Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 29

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 29

–**–**–

فری!….تم مجھے بڑی بہن سمجھتی ہو نا ؟“سڑک پر آتے ہی مسکان مستفسر ہوئی ۔

فریحہ ہنسی ۔”تو کیا نہیں ہو ….؟“

” ایک بات مانو گی۔“

”اگر ماننے کی ہوئی ….تو ضرور مانوں گی ۔“

”ماننے کی بات تو ہر کوئی مان لیتا ہے ….مزا تب آتا ہے جب دل نہ چاہے اور مانی جائے ….خاص کر اس رشتے کی جو منہ بولا ۔“

”فریحہ اس کے قریب ہو کر اس کے کندھے پر سر ٹیکتی ہوئی بولی ۔”آپی !….آئندہ مجھے منہ بولی نہ کہنا….“

”مطلب مانو گی ۔“

”ہاں ….ضرور مانوں گی ۔“

”شادی کر لو ۔“

فریحہ اسے گھونسا مارتے ہوئے بولی ۔”تو میں نے کب کہا کہ ساری عمر کنواری رہوں گی …. کوئی گزارے لائق رشتا تو ملنے دو ۔“

”میرا مطلب ہے جہاں میں کہوں وہاں شادی کر لو ۔“

اور اس مرتبہ فریحہ خاموش رہی ۔

”چپ کیوںہو گئی ہو….کیا میری یہ خواہش پوری نہیں کرو گی ؟“

وہ پختہ لہجے میں بولی ۔”تمھاری ہر خواہش میرے لےے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ضرور پوری کروں گی ۔“

مسکان پر مسرت لہجے میں بولی ۔”ٹھیک ہے کل تمھیں اس آدمی سے ملواو¿ں گی ۔“

فریحہ نے سر ہلانے پہ اکتفا کیا تھا ۔اس کی زندگی ایک عجیب ڈگر پر آ گئی تھی ،جس آدمی کے ساتھ اس نے مرنے جینے کی قسمیں کھائیں تھیں ،وعدے ،وعید اور عہد کےے تھے ،وہ اس کے لےے نہایت ہی ناپسندیدہ ہو گیا تھا۔ کہاں وہ اس کی تصویر دیکھے بغیر بستر پر نہیں لیٹتی تھی اور اب اس خوب صورت چہرے کے پیچھے چھپی غلاظت دیکھ کر ا سے گھن آ تی تھی ۔پھر دانیال تھا جس کی شرافت اور مسکان کے ساتھ جنونی محبت دیکھ کر وہ اس کی گرویدہ ہو گئی تھی اسے بھی اپنی مشی واپس مل گئی تھی۔اب شریک حیات کی صورت میں لے دے کے ایک آئیڈیل کا تصور ہی رہ گیا تھا جو ہر شخص بچپن ہی سے دل میں چھپائے ہوتا ہے ،خال ہی کوئی دانیال کی طرح خوش قسمت ہوتا ہے کہ اپنے آئیڈئل کو پالے ورنہ کثرت ان لوگوں کی ہے جو بس تصورات اور خیالوں کے سہارے ہی زندہ رہتے ہیں ۔وہ بھی اسی جم ِ غفیر میں شامل ہو گئی تھی اسے لگ رہا تھا کہ وہ ایک آوارہ پتا ہے جس کے لےے مسکان کا وجود بصورت ہوا کے ہے۔

مسکان اسے گھر کے سامنے ڈراپ کر کے واپس مڑ گئی ۔

٭……..٭

”ماں جی !….“دانیال نے گھر میں داخل ہوتے ہی ماں کو گود میں اٹھا کر ناچنا شروع کر دیا ۔

”ارے باو¿لا ہوا ہے لڑکے !….اتارو مجھے نیچے ۔“

وہ ماں کو چاپائی پر بٹھاتے ہوئے بولا۔”ماں جی !….آپ سنیں گی تو یقینا پاگل ہو جائیں گی ۔“

”بیٹا اتنا خوش تو ،تو اس دن ہوا تھا جب ……..“وہ کچھ کہتے کہتے اچانک خاموش ہو گئی ۔

”ہاں ہاں ….کہوں نا ماں جی !….؟“

”اچھا بتاو¿ نا پتر!…. اتنے خوش کیوں ہو ؟“عائشہ خاتون نے موضوع بدلا۔

”نہیں پہلے آپ اپنی بات مکمل کریں ۔“

”چھوڑو نا بیٹا !….ماضی کو کرید کر دکھ ہی ملتے ہیں ۔“

”نہیں ماں ….ہمشہ تو ایسے نہیں ہوتا ۔“

”کاش مسکان بیٹی واپس آ سکتی ۔“

”ہا….ہا….ہا….ماں جی !….خوش ہو جاو¿….آپ کی بیٹی واپس آ گئی ہے ۔“

”ہاں پتر !….فریحہ بھی تو میری بیٹی ہے ۔“

دانیال چہکا ۔”مگر میں مشی کی بات کر رہا ہوں۔“

”طبیعت تو ٹھیک ہے نا میرے لال!….؟“

”ماں جی !یہ سچ ہے ،مشی زندہ ہے ،آپ کی بیٹی زندہ ہے ….میں ابھی اس سے مل کر آرہا ہوں۔“

”ضرور جاگتے ہوئے کوئی خواب دیکھا ہوگا؟“عائشہ خاتون کے لہجے میں بے یقینی تھی ۔

”اچھا ٹھہرو آپ کی بات کرا دیتا ہوں ….“دانیال موبائل نکال کر مسکان کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔اور پھر تھوڑی دیر بعد عائشہ خاتوں اپنی پیاری بیٹی سے محو گفتگو تھی اس کے چہرے سے پھوٹتی خوشی اس کی مسکان سے محبت کی آئینہ دار تھی ۔

٭……..٭

”آو¿ گڑیا آو¿!“مسکان کو دیکھتے ہی وسیم کھڑا ہوگیاتھا ۔

”پلیز بھیا بیٹھو ….“وہ خفیف سی ہو گئی ۔دونوں بھائیوں کو وہ بہت عزیز تھی ۔

”گڑیا !….تمھیں نہیں پتا ….؟تمھارے لوٹنے سے ہمیں کتنی خوشی ہوئی ہے؟ ….اور جانتی ہو فہیم بھائی اس خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی ارینج کر رہے ہیں ۔“

مسکان تپائی پررکھا ریموٹ کنٹرول اٹھاکر ٹی وی آف کرتے ہوئے بولی ۔”بھیا !….وہ بعد کا مسئلہ ہے پہلے میرا مسئلہ سنو ۔“

”جی فرماو¿….“وسیم مسکراتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔

”بھیا !….کب تک اس بے وفا کے لےے خوشیوں سے روٹھے رہو گے ؟“

”یہ تم کون سا ذکر لے بیٹھیں ؟“وسیم کے چہرے پر انقباض کے اثرات نمایاں ہوئے ۔

”بھیا !….وہ بد قسمت تھی کہ اس نے آپ جیسے شخص کی قدر نہ کی ….اپنی انا اسے محبت سے بھی عزیز ہو گئی تھی اور اس انا اور جھوٹی خود داری نے اس کے ہاتھوں سے کوہ نور ہیرا چھین لیا ۔“

”ہونہہ!….“وسیم نے ٹھنڈا سانس بھرا….

کچھ اس کو بھی عزیز تھے اپنے کڑک اصول

اور ہم بھی اتفاق سے ضد کے مریض تھے

”اس نے تو سنا ہے دوسری شادی کر لی ہے ۔“

وسیم نے اثبات میں سر ہلایا۔”ہاں ….طلاق ہونے کے ایک سال بعد کر لی تھی ۔“

”اور آپ ….اب تک اپنے وعدوں پر قائم ہیں ….ہیں نا ؟“

وسیم پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”نہیں گڑیا!…. کوئی پسند ہی نہیں آئی ….بلکہ عورت ذات سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہے ۔“

”اگر میں اپنی پسند کی بھابی لانا چاہوں ؟“

وسیم ہنسا۔”پہلے کبھی یہ بات مانی ہے۔“

”مجھے منوانا آتا ہے ….اللہ قسم میں بھوک ہڑتال کر دوں گی ۔“

وسیم نے اس کا کان مروڑتے ہوئے کہا۔”بے وقوف مت بنو۔“

”بھیا !….اس کا نام فریحہ ہے ….میری ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ….سفید پوش خاندان سے تعلق رکھتی ہے ،مجھ سے دو سال چھوٹی ہے اور میں اسے چھوٹی بہن کی طرح سمجھتی ہوں ۔اور اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ میں نے اس کی طرح خوب صورت لڑکی آج تک نہیں دیکھی ….“

وسیم نے قطع کلامی کی ۔”میں اسے دیکھ چکا ہوں ۔“

”کب ….؟“مسکان ششدر رہ گئی تھی۔

”تمھارے مرنے کی جھوٹی خبر سن کر وہ آخری رسومات میں شامل ہونے کے لےے آئی تھی ….پوری رات یہیں تمھاری لاش کے ساتھ بیٹھی رہی ….وہ واقعی خوب صورت ہے ۔“

”آپ کو کیسے پتا چلا کہ اس کا نام فریحہ ہے اور ابھی میں اس کا ہی ذکر کر رہی ہوں ؟“

”تمھارایہ کہنا کہ تمھاری سہیلی بہت خوب صورت ہے ….اور اس میں شک نہیں کہ میں نے بھی زندگی میں اس سے خوب صورت لڑکی نہیں دیکھی ۔اور پھر اسی کی وجہ سے تو تم بازیاب ہوئی ہو ،مگر شادی….“

مسکان مصر ہوئی ۔”کوئی اگر مگر نہیں ….آپ کو اس سے شادی کرنا پڑے گی ۔“

”کیا وہ مجھ سے شادی کرنے پر رضامند ہو جائے گی ؟“

”یہ میری ذمہ داری ہے ….“مسکان خوش ہو کر بولی ۔

”مگر اس سے پہلے وہ حماد سے محبت کی دعوے دار رہی ہے اور پھر تمھاری موت کی خبر سننے کے بعد دانیال نامی شخص سے شادی کر رہی تھی ….تو ایسی لڑکی ……..؟“

”بھیا !…. وہ ایک باکردار لڑکی ہے ….اور دانیال سے شادی میری وجہ سے کر رہی تھی….دانیال میرے شوہر کا نام ہے ۔“مسکان نے ایک دم دھماکا کیا ۔

”کیا ….؟؟؟“وسیم حیرانی سے اچھل پڑا۔”تمھارا دماغ جگہ پر ہے ؟“

”شاید ہاں ….مگر مجھ سے جو غلطیاں سر زد ہو چکی ہیں وہ کسی بھی ذی ہوش سے نہیں ہو سکتیں ۔“

”مسکان !….اگر تم مذاق نہیں کر رہی ہو تو میں ساری تفصیل سننا چاہوں گا ؟“

وسیم کے لہجے میں شامل غصہ مسکان کو لرزا گیا ،مگر اس نے بھائی سے کوئی بات چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اس نے اول سے آخر ہر بات دہرا دی ۔

”تم!…. اتنی بڑی کب سے ہو گئی ہو، کہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا شروع کر دئےے۔“وسیم سے غصہ برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔

”بھیا !….حماد سے شادی کرنا میری غلطی تھی ۔“

وسیم نے اسے گھورا ۔”یقینا ….مگریہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے ؟“

مسکان نے نادم انداز میں ہاتھ مروڑے ۔”بھیا !سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ مجھے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔“

”حماد سے شادی کرنے پر تمھیں ہم میں سے کسی نے منع کیا تھا ؟“

مسکان سر جھکاتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی ۔

”ایسا شخص جو بہ قائم ہوش وحواس اپنی بیوی کو، اس لےے طلاق دے کہ وہ دوسرے مرد سے شادی کر کے اس کے لےے بچہ پیدا کرے ….اور پھر وہ اس عورت سے محبت کا دعوے دار بھی ہو ….عجیب گھٹیا اور قابل نفرت خیال ہے،مسکان مجھے تمھاری عقل پر حیرانی ہو رہی ہے ۔“

مسکان اس بار بھی سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی گویا وہ اپنے بھائی کی ہر بات سے متفق تھی۔

”بہ ہر حال جو ہوا ،سو ہوا،اب مزید بے وقوفی برداشت نہیں ہو گی۔صبح ہوتے ہی اس سے خلع لے لو ۔“

”بھیا ….“مسکان کے ہونٹ کپکپائے ۔

”مسکان ….!اگر ان سب باتوں کا فہیم بھائی کو پتا چل گیا تو یقینا وہ تمھاری پٹائی سے بھی باز نہیں آئیں گے ۔ ایک مزدور سے شادی جو نہ تو تعلیم یافتہ ہے ،نہ نسب ہی کوئی اعلیٰ ہے اور صورت بھی گئی گزری ہے ، آخر کیا مجبوری پڑ گئی ہے تمھیں ؟“

”بھیا!….کردار!….شکل و صورت ،حسب نسب اورامارت سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔“

”گڑیا !….کردار بھی بدصورتی ،غربت اور حسب نسب کی غیر موجودی سے دب جاتاہے۔“وسیم غصہ بھول کر اسے سمجھانے لگا۔

وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔”ایسا آپ سمجھتے ہیں ۔“

”نہیں ….“وسیم نے نفی میں سرہلایا۔”تجربات کہتے ہیں ،شواہد کہتے ہیں ۔“

”بھیا !….وہ مر جائے گا۔“مسکان سسکی ۔

وسیم بے پرواہی سے بولا ۔”ہمیں صرف تمھاری فکر ہے ۔“

”یہ ظلم ہو گا ۔“

” کیا خلع حاصل کرنا ظلم ہے۔“

”بھیا !….مجھے بھی صرف اپنے بھائیوں کی ضرورت ہے ۔میں کبھی بھی آپ کے حکم سے سرتابی نہیں کروں گی، مگر آپ ایک بار انھیںمل تو لیں،ان سے بات تو کر لیں،انھیں موقع تو دے دیں ؟“

”مسکان!…. یاد رکھنا ،یہ پیار محبت افسانوں اور فلموں ڈراموں ہی میں اچھا لگتا ہے….میں کل اس کے پاس اپنا آدمی بھیج دوں گا ….اگر اس نے آسانی سے طلاق دے دی تو ٹھیک ورنہ مجھے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا ۔“

”بھیا !….میری خوشی کو بھی مد نظر نہیں رکھو گے۔“مسکان کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی تھی ۔

وسیم نے حیرانی سے پوچھا ۔”ابھی کیا کہاہے …. کہ تمھیں صرف ہماری ضرورت ہے ۔“

”ہمیشہ کہوں گی بھیا ….مگر عورت کا اپنا گھر بھی تو ہوتا ہے ۔“

”میں نے کب انکارکیا ہے ۔“

مسکان منمنائی ۔”میں شاید کسی اور کے ساتھ خوش نہ رہ سکوں۔“

”یہی بات غالباََ تم نے حماد سے شادی کرنے کے لےے بھی کہی تھی۔“

”جب میں غلط تھی تو آپ نے مان لیا ….اب ……..؟“

وسیم نے قطع کلامی کی ۔”اپنے تیئں تم تب بھی صحیح تھیں ۔“

”ٹھیک ہے بھیا !….میں ان کے پاس نہیں جاو¿ں گی ،مگر خلع بھی نہیں لوں گی ….بس ساری زندگی ان کی منکوحہ ہی رہوں گی ۔“

”یہ بھلا کیا بات ہوئی ؟“وسیم نے ڈانٹنے کے انداز میں پوچھا ۔

”بھیا !….میں نے ان سے شادی اپنے شوہر کا حکم مان کر کی تھی ،اور نکاح کے بعد مجھے پتا چلا کہ وہ کتنا خوش اخلاق ، مخلص اور توجہ دینے والا شخص ہے ،ان کے اور حماد کے روےے میں ایک واضح فرق محسوس کرنے کے بعد ہی میں نے حماد سے باضابطہ طور پر علاحدگی کی بات کی تھی ۔اور سچ کہوں تو میں حماد کی تجویز سے متفق نہیں تھی، پر اسے چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی ….اور اس کی تجویز ایسی نہیں تھی کہ میں آپ سے مشورہ کر سکتی ….بس یہ غلطی ہو گئی ، اب میں وہ غلطی دہرانا نہیں چاہتی ۔“

”میرا خیال ہے یہ مزدور چند لاکھ لے کر ہی اپنی نام نہاد محبت سے دست بردار ہو جائے گا؟“

”بھیا !….اپنی کہانی میں مجھے کافی باتیں حذف کرنی پڑیں ….ورنہ حماد نے پوری کوشش کی تھی کہ دانیال طلاق دے دے ….اس مقصد کے لےے اس نے روپے پیسے کے لالچ کے ساتھ اسے جسمانی طور پر بھی زدو کوب کرایا تھا ….وہ پوری رات پولیس کی مار برداشت کرتا رہا مگر مجھے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوا ۔“

وسیم گویاتنگ آکر ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولا ۔”مسکان !میں فہیم بھائی کے سامنے تمھاری وکالت نہیں کر سکتا ۔“

”بھیا !….آئی لو یو سو مچ ۔“مسکان خوشی سے جیسے کھل اٹھی تھی….اگلے لمحے وہ اپنے بھائی سے لپٹ گئی ۔ ”میں جانتی تھی، آپ میر ی بات نہیں ٹالیں گے ۔“

وہ ہنستے ہوئے بولا ۔”محترما !یہاںحکم فہیم بھائی کا چلتا ہے ،اس لےے تمھاری چاپلوسی کسی کام آنے والی نہیں ۔“

”انھیں منانا میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔“مسکان اطمینان سے بولی ۔”آپ کو کسی سفارش کی ضرورت نہیں آپ بس فری کے لےے ہاں کریں ۔“

”اف پھر وہی فری….“وسیم نے جان چھڑانے کے انداز میں کہا مگراس کے لہجے میں شامل مصنوعی بیزاری مسکان کی نظروں سے اوجھل نہیں تھی ۔

”بھیا !….ایسی لڑکی قسمت والوں کو ملتی ہے ….چند دن کے تعلق کے باوجود وہ میرے لےے اتنی بڑی قربانی دینے کے لےے تیار ہو گئی ۔آپ اندازہ نہیں کر سکتے وہ کتنی مخلص لڑکی ہے اور پتا ہے اب تو اس نے نقاب اوڑھنا بھی شروع کر دیا ہے ۔“

”ہاں تم کم تھیں نا ….ایک دوسری دہشت گرد بھی لے آئیں ۔“

”بھیا!….نہیں نا ؟“مسکان نے منہ بسورا۔

وسیم اس کی ناک کھینچتے ہوئے بولا ۔”اوکے ….جو مرضی آئے کرو ….مگر یاد رہے اسے مجبور نہ کرنا ، یہ نہ ہو تم اس پر زبردستی اپنی مرضی ٹھونستی رہو ۔“

”اوہ بھیا!….زندہ باد ….“مسکان خوشی سے کھل اٹھی ۔وسیم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی ۔

”ویسے بھیا !….مجھ سے غلطی ہو گئی ….مجھے کافی عرصہ پہلے یہ کام کر لینا چاہےے تھا ،امی جان تو ہیں نہیں ….ان کے بعد بہن ہی کاکام بنتا ہے کہ اپنے بھائیوں کو سنبھالے ۔“

”بڑی آئی سنبھالنے والی۔“وسیم نے قہقہہ لگایا ۔اور پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا ۔”اچھا ایک بات بتاو¿؟“

”جی بھیا !….“اسے سنجیدہ دیکھتے ہوئے مسکان کے چہرے پر سے بھی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی۔

”حماد اتنی بڑی بے غیرتی پر کیوں راضی ہو ا….ایسا تو شاید زمانہ جاہلیت میں ہوتا تھا کہ اپنی بیوی کسی اور کے نکاح میں دے دی جاتی ۔“

”وہ خود بانجھ تھا ….بغیر بچے کی پیدائش کے اگر وہ مجھے قتل کرتا تو اسے میرے ترکے سے صرف نصف حصہ ہی مل پاتا جبکہ بچے کی موجودی میں وہ پورے کا مالک بن بیٹھتا اور معصوم بچے کی وجہ سے آپ لوگوں کی ہمدردیاں بھی سمیٹتا رہتا۔“

”بچے کے موجود نہ ہونے کے باوجود،ہم نے تمھاراسب کچھ اسی خبیث کے حوالے کر دیا تھا۔“

”بھیا !….منصوبہ بناتے وقت حتیٰ الوسع، امکانات پر کم ہی بھروسا کیا جاتا ہے …. سب کچھ جاتے دیکھ کراسے نصف پر ہی سمجھوتا کر نا پڑا ۔یہ الگ بات کہ اس کا واسطہ جن لوگوں سے پڑا تھا انھیں دولت سے زیادہ انسانیت کی قدر ہے ۔“

”اچھا….اب اس کے بارے تمھارا کیا ارادہ ہے ؟“

”بھیا !….وہ مجھے طلاق دے چکا ہے ….البتہ ہو سکے تو اس سے باقاعدہ طلاق نامہ دستخط کرا لیں ، باقی ،جتنی سزا اسے پولیس دے چکی ہے میرے خیال میں کافی ہے ….محل سے فٹ پاتھ پر آنا ہی اس کے لےے جتنی اذیت کا باعث بنے گا وہ ہم اسے پھانسی پر چڑھا کر بھی نہیں پہنچا سکتے اور پھر فری کی شادی شاید اسے پاگل خانے تک لے جائے ۔“

”ٹھیک ہے گڑیا !….“وسیم نے اثبات میں سر ہلایااور مسکان جانے کے ارادے سے کھڑی ہو گئی ۔

”اور ہاں !….فہیم بھائی کو میں راضی کر لوں گا تم آج دانیال کو مجھ سے ملوا لینا۔“

مسکان لاڈ سے مسکرائی ۔”بھیا جان !….آپ کو بتانے کا مطلب بھی یہی تھا ۔“

اس کے انداز پر وسیم بھی بے ساختہ مسکرانے لگا تھا ۔

٭……..٭

”فری !….تم کہاں ہو ؟“کال رسیو کرتے ہی فریحہ کو مسکان کا خوشی سے بھرپور لہجہ سنائی دیا ۔

”باجی !….ابھی ابھی یونیورسٹی سے لوٹی ہوں ۔“مسکان کا خوشی سے بھرپور لہجہ سن کر اس کی آدھی تھکن تو اتر گئی تھی ۔

” فٹا فٹ تیار ہو جاو¿….میں تمھیں لینے آ رہی ہوں ۔“

”میں نے ابھی تک کھانا بھی نہیں ….“

مسکان نے قطع کلامی کی ۔”میں نے بھی نہیں کھایا….اکھٹے کھائیں گے ۔“

”ٹھیک ہے باجی !….ویسے بڑی خوش نظر آرہی ہو ؟“

”بات ہی خوشی کی ہے ….ملنے پر بتاتی ہوں ۔“مسکان نے کال منقطع کر دی اور وہ تھکے تھکے انداز میں واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔اس کے تیار ہونے تک مسکان وہاں پہنچ گئی تھی ۔فریحہ کی ماں سے مل کر اس نے ہیلو ہائے کی اور فریحہ کو ساتھ لے کر گھر سے باہر آ گئی ۔

”ہاں ….اب بتاو¿ کیا خوش خبری ہے؟“کار میں بیٹھتے ہی فریحہ بے تابی سے مستفسر ہوئی اس سے مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا ۔

”فری!….وسیم بھائی نے ہاں کر دی ہے ۔“مسکان خوشی سے چہکی ۔

”وسیم بھائی نے ہاں کر دی ہے ؟“فریحہ نے سمجھنے والے انداز میں پوچھا….پھر ایک دم اسے خیال آیا تو وضاحت چاہتے ہوئے بولی ۔”مطلب اسے دانیال اور آپ کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ؟“

”ہاں، وہ بھی اور ….“کہہ کر وہ معنی خیز نظروں سے فریحہ کو گھورنے لگی ۔

”اور کیا ….؟“فریحہ اچنبھے سے بولی ۔”اور سامنے دیکھو ایکسی ڈنٹ ہی نہ کردینا۔“

”اور یہ کہ ،محترما فریحہ رباب اب فریحہ وسیم بننے والی ہے ؟“اس کے کہنے کے باوجود مسکان اسی کی جانب متوجہ رہی ۔

فریحہ الجھن امیز لہجے میں بولی ۔”میں سمجھی نہیں؟“

”کیا میں تمھیں بہ طور نند پسند ہوں ؟“مسکان کا انداز مزاحیہ تھا ۔

”باجی !….آپ کا بھائی وسیم ……..مگر وہ ….وہ میرے ساتھ ….“

”ہاں میری فری کے لےے رشتوں کی کمی تو نہیں ہے نا؟“مسکان پیار سے بولی ۔

فریحہ کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی۔”باجی !….کیا میں ان کے قابل ہوں ،کیا وہ میرے ماضی سے واقف ہیں؟“

”کیسا ماضی ….؟تمھاری مراد ،حماد کے ساتھ تعلق سے ہے یا دانیال سے ہونے والی منگنی سے؟“

”دونوں سے ….اور میرے سٹیٹس سے بھی ۔“

”بھیا ہر چیز سے واقف ہےں۔کسی کو پسند کرنا اور شادی کا وعدہ کرنا کوئی گناہ نہیں۔اگر حماد اس طرح ،دھوکے باز اور بے ایمان شخص نہ ہوتا تویقینا اب تک تم اسے اپنا بھی چکی ہوتیں ،مگر نہ تو تم اس کی قسمت میں تھیں اور نہ وہ تمھارے قابل تھا۔“

فریحہ کھسک کر اس کے قریب ہوئی اور اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولی ۔”باجی !…. لگ رہا ہے میں خواب دیکھ رہی ہوں ۔“

فریحہ نے ایک ہاتھ سے سٹیرنگ تھا م کر اسے اپنے ساتھ لپٹالیا۔”فری!….جانے کتنے سالوں بعد بھیا نے ہاں کی ہے۔ دورانِ تعلیم انھیںایک لڑکی سے محبت ہو گئی تھی….نوشین ایک بہت بڑے جاگیردار کی بیٹی تھی،ہمارا خاندانی پس منظر بھی تمھارے سامنے ہے ۔دونوں کی محبت میں نہ تو سماج آڑے آیا اور نہ طبقاتی فرق …. دونوں کی شادی ہو گئی ….پھر ایک بہت چھوٹی سی بات ہوئی بالکل پانی کے قطرے جتنی بات ،جو آہستہ آہستہ سمندر میں بدل گئی ….بھابی کے چھوٹے بھائی کی شادی تھی….بھیا بزنس ٹور پر ملک سے باہر تھے ۔بھابی نے زور دیا کہ بھیا ان کے بھائی کی شادی ضرور اٹینڈ کریں ،بھیا نے کوشش بھی کی لیکن وہ وقت پر نہ پہنچ سکے ۔ بھابی نے غصے میں آکر بھیا سے جھگڑا کیا اور خفا ہو کر میکے میں ڈیرے ڈال لےے ۔ بھیا کو بھی غصہ آ گیا اور انھوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔ ایک دن بھابی نے جانے کس کیفیت کے زیر اثر بھیا سے خلع مانگ لی ،بھیا نے بغیر کچھ سوچے خلع کے کاغذات سائن کر دئےے اور پھر ….بھابی نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی مگر بھیا اب تک یہ قدم نہیں اٹھا سکے ۔“

”اور یہ ہما میرے سر پر بیٹھا ۔“

”بھیا خوش قسمت ہیں کہ انھیں فری مل رہی ہے ۔“مسکان نے دوبارہ دونوں ہاتھوں سے اسٹیرنگ تھام لیا تھا ۔

”باجی !….میں سمجھتی تھی آپ کی دوستی نے مجھ سے خوشیاں چھینی ہیں ۔“

مسکان ہنسی ۔”تو ٹھیک ہی سمجھتی تھیں نا ۔“

”باجی !….آپ ہمیشہ مجھ سے چند قدم آگے ہی رہتی ہیں ۔“فریحہ نے عقیدت سے کہا۔”آپ کو فقط دانیال ہی نے صحیح پہچانا ہے ۔“

مسکان کھلکھلا کر ہنس پڑی ….”دانی ….کوبھی خوش خبری سنا دیں ۔“

فریحہ بھی ہنستے ہوئے بولی ۔”ایک ایک سیکنڈ گن رہا ہو گا بے چارہ ۔“

”اچھا اسے فون کر دو کہ آج شام کا کھانااسے وسیم بھائی کے ساتھ کھانا ہے ۔“

”واہ ….“فریحہ خوشی سے چیخی ۔”باجی لگتا ہے آج سب کچھ منوا لیا ہے اپنے بھیا سے ۔“

”ہاں ….اسے تحفہ بھی تو بہت بڑا دے رہی ہوں بدلے میں ۔“

”بڑی آئی تحفے والی ۔“فریحہ نے اس کی پیٹھ پر دھپالگایا۔

”کوئی مانے یا نہ مانے ….بھیا ضرور مانتے ہیں یہ بات ۔“

”باجی ! آپ بھی نا بس ؟“فریحہ شرمانے لگی ۔اسی وقت مسکان نے گاڑی ایک بڑے ہوٹل کی پارکنگ میں موڑ دی ۔

٭……..٭

دانیال پہلی مرتبہ مسکان کا گھر دیکھ رہا تھا ۔اتنی بڑی کوٹھی اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ مسکان نے اسے اپنے بھائی سے ہونے والی ساری بات چیت بتا دی تھی ۔فریحہ نے بھی اسے مبارک باد دینے کے بعد خوب چھیڑا تھا ۔

دانیال جانتا تھا کہ وہ کسی بھی لحاظ سے مسکان کے قابل نہیں ہے، مگر محبت اندھی ہوتی ہے ، پاگل دل کوئی دلیل ،کوئی برہان اور کسی منطق کو ماننے کے لےے تیار نہیں ہوتا ۔انوکھا لاڈلا کھیلنے کو چاند مانگتا ہے ،اپنی رٹ ، ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتا ۔

اس وقت بھی وہ دماغ میں مختلف اندیشے لےے مسکان کے بھائیوں کی محل نما کوٹھی میں موجود تھا۔ ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہوئے اسے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ ملازما چاے اور لوازمات کے ساتھ حاضر ہوئی ۔

چاے کی پیالی اسے پکڑا کر وہ کھانے کے لوازمات ٹیبل پر سجانے لگی ،مگر دانیال کا دل کچھ کھانے پینے کو نہیں کر رہا تھا ، اسے آنے والے دل شکن مرحلے کا انتظار تھا ،مسکان کا بھائی اگر اسے قبول کر کے خوشی کے سنگھاسن پر بٹھا سکتا تھا تو ،یہ بھی ممکن تھاکہ اسے ناپسندیدیگی کی سند سے نواز دیتا۔اور اس کے بعد جینے کی لگن ہی ختم ہو جانی تھی ۔

”شاید مشی میرا ساتھ دینے پر تیار ہو جائے ؟“ایک موہوم سوچ نے اسے تسلی دی ۔اور وہ چاے کی چسکیاں لینے لگا ۔

چاے کی پیالی ختم ہونے سے پہلے ایک خوش شکل مرد اندر داخل ہوا ،دانیال بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا ۔

مسکان کے بھائی نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا ۔”پلیز بیٹھیں !“اور دانیال نے دوبارہ نشست سنبھالتے ہوئے ادھ بھری پیالی تپائی پر رکھ دی ۔

”تو آپ کا نام دانیال ہے ،آپ ایک مزدور ہیں اور مسکان سے شادی کے خوہش مند ہیں۔“

”خوہش مند نہیں سر !….اس کا شوہر ہوں ۔“

وسیم ہنسا ….”اچھا دانیال صاحب!….یہ بتائیں اسے کھلاو¿ گے کہاں سے ؟“

”جہاں سے خود کھا رہا تھا وہیں سے اسے بھی کھلاوں گا ….رزق دینا تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ، البتہ یہ وعدہ کرتا ہوں اسے کبھی دکھ نہیں دوں گا ۔“

”اس بات کا دعوے دار تواس کا پہلا شوہر بھی تھا ۔“

”ضرور ہوگا ….مگر دھوکے باز ی اور خلوص میں امتیاز کرنا تو آپ کا کام ہے نا ۔“

”دانیال !….پہلے بھی ہم نے گڑیا کی خوشی کی وجہ سے ہاں کی تھی اور اب بھی اس کی وجہ سے مجبور ہیں ….باقی جہاں تک دھوکے بازی اور خلوص میں امتیاز کرنے کا تعلق ہے تو وہ اتنا آسان نہیں ہوتا ، اگر ہماری بہن اس کے ساتھ اتنا لمبا تعلق رکھنے کے باوجود اسے نہ پہچان سکی تو ہم ایک ملاقات میں کیا پہچان پاتے ۔“

دانیال پر مسرت لہجے میں بولا ۔”سیٹھ صاحب!آپ کی مجبوری ہے یا مہربانی میں شکر گزار ہوں اور ہمیشہ رہوں گا ؟“

” بہن ہمیںجان سے بھی پیاری ہے ۔اور حماد کی خباثت سے ہمیں جو دکھ پہنچا وہ میں بیان نہیں کر سکتا،یہ تو اللہ پاک کی رحمت ہوئی اور مسکان کی چند سانسیں باقی تھیں کہ وہ زندہ سلامت واپس مل گئی ۔لیکن یاد رکھنا اب اگر آپ نے وہی حرکت دہرانے کی کوشش کی تو مجھے قاتل بننے سے شاید ہی کوئی روک سکے ۔“

وہ اعتماد سے بولا ۔”میں ضرور ڈرتا،اگر میرے دل میں میل ہوتا ۔“

”مسٹر دانیال !….یہ نکاح دوبارہ پڑھوایاجائے گا،کیونکہ پہلے والا نکاح سب جاننے والوں کی نظر سے پوشیدہ ہے ۔“

دانیال شرماتے ہوئے بولا۔”مجھے کسی بات پہ بھی اعتراض نہیں ….بس اپنی شریک حیات واپس چاہےے۔“

وسیم کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”مل جائے گی یا ر!….تمھاری سفارش ہی بہت بڑی ہے ۔“

”کیا میں ابھی اس سے مل سکتا ہوں ؟“

”مل لو ….میں کون ہوتا ہوں روکنے والا۔وہ کیا کہتے ہیں میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔“

دانیال نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔”بھیا کہتے تو یہ بھی ہیں کہ ساری خدائی ایک طرف اورجورو کا بھائی ایک طرف۔“

وسیم نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”سامنے ہال میں دائیں طرف والاتیسرا کمرہ مسکان کا ہے ۔ اور وہاں اس کے ساتھ ایک مہمان بھی موجود ہے ، اس مہمان کو میری طرف سے کہہ دینا کہ میں اپنے کمرے میں اس کے جواب کا منتظر ہوں اور یہ بھی کہ ، جواب اس کی منہ زبانی ہی سننا چاہتا ہوں ۔“

”تھینکس سر !….“دانیال مسکان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: