Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 3

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 3

–**–**–

سلمان شاہ نے میٹنگ روم کی طرف قدم بڑھائے ۔وہ بہ مشکل دروازے تک پہنچا تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔ اس نے ناگواری سے موبائل نکالااور سکرین پر نگاہ ڈالی کال گھر سے تھی ۔اسے رسیو کرتے بنی ۔

”یس ؟“

”سلمان !….ماہین سکول سے غائب ہے ۔“اسے اپنی چہیتی بیوی سدرہ کی پریشانی میں ڈوبی آواز سنائی دی ۔

”کیا ؟“اس کے قدم میٹنگ روم کا دروازہ عبور نہ کر سکے ۔”مگر کیسے ؟“

ڈرائیور آج رش کی وجہ سے چند منٹ لیٹ ہوگیا ۔وہاں پہنچا تو ماہین موجود نہیں تھی ۔ سکول سٹاف سے پتا کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ چھٹی کے وقت تک اپنی کلاس میں موجود تھی ۔یوں بھی چھٹی سے پہلے سکول سے کسی بچے کا اپنی مرضی سے باہر آنا ناممکن ہے ۔ وہ چھٹی کے وقت ہی پر باہر نکلی اور اب اس کا پتا نہیں ہے ۔“سلمان کو لگا سدرہ رونے کو ہے ۔ خود اسے بھی محسوس ہو رہا تھا گویا کسی نے اس کا دل مٹھی میں دبا لیا ہے ۔ماہین ان کی اکلوتی اورلاڈلی بیٹی تھی ۔

”کسی سہیلی کی گاڑی میں نا بیٹھ گئی ہو ؟….میرا مطلب ہے اس کی کسی ساتھی کے باپ بھائی یا ڈرائیور نے ساتھ نا بٹھا لیا ہو ؟‘ ‘ سلمان بیوی سے زیادہ خود کو تسلی دینے کا خواہاں تھا ۔

”اس صورت میں اس کو اب تک آجانا چاہےے تھا ۔اتناغیر ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا کہ پرائے بچے کو گھر میں بٹھا رکھے ۔“

”اچھا میں آ رہا ہوں رونا مت ۔اللہ پاک بہتر کرے گا ۔“رابطہ منقطع کر کے اس نے میٹنگ روم کے سامنے کھڑے چپڑاسی کو میٹنگ ملتوی ہونے کی اطلاع ارکان میٹنگ تک پہنچانے کا حکم سنایا اور لمبے ڈگ بھرتا دفتر سے نکل آیا ۔ تھوڑی دیر بعد اس کی کار گھر کی طرف اڑی جا رہی تھی زیر لب وہ اپنی بیٹی کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا تھا ۔دفتر سے نکلے اسے دس بارہ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کا موبائل دوبارہ بجنے لگا ۔ انجان نمبر کو دیکھ کر وہ کال منقطع کرنے لگا تھا کہ اچانک اسے یا آیا کہ سدرہ نے ماہین کی تمام کتابوں پر اس کا نمبر لکھ رکھا تھا ۔یہ خیال اسے کال رسیو کرنے پر آمادہ کر گیا ۔

”یس ؟“

”کون ؟“ایک نامانوس آواز اس کی سماعتوں میں گونجی ۔

”مسٹر فون آپ نے کیا ہے۔اس لحاظ سے تعارف کرانا آپ کی ذمہ داری بنتی ہے ۔“

”تعارف چھوڑیں جناب ۔کیا آپ ماہین نام کی بچی کو جانتے ہیں ؟“

”جی جی ….“وہ تیزی سے بولا۔”وہ میری بیٹی ہے ۔“

”وہ میرے قبضے میں ہے۔“

”قق ….قبضہ ۔“الفاظ اس کے گلے میں اٹکنے لگے ۔اور اس نے کار سائیڈ پر کھڑی کر دی ۔

”جی بالکل ….میرے قبضے میں ہے ۔بلکہ سمجھیں میں نے اسے اغواءکر لیا ہے ۔“ اسے اغواءکنندہ کا اطمینان بھرا لہجہ سنائی دیا ۔

دماغ میں ابھرنے والی غصے کی لہر کو زبردستی دباتے ہوئی وہ بہ مشکل بولا۔

”دیکھو جناب !….میں تمھارا ہر مطالبہ پورا کرنے کے لےے تیار ہوں مگر میری بیٹی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہےے۔وہ بہت معصوم ہے ۔“

”نہیں ہوگی ،جی بالکل نہیں ہو گی ….لیکن تم نے پولیس کو اطلاع دی یا کوئی اور چالاکی دکھائی تو پھر کوئی رعایت نہیں برتوں گا…. غلط حرکت تمھاری معصوم بیٹی کو لولا، لنگڑا ،کانا،بہرہ یا اسی قسم کی کسی اور معذوری میں بھی مبتلاکر سکتی ہے ۔“

”نہیں نہیں پلیز میں کسی کو کچھ نہیں بتاو¿ں گا ….کسی کو بھی نہیں بتاو¿ں گا ۔وہ گھبرا گیا تھا ۔”بس میری گڑیا رانی کو کچھ نہیں ہونا چاہےے۔“

”گڈ ….وہ بالکل محفوظ رہے گی ۔تیس لاکھ کا بندوبست کر لو اور میرے اگلے فون کا انتظار کرو ۔اور یاد رکھنا تم میرے آدمیوں کی نظر میں ہو ۔“

”بات سنو ؟“وہ جلدی سے بولامگر رابطہ منقطع ہو گیا تھا ۔اس نے اس نمبر پر کال بیک کی مگر نمبر بند ہو گیا تھا ۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کے اغواءنے اسے ذہنی طور پر ماو¿ف سا کر دیا تھا۔

اچانک اس کے دماغ میں اپنے دوست بابرکا خیال آیا ،جو ایک نامی گرامی بدمعاش تھا ۔لوگ اسے بابر قصائی کہتے تھے۔لیکن اس کے ساتھ ہی اسے یہ سوچ پریشان کر گئی ،کہ بابر اس ضمن میں اس کی کیا مدد کرسکتا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ وہ اغوا کرنے والے کو درد ناک موت سے ہم کنار کر سکتا دے گا ،مگر وہ بھی اسے پہچاننے کے بعد ۔اور اگر بابر کی کسی بے احتیاطی وجہ سے اس کی گڑیا کو کچھ ہو جاتا تو یہ خسارا قیامت تک پورا ہونے والا نہیں تھا ۔

تیس لاکھ کی رقم کوئی معمولی رقم نہیں ہوتی ،مگر اپنی اکلوتی بیٹی کے لےے وہ اتنی رقم بہ ہر حال قربان کر سکتا تھا ۔

٭……..٭

”اتنی آسانی سے مان گیا ؟“فریحہ کے لہجے میں خوشی کے بجائے دکھ کا عنصر نمایاں تھا ۔

”تمھیں خوشی نہیں ہوئی ؟“حماد نے حیرانی سے پوچھا ۔

”خوش ؟“وہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔”اپنے محبوب کے ساتھ دوسری لڑکی کی شادی کی واقعی خوشی کی خبر ہے ۔“

”فری یہ شادی نہیں ایک معاہدہ ہے ۔اپنے مقصد کی حصول کی کارروائی ہے۔ بھول گئیں میں نے تمھیں زندگی کی ہر آسائش ،ہر سکھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اور ایسا کرنے کے لےے مجھے قربانی دینی ہو گی …. میری جان، میراجسم عارضی طور پر مسکان کے قبضے میں سہی میرا دل میری روح اپنی فری کے پاس رہے گا ۔“

”حماد مجھے ڈر لگتا ہے۔ دولت کی چکا چوند ،مسکان کی دلکشی ،قیمتی گاڑیوں کی سواری اور محل نما کوٹھیوں کی سکونت تمھیں مجھ سے چھین نہ لے ۔ یہ نہ ہو پر آسائش زندگی کا لالچ مجھ سے میری زندگی جدا کر دے؟“فریحہ نے ذہن میں کلبلاتے اندیشوں کو الفاظ میں ڈھالا۔

”کیا اپنے حماد پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے ؟“اس کا ہاتھ گرفت میں لیتے ہوئے اس نے چاہت سے پوچھا ۔

”نہیں ….لیکن انسان کے احساسات بدلتے دیر نہیں لگتی یہ نہ ہو اس کی محبت تمھیں جیت لے؟“

”ناممکن ….ایسا سوچنا بھی مت ،اگر ایسا ہوتا تو اب تک میں اس کا بن گیا ہوتا۔“

”یہ ڈراما کتنا عرصہ چلے گا ؟“

”میری جان !….تم اپنی تعلیم تو مکمل کر لو ؟“حماد نے اسے تسلی دی ۔

فریحہ نے منہ بنا کر کہا ۔”مجھے اپنے سوال کا جواب چاہےے ؟“

وہ اطمینان سے بولا۔”دو تین سال سے زیادہ نہیں چلے گا ۔“

”اور اس عرصے کے دوران تم کیسے ،کسی مقام تک پہنچو گے ؟“

”یار !….ایک ارب پتی سیٹھ کے داماد کے لےے کسی مقام تک پہنچنے میں کیا رکاوٹ ہوگی ؟“

”ہو گی نا رکاوٹ ؟“فریحہ نے زور دے کر کہا ۔”اگر تمھارا مقصد کسی اچھی جاب کا حصول ہے تو ایسی صورت میں کسی مقام تک پہنچنے کے لےے دو تین سال کا عرصہ بہت کم ہے ۔ جانتے ہو نا ؟ایک کوٹھی کی قیمت کیا ہو سکتی ہے ۔پھر اچھی گاڑی اور دوسری ضروریات ….کیا ایک اچھی جاب حاصل کرنے کے بعد ان تمام آسائشوں کا حصول ممکن ہے ؟…. وہ بھی دو تین سال میں ۔“

”نہیں ۔“حماد نے انکار میں سر ہلایا۔

اس نے وضاحت چاہی ۔”تو پھر ؟“

”سیٹھ داو¿د کی دولت کس کام آئے گی ،جو مسکان کو وراثت میں ملنی ہے ؟“

”محترم !….وہ مسکان کو نوٹوں کی صورت نہیں ملے گی کہ تو اس سے ہتھیا لے گا ۔ وہ لازماََکوٹھی، فیکٹری وغیرہ کی وارث بنے گی ۔ علاحدگی کی صورت میں تمھیں کیا ملے گا ؟بلکہ تجھ سے تو منہ دکھائی میں دیا جانے والاقیمتی تحفہ بھی وہ واپس لے لیں گے ؟“ مسکان کا سوال ایسا نہیں تھا کہ اسے نظر انداز کیا جاتا۔

”بات تو تمھاری ٹھیک ہے ۔“حماد کے لہجے میں پریشانی جھلکی ۔”یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔“

فریحہ نے منہ بنایا۔”ہاں ایک سیٹھ زادی کی محبت اور دلکش بدن کے سامنے ساری ضرورتیں پسِ پشت چلی جاتی ہیں ۔“

”بکو مت ….تم نے مجھے سچ مچ الجھا دیاہے ۔“

”الجھن کیسی ؟….ایک خوب صورت لڑکی ،کار ،کوٹھی ،فیکٹری اور وسیع کاروبار کے ساتھ مل رہی ہے گل چھرّے اڑاو¿ بقیہ زندگی ۔ اور بھول جاو¿ فریحہ نام کی کوئی بے وقوف لڑکی بھی تھی ۔“

وہ جھلا کر بولا۔”میں لگاو¿ں گا ایک جھانپڑ ۔“

”ہاں ….اب تمھارا غصہ تو مجھی پر نکلے گا نا ؟“

”اچھا تمھاری چوں چوں بند ہو گی کہ نہیں ؟….سوچنے دو مجھے ۔“

”تم سوچو ….اور میں چلی ۔“وہ کھڑی ہو گئی ۔

”پیدل جاو¿ گی ؟“

”ٹریفک کی ہڑتال نہیں ہے سمجھے ۔“فریحہ کا موڈ بھی آف ہو چکا تھا ۔

”بڑی آئی ہڑتال کی کچھ لگتی ۔“وہ بھی اٹھ گیا ۔

فریحہ کو ڈراپ کر کے وہ گھر پہنچا اور ساری رات اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا ۔ صبح اذان کے وقت وہ ایک بے داغ منصوبہ بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔دن چڑھے اس نے ایک مفتی صاحب سے فون پر مسئلہ پوچھنے کے بہانے وراثت کے متعلق تفصیلی گفتگو کی ۔ چھٹی کے وقت وہ اس سٹاپ پر کھڑا تھا جہاں فریحہ نے اس سے ملنے کے لےے یونیورسٹی بس سے اترناتھا۔

٭……..٭

رابطہ منقطع کر کے دانیال نے موبائل آف کر دیا ۔وہ بچی کے باپ کو ڈرانے میں کامیاب رہا تھا۔ یہ ساری ڈائیلاگ بازی اس نے فلموں سے سیکھی تھی ۔بات چیت کے لےے اسے گھر سے باہر آنا پڑا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں کو اس سارے معاملے کی ہوا لگے ۔ گھر واپس جاتے ہوئے اس نے ایک دکان سے ٹافیاں اور چاکلیٹ خرید لیں ۔جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی ماں ماہین کو چارپائی پر لٹا رہی تھی ۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔

”اماں !….اب تک اسے گود میں لٹایا ہوا تھا ؟“

اس کی ماں جھینپتے ہوئے بولی ۔”میں نے سوچا کہیں جاگ نہ جائے ۔“

”اماں !….آپ بھی نا بس ؟“اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔وہ ماں کے دل میں دبے ممتا بھرے جذبات سے ناواقف نہیں تھا ۔اتنی اسے دلہن کی تڑپ نہیں تھی جتنی وہ پوتی پوتوں کے لےے تڑپتی ، مچلتی تھی ۔

وہ بچی کو موسم کی مناسبت سے باریک چادر اوڑھا کر دانیال سے پوچھنے لگی ۔”کچھ پتا چلا اس کے والدین کا ؟“

”اتنی جلدی کہاں اماں ….ابھی تک تو اخبار میں خبر دی ہے ،جو کل صبح شائع ہو گی ۔ اس کے بعد کہیں پتا چلے گا ۔ ہو سکتا ہے دو تین دفعہ خبر دینی پڑے۔“

”کیا پتا یہ لاوارث ہو ؟“عائشہ خاتون کے لہجے میں عجیب سی حسرت بھری تھی ۔ ”کیا پھر ہم اسے پال سکیں گے؟“

”اماں!…. لاوارث سکول میں نہیں پڑھا کرتے اور نہ ان کا لباس ہی اتنا اچھا ہوتا ہے ۔“

”اچھا اچھا….غصہ نہ دکھایا کر ہر بات پر ۔ماں ہوں تمھاری ۔“وہ بڑبڑاتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی ان کے گھر کا دروازہ عام معمول میں دن کے وقت کھلا رہتا تھا لیکن آج ماہین کی وجہ سے اس نے کنڈی کر دیا تھا ۔اس کی کوشش تھی کہ پڑوسی ماہین کے وجود سے بے خبر رہیں ۔

وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔دروازے پر بوڑھی پڑوسن کو دیکھ کر اس نے بہانہ گھڑا ۔

”اماں تو کہیں گئی ہوئی ہیں خالہ ؟“

”اچھا۔“وہ ہلکی سی مایوسی سے بولی ۔”واپس آئے تو میرے بارے بتا دینا ۔“

”ٹھیک ہے خالہ!….“کہہ کر اس نے دروازہ دوبارہ کنڈی کر دیا ۔

”کون تھا بیٹا ؟….اور میں تو گھر میں ہوں ؟“عائشہ خاتون نے لازماََ اس کی پڑوسن سے ہونے والی گفتگو سن لی تھی ۔

”بشریٰ خالہ تھی ماں ۔“

”اسے دروازے پر دستک دینے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی ،پہلے تو بے دھڑک آجاتی تھی ؟ اور پھر تو نے یہ کیوں کہا کہ میں گھر میں موجود نہیں ہوں ؟“

”دروازہ میں نے کنڈی کیا تھا ماں ۔“دوسرے سوال کو وہ جان بوجھ کر گول کر گیا ۔

”اور جھوٹ کیوں بولا؟“اس کی ماں بال کی کھال اتارنے پر تلی تھی ۔

”وہ ….ماں میں نہیں چاہتا کہ کسی کو بچی کا پتا چلے ۔“

”کیوں ….کیوں پتا نہ چلے بچی کا ؟….اور کب تک چھپائیں گے اسے ؟“اس کی ماں بات کو کسی اور سمت موڑ کر لے گئی تھی ۔

”ماں!…. بس دو تین دن کی تو بات ہے ۔“

”اے لڑکے !….باو¿لا ہوا ہے کیا؟….دو تین دن کا کیا مطلب ؟“

”کچھ نہیں ماں ….آپ چھوڑیں اس بات کو، بعد میں سمجھادوں گا ۔“

”یہ ہماری قید میں تو نہیں ہے ۔اور نہ ہم نے اسے اغواءہی کیا ہے ؟“اس کی ماں کے لہجے میں شکوک کی پرچھائیاں تھیں ۔

”اماں !….ایک تو آپ ہر بات کی کھوج میں پڑ جاتی ہیں ۔چھوڑیں اس موضوع کو اور کھانابنائیں سخت بھوک لگی ہے۔“ اس نے جان چھڑانی چاہی ۔اس کے انداز پر عائشہ کا ماتھا ٹھنکا ۔

”اے دانی !….سچ بتا کیا چکر ہے ؟تمھارا انداز مجھے مشکوک نظر آرہاہے ۔

”اچھا ادھر آماں!…. تمھیں بتاتا ہوں ۔“وہ اسے بازو سے پکڑ کر کمرے میں لے گیا ۔

”کیا ادھر نہیں بتایا جا سکتا تھا ؟“عائشہ کو بیٹے کا مشکوک انداز نہ بھایا۔

”ماں !….یہ کسی امیر آدمی کی بیٹی ہے ۔اور اس کا باپ اسے چھڑانے کے لےے کافی رقم ادا کر دے گا ۔“

”دد….دانی تمھارا دماغ جگہ پر ہے ؟“بیٹے کی بات پر اس کا رنگ اڑ گیا تھا۔

”کیا ہوا میرے دماغ کو ،ٹھیک ہی تو ہے ۔ہمارے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرنے والے کسی سرمایہ دار سے اگر چند لاکھ لے لوں گا تو کیا فرق پڑے گا ….کوئی کمی نہیں ہو گی ان کے بینک بیلنس میں ، بلکہ کچھ ماہ بعد وہ چند لاکھ بھی اس کے یا اس کے کسی دوسرے بھائی کے اکاو¿نٹ میں واپس منتقل ہو جائیں گے ۔“

”باو¿لا ہوا ہے لڑکے !….“عائشہ نے بیٹے کی چھاتی پر دو ہتھڑ مارے ۔”حرام کی کمائی گھر لانا چاہتا ہے ۔ تمھارے باپ نے ساری زندگی محنت مزدوری کر کے کھایا ہے تو کیسے بے غیرت ہو گیا ہے ، خبردار جو دوبارہ اس طرح کے کسی گندے کام کا سوچا ۔نہیں چاہےے مجھے اس طرح کی حرام کی دولت ۔یہ روکھی سوکھی میرے لےے مرغن غذاو¿ں سے بہتر ہے ۔“

دانیال نے حجّت پیش کی ۔”ماں اس رقم سے میں شادی کر سکتاہوں ؟“

”ایسی شادی سے تمھارا کنوارا مر جانابہتر ہے ۔“عائشہ رونے لگ گئی تھی۔

وہ زچ ہو کر بولا۔”ٹھیک ہے ماں !….ٹھیک ہے ۔صبح واپس چھوڑ آو¿ں گا ۔“

”نہیں ….ابھی ابھی چھوڑ آو¿….اس کے والدین بیچاروں پر کیا گزر رہی ہو گی ۔وہ ماں تھی اور جانتی تھی کہ ممتا کی تڑپ کیا ہوتی ہے۔

”ماں میں نے اس کا گھر نہیں دیکھا ناں ؟“دانیال نے دامن بچانا چاہا۔

”تو اس کے والد سے کس طرح رقم کا مطالبہ کرتے ؟“آخر وہ بھی اس کی ماں تھی ۔

”فون پر بات کرتا۔“

”ٹھیک ہے ابھی فون ملاو¿ میرے سامنے ۔“عائشہ حکمیہ لہجے میں بولی ۔

بادل نخواستہ اس نے فون نکالااور اس کے باپ کا نمبر ڈائل کرنے لگا ۔

٭……..٭

اس سٹاپ پرفریحہ کے ساتھ دو اور لڑکیاں بھی اترتی تھیں ان کے جانے تک فریحہ لاتعلق ہو کر مخالف سمت میںچلتی رہی ۔ جیسے ہی وہ گلی میں مڑیں حماد بائیک فریحہ کے قریب لے آیا ۔ اپنے شولڈر بیگ سے ایک بڑی سی کالی چادر نکال کر فریحہ نے نقاب کے انداز میں اوڑھی اور اچک کر اس کے پیچھے بیٹھ گئی ۔ یہ اہتمام وہ حما دکے کہنے پر کرتی تھی ۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے پسندیدہ ریستوراں میں ،کونے کی مخصوص نشستیں سنبھال چکے تھے ۔

کھانے کا بتا کر حماد اسے ساری تفصیل بتانے لگا ۔کھانا آنے تک وہ اسے سارا منصوبہ بتا چکا تھا۔

”حماد !….یہ ٹھیک نہیں ہے ؟“فریحہ گھبرا گئی تھی ۔”دولت کے لےے کسی کی جان لینا بہت غلط حکمت عملی ہے ؟“

”فری!…. میری جان پتا ہے دولت کے لےے یہ سیٹھ غریبوں کا کتنا خون چوستے ہیں ؟ کتنوں کو ان کی وجہ سے بے گھر ہونا پڑتا ہے ؟…. سارے سماج کو انھوں نے کیسے جکڑا ہوا ہے ؟ ان کے کاروبار نے مکڑی کے جالے کی طرح پورے ملک کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لیا ہو اہے ۔جینے کا حق صرف ان کو حاصل ہے باقی لوگ تو کیڑے مکوڑے ہیں ۔اور نجانے کتنے کیڑے روزانہ ان کے قدموں تلے آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔اس دوران اگر ایک کیڑا ہمت کر کے کسی سیٹھ کو کاٹ لے تو یہ غلط کیسے ہو گیا؟“

” پلیز حماد !….یہ ٹھیک نہیں ہو گا، یہ نہ ہو تم پکڑے جاو¿؟….اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو میں بے موت ماری جاو¿ں گی ؟“

”کچھ نہیں ہو گا ….“حماد نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”جانتی ہو دنیا میں کون سا اصول کارفرما ہے ؟ …. ایک مفکر کہتا ہے انتظار کرنے والوں کو وہی ملتا ہے جو کوشش کرنے والوں سے بچ جائے اور میں انتظار نہیں کر سکتا ۔کوشش کروں گا ۔زندگی کی بنیادی ضروریات کے لےے ترستے رہنا مجھے قبول نہیں۔ میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میری فری رکشے اور بائیک پر سفر کرے اور وہ لڑکیاں جو میری شہزادی کی کنیز بننے کے بھی قابل نہیں وہ لینڈ کروز اور مرسڈیز میں گھومیں ۔میری ملکہ چار مرلے کے مکان میں گھٹ گھٹ کر زندگی گزارے اور وہ پانچ ،دس کنال کی کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہوں ۔نہیں فری بالکل نہیں …. مجھے ظالم بننا قبول ہے مفلس بننا منظور نہیں ۔بہت سسک چکے ،بہت تڑپ چکے ۔اب میں اپنا حصہ چھین لوں گا ۔ یقین مانو اس دولت پر امرا کا ناجائز قبضہ ہے صریحاََ ناجائز ، اتنا حصہ ان کا نہیں بنتا کسی حساب سے نہیں بنتا جتنا ان کے قبضے میں ہے ۔“

”حماد!…. مجھے ڈر لگتا ہے ….؟“

”کیسا ڈر ….؟میں اسے گولی تو نہیں ماروں گا ۔ایسی دوا کا حصول کوئی مشکل بات نہیں جس کی ہلکی سی مقدار ایک تسلسل سے کھانے سے وہ مالک حقیقی سے جا ملے ….یا پھر ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں موت کوگلے سے لگا لے ؟“

”کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ؟“فریحہ سخت پریشان نظر آ رہی تھی ۔ایک عام سی لڑکی کو کسی کے قتل کی خبر متوحش کرنے کے لےے کافی تھی ۔ چاہے وہ قتل اس کی رقیب کا کیوں نہ ہوتا ۔

وہ اطمینان سے بولا۔”ہے ،کیوں نہیں ہے ؟“

”کیا ؟“اس نے بے صبری سے پوچھا۔

”شادی کے بعد اپنی پیاری بیوی کے ناز اٹھاتا رہوں ،ساری زندگی عیش سے گزرے گی ۔بس اپنی محبت سے محروم ہونا پڑے گا ۔ اپنی فری سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ؟“

فریحہ نے پریشان ہو کر سر تھام لیا ۔چند منٹ سوچنے کے بعد روہانسی ہو کر بولی ۔

”فری ،تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی ….مر جائے گی ۔“

”حماد بھی مر جائے گا ۔“وہ اطمینان سے بولا۔”صرف مسکان زندہ رہے گی اور حماد کی موت کے بعد ایک اور گبرو سے بیاہ رچا لے گی ۔آخر زندگی انجوائے کرنا ان سیٹھوں ہی کا حق بنتا ہے ؟“

”اوکے ….جو مرضی آئے کرو ۔مجھے صرف اپنا حمادصحیح سلامت چاہےے اور بس ۔“

وہ مسکرایا۔”دیٹس لائیک اے گڈ گرل (That,s like a good girl)

”اب چلیں ؟“وہ کھڑی ہو گئی ۔”دل اچاٹ ہو گیا ہے کھانے سے ۔“

حماد کو بھی کھانا ادھورا چھوڑنا پڑا ۔بل ادا کر کے وہ ریستوراں سے باہر نکل آئے ۔

٭……..٭

پہلی ہی بیل پر کال رسیو کر لی گئی تھی ۔بچی کے باپ نے بے تابی سے کہا۔

”یس! ….بھائی صاحب ،میں نے رقم کا بندوبست کر لیا ہے ؟“

”رقم کو چھوڑیں اپنا ایڈریس بتائیں ۔میںماہین کو آپ کے پاس لا رہا ہوں ۔“

”کک….کیا مطلب ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔

”مطلب یہ ہے محترم!….کہ وہ سب ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں تھا ۔میں ایک شریف آدمی ہوں ۔ تمھاری بچی مجھے اکیلی ملی ، رو رہی تھی۔ میں اسے گھر لے آیا اور تمھارے جیسے بے پرواہ والد کو سزا دینے کے لےے یہ سارا ڈراما کیا ۔“ دانیال کو بروقت اپنی حرکت کی توجیہ سوجھ گئی تھی۔

”مم ….میں کس منہ سے آپ کا شکر ادا کروں ؟“سلمان شاہ کو لگا کوئی فرشتہ اس سے مخاطب ہے۔

”شکریہ کو چھوڑو ،اور یہ بتاو¿ بچی کو کہاں لے آو¿ں ؟“

”مم….میں ….ہم خود آجاتے ہیں آپ زحمت نہ کریں ۔“

”اوکے پھر اس پتے پر آ جاو¿۔“دانیال نے گھر کا ایڈریس اسے بتا دیا ۔اس کا موڈ سخت آف ہو رہا تھا ۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ اس کے بعد غلط طریقے سے دولت کمانے کا سوچے گا بھی نہیں ۔چچا خیر دین کی ہر تجویز الٹی اس کے گلے ہی پڑی تھی ۔اچانک بچی نے اٹھ کر امی…. امی پکارنا شروع کر دیا ۔عائشہ خاتون نے بھاگ کر اسے گود میں اٹھا یا اور چپ کرانے لگی۔

وہ مچل کر بولی۔”دادو !….امی کے پاس جانا ہے ؟“

”امی، یہیں پر آرہی ہے میری گڑیا ۔“عائشہ اس کے ناز اٹھانے لگی ۔دانیال نے جیب سے چاکلیٹ نکال کر بچی کو دی۔چاکلیٹ کو دیکھ کر اس کا رونا وقتی طورپر تھم گیا۔

”انکل !….چلیں نا ؟….امی کے پاس چلتے ہیں ؟“چاکلیٹ چباتے ہوئے اس نے معصومیت سے کہا۔

عائشہ نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا ۔وہ نظریں چرا کر ماہین سے باتیں کرنے لگا ۔

”گڑیا !….پاپا اور امی بس آنے ہی والے ہیں ۔“

”نہیں نا؟….آپ بھی میرے ساتھ چلیں ،آپ اچھے انکل ہیں ناں ؟“

”ہاں ،میں بھی آتا رہوں گا اپنی گڑیا کے پاس ۔“وہ اس کی معصوم باتوں کا جواب دینے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اسے داخلی دروازے پر گاڑی رکنے کی آواز آئی ۔وہ اس طرف بڑھ گیا ۔ اسی وقت دستک بھی ہونے لگی ۔ دروازہ کھولنے پر اسے جدید تراش خراش کے سوٹ میں ملبوس ایک جواں سال مرد دکھائی دیا اس کے پیچھے ایک خوب صورت سی عورت بھی تھی جس کی سرخ متورم آنکھیں دیکھ کر دانیال کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اس بچی کی ماںہے ۔

”آئیں جی ۔“اس نے ایک طرف ہو کر انھیں اندر آنے کا رستا دیا۔وہ بے تابی سے اندر داخل ہوئے ۔ماہین عائشہ خاتون سے باتیں کر رہی تھی ۔عائشہ نے اسے دروازے کی طرف متوجہ کیا ۔

”گڑیا!….دیکھوتو کون آیا ہے ؟“

ماہین نے سر گھما کر دروازے کی طرف دیکھا اور ماں باپ کو پہچانتے ہی اٹھ بیٹھی ۔

”امی !….دیکھو نا….؟ میں دادو کی گود میں سو رہی ہوں۔“

”امی کی جان ۔“سدرہ نے اسے اٹھا کر چھاتی سے بھینچ لیا ۔سلمان بیٹی کے سر پر بوسے دینے لگا۔ چار پانچ منٹ تک دونوں میاں بیوی بیٹی کے ساتھ مشغول رہے ۔یہ جذباتی ملاپ دانیال کی آنکھوں میں بھی آنسو لے آیا ۔اسے لگا امیر غریب کے مابین صرف دولت حد فاضل ہے ،ورنہ احساسات دونوں کے ایک جیسے ہیں ۔ خاص کر اولاد کی محبت امراءکے دل میں بھی اتنی ہی ہوتی ہے ،جتنی غریبوں کے دل میں ۔ماں کی بدولت وہ ایک بڑے ظلم کے ارتکاب سے بچ گیا تھا ۔اس نے دل ہی دل میں پختہ توبہ کی ،کہ آئندہ کسی بھی غلط کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا ۔

”آپ کی بڑی مہربانی بھائی صاحب !“سلمان شاہ اپنے قیمتی لباس کی پرواہ کےے بغیر اس سے لپٹ گیا۔”آپ کے اس اقدام نے واقعتا میری آنکھیں کھول دی ہیں ۔میں ،اپنی بچی کی حفاظت سے بے پرواہی برت رہا تھا ،اور فی زمانہ چھوٹے بچوں کے ساتھ جو درندگی بھرا سلوک ہو رہا ہے ،وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔“

”بھائی جان!….میں بھی نادم ہوں کہ آپ لوگوں کی اذیت کا باعث بنا ۔اصل میں بچی مجھے بہت پیاری لگی تھی۔ اور پھر اکیلی پھر رہی تھی، مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اسے گود میں اٹھا لیا ،یہ بھی پٹر پٹر باتیں کرتی رہی ،بس میری سمجھ میں کچھ نہ آیا اور انجانے میں آپ کو تکلیف دینے کا باعث بن گیا ….غصہ آگیا تھا کہ کراچی جیسے شہر میں اتنی پیاری گڑیا یوں لاوارث پھر رہی ہے ؟“

”بس !….اب مزید شرمندہ نہ کریں ۔“سلمان شاہ ممنونیت سے بولا ۔دانیال کی کہانی جیسی بھی تھی ، بچی ملنے کی خوشی میں وہ ہر قصور اپنے سر لینے کو تیار تھا ۔

”بچو!….بیٹھو نا؟ ….میں چاے لاتی ہوں ۔“

”نہیں ماں جی !“سدرہ جلدی سے بولی ۔”بس ہمیں آپ کی دعاو¿ں کی ضرورت ہے ۔“

”بیٹا!….مہمانوں کا یوں کچھ کھائے بغیر چلے جانا اچھا شگون نہیں ہوتا۔“

”ماں جی !….اس تکلف کی ضرورت تو نہیں تھی بہ ہر حال آپ مصر ہیں تو لے آئیں ۔“ عام حالات میں شاید وہ اس گھر میں پانی پینا بھی گوارا نہ کرتے مگر اس وقت بیٹی کی اچانک واپس ملنے والی خوشی ان سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی ۔

عائشہ خوشی سے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔چاے پی کر انھوں نے ایک دفعہ پھر ماں بیٹے کا شکریہ ادا کیا اور جانے کی اجازت چاہی ۔عائشہ نے دونوں میاں بیوی کے سر پر ہاتھ رکھ کر انھیں دعا ئیں دیں اور ماہین کوپیار کیا ۔

وہ معصومیت سے بولی۔”پاپا!….انکل اوردادو کو بھی ساتھ لے چلیں نا؟….یہ اچھے انکل ہیں مجھے سکول لے جایا کریں گے اور دادو مجھے گود میں سلائے گی ۔“

”ہاں گڑیا!….انکل اور دادو تمھیں ملنے آیا کریں گے ۔“سلمان بیٹی کو پیار کرنے لگا ۔

”ہاں گڑیا ….!ہم آیا کریں گے ۔“دانیال نے بھی اس کے والد کی ہاں میں ہاں ملائی اور پھر انھیں رخصت کرنے کے لےے ان کے ساتھ چل پڑا ۔

٭……..٭

ان کی شادی خیر و عافیت سے اختتام پذیر ہوئی تھی ۔سارا انتظام مسکان کے بھائیوں کی مرہون منت تھا۔یہاں تک کہ، مسکان کو منہ دکھائی میں دئےے جانے والا تحفہ بھی اس نے مسکان کے بھائی کی بخشی ہوئی رقم سے خریدا تھا ۔ سیٹھ فہیم نے اپنی شادی کے بعد، اپنے لےے جو عالی شان کوٹھی بنوائی تھی، وہ مسکان کے نام کر دی تھی۔ اس کے بدلے آبائی کوٹھی میں مسکان کا کوئی حصہ نہیں رہا تھا ۔ اس کے علاوہ ایک ٹیکسٹائل مل اوراور ٹرانسپورٹ کمپنی مسکان کے حصے میں آئے تھے۔سیٹھ فہیم نے بڑی ایمانداری سے باپ کے ترکے کو تقسیم کر کے چھوٹی بہن کا حصہ اس کے حوالے کر دیا تھا ۔ حماد کے لےے وہ سپنوں کی زندگی تھی۔چار مرلے کے مکان سے پانچ کنال کی کوٹھی میں شفٹ ہونا،نہایت خوشگوار اور خوش کن تجربہ تھا۔ مسکان اپنی فطرت کے مطابق مشرقی بیوی ثابت ہوئی تھی ۔ اتنے بڑے کاروبار کی مالک ہونے کے باوجود وہ حماد کی خدمت میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں ہونے دیتی تھی ۔

شادی کے ماہ ،ڈیڑھ ماہ بعد حماد نے مل جانا شروع کر دیا تھا ۔مسکان کے حکم پر اس کے لےے ایک علاحدہ آفس بنا دیا گیا تھا ۔ مل کے تمام ملازمین سیٹھ داو¿د کے پرانے نمک خوار تھے ۔اور اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد سے اسی طرح وفادار تھے ،جیسے ان کے والد کے ساتھ انھوں نے وقت بِتایا تھا ۔ان کی موجودی میں حماد کے لےے کسی قسم کا گھپلا ،یاہیر پھیر ممکن نہیں تھا ۔کسی بھی اہم پوسٹ پر فائز بندے کو نوکری سے نکالنے کا مطلب، سیٹھ فہیم کو شک میں مبتلا کرنا تھا ۔کیونکہ متاثرہ شخص نے لازماََ سیٹھ فہیم کے سامنے جا کر دہائی دینی تھی ۔ اور سیٹھ فہیم لامحالہ مذکورہ آدمی کو نوکری سے نکالنے کی وجہ دریافت کرتا ۔ایک آدھ آدمی تک شاید حماد اسے مطمئن کر دیتا مگر دو تین آدمیوں کو نوکری سے برخاست کرنا ضرور اسے چوکنا کر دیتا ۔ یوں بھی، مل میں اتنے بڑے پیمانے پرمسلسل گھپلا کرنا ممکن نہیں تھا ،کہ جس کی بدولت اس کی تشنہ آرزو¿ں کی تکمیل ہو پاتی ۔ الٹا بعد کے مرحلے اس کے لےے دشوار ہو جاتے ۔اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی کے لےے اسے اپنے ترتیب دیئے ہوئے منصوبے کے مطابق کام کرنا تھا ۔ اسی وجہ سے وہ ایمان داری سے کام کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ ایک دن وہ ضرور، مل کامالک بنے گا۔ اتنے بڑے کاروبار کا بلا شرکت غیرے مالک بننا ایک سہانا خواب ہی تو تھا ۔ اور اس خواب کی تعبیر کے لےے وہ ہر قربانی دے سکتا تھا ۔ یوں بھی اتنی رقم اس کی دسترس میں رہتی تھی کہ وہ فریحہ کے ناز اٹھا سکے ۔

اسے فقط اپنا بچہ پیدا ہونے کا انتظار تھا جس کے بعد وہ اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہو سکتا ۔ مگر شادی کے ڈیڑھ سال بعد بھی مسکان کوئی خوش خبری نہیں سنا سکی تھی ۔

ایک دن وہ فریحہ کے ساتھ ساحل سمندر پر بنے ایک غیر معروف ریستوراں میں موجود تھا ۔ شروع شروع میں مسکان کے قتل کی مخالفت کرنے والی اب اس منصوبے میں پیش پیش تھی ۔حماد کی نوازشوں نے اسے بھی دولت کی طاقت ،اہمیت اور نشے کا مزا چکھا دیا تھا ۔وہ جان گئی تھی، کہ دولت ہی سے اپنے سپنوں کی تعبیر اور خواہشوں کی تکمیل ممکن ہو سکتی ہے۔وہ سپنے ،جو ہر نوجوان لڑکی کے من میں ہوتے ہیں ۔وہ آرزوئیں، جنھیں سوچا تو جا سکتا ہے پورا نہیں کیا جا سکتا ۔اس وقت وہ حماد سے انتظار کی وجہ دریافت کر رہی تھی۔

”حماد ….! دو سال ہو گئے ہیں اور مسکان صاحبہ اب تک امید سے نہیں ہوئیںآخر کب تک انتظار کرنا پڑے گا ….چھوڑو بچے کے ٹنٹنے کو اور قصہ پاک کرو کتیا کا ؟“

اس نے منہ بنا کر کہا۔”پاگلوں جیسی باتیں نہ کیا کروفری!“

”اس میں پاگل پن کی کیا بات ہے ؟….صاف کہہ دو ،جی نہیں بھرا مسکان صاحبہ سے ۔یا شاید اس کی خدمت گزاری سے متا¿ثر ہو گئے ہو ۔یوں بھی وہ لاکھوں میں ایک ہے؟“

”بے وقوف !….ایسے نہ ہانکتی رہا کرو ۔اگر تم نہ بھی ملتیں، تب بھی میں نے مسکان کا قصہ تمام کرنا تھا ۔ کیونکہ کسی کی بھیک میں ملنے والی عیاشی مجھے قبول نہیںہے ۔اورمیں خود، سارے کاروبار کا بلا شرکت غیرے مالک بننا چاہتا ہوں ۔“

”پھر اتنا انتظار کس لےے ؟“

”کیوں کہ اب اگر وہ مر گئی تو مجھے پورے ترکے کا نصف ملے گا ۔اور باقی کا نصف اس کے بھائیوں کو واپس مل جائے گا ۔“

”وہ کیوں ؟“فریحہ حیران رہ گئی تھی ۔

”کیوں ،کیسے کو چھوڑو….؟یہ وراثت کے مسائل ہیں تمھیں سمجھ نہیں آئیں گے ۔“

”اوکے ….مگر بچہ ہونے کی صورت میں سب کچھ تمھیں ملے گا ؟“

”ہاں ….اس صورت میں چوتھائی میرا اور باقی سب بچے کاہو گا ۔لیکن بچہ بھی تو میرا ہو گا نا ؟ باقی بچہ ہونے کا یہ فائدہ بھی ہو گا کہ اس کے بھائیوں کو کسی گڑ بڑ کا احساس نہیں ہو گا ۔اور پھر بچہ ان کی ہمدردیاں بھی سمیٹ لے گا ۔سب بڑھ کر بچے کی پیدائش کے لےے کسی آیا کا بندوبست کرنے کا مشورہ خود مرحومہ کے بھائی دیں گے ۔ اور آیا کی جگہ سنبھالے گی ،اس گھر کی اصل مالکن ، فریحہ حماد!“

”ہائے !….دن رات جان کی قربت میں رہ کر کتنا مزہ آئے گا ؟“وہ سہانے سپنوں میں کھو گئی۔

حماد مسکرایا۔”پھر دعا کرو نا مسکان جلد از جلد ماں بن جائے ۔“

”دعا تو کر دوں گی ، تم دوا کا بندبست کرو ۔چیک اپ کراو¿، کوئی مسئلہ نہ ہو ؟“

”صحیح کہا ۔“اسے متفق ہونا پڑا ۔”چیک اپ کرانا ناگزیر ہو گیا ہے ؟“

”اگر اس میں کوئی نقص ہوا پھر ؟“فریحہ نے اندیشہ ظاہر کیا ۔

”وہ بعد کا مسئلہ ہے ۔ابھی پریشان کن خیالات کو چھوڑو اور کھانا کھاو¿۔“حماد نے بیرے کو اپنی جانب آتا دیکھ کر موضوعِ گفتگوبدل دیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: