Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 4

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 4

–**–**–

دانیال نے سٹیل مل میں کام شروع کر دیا تھا ۔وہاں مزدوری سخت تھی، مگر آمدن زیادہ ۔ مختلف جرائم میں ناکامی کے بعد اس نے حلال ذریعے سے دولت اکھٹی کرنے کی ٹھان لی تھی ۔ گو یہ طریقہ دشوار گزار اورمشکل تھا ،مگر اس طرح اسے ذہنی سکون ضرور حاصل تھا ۔اوراس کے ضمیر پر کوئی بوجھ بھی نہیں تھا ۔ یوں بھی وہ شروع دن ہی سے محنت مزدوری کاعادی تھا۔ یہ تو، چچا خیر دین کے مشورے پر اس نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا ۔اور آخر تنگ آکر اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب چچا خیر دین کا ایسا کوئی مشورہ نہیں مانے گا ۔

اس کی ماں نے بھی اس کے رشتے کے لےے بھاگ دوڑ ختم کرکے سب کچھ مقدر پر چھوڑ دیا تھا۔ دانیال جو اس کی نظر میں دنیا کے تمام مردوں سے خوب صورت تھا ،جانے کیوں اس کی خوب صورتی دوسروں کی نظر سے اوجھل تھی ۔

اس دن دانیال کام ختم کر کے مل سے باہر نکلا تو شام ہو رہی تھی۔کبھی کبھی تو اسے عشاءتک کام کرنا پڑتا ۔اوور وقت لگا کر اس کی آمدن اتنی بن جاتی تھی کہ روزمرہ کا خرچ نکال کر وہ کچھ نہ کچھ رقم پس انداز کر لیتا۔

بس اسٹاپ ،مل کے گیٹ سے چند سو گز دور تھا ۔وہ ابھی رستے میں تھا کہ اک چمچماتی کار اس کے قریب رکی ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک خوش پوش ادھیڑ عمر کے آدمی نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے پوچھا۔

”کہاں جانا ہے بھئی ؟“

”جی،اسٹاپ تک جانا ہے ۔“

اس نے اگلا دروازہ کھول کر کہا۔”بیٹھو میں چھوڑ دیتا ہوں ۔“

”مہربانی جناب ….میں چلا جاو¿ں گا۔“

”میاں بیٹھو تو سہی ۔“وہ مصر ہوا ۔اور دانیال جھجکتے ہوئے بیٹھ گیا ۔اتنی قیمتی گاڑی میں بیٹھنا اسے پہلی بار نصیب ہوا تھا۔

اس نے کار آگے بڑھائی اور پھر بس اسٹاپ سے گزرتاچلا گیا ۔

دانیال جلدی سے بولا۔”روکیں جناب !….ہم اسٹاپ سے آگے گزر آئے ہیں ۔“

”نہیں ،چاے کا ایک ایک کپ ہو جائے، پھر اگلے سٹاپ پر اتار دوں گا ۔“اس نے کار ایک ریستوران کی پارکنگ میں موڑدی۔دانیال کے لےے یہ حیرانی کی بات تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ نیک لوگوں کی دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے ۔

ریستوران میں بیٹھتے ہی اس نے بیرے کوچاے کے بجائے کھانا لانے کو کہا۔اور پھرکھانا آنے تک وہ خاموش بیٹھا رہا۔بیرے نے ٹرے میں لائے کھانے کے برتن ان کے سامنے ٹیبل پر رکھے اور خاموشی سے واپس مڑ گیا ۔

”پتا ہے ؟….میں کافی دنوں سے تمھیں دیکھ رہا ہوں ۔تم عموماََ شام کی اذان کے وقت چھٹی کرتے ہو ۔“اسے کھانا شروع کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے تمہید باندھی۔

”جی جناب !….غریب آدمی کا گزارافالتووقت لگا کر ہی ہو سکتا ہے ۔“

وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔”غربت ایک ایسی بیماری ہے جسے ہم نے لاعلاج سمجھ رکھا ہے ۔“

”لاعلاج تو ہے نا جناب !“

”بالکل غلط۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”مجھے دیکھو ،اسی فلسفے پر یقین رکھتے ہوئے میں نے اپنی زندگی کے بہترین چالیس سال ضائع کےے۔ مگر پھر ایک بھلے آدمی کے مشورے اور تعاون سے ،ہمت و جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گیا ہوں کہ آج، کوٹھی ،کار اور ایک چھوٹے سے کاروبار کا بلا شرکت غیرے مالک ہوں ۔“

مم….مگر کیسے ؟“دانیال حیران رہ گیا تھا ۔

”بہت آسان ہے ؟“دانیال کی دلچسپی دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ہنسی نمودار ہوئی ۔

”محترم اب بتا بھی دیں ؟“اس نے اپنی بے صبری چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔

”بتاتا ہوں، پہلے تم اپنا مکمل تعارف تو کراو¿؟“

”دانیال نام ہے ،مزدور ہوں ،اب تک شادی نہیں کی ہے ،ماں کے علاوہ اس دنیا کوئی نہیں ہے، اور نہایت غریب ہوں ۔ اتنا کہ کوئی بیٹی کا رشتا دینا بھی گوارا نہیں کرتا ۔بتیس سال کا ہو گیا ہوں اور اب تک شادی نہیں کر سکا ۔“

” تودانیال میاں !….بات یہ ہے کہ سب سے پہلے تمھیں ضمیر، احساس، ہمدردی اور حب الوطنی جیسی فرسودہ باتوں سے جان چھڑانی پڑے گی ۔کیونکہ امیرصرف وہی بن سکتا ہے جو اپنے کام سے کام رکھے ۔ اسے کوئی غرض نہیں ہونی چاہےے کہ دوسروں پر کیا گزر رہی ہے۔صرف اور صرف اپنے بارے سوچنے والا ہی دولت مند بن سکتا ہے ۔“

”ہر کوئی ہی اپنے بارے سوچتا ہے جناب ۔“دانیال نے شدّ ومدّ سے اس کی تائید کی ۔

”گڈ ….۔“اس نے مطمئن اندازمیں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”بس یہی سوچ ترقی کاپہلازینہ ہے۔ اب تمھیں امیر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔“

”سچ سر !….“دانیال خوشی سے چہکا۔

”بالکل سچ ۔“

”تو اب بتائیں نا….؟ مجھے دولت کمانے کے لےے کیا کرنا ہو گا ؟“دانیال امیر بننے کا راز جاننے کے لےے بے صبر ہو رہا تھا ۔

اس نے آخری نوالا چباتے ہوئے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کر کے بیرے کو چاے لانے کا اشارہ کیااور کہا۔”کار میں بیٹھ کر بتاتا ہوں ۔“

دانیال نے سرعت سے چاے کی پیالی ختم کی اور بے چینی سے پہلو بدلنے لگا ۔وہ دولت کمانے کا راز جاننے کے لےے بے تاب تھا ۔ اجنبی نے اطمینان سے چاے پی ۔بیرے کو بلا کر بل ادا کیا اور دانیال سے کہا۔

”چلو ۔“

دانیال سر ہلاتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔

کار پارکنگ سے نکال کر اس نے ڈیش بورڈ کھولااور ایک خاکی رنگ کا پھولا ہوا لفافہ اس کی جانب بڑھایا۔

”یہ کیا ہے ؟“حیرانی سے کہتے ہوئے دانیال نے لفافہ اس کے ہاتھ سے لے کر کھولاتو اس میں ہزار کے نوٹوں کی ایک گڈی برآمد ہوئی ۔

”یہ پچاس ہزار ہےں۔“

”پپ….پچاس ہزار؟“یک مشت اتنی رقم وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا ۔

”ہاں ….اور ایک چھوٹے سے کام کے بدلے یہ تمھارے ہو سکتے ہیں ۔“

”کک ….کون سا کام ؟“دانیال نے اٹکتے ہوئے پوچھا ۔

”پہلے یہ بتاو¿،تم تیا رہو کہ نہیں ؟“

”کام کا تو پتا چلے ؟“دانیال کو اس کا انداز مشکوک لگا ۔اس لےے کام جانے بغیر حامی بھرنااسے مناسب نہ لگا ۔

”صبح کام پر جاتے ہوئے ایک چھوٹا سا بیگ تمھارے پاس ہو گا ۔اپنی مطلوبہ بس میں سوار ہو کے اسے سیٹ کے نیچے رکھ دینا ۔ اورپھربیگ وہیں چھوڑ کر اپنے سٹاپ پر اتر جانا ۔بس ، اتنا سا کام ہے ؟اس کے بدلے یہ پچاس ہزار تمھارے ۔“

”بیگ میں کیا چیز ہو گی ؟“

”آم کھاو¿….پیڑ نہ گنو ؟“

مگر اس کے بتائے بغیر دانیال کو اندازہ ہو گیا تھا، کہ بیگ میں کیا چیز ہو سکتی ہے ۔اس کی سوچوں میں ایمبولینس کے تیز سائرن کے ساتھ مرد و زن اور بچوں کی چیخیں گونجنے لگیں ۔وہ زور سے بولا۔

”پلیز کا ر روکو۔“

”کیا ہوا ؟“اس نے کار روکتے ہوئے حیرانی سے پوچھا ۔

دانیال نے جیب سے دو سو روپے نکال کر پچاس ہزار کے بنڈل کے ساتھ ڈیش بورڈ پر رکھے اورکہا۔

”یہ دو سو کھانے کا بل ہے ۔بیرے کو آپ نے چار سو روپے دئےے تھے ۔میرے حصے میں دو سو ہی آتے ہیں ۔“ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلااور قریبی بس سٹاپ کی طرف بڑھ گیا ۔ معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر وہ اپنی جنت تعمیر نہیں کر سکتا تھا ۔ چھوٹے موٹے جرائم کے لےے اس کا ضمیر راضی نہیں ہوا تھا تو یہ قتل وغارت اس کے بس میں کہاں تھی ۔

٭……..٭

”یہ کیا بات ہوئی ….بہ مشکل دو سال ہوئے ہیں شادی کو اور جناب کو بچے کی پڑ گئی ؟“ مسکان حماد کی پریشانی دیکھ کر حیران رہ گئی تھی ۔

”مجھے جنون کی حد تک بچے کی چاہ ہے ۔“حماد نے صفائی سے جھوٹ بولا۔

”تو ہو جائے گا نا بچہ ….؟“مسکان حیا آلود لہجے میں بولی ۔”دو سال کوئی اتنا بڑا عرصہ تو نہیں ہے ؟“

”تم نے چیک اپ کرانا ہے کہ نہیں ؟“حماد تلخ ہونے لگا ۔

”چلتی ہوں نا ….ڈانٹنے کیوں لگے ؟“وہ روہانسی ہونے لگی ۔وہ حماد سے بے حد محبت کرتی تھی مگر حماد کا رویہ اسے ہمیشہ الجھن میں ڈال دیتا تھا ،پرایا اور اکھڑا اکھڑا ۔

”تمھاری ضد دیکھ کر غصہ آجاتا ہے؟“حماد ہار ماننے کے لےے تیار نہیں تھا ۔

مسکان خاموشی سے کپڑوں کی الماری کی طرف بڑھ گئی ۔اس کے کپڑے بدلنے تک حماد ایک مشہور گائنالوجسٹ سے اپوائنٹ منٹ (Appoint ment)لے چکا تھا ۔اس کے با وجود انھیں گھنٹا بھر انتظار کرنا پڑا ۔باری آنے پر وہ ڈاکٹر کے چیمبر میں داخل ہوئے ۔شکیلہ فاروقی ایک منجھی ہوئی گائنالوجسٹ تھی ۔ ساری تفصیل سننے کے بعد اس نے انھیں ٹیسٹ لکھ کر دئےے ۔

”ڈاکٹر صاحب میر اٹیسٹ کس لےے ؟“حماد نے ٹیسٹ فارم پر اپنا نام پڑھ کر حیرانی کا اظہار کیا۔

”ٹیسٹ تم دونوں کا ہو گا سر!“لیڈی ڈاکٹر پروقار لہجے میں بولی ۔ضروری نہیں کہ نقص عورت میں ہو مرد میں بھی بانجھ پن پایا جا سکتا ہے ؟“

مسکان نے ڈاکٹر کی تائید کرتے ہوئے کہا ۔”ٹھیک ہے نا حماد!“ڈاکٹر صاحبہ کی بھی تسلی ہو جائے گی ، ہمیں بھی بار بار اپوائنٹ منٹ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔“

حماد کو تسلیم ہی کرتے بنی ۔شکیلہ فاروقی کے اپنے ہاسپیٹل میں لیبارٹری کی سہولت موجود تھی ۔

”ٹھیک ہے سر آپ semen analysis test کرا لیں آپ کی مسز کا Pelvis examہو گا جو میں خود کروں گی ۔“

حماد سر ہلاتا ہوا وہاں سے باہر نکل آیا ۔گھنٹا بھر بعد اسے رپورٹ موصول ہو گئی ۔اور پھر رپورٹ پڑھتے ہی حماد کا رنگ زرد پڑ گیا تھا ۔وہ باپ بننے کی صلاحیت سے محروم تھا ۔اتنی دیر میں مسکان بھی آ گئی تھی۔ اس کی رپورٹ کلیئر تھی اس میں کوئی نقص موجود نہیں تھا ۔

حماد کی رپورٹ پڑھ کر ڈاکٹر نے کسی بھی قسم کے طنز سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا ۔

”مسٹر حماد!…. مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کبھی باپ نہیں بن سکیں گے؟“

”یعنی اس بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے؟“اس نے مایوسی سے پوچھا ۔

”یہ بیماری نہیں ہے سر ؟“ڈاکٹر شکیلہ نے اس کی تصیح کی ۔

”ڈاکٹر صاحبہ !….مجھے باپ بننا ہے کسی بھی طریقے سے ۔“

”ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ یقینا آپ کی محرومی دور کر دے گا ۔“ڈاکٹر شکیلہ نے مشورہ دیا۔

”ٹیسٹ ٹیوب کی شرعی حیثیت کیا ہے ڈاکٹر صاحبہ ؟“مسکان نے دریافت کیا ۔

”یہ کوئی عالم دین ہی بتا سکتا ہے ۔“ڈاکٹر شکیلہ اطمینان سے بولی ۔

ڈاکٹر سے رخصت لے کر انھوں نے واپسی کی راہ لی ۔حماد کی بولتی بند ہو گئی تھی ۔ قدرت نے اس سے عجیب انتقام لیا تھا ۔ اس کے باوجود وہ شکست ماننے کے لےے تیار نہیں تھا ۔ اس کا دماغ اسی اُدھیڑ بُن میں مصروف تھا کہ اب اس کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہےے ؟….مسکان رپورٹ کو اس کی خاموشی کی وجہ سمجھ رہی تھی ۔وہ اپنے تیئں اسے تسلی دیتی رہی ۔اتنے بڑے انکشاف کے باوجود اس کی محبت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔گھر پہنچتے ہی حماد نے کہا ۔

”مسکان پلیز یہ بات کسی کو بھی پتا نہیں چلنی چاہےے ؟“

”میں پاگل تھوڑی ہوں ؟“وہ اس سے لپٹتے ہوئے اسے تسلی دینے لگی ۔حماد اسے ہر حال میں عزیز تھا ۔

اگلا ہفتہ حماد نے مختلف، مشہور اور مستند ڈاکٹروں سے اس ضمن میں مشورہ کرتے گزارا ۔ مگر ہر جگہ اسے مایوس کن جواب ہی ملا ۔یہ بات اس نے فریحہ سے بھی چھپا لی تھی ۔کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وجہ سے وہ اس سے متنفر ہو جائے ۔فریحہ کے بغیر زندہ رہنے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔

ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اس نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقے پر عمل کرنی کی ٹھان لی۔

”مسکان ….!مجھے بچہ چاہےے اور اس کا یہی ایک حل ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے میری تشنہ خواہش پوری ہو؟“

”ناممکن ….“مسکان کا جواب بالکل غیر متوقع تھا ۔

”کیوں ؟“حماد حیران رہ گیا تھا ۔

”میں نے اس بارے معلومات حاصل کر لی ہیں ۔تمام علماءیہی کہتے ہیں کہ میاں بیوی کے تولیدی نطفے سے تو یہ عمل جائز ہے اوربہ حالت مجبوری اس کی اجازت ہے ۔مگر کسی غیر مرد کے نطفے سے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا طریقہ ناجائز ہی نہیں ،حرام ہے ۔یوں سمجھو حرام کاری کی طرح ہے ۔اور مجھ سے یہ کام نہیں ہو گا ۔“

”اف مسکان !….“حماد نے سر پکڑ لیا ۔”تم اب تک ان مولیوں کی باتوں میں پڑی ہو ،اور دنیا مریخ سے بھی آگے نکل گئی ہے ؟“اس وقت مسکان کے مذہبی جذبات اسے زہر لگے تھے ۔

مسکان نے اطمینان بھرا جواب دیا ۔”مریخ نہیں پلوٹو سے بھی آگے نکل جائیں ۔ رہیں گے آسمان کے نیچے ہی ،اوپر نہیں جا سکتے ۔“

”کیا میری چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کرو گی ؟“حماد جانتا تھا کہ مذہبی معاملات میں وہ کسی دھونس میں آنے والی نہیں تھی اور اسے جذباتی بلیک میلنگ ہی سے کام نکالنا پڑے گا ۔

”کبھی نہیں ۔“مسکان کے لہجے میں ہلکی سی بھی لچک موجود نہیں تھی ۔

”پلیز مسکان !….میری خاطر ؟“حماد نے لجاجت سے کہتے ہوئے اسے کندھوں سے تھام لیا۔

”حماد ….!آپ سمجھتے کیوں نہیں ،یہ میرے لےے ناممکن ہے ۔اگر تمھیں زیادہ شوق ہے تو ہم کوئی بچہ گود میں لے لیں گے۔ یا میں اپنے بھتیجے ،بھتیجی کو لے آو¿ں گی جو ہمارا بچہ بن کر پرورش پائے گا ؟“

”مجھے اپنا بچہ چاہےے؟“

مسکان زچ ہوتے ہوئے بولی ۔”ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے بھی آپ کابچہ تو نہیں ہو گا؟“

”تمھارا تو ہو گا نا؟….اور تمھارے، میرے میں کیا فرق ہے ؟“

”سوری حماد !….آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر، لیکن مجھ سے یہ کام نہ ہو گا ؟“مسکان یہ کہتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی ۔خاوند کی نافرمانی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی، مگر یہاں اس کے دین کا مسئلہ تھا۔اگر اسے ذرا سی بھی گنجائش یا حیلہ نظر آتا، تو وہ حماد کو یوں مایوس نہ کرتی ۔وہ مفتی صاحب سے بڑی تفصیل سے یہ مسئلہ دریافت کر چکی تھی ۔

٭……..٭

دانیال جھجکتے ہوئے شادی آفس میں داخل ہوا ۔اپنی ماں کی ناکامی کے بعد اس کے پاس آخری حل یہی رہ گیا تھا کہ وہ کسی شادی دفتر سے رجوع کرے ۔اس بات کا مشورہ بھی اسے چچا خیر دین نے دیا تھا ۔

”جی سر ….؟آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“استقبالیہ پر بیٹھے مرد نے مو¿دبانہ لہجے میں پوچھا۔

”میں شادی کرنے ….میرا مطلب ہے ،میں شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ کا تعاون درکار ہے ؟“

اس نے میز پر پڑا فون اٹھا کر کسی سے بات کی اور پھر دانیال کو کہا۔

”آپ اندر تشریف لے جائیں ۔“

دانیال سر ہلاتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

وہ ایک چھوٹا سا آفس تھا۔لکڑی کی الماری ،ٹیبل اور چند کرسیاں آفس کی کل کائنات تھی۔ٹیبل کے پیچھے ریوالونگ چیئر پر ایک موٹا سا آدمی بیٹھا تھا ۔دانیال کو دیکھ کر وہ استقبال کے لےے کھڑا ہوا اور پھر اس سے مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔

” پلیز بیٹھیں جناب! ….“

دانیال خاموشی سے بیٹھ گیا۔

اس نے دلچسپی سے پوچھا۔”تو آپ شادی کے سلسلے میں تشریف لائے ہیں ؟“

”جی ….جی جناب ۔“

”خادم کو ظہیر کہتے ہیں ….آپ کا اسم شریف۔“

”دانیال ۔“

اس نے میز کی دراز سے ایک فارم نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔

”تو دانیال صاحب !….پہلے آپ یہ پُر کر یں ۔“

دانیال نے فارم لے کر دیکھا اور جھجکتے ہوئے کہا۔”یہ ….یہ تو انگلش میں ہے۔اور میری تعلیم آٹھ جماعت ہے کافی مندرجات میری سمجھ میں نہیں آئیں گے ۔“

”اچھا پھر یہ پُر کرو ۔“اس مرتبہ اس نے اردو میں چھپا ہوا فارم اس کی جانب بڑھایا۔

دانیال نے فارم لے کر پُر کیا اور اس کی جانب واپس بڑھادیا۔

”سر !….فیس جمع کرا دیں ؟“اس نے فارم کے مندرجات پر ایک نظر دوڑاتے ہوئے خوش خلقی سے کہا ۔

دانیال نے پوچھا”کتنی فیس ؟“

”جیسا آپ کو رشتا درکار ہے ،اس کے مطابق فیس ہو گی ۔“

دانیال شرما کر بولا۔”بس جی خوب صورت اور خوب سیرت ہو ،باقی غریب امیر کی کوئی قید نہیں۔“

”عمر کتنی ہو نی چاہےے ؟….کنواری ہو یا شادی شدہ ؟“

”کنواری ہو نی چاہےے سر!…. اور میری ہم عمر یا مجھ سے چھوٹی ہو ۔“

”اچھا یہ البم دیکھ کر پسند کریں ۔اگر اس میں سے کوئی پسند آگئی تو ٹھیک ہے، دوسری صورت میں ہمیں آپ کے لےے کوئی اور رشتا دیکھنا پڑے گا ۔“ظہیرنے ایک ضخیم البم اس کی جانب بڑھایا۔

البم اس سے جھپٹتے ہوئے دانیال تصویریں دیکھنے لگا ۔تمام تصویریں نہایت خوب صورت لڑکیوں کی تھیں ۔ ہر ایک اس قابل تھی کہ اسے شریک حیات بنایا جاتا۔اس سے فیصلہ نہیں ہو پارہا تھا کہ کس پھول کو اپنے گلشن میں سجائے ۔ کافی غور و خوص کے بعد اس نے ایک لڑکی کی تصویر پر انگلی رکھ دی جو ہاتھ میں سفید گلاب تھامے مسکرا رہی تھی ۔اور اس کے سپنوں میں آنے والی دوشیزاو¿ں سے کئی درجے بڑھ کے خوش شکل تھی ۔

”واہ ….لاجواب ۔حورین نام ہے اس دوشیزہ کا ۔“ظہیر کے ہونٹوں پر کاروباری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔ ”ٹھیک ہے…. تو نکالیں دس ہزار روپے ۔“

”دد….دس ہزار ؟“دانیال گڑبڑا گیا ۔

”ہاں جی !….اتنی رقم تو بہ ہر حال آپ کو ادا کرنی پڑے گی ۔حورین جیسی دوشیزہ ویسے تو آپ کو ملنے سے رہی؟“

اس نے پریشان ہو کر کہا۔”میرے پاس تو اس وقت صرف تین ہزار روپے ہیں ؟“ ۔

”کوئی بات نہیں ۔“وہ خوش خلقی سے مسکرایا۔”تم یہ رقم جمع کرا کے رسید لے لو اور بقیہ رقم کل جمع کرا دینا ۔اور یاد رہے شادی کے بعد ہمیں دو ہزار روپے مٹھائی کی مد میں بھی دینے ہوں گے ؟“

دانیال نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جیب سے تین ہزار کی رقم نکال کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔

”ضرورجناب صاحب !….یہ تو آپ کا حق بنتا ہے ۔“

پیسے لے کر اس نے تین ہزار کی رسید لکھی، اور دانیال کے حوالے کر دی۔رسید پرتین ہزار وصول اور سات ہزار بقایا لکھا ہوا تھا ۔ وہ اسے تاکید کرتے ہوئے بولا۔”اور ہاں بقیہ فیس سے ساتھ اپنی ایک عدد تصویر ضرور لانا۔“

”ٹھیک ہے سر !….“کہہ کر اس نے پوچھا ۔”رشتا کب تک ہو سکے گا ؟“

”انشاءاللہ بہت جلد ….بس آپ مکمل فیس جمع کراد یں، تاکہ اس بارے ہمارا نمائندہ کام شروع کر سکے۔آپ جیسے گھبرو جوانوں کے لےے غریب گھرانوں کی ہزاروں خوب صورت لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں سوکھ رہی ہیں۔جنھیں دھن دولت اور صورت نہیں ،بس سر کا سائیابان ،پیار کرنے والا شریک حیات اور عزت کا رکھوالا چاہےے۔یوں بھی مرد کی صورت سے زیادہ اس کی جوانی ،مضبوط بدن اور قد کاٹھ دیکھا جاتا ہے۔ حورین بھی نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ پچھلے ہفتے ہی اس کے کوائف ہماری کمپنی میں اندراج کرائے گئے ہیں ۔ آپ کی خوش قسمتی کہ ابھی تک کسی دوسرے کی نظر اس فوٹو پر نہیں پڑ سکی ہے ۔“

اس کی باتوں سے دانیال ایک بار پھر سپنوں میں کھو گیا تھا ۔اس نے اگلے دن کا انتظار کرنے کے بجائے اسی وقت گھر آکر بقیہ سات ہزار روپے اٹھائے اور اس کے حوالے کر دئےے۔حورین جیسی لڑکی کے لےے اسے دس ہزار کی فیس معمولی لگی ۔اس کے ساتھ اسے یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں کوئی دوسرا اس کومل دوشیزہ کو نہ لے اڑے ۔ اپنی تصویر دینا وہ نہیں بھولا تھا۔ پیسے جمع کر کے ظہیر نے کہا ۔

”ٹھیک ہے دانیال صاحب !….چند دن تک آپ کو خوش خبری سنا دی جائے گی ۔ آپ کا فون نمبر ہمارے پاس ہے۔ جیسے ہی ساری تفصیلات طے ہوئیں ،ہم آپ کو مطلع کر دیں گے ۔بس آپ نے یہ کرنا ہے کہ شادی کے لےے اپنی تیاریاں مکمل رکھیں ،یہ نہ ہو بعد میں افرتفری مچی رہے ۔“

”آپ بے فکر رہیں جی ۔“دانیال نے شرمیلی سی مسکراہٹ سے کہا ۔”میری طرف سے ساری تیاری مکمل ہے ۔“ اور پھر وہ اس سے مصافحہ کر کے دفتر سے باہر نکل آیا۔

٭……..٭

وہ حماد کے لےے لاینحل مسئلہ بن چکی تھی۔اس کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ مسکان کو کیسے راضی کرے ۔ اس بابت وہ فریحہ سے مشورہ لینے کے لےے بھی تیار نہیں تھا ۔اس دن وہ فریحہ کے ساتھ بیٹھ کر دو پہر کا کھانا کھاتے ہوئے اسی سوچ میں غرق تھا ۔وہ اس سے بے خبر کسی اپنے مسئلے میں مشغول گفتگو تھی۔

”کیا تم بھی ،مجھے یونہی طلاق دے دو گے ؟“اپنی بات کے اختتام پر اچانک اس نے پوچھا۔

”طط ….طلاق ….بھلا میں اسے طلاق کیوں دوں گا؟“وہ گڑبڑا گیا۔

”ہاں!….اسے تو تم طلاق نہیں دو گے۔ میں نے اپنی بات کی ہے ۔“

”فری !….تم کیا کہہ رہی ہو ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ؟“

”وہ کچھ زیادہ ہی تمھارے اعصاب پر سوار ہو گئی ہے ۔کہ اب میرے پاس بیٹھ کر بھی اسی کی سوچ میں کھوئے ہو؟“

”کیا بکواس ہے یار؟“حماد نے سر تھام لیا ۔”اب میں کسی بھی مسئلے پر سوچوں گا تو، تم شک کرو گی کہ میں تمھاری سوکن کے بارے سوچ رہا ہوں ؟“

”وہ میری سوکن کب سے ہو گئی ؟“فریحہ جلے کٹے انداز میں بولی ۔”میں تمھاری دلہن اس وقت بنوں گی جب وہ تمھاری زندگی سے دفع ہو چکی ہو گی ؟“

”اچھا یہ موضوع سمٹ سکتاہے ؟“

”تم نے خود چھیڑا ہے مجھے ….؟میں تو تمھیں اپنی کزن شازیہ کی لو سٹوری کا ڈراپ سین سنا رہی تھی ۔“

”کیا ہوا شازیہ کی محبت کو ؟“حماد کو شازیہ میں بالکل ہی دلچسپی نہیں تھی مگر وہ اس موضوع سے جان چھڑانا چاہ رہا تھا ۔

”شاہد نے اسے طلاق دے دی ہے ۔اور یہ وہی شاید ہے ،جو اس کے بغیر مر جانے کے دعوے کیا کرتا تھا ۔“

”کوئی وجہ تو ہوئی ہو گی ؟“حماد نے دلچسپی ظاہر کی ۔

”اصل وجہ تو پتا نہیں ہے ۔اور نہ میں نے جاننے کی کوشش ہی کی ہے ۔البتہ اب جناب شاہد صاحب پریشان ہے ۔اور دوبارہ اسے گھر لے جانا چاہتا ہے ۔مگر یہ ممکن نہیں ہے ۔“

”ہاں ….اب بھلاشازیہ کیوںکرمانے گی ؟“حماد نے لقمہ دیا ۔

”نہیں وہ بے وقوف بھی تیار ہے ۔مگر اب طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے دوسرے شوہر کے پاس جانا ممکن نہیں ہے ۔“

”تو ؟“

”تو یہ ،کہ اب وہ کسی ایسے مرد کی تلاش میں ہے جو شادی کے بعد شازیہ کوطلاق بھی دے دے۔“

”گڈ ….۔“حماد کے ذہن میں ایک خیال کوندے کی طرح لپکا ۔

”میرا خیال ہے یہ اتنی اچھی خبر تو نہیں ہے ؟“فریحہ کو اس کی بات پر حیرانی ہوئی تھی ۔

”اچھی خبر ہے نا ؟“وہ خوشی سے چہکا ۔”میاں بیوی میں صلح ہونا بری بات ہے کیا ؟“

”میں نے صلح کی نہیں طلاق کی بات سنائی ہے ۔“فریحہ نے منہ بنایا۔

وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”میں نے طلاق کے بعد صلح کی بات پر گڈ کہا ہے ۔“

”اچھا چھوڑو اس موضوع کو ….یہ بتاو¿ تمھاری مسکان صاحبہ کب خوش خبری سنا رہی ہیں ؟“

”خوش خبری تو وہ ہمارے لےے ہو گی نا ؟ اس بے چاری کے لےے تو موت کا پیغام ہو گا ۔“

”چلو یونہی سہی ….یہ بتاو¿ ڈاکٹر نے کیا بتایا ہے ؟“

”ڈاکٹر کا کہنا ہے، کچھ وقت لگ جائے گا ۔“اس نے صریحاََ جھوٹ بولا۔

”کتنا ….؟“

”اتنا زیادہ بھی نہیں ،کہ تم پریشان ہونا شروع کر دو ۔“حماد نے اسے تسلی دی ۔

”پریشانی…. بہت چھوٹا لفظ ہے ۔“اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔”اپنے محبوب کو غیر کی بانہوں میں دیکھنا ، پریشانی نہیں ،کچھ اورکہلا تا ہے۔“

”پلیز فری !….اب پرانا قصہ نہ چھیڑ نا ۔ایک دفعہ جب ہر بات متعین ہو گئی ہے تو اب گڑے مردے مت اکھیڑو؟“

”چلو آئس کریم کھاتے ہیں۔“فریحہ غیر متوقع طور پر اس کی بات مان گئی تھی ۔

بل ادا کر کے وہ دونوں ہوٹل سے باہر نکل آئے ۔آئس کریم کھاتے ہوئے وہ گہری سوچ میں کھویا رہا ۔ شازیہ کی طلاق والی بات پر اس کے ذہن میں ایک اچھوتی تجویز آئی تھی ۔ فریحہ کوڈراپ کر کے وہ اطمینان سے اس بارے سوچنے لگا ۔ اگر وہ مسکان کو عارضی طور پر طلاق دے دیتا اور وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر لیتی ۔ جب حمل ہو جاتا تو اس سے طلاق لے کر واپس حماد سے شادی کر لیتی ۔اس کے علاوہ کوئی ایسی تجویز نہیں تھی جس سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتا ۔تمام پہلوو¿ں کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد وہ مسکان سے بات کرنے کے لےے تیار ہو گیا ۔

٭……..٭

ان دنوں اٹھتے بیٹھتے دانیال کی نظروں میں حورین کا دلکش چہرہ گھومتا رہتا ۔وہ بڑی بے صبری سے شادی آفس کی طرف سے جواب کا منتظر تھا ۔اپنی ماں کو اس نے اس بات سے بے خبر رکھا تھا ۔وہ سارا کام مکمل ہونے کے بعد اسے یہ خوش خبری سنانا چاہتا تھا۔

ایک ماہ گزرنے کے بعد جب اس سے مزید صبر کرنا دشوار ہو گیا تو وہ خود دفتر میں پہنچ گیا ۔ استقبالیہ پر وہی آدمی موجود تھا ۔ دانیال نے کہا۔

”ظہیر صاحب سے ملنا ہے ؟“

”آئیں دانیال صاحب بیٹھیں ۔“وہ خوش خلقی سے بولا۔

”شکریہ سر !….بس ظہیر صاحب سے ملوا دیں ۔“

”وہ آپ کے رشتے کے سلسلے ہی میں مصرو ف ہے ۔بس چند دن مزید صبر کر لیں ۔“

”ٹھیک ہے جناب ۔“دانیال چہرے پر مسکراہٹ بکھیر تے ہوئے واپس لوٹ آیا۔اگلا ایک ہفتہ گزارنے کے بعد بھی ، جب کوئی اطلاع نہ ملی تو ایک مرتبہ پھر وہاں پہنچ گیا ۔

استقبالیہ پر موجود شخص نے اسے دیکھتے ہی کہا ۔

”ظہیر صاحب آفس میں موجود نہیں ہیں آپ کل تشریف لے آئیں ۔“

اور دانیال پھر مایوس ہو کر لوٹ آیا ۔اگلے دن فیکٹری میں جانے کے بجائے وہ سیدھا شادی آفس میں پہنچ گیا ۔

”آئیں جناب !….بیٹھیں ۔“استقبالیہ پر وہی پرانا آدمی براجمان تھا ۔

”ظہیر صاحب موجود ہیں ؟“دانیال نے پوچھا ۔

”جی ہاں بیٹھے ہیں ۔آپ تشریف لے جائیں ۔“

دانیال ۔”شکریہ کہتے ہوئے آفس کی طرف بڑھ گیا ۔

”آئیں دانیال صاحب!…. آئیں،بڑی لمبی عمر ہے ۔ابھی میں آپ کو ہی یاد کر رہا تھا۔“ظہیر اسے دیکھتے ہی خوش خلقی سے بولا۔

دانیال اس مصافحہ کر کے بے صبری سے مستفسر ہوا ۔”تو کیا رہا ظہیر صاحب؟“

”آپ بیٹھیں تو سہی بتاتا ہوں ۔“اس کا انداز حوصلہ افزا تھا۔

دانیال جلدی سے بیٹھ گیا ۔ظہیر نے کھنکار کر گلا صاف کیا ۔پھر رومال نکال کر ماتھے سے فرضی پسینہ پونچھتے ہوئے بولا۔

”دانیال صاحب !….میں پچھلے ماہ سے ،بہت سے کام ،اور لوگوں کے رشتے التوا میں ڈال کر، تمھیں اور حورین کو ایک بندھن میں باندھنے کی کوشش میں جتا رہا ۔ یقین مانو مجھے تم دونوں کی جوڑی بالکل ایسی لگتی تھی جیسے چاند اور سورج کی جوڑی۔مگر اسے ہم بد قسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ جب سب کام مکمل ہو گیا تو کہیں سے حورین کا ایک رشتا دار آن ٹپکا ۔ اس کے چچا کا بیٹا ہے اور لندن میں سیٹل ہے ۔ اس کی حورین سے بچپن میں منگنی ہوئی تھی ، اور اب وہ اس منگنی کے رشتے کو شادی میں بدلنے آ پہنچا ۔حورین کا باپ مجھ سے بہت شرمندہ تھا ۔خود حورین بھی اس ڈاکٹر کے ساتھ شادی پر راضی نہیں تھی ۔ لیکن برادری کے بزرگوں نے باپ بیٹی کی ایک نہ چلنے دی ۔ بس یار!…. ایک اسے قسمت کا الجھاوا ہی کہہ سکتے ہیں ۔“

”تت….تو اب کیا ہو گا ؟“دانیال کو شدید غم محسوس ہوا تھا۔خاص کر یہ جان کر تو اس کے غم کی شدت میںاور اضافہ ہو گیا تھا ،کہ اتنی خوب صورت لڑکی اس کی وجہ سے ایک ڈاکٹر کے رشتے کو ٹھکرانے پر تل گئی تھی ۔برا ہو اس منحوس برادری کا جس کی وجہ سے اسے یہ غم سہنا پڑا تھا۔

”بہ ہر حال فکر نہ کرو ….تم کوئی اور رشتا پسند کر لو ۔“ظہیر نے ضخیم رجسٹر اس کے جانب بڑھایا۔جو دانیال نے بجھے دل سے تھام لیا ۔اور ایک مرتبہ پھر ان حسیناو¿ں کے جلوے سے آنکھیں سینکنے لگا۔ جانے اس میں سے کون سی اس کے نصیب میں تھی ۔ حورین کی تصویر ابھی تک البم میں سجی ہوئی تھی ۔

اس نے حورین کی تصو یر کو حسرت سے دیکھتے ہوئے ظہیر سے پوچھا ۔”یہ تصویر اب تک اس میں موجود ہے ؟“

”ہاں ….ہم ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں ۔بس اب یہ تصویر اس البم سے نکال کر دوسرے میں لگانی ہے ۔ یوں بھی اس کا رشتا تو ہم نے کروا دیا ہے ۔ یہ علاحدہ بات ہے کہ اپنی کسی مجبوری کی بنا پر انھیں یہ رشتا مسترد کرنا پڑا ۔“

کافی غور و خوص کے بعد دانیال نے ایک او ر لڑکی کی تصویر کو پسند کیا ۔ساری ایک سے بڑھ کر ایک تھیں ۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنی خوب صورت لڑکیاں یوں رشتے کے انتظار میں سوکھ رہی تھیںاور پتا نہیں اس کی امی کہاں گھوم رہی تھی ۔لڑکی کا صرف چہرہ نظر آرہا تھا باقی بدن کالے لبادے سے ڈھکا ہوا تھا۔

”واہ ….واہ ….جواب نہیں دانیال صاحب آپ کا ۔“ظہیر نے اس کی پسند کی داد دی ۔ ”یقین مانو اگر میں شادی شدہ نہ ہوتا تواسی لڑکی کوشریک حیات بنانا پسند کرتا ۔حیا نام ہے اس کا ۔بڑی شرمیلی اور حیا والی ہے ۔ ابھی ایف اے سی کا امتحان دیا ہے ۔ باپ اس کی تعلیم کا مزید خرچا برداشت نہیں کر سکتا اس لےے شادی کی فکر میں پڑ گیا ۔“

” رشتاکب تک طے ہو سکے گا ؟“دانیال کو اس لڑکی کی مجبوریوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔

”زیادہ سے زیادہ دس سے پندرہ دن ….آپ بس فیس جمع کرا دیں ۔“

”فیس ….؟“دانیال حیرت سے بولا۔”سر میں نے دس ہزار جمع کرائے ہوئے ہیں ۔“

”سر جی !….وہ تو حورین کے رشتے کے لےے تھے ۔اور اس سلسلے میں ہمیں کئی کئی چکر لڑکی کے گھر کے لگانے پڑتے ہیں ۔ اور بھی کئی ضروری کارروائیاں کرنی ہوتی ہیں ۔ہمارے لےے کیا بچتا ہے ؟“

”مگر رشتا تو نہیں ہوا ناں ؟“دانیال کو دس ہزار ضائع ہونے کا قلق ہو رہا تھا ۔

ظہیر مکاری سے بولا۔”چلو اس طرح کریں کہ آپ پانچ ہزار جمع کرا دیں ،آدھی فیس میں معاف کر دیتا ہوں۔“

”دیکھیں جی میں مزدور پیشہ آدمی ہوں اور ……..“یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ استقبالیہ کمرے سے شور شرابے کی آوازیں آنے لگیں ۔ظہیر بے اختیار اسقبالیہ کمرے کی طرف بڑھا ۔ دانیال بھی اس کے پیچھے ہو لیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: