Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 27

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 27

–**–**–

۔“

”ہاں جیرے !….ذرا یہ تصویر دیکھو ۔“کامی نے فریحہ کی تصویر اس کی جانب بڑھائی ۔

”یہ کون ہے ؟“جیرے کی آنکھیں گویا تصویر سے جڑ گئی تھیں ۔

”ہمارا نیا شکار ۔“

جیرا پوچھنے لگا۔”اسے قتل کرنا ہے ؟“

”نہیں ،پہلے اغوا کرنا ہے چند دن شغل میلہ کر کے قتل کر دیں گے ۔“

جیرا ندیدے پن سے بولا ۔”واہ یہ تو پہلے والی سے بھی خوب صورت ہے باس۔“

”ہاں اب پہلی والی کے مرنے کا وقت آ گیا ہے ….“

”باس اگر زندہ چھوڑ دیںبے چاری کو ……..ویسے پہلے بھی اس کے ساتھ کافی ظلم ہو چکا ہے ، ماں بننے والی تھی غریب ہمارے وحشیانہ سلوک سے ….“

”نہیں جیرے !….“کامی نے قطع کلامی کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔”اس کو مارنے کا معاوضا ہم وصول کر چکے ہیںاورحمل کا ضائع ہونا اچھی بات ہے نا۔اس بچے نے تو یوں بھی ماں کے مرنے کے ساتھ مر جانا تھا۔ باقی سچ تو یہ ہے کہ ہم اس بات سے واقف ہی نہیں تھے کہ وہ حاملہ ہے ۔اور بالفرض ہمیں پتا بھی ہوتا تو کیا ہم آٹھ نو ماہ انتظار کرتے رہتے ، پھراس بچے کو پالتا کون ؟….اور ہم اتنے متقی یا خدا ترس ہوتے تو اس کی ماں ہی کو چھوڑ دیتے ….بے وقوف کہیںکا،میرا خیال ہے تمھارا دماغ کام نہیں کرتا….“

”سوری باس ۔“جیرے نے سر جھکا لیا ۔

”اچھا جانتے ہو ؟ابھی جو لڑکی اغوا کرنی ہے یہ اسی آدمی کی محبوبہ ہے ۔“

”یعنی پہلے بیوی اور اب محبوبہ؟….کافی ظالم انسان ہے ۔“جیرے نے دانت نکوسے ۔

کامی قہقہہ لگا تے ہوئے بولا۔”ہم کون سے مظلوم ہیں ؟“

”باس !….ہمارا تو یہ کاروبار ہے ….اور پھر ہم غیروں کو قتل کرتے ہیں کسی تعلق والے کو تو کبھی کچھ نہیں کہا ۔“

”ویسے اس کی نظر میں تو اس کی بیوی زیر زمین پہنچ گئی ہے ۔“

”ہاں باس اس کی جگہ پنکی غریب کی جان چلی گئی کتنی فرمان بردار لڑکی تھی مجال ہے کسی کے بلانے پر اس کے ماتھے پر بل تک آیا ہو ،یہ تو آج بھی پہلے دن کی طرح اچھلتی کودتی ہے ۔“

”اسی وجہ سے تو نئی نکور لگتی ہے ….اور جہاں تک پنکی کا تعلق ہے تو اس کی موت کا ذمہ دارسراسر اس کا اپناوالد ہے ۔ہمارے کئی مطالبات اس نے نخوت سے ٹھکرا دےے تھے مجبوراََ اسے سبق سکھانے کے لےے یہ سب کرنا پڑا….اور یاد رکھو جرم کی دنیا میں کچھ اصولوں کی بہت سختی سے پابندی کرنی پڑتی ہے ،اغوا کرنے والے اگر مفت رہا کرتے رہیں تو اغوا ہونے والوں کے پسماندگان کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ تاوان کی ادائی میں ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں ۔اسی طرح اگر ہم رقم لینے کے باوجود کسی کام کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچائیں توگو ہم سے کام لینے والے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکےںگے ، لیکن ہماری کارکردگی پر حرف ضرور آئے گایہاں تک کہ لوگ ہم سے کام لینا چھوڑ دیں گے ….اور حقیقت یہی ہے کہ آج صرف مجرم ہی اپنے پیشے میں ایمان دار ہیں ۔باقی اس وقت توتم سب ہی اس کے قرب میں مرے جا رہے تھے ، میں نے تو اسی محترما کو بم دھماکے میں اڑانا تھا ،لیکن سبھی کہہ رہے تھے اس کی جگہ پنکی سے جان چھڑا لیں اور اس سے چند دن دل بہلا لیں ….اب اتنی جلدی جی بھر گیا ۔“

”باس !….یہ کسی اور قسم کی لڑکی ہے ،پتا نہیں اپنے شوہر کے ساتھ اس کا رویہ کیسا تھا۔“

کامی ہنسا۔”اگر اچھا ہوتا تو وہ اسے مروانے میں دس لاکھ کی خطیر رقم خرچ کرتا۔“

”صحیح کہا ۔“جیرا بھی ہنسنے لگا ۔

”اچھا آج میری باری ہے ،کافی دن سے وہ تمھارے تصرف میں ہے ۔“کامی انگڑائی لے کر کھڑا ہو گیا ۔ ”یوں بھی کل کا سورج آخری بار اس پر طلوع ہو گا ۔“

”میری طرف سے اسے ابھی گولی مار دو ۔“جیرے نے منہ بنا کر کہا ۔

”نہیں جب تک اس کی جگہ لینے والی نہیں آ جاتی یہ زندہ رہے گی ۔“یہ کہہ کر کامی وہاں سے نکل آیا تھوڑی دیر بعد وہ ایک بند کمرے کا لاک کھول کر اندر داخل ہو رہا تھا ۔کمرے میں بچھے بیڈ پر ایک لڑکی گھٹنوں میں سر دےے بیٹھی تھی جو لامحالہ مسکان تھی ۔دروازہ کھلنے کی آواز سن کر بھی اس نے اپنا سر اوپر نہیں اٹھایا تھا ۔

”ہیلو بے بی ۔“کامی نے غلیظ انداز میں ہنستے ہوئے اسے پکارا ۔

مسکان نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر کامی کی طرف دیکھا اس کی نظروں میں دنیا جہان کی نفرت سمٹی تھی۔

”تمھارے لےے ایک خوش خبری ہے جانم ۔“کامی اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا ۔

مسکان کچھ کہے بنا اسے نفرت سے گھورتی رہی ۔

”کل اس قید سے تمھاری جان چھوٹ جائے گی اور تمھاری جگہ لینے آ رہی ہے تمھارے شوہر کی محبوبہ ….فریحہ نام ہے ،بہت خوب صورت لڑکی ہے ،تم سے بھی خوب صورت ہے وقت کافی اچھا پاس ہو گا ۔“

فریحہ کا نام سن کر مسکان نے بے چینی محسوس کی اور بادل نخواستہ اس کے لب وا ہوئے….

”اس کا قصور ؟“

”اس کا قصور یہ ہے کہ، وہ میرے دوست یعنی تمھارے شوہر ِ نامدار سیٹھ حماد سے بے وفائی کر کے ایک مزدور کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہی ہے ۔“

”مزدور کون ؟“مسکان کے دل کی دھڑکن بے ربط ہونے لگی ۔

”کیوں ….آپ بھی کسی مزدور سے واقف ہیں کیا ۔“کامی اس کے ساتھ ایک نازیبا حرکت کرتا ہوا استہزائی انداز میں ہنسا ۔

مسکان بے ساختہ بدک کر پیچھے ہٹ گئی یہ جاننے کے باوجود کہ اس کا احتجاج کرنا کسی کام نہیں آئے گا….دو ہفتوں سے وہ یہی عذاب سہہ رہی تھی ،کئی بار اس کا جی خود کشی کرنے کو چاہا مگر پھر وہ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکی تھی ۔اب بھی اسے جینے کی آس تھی ،اسے اپنے دانی پر مکمل بھروسا تھا کہ اس کی آغوشِ محبت اس کے لےے پہلے کی طرح ہی وا ہو گی ۔

”تمھیں اس مزدورکا نام معلوم ہے ۔“ایک انجانے خوف کے زیر اثر اس کے دل کی دھڑکنیں بے ربط ہونے لگیں ۔

”دانیال نام ہے ….ویسے میں حیران ہوں کہ فریحہ جیسی لڑکی اس حبشی پر کیسے مر مٹی۔“

مسکان کے ہونٹوں سے بہ مشکل نکلا۔”دد….دانیال ….؟“

”تم اسے جانتی ہو ؟“اس کا ہکلانا کامی کو حیران کر گیا تھا ۔

مسکان نے اسے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ،اس کے ذہن میںتو آندھیاں چل رہی تھیں ،اتنی جلدی دانیال اپنی مشی کو بھول گیا تھا ….

”ہیلو بے بی !….“کامی نے اسے اپنی جانب کھینچا ۔

”چھوڑو مجھے کمینے ….“اس نے حسب سابق مزاحمت کی کوشش کی ،مگر روزانہ کی طرح اس کی مزاحمت بے کار گئی تھی ۔

”ہائے بے بی ۱….تمھاری یہی ادائیں تو مجھے دوبارہ تمھارے پاس لے آئی ہیں ۔“کامی خنجر وحشیوں کی طرح اس پر پل پڑا اور وہ روزانہ کی طرح سسکتی رہ گئی ۔

حیوانی خواہشات کو پورا کرنے کے بعد وہ فاتحانہ انداز میں وہاں سے رخصت ہونے لگا ،غیر متوقع طور پر وہ اس سے مخاطب ہوئی ….

”کامی خنجر !….“

”جی فرماو¿؟“وہ حیرانی سے پیچھے مڑا ۔

”کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم فریحہ کو کچھ نہ کہو…. اسے اغوا نہ کرو ۔“

”بھلااس کے ساتھ تمھیں کیا ہمدردی ہے ….وہ تمھاری رقیب ہے، تمھارے شوہر کی محبوبہ ہے…. بلکہ تھی اور اس کی وجہ سے تمھیں یہ سب کچھ جھیلنا پڑا ۔نہ حماد اس کے حصول کی تمنا کرتا اور نہ تمھیں اغوا ہونا پڑتا۔“

”وہ خبیث میرا شوہر نہیں ہے …. “

”پھر کون ہے تمھارا شوہر؟“

”یہ جاننا تمھارے لےے ضروری نہیں ہے ….البتہ ایک سودا کرنا چاہو تو….“

”سودا ….؟“کامی نے اشتیاق سے پوچھا ۔”کیسا سودا ؟“

” فریحہ کو ٹھکانے لگانے کے لےے حماد نے تمھیں کتنی رقم آفر کی ہے ؟“

”بارہ لاکھ روپے۔“

””مجھے رہا کر دو ….اور فریحہ کو کچھ نہ کہو ،میں تمھیں بارہ کروڑ روپے دوں گی ۔“

”آفر تو اچھی ہے لیکن تمھیں رہا کرنے کا مطلب اپنی بربادی ہی ہے ۔“

”میں وعدہ کرتی ہوں تمھارے خلاف کوئی کارروئی نہیں کی جائے گی ….میرے ساتھ جو وحشیانہ سلوک ہوا ، میں یہ بھی معاف کر نے کے لےے تیار ہوں ….اور یقین کرو میں جھوٹ نہیں بولتی ۔“

”تم نے پہلے کبھی یہ آفر نہیں کی ؟“

”کیونکہ پہلے مجھے زندگی عزیز نہیں تھی ،میں نہیں چاہتی تھی کہ اس پامال جسم کو لے کر اپنے محبوب کے پاس لوٹوں۔“

کامی کے لبوں پر مسکراہٹ ظاہر ہوئی ۔”اور اب ؟“

”اب کسی ڈینگیں مارنے والے کے کھوکھلے دعوے اس کے منہ پر مارنا چاہتی ہوں ۔“مسکان کی نگاہوں میں دانیال کا چہرہ گھوم گیا ۔

”ایک بات کہوں بے بی !….“کامی نے سنجیدہ لہجے میں کہا، مسکان سوالیہ نظریں سے اسے دیکھنے لگی۔

”یہ پیار محبت کے جھوٹے ناٹک ،سوائے پچھتاوں کے کچھ نہیں دےتے،تمھیں حماد سے محبت تھی اور نتیجہ تم بھگت رہی ہو،جبکہ اسے تم سے دولت کے علاوہ کچھ درکا ر نہیں تھا۔تواب اسے شرمندہ کرنے سے کیا حاصل؟“

”میں اغوا ہونے سے پہلے حماد کی جھوٹی محبت سے واقف ہو گئی تھی لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھاکہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھا لے گا؟“

”جب پہلے سے واقف تھیں تو اب اسے کیا جتاو¿ گی؟“

”مسٹر کامی !….تمھاری اطلاع کے لےے عرض ہے کہ ،میرا محبوب حما د نہیں کوئی اور ہے ۔“

”پہلے کہا میرا شوہر کوئی اور ہے ….اب محبوب بھی کوئی اور ہو گیا ….میرے پلے تو کچھ نہیں پڑ رہا ۔“

”میرا شوہر دانیال ہے….اور دانیال ہی مجھے ہر کسی سے عزیز ہے ….لیکن لگتا ہے میرے دل میں جس کی محبت پیدا ہوتی ہے وہ فریحہ کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔“

”تو مرنے دو سالی کو ۔“کامی استہزائی انداز میں ہنسا۔

”نہیں وہ بے قصور ہے۔“

”کیا تم مجھے پوری کہانی سنا سکتی ہو ؟“کامی کو اس معاملے میں دلچسپی محسوس ہوئی اور وہ اس کی کہانی سننے کے لےے دوبارہ بیٹھ گیا۔

مسکان چند لمحے سوچ میں ڈوبی رہی پھر کسی اچھی امید کے لالچ میں وہ کامی کو مختصراََ اپنی کہانی سنانے لگی….

”میں محبت کے نام سے الرجک تھی،یونیورسٹی آمد پر حماد میری طرف متوجہ ہوا اور مختلف حیلوں سے مجھے اپنا دیوانہ بنا لیا ….میں اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئی مجھے اس کے علاوہ کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا تھا ، یہاں تک کہ میں نے اسے جیون ساتھی بنا لیا ۔شادی کے بعد حماد کی محبت کہیں غائب ہو گئی ….لیکن میں اس کے عام سے روےے ہی کو محبت کی معراج سمجھتی رہی ،پھر اس کے سر پر بچے کا جنون سوار ہوا ۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ بچے کے لےے اتنا بے چین کیوں تھا بس وہ چاہتا تھا کہ ہم جلد از جلدایک بچے کے ماں باپ بن جائیں۔جب شادی کے دو سال بعد بھی یہ آرزو شرمندہ تعبیر نہ ہوسکی ،تو وہ مجھے شہر کی مشہور گائنالوجسٹ کے پاس لے گیا ۔چیک اپ کے بعد پتا چلا کہ میں تو ٹھیک ہوں البتہ وہ خود بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے…………….“ مسکان کی بات جاری رہی آخر میں وہ کہہ رہی تھی ……..

”میں نہیں جانتی کہ کس بات نے حماد کو اتنا بڑا قدم اٹھانے پر مجبور کیا شاید اسے دانیال کے ساتھ میری محبت نے ایسا کرنے پر اکسایا،یاہو سکتا ہے تم اس پر جھوٹا الزام لگا رہے ہو، کہ میرے اغوا میں اس کا ہاتھ ہے۔“

”تم نے بعد میں اس سے پتا نہیں کیا کہ وہ بچے کے لےے اتنا بے چین کیوں تھا ؟“

”نہیں ….“مسکان نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے موقع ہی نہیں ملا کہ اس سے پوچھ سکوں ،یوں بھی دانیال کے گھر سے آنے کے بعد ہم اسی کوشش میں رہے کہ میںکسی بہانے دانیال سے طلاق لے لوں۔“

”پتا ہے وہ حبشی کیوں فریحہ سے شادی کر رہا ہے۔“

مسکان کا نفی میں ہلتا سر دیکھ کر اس نے جواب دیا ۔”کیونکہ اس کی نظر میں تم مر چکی ہو ۔“

”کیا ……..؟“اب حیران ہونے کی باری مسکان کی تھی ۔

”محترما !….حماد نے تمھیں ٹھکانے لگانے کے لےے مجھ سے ڈیل کی تھی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمھاری دولت و جائیداد پر قابض ہونا چاہتا ہے ….بلکہ اس نے تم سے شادی ہی اس مقصد سے کی تھی اور شروع میں تمھاری فریحہ بی بی بھی اس کھیل میں شامل تھی، البتہ تم سے ملنے کے بعد وہ اس منصوبے سے متنفر ہوئی اور حماد کو مجبور کرنے لگی کہ تمھیں کچھ نہ کہا جائے لیکن حماد نے اس سے بالا ہی بالا ہمارے ساتھ ڈیل کر لی نتیجتاََ تم یہاں ہو ۔اور حمادکیوں بچے وغیرہ کی خواہش کا اظہار کرتا رہا اس ڈرامے سے میں واقف نہیں ہوں ، باقی یہ حقیقت ہے کہ تم دنیا والوں کی نظر میں مر چکی ہو ،تمھارا جنازہ ہو چکا ہے اور ایک قبر پر تمھارے نام کی تختی لگ چکی ہے ۔“

”مم….مگر کیسے ….میںتو زندہ سلامت موجود ہوں ،کیا تم نے انھیں کہا ہے کہ میں مر چکی ہوں۔“

”ایسا ہی سمجھو۔“کامی نے اثبات میں سر ہلایا۔

”اور انھوں نے تمھاری بات کا یقین کر لیا ۔“

”ان کی مجبوری تھی بے بی ….ہم نے تمھارا لباس ایک دوسری لڑکی کو پہنایا اور اسے تمھاری کار میں بٹھا کر تم سے متعلق سارا سامان ،مطلب تمھارا پرس موبائل وغیرہ ساتھ رکھا اورکا کوبم دھماکے میں اڑا دیا ….نتیجہ دو اور دو چار کی طرح واضح ہے ،تمام یہی سمجھ رہے ہیں کہ تم باقی نہیں رہیں ۔“

”اس لڑکی کا قصور؟“

”اس کا والد تاوان کی رقم ادا کرنے پر تیار نہیں تھا ۔“

”کیا تم لوگوں کو اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے ۔“

”اللہ کا خوف….“کامی ہنسا ۔”بے بی !….اللہ کا خوف نہ ہوتا تو تم اتنے دن کیسے زندہ رہتیں ، حالانکہ تمھیں ٹھکانے لگانے کا معاوضا ہم کب کا ڈکار چکے ہیں ۔“

”میری جگہ دوسری کو کیوں مروا دیا ؟“

” وہ باسی تھی اور تم نئی ….کچھ دن ہم نے بھی تو شغل میلہ کرنا ہوتا ہے نا….باقی اب فریحہ کی جگہ تمھیں مروا دیں گے …. حساب برابر ۔“

”تو تمھیں سودا منظور نہیں ؟“مسکان کی آواز میں مایوسی تھی۔

”نہیں ….البتہ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ فریحہ اور اس کے محبوب دانیال کو تم سے ضرور ملواو¿ں گا تو جو گلہ شکوہ کرنا ہوں کرلینا کیونکہ وہ کلوٹا تمھارا بھی تو محبوب ہے ….بس یا کچھ اور؟“

”رقم دگنی کر لو،بارہ کے بجائے چوبیس کروڑ کر لو ۔“

”سوری ۔“

”تم ساری زندگی بھی اتنی رقم اکھٹی نہیں کر سکو گے جتنی میں آفر کر رہی ہوں “

”صحیح کہا ….مگر اس میںرسک بہت زیادہ ہے ،میں چوبیس کروڑ کے بدلے اپنے گروہ کو داو¿ پرنہیں لگا سکتا۔اور پھر ہم اپنے گاہکوں کے خلاف ہی سودا بازی میں مصروف ہو گئے تو ہماری دکان داری ٹھپ ہو جائے گی ۔ نہیں محترما تھینکس ۔“ کامی کھڑا ہو گیا۔ ”کافی گپ شپ ہو گئی ہے اب مجھے چلنا چاہےے،کل تمھاری ملاقات فریحہ اور دانیال سے کراو¿ں گا ۔“

اس کے وہاں سے جاتے ہی مسکان لڑکھڑاتے قدموں سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی ۔وہ روزانہ صابن کی پوری ٹکیہ اپنے بدن پر رگڑ رگڑ کر گھلا دیتی،مگر صفائی کا وہ احساس جو وہ حاصل کرنا چاہتی اسے میسر نہ ہوتا ، حالانکہ وہ جانتی تھی بدن کی صفائی سے روح میں سرایت کر جانے والی غلاظت کے احساس کو زائل کرنا ممکن نہیں مگر اس کے بس میں بدن کی صفائی تھی اور اس بات سے اس نے کبھی فروگزاشت نہیں کی تھی ،اپنے رب کو اس نے اس حالت میں بھی نہیں بھلایا تھا ،کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہوتا وہی ہے جو رب کی مرضی ہوتی ہے اور وہ اپنے رب کے فیصلے پر شاکر تھی ۔

٭……..٭

”یس ؟“احمد دروازے پر ہونے والی دستک سن کر باآواز بلند بولا۔

دروازہ کھول کر صفدر اندر داخل ہوا ۔”سر !….مسٹر حماد نے کسی کامران نامی شخص سے بات کی ہے ۔ اور یہ اس کی آڈیو ریکارڈنگ ہے ۔“ صفدر نے ایک چھوٹا سا ریکارڈنگ ڈیوائس اس کے سامنے رکھ کر چلا دیا ۔

ایک نامانوس آواز ابھری ۔”یس؟“

اس کے ساتھ حماد کی آواز آئی ۔”میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔“احمد غور سے ان کی گفتگو سننے لگاپچیس سیکنڈ کی وہ ریکارڈنگ نظر انداز کرنے کے قابل نہیں تھی ۔

”صفدر !….ان دونوں کی ملاقات کی مکمل ریکارڈنگ ہونا چاہےے….اور میراخیال ہے مجھے یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ یہ ریکارڈنگ کیسے ہو گی ؟“

”نو سر !….“کہہ کر صفدر باہر نکل گیا ۔جبکہ احمد سوچ میں کھو گیا ،سیٹھ وسیم سے ساری تفصیل سننے کے بعد اس کا شک فوراََ حماد کی طرف گیا تھا،مگر پھر دونوں بھائیوں کے پیہم اصرار نے اس کے شک کو ڈانو ڈول کر دیا کہ وہ دونوں بھائی اپنے بہنوئی کو ہر شک سے مبرا سمجھتے تھے ۔اگر اسے ہر کسی پر شک کرنے کی ٹریننگ نہ ملی ہوتی تو شاید وہ حماد کو مشکوک افراد کی فہرست سے خارج کر دیتا ۔اس مختصر سی ریکارڈنگ نے احمد کے دل میں امید کی شمع جلا دی تھی ،اسے لگا کہ جلد ہی مسکان کے قتل کا کیس حل ہونے والا ہے ۔گو وہ جس فیلڈ میں تھا وہاں اس طرح کے چھوٹے موٹے کیسوں پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ،کہ ان کا کام صرف ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرناہوتا ہے ،لیکن دوست کی پریشانی دیکھتے ہوئے اس نے اپنے طور پر اس کیس کو دیکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔

باقی کا دن بھی اس نے دفتر ہی میں گزارا کہ وہ حماد کی ملاقات کا نتیجہ معلوم کرکے چھٹی کرنا چاہتا تھا ۔

٭……..٭

اس کی عمر پچیس سے ستائیس سال کے درمیان تھی۔چاے کا کپ پی کر وہ پچھلے ایک گھنٹے سے اس جگہ براجمان تھا….کوئی بھی غور کرنے والا آسانی سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ کسی کا منتظر ہے ۔موبائل فون کی رنگنگ ٹون سے وہ چونکا اور موبائل کان سے لگا کر کال سننے لگا

”عمر !….وہ پارکنگ سے نکل کر ہوٹل کے داخلی دروازے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔“دوسری جانب صفدر تھا۔

”اوکے ….“اس کی طرف سے اشارہ ملتے ہی عمر نے رابطہ منقطع کرتے ہوئے موبائل جیب میں ڈالا اور ایک باریک چپٹا سا آلہ دائیں ہاتھ میں تھامتے ہوئے تیزی سے گیٹ کی طرف چل پڑا ۔وہ بہ مشکل چند قدم اٹھا پایا ہو گا کہ اس نے حماد کو ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھا ،وہ تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ایک سرسری نظر اس پر ڈال کر عمر عجلت کا مظاہرہ کرتا ہوا دروازے کی طرف بڑھتا رہا ۔حماد کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ اچانک لڑکھڑایا اور بے ساختہ حماد کا سہارا اس انداز میں لیا گویا وہ گرنے سے بچنا چاہتا ہو ،اس دوران اس نے وہ چپٹا آلہ بڑی صفائی سے اس کے کوٹ کی اوپر والی سامنے کی جیب میں ڈال دیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے ….

”سوری سر !….آئی ایم ویری سوری ۔“کہہ کر باہر کی راہ لی ۔اس نے حماد کا جواب سننے کی زحمت نہیں کی تھی ۔ حماد کے پیچھے آنے والا شخص بھی عمر کا ساتھی ہی تھا ۔وہ عمر کی طرف دیکھے بغیر حماد کے پیچھے چلتا رہا ۔

ہوٹل سے باہر نکل کرعمر کے عجلت سے اٹھتے ہوئے قدم نارمل ہو گئے اور وہ جیب سے موبائل فون نکال کر صفدر کو رپورٹ دینے لگا ۔

”سر !….میراکام ہو گیا ہے ….اور شہباز اس کے تعاقب میں ہے ۔“

جواب ملا ۔”اوکے !….میں گاڑی میں تمھارا منتظر ہوں ۔“

ہوٹل کی حدود سے باہر آ کر اس کے قدم ایک بغلی گلی کی طرف اٹھ گئے ،تھوڑی دیربعدوہ ہوٹل کی عقبی گلی میں موجود کالوں شیشوں والی ایک ویگن میں بیٹھ رہا تھا ۔صفدر وہاں پہلے سے موجود تھا ۔عمر پر توجہ دئےے بغیر وہ رسیونگ سیٹ سے آنے والی گفتگو کی طرف متوجہ رہا ۔ہیڈ فون کی وجہ سے وہ گفتگو صرف اسی کو سنائی دے رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں کی چمک اور چہرے پر چھائے دبے دبے جوش سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان کی محنت رایگان نہیں گئی تھی ۔

عمر اسے ڈسٹرب کےے بغیر دائیں بائیں کا جائزہ لیتا رہا ۔اسی وقت اسے شہباز کی کال آنے لگی۔

”یس ؟“وہ اٹنڈنگ بٹن پریس کرتا ہوا مستفسر ہوا ۔

”وہ تھرڈ فلور ، کمرہ نمبر فورٹی فائیو میں چلا گیا ہے ۔“

”ٹھیک ہے ….تم نگرانی جاری رکھو ….حماد باہر نکلے تو اس کا پیچھا کرنے کی ضرورت نہیں ، البتہ اس کے علاوہ کوئی نکلے تو اس کے پیچھے چلے جانا ۔“

”ٹھیک ہے ۔“کہہ کرشہباز نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

صفدر حماد اور کامران کی گفتگو سننے میں مگن رہا ۔گفتگو کے اختتام پر اس نے مسکراتے ہوئے ہیڈ فون کانوں سے ہٹایا اور کہا ۔

”گڈ میاں عمر !….تمھاری محنت رنگ لائی ہے ۔“

عمر ہنسا ۔”مطلب کوئی کام کی بات معلوم ہو گئی ہے۔“

”ایسی ویسی ….سمجھو مشن ہی مکمل ہو گیا ۔“

”کچھ پتا بھی چلے ؟“

”لو یہ ریکارڈنگ خود سن لو ۔“ریکارڈنگ ڈیوائس اس کے حوالے کر کے صفدر ویگن کو سٹارٹ کر نے لگا۔اسی وقت شہباز کی کال آنے لگی ۔عمر نے کال اٹینڈ کی ۔

”حماد کمرے سے باہر آ کر بہ مشکل لفٹ تک پہنچا ہوگا کہ دوسرا آدمی بھی باہر نکل آیا ہے ۔اور میں اس کے تعاقب میں جا رہا ہوں ….“یہ الفاظ کہتے ہی شہباز نے رابطہ منقطع کر دیا تھا ۔

عمر ریکارڈنگ ڈیوائس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔

گھنٹے بھر بعد وہ احمد صاحب کے پاس پہنچ گئے تھے۔وہ اپنے آفس میں ان کا منتظر تھا ۔ کامیابی کی نوید سنا کر صفدر نے ریکارڈنگ ڈیوائس اس کے سامنے رکھ دیا۔احمد کوئی سوال کےے بغیر ریکارڈنگ سننے لگا ۔جبکہ وہ دونوں خاموشی سے بیٹھ گئے تھے ۔

گھنٹے بھر کی ریکارنگ نے احمد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔

”گڈ مسٹر صفدر اینڈ عمر!….“

”تھینک یو سر !….“صفدر نے جواب دیا جب کہ عمر فقط سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔اسی وقت عمر کے موبائل فون پر شہباز کی کال آنے لگی ۔

”یس ؟“اس نے کال رسیو کی ۔

”وہ آدمی گھنٹا بھرہوٹل منیجر کے آفس میں بیٹھا رہا ،پھر وہاں سے نکل کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا ہے۔ اب میرے لےے کیا حکم ہے ؟“

”ویٹ ….احمد صاحب سے پوچھ لوں ۔“عمر احمد کی طرف متوجہ ہو ا….

”سر !…. ہمارا مطلوبہ آ دمی اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا ہے، اب شہباز کے لےے کیا حکم ہے ؟“

”اسے کہو واپس آ جائے ….صبح ان لوگوں سے نبٹ لیں گے ،رات کو مشکل ہے کہ یہ فریحہ یا دانیال کے خلاف کوئی کارروائی کر سکیں ۔“

عمر، اثبات میں سر ہلاتے ہوئے شہباز کو بتانے لگا ….

”تم واپس آ جاو¿۔“

”اوکے !….“شہباز نے رابطہ منقطع کر دیا اور عمر ،احمد کی طرف متوجہ ہو گیا وہ کہہ رہا تھا ….

”میرے اندازے کے مطابق کل یہ لوگ یونیورسٹی سے فریحہ اور دانیال کو اغوا کرنے کی کوشش کریں گے۔اور اس سے پہلے ہم نے انھیں گرفتار کرنا ہے ۔باقی اس کی گفتگو تم لوگوں نے سن لی ہے ۔یہ لوگ صرف اغوا کی وارداتوں میں ملوث نہیں بلکہ ملک دشمن کارروائیوں میں بھی ان کا ہاتھ ہے ….کامران واضح انداز میں اپنے ان گاہکوں کا ذکر کر رہا تھا جو جلسوں وغیرہ میں دھماکے کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔“

صفدر نے کہا ۔”سر !….اس بات کا اندازہ تو آپ کو تبھی ہو جانا چاہےے تھا جب سیٹھ وسیم کی بہن کو دھماکے میں اڑایا گیا تھا ۔“

”صحیح کہا ….“احمد نے اثبات میں سر ہلایا۔”لیکن اس وقت میں نے سوچا تھا کہ انھوں نے اتفاقی طور پر سیٹھ زادی کو دھماکے میں اڑایا ہے ….پر اب تو وہ واضح طور پر اعتراف کر رہا ہے کہ دھماکے کرانے والے گاہک بھی ان سے رابطہ کراتے رہتے ہیں، ایسے لوگ ملک دشمن ہی ہو سکتے ہیں اور ہمارا کام ہی ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرنا ہے ۔“

عمر مسکرایا۔”گویا اب یہ سیٹھ وسیم کا کام نہیں رہا۔“

”ایسا ہی سمجھو ۔“احمد نے کھڑے ہو کر نشست برخاست کرنے کا عندیہ دیا ۔وہ دونوں بھی اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے تھے۔

٭……..٭

احمد کی ایما پر صبح سویرے ہی کامران کے ٹھکانے کو گھیر لیا گیا تھا ۔سول کپڑوں میںملبوس سی آئی والے اس مکان کی عقبی اور سامنے کی گلی میں ٹہل رہے تھے ۔نو بجے کے قریب احمد وہاں پہنچا ،اس نے متعلقہ تھانے کو جان بوجھ کر بے خبر رکھا ،کہ اسی طریقے سے وہ چھاپے کو خفیہ رکھ سکتا تھا ۔احمد نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے تمام سے اوکے رپورٹ لی اور پھر انھیں کارروائی کی ترتیب بتانے لگا ۔

”عمر اور شہباز ہدف کے دائیں والے مکان میں ،اکرم اور صفدر بائیں والے مکان میں ،بلال اور حمزہ عقبی گلی میں موجود رہیں گے ۔خرم ،کریم اور عرفان عقب سے اندر داخل ہوں گے ،سامنے سے اشفاق ، ذیشان اور میں گھسیں گے جبکہ عبداللہ ،شہزاد اور فخر سامنے والی گلی میں موجود رہیں گے ۔تمام لوگوں نے ذاتی حفاظت سے غفلت نہیں برتنا ،ہتھیار بردار اشخاص کے ساتھ کوئی رعایت برتنے کی ضرورت نہیں ،بس یہ کوشش کرنی ہے کہ زندہ ہاتھ لگیں ….آل سٹیشن انڈر سٹینڈ !….“

جواباََ تمام نے اسے فرداََ فرداََ اوکے رپورٹ دی ۔

”گڈ….دائیں بائیں والے آن لوکیشن ہو جاو¿۔“

تین منٹ بعد اسے پہلے عمر اور پھر صفدر کی آواز سنائی دی ….

”آن لوکیشن سر !….“

”اوکے….اب ہم بذریعہ داخلی گیٹ اندر داخل ہوں گے ،خرم تم پانچ منٹ بعد ایڈوانس شروع کر دینا۔“

”اوکے سر !….“خرم کی اوکے سنتے ہی احمد کار سے نکل کر اس مکان کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا ،اشفاق اور ذیشان اس کے پیچھے چلنے لگے ۔

داخلی دروازے پر اطلاعی گھنٹی مفقود تھی ۔احمد نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

بغیر کسی تاخیر کے پوچھا گیا ۔”کون؟“

”کامران صاحب سے ملنا ہے ۔“احمد متانت سے بولا اپنا نام بتانے کی ضرورت اس نے محسوس نہیںکی تھی ۔

دروازہ کھلا اور ایک پختہ عمر کے مرد نے باہر جھانکا ۔

”کیا باس سے تمھاری بات ہو چکی ہے؟“

”نہیں ….“احمد نے نفی میں سر ہلایامگر وہ مجھے جانتے ہیں ۔

”اس وقت وہ سوئے ہیں ….آپ گھنٹا بھر بعد تشریف لائیں ۔“یہ کہہ کر وہ احمد کا جواب سنے بغیر دروازہ بند کرنے لگا ۔

احمد سرعت سے بولا۔”بات سنیں ۔“

”جی فر….“وہ بہ مشکل اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ احمد کا دایاں ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے حرکت میں آیا اور کنپٹی پر لگنے والے مکا اسے سوال و جواب کی دنیا سے دور لے گیا ۔نیچے گرنے سے پہلے احمد نے اسے اپنے بازووں میں سنبھال لیا تھا،اس کے ساتھ ہی وہ تینوں اندر داخل ہو گئے تھے ۔

”اشفاق !….اس کے ہاتھ پشت پر جکڑ دو ۔“یہ کہہ کر احمد آگے بڑھ گیا ۔ذیشان اس کے ہمراہ تھا ، دونوں کے ہاتھوں میں جدید ساخت کے گلاک نائینٹین نظر آ رہے تھے ۔چھوٹا سا صحن عبور کر کے وہ اصل عمارت کے اندر داخل ہوئے ۔ اسی وقت احمد کو خرم کی آواز سنائی دی ۔

”سر !….ہم اندر داخل ہو چکے ہیں ۔“

”گڈ ۔“کہہ کر احمد نے ذیشان کو ایک بند دوازہ کھولنے کا اشارہ کیا ۔

ذیشان نے دروازہ دھکیل کر اندر جھانکا ،ایک آ دمی بیڈ پر اوندھا لیٹاہوا تھا ۔

”اسے بھی باندھ دو ۔“احمد اندر داخل ہونے کے بجائے آگے بڑھ گیا اسی وقت اشفا ق اور خرم اس کے پاس پہنچ گئے تھے۔خرم نے کہا ۔

”سر !….کریم اور عرفان صحن میں چھوڑ دئےے ہیں ۔“

احمد نے سر ہلانے پہ اکتفا کیا تھا ۔اسی وقت کچن سے ایک ملازم نکلا ….

”کک ….کون ہو تم ؟“اس کے لہجے میں گھبراہٹ تھی۔

”خبرادار اگر حرکت کی ۔“اشفاق دھاڑا۔

ان کے ہاتھوں میں پکڑے خوفناک پسٹل دیکھ کر وہ پیچھے مڑ کر بھاگا،مگر فقط ایک دو قدم لے سکا ہوگا کہ اشفاق کے پسٹل نے چند گرام سیسہ اُگلا اور وہ داہنی ٹانگ پکڑے لیٹ گیا۔

اشفاق اس زخمی کی جانب بڑھا ،جبکہ خرم کا رخ کچن کی طرف تھا ۔اسی وقت ایک اور کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک آدمی نے باہر جھانکا ،اس کی بد قسمتی کہ احمد اسی طرف متوجہ تھا اور دروازہ کھلتے دیکھ کر اس کے پسٹل کا رخ دروازے کی طرف ہو گیا تھا ۔اپنا اوپری دھڑ واپس کھینچنے کی حسرت لےے وہ آدھا دروازے سے باہر آ گرا ، احمد کی چلائی ہوئی گولی نے اس کے سر میں روشندان کھول دیا تھا ۔

اگلے دس منٹ میں انھوں نے تمام کمرے کھنگال لےے تھے ۔تین آدمی انھوں نے سوتے ہوئے ہی جکڑ دئےے تھے ۔ان کے نہ جاگنے کی وجہ لازماََ شراب نوشی تھی ورنہ وہ بھی شور شرابہ سن کر ضرور جاگتے ۔ایک آدمی احمد کی گولی سے ضائع ہو گیا تھا ، زخمی ٹانگ والا اپنی مضروب ٹانگ کو پکڑے سہمے ہوئے انداز میں ہولے ہولے کراہ رہا تھا ۔

”سر !….تہہ خانے کا دروازہ بھی نظر آ رہا ہے ۔“ذیشان نے ایک کمرے سے باہر جھانکا۔

خرم کو زخمی کی نگرانی کے لےے چھوڑ کر وہ اشفاق کو ہمرا ہ لےے مذکورہ کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

ذیشان نے کہا ۔”سر !….تہہ خانے کا دروازہ باہر سے بند تھا ….اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ اندر کوئی دشمن موجود نہیں ہے ۔“

”پھر بھی احتیاط لازمی ہے ۔“احمد پسٹل ہاتھ میں تھامے تہہ خانے کا دروازہ کھول کر اندرداخل ہوا ۔ تہہ خانے میں روشنی کا معقول انتظام تھا ۔ذیشان اور اشفاق بھی اس کے پیچھے ہو لےے ۔سیڑھیاں اتر کر ایک چھوٹی سی گیلری بنی تھی، جس کے آمنے سامنے دو دروازے تھے ،دونوں دروازے باہر سے کنڈی کےے ہوئے نہیں تھے البتہ گیلری کے اختتام پر ایک کمرے کا دروازہ نظر آ رہا تھا، جس کی باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی ۔سب سے پہلے انھوں نے کھلے کمروں کا جائزہ لیا مگر کمرے خالی تھے۔البتہ کمروں کی حالت دیکھ کر انھیں اندازہ لگانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی کہ وہاں پر مغوی رکھے جاتے تھے۔

احمد نے آگے بڑھ کر آخری کمرے کا دروازہ کھولا۔ٹیوب لائیٹ کی روشنی میں اسے ایک لڑکی گھٹنوں میں سر دئےے بیٹھی نظر آئی ۔

”کون ہو تم ؟“وہ متجسس سا ہو کر آ گے بڑھا ۔

اس کے سوال پر لڑکی نے حیرانی بھرے انداز میں سر اوپر اٹھایا ۔اس کی شکل دیکھ کر احمد جیسے مضبوط اعصاب کا مالک بھی حیرت کی شدت سے اچھل پڑا تھا ۔

”آ….آپ ….سیٹھ زادی مسکان ہو ؟“

”ہاں …. ہاں ….مم…. میں مسکان ہوں ۔“مسکان بے ساختہ اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی تھی ۔

٭……..٭

”تھینکس گاڈ ….آپ زندہ ہیںبہن۔“احمد نے کہااور مسکان کی آنکھیں نم ہو تی چلی گئیں۔ اتنے عرصے بعد غلیظ مردوں کے ٹھکانے پر ایک بہن کہنے والے نے اسے رلادیا تھا۔

”نہ رو میری بہن ….! تمھیں قید رکھنے والے اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں ۔“مسکان کے آنسوو¿ں نے احمد کو بھی آبدیدہ کر دیا تھا ۔اس نے آگے بڑھ کر مسکان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔ذیشان اور اشفاق واپس مڑ گئے ، مسکان کے بارے انھیں احمد تفصیل سے سب کچھ بتا چکا تھا اور ایک باپردہ لڑکی کے قریب رکنا انھیں مناسب معلوم نہ ہوا تھا۔

احمد موبائل فون نکال کر سیٹھ وسیم کو کال کرنے لگا ۔

”یس!….“وسیم نے کال اٹینڈ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔

احمدچہکا۔”سیٹھ صاحب !….دل تھام لو ایک بہت بڑی خوش خبری سنانے جا رہا ہوں ۔“

”یقینا مسکان کے قاتل پکڑے گئے ہوں گے ؟“وسیم نے اندازہ لگایا۔

”مسکان کے قاتل نہیں ،اسے قید رکھنے والے پکڑے گئے ہیں ۔“

”میں سمجھا نہیں ؟“وسیم کے لہجے میں شامل حیرانی غیر فطری نہیں تھی ۔”اسے قتل کرنے والے اور قید کرنے والے ایک ہی گروہ ہے نا ۔“

”سیٹھ صاحب !….مسکان زندہ ہے ۔“احمد نے ہوش ربا انکشاف کیا ۔

”کک….کیا ….یہ کیا مذاق ہے احمد بھائی ؟“وسیم آبدیدہ ہو گیا ۔”یوں کسی کے جذبات سے کھیلنا تمھیں زیب نہیں دیتا ۔“

”میرا خیال ہے ایسے یقین نہیں آئے گا….اچھا یہ لو بات کرو ۔“احمد نے موبائل مسکان کی طرف بڑھا دیا ۔

”بھیا۔“کہتے ہی مسکان کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔

”گڑیا ……..تم زندہ ہو ….تھینکس گاڈ میں ابھی آ رہا ہوں ….“وسیم کو لگا شاید وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے ۔

مسکان نے بہ دقت تمام ”جی ۔“کہہ کرموبائل فون احمد کی سمت بڑھا دیا ۔

”سیٹھ صاحب !….اب تو یقین آ گیا ؟“احمد خوشی سے چہکا۔

”احمد بھائی !….میں آپ کا شکریہ ادانہیں کروں گا ،بالکل بھی نہیں کروں گا ….یہ احسان، مہربانی و شکریہ کی حدوں سے بہت زیادہ ہے ….بس مجھے ایڈریس سمجھا دو ؟تاکہ میں اپنی گڑیا کی دید سے آنکھیں ٹھنڈی کر سکوں ۔“

”آپ میرے گھر آ جائیں ….ہم وہیں جا رہے ہیں ۔“

”ٹھیک ہے جناب میں وہیں آرہا ہوں ۔“وسیم نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

احمد نے موبائل فون جیب میں ڈالتے ہوئے کہا ۔”چلو بہن !….گھر چلتے ہیں ۔“

مسکان سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: