Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 24

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 24

–**–**–

دھماکے کی خبر فریحہ نے ٹی وی پر سنی تھی ۔اور یہ کوئی ایسی انوکھی خبر نہیں تھی کہ اس پر غور کیا جاتا ۔وطن عزیز میں تو آئے روز یہ تماشا لگا رہتا ہے ۔وہ چینل بدلنے ہی لگی تھی کہ اچانک نیوز کاسٹر اس خبر پر تفصیل سے روشنی ڈالنے لگی ۔ کریم کلر کی بی ایم ڈبلیو MS-2020اس کے دماغ میں بے چینی کی لہر اٹھی ۔

”MS-2020۔“وہ بڑبڑائی ۔”یہ نمبر تو ….نہیں ۔“اچانک ایک جھماکے کی طرح اس کے دماغ میں آیا ۔ ”یہ تو باجی کی کار کا نمبر ہے ۔“چینل بدلی کرنے کا ارادہ مو¿خر کرتے ہوئے وہ غور سے خبر سننے لگی ۔ کالے گاو¿ن میں ملبوس لڑکی کی تباہ ہونے والی کار میں موجودی کی خبر نے اس کے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی ۔

موبائل فون نکال کر وہ حماد کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔بیل جانے کے باوجود کوئی کال اٹینڈ نہیں کر رہا تھا۔

اس نے لائن فون پر کال کی جو ملازما نے رسیو کی اور بتایا کہ حماد سیٹھ فہیم کے ہاں ہی موجود تھا ۔

وہ گھر سے باہر نکلی اور تھوڑی دیر بعد وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھی سیٹھ فہیم کے گھر کی طرف جا رہی تھی ۔

وہاں جا کر مسکان کی موت کی خبر کی تصدیق ہوئی اور اس کے دل کو کچھ ہونے لگا ۔اس کی مخلص باجی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔گھر میں قریبی رشتا داروں کی آمد جاری تھی۔ سیٹھ فہیم مسکان کی لاش لینے گیا ہوا تھا ۔لا ش کیا؟ جسم کے چند ٹکڑے اور لباس کی کچھ دھجیاں ہی تھیں۔مگر اپنی محبت اور عقیدت کو مرکز دینے کے لےے انھوں نے قبر تو بنانی تھی ۔

حماد کے بارے یہ جان کر کہ وہ مسکان کی موت کی خبر سن کر بے ہوش ہوگیا تھا۔فریحہ حیران رہ گئی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی اسے شک ہوا کہ اس کارروائی میں کہیں حماد کا ہاتھ نہ ہو وہ جتنا سوچتی گئی اس کا یقین پختہ ہوتا گیا ۔

آخر کار اس نے حماد کو جانچنے کا فیصلہ کر لیا اور مسکان کی بھابی فہمیدہ کی معیت میں اس کمرے کی طرف بڑھ گئی گھر کی عورتیں اسے مسکان کی قریبی سہیلی سمجھ رہی تھیں ۔

”آپ اور حماد ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے ؟“حماد کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے فہمیدہ نے اس سے تصدیق چاہی ۔

”ہاں ۔“وہ مختصراََ بولی ۔

کمرے کے دروازے پر رک کر فہمیدہ بولی ۔”اسے جگانا مت ؟….اگر خود سے جاگ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہیں ڈرائینگ روم میں آجانا۔“وہ واپس مڑ گئی ۔

فریحہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔حماد بیڈ پر سیدھا لیٹا ہوا تھا ۔وہ سبک قدموں سے چلتی اس کے قریب پہنچی۔

”Congratulation(مبارک باد)حماد !“وہ دھیرے سے بولی ۔

مگر حماد اسی طرح لیٹا رہا ۔

”حماد !….بس کرو یہ ڈراما بازی ،میں جانتی ہوں تمھیں باجی کی موت کا اتنا غم نہیں ہو سکتا؟….اتنا غم تو شاید تمھیں میری موت کا بھی نہ ہو ؟“

حماد کی پلکیں وا ہوئیں اور وہ مسکراتے ہوئے اٹھ بیٹھا ۔

”فری!….میں یہی چاہتا تھا مگر میں نے ایسا کیا نہیں ہے ….قدرت میری مدد کر رہی ہے ؟“

”مجھے یقین نہیں آتا ؟….“

”کیوں ….مجھ سے اعتبار اٹھ گیا ہے ؟“

” میں بھی کہوں ،تم کیسے اتنی جلدی باجی کی جان چھوڑنے پر آمادہ ہو گئے تھے ؟“

”فری!….جو ہوا اسے بھول جاو¿۔اب خوابوں کی تعبیر پوری ہو گئی ہے ۔سیٹھ فہیم کی نظروں میں میری وقعت بہت بڑھ گئی ہے ۔اور اب مسکان کی موت کے بعد اس کا وارث میں ہوں ۔“

”تم کیسے اس کے وارث ہو سکتے ہو ؟جبکہ وہ دانیال کی بیوی تھی ؟“

”ہونہہ !….دانیال ؟….اس کے ساتھ میں اتنی بھلائی کر سکتا ہوں کہ وہ دکان اور مکان اس سے واپس نہ لوں۔“

”حماد صاحب !….تو نے بہت برا کیا ؟….بہت زیادہ ۔کاش سیٹھ فہیم میری بات پر یقین کر لیتا تو میں اسے ساری کہانی بتا دیتی ،مگر وہ یقین نہیں کرے گا ۔مگر یاد رکھنا میں تم سے باجی کا موت کا ایسا بدلہ لوں گی کہ تمھاری ساری خوشی خاک میں مل جائے گی ۔“ فریحہ یہ کہتے ہوئے واپس مڑگئی ۔

”فری ….فری….“حماد اسے آوازیں دیتا رہ گیا ۔

٭……..٭

دانیال نے آنسو بہاتی فریحہ کی ساری بات سنی مگر جواباََ کچھ نہیں کہا تھا ۔فریحہ سیٹھ فہیم کے گھر سے سیدھااسی کے پاس پہنچی تھی ۔

”دانی !….تم ٹھیک تو ہو ؟“اسے خاموش بیٹھے دیکھ کر وہ پریشانی سے مستفسر ہوئی ۔

اس نے سر اٹھا کر فریحہ کی آنکھوں میں جھانکا۔

”پتا نہیں ؟….شاید یہ سننے سے پہلے مجھے مر جانا چاہےے تھا ….ہے نا ؟“

وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی ۔”دانی !….تم ایک باہمت مرد ہو ،اس سے پہلے تم نے باجی کی جدائی کو بڑی ہمت اور حوصلے سے برداشت کیا تھا ۔سمجھو وہ اب تک تم سے دور ہے ۔“

”فری!….اس نے مجھے دھوکا دیا ۔“دانیال کی آنکھوں میں اتری نمی گالوں پر بہنے لگی ۔ فریحہ نے سکھ کا سانس لیا۔ اسے امید تھی کہ رونے سے دانیال کا دکھ ہلکا ہو جائے گا ۔

”دانی !….موت کے سامنے تو کسی کی نہیں چلتی نا ؟….ورنہ وہ تو تمھاری جانب لوٹ آئی تھی ؟“

وہ گلو گیر لہجے میں بولا۔”لوٹی نہیں تھی ….مرنے سے پہلے اپنی صفائی پیش کرنے آئی تھی ۔“

”ایسا نہیں کہتے پگلے !….موت کے وقت کا کس کو معلوم ؟“

”پتا نہیں چلا ….یہ کس کاکام ہے ؟“

”نہیں ،اور اب میں چلتی ہوں ۔جنازے کا وقت کنفرم کر کے تمھیں فون پر بتا دوں گی ۔“

”کہاں جا رہی ہو ؟“

”باجی کے گھر ،اب تک شاید ان کی میت پہنچ گئی ہو۔میں رات وہیں گزاروں گی ۔“

”کیا میں تمھارے ساتھ چل سکتا ہوں ؟“

”نہیں ،میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دے سکتی ۔مجھے تم پر اعتبار نہیں ۔باجی کی لاش دیکھ کر شاید تم حواس کھو بیٹھو۔“

”مم….میں کوشش ……..؟“

”نہیں دانی !….تم یہیں رہوگے ۔اور پگلے کس رشتے سے وہاں جاو¿ گے ؟….یہ نہ ہو تمھاری وجہ سے باجی کی عزت پر کوئی حرف آ جائے ؟….“

دانیال نے خاموشی سے سر جھکا لیا ۔وہ اسے دروازے تک چھوڑنے کے لےے نہیں اٹھا تھا ۔ یوں بھی اس حالت میں ہر قسم کے اخلاق بھول جاتے ہیں ۔کمرے سے نکل کر فریحہ نے نقاب درست کیا ،اسی وقت بیرونی دروازہ کھول کر عائشہ گھر میں داخل ہوئی ۔ایک نقاب پوش لڑکی کو دیکھ کر پہلے تو وہ خوشی سے کھل اٹھی کہ شاید مسکان ہے مگر پھر فریحہ کی چال ڈھال نے اس کی یہ غلط فہمی دور کر دی ۔

”اسلام علیکم آنٹی !….میں مسکان کی سہیلی، بلکہ چھوٹی بہن فریحہ ہوں ۔“

”وعلیکم السلام !….جیتی رہو بیٹی ۔آو¿ بیٹھو نا…. کہاں جا رہی ہو ؟“

”آنٹی !….میرے پاس وقت نہیں ہے شکر ہے آپ مجھے یہیں مل گئیں ۔دانیال کا خیال رکھےے گا ۔ باجی ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں ہیں ۔یہ نہ ہو دانیال کچھ غلط کر بیٹھے ؟“

”کک….کہاں ؟“

فریحہ سسکی۔”وہ نہیں رہیں آنٹی ۔“

”ہائے او میرے ربا!….“عائشہ نے اپنی چھاتی میں دوہتڑ مارے ۔

”آنٹی !….اگر آپ اس طرح ہوش و خرد کا دامن چھوڑ دیں گی تو دانی کو کون سنبھالے گا ؟“

اور اس مرتبہ عائشہ خاتون فریحہ کو الوداع کہے بنا دانیال کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا مسکان کا کتنا دیوانہ ہے ۔وہ خود کو کوئی نقصان بھی پہنچا سکتا تھا ۔

فریحہ بھی خاموشی سے وہاں سے نکل آئی ۔اسے علم تھا کہ ماں بیٹے کے لےے وہ بہت کڑا وقت ہے ۔ خود اس کا سینہ بھی غم و اندوہ سے پھٹ رہا تھا ۔مسکان کی شخصیت ہی ایسی سحر انگیز تھی۔حماد بھی جانے کس مٹی کا بنا تھا کہ اس کی معیت میں اتنا عرصہ گزارنے کے باوجوداس سے متاثر نہیں ہوا تھا ۔ اور اتنی مخلص لڑکی کے خون سے ہاتھ رنگ بیٹھا تھا ۔

٭……..٭

فریحہ کے جانے کے بعد حماد دوبارہ لیٹ کر سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگا ۔گو وہ جانتا تھا کہ فریحہ اس حد تک نہیں جا سکتی کہ حماد کو کوئی نقصان پہنچاے ۔اور اس وقت اس کا ردعمل بس جذباتی بیان بازی سے زیادہ اہمت نہیں رکھتا تھا ۔اسے یقین تھا کہ چند ماہ سے زیادہ وہ مسکان کا سوگ نہیں منائے گی اوراس کے بعد وہ اسے منا لے گا ۔

اس سب کے باوجود وہ ذہنی طور پر خود کو تیار کرنے لگا ۔فریحہ کے پاس حماد کو مجرم ثابت کرنے کے لےے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا ۔لے دے کے اس کی ذاتی گواہی تھی اور اس کے جواب میں حماد آسانی سے سیٹھ فہیم کو بتا سکتا تھا کہ وہ رقابت کے زیر اثر حماد پر الزام لگا رہی ہے ۔باقی دانیال سے مسکان کی شادی کا نہ تو دانیال کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت موجود تھا اور نہ مسکان کے پاس ۔الٹا اگر وہ دانیال کے ساتھ مل کر کوئی ایسا دعوا کرتی تو منہ کی کھاتی اور دانیال اپنی رہائش گاہ اور دکان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ۔

اسے سخت بھوک کا احساس ہوا ۔اس نے رات سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔لیکن اس حالت میں کھانا پینا اسے مشکوک بنا سکتا تھا ۔وہ خاموشی سے لیٹا رہا ۔دولت حاصل کرنے کے لےے وہ کم از کم اتنی قربانی دے سکتا تھا ۔

وسیم کمرے میں داخل ہوا ۔حماد چہرے پر وحشت بھرے تاثرات طاری کےے اٹھ بیٹھا ۔

”کیسے ہو حماد ؟“وسیم اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔

جواباََوہ کچھ کہے بنا آنسو بہانے لگا ۔

”یار !….مرد ہو کر روتے ہو ؟“وسیم نے اسے تسلی دی ۔”وہ ہماری بھی تو بہن تھی ۔فہیم بھائی تو اسے بیٹیوں کی طرح چاہتے تھے ۔اب اگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا تو کیا کیا جا سکتا ہے ؟“

”میں اس خبیث کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ….میں اپنا سب کچھ اسے تلاش کرنے میں جھونک دوں گا اور جس دن وہ مجھے مل گیا ،میں اسے کتے کی موت ماروں گا ۔“

”ہم بھی تمھارے ساتھ ہیں ….اب اٹھ جاو¿ ،کچھ کھا پی لو کل سے کچھ نہیں کھایا؟“

”مجھے بھوک نہیں ہے بھیا ۔“

”دیکھو مرنے والوں کے ساتھ کوئی مر نہیں جایا کرتا ۔ابھی تک تم نے اس کی میت کو کندھا بھی دینا ہے ، اگر خود حرکت کے قابل نہیں رہو گے تواسے کیسے قبر میں اتارو گے ……..؟“وسیم اسے سمجھا بجھا کر کمرے سے باہر لے آیا ۔ کوٹھی میں خوب چہل پہل تھی ۔وسیم کے کہنے پر اس نے دکھاوے کے لےے ہلکی سی خوراک لی اور پھر مہمانوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا۔ اسی دوران سیٹھ فہیم ایک تابوت کے ساتھ آ ن پہنچا ۔تابوت کو دیکھ کر عورتوں میں رونے دھونے کی آواز بلند ہوئی ۔حماد وحشت زدہ سا اٹھ کر تابوت سے لپٹ گیا ۔فریحہ وہیں موجود تھی ،اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔حماد کی مکاری دیکھ کر اس کا دل پھٹنے لگا ۔اس کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر اس مکار دھوکے باز کی لٹیا بیچ چوراہے پھوڑ دے ،مگر وہ بے بس تھی اور جانتی تھی کہ اس کی بات کا کسی نے یقین نہیں کرنا تھا الٹا ایک ماتم والے گھر میں بد مزگی پھیل جاتی ۔وہ آنسو بہاتے ہوئے مسکان کے ایصال ثواب کے لےے زیر لب قرآنی آیات کا ورد کرنے لگی ۔

سیٹھ فہیم نے بڑی مشکل سے حماد کو تابوت سے جدا کیا اور اسے اپنے کمرے میں لے گیا ۔ حماد نے باآواز بلند رونا شرع کر دیا تھا ۔ان کا فیملی ڈاکٹر وہیں موجودتھا ۔سیٹھ فہیم کے کہنے پر اس نے حماد کو سکون آور انجیکشن لگایا اور اس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔اس کے واویلے کو دیکھ کر وہاں موجود لوگ اس کی مسکان سے محبت کے قائل ہو گئے تھے ۔ایک فریحہ ایسی تھی جو اس فراڈےے کے مکر و فریب سے واقف تھی مگر کسی دوسرے کو بتا نہیں سکتی تھی ۔ زندگی میں پہلی بار اس کے دل میںحماد کی نفرت اس شدت سے اجاگر ہوئی کہ وہ اسے دنیا کا مبغوض ترین آدمی نظر آنے لگا ۔یہ وہی حماد تھا جس کے لےے وہ اپنا سب کچھ لٹانے پر تیار تھی ۔اس نے سوچا ۔واقعی محاورہ بنانے والے برسوں کے تجربے کے بعد ہی کوئی بات کرتے ہیں کہ….” ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔“

اس کی فرشتوں ایسی شکل کے پیچھے ابلیس سے بھی بری صورت چھپی تھی ۔دوسری جانب دانیال تھا۔ جو دیکھنے میں حبشی النسل لگتا۔سیاہ کالا کلوٹا،مگر بہت مخلص ۔فریحہ کے دماغ میں اچانک غصے کی ایک لہر اٹھی اور وہ بے قابو ہو کر سیٹھ وسیم کی جانب بڑھی ….

وسیم کے نین نقش بالکل مسکان سے ملتے جلتے تھے ۔بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں بال بکھیرے وہ کھویا کھویا نظر آ رہا تھا یقینی طور پر اسے اپنی بہن سے بہت محبت تھی۔اس کے قریب جا کر اچانک مسکان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ واپس مڑ گئی ۔ماتمی ماحول میں فساد کا بیج بونا اسے بہتر نہ لگا ۔

وہ رات قریباََ سب نے جاگ کر گزاری ۔اور حماد مزے سے سوتا رہا ۔اس کے باوجود اس کی محبت سب سے فائق تھی ۔فریحہ جانتی تھی وہاں میت کے پاس جاگنے والوں کے علاوہ کوئی اور بھی جاگ رہا ہو گا ۔ جو اپنی مشی کا سچا عاشق تھا ،وہ جو اپنی مشی کے لےے سب کچھ قربان کر سکتا تھا ۔اگر اس کی جان کے بدلے مسکان کو زندگی مل سکتی تو اسے سو فیصد یقین تھا کہ وہ جان دینے سے دریغ نہ کرتا ۔ مسکان کا اصل وارث بھی وہی تھا مگر یہ بات سوائے فریحہ کے کوئی نہیں جانتا تھا ۔اور اس کا اتنا اثر و رسوخ نہیں تھا کہ کسی کو اپنی بات کا یقین دلا سکتی ۔

٭……..٭

وہ رات اس کی زندگی کی سب سے تاریک رات تھی ۔وہ ایک پل کے لےے بھی نہیں سو سکا تھا ۔مشی چلی گئی تھی اسے چھوڑ کر اس بات پر اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔”شاید یہ سچ نہ ہو؟یقینا وہ مر نہیں سکتی ؟“وہ خود کو بہلاتا رہا تسلیاں دیتا رہا ۔مگر یہ طفل تسلیاں تھیں۔ اور پھر رات بیت گئی ۔

صبح کی اذان ہوئی اور وہ اسے جگانے آ گئی ۔

”دانی !….نماز نہیں پڑھو گے ۔“اسے اپنے ماتھے پر گیلا لمس محسوس ہوا ۔وہ مسکرایا۔

” پڑھتا ہوں نا مشی !….اور یہ کیا ڈراما بنایاہوا ہے ؟میڈم فری، کہہ رہی ہے تم دھماکے میں مر گئی ہو بے وقوف کہیں کی ۔“

”ہا….ہا….ہا ۔“اس کا سریلا قہقہہ گونجا ۔”مگر میں تو تمھارے پاس ہوں دانی !…. انھیں بتانا مت ۔“

”ہاں کسی کو نہیں بتاو¿ں گا ۔مگر تم مجھے نظر نہیں آ رہی ہو ؟“

”آنکھیں بند کر کے دیکھو نا ؟“وہ ناز سے بولی ۔

”اس طرح بھی نہیں آ رہی ہو ؟“وہ چیخا ۔مگر اسے جواب نہ ملا ۔

”مشی ….مشی ….مشی !“وہ اسے آوازیں دینے لگا ۔عائشہ خاتون بھاگ کر اس کے کمرے میں آ گئی تھی.

”بیٹا !….تمھاری مشی بہت دور چلی گئی ۔“وہ اس کا سر چھاتی سے لگائے رونے لگی ۔

”امی جان !….یہ جھوٹ ہے ….یہ جھوٹ ہے ۔“وہ چیخا اور ساتھ ہی آنسو بہانے لگا ۔ عائشہ بھی روتی رہی ۔ اسی وقت اس کے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔

”دیکھو امی جان !….مشی کی کال آ گئی ۔“اس نے جلدی سے موبائل فون نکالا۔اور اٹینڈنگ بٹن پریس کیا ۔

”ہیلو مشی !….یہ تم ہو نا ؟“اس کی آواز میں شامل وحشت ،عائشہ کو ڈرانے لگی ۔

”دانیال ہو ش کرو ۔“دوسری طرف سے فریحہ نے اسے جھڑکا ۔

”فری !….مشی کو فون دو نا ؟….دیکھو میں نے اس سے بات کرنی ہے ۔“

”دانی !….وہ مر چکی ہے ۔سمجھ نہیں آتی تمھیں ؟“فریحہ کو اس کا رویہ ڈرا نے لگا ۔

”بکواس بند کرو ۔میری مشی نہیں مر سکتی ،ابھی مجھے جگانے آ ئی تھی نماز کے لےے ۔“

”سنو دانی !….تمھاری مشی کا جنازہ نو بجے ہو گا ۔اگر اسے چاہتے ہو تو اس کے جنازے میں ضرور شریک ہونا ورنہ وہ تم سے ناراض ہو جائے گی ۔“

”نہیں ،کہتے ہوئے اس نے موبائل پھینکا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔فریحہ کو اس کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔اور وہ جانتی تھی کہ اس کا رونا بہتر تھا ۔اس کے ذہنی خلجان کو دیکھتے ہوئے اس نے مسکان کے جنازے کی خبر سنائی تھی تاکہ وہ اس شاک سے نکل آئے ۔اسی وقت عائشہ نے موبائل اٹھا لیا ۔

”ہیلو !“

”آنٹی !….میں فریحہ بول رہی ہوں ۔باجی کا جنازہ نو بجے ہے ۔دانیال کو لازماََ بھیجنا ۔ اگر اس نے اپنے سامنے اسے دفن ہوتے نہ دیکھا تو شاید یہ کبھی یقین نہ کرے ۔“

”ہاں بیٹی !….میں کوشش کروں گی ۔“عائشہ سسکیاں بھرتے ہوئے بولی ۔

”کوشش نہیں آنٹی !….اسے لازماََ بھیجنا ۔اور اب اسے جی بھر کے رونے دو ،کوئی تسلی دینے کی ضرورت نہیں ۔ اسے ذہن نشین کراو¿ کہ مسکان فوت ہو چکی ہے ۔“

فریحہ نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

”امی جان !….فریحہ بھی جھوٹ رہی ہے ۔“

”بیٹا !….وہ سچ کہہ رہی ہے ۔مسکان بیٹی نہیں رہی ۔اور پتا ہے اس کا جنازہ نو بجے ہے ۔ تم لازماََ جانا،اگر نہیں گئے تو شاید اس کی روح تم سے خفا ہو جائے ۔“

اس بار دانیال نے تکرار نہیں کی اور اسی طرح آنسو بہاتا رہا ۔

٭……..٭

قبرستان میں پہنچنے تک وہ خود پر قابو پا چکا تھا ۔ مسکان کی میت لائی گئی وہ تابوت میں بند تھی ۔ دانیال کا دل چاہا کہ بھاگ کر تابوت سے لپٹ جائے مگر وہ اپنی خواہش کو عملی جامہ نہ پہنا سکا ۔فریحہ نے اسے سختی سے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے منع کیا تھا ۔یہ بات اسے ذہن نشین کرنے کے لےے فریحہ نے اسے مسکان کی عزت و آبرو کا واسطہ دیا تھا ۔ اور اپنی مشی کے لےے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا ۔

جنازہ پڑھ کر مسکان کی میت کو گڑھے میں اتارا گیا ۔وہ دور کھڑا دیکھتا رہا ۔اسے حماد بھی نظر آیا جو اس کام میں پیش پیش تھا ۔اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس بات کا مظہر تھے کہ اسے بھی مسکان کی موت پر افسوس تھا ۔

لوگ لاش پر مٹی ڈالنے لگے ۔دانیال نے بھی مٹھی بھر مٹی اٹھائی مگر پھر وہ اس کے ہاتھوں سے گر گئی ۔ اپنی مشی پر مٹی ڈالنے کے لےے اس دل راضی نہ ہوا۔اس نے سوچا ،”گلاب کے پھول پر بھی کوئی مٹی ڈالتا ہے ؟“

قبر تیار ہوئی گورگن نے اس پر پانی چھڑکا ۔تازہ پھولوں کا انبار قبر پر ڈال دیا گیا ۔آخر میں ایک مولانا صاحب نے دعا کرائی اور سب آہستہ آہستہ لوٹنے لگے ۔دانیال کھڑا رہا ۔تمام کے وہاں سے ہٹتے ہی وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا قبر کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔

”مشی !….بہت برا کیا تم نے، بہت برا ۔میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا ۔دھوکے بازبھول گئیں؟ کیا کہا تھا؟کہ اب کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاو¿ گی ۔کیا یہ وعدہ صرف ایک دن کے لےے کیا تھا ؟….بولو نا؟جواب دو ؟“وہ چیخا ۔ ”جواب نہیں ہے نا ؟…. ہو بھی کیسے سکتا ہے ؟جھوٹی ،دغا باز ،مکار۔“وہ رونے لگا اور پھر زمین پر لیٹ کر قبر کے ساتھ لپٹ گیا۔ گلاب کی پتیوں کی خوشبو کے ساتھ مٹی کی سوندھی سوندھی بو مل کر عجیب قسم کی خوشبو پیدا کر رہی تھی ،مگر یہ اس کی مشی کی خوشبو نہیں تھی ۔ منوں مٹی کے نیچے سے اس کی خوشبو آ بھی کیسے سکتی تھی۔ وہاں لیٹے ہوئے اسے بہت زیادہ سکون محسوس ہوا ۔دوپہر ڈھلی اسے نیند آگئی ۔وہ مسکان کے ساتھ ایک خوب صورت باغ میں چہل قدمی کر رہا تھا ۔ وہ ہنس رہی تھی قہقہے لگا رہی تھی ۔ زندگی سے بھرپور قہقہے ۔ وہ بھی اس کے ساتھ ہنسنے لگا ۔ مسکان کو ہنستا دیکھ کر اس کا دل خودبہ خود ہنسنے کو کرتا تھا ۔

٭……..٭

مسکان کی تدفین کے بعد جب سب واپس آ گئے تو وہ گھر لوٹ آئی ۔گزشتہ رات وہ پل بھر کے لےے نہیں سو سکی تھی۔گھر آ کر اس نے ناشتا کیا اور سو گئی ۔مرنے والے کے سو گ میں بھوکا پیاسا رہنے سے مرنے والے کا بھلا نہیں ہوتا ۔ البتہ وہ اس کے دشمن کو اذیت پہنچاکر خود کو تسکین دے سکتی تھی۔سہ پہر کو اٹھ کر اس نے چاے پی اور پھر دانیا ل کو کال کرنے لگی۔ چند گھنٹیوں کے بعد کال اس کی ماں نے ریسوکی ۔

”آنٹی !….دانی کہاں ہے ؟“

”جنازے پر گیا تھا بیٹی !….اب تک نہیں لوٹا ؟“

”کیا ….؟“وہ حیران رہ گئی ۔”جنازہ ہوئے تو کئی گھنٹے ہو گئے ہیں ؟“

”بیٹی !….میں خود پریشان ہوں ۔“

”شاید کسی دوست کے پاس چلا گیا ہو؟“

”دوست کے پاس تو وہ عام حالات میں بھی نہیںجاتا۔“

”شاید پریشانی کے باعث چلا گیا ہو؟“

”کیا کہہ سکتی ہوں بیٹی ؟“عائشہ کی آواز میں کرب کی آمیزش تھی ۔”ایک ہی بیٹا ہے ،اور اسے بھی موذی روگ لگ گیا ہے ۔“

”ٹھیک ہے آنٹی !….میں اسے ڈھونڈ لاتی ہوں ۔آپ فکر نہ کریں ،ان شاءاللہ آپ کے بیٹے کو کچھ نہیں ہو گا ۔“ فریحہ کے ذہن میںاچانک ایک خیال آیا اور اس نے جھٹ عائشہ کو تسلی دے دی ۔

”جیتی رہو بیٹی!….عائشہ نے کہا اور فریحہ کال منقطع کر کے گھر سے باہر نکل آئی، تھوڑی دیر بعد وہ ٹیکسی میں بیٹھی اس قبرستان کی جانب روانہ تھی جہاں مسکان کودفن کیا گیا تھی ۔اسے یقین تھا کہ مشی کا دیوانہ اسی کے پاس ہوگا ۔قبرستان کے باہر ٹیکسی رکوا کر اس نے ڈرائیور کو انتظار کرنے کا کہا اور اندر گھس گئی ۔گورگن سے اسے نئی قبر کی لوکیشن آسانی سے پتا چل گئی ۔

قبر کے ساتھ ہی اسے کوئی لیٹا نظر آیا وہ دانیال ہی تھا ۔اور گہری نیند میں تھا ۔اسے اس حالت میں دیکھ کر فریحہ کا دل کٹ سا گیا ۔سچ کہتے ہیں محبت انسان کو رسوا کر دیتی ہے ۔یہ محبت ہی تھی کہ وہ زندہ ہو کر مردوں کے درمیان اطمینان سے لیٹا تھا ۔

فریحہ نے اسے شانے سے پکڑ کر جھنجوڑا ۔

”دانی !….دانی !….اٹھو ۔“

وہ آنکھیں ملتا اٹھ بیٹھا ۔”فری!….تم ؟….یہاں کیا کر رہی ہو ؟“

”تمھیں ڈھونڈ رہی ہوں ،بے وقوف پتا بھی ہے آنٹی کتنی پریشان ہیںتمھارے لےے ؟“

”مم….میں تو یہیں تھا اپنی مشی کے پاس ۔وہ اصل میں پہلا دن تھا نا؟مشی کا قبر میں ،میں نے سوچااسے ڈر نہ لگے ۔“

”اکیلی کب ہو گی پگلے ؟اسے اپنی ماں اور باپ کی روحیں مل گئی ہوں گی ۔وہ تو یہاں سے کئی گنا خوش ہو گی ۔“

”ہاں سچ کہتی ہو ۔“وہ اداس ہو گیا ۔”اکیلا تو مجھے کر گئی ہے نا ؟“

”میں ہوں نا تمھارے پاس ؟اور پھر آنٹی بھی ہے۔“فریحہ نے اسے تسلی دی ۔

”تو اس کا جانا ضروری تھا ؟“

”دانی!….یہ کسی کے بس میں تھوڑا ہوتا ہے؟…. جس کا بلاوا آجاتا ہے اسے جانا پڑتا ہے ۔“

”تو میرا کب آئے گا ؟“

”جب رب کو منظور ہو گا ۔ اب اٹھو،چلیں آنٹی انتظار کر ہی ہوں گی ۔“

”مشی کو بتا دوں ۔“اسے کہہ کر وہ قبر کی طرف متوجہ ہو گیا ۔”مشی !….میں آتا رہوں گا ۔تم گھبرانا مت ۔“

”دیکھو باجی کہہ رہی ہے ٹھیک ہے چلے جاو¿۔“فریحہ نے مسکرا کر کہا ۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں ۔

اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دانیال نے سر جھکایا اور اس کے ہمراہ ہو لیا ۔ٹیکسی ڈرائیور شدت سے ان کا منتظر تھا ۔ وہاں سے وہ سیدھے گھر پہنچے ۔

عائشہ خاتون نے بڑی بے تابی سے دانیال کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا ۔

”کہاں چلے گئے تھے میرے لال!“

”امی جان !….مشی کے پاس بیٹھا تھا ۔“

”یہ قبرستان میں تھا آنٹی !….“فریحہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”آپ کھانا لے آئیں تاکہ میں اپنے سامنے اسے کھلا کر جاو¿ں ۔“

”مجھے بھوک نہیں ہے فری !“دانیال جلدی سے بولا ۔

عائشہ کو سوالیہ نظروں سے گھورتے پا کر فریحہ نے کہا ۔”آنٹی !….آپ کھانا لے آئیں ۔“

عائشہ سر ہلاتی کچن کی طرف بڑھ گئی ۔

”جب مجھے بھوک نہیں ہے تو…….. ؟“دانیال نے احتجاج کرنا چاہا ۔

”دانیال !….تم حد سے بڑھ گئے ہو۔“فریحہ سخت لہجے میں بولی ۔”بالکل ایک بچے کی سی حرکتیں کر رہے ہو۔ آنٹی کی پریشانی نظر نہیں آتی ۔کیا ماں کو دکھ دیتے ہوئے مزہ آ تا ہے یا اس طرح سے باجی واپس آ جائے گی۔با خدا اگر اس طرح وہ واپس آ سکتی تو میں ساری زندگی کھانا نہ کھاو¿ں ۔اور یا د رکھو مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا ۔باجی کی روح شاید اب بھی یہاں موجود ہو ۔کتنا دکھ ہو گا اسے تمھارے روےے پر ۔اور تمھارے روےے کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ہو سکتا ہے وہ تمھارے خوابوں میں آنا بھی گوارا نہ کرے۔“

مو¿خر الذکر فقرے نے دانیال کو لرزا دیا تھا ۔کوئی جواب دئےے بغیر وہ خاموش بیٹھا رہا ۔عائشہ تھوڑی دیر بعد ہی کھانا لا سکی تھی ۔ ان کے سامنے کھانا رکھتے ہوئے اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا ۔

”بیٹی !….روٹی تازہ پکانا پڑ گئی ہے ۔“

”آنٹی !….آپ بھی بیٹھیں ۔یقینا آپ نے بھی کل سے کچھ نہیں کھایا ہو گا۔“فریحہ کی ترغیب پر ماں بیٹا بے دلی سے کھانے لگے ۔فریحہ نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا ۔

کھانے کے بعد عائشہ چاے بناکر لے آئی ۔چاے پی کرفریحہ جانے کے ارادے سے کھڑی ہو گئی۔

”ٹھیک ہے آنٹی میں چلتی ہوں۔“اس نے جانے کی اجازت طلب کی ۔

”اللہ پاک تمھیں سکھی رکھے بیٹی !….“عائشہ اسے دعائیں دینے لگی ۔

”چلو میں تمھیں ڈراپ کر دوں۔“کھانا کھانے کے بعد دانیال کی طبیعت سنبھل گئی تھی ۔

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”ڈراپ ….کیا تم کار چلا لیتے ہو ؟“

”ہاں ۔“وہ اداسی سے بولا ۔”مشی نے سکھائی تھی ۔“

”اچھا چلو ۔“فریحہ بھی اداس ہو گئی۔ وہ جانتی تھی ،نئے زخم کو بھرتے کچھ دیر تو لگتی ہے ۔اور مسکان کی موت تو دانیال کو روح تک گھائل کر گئی تھی ۔

کار میں بیٹھتے ہی دانیال کی ناک میں مسکان کے معطر وجود کی خوشبو آنے لگی ۔

اپنی سوچ بٹانے کی غرض سے وہ بولا ۔”فری !….ڈرائیونگ آتی ہے ؟“

”نہیں ،کبھی کوشش ہی نہیں کی ،سیکھنے کی ۔“

”اچھا میں تمھیں سکھاتا ہوں ….یہ دیکھو نا….اسے گیئر کہتے ہیں ۔ہمیشہ گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے چیک کر لو، کہ یہ نیوٹرل ہے ، اور یہ اس طرح نیوٹرل ہوتا ۔یہ ایکسی لیٹر ہے ، اس کے ساتھ بریک اور ساتھ ہی کلچ۔ان تینوں کے استعمال میں آپ نے دائیں پاو¿ں سے مدد لینی ہے ۔ “اس کے دماغ میں اپنی مشی کی آواز گونجی اور یہ سب فریحہ کو بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں دوبارہ نم ہو گئیں ۔

”دانی !….پھر کیا ہوا“فریحہ جوخوش تھی کہ چلو اس طرح دانیال کی ذہنی رو بٹ جائے گی اسے روتے دیکھ کر پوچھنے لگی۔

”فری !….بالکل یہی الفاظ اس نے کہے تھے ۔مجھے ایک ایک لفظ یاد ہے ۔وہ یہاں بیٹھی تھی جس جگہ میں بیٹھا ہوں اور میں وہاں بیٹھا تھا تمھاری جگہ…. پھر وہ مجھے ساحل سمندر کی طرف لے گئی تھی….“

”اچھا تم مجھے سکھا رہے تھے ۔“مسکان نے قطع کلامی کی ۔

”کیوں مشی کا تذکرہ برا لگ رہا ہے۔“دانیال نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

”نہیں اذیت ہو رہی ہے ۔میں اسے بھول جانا چاہتی ہوں ۔اور چاہتی ہوں تم بھی اسے بھول جاو¿۔“

”یہ ممکن نہیں ہے ۔“

”کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے ۔“

”تمھارا خیال ہے، میں کوشش نہیں کرتا۔“

”ہم گاڑی چلانا سیکھ رہے تھے۔“مسکان نے موضوع بدلا۔

دانیال سر جھٹک کر بولا ۔”اسے ہینڈ بریک کہتے ہیں ۔گاڑی سٹارٹ کرنے کے بعد سب سے پہلے ہینڈ بریک کو آف کرو ……..“وہ اسے ضروری باتیں بتانے لگا ،پھر وہ کار گھر سے باہر لے آیا ۔اس کا رخ اسی سڑک کی طرف تھا جہاںاس نے مسکان سے ڈرائیونگ سیکھی تھی ۔نسبتاََ ویران سڑک پر آتے ہی اس نے فریحہ کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کی دعوت دی ۔

”مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔“وہ گھبرا گئی تھی ۔

”اتنی مشکل نہیں ہے، تم بیٹھو تو سہی ۔“

اسے خوش کرنے کی خاطر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔مزید آدھا گھنٹا وہ اس روڈ پر کار چلاتی رہی ۔

”اب چلیں،باقی کل سیکھوں گی ۔“

”جیسے تمھاری مرضی ۔“ڈرائیونگ سیٹ دانیال نے سنبھال لی ۔اندھیرا گہرا ہو گیا تھا ۔

”صبح سے تم دکان پر جانا شرع کر دو ۔“

دانیال نے پوچھا ۔”یونیورسٹی کی چھٹیاں ہیں ؟“

”نہیں ،صبح سے میں بھی جاو¿ں گی ۔“

”تو ایسا ہے کہ میں صبح سات بجے آ جاو¿ں گا ۔یہاں سے مشی کے پاس جائیں گے ،پھر میں تمھیں یونیورسٹی ڈراپ کر کے دکان پر چلا جاو¿ں گا ۔کیسا ہے۔“

”ٹھیک ہے !….کل ایسے ہی کر لینا ۔“فریحہ نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔

”کل نہیں ،یہ میں نے پکی روٹین بتائی ہے ۔“

”اس طرح تمھیں خواہ مخواہ زحمت ہو گی ۔“فریحہ نے نفی میں سر ہلایا۔

”زحمت کاہے کی ۔مشی کے پاس میں نے یوں بھی روزانہ جانا ہے ۔بلکہ ایسا ہے کہ یونیورسٹی کی چھٹی کس وقت ہوتی ہے ؟ میں تمھیں وہاں سے بھی پک کر لیا کروں گا ۔“

فریحہ مسکرائی ۔”غالباََ تم میرے ڈرائیور نہیں ہو۔“

”فریحہ !….مجھے تمھاری ضرورت ہے ۔“دانیال روہانسے لہجے میں بولا ۔”کوئی تو ایسا ہونا چاہےے جس سے میں اپنی مشی کی باتیں کر سکوں ۔“

فریحہ اطمینان سے بولی ۔”اگر تم یہ روٹین نہ بتاتے تو شاید جلد ہی میں خود تمھیں یہ مشورہ دیتی ۔“

”بھلا وہ کیوں ؟“دانیال حیران رہ گیا تھا ۔

”اس کیوں کا جواب تمھیں دو تین دن بعد دوں گی ۔“

”پھر بھی ۔“وہ فریحہ کے گھر کے سامنے پہنچ گئے تھے۔

اس نے نیچے اترتے ہوئے پوچھا ۔”ایک بات مانو گے ؟“سوال کا جواب وہ نظر انداز کر گئی تھی ۔

”جی !“

”تمھارے پاس اتنے اچھے اچھے سوٹ ہیں،کل کوئی اچھا سا سوٹ پہن کر آ جانا۔“

”تمھیں کس نے بتایا ہے کہ میرے پاس اچھے اچھے سوٹ بھی موجود ہیں ۔“

”میں نے خود تمھاری الماری میں دیکھے ہیں ،باجی کے ساتھ دو تین دفعہ تمھارے ہاں جاچکی ہوں۔“

وہ مسکرایا۔”اچھا پہن لوں گا۔لیکن اس تھوبڑے کے ساتھ کوئی لباس نہیں جچتا۔“

”دانی !….رنگت کاکالا ہونا بدصورتی کی علامت نہیں ہے۔“

”میری چھے منگنیاں اس رنگت کی وجہ سے ٹوٹی ہیں ۔مشی نے پتا نہیں کیسے برداشت کرلیا تھا ۔“

”اس کی مجبوری تھی ۔“فریحہ برجستہ بولی ۔پھر اسے لگا کہ اس کے منہ سے کافی تلخ بات نکل چکی ہے۔ وہ بات سنبھالتے ہوئے بولی ۔”لیکن بعد میں اسے تمھاری محبت اور خلوص نے جیت لیا تھا۔“

”میں کیا اور میرا خلوص کیا….مخلص تو وہ تھی فری! ….میری مشی بہت اچھی تھی ۔“

”میرا خیال ہے چاے پی لیتے ہیں۔“فریحہ نے جلدی سے موضوع بدلا۔

”شکریہ ۔“کہہ کر دانیال واپس مڑگیا ۔

واپسی کے سفر میں اسے پھر اپنی مشی کی یاد نے گھیر لیا تھا ۔جس نے ایک مزدور کو اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ آج وہ اچھی خاصی حیثیت کا مالک بن گیا تھا ۔

”فریحہ کے نزدیک جانا کہیں مشی سے بیوفائی تو نہیں۔“یہ سوچ اسے پریشانی کر گئی تھی ۔ اس نے اپنے دل میں جھانکا اسے فوراََ جواب موصول ہوا ۔

”میں کون سا فریحہ سے شادی کر رہا ہوں ۔یہ تو فقط اس لےے ہے کہ وہ مشی کی بہن بنی ہوئی تھی اور اسی کی وجہ سے اسے اہمیت دےتا ہوں ۔سب سے بڑھ کر ،اس حور صورت لڑکی کی مہربانی ہے کہ وہ مجھ سے بات کر لیتی ہے ورنہ میں کس قابل ہوں ۔اگر رشتے کی بات ہو تو اسے ہزاروں نہیں لاکھوں مل جائیں گے ۔“

ماں شدت سے اس کی منتظر تھی ۔

”بہت دیر کر دی بیٹا ۔“

”ہاں ماں!…. فری کے ساتھ ساحل کی طرف چلا گیا تھا ۔

”فریحہ بیٹی کی شادی ہو گئی ہے۔“عائشہ کے لہجے میں دلچسپی تھی ۔

”نہیں ہوئی ،تو ہو جائے گی ماں ۔“ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں گھس گیا ۔رات اذیتوں کا پٹارا کھولے اس کی منتظر تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: