Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 28

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 28

–**–**–

رابطہ منقطع کرتے ہی سیٹھ وسیم بھاگ کر اپنے بڑے بھائی کے بیڈروم کی طرف بڑھا، عجلت میں وہ دستک دینا بھی بھول گیا تھا ۔اس کی خوش قسمتی کہ اس کی بھابی واش روم میں تھی ورنہ اس کا اس طرح اپنے شادی شدہ بھائی کی خواب گاہ میںگھسنا باعث ندامت بھی ہو سکتا تھا ۔

”بھیا ….بھیا!….احمد کا فون آیا ہے کہ مسکان زندہ ہے ۔“

”کک….کیا ….؟“سیٹھ فہیم کی آواز لڑکھڑا گئی تھی ۔

”یہ سچ ہے بھیا !“فرط مسرت سے خود وسیم کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔

”میں کیسے یقین کر لوں کہ تم نے خواب نہیں دیکھا ؟“سیٹھ فہیم کی آواز میں بے یقینی کا عنصر نمایاں تھا۔ وہ خود کئی بار اس قسم کے خواب دیکھ چکا تھا ۔

”احمد بھائی کے گھر میں اس خواب کی تعبیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ۔“

”چلو ….“بغیر کسی تکرارکے اس نے بیڈ چھوڑ دیا تھا ….اتوار کا دن تھا اور اس دن وہ دیر تک بستر میں گھسا رہتامگر وسیم کی بات نے اس کی کسل مندی دور کر دی تھی ۔بغیر ہاتھ منہ دھوئے وہ اس کے ہمراہ ہو لیا ۔

ادھ پون گھنٹے ہی میں وہ احمد کے گھر پہنچ گئے تھے۔کار گھرکے چھوٹے سے صحن میں روک کر وہ دھڑکتے دل سے باہر نکلے ۔ کار کی آواز سن کر احمد بھی باہر نکل آیا تھا ….دونوں بھائیوں کے چہرے پر چھائے تاثرات اس کے لےے حیران کن نہیں تھے ،ان کی جگہ کوئی بھی ہوتا اس کی حالت ایسی ہی ہونی تھی ۔

احمد سے مصافحہ کرتے ہوئے بھی دونوں کی نگاہیں اس دروازے کی طرف اٹھی رہیں ،جہاں سے احمد باہر نکلا تھا۔ مزید انتظار کرائے بغیر احمد انھیں ساتھ لے کر ڈرائینگ روم میں داخل ہوا ،وہاں اس کی بیوی ،مسکان کو ساتھ لپٹائے بیٹھی تھی۔ بھائیوں کو دیکھتے ہی مسکان بھاگ کر ان کی طرف بڑھی اور اگلے لمحے سیٹھ فہیم کے بازووں میں جھول گئی ۔

”میری بچی !….“سیٹھ فہیم کے ہونٹوں سے بہ مشکل ادا ہوا اور وہ اسے بازووں میں بھرکے صوفے کے قریب لایا۔احمد کی بیوی نے جلدی سے ایک طرف ہو کر جگہ خالی کی اور فہیم نے اسے صوفے پر لٹا دیا ۔

”صوفیہ !….پانی کا گلاس بھر لاو¿۔“احمد بیوی سے مخاطب ہوا ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔ سیٹھ فہیم کی آنکھوں سے خوشی کے مارے آنسو رواں تھے ۔پانی آنے تک وہ مسکان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا رہا ۔

صوفیہ جگ گلاس کے ہمراہ واپس لوٹی ۔ گلاس لے کر احمد نے مسکان کے چہرے پر پانی چھڑکا اور وہ جھرجھری لے کر ہوش میں آ گئی ۔

”بھیا !….“انکھیں کھولتے ہی وہ دوبارہ فہیم سے لپٹ گئی تھی ۔

”جی ….میری بچی !….میری گڑیا۔“فہیم اسے بہن کے بجائے بیٹی سمجھتا تھا ۔مسکان آنسو بہاتے اس سے چمٹی رہی ، یقینا باپ اور بھائیوں کا سایہ عورت کے لےے تحفظ کی علامت ہے اور اس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ درندے نما مردوں کے چنگل میں پھنس جائے ۔

فہیم کے بعد وہ وسیم سے بھی اسی طرح جذباتی انداز میں ملی تھی ۔جذبات کا طوفان تھمتے ہی سیٹھ فہیم نے احمد کو گلے سے لگا لیا ۔

”احمد صاحب !….میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں ….جن سے میں آ پ کا شکر یہ ادا کر سکوں ،بس یوں سمجھ لیں آج سے میں آپ کا غلام ہوں ….آپ نے مجھے نئی زندگی دی ہے ……..“

”پلیز سیٹھ صاحب !….“احمد نے نادم لہجے میں قطع کلامی کی ۔”یہ میرا فرض تھا ….مسکان تمھاری ہی نہیں میری بھی بہن ہے ….اور پھر اس کی بہ دولت ایک ملک دشمن گروہ بھی میرے ہاتھ لگا ہے۔“

فہیم سرشاری کے عالم میں بولا۔”مجھے کہتے ہوئے ندامت ہو رہی ہے، لیکن پھر بھی میں باز نہیں آ سکتا،کیا ….کوئی ایسا طریقہ ہے کہ میں آپ کے احسان کا وزن تھوڑا سا کم کر سکوں ؟“

”کیوں نہیں ؟“احمد ہنسا۔”ہفتے کی رات میں اپنی بیگم کو ڈنرکے لےے باہر لے جاتا ہوں اور گزشتہ رات میں مسکان بہن کی وجہ سے مصروف تھا، بیگم صاحبہ کو ڈنر پر نہیں لے جا سکا ….بس آج اپنے گھر میں ایک پر تکلف سا ڈنر کراکے اینٹ کا جواب پتھر سے دے دیں ۔“

”احمد صاحب !….شرمندہ کر رہے ہیں ۔“

”نہیں شرمندہ نہیں ….بس شرط یہ ہے کہ سارا انتظام ہماری بہن اپنے ہاتھوں سے کرے گی۔“

”آپ جیسے بھائیوں کے لےے تو میں دن رات باورچن بننے کے لےے تیار ہوں ۔“مسکان جو جذباتی کیفیت سے باہر آ چکی تھی عقیدت سے بولی۔

”خوش رہو بہن !“احمد اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

اسی وقت ملازما چاے کی ٹرالی دھکیلتی اندر داخل ہوئی ۔

”لیں جی چاے آ گئی ۔“صوفیہ نے انھیںمتوجہ کیا ۔”میرا خیال ہے بھائی جان آپ کو ناشتا کرنے کی مہلت نہیں مل سکی ہو گی ۔“

”صحیح کہا بہن !….“فہیم بے تکلفی سے کہتا ہوا بیٹھ گیا ۔

خوش گپیوں سے چاے پی گئی ۔ملازما کے برتن لے جانے کے بعد سیٹھ فہیم احمد سے تفصیلات جاننے کا خواہاں ہوا۔

”سیٹھ صاحب!….میرے پاس آپ کے لےے کوئی اچھی خبر تو نہیں ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مسکان کو اغوا کرانے والا اس کا اپنا شوہر ہے ۔“

”مگر ….یہ ….“سیٹھ فہیم نے سوالیہ نظروں سے مسکان کی جانب دیکھا۔

مسکان ندامت سے سر جھکاتے ہوئے بولی ۔”احمد بھائی صحیح کہہ رہے ہیں بھیا ….سوائے اس کے کہ حماد نے مجھے اغوا نہیں کرایا بلکہ اس نے میرے قتل کی سپاری دی تھی ،اغوا صرف ڈراما تھا تاکہ کوئی اس پر شک نہ کر سکے ۔اور اب میں آپ کی طرح اس کی نظر میں بھی مر چکی ہوں ۔قاتلوں نے میرا لباس اور مجھ سے متعلقہ سامان ایک دوسری مغویہ کو پہنا کر اسے بم دھماکے میں اڑا دیا کیونکہ اس لڑکی کا باپ انھیں تاوان کی رقم ادا کرنے پر تیار نہیں تھا ۔“

”جب اس نے قتل کا معاوضا دے دیا تھا پھر تمھیں قاتلوں نے کیوں زندہ چھوڑے رکھا ؟“ سیٹھ فہیم کے لہجے میں حیرانی تھی ۔

مگر اس بار کوئی جواب دینے کے بجائے مسکان نے سر جھکا لیا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کا جسم ہولے ہولے کانپنے لگا تھا۔

سیٹھ فہیم نے تڑپ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا ۔

”فکر مت کرو گڑیا !….تمھارے ساتھ زیادتی کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہو گا ۔“

احمد جلدی سے بولا۔”ہوگا نہیں سیٹھ صاحب !….شروع ہے ،اگر میری بہن چاہے تو میں ان کا انجام دکھا سکتا ہوں، یقین مانو وہ اپنی ہر سانس کے ساتھ موت کی دعا مانگیں گے ،مگر اس قسم کے وطن دشمن عناصر جب ہمارے شکنجے میں آ جائیں تو موت بھی ان سے روٹھ جاتی ہے ۔“

مسکان نے پوچھا ”حماد کا کیا ہوا ؟“

”اس کی نگرانی کی جاری ہے ۔وہ کہیں بھی نہیں بھاگ سکتا ۔“

”یہ لوگ میری قریبی سہیلی ،فریحہ کو اغوا کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے کہیں ……..؟“

”نہیں !….اس سے پہلے ہی میں نے ان کے گرد شکنجہ کس لیا ….اور ان کی بد قسمتی کہ یہ اسی فریحہ کی وجہ سے پکڑے گئے ہیں ۔“

”وہ کیسے ؟“

”وہ ایسے کہ ،تمھاری موت کی خبر پاتے ہی فریحہ کوحماد پر شک ہو گیا تھا کہ یہ سارا کیا دھرا حماد کا ہے ،گو اس نے اس شک کا ذکر کسی سے نہ کیا مگر اپنے طور پر اس نے حماد سے انتقام لینے کا منصوبہ بنالیااور دانیال نامی ایک مزدور سے منگنی کر لی۔“

دانیال کے نام پر مسکان نے بے چینی سے پہلو بدلامگر احمد اس کے احساسات سے خبر اپنی لے میں شروع رہا ۔

”اب حماد اس بات پر چراغ پا ہو گیا کہ اس کے ساتھ محبت کے عہد و پیمان باندھنے والی ایک بدصورت مزدور سے کیوں شادی کر رہی ہے ….پس غصے میں آکر اس نے دوبارہ اپنے مجرم دوست سے فون پر بات کی۔اسے یہ پتا نہیں تھا کہ اس کا موبائل فون نمبر انڈر آبزرویشن ہے (Under Observation) اوریوں پورا گروہ ہمارے ہتھے چڑھ گیا ۔“ فریحہ کی حماد کے ساتھ پرانی ساز باز کو احمد نے جان بوجھ کر زیرِ بحث نہیں لایا تھا ۔ایک ایسا جرم جس سے وہ توبہ کر چکی تھی اسے کسی کے سامنے ظاہر کرنا احمد کو مناسب معلوم نہیں ہوا تھا۔یوں بھی حماد کی کامران سے ہونے والی بات چیت فریحہ کو بالکل بے گناہ ثابت کر رہی تھی ۔

”بھیا !….میرا خیال ہے یہاں سے سیدھا میرے گھر چلتے ہیں ….دیکھیں کہ وہ گھٹیا شخص مجھے دیکھ کر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے ؟“مسکان سیٹھ فہیم سے مخاطب ہوئی۔

سیٹھ فہیم نے سوالیہ نظروں سے احمد کی طرف دیکھا ۔

”بالکل ٹھیک ہے سیٹھ صاحب !….میرا خیال ہے اس کا ٹنٹنا بھی ختم ہی کر دیں ….گو اسے پھانسی کی سزا نہیں ہو سکتی مگر لمبے عرصے کے لےے اندرضرور ہو جائے گا ۔“

”ملک دشمن عناصرکی اعانت کے جرم میں بھی اسے پھانسی نہیں ہو سکتی ؟“وسیم نے پوچھا۔

”نہیں۔“احمد نے نفی میں سر ہلایا۔”اس نے ملک دشمن عناصر کی اعانت نہیں کی،وہ مجرم ضرور ہے مگر اسے غدار نہیں کہہ سکتے ….اس کا کیس پولیس ہی ہینڈل کرے گی ۔“

”آپ فکر نہ کریں احمد صاحب !….“سیٹھ فہیم اطمینان سے بولا۔”پولیس کے ہاتھوں اس کا وہ حشر کراوں گا کہ اپنی نسلوں کو بھی سیدھے رستے پر چلنے کی نصیحت کرے گا ۔“

احمد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ،مگر اس نے کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔

وسیم نے موبائل فون نکالتے ہوئے کہا۔”میرا خیال ہے کال کر کے معلوم کر لیتے ہیں کہ وہ گھر پر ہی ہے نا۔“

احمد اسے کال سے منع کرتا ہوا بولا۔”اسے کال کرنے کی ضرورت نہیں ….وہ گھر پہ ہی ہے ،اگر کہیں گیا ہوتا تو اب تک مجھے معلوم ہو جاتا۔“

وسیم نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے موبائل فون جیب میں ڈال لیا ۔تھوڑی دیر بعد وہ تمام سیٹھ فہیم کی کار میں بیٹھے مسکان کی کوٹھی کا رخ کر رہے تھے۔احمد کی بیوی نے ان کے ساتھ جانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ مسکان نے احمد کی بیوی سے نقاب لے کے اوڑھ لیا تھا ۔

چوکیدار ان کا پرانا ملازم تھا اس لےے اس نے وسیم کو دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا ۔

کار پورچ میں روک کر وہ اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے ۔ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے ہی انھیں خادمہ ٹرے میں چاے کے برتنوںکے ساتھ کچن سے نکلتی دکھائی دی ۔انھیں دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گئی تھی۔

سیٹھ فہیم نے پوچھا۔”شہناز !….حماد کہاں ہے ؟“

”بیڈ روم میں ہے سیٹھ صاحب !“فہیم کو جواب دیتے ہوئے اس کی نظریں مسکان کا جائزہ لے رہی تھیں۔اگر وہ نقاب میں نہ ہوتی تو شاید شہناز چیخ مار کر اس سے لپٹ چکی ہوتی ۔مگرمسکان کا چہرہ نقاب میں چھپا ہونے کی وجہ سے وہ الجھن امیز نظروں سے اسے دیکھتی رہی جو ہوبہواس کی ہر دل عزیز مالکن جیسی لگ رہی تھی۔

سیٹھ فہیم سر ہلاتا ہوا بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا۔

حماد تکےے سے ٹیک لگائے غالباََ ناشتے کا منتظر تھا ۔یوں ایک دم سیٹھ فہیم کے اندر داخل ہونے پر وہ ہڑ بڑا کر کھڑا ہو گیا ۔

”بھیا آپ ….؟“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پہ تھے کہ یکے بعد دیگرے تمام اندر داخل ہو گئے۔

”خخ ….خیر تو ….آپ تمام ….؟“اس نے لہجے میں خوشگوار حیرت سمونے کی کوشش کی مگر مسکان کو دیکھ کر اس کا دل نا خوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ،گو وہ اس وقت مکمل نقاب میں تھی،مگر اپنے سراپے اور نقاب سے نظر آنے والی غلافی آنکھوں نے حماد کو لرزا دیا تھا ۔

سیٹھ فہیم زہر خند لہجے میں بولا۔”ہاں بس آپ کو خوش خبری سنانے کے لےے آئے تھے….ہماری مسکان زندہ ہے اور اسے حبسِ بے جا میں رکھنے والے گرفتار ہو گئے ہیں ۔“

سیٹھ فہیم کی بات مکمل ہوتے ہی مسکان نے اپنے رخ سے نقاب الٹ دیا ۔

حماد کو زور کا چکر آیا ،اس نے بہ مشکل خود کو گرنے سے روکا ….اس کا رنگ پیلا زرد پڑ گیا تھا ۔

”تمھیں خوشی نہیں ہوئی ….؟“وسیم نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”حالانکہ مسکان کی موت کی خبر سن کر تم بے ہوش ہو گئے تھے۔“

”وہ ….میں ….بب….بہت خوش ہوں ۔“حما دنے گڑبڑاتے ہوئے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔

سیٹھ فہیم نے اسے گریبان سے پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیتے ہوئے کہا ۔

”گندی نالی کے کیڑے!….مسکان نے کیا کچھ نہیں کیا تمھارے لےے ؟….جھونپڑی سے نکال کر محل میں لے آئی ….اور تو نے کیاصلہ دیا ؟….چند ٹکوں کی خاطر اس کی جان کے درپے ہو گیا ….بے حیا !….تجھ میں رتی بھر بھی غیرت ہوتی ….تو اپنی عزت کو یوں پرائے کتوں کی جھولی میں نہ پھینکتے؟….“ سیٹھ فہیم کی آواز لمحہ بہ لمحہ بلند ہوتی گئی اور وہ حماد کو گریبان سے پکڑ کر مسلسل جھٹکے دینے لگا۔

حماد، توگویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی عملی تصویر بن گیا تھا ۔اس کا ذہن بالکل ماو¿ف ہو گیا تھا ، جیسے ہی فہیم نے دھکا دیتے ہوئے اس کاگریبان چھوڑا وہ نیچے گر گیا ۔اور پھر اس سے پہلے کہ وہ اٹھ پاتا ، وسیم نے آگے بڑھ کر اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی ۔

احمد زیادہ دیر تک یہ نہ دیکھ سکا اس نے نرمی سے وسیم کا بازو تھاما ….

”سیٹھ صاحب !….باقی کا کام پولیس والوں کے لےے چھوڑ دیں ۔“وسیم غصے سے ہانپتا پیچھے ہٹ گیا۔

احمد اپنا موبائل فون نکال کر متعلقہ تھانے دار کو کال کرنے لگا ۔اسی وقت خاموش کھڑی مسکان ،احمد کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی ۔

”بھیا !….پولیس کو فون کرنے کی ضرورت نہیں ۔“

”کیا مطلب؟“احمد نے حیرانی سے پوچھا ۔

وہ اطمینان سے بولی ۔”مطلب ….اسے جانے دیں ۔“

”گڑیا !….مجھ سے پٹو گی ۔“سیٹھ فہیم غصے سے بولا۔

”تمھاری مار تو میرے لےے باعثِ سعادت ہے بھیا !….لیکن اس غلیظ کو تھانے بھیجنے کی ضرورت نہیں۔“

”غالباََ تم قربانی دینے والی مشرقی بیوی کا کردار ادا کرنے جا رہی ہو….ہے نا ۔“وسیم اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکا تھا ۔

”یہ میرا شوہر نہیں ہے بھیا !….یہ مجھے طلاق دے چکا ہے ۔یہ ایک گھٹیا ،کم ظرف ،لالچی انسان ہے لیکن میں پھر بھی اسے معاف کر رہی ہوں ….میرے پاک پروردگار نے مجھے اپنے پیاروں سے ملوا دیا ،میرے لےے اتنا انعام کافی ہے۔ البتہ فریحہ اور دانیال کے خلاف ملک دشمن عناصر سے ساز باز کرنے پر اگر یہ کسی قسم کی سزا کا مستحق ہے تو پھربے شک پولیس کو طلب کر لیں ….“

وسیم نے حیرانی سے پوچھا ۔”اس نے کب طلاق دی ہے ؟“

”لمبی کہانی ہے بھیا ….بعد میں سناو¿ں گی ۔“

”گڑیا ایسے لوگ دھرتی کا بوجھ ہوتے ہیں ۔انھیں سزا دئےے بغیر رہا کرنا ظلم ہے ۔“فہیم نے مسکان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔

”بھیا!…. اس کے لےے جو سزا فریحہ نے منتخب کی ہے وہ کافی ہے ۔“

”چلو اس کا فیصلہ بعد میں کر لیں گے ….فی الحال یہ میرے آدمیوں کی کسٹڈی میں رہے گا ۔“ احمد ان کی بحث میں مخل ہوا۔اور موبائل نکال کر اپنے آدمیوں کو بلانے لگا ۔

شہناز کافی دیر سے خاموشی سے سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی ۔ان کے چپ ہوتے ہی مسکان سے آ کر لپٹ گئی۔

”مالکن !….آپ زندہ ہیں….اللہ پاک آپ کو لمبی عمر دے ….“

”ہاں شہناز !….وہ کیا کہتے ہیں ،جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟“

”یہ موا، مردود مجھے اول دن سے برا لگتا تھا ….جانے کتنی مشکل سے تمام ملازم اسے برداشت کر رہے ہیں ۔“ شہناز نفرت سے بولی ۔

”ان شاءاللہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“مسکان نے کراہیت امیز نگاہ حماد پر ڈالی جو حیران و ششدر بیٹھا تھا۔ اس نے ابھی تک اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اس کے ذہن میں آندھی کے بجائے طوفانی جھکڑ چل رہے تھے۔یہ سارا ماجرہ اس کی سمجھ سے باہر تھا ،اسے لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہو، ایک بھیانک خواب….مردہ مسکان زندہ ہو گئی تھی، کامران پکڑا گیا تھا ،اس کی سازش تشت ازبام ہو گئی تھی ،وہ محل سے فٹ پاتھ پر آ گیا تھا ۔

احمد کے ساتھیوں نے دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہونے کی اجازت طلب۔احمد نے مسکان کی طرف دیکھا اس نے جلدی سے دوبارہ نقاب اوڑھ لیا…. وہ باآواز بلندبولا….

”آ جاو¿۔“

”سادہ لباس میں ملبوس دو جوان اندر داخل ہوئے ۔اور خاموشی سے نیچے بیٹھے حماد کی طرف بڑھ گئے وہ جانتے تھے کہ انھوں نے کیا کرنا ہے ۔

انھیں دیکھ کر حماد بھی لرزتے قدموں سے کھڑا ہو گیا اور برائی کا برا نتیجہ بھگتنے کے لےے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگا۔

٭……..٭

فریحہ ،ٹی بریک کے وقت پر ردا کے ساتھ یونیورسٹی کی کنٹین میں داخل ہوئی ….ابھی تک وہ بیٹھ نہیں پائی تھیں کہ فریحہ کا موبائل بجنے لگا ۔سکرین پر نظر دوڑاتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ کال مسکان کے نمبر سے کی گئی تھی۔

”شاید اس کا بھائی ہو ؟“ایک امکانی سوچ اس کے دماغ میں گونجی اور اس نے اٹنڈنگ بٹن پریس کر دیا ۔

”یس ؟“

”فری !….میں بول رہی ہوں ۔“اس کے کانوں میں مسکان کی آواز گونجی اور وہ حقیقتاََ اچھل پڑی۔

”تت….تم ….تم ….؟….باجی !….“

”ہاں فری!….میں زندہ ہوں ….اس وقت بھائی کے گھر میں ہوں ….تم ابھی آ جاو¿….اور کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔“

”میںبس ،یوں آئی ۔“اس کا لہجہ مسرت سے لبریز تھا ۔

موبائل فون پرس میں ڈال کر وہ ردا سے بولی ۔

”سوری ردا !….مجھے فی الفور جانا ہو گا۔“

”خیر تو ہے ؟“اسے عجلت میں دیکھ کر ردا پریشان نظر آ نے لگی تھی ۔

”ہاں !….بالکل خیریت ہے ،تفصیل بتانے کا وقت نہیں کل بات ہو گی ۔“وہ اس کا جواب سنے بغیر چل دی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ٹیکسی میں بیٹھی داو¿د منزل کی طرف روانہ تھی ۔اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے۔مسکان کا ایک دم زندہ ہو جانا….یقین ہی نہیںآ رہا تھا ….وہ اپنی آنکھوں سے اس کا تابوت دیکھ چکی تھی ۔ اچانک اسے خیال آیا کہ مسکان کی لاش تو کسی نے نہیں دیکھی تھی بس کپڑوں کی دھجیوں ،کار،پرس ، موبائل فون کے ٹکڑوں وغیرہ سے ہی اس کی شناخت کی گئی تھی۔داو¿د منزل آنے تک وہ انھی سوچوں میں گم رہی ۔

ٹیکسی کو محل نما کوٹھی کے گیٹ سے رخصت کر کے وہ گیٹ کی طرف بڑھ گئی ،مسکان شاید اس کے بارے پہلے سے چوکیدار کو مطلع کر چکی تھی کہ اس نے فقط نام پوچھ کر فریحہ کو اندر داخل ہونے دیا ۔

ایک ملازما کی رہنمائی میں چلتی ہوئی وہ مسکان کے کمرے تک آئی ۔دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔مسکان دروازے کی جانب ہی متوجہ تھی ۔اسے دیکھتے ہی وہ مسکراتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔

”باجی !….“کہتے ہوئے فریحہ بھاگتے ہوئے اس سے لپٹ گئی ،مسکان نے بھی بہت گرم جوشی سے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا تھا ۔

”کیسی ہو فری!“اسے آہستگی سے علاحدہ کرتے ہوئے مسکان نے پوچھا۔

”باجی میں بالکل ٹھیک ہوں ….مگر میرے ذہن میں بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں اور ہر سوال کی کوشش ہے کہ وہ پہلے میرے لبوں سے ادا ہو ۔“

”بیٹھو!….کسی سوال کی ضرورت نہیں ،میں اپنی آپ بیتی سنا دیتی ہوں ،تمھارے سارے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔“

فریحہ صوفہ سنبھالتے ہوئے مسکان کے ملیح چہرے کو تکنے لگی ۔وہ پہلے سے کمزور لگ رہی تھی

”اچھا پہلے یہ بتاو¿ کھانا کھایا ہے کہ نہیں ؟“

”باجی !بھوک ہی اڑ گئی ہے ،آپ بس ساری تفصیل سے آگاہ کریں ،کھانا پینا تو ہوتا ہی رہے گا۔“

”نہیں پہلے پیٹ پوجا ….اور ساتھ ساتھ میں تفصیل بھی بتاتی رہوں گی ۔“ یہ کہہ کر اس نے ملازما کو بلا کر کھانے لانے کا بتایا اور ملازما کے کمرے سے نکلتے ہی وہ فریحہ کی طرف متوجہ ہو گئی ۔

”فری!….یاد ہے نا ؟….وہ رات جب حماد نے ہمارا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا ؟“

”بہت اچھی طرح ۔“فریحہ سرسراتی آواز میں بولی ۔”اس سے اگلے دن تمھارے اغوا ہونے کی اندوہ ناک خبر سنی تھی ۔

”اس صبح میں دانی کو یہی خوش خبری سنانے کے لےے جا رہی تھی ،رستے میں اچانک میری کار کا ٹائر برسٹ ہوا ….“ مسکان کمرے کی چھت کو تکتے ہوئے اپنی کہانی سنانے لگی ،وہ صرف اس وقت چند منٹ کے لےے خاموش ہوئی جب ملازما کھانے کے برتنوں کے ساتھ حاضر ہوئی ،ملازما کے جاتے ہی وہ دوبارہ الم ناک واقعات سے پردہ اٹھانے لگی ۔کھانا کھاتے ہوئے بھی اس کی بات جاری رہی ۔اس نے فریحہ سے کوئی بات چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔اور پھر اس کی بات ختم ہوتے ہی فریحہ کے لب وا ہوئے ۔

”باجی!….سب سے پہلے تو میں آپ کی یہ غلط فہمی دور کر دوں کہ میری دانیال کے ساتھ ہونے والی منگنی میں دانیال کی منشا شامل تھی ….یہ سراسر میرا منصوبہ تھا ،اور اسے بھی میں نے ہی اس کے لےے مجبور کیا تھا ۔ اور اس بات سے تو آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ میں ایسا کیوں چاہتی تھی؟“

”جانتی ہوں فری !….لیکن حیرانی اس بات پر ہو رہی ہے کہ تم نے بھیا کو یہ سب کیوں نہیں بتایا؟“

”کیسے بتاتی باجی ….؟کیا ثبوت تھا میرے پاس ؟….حماد آسانی سے کہہ سکتا تھا کہ ایسا میں رقابت کی بنا پر کہہ رہی ہوں ،پھر آپ کی اور دانی کی شادی کا کوئی ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں تھا ۔سب سے بڑھ کر اس میں آپ کی بدنامی تھی۔اور پھر آپ یقین کریں جب آپ سے منسوب تابوت گھر میں لایا گیا تو اس خبیث نے اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے ،کہ سبھی گھر والے اس کے گرویدہ ہو گئے تھے۔اس وقت اگر میں کسی نئی کہانی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی تو منہ کی کھاتی ۔“

”دانی کیسا ہے ؟….یاد کرتا ہے مجھے ؟“مسکان کی نگاہوں میں اپنے بھولے بھالے چاہنے والے کی مغموم صورت لہرائی ۔

”بہت زیادہ باجی !….اتنا کہ میں رشک کرنے لگتی ہوں آپ کی قسمت پر ۔تمھارے بعد بھی اس کی زبان پر تمھاری باتیں ہیں ۔وہ ……..“یہ الفاظ فریحہ کے لبوں پر تھے کہ اس کا موبائل بجنے لگا،دانیال کی کال تھی۔

”لیں جی !….کافی لمبی عمر ہے دانی کی ،اسے یاد کیا اور کال آنے لگی جناب کی ؟“فریحہ نے ہنستے ہوئے کال اٹینڈ کی اور اس کے ساتھ لوڈ سپیکر کا بٹن بھی آ ن کر دیا تھا ۔

”جی دانی !….؟“

”فری !….کہاں ہو ؟….میں پارکنگ میںانتظارکر رہا ہوں ۔“

اس نے پوچھا ۔”تمھیں ردا نے نہیں بتایا؟“

” ملتی تو بتاتی نا ۔“

”شاید وہ پہلے نکل گئی ہو گی ….خیر میں اپنی سہیلی کی طرف آئی ہوئی ہوں ….کل ملاقات ہو گی۔“

”ٹھیک ہے ….خداحافظ۔“

اس سے پہلے کہ وہ رابطہ منقطع کرتافریحہ سرعت سے بولی ۔”اچھا بات سنو ….“

”جی ۔“

”ابھی کہاں جاو¿ گے ؟“

”تمھیں پتا نہیں ہے ۔“دانیال کے لہجے میں حیرانی کا عنصر نمایاں تھا ۔

”بتا دینے میں کیا حرج ہے ؟“فریحہ جانتی تھی مگر اس کے منہ سے کہلوانا چاہتی تھی ۔

”مشی کے پاس جاو¿ں گا اور وہاں سے گھر ۔“

”اچھا قبرستان میں زیادہ دیر نہ بیٹھے رہنا ….“فریحہ نے مسکان کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوتے دیکھ لی تھی ۔

”مشورے کا شکریہ ۔“دانیال نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

”پتا ہے باجی !….یہ قبر پر بیٹھ کر سارے دن کی کارگزاری سنائے گا ….یقین مانو لگتا ہی نہیں ہے کسی قبر والے سے مخاطب ہے ۔“

”فری!….وہ مردذات ہے،اور تمھیں میں نے ساری کار گزاری سنا دی ہے۔اتنے دن میں اوباش مردوں کا کھلونا بنی رہی ۔میں اب پہلے والی مسکان نہیں رہی جسے اپنی حرمت و عصمت پر فخر ہوا کرتا تھا ۔“

”باجی !….کیسی بات کر رہی ہیں۔“فریحہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قریب جا بیٹھی۔ ”تمھارے اغوا کے بعد میں نے یہ سوال کیا تھا دانیال سے ….اور پتا ہے اس نے کیا جواب دیا ۔“

مسکان کی سوالیہ نظروں کو اپنی جانب نگراں پا کر وہ بولی ۔

”اس نے کہا تھا ….اس بات کا جواب اس کے بتائے بغیر مشی کو معلوم ہے ….پھر میں نے کہا کہ ، مجھے جو معلوم نہیں ہے تو کہنے لگا، ….کون کہتاہے کہ کسی غلیظ اور گندے مرد کی دست درازی سے کوئی معصوم لڑکی آلودہ ہو سکتی ہے ۔ یہ آلودگی صرف احساسات میں ہوتی ہے ۔پہلے شوہر سے بھی تواس کا جسمانی تعلق رہا ہے اور اس وجہ سے میں نے اسے ہلکا سا بھی طعنہ نہیں دیا ۔ جبکہ اس میں اس کی اپنی مرضی بھی شامل تھی ،اور یہ کہ ….یہ تو چند درندے ہیں ، اگر کراچی شہر کے سارے بدکار بھی زبردستی اس کی مشی کو روندتے رہیں اور کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہے ،اس کے بعد بھی تم اسے اتنی ہی عزیز ہو گی جتنی پہلے تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ۔“

مسکان آبدیدہ ہو گئی ۔”ہاں فری !….میں جانتی ہوں وہ ایسا ہی ہے ۔“

”وہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے باجی !….“

”اچھا یاد آیا فری!….یہ تو بتاو¿ حماد، کیوں بچے کے لےے اتنا بے کل ہو رہا تھا ….کہ اس نے دانی سے میری شادی کرا دی ….اس سارے بکھیڑے میں پڑنے کے بجائے وہ مجھے پہلے بھی قتل کرا سکتا تھا ؟“

فریحہ سر جھکاتے ہوئے خفیف لہجے میں بولی ”باجی !….بچہ ہونے کی صورت میں وہ آپ کے کل ترکے کا وارث بنتا، جبکہ اس کے بر عکس ہونے کی صورت میں اسے صرف نصف ترکہ ملتا ۔“

”اوہ !….تو یہ بات تھی ۔“مسکان سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلانے لگی ۔اس کی سوچ اس سمت نہیں جا سکی تھی ،واقعی حماد جیسے لالچی اور گھٹیا شخص سے یہی امید کی جاسکتی تھی ۔

”اچھا یہ بتاو¿…. کب دانی سے اس کی مشی کو ملا رہی ہو ؟“فریحہ نے موضوع بدلا۔

مسکان ہنسی ۔”چلو وہیں قبرستان میں ….اس بہانے میں اپنی قبر بھی دیکھ لوں گی ۔“

اورفریحہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

٭……..٭

دانیال کو اپنی مشی کی قبر کے پاس بیٹھے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے عقب میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی …. اس نے سوچا ۔

”شاید فریحہ ہے ۔“مگر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی زحمت اس نے نہیں کی تھی۔اپنی مشی کے ساتھ بات چیت کے دوران وہ ارد گرد کی نقل و حرکت سے بے پرواہ ہو جایاکرتا تھا ۔

نووارد اس کے قریب آیا، اچانک ایک مانوس خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی ،اس کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی اور جو نام اس کے دماغ میں آیاوہ ناقابلِ یقین تھا۔

اس نے پیچھے کی طرف سر گھمانا چاہا مگراس سے پہلے وہ کچھ دیکھ پاتا، نووارد نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔

اس نے وہ ہاتھ ،اپنے کھردرے ہاتھوں میں لے کر ٹٹولے ،اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں پانی بھر گیا۔

” یہ کیسے ممکن ہے ؟“اس کے ہونٹوں سے سرسراتی ہوئی آواز نکلی۔”کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں؟“

”کیوں ممکن نہیں۔“اس کے کانوں میں مشی کی آواز نے رس گھولا۔”کیا اپنے رب سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔“یہ کہتے ہی مسکان نے اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا دےے تھے ۔

وہ جھٹکے سے پیچھے مڑا ،نم آنکھوں کے سامنے مسکان کا ملیح چہرہ موجود تھا ۔ حیرت و مسرت کی عجیب کیفیت اس پر طاری ہو گئی ۔

”مشی ….کیا یہ ….پر کیسے ؟….کیسے ؟….اتنا بڑا نعام ….اتنی رحمتوں کی بارش ….یہ کیسے ممکن ہے ؟“ اس نے مسکان کا ملائم چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا ۔”یقینا یہ خواب ہے ؟“

مسکان کو جس نے بھی دیکھا ،وہ خوش بھی ہواتھا حیران بھی ….مگر جو بے پایاں خوشی اسے دانیال کے چہرے اور آنکھوں میں نظر آ رہی تھی وہ اسے فہیم بھیا کی آنکھوں میں بھی نظر نہیں آئی تھی۔حالانکہ وہ جانتی تھی کہ فہیم بھائی اسے بیٹی کی طرح عزیزسمجھتا ہے ،مگر دانیال کی چاہت، عقیدت و عبادت دائرے میں شامل تھی ۔

”زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں دانی !….کیا کہتے ہیں ….مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے ۔“

”مشی !….میرا رب بہت عظیم ہے ….اپنے کم تر اور گناہ گاربندوں دعائیں بھی اتنی ہی ررحمت سے قبول فرماتا ہے ،جتنا عبادت گزاروں کی مناجات کو قبولیت سے نوازتا ہے ۔“

”صحیح کہا ….اور یہ ہے میری قبر ۔“اس نے موضوع بدلا ۔

”ہاں چندا ….پتا نہیں اس میں کون فن ہے ؟“

”ہے ایک مظلوم ….اس کا والد تاوان کی رقم ان درندوں کے حوالے کرنے پر تیار نہیں ہوا تھا ،انھوں نے اسے میرا لباس پہنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔“

”وہ اسے ویسے ہی مروا سکتے تھے ….اتنا ڈراما کرنے کی ضرورت کیا تھی….اور تمھیں دنیا والوں سے چھپا کر زندہ رکھنے میں ان کی کون سی غرض پوشیدہ تھی ؟“دانیال نے ذہن میں مچلتے سوال کو الفاظ کا روپ دیا ۔

”دانی !….یہ وہ درندے ہیں جن کی نظر میں عورت ایک کھلونا ہے ….نیا کھلونا ہاتھ آیا تھا ،انھوں نے سوچا کچھ عرصہ جی بہلا لیں ….خوب کھیلے وہ میری بے بسی کے ساتھ ….اب میں وہ مشی نہیں رہی جو اپنی عصمت پر فخر کیا کرتی تھی ….اب تو میں گندگی کا ڈھیر اورکچرے انبار ہوں ….دانی!….کیا میں تمھیں اس حالت میں قبول ہوں ؟….کیا تم اب بھی مجھے وہی توجہ اتنی ہی محبت دو گے ؟….کہیں یہ حادثہ ہمارے درمیان دوریوں کی فصل تو نہیں بو دے گا ….؟خدا را اگر تمھارے دل میں ذرا سا بھی میل آ گیا ہے تو مجھے طلاق دے دو ، میں تم سے کوئی گلہ کوئی شکوہ نہیں کروں گی ۔“

دانیال دکھی لہجے میں بولا ۔”مشی !….یقینا میری چاہت میں کوئی کھوٹ یا خلوص میں کمی پائی ہے جو تم نے یہ سوال کیا ہے ۔“

”نہیں دانی !….بہ خدا تمھاری محبت پر میں بجا طور پر فخر کر سکتی ہوں ….مگر یہ بھی جانتی ہوں کہ تم مرد ذات ہو، مرد ہر بات برداشت کر لیتا ہے مگر اپنی عورت پر غیر کا سایا برداشت نہیں کر سکتا ۔اور میں ڈرتی ہوںکہیں بعد میں تمھارا ذہن بھی، میری ان اندھیری راتوں اور تاریک دنوں سے متاثر نہ ہو جائے۔“

”مشی!…. مجھے یہ غلط فہمی تھی کہ تم مجھے جانتی ہو ؟“دانیال آبدیدہ ہو گیا ۔

”دیکھو دانی !….میری سوچیں بعید از قیاس نہیں ۔“

”شٹ آپ ….بند کرو یہ گھٹیا گفتگو….کیا سمجھ رکھا ہے تو نے میری محبت کو ۔“دانیال کا غصیلا لہجہ مسکان سے زیادہ خود اس کے اپنے لےے حیران کن تھا ۔”یہ کوئی بات ہے کرنے والی ….اس سے بہتر تھا تم لوٹ کر ہی نہ آتیں ۔“

”د….د….دانی !….دیکھو میرا یہ مطلب نہیں تھا ….میں تو ….میں تو ….“مسکان کی آنکھیں کسی جھرنے کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔

دانیال تڑپ کر آگے بڑھا اگلے لمحے وہ اس کی بانہوں کے حصار میں تھی ۔

”مشی !….میری جان ….بہت برا ہوں میں، تمھیں رلا دیا ….پگلی کیوں ایسی باتیں کرتی ہے ۔ اورمیں قسم کھا کے کہہ سکتا ہوں کہ تمھارے دل میں یہ اندیشہ بالکل نہیں ہے ….تمھیں گمان بھی نہیں ہو سکتا، کہ میں ایسی بات سوچ بھی سکتا ہوں ۔یہ بس تم مجھے چھیڑنے کے لےے کہہ رہی تھیں ….ہے نا ۔“

”ہاں ۔“مسکان گلوگیر لہجے میں بولی ۔اور دانیال مسکراتے ہوئے اس کا سر سہلانے لگا ۔

”سوری کہو مجھے ۔“الٹا ہاتھ آنکھوں پر پھیرتے ہوئے وہ لاڈ سے بولی ۔

”میری توبہ ….یہ دیکھو کان پکڑ لےے ….آئندہ ایسا نہیں بکوں گا ….اگر تم نے ایسی بات نہ کی تو ؟“

اور مسکان کھلکھلا کر ہنس دی تھی ۔

”میں کہوں گی ….پھر بھی تم نہیں ڈانٹو گے ۔“

”ٹھیک ہے جی ….تم کہہ سکتی ہو ….مشی جو ہوئیں ۔“

”اچھا چلو….فریحہ کو گاڑی میں بٹھا آئی ہوں ۔“

”فری!….وہ تمھیں کہاں مل گئی ؟“

”وہ میری سہیلی ہے جناب اور مجھے بڑی بہن سمجھتی ہے،سب سے پہلے اسے ہی ملی ہوں ۔“

”ہاں مشی !….وہ بہت اچھی لڑکی ہے ،تمھاری خاطر اس نے اپنی محبت کو ٹھوکر مار دی ۔اور پتا ہے ، حماد کو جلانے کے لےے وہ مجھ سے شادی کر رہی تھی ۔“

”وہ تو چلو جو بھی کر رہی تھی ….یہ بتاو¿،تم کیا کر رہے تھے ؟….میرا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور تم شادی رچانے چلے تھے۔ ‘ ‘ مسکان نے مزاحیہ انداز اپناے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکی تھی ۔

”شاید !….وجہ تمھیں معلوم ہے ۔“

”ٹھیک ہے …. تم انتقام لے لو حماد سے ….یوں بھی فریحہ جیسی خوب صورت لڑکی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی ۔“

”تم مزاح کے انداز میں حقیقی گلہ شکوہ مجھ تک پہنچا رہی ہو …. یہ میری تجویز نہیں تھی، فریحہ ہی اس کی روح ِ رواں تھی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے میں بھی تیار ہو گیا تھا۔اس لےے مجھے اپنے جرم کا اقرار ہے اور میں ہر سزا بھگتنے کے لےے تیار ہوں ۔“دانیال نے نادم انداز میں سر جھکا لیا ۔

”اگر میں کہوں سزا بھی خود تجویز کرو ۔“مسکان کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ ابھری ۔

مشی !….میری تجویز کردہ سزا بھی شاید تمھارے اس دکھ کا مداوا نہ کر سکے؟…. جو میرے اس عمل سے تمھیں پہنچا۔“

”وہ بعد کی بات ہے ….پہلے تم سزا بتاو¿۔“

”میرے لےے فقط ایک بات ہی سزا ہے اور وہ میں اپنے لےے تجویز کر نہیں سکتا ….باقی تمھاری مقرر کی ہوئی ہر سزا مجھے منظور ہے ۔“

مسکان نے بے ساختہ پوچھا ۔”بھلا وہ کون سی ؟“

”مشی سے جدا ہونا ۔“

”اگر میں کہوں فریحہ سے بھی شادی کر لو تو ….“

”اور تم ۔“

”میں تو تمھاری بیوی ہوں ہی ،وہ بھی بن جائے گی ….یوں بھی مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے…. سوچودانی !…. حماد پر کیا گزرے گی؟“

”مشی !….حما دکو اس کے کےے کی سزا مل گئی ہے ….باقی شادی کرنا آسان ہے مگر تمھاری موجودی میں ،میں اسے نظر انداز کرتا رہوں گا ….تم ایسی توجہ اگر میں چاہوں بھی تو اسے نہیں دے سکتا ۔یہ اس کے ساتھ ظلم ہو گا ….وہ حور شمائل لڑکی اس زیادتی کی حق دار نہیں ہے ….نہیں مشی !….نہیں ،یہ نہیں ہو سکتا ۔“

”پہلے تو تم تیار تھے ….اب کیا ہوا ؟“مسکان کے لہجے میں ہلکی سی شوخی در آئی تھی ،پہلے والا دکھ کہیں غائب ہو گیا تھا ۔ دانیال آج بھی اسے اتنا ہی چاہتا تھا ۔

”تمھیں پتا ہے ۔“

”نہیں تم بتاو¿؟“وہ مصر ہوئی ۔

”میرے منہ سے کہلوانا ہے تو میری مشی آ گئی ہے اب مجھے کسی کی ضرورت نہیں ۔“

”یہ خود غرضی کی انتہا ہے ۔“مسکان کا اصرارجاری رہا ۔

”چلو فری انتظار کر رہی ہو گی ؟“دانیال نے قبرستان سے نکلنے کے لےے قدم بڑھا دئےے مسکان لہجے سے اس نے جان لیا تھا کہ وہ بس اسے تنگ کر رہی ہے ۔

”نہیں مجھے جواب چاہےے؟“وہ ڈٹ گئی ….شاید دانیال کو تنگ کرنے میں اسے مزا آ رہا تھا ۔

”آو¿ نا…. فریحہ سے پوچھ لیتے ہیں ؟“

”ہاں یہ ٹھیک ہے ….“مسکان سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ ہو لی تھی۔

”اتنی دیر لگا دی ؟….یہ باتیں گھر جا کے نہیں ہو سکتی تھیں ۔“فریحہ نے گاڑی سے باہر آ کر آ نکھیں نکالیں ۔

”نہیں محترما!….فی الحال میں بھیا کے گھر رہوں گی ۔“

”مشی !….یہ ظلم ہے ۔“دانیال کراہا۔

”کوئی ظلم نہیں ہے جناب !….جب تک بھیا کو ساری بات بتا نہیں دیتی اس وقت تک مشکل ہے کہ ہم مل پائیں ۔“

”مطلب…. ممکن ہے کہ آپ کا بھائی مجھے دھتکار دے ….یوں بھی کہتے ہیں دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے اور سانپ کا کاٹا رسی سے بھی جلتا ہے۔“

”اب کی ہے نا…. عقل مندی کی بات ۔“مسکان مسکرا دی تھی ۔

”یہ مسئلہ تو خیر بعد کی بات ہے پہلے یہ بتاو¿ دانی !….ہماری منگنی کا کیا ہوگا ؟“فریحہ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔

”وہی ہو گا، جو تمھیں معلوم ہے ۔“

”کیا ؟“

”فری!….چھوڑو یہ ڈرامے بازی ….مجھے مشی نے سب کچھ بتا دیا ہے ۔“

”باجی !….آپ بھی نا بس ؟“فریحہ مسکان کی طرف مڑی ۔

وہ مسکراتے ہوئے بولی ”دانی ….جھوٹ بول رہا ہے بے وقوف!….“

اور دانیال قہقہہ لگا کے ہنس دیا تھا۔

فریحہ بھی کھسیانے انداز میں ہنستے ہوئے بولی ….”چلیں بھئی !….اپنی قسمت میں شریک حیات ہی نہیں ہے۔“

”ایسا نہ کہو فری!….سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی تمھارے قابل ہی نہیں تھا ،نہ حماد اور نہ میں۔“

فریحہ گنگنائی ۔”دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔“

”یہ سچ ہے ۔“مسکان اسے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی ۔اسے فریحہ سے عجیب قسم کی انسیت ہو چلی تھی ۔ ”آو¿ چلیں…. میں تمھارے لےے تمھارے شایان ِ شان شوہر ڈھونڈوں گی ۔“

”نہیں باجی !تم بس مجھے اپنی فیکٹری میں کوئی چھوٹی سی جاب دے دینا ،میں اب شادی ہی نہیں کروں گی ۔“

”اچھا اس بارے تم سے اکیلے میں بات کرتی ہوں ۔“یہ کہہ کر وہ دانیال سے مخاطب ہوئی ۔” دانی ! میں جانتی ہوں اب تمھیں دوری بہت کھلے گی ،مگر پلیز دو تین دن مزید صبر کر لو ….میں بھیا کوساری بات بتا کر ان کا عندیہ لیتی ہوں ۔“

”اگر وہ نہ مانے ؟“دانیال کے لہجے میں سیکڑوں اندیشے پوشیدہ تھے ۔

مسکان شوخی سے بولی ۔”پھر ایک مجبور لڑکی کیا کر سکتی ہے ….؟“

”میں شاید چند دن سولی پہ ہی لٹکا رہوں ۔“

اتنی جلدی گھبرا جاتے ہو ….“اس کی گھبراہٹ نے مسکان کو عجیب قسم کا سکون بخشا تھا ۔”اچھا پریشان نہ ہونا ،اگر بھیا راضی نہ ہوئے تو میں سب کچھ کو ٹھوکر مار کر آ جاو¿ں گی ۔“

وہ اس کا ملائم ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ۔”مشی !….مجھے کچھ بھی نہیں چاہےے ….میں پہلے والا سب کچھ بھی واپس کرنے کو تیار ہوں ….بس مجھے میرا خزانہ چاہےے ۔“

فریحہ کھنکھارتے ہوئے بولی ۔”حضرات !…. یہاں کوئی اور بھی موجود ہے ۔“

مسکان کے چہرے پر حیا کی لالی ایسے پھیل گئی تھی جیسے غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر شفق پھیل جاتی ہے ۔یہ نظارا ہمیشہ دانیال کو مبہوت کر دیتا تھا ،اس وقت بھی یہ منظر اسے مدہوش کر گیا ۔جبکہ فریحہ بے ساختہ بولی….

”باجی!…. شکر ہے میں مرد نہیں ہوں ….ورنہ دانیال کو زہر دے دیتی ۔“

”بکو مت اور چلو ۔“مسکان دانیال کی گرفت سے ہاتھ چھڑا کر اپنی کار کی طرف مڑی ،فریحہ بھی ہنستے ہوئے اس کے ساتھ ہو لی تھی ۔

ان کے جانے تک دانیال وہیں کھڑا رہا ۔رب نے اس کی مشی اسے لوٹا دی تھی۔اس کی خاموش مناجاتیں رنگ لے آئی تھیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: