Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 26

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 26

–**–**–

عائشہ خاتون اتنی آسانی سے فریحہ کا رشتا ملنے پر جہاں حیران تھی وہیںاس کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ فریحہ کے والدین نے نہ تو دانیال کی رنگت پر کوئی اعتراض کیا تھا اور نہ کوئی ایسی شرط ہی رکھی تھی جو ماں بیٹے کے لےے ناقابلِ قبول ہوتی۔دانیال کے بارے ساری تفصیل یقینا فریحہ نے اپنے والدین کو بتا دی تھی کہ انھوں نے عائشہ خاتون سے دانیال کی جاب وغیرہ کے بارے کوئی باز پرس نہیں کی تھی ۔بس رسمی بات چیت کے بعد انھوں نے رضامندی ظاہر کر دی تھی۔فریحہ کی انگلی میں منگنی کی انگوٹھی پہنا کر وہ واپس آ گئے تھے۔

واپس جاتے ہوئے عائشہ خوشی کے ساتھ حیرانی کا اظہار کرتی رہی ….

”بیٹا !….مجھے اب تک یقین نہیںآ رہا کہ وہ اتنی آسانی سے مان جائیں گے ۔“

”ماں جی !….آخر کس چیز کی کمی ہے ہمارے پاس ۔اللہ پاک کا دیا سب کچھ تو موجود ہے ۔“

”بس بیٹا !….ماضی بھلائے نہیں بھولتا….یاد ہے نا….کتنی دفعہ منگنی کی انگوٹھی لوٹا کر ہماری سبکی کی گئی۔“

”ماں جی !….یہاں شکل و صورت کو کون دیکھتا ہے ….وہ کیا کہتے ہیں ….باپ بڑ انہ بھیا ، سب سے بڑا روپیا….تو آج ہمارے پاس الحمداللہ چند ٹکے موجود ہیں ۔“

عائشہ ممتا بھرے لہجے میں بولی ۔”بیٹا !….تمھاری شکل و صورت کو کیا ہے ….لاکھوں میں ایک ہو۔“

دانیال کے ہونٹوں پر طنزیہ ہنسی نمودار ہوئی ۔” ماں جی ….! لاکھوں نہیں کروڑوں کی بات کرو۔“

”اچھا زیادہ شوخیاں نہ دکھاو¿ ،یہ بتاو¿ دلہن کے لےے شاپنگ کب کرو گے۔“

”جب کہو ماں جی !….“

”ویسے مسکان بیٹی کے کافی لباس یونھی پڑے ہیں ….میرا خیال ہے فریحہ بیٹی کو فٹ آئیں گے۔“

”ماں جی !….مشی کے کپڑوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔فریحہ بی بی کو جتنے لباس چاہےے ہوں گے میں لے دوں گا ۔“گو دانیال دبے لہجے میں بولا تھا مگر اس کے لہجے میں شامل خفگی واضح تھی ۔

”میں نے تو اس خیال سے کہا تھا کہ نئے لباس کسی کام ہی آ جائیں گے۔“بیٹے کا خفگی بھرا لہجہ سن کر وہ صفائی دینے لگی ۔

”پتا ہے ماں جی !….میں یہ شادی فریحہ کے اصرار پر کر رہا ہوں….ورنہ مشی کے بعد میرا دل کسی بھی لڑکی کو اپنانے پر تیار نہیں تھا۔“

”جانتی ہوں بیٹا !….جب میں نے فریحہ بیٹی کو دیکھا تو میرے اندر اسے بہو بنانے کی اتنی شدید خواہش ہوئی کہ بتا نہیں سکتی ….پھر مسکان بیٹی کا زخم بھی تازہ تھا اس لےے تمھیں اپنی یہ خواہش نہ بتا سکی ،مگر وہ ذات جو دلوں کے حال بہتر جانتا ہے ،اس کریم رب نے اس گناہ گار کی یہ تمنا دعا کی طرح پوری فرما لی ۔“

”ماں !….مجھے لگتا ہے میں فریحہ کو خوش نہیں رکھ سکوں گا۔“

”مجھے تو یہ بتا رہے ہو کسی اور کے سامنے یہ بات نہ کرنا، خصوصاََ اپنے ساس ،سسر سے تو بالکل ہی نہ کہنا ۔“

”یہ حقیقت ہے ماں ۔“

”بیٹا !….ایک بات یاد رکھنا ،انسان کو اللہ پاک نے بھولنے کا مادہ وافر مقدار میں ودیعت کرکھا ہے ، عموماََ اسے بے وفائی سے تعبیر کیا جاتا ہے ،مگر یہ بے وفائی نہیں ہے، اگر انسان کو اللہ پاک یہ خاصیت عطا نہ فرماتا تو انسان پاگل ہو جاتے ،بچھڑنے والے ہر آن اپنی یاد کے خنجر سنبھالے ان کے دلوں پر وار کرتے رہتے ۔اور جانتے ہو اس بات کا ادراک مجھے تمھارے والد کی وفات پر ہوا ،وہ جس کے بغیر ایک لمحہ بتانا کارِدار لگتا تھا اس بن کئی سال سے جی رہی ہوں ۔ہنستی بھی ہوں، خوش بھی ہوتی ہوں اور مختلف خواہشات سے بھی آلودہ ہوں۔“

اس بار ماں کی بات کا جواب دےے بغیر وہ خاموش رہا تھا ۔

٭……..٭

سیٹھ فہیم کے پاس سے نکلتے ہی حماد نے کامی خنجر کا موبائل فون نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا تھا ،مگر نمبر اسے بند ملا ۔ مجبورا اس کی کارکا رخ محلہ لنگی شاہ کی طرف ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ ہوٹل تھری ٹو ون کی پارکنگ میں کار روک رہا تھا۔ہوٹل کا منیجر نے خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کیا تھا ۔

”آئیں حماد صاحب !….کیسے مزاج ہیں۔“

”فٹ اینڈ فائن!….آپ سنائیں؟“حماد نے اس کے اشارے پر کرسی سنبھال لی۔

”پہلے یہ بتائیں ٹھنڈاچلے گا یا گرم ….؟“

”شکریہ ….میں ابھی کافی پی کر آ رہا ہوں ….آپ بس یہ بتا دیں کہ کامی صاحب کا موبائل فون نمبر بند کیوںمل رہا ہے ۔“

”کیوں کہ کامی صاحب اپناموبائل فون نمبر بہت جلد بدل دیتا ہے ۔“

”تو پھر نیا نمبر دے دیں ۔“

”نوٹ کریں ….“منیجر اپنا موبائل فون نمبر نکال کر اسے کامی کا نمبر نوٹ کرانے لگا ۔

”تھینک یو جناب !….“نمبر نوٹ کر کے حماد کھڑا ہو گیا ۔”اب میں اجازت چاہوں گا ۔“

منیجر نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اسے رخصت کیا ،حماداس کے آفس سے نکل آیا ۔اپنی کار پارکنگ سے نکال کر وہ کامی کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔

”یس مسٹر پڑھاکو !….کیسے ہیں آپ ؟“کامی خنجر نے اپنے پسندیدہ نام سے اسے پکارا ۔

”یار !….میرا موبائل فون نمبر تو آپ کے پاس موجود ہے ،اگر نمبر بدلنا ہو تا ہے تو کم از کم اپنا نیا نمبر ہی بتا دیا کرو۔“ اس نے گلے شکوے سے گفتگو کی ابتدا کی ۔

”بجا فرمایا…. مگر میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔“

”وجہ ….؟“

”میری قربت تمھیں کسی مصیبت میں بھی پھنسا سکتی ہے ….پھر اگر کوئی بہت ضروری بات ہو تو تمھارے پاس ہوٹل تھری ٹوون کا کلیو موجود ہے نا ؟“

”اچھا میں نے ایک اہم اطلاع آپ تک پہنچانا تھی ۔“حماد مطلب کی بات پر آ گیا ….گویا وہ ذہنی طور پر کامی سے متفق ہو گیا تھا ۔

”سن رہا ہوں ۔“

”آج سیٹھ فہیم سے ملاقات ہوئی ہے ….اس سے پتا چلا کہ وہ اپنی بہن کے قاتلوں کا پتا چلانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے ۔“

”ہونہہ!….بہن کے قاتل…. “کامی نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا ۔”میدانِ حشر میں ہی ڈھونڈ پائے گا ، اس سے پہلے تو یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔“

”پھر بھی آپ کو احتیاط برتنا چاہےے ۔“حماد نصیحت کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔

”مسٹر پڑھاکو اس بارے فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ….اور بالفرض وہ ہم تک پہنچ بھی گیا تب بھی تمھاری ذات پر کوئی آنچ نہیں آئے گی ،کیونکہ تمھاری سٹوری فقط مجھے معلوم ہے ….اور میری زبان کھلوانی لا ینحل مسئلہ ہے ۔“

”پھر بھی تمھیں مطلع کرنا میرا فرض بنتا ہے ۔“

”تھینک یو مسٹر پڑھاکو!….اور کوئی نئی تازی سناو¿۔“

حماد نے ہنستے ہوئے کہا ۔”راوی امن سکون ہی لکھتا ہے ۔“

کامی نے پوچھا ۔’تم پر کسی کو شک تو نہیں ہوا نا ۔“

”کہاں یار !….اس کے دونوں بھائی تو میرے اتنے گرویدہ ہو گئے ہیں کہ کیا بتاو¿ں ۔“

کامی نے قہقہہ لگایا۔”مطلب پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے ۔“

”صحیح کہا ….“حماد کا قہقہہ بھی اس کے ہم آہنگ تھا ۔

”اوکے مزے کرو ….اگر کوئی خدمت ہو تو حکم کرنا۔“

”ضرور جناب ۔“کہہ کر اس نے الوداعی کلمات کہے اور رابطہ منقطع کر دیا ۔

٭……..٭س

خفیہ ایجنسی کا نمائندہ اس وقت سیٹھ فہیم اور وسیم کے ساتھ ڈرائنگ روم میں موجود تھا ۔اسی وقت ملازما ان کے سامنے کافی کے مگ رکھ کر گئی تھی ۔احمد کافی کے مگ سے چھوٹی سی چسکی لیتا ہوا بولا….

” سیٹھ صاحب !….انسپکٹرعبداللہ اور اسلم دونوں ان کی نظروں میں آ چکے ہیں اس لےے ہم انھیں اپنے مقصدکے لےے استعمال نہیں کر سکتے ،بلکہ ان سے کام لینے کا مطلب دشمنوں کو چوکنا کرنا ہے ۔“

”احمد صاحب !….پہلے بھی آپ وسیم کے کہنے پر تشریف لائے تھے اور اب بھی اسی کی ایما پر آپ کو زحمت دی ہے کیونکہ میری بچی کے قاتل بہت مزے سے دندناتے پھر رہے ہیں اور جب تک انھیں کیفر کردار تک نہیں پہنچا دیتا مجھے سکون نہیں ملے گا ۔انسپکٹر عبداللہ اور اسلم دونوں مسکان کی موت کے بعد سے مجرموں کی ٹو میں ہیں مگر دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں ان کی تلاش ہنوز بے نتیجہ ہی ہے ۔“

” ایسا ہے سیٹھ صاحب !…. آپ نے میرے بارے کسی سے ذکر نہیں کرنا کہ میں مرحومہ مسکان بی بی کے قاتلوں کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔“

سیٹھ فہیم نے پوچھا۔”کسی سے آ پ کی کیا مراد ہے؟“

احمد اطمینان سے بولا۔”کسی کا مطلب ہے ہر کوئی ….یہاں تک کہ یہ بات اپنی بیگم سے بھی پوشیدہ رکھنا ۔“

”فائدہ ۔“

”میں نہیں چاہتا کہ مجرموںتک یہ خبر پہنچے۔“

میرا خیال ہے ،میری بیگم کا مجرموں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وسیم یوں بھی اس جنس سے تہی دامن ہے ۔“

یقینا آپ کی بات سو فیصد درست ہو گی ….مگر ہماری مجبوری ہے کہ ہم شک کی ابتدا گھر ہی سے کرتے ہیں ۔ خفیہ ایجنسی کے نقطہ نظر سے آپ دونوں بھائی بھی شک سے مبرا نہیں ہیں ،مگر مجھے بلانے والے چونکہ آپ دونوں ہیں اس لیے شروعات آپ سے نہیں کی جا رہی ….البتہ آپ کی بیگم اور مرحومہ کا شوہر خارج ازتفتیش نہیں ہو سکتے ۔“

”شوہر ….“سیٹھ فہیم کے لہجے میں حد درجہ حیرانی تھی ۔”نہیں محترم !….میں خود پریا اپنے بھائی پر تو شک کر سکتا ہوں اپنے بہنوئی پر نہیں ۔“

”ہاں احمد !….“وسیم نے بھی بھائی کی ہاں میں ہاں ملائی ۔”بھیا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔“

احمد نے ان کی بات کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے کہا ۔”دیکھو سیٹھ صاحب !….مناسب ہو گا کہ آپ مجھے یہ مسئلہ اپنے طریقے سے حل کرنے دیں اور میں نے جو درخواست کی ہے کہ اس بات کا کسی کو پتا نہ چلے تو براہ مہربانی اس کے خلاف نہیں ہونا چاہےے ورنہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔“

”ٹھیک ہے جناب !….“سیٹھ فہیم نے مسکرا کر کہا ۔”آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔“

”سیٹھ صاحب ….بہن کی موت یقیناآپ کو ایک حادثہ نظر آ رہی ہو گی ….بہ ظاہر نظر لگتا بھی ایسے ہی ہے،مگر اس میں سازش کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ….“

”وہ کیسے۔“وسیم نے سوال کرنے میں پہل کی ،سیٹھ فہیم بھی سوالیہ نظروں سے احمد کو گھورنے لگا ۔

”دیکھیں جناب!….جب کوئی بندہ تاوان وصول کرنے کے لےے اغوا کیا جاتا ہے تو اس کے متعلقین لا محالہ پولیس وغیرہ کو مطلع کرتے ہیں اور اغوا کار اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں ،اب یہ نہیں کہ ایک بار اس کی ہدایات کے خلاف تھوڑا سا ردعمل ظاہر کیا جائے اور وہ مغوی ہی کوٹھکانے لگا دے ….وہ تاوان کی رقم کم یا زیادہ کر سکتا ہے ،مغوی کو جسمانی طور پر کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر تاوان کی رقم سے مکمل طور پر ہاتھ دھونے پر تیار نہیں ہوتا الّا یہ کہ مغوی کے متعلقین اسے بہت زیادہ زچ کر دیں اور اسے یقین ہو جائے کہ اسے تاوان کے نام پر کچھ بھی وصول نہیں ہونے والا ۔یوں ایک دم مغوی کو اس بھیانک طریقے سے ہلاک کر دینا ظاہر کر رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ،اسی وجہ سے میں مرحومہ کے قریبی رشتا داروں پر شک کرنے میں حق بہ جانب ہوں ۔“

فہیم مستفسر ہوا۔”آپ کے کہنے کا مطلب ہے جائیداد وغیرہ کے لالچ میں انھیں ہلاک کیا گیا ہے۔“

احمد نے کندھے اچکائے۔”امکان یہی کہتے ہیں ۔“

”کوئی اور مفروضہ نہیں ہو سکتا۔“سیٹھ فہیم کے تاثرات واضح کر رہے تھے کہ اسے احمد کے گمان سے اتفاق نہیں ہو رہا۔

”ہے،مگر اس میں قتل کی توجیہ کرنا بعید از قیاس لگتا ہے ۔“

وسیم نے جھٹ سے پوچھا۔”مثلاََ….؟“

”مثلاََ یہ کہ آپ کی مرحومہ بہن کی تصویر میں دیکھ چکا ہوں وہ لاکھوں میں ایک تھی….اس لےے ہم پیار محبت کی رقابت وغیرہ کے امکان پر بھی غور کر سکتے ہیں ۔“

فہیم نے نفی میں سر ہلایا۔”وہ باقاعدہ نقاب اوڑھتی تھی….شوہر کے علاوہ اس کا کسی سے تعلق ہونا بعید از قیاس ہے ۔“

”معاف کرنا سیٹھ صاحب گفتگو ذرا نازک موڑ میں ہے اس لےے اگر میری زبان سے کوئی ایسی بات نکلے جو آپ کی سماعتوں پر گراں گزرے تو خدا را دل برا مت کرنا ،کیونکہ جب بھی ہم مفروضوں پر بات کرتے ہیں تو بہت سی دل شکنی کی باتیں ظہور پذیر ہو جایا کرتی ہیں ۔“

”ہم جانتے ہیں ….“سیٹھ فہیم نے کہا جبکہ وسیم نے خالی اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔

”تھینکس !….باقی میں جانتا ہوں آپ کی بہن اعلا کردار کی مالک تھی ،مگر دشمن تو کردار نہیں دیکھا کرتا ۔ اور پیا ر محبت کی رقابت بھی میں نے ایک مفروضے کے طور پر پیش کی ہے ،ہو سکتا ہے اغوا کار آپ دونوں بھائیوں سے کوئی پرخاش رکھتا ہوبلکہ خصوصاََ آپ سے ۔“احمد کا اشارہ سیٹھ فہیم کی طرف تھا ۔”کیونکہ اغوا کار نے دو تین بار آپ سے ہی رابطہ کیا ہے ۔“

سیٹھ فہیم نے کہا ۔”ہو سکتا ہے اس کے پاس وسیم کا نمبر ہی موجود نہ ہو ؟“

”آپ شاید بھول گئے ہیں وہ آپ کی بہن کے موبائل فون سے کال کرتا رہا ہے اور مرحومہ کے موبائل فون میں لازماََ دونوں بھائیوں کے نمبرز موجود تھے ۔“

”نمبر تو موجود ہو گا مگر جب ایک دفعہ اس نے مجھ سے بات کرلی تھی، تو اصول کے مطابق اسے ہر دفعہ مجھی سے بات کرنا چاہےے تھی۔اور یہی اس نے کیا ۔“سیٹھ فہیم نے اس بار احمدکی بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

احمد اطمینان سے بولا۔”میں نے اپنی بات کو حرف آخر کبھی نہیں سمجھا ۔“

”اب ہمارے لےے کیا حکم ہے۔“سیٹھ فہیم نے گفتگو ختم کرنے کا عندیہ دیا ۔

”مجھے آپ کی بیگم ،نوکروں اور بہنوئی کے موبائل فون نمبر درکار ہوں گے ۔باقی اس کارروائی کو خفیہ رکھنے کی درخواست ایک مرتبہ پھر دہراو¿ں گا ۔“احمد نے مطالبہ پیش کیا۔

”اوکے !….مجھے اجازت دو۔“سیٹھ فہیم نے اٹھتے ہوئے کہا ۔”آپ کی ہدایات پر عمل ہو گا اور موبائل فون نمبرز آپ کو وسیم نوٹ کر ا دے گا ….“

احمد نے اس سے الوداعی مصافحہ کیا اور سیٹھ فہیم لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے رخصت ہو گیا۔وہ دونوں آپس میں محو گفتگو ہو گئے تھے۔

٭……..٭

ڈائینگ ٹیبل مختلف قسم کے لوازمات سے بھری پڑی تھی ۔اکیلے ڈنر کرتے ہوئے اس کی ذہنی رو فریحہ کی طرف مڑ گئی۔اس زندگی کے خواب ان دونوں نے مل کر دیکھے تھے لیکن تعبیر کی خوشی ملنے تک فریحہ نے اپنا رستا تبدیل کر لیا تھا یا شاید اسے ہی یوں محسوس ہو رہا تھا ۔مسکان کی موت کو دو ہفتے ہونے کو تھے اور ابھی اس کی ناراضی ختم ہونے میں نہیں آ رہی تھی ۔اس بات پر تو وہ مر کر بھی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ دانیال سے شادی کرے گی ۔

ڈنر ختم کر کے وہ خواب گاہ میں گھس گیا ۔جب تک ملازما اس کے لےے چاے لاتی وہ فریحہ کا موبائل فون نمبر ٹرائی کرتا رہا مگر وہ کال اٹینڈ کرنے پر آمادہ نہیں ہوئی تھی ۔چاے پی کر وہ اسے میسج لکھنے لگا مگر درجن بھر میسج بھیجنے کے باوجود اسے کوئی پذیرائی نہ مل سکی ۔تھک ہار کر وہ صبح ایک بار پھر یونیورسٹی جانے کا منصوبہ بنا کر آرام کرنے لیٹ گیا ۔گو گزشتہ ملاقات کا نتیجہ حماد کی توہین کی صورت میں برآمد ہوا تھا لیکن وہ آخری کوشش کرنا چاہتا تھا ۔رات گئے تک وہ مختلف قسم کے منصوبے بناتا رہا اور دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح اس کی آنکھ بھی دیر سے کھلی تھی ۔جاگنے کے بعد بھی وہ کافی دیر بستر میں گھسا رہا۔جب اس نے بستر چھوڑا تو دیوار گیر گھڑی کی گھنٹے والی سوئیاں گیارہ کا عدد عبور کر چکی تھیں ۔

فریش ہونے اور ناشتا کرنے تک مزید ڈیڑھ گھنٹا لگ گیا تھا ۔گھر سے نکلتے ہی اس کا رخ یونیورسٹی کی طرف ہو گیا اسے امید تھی کہ وہ چھٹی کے وقت تک وہاں پہنچ جائے گا ۔اسی وقت وہ فریحہ کی منت کر کے اسے اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا۔

یونیورسٹی کی پارکنگ میں گھستے ہی اس کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔دانیال اپنی سوزوکی کار کے ساتھ کھڑا کسی کا منتظر نظر آ رہا تھا ۔اس کے دماغ میں ردا کے الفاظ گونجے ….

”محترم !….وہ روزانہ فری کو یونیورسٹی چھوڑنے آتا ہے اور چھٹی کے وقت اسے لینے بھی آتا ہے ۔“

حماد کی کنپٹیاں سلگنے لگی تھیں اپنی کار اس نے حماد کی کار کے قریب روکی اور نیچے اتر ا۔

”ہیلو مسٹر دانیال !….“وہ نیچے اترتے ہوئے اسے مخاطب ہوا ۔

دانیال، یونیورسٹی گیٹ کی طرف متوجہ تھا اس کی جانب مڑا ۔اور پھر حماد کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں سرخی جھلکنے لگی تھی ۔فری کے بہ قول وہ اس کی مشی کا قاتل تھا۔

”کیوں آئے ہو یہاں ۔“اپنی آواز اسے خود بھی اجنبی لگی تھی ۔

”تم!…. جانتے ہو میں کیوں آیا ہوں ….“حماد اس کی کیفیات سے بے خبر نپے تلے قدم رکھتا ہوا اس کی طرف بڑھا ۔

”لیکن تم!…. نہیں جانتے میں تمھارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں۔“دانیال کے لہجے میں جھلکتی دیوانگی نے حماد کو رکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔

”شاید تمھیں حوالات کی رہائش آئیڈیل لگتی ہے ۔“حماد بہ ظاہر دلیرانہ لہجے میں بولا مگر اس کا دل لرزنے لگا تھا دانیال کی آنکھوں میں چمکتی دیوانگی اس کے لےے حیران کن ہونے کے ساتھ خوفزدہ کرنے والی تھی ۔

اسی وقت فریحہ یونیورسٹی گیٹ سے برآمد ہوئی ۔ردا اس کے ہمراہ تھی ۔پارکنگ گیٹ کے نزدیک ہی بنی تھی گیٹ سے نکلتے ہی اسے دانیال اور حماد آمنے سامنے کھڑے نظر آ گئے تھے ۔

دانیال نے دانت پیسے۔ ”وہ بعد کا مسئلہ ہے ….پہلے تمھیں ،تمھارے کےے کی سزاتو دے دوں۔“ کہتے ہوئے وہ زقند بھر کر اس کے قریب ہوا اگلے لمحے حماد کا گریبان اس کے ہاتھ میں تھا ۔

”دانی !….“فریحہ زور سے چیخی ۔

”دانیال نے فریحہ کی آواز پر توجہ نہیں دی تھی البتہ حماد کی نظریں اس کی طرف اٹھیں گو اس وقت فریحہ نقاب میں تھی مگر حماد کو اسے پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔اور اپنی محبوبہ کو دیکھتے ہی اس کے خوف سے لرزتے دل میں جوش بھر گیا، اس نے بھی دانیال کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔

”دانی!….یہ کیا پاگل پن ہے ؟ چھوڑو اسے ۔“فریحہ نے قریب پہنچ کردانیال کا ہاتھ حماد کے گریبان سے علاحدہ کرنے کی ناکام کوشش کی ،مگر دانیال نے اسے نظر انداز کر کے ایک زور دار گھونسا حماد کے منہ پر جڑ دیا ۔ حماد بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا اگلے لمحے وہ دونوں گھتم گھتا تھے ۔

فریحہ دانیال کی جذباتی کیفیت سے واقف تھی ،ایک نازک اور کمزورلڑکی ہونے کے ناتے وہ اس قابل نہیں تھی کہ انھیں چھڑا سکے ۔مگر اسے یہ ڈرضرور تھا کہ دانیال جذبات سے مغلوب ہو کر حماد کو جان سے مارنے کی کوشش بھی کر سکتا تھا اور ایسا ہونے کی صورت میں پھانسی اس کا مقدر بن جاتی ۔

”دانی!….“اس نے چیختے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر جڑ دیا ۔تھپڑ سے زیادہ اس کے چیخنے نے حماد کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔حماد کا گریبان اس کے ہاتھ سے پھسلا اور وہ فریحہ کی جانب متوجہ ہوا ۔

”فری !….میں ۔“دانیال ایک دم جذباتی کیفیت سے باہر نکل آیا تھا ۔

”تمھیں منع کیا تھا نا….“فریحہ خفگی بھرے لہجے میں بولی۔اس نے حماد کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا ۔ دانیال کی پیش قدمی رکتے ہی حماد بھی پیچھے ہٹ گیا ،اس کی باچھوں سے خون رس رہا تھا ۔اسی وقت پارکنگ میں موجود سٹوڈنٹس ان کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے ،چونکہ وہ دونوں لوگوں کے جمع ہونے سے پہلے علاحدہ ہو گئے تھے اس وجہ سے کسی نے انھیں چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔

”کیا ہوا حماد بھائی !….“جینز پہنے ایک لڑکا حماد سے مستفسر ہوا ۔فریحہ اسے اچھی طرح جانتی تھی ، فرحان نامی وہ لڑکا ایک سٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر تھا ۔

”یہ حبشی غنڈہ گردی دکھا رہا ہے ۔“حمادنے رومال سے اپنا خون صاف کرتے ہوئے جواب دیا ۔

”کیوں بے سالے !….ایک سٹوڈنٹ کو چھیڑتا ہے ۔“وہ جارحانہ انداز میں دانیال کی طرف بڑھا۔

”خبردار مسٹرفرحان !….اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا۔“فریحہ دانیال کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر سٹوڈنٹ دانیال کے خلاف اکھٹے ہو جاتے تو اس غریب کو بہت زیادہ مار پڑتی ۔ ”اگر تمھارا حماد صاحب کسی کی منگیتر کو چھیڑے گا تو اسے مار ہی پڑے گی نا ۔“

”کون منگیتر۔“فرحان رکتے ہوئے مستفسر ہوا ۔”کس کو چھیڑا ہے حماد نے ؟“

”مجھے ….“فریحہ بے باکی سے بولی ۔”دانیال میرا منگیتر ہے ۔“

حماد کے سر پر گویا بم پھٹ پڑا تھا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ فریحہ یوں اس کے خلاف بیان دے گی اور بیان بھی ایسا کہ سراسر بہتان تراشی ۔

”کب چھیڑا ہے تمھیں ؟“حماد کے لبوںسے وحشت زدہ آواز برآمد ہوئی تھی ۔

”اس کی یونیورسٹی آمد کا مقصد کیا ہے ؟“فریحہ فرحان سے مخاطب ہوئی ۔اور یہ توہین کی انتہا تھی کہ وہ حمادسے مخاطب بھی نہیںہونا چاہتی تھی ۔

”آپ بتا دیں ؟“فرحان، فریحہ سے مرعوب ہو گیا تھا ۔یوں بھی نقاب پوش لڑکی ایک الگ رعب کی مالک ہوتی ہے ۔

”آپ میرے موبائل فون میں اس کے بھیجے ہوئے بے ہودہ میسج پڑھ لیں آپ کو پتا چل جائے گا ۔“ فریحہ نے اپنا موبائل فون فرحان کی طرف بڑھا دیا ۔حماد کے چہرے پر مردنی چھا گئی تھی اس کے رات کو بھیجے ہوئے میسج اب تک فریحہ کے موبائل فون میں محفوظ تھے ۔

فرحان موبائل پکڑنے کے بجائے حماد کی طرف مڑا ….حماد نادم انداز میں نیچے دیکھنے لگا ۔

”سوری مس !….یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ۔“فریحہ کو کہہ کر فرحان اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔ وہاں پر جمع باقی سٹوڈنٹ بھی دائیں بائیں ہونا شروع ہو گئے تھے،فریحہ نے پرس کھول کر دستی رومال نکالا اور بڑے پیار سے دانیال کا چہرہ صاف کرنے لگی ،یہ کسی فلم کے منظر جیسا تھا ،ایسا بولڈ منظر دیکھ کر کئی لڑکوں کے منہ سے بے ساختہ ہائے نکلی تھی ، دانیال کو بھی خجالت سی محسوس ہوئی مگر فریحہ سب سے بے نیاز اس کے کالے چہرے کو سہلاتی رہی ۔

”اگر تمھیں کچھ ہو جاتا پھر ….“اس کی چاہت سے لبریز آواز بہ ہر حال اتنی اونچی ضرور تھی کہ حماد کے کانوں تک پہنچتی۔ حماد کے لےے اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا دو بھر ہو گیا تھا ۔

کسی سٹوڈنٹ کی شوخ آواز ابھری ”تو ہم کیا مر گئے ہیں۔“

سننے والوں کی بے ساختہ ہنس پڑے تھے ،فریحہ بھی اس کی بات کا برا منائے بغیر اپنے کام میں مصروف رہی۔

”اچھا چلتے ہیں۔“دانیال کو جان چھڑانے کا اور کوئی طریقہ نہیں سوجھا تھا ۔

”ہاں چلیں۔“فریحہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”چلو ردا ….!“

ردا اس ڈرامے کے درمیان خاموشی سے ایک جانب کھڑی رہی تھی،وہ افسوس بھری نگاہ حماد پر ڈال کر ان کے ہمراہ ہو لی ۔

”گاڑی میں ڈرائیو کروں گی ۔“دانیال کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے دیکھ کر فریحہ جلدی سے بولی ۔

”جیسے حکم بیگم صاحبہ !“کہہ کر دانیال دوسری سیٹ کی طرف کھسک گیا ۔ردا عقبی نشست پر براجمان ہو گئی تھی۔اس دوران حما داپنی جگہ پر براجمان انھیںقہر آلود نظروں سے گھورتا رہا ۔فریحہ کا دانیال سے چاہت بھرا رویہ اس کے لےے عبرت ناک تازیانہ تھا ۔اس کے ساتھ عہد و پیمان باندھنے والی اس قدر بے گانی ہو جائے گی اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔

ان کے وہاں سے جاتے ہی حماد نے موبائل نکالا اور کامی خنجر کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔

”یس؟“کامی نے کال اٹینڈ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔

”میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔“حماد کی قہر آلود نظریں اس وقت بھی دانیال کی کار پر مرتکز تھیں۔

”خیر تو ہے مسٹر پڑھاکو ….پھر کیا ہو گیا ہے ؟“کامی نے حیرانی سے پوچھا ۔

”دو آدمی اغوا کرانے ہیں ….جنہیں میں اپنے ہاتھ سے قتل کروں گا ۔“

”خیر تو ہے مسٹر پڑھاکو ؟“

”کامران مجھے آپ سے ملنا ہے اور بس ….؟“حماد نے اس کی بات کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی تھی۔

”ٹھیک ہے شام کوہوٹل تھری ٹو ون کی لوکیشن پرآ جاو¿۔“کہہ کر کامی نے رابطہ منقطع کر دیا تھا ۔

حماد کار میں بیٹھ کر گھر واپس آ گیا ،اس کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں ۔فریحہ کا رویہ بھلانے کے قابل نہیں تھا وہ اسے عبرت ناک سزا سے ہم کنار کرنا چاہتا تھا ۔اس کا مذموم ارادہ پہلے دانیال کی آنکھوں کے سامنے فریحہ کو پامال کرنے کا ہوا اس کے بعد وہ دانیال کو فریحہ کے سامنے قتل کر دیتا ۔ یہ بدلہ لے کر ہی اس کے سینے میں ٹھنڈ پڑ سکتی تھی ۔

شام تک کا وقت اس نے کانٹوں پر لوٹتے گزارا ۔شام کی اذان سنائی دیتے ہی اس کا رخ محلہ لنگی شاہ کی طرف ہو گیا ۔

کار، تھری ٹو ون ہوٹل کی پارکنگ میں روک کر وہ اندر کی جانب بڑھ گیا ۔دروازے میں داخل ہوتے وقت اس کی نظر سامنے سے آتے ایک نوجوان پر پڑی جو کافی عجلت میں دکھائی دے رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہویدا تھے۔اسے نظر اندزا کر کے حماد نے ایک طائرانہ نگاہ ہال میں بیٹھے لوگوں پر دوڑائی ۔ اچانک سامنے سے آتے نوجوان کو ٹھوکر لگی ،گرنے سے پہلے اس نے حماد کا سہارا لیا اور پھر اس سے معذرت کرتا ہوا تیز قدموں وہاںسے نکل گیا ۔

”یہ لازماََ کسی پریشانی کا شکار ہے ۔“حماد کو اندازہ لگانے کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔

”کیا مجھ سے بھی زیادہ پریشان ہے…. “ایک دوسری سوچ نے اس کے دماغ کے دروازے پر دستک دی۔یوں بھی یہ انسان کی فطرت ہے کہ اسے اپنی خراش دوسرے کے گھاو¿ سے زیادہ تکلیف دیتی ہے ۔ اور حماد ایک انسان ہی تھا ۔اپنی محبوبہ کی بے وفائی اسے ایک عظیم حادثہ محسوس ہو رہی تھی۔سر جھٹک کراس نے پریشان آلود خیالات کو اپنے دماغ سے نکالا اور کامی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔کامی خنجر نے اسے بتایا تھا کہ تھرڈ فلور ، کمرہ نمبر فورٹی فائیو ہمیشہ اس کے لےے ریزرو رہتا ہے۔

وہ لفٹ کے ذریعے تیسری منزل پر پہنچا ،مطلوبہ کمرے کے دروازے پر دستک دیتے ہی اندر سے کامی خنجر کی آواز سنائی دی ۔

”دروازہ کھلا ہے ۔“

وہ اندر داخل ہوا ،کامی اس کے استقبال کے لےے کھڑا ہو گیا تھا ۔پر جوش مصافحے کے بعد اس نے حماد کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

”جی پڑھاکو صاحب !….بلکہ سوری اب تو آپ سیٹھ صاحب ہیں ….فرمائیں ۔“

”میں کام کی نوعیت بتا چکا ہوں ۔“

”وہ تو کلیئر ہے یار!…. کہ دو بندے اغوا کرنے ہیں ….کون ہیں ؟….کب اغوا کرنے ہیں؟…. اور کیااس کے بعد لازماََ انھیں قتل بھی کرنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔“

”ان کا اتا پتا بتا دیتا ہوں،باقی جتنی جلدی ہو سکے انھیں اغوا کر لواور ہاں ،مرنا انھوں نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے ۔“

کامی مسکرایا۔”کہیں سیٹھوں کے خاندان کا صفایا کرنے پر تو نہیں تل گئے۔“

”نہیں یار !….تم یہ تصویر دیکھو ۔“اس نے فریحہ کی تصویر جیب سے نکال کر اس کے سامنے رکھ دی ۔

”ارے باپ رے ….ظالم !….یہ تو کیا کر رہا ہے ؟پہلے اتنی خوب صورت دوشیزہ کو ہمارے ہاتھوں مروایا اب ایک اور چن لایا ہے ،یہ تو اس سے بھی خوب صورت ہے ….ویسے چکر کیا ہے …. کیا یہ بھی کوئی سیٹھ زادی یا نواب زادی ہے ؟“

”نہیں یہ ایک کلرک کی بیٹی ہے ،فریحہ نام ہے اور یونیورسٹی میں پڑھتی ہے ۔“

”تو نے دو آدمیوں کا ذکر کیا تھا …. دوسری بھی لڑکی ہے ؟“

”نہیں ….وہ ایک مزدور ہے ۔“

”اس کی کوئی تصویروغیرہ ؟“

”نہیں اس کی تصویر میرے پاس موجود نہیں ہے ،البتہ اس کا حلیہ اورایڈریس بتا دیتا ہوں ،یوں بھی اس کی شکل و صورت ایسی ہے کہ تم لاکھوں کے مجمع میں بھی آسانی سے پہچان لو گے ۔“

کامی نے بے ساختہ پوچھا ۔”یعنی اتنا خوب صورت ہے ؟“

”نہیں ۔“حماد نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔”وہ بدصورتی کا شاہ کار ہے۔ بلکہ ٹھہرو…. میرے موبائل میں اس کی ایک تصویر موجود ہے ۔“حماد کو یاد آیا کہ اس نے مسکان کو دکھانے کے لےے دانیال کی جو تصویر کھینچی تھی وہ اب تک ڈیلیٹ نہیں کر سکا ہے ۔اس نے دانیال کی تصویر سکرین پر لا کر موبائل کامی کی طرف بڑھا دیا ۔

ایک نظردانیال کی تصویرپر ڈالتے ہوئے کامی نے کہا۔”یار !….میرا اصول ہے کہ میں صرف یہ پوچھا کرتا ہوں کہ کون ہے ؟اور اس کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ …. اس کے علاوہ میں نے کبھی بھی اپنے شکار کے بارے پوچھنے کی زحمت نہیں کی ۔لیکن تم نے مجھے تجسس میں مبتلا کر دیا ہے ….اگر برا نہ مانو تو اس کہانی کے پس منظر ہی کی تھوڑی سی وضاحت کر دو، دوست ہونے کے ناطے میرا اتنا حق تو بنتا ہے نا؟“

حماد نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور پھر گویا ہوا ۔”یہ وہ لڑکی ہے جس نے میرے ساتھ مرنے جینے کے عہد و پیمان باندھے تھے….میں نے ایک منصوبے کے تحت سیٹھ داو¿د کی بیٹی کو پھانسا تھا اور یہ اس منصوبے میں میرے ساتھ برابر کی شریک تھی ۔ہمارا منصوبہ یہی تھا کہ مسکان کو مارنے کے بعد ہم دونوں آپس میں شادی کرلیں گے ۔پھر ایک مجبوری کے تحت مجھے ،اسے اپنی بیوی سے ملواناپڑا ۔اس کا تعارف میں نے اپنی کزن کے طور پر کرایا تھا ۔وہ ایک با اخلاق لڑکی تھی۔ یہ پہلی ملاقات ہی میں اس کی گرویدہ ہو گئی اور پہلے ڈھکے چھپے لفظوں میں اور بعد میں واضح انداز میں اس کے قتل کی مخالفت کرنے لگی۔ مجبوراََ اپنی بیوی کو ٹھکانے لگانے کے لےے مجھے آپ کا سہارا لینا پڑا ۔اس بات سے میں نے اسے بے خبر رکھا تھا مگر اسے شک ہو گیا اور یہ مجھ سے متنفر ہو گئی ۔بات یہیں تک رہتی تو ٹھیک تھا، مگر شادی سے پہلے جس شخص کو بد صورتی کا شاہ کار سمجھ کر ہم ہنسا کرتے اور اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اب یہ ببانگ دہل اس سے شادی رچا رہی ہے ۔تم یقین نہیں کرو گے آج یونیورسٹی کی پارکنگ میں کئی سٹوڈنٹس کے سامنے یہ اس حبشی سے لپٹ گئی ۔ اور اس کا مقصد فقط مجھے جلانا تھا ۔اس حبشی نے تو مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا ….نتیجاََ مجھے ایک بار پھر آپ کو زحمت دینا پڑ گئی ۔“حماد نے جزوی تفصیل کامی کے سامنے دہرا دی ۔

”ہونہہ!….تو اب تمھارا کیا ارادہ ہے ؟“

”میں فریحہ کو اس حبشی کے سامنے پامال کرکے اس حبشی کی گردن اس کے سامنے اتارنا چاہتا ہوں۔“

”پھر فریحہ صاحبہ کا کیا کرو گے ؟“

”لازمی بات ہے اس کے بعد اس نے مرنا ہی ہے ۔“

کامی نے مکروہ انداز میں پوچھا۔”میرا خیال ہے مرنے والی اگر چند دن میرے گینگ کے آدمیوں کی خدمت کر جائے تو کوئی مضائقہ تو نہیں ہے۔“

”چند دن نہیں چند ماہ تک اسے یہ احساس دلاو¿ کہ اس نے کس کی محبت ٹھکرائی ہے ،بس وہ زندہ واپس نہ پہنچے ۔“

”نہیں پہنچے گی ….“کامی نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلا دیا ۔”جلسے جلوس میں دھماکے کرانے والے کافی گاہک دستیاب ہیں ۔“

حماد بولا۔”اب معاوضا طے ہو جائے ؟“

”اس بار جو تمھاری مرضی ہے دے دینا ۔“کامی نے سخاوت کا مظاہرہ کیا ۔

ایک لمحہ سوچنے کے بعد حماد نے پوچھا۔”بارہ لاکھ کافی رہیں گے ؟“

”بتایا تو ہے ….جو مرضی ہے دے دینا ۔“

”میں جلد بازی میں رقم ساتھ نہیں لا سکا ہوں،اس لےے ایڈوانس ……..“

کامی نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا ۔”تم کہیں بھاگے نہیں جا رہے۔“

”تو پھر کب تک کام ہو جائے گا ۔“

”کل یا پھر زیادہ سے زیادہ پرسوں ….تم اس نوٹ بک پر دونوں کے ایڈریس لکھ دو ۔“کامی نے تپائی پر رکھی نوٹ بک کی طرف اشارہ کیا ۔

”دونوں کے ایڈریس لکھ کر حماد نے کہا۔”یہ حبشی قریباََ ڈیڑھ بجے فریحہ کو یونیورسٹی سے پک کرنے جاتا ہے ۔“

”دانیال ….“کامی نے زیر لب دانیال کا ایڈریس پڑھا۔”تم فکر نہ کرو ،کل یا پرسوں انھیں ہم پک کرنے جائیں گے۔“

”اوکے ….مجھے اجازت ؟“حماد جانے کے ارادے سے کھڑا ہو گیا ۔

”ہاں مگر جانے سے پہلے دانیال کی تصویر میرے موبائل فون میں سینڈ کر دو ۔“

حماد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دانیال کی تصویر کامی کے موبائل میں سینڈ کی اور وہاں سے نکل آیا۔

٭……..٭

”دانی !….مجھے تم سے اس بے وقوفی کی توقع نہیں تھی ؟“ردا کو ڈراپ کر کے قبرستان کا رخ کرتے ہوئے فریحہ نے شکوہ کیا ۔

” معافی چاہتا ہوں فری !….بس اسے دیکھتے ہی مجھے اپنی مشی یاد آ گئی تھی ۔“

”پتا ہے دانی !….تم اسے لنگڑا لولا بھی کر دیتے تب بھی اسے اتنی تکلیف نہ ہوتی جتنی اسے مجھے تمھارے ساتھ لپٹتے دیکھ کر ہوئی ہوگی۔“

”جانتا ہوں،اسی لےے تم اس بے باکی سے میرے ساتھ محبت جتا رہی تھیں ….ہے نا “

”کیا یہ سچ مچ میری محبت نہیں ہو سکتی ؟“کار قبرستان کی ذیلی سڑک کی طرف موڑتے ہوئے اس نے پوچھا ۔

”میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا ۔“دانیال دکھی ہو گیا تھا ۔

”اچھا دانی !….اگر میں باجی سے پہلے تمھاری زندگی میں آئی ہوتی تو کیا مجھے بھی اسی طرح چاہتے جیسے باجی کو چاہتے ہو؟“ کار اس نے قبرستان کے دروازے کے سامنے روک دی تھی ۔

”اگر دل پر کسی کا اختیار ہوتا تو میں اب بھی تمھیں مشی کی طرح چاہتا ۔“

”بس سمجھ گئی۔“فریحہ منہ پھلا کر نیچے اتری ۔

”ایک بات کہوں ۔“وہ بھی کار سے نکل آیا۔

”کوئی ضرورت نہیں ۔“نقاب سے جھلکتی اس کی آنکھوں میں خفگی بھرے تاثرات ہویدا تھے۔

دانیال نے جھپٹ کر اس کا ہاتھ پکڑا ۔”فری !….پلیز ۔“

”اچھا فرماو¿۔“فریحہ رک کر مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگی ۔

”فری !….سچ تو یہ ہے کہ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے ۔“

”واہ!….بھلا وہ کیسے ؟“

”جانتی ہو ،تمھارا دل بہت پیارا ہے ۔ “وہ اس کا ہاتھ تھام کر کار کے بونٹ پر بیٹھ گیا ۔ ”مشی کے لےے میری بے انتہا چاہت دیکھ کر تمھیں میری ذات میں دلچسپی پیدا ہوئی ورنہ حقیقت یہی ہے کہ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے اسی طرح جیسے تمھیں حماد سے محبت نہیںتھی ۔اس کی خوب صورتی نے تمھیں اپنی جانب متوجہ کیا اور جب اس روشن چہرے کے پیچھے چھپی کالک تمھارے سامنے آئی تو محبت بھاپ بن گئی۔ البتہ ہر لڑکی کی طرح تمھارے دل میں چاہے جانے کا جذبہ پنہاں ہے کہ کوئی تمھیں بھی چاہنے والا ہو ۔اور یقین کرو فری میں پوری کوشش کروں گا کہ کبھی تمھیں غم نہ پہنچاو¿ں….مشی کو بھلانا میرے بس سے باہر ہے ،اس کی محبت میری رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے اور ساری زندگی یہ محبت اسی طرح رواں رہے گی لیکن بہ خدا میں تمھارے حقوق سے کبھی لا غرضی نہیں برتوں گا۔“

”چلیں ،باجی منتظر ہو گی ؟“اس نے دانیال کی بات کاجواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: