم کے بجائے فہیم نے جواب دیا ۔”وہ ہماری بہن کا سیل فون استعمال کر رہا ہے ۔ دونوں مرتبہ اسی سے کال رسیو ہوئی ہے ؟“

”مجھے نمبر لکھواو¿۔“اس نے اپنا موبائل نکال کر پوچھا ۔

”فہیم نے مسکان کا نمبر دہرا دیا ۔

نمبر نوٹ کر کے احمد کسی کو کال کرنے لگا ۔

”ایک نمبربھیج رہا ہوں لوکیشن ٹریس کرو ۔“مختصر سا پیغام دے کر وہ دوبارہ فہیم کی طرف متوجہ ہو کر مختلف سوال پوچھنے لگا ۔

حماد کے لےے وہاں بیٹھنا دو بھر ہو رہا تھا ۔چند لمحوں کے بعد وہ واش روم جانے کے بہانے وہاں سے اٹھ گیا۔واش روم میں گھستے ہی اس نے سرعت سے کامی خنجر کو میسج لکھا ۔

”مسکان کا سیل فون استعمال نہ کرنا ،نمبر کو ٹریس کیا جا رہا ہے ۔انھوں نے خفیہ ایجنسی کا ایک بندہ بلوا لیا ہے ، احتیاط کرو۔“

میسج بھیج کر اس نے میسج کو اپنے سیل فون کے سینٹ باکس سے مٹایا اور ہاتھ دھو کر واش روم سے باہر نکل آیا ۔

ملازم چاے کی ٹرالی دھکیل کر اندر لا رہا تھا ۔

حماد کو کامی کی طرف سے ”اوکے تھینکس ۔“کا میسج موصول ہوا اور اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے ۔

چاے پی کر احمد نے کچھ ضروری تفصیلات فہیم سے پوچھیں ، چند سوالات حماد سے پوچھے اور اجازت لے کر چلا گیا ۔اغوا کار نے چار بجے کا وقت دیا تھا اور وہ خود بھی بہ نفس ِ نفیس وہاں حاضر رہنا چاہتا تھا ۔

اس کے جانے کے بعد بھی وہ تینوں پریشان صورتیں لےے وہیں بیٹھے رہے ۔خاص کر حماد نے تو بالکل رونے کی سی صورت بنائی ہوئی تھی ۔اسے دیکھ کر کوئی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ اصل مجرم وہی ہے ۔

سوا چاربجے انھیں انسپکٹر عبداللہ کی کال موصول ہوئی کہ ابھی تک اغوا کار نے ان سے بات نہیں کی تھی ۔ ساڑھے چار بجے فہیم کو پی ٹی سی ایل نمبر سے کال آئی ۔اس نے بے صبری سے کال اٹینڈ کی ۔

”سیٹھ صاحب !….بتایا تھا نا ؟….چالاکی سے کام نہیں چلے گا ۔یہ خفیہ پولیس کا انسپکٹر تو نے بہن کی بارات میں شامل ہونے کے لےے بھیجا ہے ؟“

فہیم نے بڑی مشکل سے غصہ کنٹرول کیا ۔”وہ آدمی تم تک رقم پہنچانے کے لےے بھیجا ہے۔“

”خود آ جاتے ؟“

”تاکہ بہن کے ساتھ میں بھی تمھاری قید میں چلا جاتا ۔“

”بہ ہر حال تمھاری یہ غلطی ناقابلِ معافی ہے ۔“ اس نے رابطہ منقطع کر دیا اورفہیم پریشانی کے عالم میں اسے آوازیں دیتا رہا گیا۔

”کیا ہوا بھیا ؟“حماد نے رو دینے والے لہجے میں پوچھا ۔

”اسے پتا چل گیا ہے کہ ہم نے خفیہ پولیس کے انسپکٹر کو پیسے دے کر اس کے پاس بھیجا ہے ۔“سیٹھ فہیم کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہورہی تھی ۔اغوا کار کے لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جس نے سیٹھ فہیم جیسے آدمی کو بھی لرزا دیا تھا ۔

”بھیا !….میں نے کہا تھا نا ایسا نہ کریں ؟“حماد نے رومال نکال کر آنکھوں پر رکھ لیا ۔ اب اس بات سے وہ واقف نہیں تھے کہ اس نے رومال پہلے سے گلسرین میں بھگویا ہوا ہے ۔اس کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے ۔ وسیم اور فہیم کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں تھیں ۔

٭……..٭

”بھائی صاحب !….آگے جلوس آ رہا ہے ۔اگر آپ واپس مڑ جائیں تو بہتر ہو گا ۔“ پولیس سپاہی نے نئی بی ایم ڈبلیو کے ڈرائیور کو بتایا۔اسی لمحے اس کی نظر عقبی نشست پر پڑی ۔سیاہ گاو¿ن پہنے ایک لڑکی سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔ اس کے چہرے سے نقاب ہٹا ہوا تھا ۔ سوتے ہوئے وہ جنت کی حور دکھائی دے رہی تھی ۔سپاہی بہ مشکل ہی اس کے ملیح چہرے سے نظریں ہٹا پایا تھا ۔

”نہیں جناب !….میں نے اسی طرف سے جانا ہے ۔بے بی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ اور اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے اگر ذرا بھی دیر ہو گئی تو کمشنر صاحب میری چمڑی ادھیڑ دیں گے ۔“

”کمشنر صاحب ؟“پولیس سپاہی نے تھوک نگلتے ہوئے کہا ۔”سر !….میں تو آپ کے فائدے کے لےے کہہ رہا تھا ۔اگر آپ اسی طرف سے جانا چاہتے ہیں تو بہ صد شوق جا سکتے ہیں ۔“

ڈرائیور سر کے اشارے سے اس کا شکریہ ادا کرتا ہوا آگے بڑھ گیا جبکہ پولیس سپاہی ودسری کار کو ہاتھ دے کر روکنے لگا ۔

اس ناکے سے آگے بڑھ جانے والی وہ واحد گاڑی تھی ۔جب وہ کار جلوس کے قریب پہنچی اس وقت جلوس ایک بڑے میدان میں داخل ہو رہا تھا ۔ وہاں شامیانے اور قناتیں پہلے سے لگی ہوئی تھیں ۔ڈرائیور نے کار اس رستے کے کنارے روک دی جہاں سے جلوس نے میدان میں داخل ہونا تھا ۔جب تک جلوس گزر نہ جاتا اس کا آگے بڑھنا مشکل تھا ۔جلوس کے گزرنے کا انتظار کرنے کے لےے وہ کار سے باہر نکلا اور موبائل فون نکال کر کسی کو کال کرنے لگا۔

”بس سر !….آدھے گھنٹے میں پہنچ جائیں گے ……..ہاں جلوس میں پھنس گئے ہیں ۔“باتیں کرتا ہوا وہ آہستہ آہستہ کار سے دور ہٹنے لگا ۔شرکائے جلوس اپنی نعرہ بازی میں مشغول تھے ۔کسی نے اس پر دھیان نہیں دیا۔اور پھر کار سے قریباََ سو گز کی دوری پر آنے کے بعد اس نے ۔

”اوکے سیف ۔“کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا اور جلوس کے ساتھ شامل ہو کر اس کا حصہ بن گیا ۔ اس کے بعد وہ مزید چند گزچل سکا ہوگا کہ اچانک ایک زور دار دھماکا ہوا اور بھگدڑ مچ گئی ۔وہ اطمینان سے وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔کار ہزاروں ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر بکھر گئی تھی ۔اس کے قریب سے گزرنے والے کئی افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ۔زخمیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی ۔لوگ خوفزدہ ہو کر اس جگہ سے دور ہٹتے جا رہے تھے ۔کچھ ہمدرد دل رکھنے والے زخمیوں کو سنبھالنے لگ گئے تھے ۔وہ ان سب سے بے نیاز ایک مخصوص سمت میں چلتا رہا جلد ہی وہ اس علاقے سے نکل آیا تھا ۔موبائل فون نکال کر وہ کامی خنجر کو کامیابی کی اطلاع دینے لگا ۔

٭……..٭

سیٹھ فہیم اس وقت افسردہ سا اپنے بیڈ روم میں لیٹا تھا ۔اس کی بیوی فہمیدہ اس کا سر دبا رہی تھی ۔اغوا کنندہ کی کال اس کے بعد نہیں آئی تھی ۔اسے سخت پریشانی لاحق تھی ۔مسکان اسے بہن کے بجائے بیٹی کی طرح عزیز تھی ۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ بد بخت پولیس والوں کو اس آسانی سے پہچان جائے گا ۔خود انسپکٹر عبداللہ اور اور اسلم بھی سخت حیران تھے کہ اس تک یہ بات کس نے پہنچائی ہے ۔

وہ انھی سوچوں میں سرگرداں تھا کہ اچانک موبائل فون کی گھنٹی نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔ نامعلوم نمبر سے کال آ رہی تھی ۔

”سیٹھ صاحب !….اگر ٹی وی نزدیک ہے تو کھول کر بریکنگ نیوز سن لو ،بڑی دلچسپ خبر آ رہی ہے؟“ اس نے اغو ا کنندہ کی مکروہ آواز بڑی آسانی سے پہچان لی تھی ۔

”کک ….کیسی خبر ؟“سیٹھ فہیم حواس باختہ ہونے لگا تھا ۔

”کسی جلوس میں دھماکا ہوا ہے ۔دھماکا خیز مواد ایک نئی بی ایم ڈبلیو میں فٹ کیا گیا تھا ۔ کار کا نمبر MS-2020ہے ۔اور ہاں کالے گاو¿ن میں ملبوس ایک جوان لڑکی کی لاش کی کے ٹکڑے بھی ملے ہیں ۔جس نے کانوں میں ہیرے کے ٹاپس اور گلے میں سونے کا لاکٹ پہنا تھا ۔ بے چاری کو اجتماعی زیادتی کا شکار بھی بنایا گیا تھا ۔ ویسے آپ تو سوچیں گے نا ؟سیٹھ صاحب !….کہ اتنے قیمتی ٹاپس اور لاکٹ اس کے پاس چھوڑنا میری بے وقوفی تھی ۔ دھماکے میں یہ چیزیں خراب ہو ہو گئی ہو ں گی ۔بہ خدا میں نے بھی یہی سوچ کر اتار لی تھیں ۔اگر آپ کو چاہیے ہوں تو مل سکتی ہیں ۔آخر بہن کی نشانی تو پاس ہونی چاہےے نا …. بس اس کے بدلے ایک کروڑ کی ادائی کر دیجےے گا؟“

”کتے !….میں ….میں تمھیں زندہ دفنا دوں گا ،میں ….میں ……..“مگر اس کی بات پوری ہونے سے پہلے اس نے قہقہہ لگا کے کال منقطع کر دی ۔سیٹھ فہیم نے موبائل فون دیوار پر کھینچ مارا۔فہمیدہ بھی پریشان ہو کر رونے لگی تھی ۔

سیٹھ فہیم متوحش سا اٹھ کر ننگے پاو¿ں بھاگتا ہوا ٹی وی کی طرف بڑھا ۔ٹی وی پر بڑے زور و شور سے دھماکے کی بریکنگ نیوز چل رہی تھی ۔مرنے والوں کی تعدادپچیس تیس تک پہنچ گئی تھی جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی ۔ نیوز کاسٹر بتا رہی تھی کہ دھماکا ایک کریم کلر کی نئی بی ایم ڈبلیو میں ہوا تھا ۔عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ کار کی عقبی نشست پر ایک لڑکی کالے گاو¿ن میں ملبوس موجود تھی ۔نیوز کاسٹر جانے اور بھی کیا کیا بتاتی رہی مگر سیٹھ فہیم ٹی وی کے سامنے سے ہٹ گیا ۔ فہمیدہ وسیم کو بلا لائی تھی ۔حماد بھی ابھی تک وہیں موجود تھا وہ بھی وسیم کے ساتھ بھاگا چلا آیا تھا ۔

”بھائی کیا ہوا ؟….بھابی بتا رہی ہیں کوئی بری خبر ہے ۔“

”وسیم !….مسکان ……..“یہ کہتے ہی سیٹھ فہیم رو دیا ۔

”بھیا !….میں سمجھا نہیں ؟“وسیم کا دل بھی بے طرح دھڑکنے لگا تھا ۔

فہیم نے ٹی وی سکرین کی طرف اشارہ کیا ۔

”ہاں تو کیا ہوا ؟….دھماکے کی بریکنگ نیوز چل رہی ہے نا ؟یہ کوئی نئی بات تو نہیں؟“

”یہ دھماکا مسکان کی کار میں ہوا ہے ۔“فہیم نے نم آنکھوں سے فقرہ پورا کیا ۔

”نہیں ۔“حماد زور سے چیخ مارتے ہوئے دھڑام سے گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔

وسیم جلدی سے بیٹھ کر اسے سنبھالنے لگا فہمیدہ بھی اس کے بوٹ کھول کر پاو¿ں کی مالش کرنے لگی تھی۔فہیم اپنی پریشانی پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوا فون کا رسیور اٹھا کر فیملی ڈاکٹر کو فون کرنے لگا ۔

اس کے بعد اس نے پولیس ایس پی کو فون کر کے دھماکے میں استعمال ہونے والی بہن کی کار کے بارے مختصر سا بریف کیا اور فون بند کر دیا ۔وہ خود کو اس حادثے کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا ۔خاص کر اسے حماد کا سامنا کرنے کے خیال سے پریشانی ہو رہی تھی جو آخر تک یہی پیٹتا رہا تھا کہ انھیں تاوان کی رقم ادا کر دینا چاہےے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: