Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 6

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 6

–**–**–

دانیال کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس طرح بیٹھے بٹھائے اسے رشتے کی پیش کش ہو جائے گی ۔ چاہے وہ طلاق یافتہ ہی کیوں نہ ہو تی اسے قبول تھی ، سب سے بڑھ کر تعلیم یافتہ اور خوب صورت کے الفاظ اس کے لےے پر کشش تھے۔

اس ضمن میں اسے اگلے دن حماد کی کال بھی رسیو ہوئی ۔

”دانیال میاں !….تمھیں اڑھائی تین مہینے انتظار کرنا پڑے گا ۔لڑکی کو نئی نئی طلاق ہوئی ہے اور عدت گزارنا لازمی ہے ۔“

”جی ….جی ٹھیک ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔

”اچھا اتوار کے دن تو چھٹی کرتے ہو نا ؟“

”کبھی کبھی کر لیتا ہوں جناب ۔یوںبھی ،جتنی مزدوری کرو اتنی آمدن ہوتی ہے ،اس لےے زیادہ تر چھٹی سے گریز ہی کرتا ہوں ؟….بہ ہر حال آپ حکم کریں ۔ کوئی کام ہے، تو میں چھٹی کر لوں گا ؟“

”کام تو کوئی نہیں ،مگر تم چھٹی کر لینا ۔اور ساحل سمند رپر موجودمون لائیٹ ریسٹورینٹ میں ایک بجے پہنچ جانا۔“

دانیال نے کہا۔”ٹھیک ہے جناب ۔“

اور حماد نے ”خدا حافظ ۔“کہتے ہوئے رابطہ منقطع کر دیا ۔

جانے کیوں دانیال کا دل چاہ رہا تھا کہ حماد پر اعتماد کرے ۔اتنے دھوکے کھانے کے باوجود وہ شادی کی خواہش ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکا تھا ۔ عورت کے بغیر مرد کی زندگی کتنی پھیکی اور بے مزہ ہوتی ہے، اس بابت جتنا تجربہ اسے تھا ،اتنا شاید ہی کسی کو ہوتا ۔علامہ اقبال نے فرمایا ۔

ع وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اور اس مصرع کی حقیقت دانیال پر آشکاراہو چکی تھی۔اس کی راتیں اس صنف کی یاد میں کروٹیں بدلتے کٹتیں ،تو دن کی گہما گہمی اس صنف کے حصول کی تجویزیں سوچتے ۔اب حماد کی صورت اسے امید کی کرن نظر آئی تھی تو وہ اسے گوانا نہیں چاہتا تھا۔اسے شک تھا کہ وہ مطلقہ عیب زدہ ہونی ہے ۔ مگر اس کے لےے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔وہ بیوی تمنا کر کر کے ترس گیا تھا ۔ اب یہ چانس گنوانا کسی طور مناسب نہیں تھا۔اتوار کے دن وہ ٹھیک پونے ایک بجے مطلوبہ ریسوراں میں پہنچ گیا تھا ۔

٭……..٭

کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں چاے پی رہے تھے جب دانیال اسے داخلی دروازے سے اندر آتا دکھائی دیا ۔

”لو جی !….مسکان کا شوہر نامدار تو وقت کا پابند نکلا۔ایک بجے کا کہا تھا پونے ایک بجے پہنچ گیا۔“

حماد کی بات پر فریحہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔

”ہائے اللہ جی !….یہ تو واقعی حبشی دکھائی دے رہا ہے ۔ ایک سیٹھ زادی کے ساتھ اتنا بڑاظلم؟“

”تو کیا ….حماد کے ساتھ بھی تو اس نے موجیں اڑائی ہیں۔“حماد کے لہجے میں اپنی خوب صورتی کا غرور کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔

”ویسے ڈیل ڈول تو اچھا ہے ۔“

”ہونہہ!…. ڈیل ڈول۔“حماد نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”ڈیل ڈول کومحترما چاٹے گی۔“

فریحہ اس کی بات پر تبصرہ کےے بغیر دلچسپ نظروں سے حماد کو گھورتی رہی جو پورے ہال میں طائرانہ نگاہیں دوڑا رہا تھا ۔وہ یقینا حماد کو ڈھونڈ رہا تھا ۔اس کی مشکل حماد کے لہرائے ہوئے ہاتھ نے آسان کر دی ۔

”اسلام علیکم !“ اس نے قریب پہنچ کر سلام کہا ۔

”وعلیکم اسلام ۔“کہہ کر حماد نے اس سے مصافحہ کیا ۔اسی وقت دانیال کی نظر فریحہ کے ملیح چہرے پر پڑی ۔اور اس کا چہرہ گلاب کی مانند کھل گیا ۔مگر جب اس نے زبان کھولی تو الفاظ نے اس کا ساتھ نہ دیا ۔

”ص….صص….صاب یہ تو بہت خوب صورت ہے ؟….یہ مجھے قبول کر لے گی ؟“

اس کی بات پر حمادقہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔فریحہ کے چہرے پر بھی خفیف سی ہنسی نمودار ہوئی ۔ دانیال کے لہجے میں چھپی معصومیت اسے بہت عجیب لگی تھی ۔

”بے وقوف !….یہ میری منگیتر ہے۔“حماد سرزنش کے انداز میں بولا۔

دانیال گڑ بڑاتے ہوئے بولا۔”سس….سوری سر !….سوری میڈم !….میں کچھ اور سمجھا تھا۔“

فریحہ نے شوخ انداز میں پوچھا ۔”تم کیا سمجھے تھے جناب ۔“

”وہ میں ….میرا مطلب ہے ،میں نے سمجھا شاید حماد صاحب نے مجھے لڑکی دکھانے کے لےے بلایا ہے ۔اور ….اور وہ لڑکی آپ ……..مم میں معافی چاہتا ہوں میڈم ۔“

”اچھا کوئی بات نہیں ۔“فریحہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”ویسے تمھاری دلہن مسکان بھی مجھ سے کم خوب صورت نہیں ہے ۔“

اس مرتبہ جواب دینے کے بجائے دانیال نے شرما کر سر جھکا دیا تھا ۔اس کے انداز پر وہ دونوں مسکرا پڑے ۔

” میں اس کی تصویر ساتھ لایا ہوں ۔“حماد نے اپنا قیمتی موبائل فون نکال کر مسکان کی تصویر کھولی اور موبائل فون دانیال کی طرف بڑھایا۔

دانیال نے جھجکتے ہوئے موبائل لے کر تصویر دیکھی ۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بے ربط ہونے لگیں ، مسکان اسے فریحہ سے بہت پیاری اور پر کشش لگی تھی ۔

فریحہ نے جوبڑے غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، دلچسپی سے پوچھا ۔

”کیسی ہے ؟“

وہ خواب ناک لہجے میں بولا۔”بب….بہت اچھی ….بہت پیاری ….میں نے اس سے پہلے اتنی معصوم ،خوب صورت اور موہنی صورت نہیں دیکھی ۔“

”مجھ سے بھی خوب صورت ہے ؟“فریحہ کا انداز مزاح کا رنگ لےے ہوئے تھا مگر اس کے پیچھے عورت کی وہی ازلی حماقت چھپی تھی کہ مجھ سے خوب صورت اس دنیا میں کوئی نہیں ۔

”ہاں میڈم ۔“دانیال کا جواب غیر متوقع تھا ۔

فریحہ کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پھیل گئے تھے ۔

حماد نے اس سے موبائل واپس لیتے ہوئے کہا۔

”بے وقوف !….کسی لڑکی کے منہ پر دوسری لڑکی کو اس سے خوب صورت نہیں بتلاتے ۔

”مم….مگر میں نے تو حقیقت بتائی ہے جناب ۔“دانیال نے ایک اور پھل جڑی چھوڑی ۔

حماد کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی، مگر فریحہ مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔اسے زندگی میں پہلی بار اس قسم کی صورت حال سے واسطہ پڑا تھا ۔اپنی نظر میں وہ دنیا کی سب سے خوب صورت اور پر کشش لڑکی تھی ۔ اور اس بات کی تصدیق ہمیشہ اس کی ساری جاننے والی لڑکیاں بھی کرتی تھیں ۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ دانیال مسکان کو اپنی ہونے والی بیوی کی نظر سے دیکھ رہا تھا ۔اگر مسکان سے، کوئی کم صورت لڑکی ہوتی ،تب بھی اسے فریحہ سے خوب صورت نظر آتی ۔

”Any problem with you ?”حماد نے فریحہ کے چہرے پہ چھائی سنجیدگی دیکھتے ہوئے انگلش میں پوچھا۔

”Its ok jan “فریحہ نے جلدی سے جواب دیا ۔

”ایک بے وقوف بندے کی بات کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں سمجھیں ۔اندھا کیا جانے بسنت بہار ؟“

”بتایا تو ہے ایسی کوئی بات نہیں ….بس اسے چلتا کرو مجھے کوفت ہو رہی ہے۔اتنا بدشکل بھی کسی کو نہیں ہونا چاہےے ۔ یقین مانوتم نے مسکان سے اتنا بڑا انتقام لیا ہے کہ دل خوش ہو گیا ۔“فریحہ کے دل میں چھپی خفگی بد نما الفاظ کی شکل دھارکر باہرآئی۔

”ٹھیک ہے !….لیکن کم از کم چاے تو پلا دیں ؟ایسے چلتا کرنا بد تہذیبی ہو گی ۔“

”اسے کیا پتا تہذیب کیا ہوتی ہے ؟“فریحہ کا غصہ ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔

”کول ڈاو¿ن ،جان !….بس چاے پلا کر اسے رخصت کرتا ہوں ۔“

فریحہ نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔

دانیال ان کی انگریزی میں ہونے والی گفتگو کے دوران لاتعلقی سے دائیں بائیں دیکھتا رہا ۔ اسے کوئی علم نہیں تھا کہ ساری گفتگو اسی کے متعلق ہو رہی ہے ۔ پہلی بار فریحہ کو دیکھنے کے بعد اس نے ایک مرتبہ بھی اس کے چہرے کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔ یہ بات فریحہ کو اور زیادہ تاو¿ دلارہی تھی ۔وہ ہمیشہ سے شمع محفل رہی تھی اور شکل و صورت کے لحاظ سے ایک گئے گزرے جوان کا اسے یوںنظر انداز کرنا،اس کی برداشت سے باہر تھا ۔اس کی خواہش تھی کہ وہ جتنی دیر بیٹھا رہے اس کی نظریں اس کے چہرے کا طواف کرتی رہیں ۔اور جب وہ چلا جائے تو اس کے ہجر میں آہیں بھرتا رہے ۔مگر وہ گنوار جانے کن خیالوں میں مگن تھا۔

حماد نے بیرے کا بلا کر چاے اور کچھ کھانے کے لےے لانے کا بتایا۔

فریحہ سے دانیال کی لاتعلقی برداشت نہ ہوئی اور وہ اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی غرض سے بولی ۔

”ویسے محترم !….آپ کب مسکان صاحبہ کو شربت دیدار سے نوازیں گے ؟“اس کے لہجے میں طنز کی کاٹ واضح تھی ۔

”مم ….میں ،کیا کہہ سکتا ہوں میڈم! ….ویسے جب آپ کہیں میں اس سے مل لوں گا۔“یہ باتیں کرتے ہوئے بھی اس نے فریحہ کی طرف دیکھنے سے گریز کیا تھا ۔ یہ بات فریحہ کو مزید سلگا گئی۔

”اچھا دانیال میاں !….یہ بات یاد رکھنا اپنی شادی کی خبر کا تم نے ڈھنڈورا نہیں پیٹنا ۔ تمھارے ہونے والی دلہن بہت حیا والی ہے ۔اور دوسری شادی کی خبر کو حتیٰ الوسع راز میں رکھنے کی خواہش مند ہے ۔ اسی وجہ سے شادی کے بعد تمھیں اس کے مکان میں شفٹ ہونا پڑے گا ۔اوریہ خبر تمھاری ماں کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں آنی چاہےے۔“

دانیال جلدی سے بولا۔”ٹھیک ہے جناب !….مجھے آپ کی سب شرائط قبول ہیں ۔“

”اور اگر بعد میں وہ پسند نہ آئی ،پھر ؟“فریحہ خواہ مخواہ اسے چھیڑنے پر تلی ہوئی تھی۔

دانیال لجاجت سے بولا۔”میڈم !….میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا ۔“

فریحہ نخوت سے بولی۔”تمھاری شادی مجھ سے نہیں ،مسکان سے ہو رہی ہے مسٹر !…. مجھے تو یقینا پھانسی کے بدلے بھی تم سے نکاح کی آفر ہوتو میں بہ خوشی پھانسی پر لٹکنا قبول کر لوں گی۔“

”میڈم !….کالا آدمی اتنا برا لگتا ہے آپ کو تو پھر مجھے شادی کی آفر کیوں کی ؟“ یقینادانیال کو اس کی بات سے بہت اذیت ہوئی تھی ۔

”جو میں نے پوچھا ہے اس کا جواب دو ؟“فریحہ نے اس کی بات کو درخور اعتناءنہیں سمجھا تھا۔

”اسے تو میں شہزادیوں کی طرح رکھوں گا ۔“

”سٹیل مل میں مزدوری کر کے ….ہے نا ؟“فریحہ اسے شرمندہ کرنے پر تلی تھی ۔

”میڈم !….دولت کے بل پر ہی سکون و آرام نہیں ملتا۔شوہر جب بیوی کے ناز اٹھاتا رہے ، اس کا وفادار رہے ، اسے سر آنکھوں پر بٹھائے ،اس کی ہر خواہش کو حکم سمجھے ۔اس کے علاوہ کیا چاہےے ایک لڑکی کو ؟“

”کم از کم از اتنی شکل و صورت تو ہو شوہر کی کہ وہ اسے آنکھ بھر کے دیکھ ہی سکے۔“ فریحہ نے واشگاف الفاظ میں اس کا مذاق اڑایا۔

فریحہ کی بات دانیال کو تھپڑ کی طرح لگی تھی ،مگروہ خاموش نہ ہوا ۔

”صورت تو اللہ نے دی ہے میڈم ۔ اور اسے بہتر بنانا میرے بس سے باہر ہے ۔ البتہ میرے روےے سے اسے کوئی گلا ہو تو جو چاہے سزا دینا ۔“

”فری کیا ہو گیا ہے تمھیں ؟“حمادنے اسے جھڑکا ۔دانیال اس کی ضرورت تھا اور وہ اسے ہاتھ سے کھونا نہیں چاہتا تھا ۔

”کچھ نہیں،میں تو یونھی مذاق کر رہی تھی….ہے نا، دانیال صاحب۔“فریحہ کو بھی اپنی زیادتی کا احساس ہوا ۔مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی وجہ سے ایک سادہ دل بندے پر کیا قیامت گزر چکی ہے ۔جو شخص خود اپنی شکل و صورت کی بے رونقی سے واقف ہو اسے بار بار یہ چرکے لگاناظلم ہی تو تھا ۔

”میڈم!…. جانتا ہوں کہ میں بدصورت ہوں ۔“وہ صاف گوئی سے بولا۔”اور اس لحاظ سے الحمداللہ میں دعوا کر سکتا ہوں ،میرا اندر باہر سے اچھا ہے ۔“

”گویا تم ہمیں طعنہ دینا چاہتے ہو ،کہ ہم اندر کے صاف نہیں ۔“فریحہ دوبارہ تپ گئی ۔

”نہیں میڈم !….آپ میرے لےے بہت قابل احترام ہیں ۔آپ کی بدولت مجھے اتنا اعلا رشتا مل رہا ہے ،میں، آپ کے بارے اتنا گھٹیا کیسے سوچ سکتا ہوں۔“دانیال کے لہجے میں چھلکتا خلوص، فریحہ کو پریشان کر گیا تھا ۔

اسی وقت بیرے نے چاے اور کھانے کے لوازمات اس کے سامنے لا کر رکھ دےے۔

”چھوڑیں دانیال میاں !….چاے پئیں۔“حماد نے موضوع بدلا۔فریحہ کا رویہ اس کے لےے حیران کن تھا ۔ ایک کالے کلوٹے شخص کو اپنے حسن سے متاثر کرکے جانے وہ کیا ثابت کرنا چاہتی تھی۔

دانیال نے اکیلا کپ دیکھ کر پوچھا۔”آپ نے نہیں پینی ؟“

”ہم پی چکے ہیں ۔“حماد سے پہلے فریحہ نے جواب دیا ۔

دانیال سر جھکاتے ہوئے کھانے کے لوازمات کی طرف متوجہ ہوگیا ۔

حمادانگریزی میں فریحہ سے مخاطب ہوا ۔

”فری !….میں نے تمھیں کہا ہے ،کہ ایک بے ذوق بندے سے توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔گدھے کے نزدیک گلاب کے پھول کی کیا اہمیت؟مینڈک کوسُر سنگیت کی کیا پہچان ؟بھنگی کا خوشبو سے کیا واسطہ ؟تم صبح سے بھینس کے آگے بین بجانے کی تگ و دو میں ہو ۔کچھ ہوش کے ناخن لو ….“

”اوکے اوکے ….“فریحہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولی ۔”براہِ مہربانی اب اس موضوع کو بدلی کرو۔“

”اچھا!…. یہ بتاو¿میرا انتخاب کیسا ہے ؟“

”ہوں ……..بس ٹھیک ہی ہے ۔“

”کیامطلب پہلے تو تم کہہ رہی تھیں لاجواب انتخاب ہے ۔اور اب بس ٹھیک ہی ہے۔“

”جناب !….میرا خیال ہے ،مجھے چلنا چاہےے؟“چاے کا کپ خالی کرتے ہوئے دانیال نے اجازت طلب کی ۔

”ہاں دانیال میاں !….بس دو اڑھائی مہینے کی بات ہے پھر میں خود تم سے رابطہ کر لوں گا۔“ حماد نے مصافحے کے لےے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔

اس سے مصافحہ کر کے دانیال نے فریحہ کو کہا۔

”میڈم!…. اگرمیرے منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نکل گئی ہو تو معاف کرنا۔ان پڑھ ، گنوار ہوں ، گفتگو کے آداب سے واقف نہیں ۔“

مگر فریحہ نے اسے جواب دینے کے بجائے حمادکو مخاطب ہوئی ۔

جان!….ہمیں بھی چلنا چاہےے؟“

”ٹھیک ہے دانیال تم جاو¿۔“حماد کے کہنے پر وہ ”سلام “کہتا ہوا رخصت ہو گیا ۔

”فری !….پھر وہی بے وقوفی۔“

”شٹ اپ یا ر!….“ فریحہ ناگواری سے بولی ۔”مجھے ایک تھرڈ کلاس بندے کے منہ نہیں لگنا۔“

”اچھا دفع کرو ….ویسے بھی اسے یہاں بلانا میری غلطی تھی ۔آو¿چلتے ہیں ۔“اور فریحہ خاموشی سے کھڑی ہو گئی ۔ وہ دانیال کے کھردرے رویے کو فراموش نہیں کر پا رہی تھی۔اتنا بے ذوق اور گنوار بندہ اس سے پہلے اس کی نگاہوں سے نہیں گزرا تھا اس کے باوجود وہ اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا ۔

٭……..٭

مسکان کے لےے عدت کے دن گزارنا بہت مشکل مرحلہ ثابت ہوا تھا ۔حماد اس کا محبوب تھا۔ گھر میں ہونے کے باوجود، اس سے بہت دور کہ ،ملاقات تو درکنار بات چیت بھی نہیں ہو پاتی تھی ۔گو اس میں سارا عمل دخل خوداس کی مذہبی سوچ کا تھا۔وہ حماد کے قریب جانے سے ڈرتی تھی ،کہ وہ دونوں کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ۔ جو شخص چند دن پہلے تک اس کا شوہر رہ چکا تھا اس کے پاس تنہائی میں جاناغلط کام کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔

عدت کے بعد آنے والے لمحات مزید امتحان لینے والے تھے ۔کسی دوسرے مرد کی بیوی بن کر رہنا ، جس سے وہ واقف ہی نہیں تھی ،ایک امتحان ہی تو تھا۔جانے اس کا مزاج ، عادات اور،رویہ کیسا ہوگا۔ عورت جتنی بھی امیر کبیر ہو، شوہر کے رحم و کر م ہی پر ہوتی ہے ۔ ازدواجی زندگی کے تقریباََہر مرحلے میں شوہر کی حکمرانی ہوتی ہے ۔آج کی جدید عورت ، مرد کی ہم سری کا جتنا بھی دعوا کرے ،اہل خرد جانتے ہیں کہ ،اس دعوے کی حقیقت نری خوش گمانی ہی ہے ۔

ع دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھاہے

پھر اس نکاح کا اس کے بھائیوں کو پتا چل جاتاتو ایک علاحدہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔وہ لازماََ اِس فعل کی مذمت کرتے ۔یہ بھی ممکن تھا کہ ہمیشہ کے لےے قطع تعلق کر لیتے ۔حماد کی بات مان کر اس نے بہت بڑی بے وقوفی کا ثبوت دیا تھا ۔مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اب وہ انکار کر دیتی تب بھی حماد کی دوبارہ بیوی بننے کے لےے اسے دوسرا نکاح لازماََ کرنا پڑتا۔پھر حماد کی ناراضی ایک علاحدہ مسئلہ تھا ۔

ان پراگندہ سوچوں میںقابلِ اطمینان بات صرف اتنی تھی ،کہ یہ ساری قربانی وہ اپنے محبوب شوہرکے لےے دے رہی تھی ۔وہ سرتاپا ایک مشرقی عورت تھی ۔ شادی کے بعد اسے حماد کے روےے میں پہلے والی گرم جوشی اور محبت مفقود نظر آئی تھی ،مگر اب وہ اس کا شوہر اور سر کا تاج تھا ۔ یوں بھی اس کے نزدیک شاید محبت ہوتی ہی یہی ہے ۔ اس کا خیال تھا، جب مرد ،عورت کو حاصل کر لیتا ہے، پھر اس میں پہلے والے جذبے عنقا ہو جاتے ہیں ۔محبت کی حقیقت اور چاہے جانے کے جذبات سے عاری نہ سہی ناواقف ضرور تھی ۔

حماد نے ایک دو دفعہ شادی کے موضوع پر تبادلہ¿ خیال کرنے کی کوشش کی مگر اس کی بے اعتنائی دیکھ کر خاموش ہو رہا تھا ۔ البتہ اس نے مسکان سے ایک چھوٹا سا مکان خریدنے کے لےے رقم ضرور مانگی تھی جہاں مسکان نے اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ وقت گزارنا تھا ۔اور اس نے اتنی رقم کا چیک بغیر کسی بحث کے اس کے حوالے کر دیا تھا ۔

اس نے ایک سرسری نظر اپنے دوسرے شوہر کی تصویر پر ڈالی تھی ۔اس کے اندازے کے مطابق وہ بدصورت شخص تھا ۔ اس بات نے اس کے دل میں یہ اطمینان ضرور پیدا کر دیا تھا کہ حماد اسے کھونا نہیں چاہتا۔ اور سچ مچ اسے ایک بچے کی خواہش ہے ۔

وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ آخر وہ دن بھی آ گیا جب اس کی عدت پوری ہوگئی ۔نہ چاہتے ہوئے بھی اسے یہ بات حماد کو بتانی پڑی جو اس دن کے انتظار میں گھڑیاں گن رہا تھا ۔

٭……..٭

شادی کی خوش خبری اسے حماد نے فون پر سنائی تھی ۔دانیال کو لگا جیسے وہ ہواو¿ں میں اڑ رہا ہو ۔ حماد کہہ رہا تھا ۔

”دانیال میاں !….نکاح نہایت سادگی سے پڑھایاجائے گا ۔اور یہ رسم تمھاری ہونے والی بیوی کے گھر میں ادا ہو گی ۔ رخصتی وغیرہ کی رسوم کی ضرورت اس لےے بھی پیش نہیں آئے گی کہ دلہن نے اسی گھر ہی میں رہنا ہے ۔“

”ٹھیک ہے بھائی جان !….جیسے آپ کی مرضی ۔“دانیال کی سمجھ میںنہیں آرہا تھا کہ کس زبان سے اس فرشتے کا شکریہ ادا کرے ۔

”اور ہاں کپڑوں وغیرہ کی فکر میں نہ پڑ جانا۔بلکہ یوں کرو ….اس وقت تم کہاں ہو ؟“

”سٹیل مل میں ؟“

”ایسا کرو باہر آو¿ ….میں تمھیں وہاں سے پک کر لیتا ہوں پھر ساری تفصیلات طے کر لیں گے؟“

دانیال مستعدی سے بولا۔”ٹھیک ہے بھیا !“

حماد نے رابطہ منقطع کر دیا ۔دانیال نے جلدی سے نہا کر وہیں لباس بدلی کیا اور باہر نکل آیا ۔ اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا جلد ہی حماد اسے لینے پہنچ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ ریستوران میں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔

چاے کا بتا کر حماد اس کی طرف متوجہ ہوا ۔

”آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں میاں ۔خوش تو ہو نا ؟…. کوئی اور تو نہیں ڈھونڈ لی ؟“

”کیا بات کرتے ہو حماد بھیا !“وہ شرماگیا تھا ۔”میں ایک ایک منٹ گن کر گزار رہا ہوں ۔ آج دو مہینے پچیس دن ہو گئے ہیں ۔“

”ہا….ہا….ہا۔“حماد نے قہقہہ لگایا۔”بھئی مان گئے ۔“

اس کو ہنستے دیکھ کر دانیال نے نادم ہو کر سر جھکا لیا تھا۔

”اچھا یہ بتاو¿!….کیا یہ ممکن ہے کہ تم اپنی امی جان کو وہیں پرانے گھر میں رہنے دو ؟“

دانیال کے چہرے پر کرب کے آثار نمودار ہوئے ۔اسے لگادلہن اس سے پھر چھین لی جائے گی۔چند لمحے گہری سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔

”حماد بھائی !….یہ ناممکن ہے ۔ماں کے علاوہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ۔میں اسے اکیلانھیں چھوڑ سکتا ۔یقین کرو اس کی ذات سے میری بیوی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی ۔“

”اوکے…. اوکے ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔تم ماں کو بھی ساتھ لے آنا مگر اسے اچھی طرح سمجھا دینا کہ اس شادی کے بارے جاننے والوں میں ڈھنڈورا نہ پیٹتی رہے ۔یہ نہ ہوشادی کے اگلے دن تمھارے عزیزوں کا تانتا بندھ جائے ۔یاد رکھنا ایسی کسی بھی صورت میں مسکان ان سب کو ملنے سے انکار کر دے گی ۔اس میں سرا سر تمھاری اپنی سبکی ہو گی ۔ وہ شادی کو ظاہر کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ البتہ شادی کے چار پانچ ماہ بعد ، آہستہ سب کو بتا دینا اسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔اس سے پہلے ایسا سوچنا بھی مت ۔“

”حماد بھائی !….جیسا آپ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا ۔“دانیال کے بدن میں گویا دوبارہ جان پڑ گئی تھی ۔

خالی کپ کے نیچے ایک درمیانی مالیت کا نوٹ رکھ کر حماد کھڑا ہوگیا ۔

”چلو !….تھوڑی شاپنگ کر لیتے ہیں ۔“

”شاپنگ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔مگر حماد اس کی بات کا جواب دےے بغیر چل پڑا تھا ۔ وہ بھی اس کی بات نہ سمجھنے کے باوجود سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا ۔

حماد نے کار ایک مشہورشاپنگ پلازا کی پارکنگ میں روکی،اور دانیال کو ہمراہ لےے اندر کی جانب بڑھ گیا ۔تھوڑی دیر بعد اس نے دانیال کے لےے تین تھری پیس سوٹ ،جوتوں کے دو جوڑے ،قیمتی خوشبواور اسی طرح کی مزید ضرورت کی اشیا خریدیں ۔اس کے بعد جیولری شاپ پر جا کر مسکان کو منہ دکھائی میں دینے کے لےے ایک قیمتی لاکٹ خریدا ۔دانیال کسی ملازم کی طرح وہ سامان اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔ضرورت کی تمام اشیا خریدنے کے بعد وہ پارکنگ میں آئے ۔تمام سامان کار کی پچھلی نشستوں پر رکھ کر وہ آگے بیٹھ گئے ۔کار روڈ پر لا کر وہ دانیال کو مخاطب ہوا ۔

”دانیال میاں !….یہ لاکٹ ،تم نے دلہن کو منہ دکھائی میں دینا ہوگا ۔باقی سوٹ وغیرہ تمھارے لےے ہیں ۔یہ تمام سامان ابھی تمھارے نئے گھر لے کر جا رہے ہیں جہاں ، تم نے کل صبح گیارہ بجے تک پہنچ جانا ہے ۔تمھارے تیار ہونے تک میں نکاح خواں کو بلوا لوں گا ۔ مولوی صاحب ،دو گواہ ، میں ، تمھاری امی جان اور بس اس سے زیادہ رش کی ضرورت نہیں۔“

دانیال نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔اس کے لےے یہ سب سپنے کی باتیں تھیں ۔دلہن کے ساتھ نیا گھر بھی مل رہا تھا اور پھر سب خرچا بھی دلہن والے کر رہے تھے ۔یہاں تک کہ اس کا لباس بھی انھوں نے خریدا تھا ۔

مطلوبہ مکان کے سامنے جا کر حماد نے کار روکی ۔پختہ اینٹوں سے بنا چھوٹا سا مکان دانیال کو بہت پسند آیا ۔چار کمرے ،کچن ،باتھ روم اور پھر اس کے اپنے کمرے میں ایک ملحقہ باتھ روم ۔کمروں کے آگے بنا محرابی بر آمدہ ،چھوٹا سا صحن ، سامنے کی دیوار کے ساتھ بنی دو کیاریاں جن میں مختلف قسم کے پھول بھی لگے ہوئے تھے ۔ برآمدے میں بھی پھولوں کے چند گملے رکھے تھے یہاں تک کہ کار کھڑی کرنے کے لےے ایک گیراج بھی بنا ہوا تھا ۔ایسا گھر تو اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا ۔

کار سے سارا سامان نکلوا کر حماد نے وہیں رکھوا دیا ۔

”یاد رہے کل گیارہ بجے تمھیں ادھر ہونا ہے ؟“حماد نے اسے یاد دہانی کرائی ۔

دانیال جلدی سے بولا۔”حماد بھائی!….میں صبح سویرے ہی پہنچ جاو¿ں گا ۔“

”وہ تمھاری مرضی ہے کہ کتنا سویرے آتے ہو ۔اور پرانے گھر سے کوشش کرنا کوئی سامان ساتھ نہ لانا ، زیادہ سے زیادہ نقدی زیور اور ضرورت کے کپڑے بس ۔اس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔تمھارے کھانے پکانے کے برتن تک یہاں موجود ہیں ۔“

”ٹھیک ہے بھیا!“دانیال فرمان برداری سے بولا۔

”آو¿،اب چلیں ۔“گھر کی چابیاں حماد نے اس کے حوالے کر دی تھیں ۔اسے گھر ڈراپ کر کے وہ واپس چل پڑا ۔

٭……..٭

گھر میں داخل ہوتے ہی دانیال نے چارپائی پر بیٹھی ماں کو گود میں لے کر ناچنا شروع کر دیا ۔

”اے لڑکے !….باو¿لا تو نہیں ہو گیا؟“عائشہ خاتون نے گھبرا کر پوچھا ۔

”ہاں امی جان !….آج میں سچ مچ پاگل ہو گیا ہوں ۔اور جب یہ خبر سنیں گی تو آپ بھی پاگل ہو جائیں گی۔“

”پاگل ہوں میرے دشمن ،اور اب نیچے اتارو مجھے چکر آرہے ہیں ۔“

دانیال نے ماں کو دوبارہ چارپائی پر بٹھایا اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔عائشہ خاتون نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئے پوچھا۔

”اب بتاو¿میرے لال!….اتنے خوش کیوں ہو ؟اللہ پاک تمھیں ہمیشہ اسی طرح خوش رکھے۔“

”آمین !….امی جان پتا ہے ،کل تمھارا بیٹا دولھابننے والا ہے ؟“

”مم….مگر کیسے ؟“وہ حیران ہی تو رہ گئی تھی ۔

”بس امی جان کچھ نہ پوچھو ،جب اللہ پاک دیتا ہے نا؟….تو چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے ۔“

”دانی !….جلدی بتاو¿ نا ؟میرا سانس رک جائے گا ؟“اس کی ماں اس سے بھی زیادہ اس کی شادی کی متمنی تھی۔

جواباََ دانیال نے ساری تفصیل اس کے سامنے دہرا دی ۔

”عجیب کہانی سنا رہے ہو بیٹے!….آخر تم ہی کیوں ؟ایسے رشتے کے لےے تو اچھے خاصے امیر لوگ تیار ہو جاتے؟“ عائشہ خاتون نے اندیشہ ظاہر کیا۔ ”آخر تم ہی کیوں ۔کہیں لڑکی میں کوئی عیب تو نہیں ہے ؟“

”بس یہی عیب ہے کہ مطلقہ ہے ۔“

”بیٹا !….یہ تو کوئی عیب نہ ہوا؟“

”امی جان !….آج کل اسے عیب ہی سمجھا جاتا ہے ۔اور اگر اس کے علاوہ بھی عیب ہے تو کوئی بات نہیں امی جان، میں نبھاہ کر لوں گا ۔کم از کم تمھاری دادی بننے کی خواہش تو پوری ہو جائے گی نا؟“

بیٹے کی بات پر وہ سپنوں میں کھو گی ۔ننھے ننھے معصوم فرشتے اسے اپنی گود میں قلقاریاں مارتے دکھائی دےے۔

”اچھا امی جان !….انھوں نے ایک دوشرط بھی رکھی ہے ؟“دنیال نے ماں کو سپنوں کی دنیا سے باہر کھینچا ۔

”کیسی شرط بیٹا؟“

”ایک تو ہمیں یہ گھر چھوڑ کر دلہن کے گھر منتقل ہونا پڑے گا ۔اور دوسرا اس شادی کی اطلاع کسی کو نہیں دیں گے ۔ کم از کم چار پانچ ماہ تک اس شادی کو خفیہ رکھنا ہو گا۔“

”کیوں،اس گھر کو کیا ہے ؟“

”کچھ نہیں امی جان !یہ ہم کرائے پر چڑھا دیں گے ۔یوں بھی مسکان کے علاوہ اس گھر میں کوئی نہیں ہے ۔“

”مسکان بہو کا نام ہے نا؟“عائشہ نے دلچسپی سے پوچھا۔

دانیال شرما کر بولا۔”جی امی جان !….“

”ہائے کتنا پیارا نام ہے ؟“عائشہ بچوں کی سی خوشی سے بولی۔

”امی جان وہ خود بھی بہت پیاری ہے ۔میں نے فوٹو دیکھا ہے اس کا ۔تم دیکھو گی تو حیران رہ جاو¿ گی۔“

”بیٹا !….محلے کے چند جاننے والوں کو تو لے چلیں گے ساتھ ؟“

”نہیں امی !….جب میں ایک دفعہ طے ہو گیاہے کہ ہم چار پانچ ماہ تک اس شادی کو خفیہ رکھیں گے ؟اور اب میں زبان دے کر کیسے پھر جاو¿ں؟“

”بیٹا !….اور تو خیر ہے ،میری دو تین پرانی سہیلیاں ہیں انھیں جب بعد میں پتا چلے گا تو وہ سخت خفا ہوں گی ؟“

”ہونے دو انھیں خفا ۔ان کی خفگی کے لےے میں اتنے اچھے رشتے کو داو¿ پر نہیں لگا سکتا ۔ یوں بھی بعد میں ہم انھیں تھوڑی بتائیں گے ،کہ یہ شادی پانچ ماہ پہلے ہوئی تھی ۔ہم کہیں گے ابھی ہوئی ہے ۔بلکہ اس ضمن میں چھوٹی موٹی تقریب بھی منعقد کر لیں گے ۔“

”ٹھیک ہے بیٹا!…. جو تمھاری مرضی ؟“

”اب یوں کرو ضرورت کا سامان باندھ لو کل سویرے ہی نکل چلیں گے ۔“

عائشہ خاتون نے حیرانی سے پوچھا۔” تو ساراضروری سامان ہی ہے ؟“

”نہیں امی !….بس اپنے کپڑے نقدی اور جوتے وغیرہ لے جائیں گے ۔باقی وہاں ضرورت کی تمام اشیا موجود ہیں ۔اور اگر بعد میں کسی چیز کی ضرورت پڑی تو یہاں سے اٹھا کر لے جائیں گے ۔ہم بیرون ملک تھوڑی جا رہے ہیں؟“

”تو اس سامان کی حفاظت کو ن کرے گا ؟“

”ہاں ،سونا ،چاندی پڑا ہے نا یہاں ؟….ان ٹیڑھی میڑھی دیگچیوں ہی کو تو چور ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔“

”اچھا میں بشریٰ اور خورشید بیگم کو جانے کی بابت مطلع کر تی ہوں ،تم لے جانے والا سامان خودباندھ لو ۔بعد میں ایویں اعتراض جھاڑتے رہو گے۔“

”امی جان !….انھیںاصل بات نہ بتانا۔“دانیال نے ایک بار پھر ماں کو تاکید کی ۔”بس کہہ دینا کہ، دانیال کو فیکٹری کی طرف سے گھر ملا ہے وہاں رہنے جا رہے ہیں ۔“

”بیٹا !….مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا ۔“

”اچھا صرف نئے گھر کا کہہ دینا ،یہ تو جھوٹ نہیں ہے ؟“

”اگر وہ نئے گھر کاپتا دریافت کرلیں ؟“

دانیال ہنس کر بولا۔”تو بتا دینا ۔“

”مگر مجھے تو معلوم نہیں ہے ؟“

”تو یہی بتادینا؟گھر کا پتا تھوڑی بتانا ہے ۔“

”تو کبھی نہیں سدھرے گا ۔“عائشہ خاتون بے ساختہ ہنستے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی۔

ماں کے آنے تک دانیال نے ضروری سامان اکھٹا کر لیا تھا ۔ا سے ایک ایک پل بتانا مشکل ہو رہا تھا ۔صبح بہت دورلگ رہی تھی بہ قول غالب….

ع صبح کر نا، شام کا لانا ہے، جوئے شیر کا

گھڑی کی سیکنڈ بتانے والی سوئیاں اگر گھنٹوں کے حساب سے حرکت کریں تب بھی وقت گزر جاتا ہے ۔وہ رات بھی گزر گئی ۔صبح سویرے ہی ماں بیٹا جانے کے لےے تیار ہو گئے تھے ۔ گھر کو تالالگا کر وہ ٹیکسی میں بیٹھ کرنئے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔نیا گھر دیکھ کر عائشہ خاتون باو¿لی ہو گئی تھی۔

”دانی!….یہ گھر تو بہت خوب صورت ہے بیٹا؟“

”ہاں امی جان!….اوراب آپ یوں کریں کہ تیار ہو جائیں ،اچھے والے کپڑے پہن لیں۔ حماد بھائی کے آنے سے پہلے ہمیں تیار ہوجانا چاہےے ۔“

”بیٹا !….اس دن کے لےے تو میں نے کب سے نئے کپڑے سلو ا رکھے ہیں ۔“ عائشہ خاتون کی آنکھیں، برسوں سے مسلسل دیکھنے والے سپنے کی تعبیرکی قربت میں جگنو بن کر چمکنے لگیں۔

دانیال نے خود بھی کریم کلرکا تھری پیس سوٹ اٹھایا اور باتھ روم میں گھس گیا ۔وہ پہلی مرتبہ سوٹ پہننے جا رہا تھا۔خوب اچھی طرح نہانے کے بعد اس نے اندازے سے سوٹ پہن لیا ۔ ٹائی اس سے نہیں باندھی جا رہی تھی ،وہ اس نے لپیٹ کر جیب میں ڈال لی کہ حماد سے بندھوا لے گا۔

اس کی ماں بھی نہا دھو کر تیار ہو گئی تھی ۔جب وہ سوٹ پہن کر ماں کے پاس گیا تو ششدر رہ گئی….

”ماشاءاللہ !….چشم بد دور ،نظر نہ لگ جائے میرے لال کو ؟“ماں نے اس کی پیشانی کو بوسا دے کر کہا ۔ماں کے لےے وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا ۔

”امی جان !….آج تو آپ نے بھی قیمتی لباس زیب تن کر لیا ہے ؟“

”تمھاری شادی ہے پگلے!….اگر میں نے آج کے دن بھی اچھے کپڑے نہ پہنے تو پھرکب پہنوں گی ؟“

گیارہ بجے تک کا وقت انھوں نے بڑی بے چینی سے گزارا ۔گیارہ بجنے سے چند منٹ ہی رہتے تھے ،جب انھیں مکان کے سامنے کار رکنے کی آواز آئی ۔دانیال بے صبری سے استقبال کے لےے دروازے کی سمت بڑھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: