Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 7

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 7

–**–**–

مسکان اسے اپنے کمرے میںملی ۔دروازہ کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہوا ۔مسکان غم زدہ سی مسہری پر لیٹی تھی ۔اسے دیکھ کر دوپٹا درست کرنے لگی ۔

حماد نے مسہری کے قریب کرسی گھسیٹی اور اسے تفصیلات بتانے لگا ….

آخر میں وہ کہہ رہا تھا ….

”ماں کو وہ گھر چھوڑنے پر تیار نہیں تھا ۔اس لےے مجبوراََمجھے اجازت دینی پڑی کہ وہ ماں کو بھی ساتھ رکھ سکتا ہے ۔ لیکن تم فکر نہ کرو ،سمجھو وہ گھر کے کام کاج کے لےے رکھی ہوئی نوکرانی ہے ۔“

”حماد !….ساس نوکرانی نہیں ہوا کرتی ۔ میں نے تمھاری ماں کو کبھی یہ خطاب دیا ہے ؟“

حماد کو اس کی بات بری لگی تھی،وہ جھلاتے ہوئے بولا۔ ”وہ کون سا تمھارا اصل شوہر ہے ؟“

مسکان ترکی بہ ترکی بولی۔”عارضی سہی ….اصل تو ہے ؟“

”طلا ق ہونے میں کتنی دیر لگے گی ۔زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کی بات ہے ؟“

اس نے جواب دیا۔”تب کی تب دیکھی جائے گی ۔“

”اچھا ،اگر چاہو تو ایک نوکرانی ساتھ لے جانا….بلکہ کوئی کام والی عورت ہی رکھ لیتے ہیںجو تمھیں جانتی نہ ہو ، کیونکہ ان نوکرانیوں پر تو بھروسا نہیں کر سکتے؟“

”اور جب میں مہینا بھرگھر میں نہیں آو¿ں گی ؟….تب یہ اس بارے نہیں سوچیں گی کہ کہاں گئی ہوں؟“

”اوہ !….“حماد کا ماٹھا ٹھنکا۔”پھر ایسا ہے ،دونوں کو ایک ایک ماہ کی چھٹی دیتی جاو¿۔“

”اس طرح تو چوکیدار کو بھی رخصت دینا پڑے گی ؟“

”کوئی بات نہیں ،ایک ماہ کے لےے میں کوئی نہ کوئی بندوبست کر لوں گا ؟“

” ٹھیک ہے ؟“مسکان نے اثبات میں سر ہلایا۔”ایک ماہ کی چھٹی مع تنخواہ کے پا کر غریب ذرا خوش ہو جائیں گے ۔“

”اچھا تم نے بتایا نہیں کہ وہاں تمھیں ملازما کی ضرورت پڑے گی کہ نہیں ؟“

”فی الحال نہیں ۔اگر بعد میں ضرورت پڑی تو کال کردوں گی ۔“

”اور ہاں !….انگریزی میں تم بے فکر ہو کر بات چیت کر سکتی ہو ۔ماں بیٹا صرف اردو ہی بول سکتے ہیں ۔“

”حماد !….مجھے آپ سے گپیں نہیں ہانکنی کہ اس معلومات کی ضرورت پڑے ۔اگر کوئی ضروری بات ہوئی تو میں” ایس ایم ایس“کر دوں گی ۔اسی طرح تمھیں بھی کوئی بات کرنی ہو تو ایس ایم ایس ہی کا سہارا لینا۔البتہ کوئی ایمرجنسی ہو جائے پھر کال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔“

”ٹھیک ہے باس !….“حماد نے ماحول میں چھائے تناو¿ کو کم کرنے کی کوشش کی ۔ اور مسکان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

”ارے پگلی !….روتی کیوں ہے ؟“حماد نے بے ساختہ اس کا سر سینے سے لگا لیا ۔ طلاق دینے کے بعد پہلی مرتبہ وہ اسے چھو رہا تھا ۔

”حماد!…. مجھے ڈر لگ رہا ہے ؟“مسکان نے سسکی بھری۔اس نے حماد سے دور ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔

”ڈرنے کی کیا بات ہے میری جان !….؟“حماد نے اسے مزید قریب کیا ۔”وہ ایک بے ضرر سا شخص ہے ۔ یقین کرو اسے صحیح طریقے سے بات کرنا نہیں آتا۔ ہم نے جب بھی اس سے طلاق کا مطالبہ کیا ،مجال ہے کہ وہ چوں چراں کر سکے ۔“

مسکان، آہستگی سے اس سے علاحدہ ہو گئی ۔ حماد اب اس کا شوہر نہیں تھا ۔اس کے احساسات کی لاج رکھتے ہوئے حماد بھی دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔

”ٹھیک ہے آپ آرام کریں ۔“مسکان ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگی ۔ اور حماد اثبات میںسر ہلاتا ہوا باہر نکل آیا۔

ایک مشکل مرحلہ قریباََ حل ہو چکا تھا۔اب بس مسکان کے حاملہ ہونے کی دیر تھی ۔ بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی اس نے مسکان کو ابدی نیند سلانا تھا۔گویامسکان کی مدت حیات بہ مشکل ڈیڑھ سال باقی تھی۔ حماد کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اس کے خوابوں کی تعبیر ڈیڑھ سال کے فاصلے پر تھی۔کوٹھی ،کار اورماتحتوں کی جی حضوری اب بھی اسے میسر تھی ۔ایک خوب صورت دوشیزہ کا قرب بھی حاصل تھا ۔مگر وہ تو دیوانہ تھا اپنی فری کا ۔

اور پھر یہ اختیارات اسے مصنوعی نظر آتے تھے ۔مسکان سے تھوڑی بہت ان بن ہوجاتی تو وہ اسے دودھ میں پڑی مکھی کی اپنی زندگی سے نکال کر دور پھینک دیتی ۔گو جس طرح مسکان کی سرشت تھی ایسا کوئی بھی فعل اس سے بعید تر تھا ،مگر انسان کو بدلتے دیر بھی تو نہیں لگتی ۔عیاشی کی زندگی کا مزا چکھ لینے کے بعد ، مسکان کو قتل کرنے کا ارادہ، عزمِ صمیم کی صورت اختیار کر گیا تھا ۔

٭……..٭

وہ دونوں ساڑھے دس بجے گھر سے نکلے ،جب مطلوبہ مکان تک پہنچے تو گیارہ بجنے میں چند منٹ رہتے تھے۔کار روک کر وہ نیچے اترے اور اسی وقت دانیال نے دروازہ کھولا۔حماد کے ساتھ نقاب پوش لڑکی کو دیکھ کروہ جھینپ گیا ۔ اسے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ وہ اس کی ہونے والی دلہن ہے ۔

ایک طرف ہو کر اس نے دونوںکو اندر آنے کا رستا دیا ۔

حمادنے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے پوچھا۔”کیسے ہو ،دانیال میاں !….؟“

”اللہ پاک کا فضل ہے حماد بھائی !“

”یہاں ،کس وقت پہنچے ہو؟“

”صبح سویرے ہی پہنچ گیا تھا بھیا!“

اسی وقت عائشہ خاتون نے آگے بڑھ کر حماد اور مسکان کے سر پر ہاتھ پھیرکر دعائیہ کلمات کہے۔اور پھر مسکان کو ساتھ لے کر کمرے میں گھس گئی ۔حماد اور دانیال دوسرے کمرے میں آ گئے تھے۔

”اچھا میں نکاح خواں کو بلا نے جارہا ہوں ،تاکہ جلد از جلد یہ کام نپٹایا جائے ۔“حماد نے ،دانیال کے دل میں چھپی خواہش کو الفاظ کا روپ دیا ۔

”ٹھیک ہے بھیا!….لیکن پہلے یہ توباندھ دیں۔“دانیال نے جیب سے ٹائی نکال کر اس کی سمت بڑھائی ۔

”واہ!….کیا بات ہے بھئی !“حماد نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ سے ٹائی لی اور اس کے گلے میں ڈال کر گرہ لگا دی ۔ ”اب اسے اتارتے وقت مکمل نہ کھولنا ، بلکہ تھوڑا سا ڈھیلا کر کے گلے سے نکال لینا۔

”شکریہ بھائی !“دانیال ممنونیت سے بولا ۔

”ٹھیک ہے ،تم یہیں بیٹھو ۔مجھے بس آدھا گھنٹا لگے گا ۔“یہ کہہ کر وہ گھر سے باہر نکل گیا ۔

دانیال کے لےے آدھا گھنٹا گزارنا بھی صبر آزما تھا ۔حماد کے جانے کے بعد وہ بے چینی سے صحن میں ٹہلنے لگا۔

آج کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوب صورت دن تھا ۔کہتے ہیں صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔ اس کہاوت کی صداقت آج اس پر آشکارا ہو ئی تھی ۔جس قسم کی دلہن کے اس نے خواب دیکھے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ پرکشش اور خوب صورت لڑکی اس کی قسمت میں لکھ دی تھی۔مسکان کی تصویر وہ خوب باریکی سے دیکھ چکا تھا ۔ اور آج اس نے مسکان کی جسمانی ہیئت بھی دیکھ لی تھی۔اونچی لمبی ،گوری چٹی ،سڈول بدن ،سارا جسم گویا سانچے میں ڈھلا تھا ۔اس کی نقاب سے جھلکتی آنکھیں دانیال کے دل کی دینا کو زیر و زبر کر گئی تھیں۔

حماد آدھے گھنٹے سے پہلے ہی لوٹ آیا تھا ۔نکاح خوان اور گواہوں سے اس نے پہلے سے بات کی ہوئی تھی ۔اس وقت تو بس انھیں بلانے گیا تھا ۔

نکاح خواں اور گواہوں کے ساتھ وہ کمرے میں آگئے ۔حماد کے کہنے پر مولانا صاحب نکاح کا خطبہ پڑھنے لگا ۔ مسکان اور عائشہ خاتون کو بھی حماد نے وہیں بلا لیا تھا ۔

دانیال کا دل بے طرح دھڑک رہا تھا ۔خطبہ پڑھ کر نکاح خوان نے دلہن کا نام پوچھا ۔

”مسکان بنتِ داو¿د۔“حماد نے جلدی سے لقمہ دیا ۔

”حق مہر کتنا ہوگا؟“

”ایک ہزار۔“اس بار بھی حماد نے جواب دیا ۔

دانیال نے جلدی سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا۔”نہیں ،چالیس ہزار۔“

نکاح خواں نے اثبات میں سر ہلایااور اس سے پوچھا۔”مسکان بنت داو¿د،حق مہر چالیس ہزار ،سِکّہ رائج الوقت ۔آپ کو اپنے حبالہءعقد میں قبول ہے ؟“

”قبول ہے ۔“دانیال شرماتے ہوئے بولا۔

اس کے بعد نکاح خواں نے مسکان سے بھی ایجاب و قبول کرایا۔آخر میں دعائے خیر کر کے نکاح خواں نے انھیں مبارک باد دی ۔

رسم ِنکاح کے بعدحماد نے اعلا قسم کی مٹھائی کا ڈباکھول کر ان کے سامنے رکھ دیا ۔ مسکان اور عائشہ خاتون وہاں سے نکل گئی تھیں ۔

مٹھائی کھلا کر حماد نے نکاح خواں کی خدمت میںچند بڑے بڑے نوٹ پیش کےے اور اسے عزت سے رخصت کر دیا ۔

” بہت بہت مبارک ہو دانیال میاں !“حماد نے اسے گلے سے لگا کر مبارک باد دی ۔

”خیر مبارک بھیا !….یہ سب آپ کی مہربانی اور احسان کی بدولت ممکن ہوا ہے۔“دانیال کے لہجے میں شکر گزاری کا عنصر نمایاں تھا ۔

”اچھا !….ایک بات کان کھول کر سن لو ،بلکہ گرہ میں باندھ لو ۔مسکان نے پہلے شوہر سے اس لےے طلاق لی تھی ،کہ اس سے مسکان کا کوئی بچہ نہیں ہو سکتا تھا ۔اگر تم سے بھی اسے یہی شکایت ہوئی تو بعید نہیں کہ وہ طلاق کا مطالبہ کر دے ؟“

”اللہ پاک بہتر کرے گا بھیا !“دانیال جھرجھری لے کر رہ گیا۔

”ٹھیک ہے ،اب میں اجازت چاہوں گا ۔“حماد کھڑا ہو گیا ۔”تم یہیں بیٹھو میں مسکان سے مل کر نکل جاتا ہوں۔“

دانیال نے اثبات میں سر ہلایااور اسے رخصتی تعظیم دینے کے لےے اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا ۔

حماد وہاں سے نکل کر دوسرے کمرے میں داخل ہوا ۔مسکان اور عائشہ خاتون باتوں میں مشغول تھیں ۔ اسے دیکھتے ہی دونوں خاموش ہوگئیں ۔

”ٹھیک ہے آنٹی !….اب میں چلوں گا ۔آپ کو بیٹے کی شادی مبارک ہو ۔“

”خیر مبارک بیٹا!….جیتے رہو ۔“عائشہ دعائیں دینے لگی ۔

“Ok Muskan see you again” (ٹھیک ہے مسکان پھر ملیں گے )

اور مسکان فقط سر ہلا کر رہ گئی تھی اس کے علاوہ وہ کہہ بھی کیا سکتی تھی ۔اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے۔ اس کے سر کا سائیں ،عزت کا رکھولا،غیرت مند شوہر ،بہ نفس نفیس اسے غیر مرد کی جھولی میں ڈال کر جا رہا تھا ، ایسا شوہر جسے محبت کا دعوا بھی تھا ۔ وہ کس سے فریاد کرتی اور کس کے سامنے روتی …. ایسی عجیب صورت حال سے شاید ہی کسی کا واسطہ پڑا ہو ۔

حماد وہاں سے باہر نکل آیا۔کار ان لاک کر کے وہ بیٹھنے ہی لگا تھا کہ اچانک اسے مسکان کا سامان یاد آیا جو اب تک کار کی ڈگی میں پڑا تھا ۔

ڈگی سے سامان کا بیگ نکال کر ایک مرتبہ پھر اس نے اندر کا رخ کیا اور سامان والا بیگ مسکان کے حوالے کر کے باہر آگیا۔

٭……..٭

عائشہ خاتون مسکان کی شکل و صورت دیکھ کر مبہوت رہ گئی تھی ۔اتنی موہنی اور خوش شکل لڑکی اللہ پاک دانیال کی قسمت میں لکھ دے گا؟….ایسا اس نے سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا ۔ دانیال سے پہلے وہ خود اپنی بہو پر صدقے قربان جا رہی تھی ۔

مسکان کے لےے جہاں حماد سے بچھڑنے کا غم سوہانِ روح بنا ہوا تھا وہیں عائشہ خاتون کے سوالوں کی بوچھاڑ اسے پریشان کےے ہوئے تھی۔وہ ہمیشہ بڑوں کا احترام کرتی آئی تھی۔اور یہی احترام اس کے لبوں کو سےے ہوئے تھا ورنہ اس کے منہ سے کوئی ناروا بات نکل جاتی ۔جلد ہی عائشہ پر اس کی بے زاری ظاہر ہو گئی ۔گو اُس نے اِس بات کو نئی نویلی دلہن کی شرم و حیا پر محمول کیا تھا۔بہ ہر حال کچھ بھی تھاتکلیف دہ سوالوں سے اس کی جان چھوٹ گئی تھی۔ اور اس کے بعد عائشہ اپنے بیٹے کے قصیدے پڑھنے لگی ۔

مسکان کو دانیال کی خوبیوں سے کوئی مطلب نہیں تھا ۔وہ ہمیشہ کے لےے اس گھر میں نہیں آئی تھی۔ اپنے کانوں کو بہرہ کےے وہ اس کی باتیں سنتی رہی ۔اس کا دماغ اس گھر سے جانے کے خوش کن خیالات میں کھوگیا ۔ ایک امید افزا سوچ اس کے دماغ میں گونجی ….

”شاید ایک ماہ بعد میری جان چھوٹ جائے ؟“

حماد کی آمد پر عائشہ کی زبان کو تھوڑا سکون ملا۔مگر وہ رخصت لینے آیا تھا ۔

اس کے جانے کے بعد عائشہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوگئی ۔لیکن حماد چند منٹوں میں لوٹ آیا۔ اس مرتبہ اس کے ہاتھ میں مسکان کا بیگ تھا جس میں اس کے کپڑے اور ضرورت کی دوسری اشیا موجود تھیں۔

”مسکان !….اگراس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو فون پر بتا دینا ۔“حماد نے کہا ۔وہ فقط سر ہلا کر رہ گئی تھی۔حماد واپس چلا گیا ۔

”بیٹی !….میں ذرا ،دانی کو گھر سے باہر بھیج دوں تاکہ تم آرام سے تیاری کر سکو۔“شفقت سے کہتے ہوئے عائشہ دوسرے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔

دانیال ،سرھانے پر سر رکھے خیالوں کی دنیامیں کھویا تھا ۔ مسکان سے مل کر اس نے گفتگو کی ابتدا کیسے کرنا تھی ۔ اور پھر وہ اسے منہ دکھائی میں کیا دیتا ۔حماد نے اس کے حوالے ایک قیمتی لاکٹ کیا تھا۔ لیکن ایسا تحفہ دلہن کو دینے کا کیا لطف ،جو خود اس کے گھر والوں نے لے کر دیا ہو ۔

ماں کی آمد پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔ماں نے قریب آکر اس کا ماتھا چوما۔اور پیار سے بولی۔

”توبڑی قسمت والاہے بیٹا!ایسی دلہن قسمت والوں کے نصیب میں ہوتی ہے ۔یقین مانو اگر مجھے پوری دنیا کی لڑکیوں کو لائن میںکھڑا کر کے تمھاری دلہن چننے کا اختیار دیا جاتا،تو میرا انتخاب،مسکان ہی ہوتی۔“

”ہاں ماں جی !….کہتے ہیں نا صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔“

”ہمارے صبر کا پھل تو کچھ زیادہ ہی میٹھا نکلا بیٹے ؟“

”یہ مقدر کے کھیل ہیں ماں جی !“

عائشہ سکھ بھرا سانس لیتے ہوئی بولی۔”صحیح کہتے ہو بیٹا!….بہ ہر حال اب یوں کرو کہ کہیں گھومنے نکل جاو¿۔شام کے بعد ہی لوٹنا ۔میں ذرا دلہن کو مانوس کر لوں اور پھر اسے سجا بھی دوں ۔“

”ٹھیک ہے ماں جی !….“سعادت مندی سے کہتا ہوا وہ اٹھ گیا ۔چند لمحوں بعد وہ گھر سے باہر تھا ۔

٭……..٭

مسکان کے لےے روایتی دلہن کی طرح سجنا ایک مشکل اور دشوار گزار مرحلہ تھا ۔لیکن اپنی ساس کا دل توڑنا اسے مناسب نہ لگا ۔اس کے ساتھ یہ تکلیف دہ سوچ بھی اسے بے حال کر گئی کہ جب وہ نئے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی ،تو ماں بیٹے پر کیا گزرے گی ؟

”بیٹی !….تم پریشان سی لگ رہی ہو ؟“اس کا مغموم چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر عائشہ نے مادرانہ شفقت سے پوچھا ۔

وہ جلدی سے بولی ۔”نہیں ماں جی !….ایسی کوئی بات نہیں ۔اصل میں میرے والدین وفات پا گئے ہیں نا؟اور اس موقع پر آپ کو پتا ہے ،ایک لڑکی کو جذباتی سہارے کی اشد ضرورت ہوتی ہے؟“

عائشہ بے ساختہ اس کے ماتھے پر بوسا دیتی ہوئی بولی۔”تو میں ہوںنا تمھاری ماں ۔ پگلی نہ ہو تو؟ایسے ہی پریشان ہو رہی ہے ؟“

مسکان کی آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے ۔ایک عورت کے لےے پرخلوص جذبات پرکھنا مشکل نہیں ہوتا۔عائشہ کے ہر عمل ،فعل اور لہجے سے جس طرح خلوص ٹپک رہا تھا،وہ مسکان کو شرمندہ کرنے کے لےے کافی تھا۔ ایک کرب آمیز حقیقت ،اس کی سوچ میں بھری۔

”یہ معصوم عورت جانتی ہی نہیں، کہ اس کا میرا ساتھ مہینے بھر کاہے ۔“

اس کی سوچوں سے بے خبر مخلص عائشہ نے پوچھا ۔

”بیٹی!….دانی کی دلہن کے لےے جانے کب سے میں نے سہاگ کا جوڑا خرید رکھا ہے ۔ اور تمھیں وہی پہننا ہو گا ۔“

مسکان گھبرا کر بولی۔”ماں جی !….یہ ٹھیک ہیں نا ؟“

”ہاں ٹھیک ہیں ، تمھیں ہر لباس سجتاہے ۔لیکن یہ تو رسم و رواج ہیں نا بیٹی؟کہ دلہن کوسہاگ رات کاجوڑا لڑکے والوں کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔اور پھر یہ بھی تو دیکھو تم نے جو کپڑے پہنے ہیں یہ استعمال شدہ ہیں ، حالانکہ آج کی رات کے لےے نئے کپڑے ضروری ہیں ۔“

”ٹھیک ہے ماں جی !….میں شاور لیتی ہوں ،آپ کپڑے نکالیں ۔“مسکان نے اسی میں عافیت جانی کہ اس کی ہر بات مان لے ۔

عائشہ خوش ہو کر گھر سے لائے ہوئے سامان کی طرف بڑھ گئی ۔جب تک مسکان شاور لیتی اس نے کپڑے استری کر دےے تھے۔اس نے اپنے تیئں ، بہو کے لےے مہنگا ترین لباس خریدا تھا ۔مگر وہ غریب یہ نہیں جانتی تھی ،کہ اس کی بہو کی ایک بنیان بھی اِس لباس سے کئی گناہ قیمتی تھی۔

حیرت انگیز طور پر وہ کپڑے، مسکان کے ناپ کے تھے۔اگلے مرحلے میں وہ اس کا میک اپ کرنے لگی ۔حماد سے شادی کے وقت اس کے بھائی نے بیوٹی پارلر کے پورے سٹاف کو گھر بلوا لیا تھا۔اور پھر ان مشتاق خواتین نے اس کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دئےے تھے۔شب ِزفاف کے لےے لاکھوں کی مالیت کالہنگا خریدا گیا تھا۔اور آج ایک مزدور کی دلہن بنتے ہوئے چند سو مالیت کا سرخ جوڑا اور عامیانہ میک اپ ۔اس کا جی چاہا کہ قہقہے لگائے ۔حماد کی محبت میں اسے یہ دن بھی دیکھنے پڑ ے تھے۔

وہ خاموش بیٹھی عائشہ خاتوں کے لےے تختہ¿ مشق بنی رہی۔ سجا سنوار کر عائشہ نے اسے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا۔اس بات کی گواہی آئینے کو بھی دینا پڑی ،کہ خوب صورتی کسی سجاوٹ کی محتاج نہیں ہوتی ۔ دلہن کی سجاوٹ سے فارغ ہو کر عائشہ خاتون ان کے لےے سیج بنانے لگی ۔مسکان کی جان وقتی طور پر اس سے چھوٹ گئی تھی ۔وہ آنے والے جاں گُسل لمحات کو سوچنے لگی ۔

٭……..٭

گھر سے نکل کر حماد نے بازار کا رخ کیا ۔اس کا ارادہ مسکان کو منہ دکھائی میں دینے کے لےے کسی تحفے کے انتخاب کا تھا ۔ ایک بک سٹال کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ”اسلامی شادی “ نامی کتاب پر پڑی ۔ اردو وہ آسانی سے پڑھ لیتا تھا ۔اس نے وہ کتاب خرید لی اور پھر اسی موضوع پراسے دو تین اور کتابیںنظر آئیں ، لگے ہاتھوں اس نے وہ بھی خرید لیں ۔اس کے بعد پوری مارکیٹ کو چھان کر اس نے منہ دکھائی کا تحفہ خریدا ۔اور پھر پارک میں بیٹھ کر ان کتابوں کو پڑھنے لگا ۔شام تک کا وقت گزارنا اس کے لےے کارِ دار تھا ،مگر اس کی یہ مشکل کتابوں نے حل کر دی ۔ان معلوماتی کتابوں سے اسے کافی اچھی اچھی باتیں پتا چلی تھیں ۔ شام کی اذان کے ساتھ اس کے قدم گھر کی طرف بڑھ گئے ۔

عجیب قسم کی خواہشات اور ولولے اس کے دل و دماغ میں موج زن تھے۔بالغ ہونے کے ساتھ ایک لڑکا شریک حیات کے سپنے دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔ایک عربی مقولہ ہے ۔

”جوانی جنون کا ایک حصہ ہے۔“

کہ جوان ہوتے ہی تشنہ خواہشات ،نفسانی جذبے ،چاہنے اور چاہے جانے کے منہ زورولولے سمندر کی لہروں کی طرح جنم لیتے ہیں ۔اس نے بھی جوان ہوتے ہی ایک ہم سفر کے سپنے دیکھنے شروع کر دےے تھے۔ایسا ہم سفر جو اس کے دکھ سکھ کا ساتھی ہو۔کوئی ایسا جو اس کے غم میں آنسو بہا سکے اور خوشی کے قہقہے لگاتے وقت اس کی ہنسی بھی اس کے ساتھ شامل ہو۔ اور وہ کیسا ہو ؟…. حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق….

”کسی بھی لڑکی کو شریک حیات بنانے کی چار وجوہات ہوتی ہیں،خوب صورتی، حسب ونسب ،دین داری اور دولت مندی۔اور پھر آپﷺ نے فرمایا، جس کا مفہوم یہ بنتا ہے ، کہ ان میں سے سب سے بہترین وجہ دین داری ہے ۔“

لیکن فی زمانہ سب سے زیادہ ترجیح خوب صورتی اور دولت مندی کو دی جاتی ہے ۔ شروع میں دانیال بھی چندے آفتاب،چندے ماہ تاب ،حورشمائل ، دودھ سی رنگت ،غزال سی آنکھیں ،مورنی سی چال،کالی گھٹا جیسی زلفیں،یاقوتی ہونٹ ، صرائی دار گردن ،کشمیری سیبوں سے گال ، چیتے سی کمر،عربی گھوڑی سی پشت،شیریں دہن ،عمدہ سخن ،پھول سے نازک،کلی سے کومل اور پتا نہیں کن کن خصوصیات کی حامل دلہن کے خواب دیکھتا تھا اور جب عملی طور پر کوئی قبول صورت لڑکی بھی نہ ملی تو اس کا معیاربہت نیچے آگیا، کہ کوئی ایسی لڑکی ہونی چاہےے جو اس کی ہو اور بس۔ اس کی شکل و صورت چاہے جیسی بھی ہو ؟

لیکن وہ ناکام رہا ۔جوانی کے ابتدائی سال اس کی خواہش حسرت ناتمام بن کر اس کے سینے میں مچلتی رہی ۔ یہاں تک ،کہ شادی کرنے کے لےے وہ اتنا حواس باختہ ہوا کہ جرم کی راہ پر قدم بڑھا دےے۔یہ تو اس کی قسمت اچھی اور ماں کی دعائیں ہم رکاب تھیں کہ وہ جرم کی دلدل سے بغیرلتھڑے نکل آیا۔اور شاید اس کی یہی ادا اللہ تعالیٰ کی کریم ذات کو پسند آئی ، کہ سپنوں کی تعبیر اسے مسکان کی صورت میں مل گئی ۔

مسکان نہ صرف شکل و صورت میں اس کے سپنوں کی شہزادی سے بڑھ کر تھی بلکہ ، دولت مندی اور دین داری میں بھی اپنی مثال آپ تھی۔دانیال نے اس کی دین داری کا اندازہ اس کے نقاب اوڑھنے ہی سے لگالیا تھا۔اسے یقین تھا کہ حسب نسب کے لحاظ سے بھی وہ کم از کم دانیال سے کئی گنا زیادہ ہو گی ۔

وہ جیسے گھر میں داخل ہوا ،اس کی منتظر ماں بے صبری سے آگے بڑھی ۔

”آگیا ہے میرا لال!“اس کا سر جھکا کر اس نے دانیال کے ماتھے کو چوما اور پھر جانے کون کون سی دعائیں پڑھ پڑھ کر اس پر پھونکنے لگی ۔

دانیال پرسکون سا، ماں کے سامنے سر جھکاے کھڑا رہا ۔اپنی ماں کو خوش دیکھ کر اس کی خوشی دو چند ہو گئی تھی ۔ وظیفہ ختم کر کے وہ بولی ۔

”بیٹے !….اللہ پاک نے ہم پر بہت کرم کیا ہے ۔ایسی دلہن تو نوابوں کے نصیب میں بھی نہیں ہوتی جو تمھیں ملی ہے ۔ یہ نہ ہو، اپنی کسی بات سے اسے خفا کر دو ۔یتیم بچی ہے ،ماں باپ نہیں ہےں ۔ اس کا خیال رکھنا، اسے خوش رکھنا ۔اگر خلاف طبیعت کوئی بات پاو¿ تو برداشت کرنا ۔بیوی نہیں ،دوست اورساتھی سمجھنا۔اس کی بات کو اتنی ہی اہمیت دینا جتناتوقع کرتے ہو کہ وہ تمھاری بات کو اہمیت دے ۔اب جاو¿….اور ہاں شکرانے کے دونفل ضرور پڑھ لینا ۔“

”آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا امی جان !“سعادت مندی سے کہہ کر وہ حجلہءعروسی کی طرف بڑھ گیا۔اس کا دل آنے والے خوش کن لمحات کے خیال سے لرزنے کے انداز میں دھڑک رہا تھا۔اسے اپنی پیشانی گیلی گیلی محسوس ہوئی ۔ یہ پسینہ اس کے اندرونی ہیجان کو ظاہر کر رہا تھا ۔کمرے کا دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہوا ۔اس کی ناک سے بھینی بھینی خوشبو ٹکرائی ۔اس کے وجدان نے کہا….

”لازماََ یہ مسکان کے وجود کی خوشبو ہے ۔“

”اسلام علیکم !“وہ کتاب میں پڑھی ہدایت پر عمل کرنا نہ بھولا۔

اسے نہایت مدھم ”وعلیکم اسلام !“سنائی دیا ۔اس آواز میں شامل نغمگی ،سُر اور مٹھاس دانیال کو مدہوش کر گئی ۔ ایجاب و قبول کے وقت بھی اس نے یہ آواز بڑی توجہ سے سنی تھی ۔اس وقت بھی اس کی یہی کیفیت ہوئی تھی ۔

وہ سرخ کپڑوں کی ڈھیری کے قریب بیٹھ گیا ۔دوتین دفعہ کھنکارکر گلا صاف کرنے کے بعد اس نے تمہید باندھی۔

٭……..٭

مسکان کا دل آنے والے جاں گُسل لمحات کے خوف سے لرز رہا تھا ۔وہ جانتی تھی کہ دانیال کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔اوریہ کہ وہ ایک مزدورہے۔نہ معلوم پہلی رات بیوی کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہو گا؟ گنوار آدمی سے اچھے اخلاق کی توقع ہی فضول تھی ۔

اس کے ساتھ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ عورت ہمیشہ سے محکوم رہی ہے ۔اور شوہر کے مزاج کے مطابق ڈھلنا اس کا مقدر ہے ۔ وہ سیٹھ زادی ہو کر بھی دانیال کو من مانی کرنے سے نہیں روک سکتی تھی ۔وہ اس کا شوہر تھا ،اس کے بدن پر دسترس کا حق اسے شریعت نے دیا تھا ۔یوں بھی یہ سارا کیا دھرا اس کے محبوب شوہر کا تھا ۔اب مقصد کے حصول تک اس کالے کلوٹے شوہر کو برداشت کرنا اس کی مجبوری تھی۔

پھر وہ ناپسندیدہ لمحہ آگیا ،دروازے پر آہٹ ہوئی اور ہلکے سے کھٹکھٹا کر وہ اندر داخل ہوا ۔

”اسلام علیکم!“حماد کے مقابلے میں اس کی آواز ذرا بھاری تھی ۔اسے یاد آیا کہ حماد نے پہلی رات سلام ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔

اس نے واجب کی ادائی کا لحاظ کرتے ہوئے آہستہ سے ”وعلیکم اسلام!“ کہا۔

وہ نپے تلے قدم رکھتا ہوا اس کے قریب آکر بیٹھ گیا ۔مسکان کوحماد کی آمد یاد آئی ۔اس نے آتے ساتھ اس کا گھونگٹ اتار کر پھینک دیا تھا ۔اس دن اس کے روےے کو دیکھ کر مسکان کو یوں محسوس ہوا تھا جیسے اسے فقط مسکان کے بدن سے غرض ہو ۔کنواری ہونے کے باوجود وہ بعض علماءکی شادی کے متعلق لکھی گئی کتب کا مطالعہ کر چکی تھی ۔حماد نے سراسر بے ہودہ طریقہ اپنایا تھا ۔ مگروہ اسے یوں بھی زیادہ محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ حماد سے مانوس تھی ۔آج حماد کی جگہ دانیال نے سنبھا لی تھی۔ جو نہ تو شکل و صورت کے لحاظ سے حماد کی طرح تھا اور نہ تعلیم ہی اس جتنی تھی ۔سب ے بڑھ کر مسکان کے لےے بالکل اجنبی تھا۔

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے کھنکار کر گلا صاف کیا ۔دوبارہ اور سہ بارہ یہی عمل دہرانے کے بعد وہ مدہم آوازمیں گویا ہوا ….

”پیاری مسکان !….سہاگ رات میں شوہر سب سے پہلے دلہن کو منہ دکھائی دیا کرتا ہے ، تاکہ کریم رب نے اس کے لےے جو پاکیزہ چہرہ دیکھنا حلال کیا ہے اس کا شکر ادا ہو ۔میں تمھاری تصویر دیکھ چکا ہوں ،اور قسم کھا کر کہتا ہوں تم دنیا کی سب سے پیاری ،موہنی اور خوش شکل بیوی ہو ۔تمھارے شایان ِ شان منہ دکھائی دینا میرے بس سے باہر ہے ۔اس وجہ سے نہیں کہ میں ایک غریب مزدور ہوں ۔بہ خدا ، اگر میں سکندرِ اعظم جتنی سلطنت کا مالک ہوتا تب بھی اس دشواری کو اتنا ہی محسوس کرتا جتنا آج کر رہا ہوں۔ نہ تو تاج محل اس قابل ہے ، کہ تمھارے رخ ِروشن کی دید کا معاوضا بن سکے اور نہ کوہ نور ہیرا ہی اس قابل ہے کہ اس کا بدل ہو سکے ۔ حماد غالباََ آپ کا قریبی رشتا دار ہے ۔اس بھلے آدمی نے منہ دکھائی میں دینے کے لےے ایک خوب صورت لاکٹ دیا ہے ۔ “ اس نے مخملی ڈبیا جیب سے نکال کر اپنے سامنے رکھ لی ۔ اس کی بات جاری رہی ….

”مگر ایسی منہ دکھائی بھی کیا منہ دکھائی ہے کہ بیوی کے سرپرست کی طرف سے عنایت کی جائے۔ گویا وہ پہلے ہی سے عورت کی ملکیت ہے ۔ہے نا ؟“ اس نے مسکان سے تصدیق چاہی مگر وہ خاموش بیٹھی رہی ۔ دانیال کی باتیں اسے عجیب محسوس ہوئیں ۔ایک گنوار اور کم علم شخص عجیب روپ میں سامنے آرہا تھا ۔وہ جانتی تھی کہ حماد نے، منہ دکھائی میں جو قیمتی ہار اس کی نذر کیا تھا ۔وہ بھی اس کے بھائی کاعنایت کردہ تھا۔مگر حماد نے اس کے سامنے کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔اس کے برعکس وہ کالاکلوٹا کھلے دل سے اس بات کو تسلیم کر رہا تھا ۔

”خیر !آپ کے تسلیم کرنے نہ کرنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔لیکن خفا نہ ہونا اور نہ اس کو اپنی سبکی ہی جاننا،کہ اس وجہ سے میں نے منہ دکھائی میں دینے کے لےے خود ایک تحفہ خریدا ہے ۔ ایک بہت کم قیمت، بلکہ بے قیمت تحفہ۔پتا ہے کیا ہے ؟“اس مرتبہ دانیال نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک خوبصوت دستی رومال نکالااور مسکان کے کومل ہاتھ پر رکھ دیا ۔

”میں جانتا ہوں ،اسے دیکھ کر آپ کے نازک احساسات کو دھچکا لگا ہوگا۔مگر یقین مانو یہ میں نے اس لےے نہیں خریدا کہ میں غریب ہوں ۔میرے پاس اتنی رقم بہ ہر حال موجود ہے کہ میں درمیانی قیمت کا تحفہ خرید سکتا تھا۔مگر کوئی چیز مجھے ایسی نظر نہیں آرہی تھی جو میرے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتی سوائے رومال کے ۔آپ کے دل میں لازماََ یہ سوال اٹھ رہا ہو گا کہ کیوں ؟“

اس وقت مسکان کے دل میںبھی یہی خیال گزرا تھا جو اس نے اپنے اندازے سے جان لیا تھا۔ اور پھر مسکان کے استفسار کے بغیر بتانے لگا ۔

”آپ ! جانتی ہیں نا ؟….یہ کن کن مواقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ آنسوپونچھنے لےے،کسی ناگوار بو کو روکنے کے لےے ،ہنسی یا شرم ساری کے موقع پر منہ پررکھنے کے لےے زکام کی حالت میں ناک صاف کرنے کے لےے رومال ہی کام میں لایا جاتا ہے ۔اور میں بھی آپ کو یہی باور کرانا چاہتا ہوں ،کہ زندگی کے کسی بھی موقع پر اللہ نہ کرے اگر آپ کی آنکھ سے آنسو کا قطرہ نکلا تومیں اس رومال کی جگہ لے لوں گا ، اگر کوئی ناگوار شخص بدبو کی طرح آپ کا رستا کاٹے گا تو میں بعینہ اسی طرح ڈھال بنوں گا جیسے رومال بو کے خلاف آڑ بنتا ہے ۔خوشی میں بھی ساتھ دوں گا اور غمی میں بھی ساتھ نہیں چھوڑوں گا ۔اور اگر خدانخواستہ آپ بیمار ہوگئیں چاہے وہ کیسی بیماری ہی کیوں نہ ہو میں آپ سے دور نہیں جاو¿ں گا ۔یہ میرا وعدہ ہے اور اس عہد کی نشانی یہ رومال ہے ۔ کیاآپ کو یہ حقیر سا تحفہ قبول ہے ؟“

مسکان کو اس کی باتوں نے سن کر دیا تھا ۔کیا کوئی اتنی پیاری ،اتنی دل میں اتر جانے والی باتیں بھی کر سکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ایک کم علم گنوار کی شکل میں اس کے سامنے موجود تھا ۔ وہ حقیر سا رومال اس وقت اسے اتنا قیمتی لگا کہ ہفت اقلیم کی دولت بھی اس کے مقابلے میں ہیچ نظر آنے لگی ۔مگر یہ ایک عارضی کیفیت تھی ،حماد کی یاد آتے ہی وہ جھرجھری لے کر ان جادوئی باتوں کے اثر سے باہر آگئی ۔وہ پوچھ رہا تھا….

”کیا میں شربتِ دیدار سے اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکتا ہوں ؟“جواباََ وہ خاموش رہی تھی۔

”آپ کی چپ کو اقرارکی نویدسمجھوں یا انکار کی تلخی؟“

”منہ دکھائی دینے کے بعد شوہر بغیر پوچھے اس کا مستحق ہو جاتا ہے ؟“اس کے بار بار استفسار پروہ خاموش نہ رہ سکی۔

”صحیح کہا !….مگر میںآپ کاصرف شوہر نہیں ،دوست بھی ہوں ۔میں کبھی اپنی مرضی مسلط نہیں کروں گا۔آپ میری شریک حیات ہیں ،لونڈی یا کنیز نہیں ؟“

”کہنے اور کرنے میں بڑا فرق ہے ۔“مسکان تلخ ہو گئی ۔

”یہ مسئلہ بحث سے نہیں عمل سے طے ہو گا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ان شاءاللہ آپ یہ بات تسلیم کرلیں گی ۔فی الحال تو میں آپ کی اجازت سے مستفید ہو لوں نا ؟“یہ کہہ کر اس نے مسکان کا گھونگٹ الٹ دیا ۔

”ماشاءاللہ ۔“دانیال کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔اور اس کے لہجے کی سچائی مسکان کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی تھی۔

عورت چاہے جانے کے لےے پیدا ہوئی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری اپنی خوب صورتی کا تذکرہ سننا ہے۔اس مقصد کے لےے آوارہ عورتیں ہر مرد کے منہ سے اپنے حسن کی تعریف سننے کی متمنی ہوتی ہیں اور شریف عورتیں اپنے شوہر کی ۔مسکان بھی ایک عورت ہی تھی ۔ حماد محبت کی شروعات میں اس کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دیتا تھا ۔ اورجونھی وہ اس کی محبت کے سحر میں گرفتار ہوئی ،اس کا لہجہ بدل گیا تھا ۔ لیکن اس وقت دانیال کی جو کیفیت اسے نظر آئی تھی ایسااثر تو حماد پر کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔دانیال کا ہر لفظ گویا شہد میں لتھڑا تھا ۔اتنی بے ساختگی سے وہ اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا کہ بناوٹ اور دکھاوے کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔اس کا کہا ہوا ہر کلمہ مسکان کے من میں اترتا جا رہا تھا ۔

”اگر میرا بس چلے تو میں تمھیں عورتوں سے بھی پردہ کرنے پر مجبور کر دوں ۔تمھارے موہنے چہرے کو کسی کی بھی نظر لگ سکتی ہے ۔مسکان!…. مجھے یقین نہیں آتاتم میری بن گئی ہو ۔ مجھے اپنا کوئی عمل ایسا نظر نہیں آتا جس کی اتنی بڑی جزا دی جائے ۔لاریب یہ اس لا محدود رحمت والے پروردگار کی بخشش ہے ،کہ ایک رو سیاہ کو جنت کی حور مرنے سے پہلے عنایت فرما دی ۔پتا ہے ؟میں ہمیشہ خیالوں میں ،ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی کو اپنی دلہن بنتے دیکھتا ۔میرا تخیل بہت دور کی کوڑی لاتا۔ میں اپنی مرضی سے اس کی آنکھیں ،ہونٹ ،گال ،ناک، گردن اور سارا سراپا تخلیق کرتا ۔مگر آج تمھیں دیکھ کر میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ میں کبھی اتنے حسین ، اتنے کومل ، اتنے موہنے رخ کا تصور نہیں کر سکا تھا ۔اور کر بھی کیسے سکتا، تم میرے رب کی تخلیق ہو ۔ میں ایسا سوچ بھی نہ سکا جو میرے خالق نے بنا دیا ۔“

دانیال نے اپنے کھردرے ہاتھوں سے اس کا ملائم ہاتھ تھاما ،لوہے کی مزدوری نے اس کے ہاتھ بھی فولاد کی طرح سخت کر دےے تھے۔حماد کے ہاتھ خود اس کی طرح نرم و نازک سے تھے ۔وہ خود بھی بہت حسین و جمیل تھا ۔لیکن اس وقت وہ کالا کلوٹااور بدصورت شخص مسکان کو حماد سے زیادہ پرکشش لگا ۔ عورت صنف نازک ہے ۔ اوریہ تو قانون قدرت ہے کہ ہر صنف اپنے متضاد سے متاثر ہوتی ہے ۔دانیال کے کھردرے ہاتھوں کے لمس سے اس کے سارے جسم میں چیونٹیاں رقص کرنے لگیں ۔اس کا دل اتنے زور سے دھڑکنے لگا کہ شاید پسلیوں کا پنجرہ توڑ کر باہر نکل آئے گا ۔ایسی کیفیت اس نے حماد کے ساتھ کبھی محسوس نہیں کی تھی ۔

دانیال نے جھک کر اس کی ہتھیلی کو بوسا دیا ۔مسکان کو لگا جیسے کسی نے دہکتا انگارہ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا ہو ۔

”مسکان! ….میری ایک التجا ہے ،کہ میری بوڑھی ماں کی کوئی بات دل پر نہ لینا ۔“ اس کی یہ بات بھی مسکان کو بہت پیاری لگی ۔حماد نے اس کے لےے گھر والوں کو چھوڑ دیا تھا مگر وہ ماں کو ساتھ ہی لے آیا تھا۔اور یہ وفادار ہونے کی علامت تھی ۔وہ اس کی بات سننے لگی ۔

”وہ بہت اچھی ماں ہے۔ اور ان شاءاللہ وہ اس سے بھی اچھی ساس ثابت ہو گی ۔لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ انسان ہمیشہ ایک سی حالت میں نہیں رہتا ۔ ہو سکتا ہے کبھی نادانستگی میںوہ کوئی ایسی بات کہہ دے جو آپ کو اچھی نہ لگے تو خدارا،اس کا بدلا مجھ سے لے لینا ۔اسی طرح میں یہ اعتراف بھی کر لوں،کہ میں ایک بے مایہ ، ناکارہ اور گنوار شخص ہوں ۔اگر میری بھی کوئی بات ناگوار گزرے تو مجھے اسی وقت ٹوک دینا ۔میںآپ کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کروں گا ۔یقینا تم ناز و نعم میں پلی بڑھی ہو اور اب ایک مزدور کی شریک حیات ہو ۔لیکن میں وعدہ کرتا ہوں آپ کی خواہشات کو حتی الوسع پورا کروں گا۔چاہے اس کے لےے مجھے دن رات ایک کیوں نہ کرناپڑے۔حمادمجھے آپ کی پہلی شادی کے بارے بتا چکا ہے ۔اور مجھے اس بد بخت کے مقدر کی تاریکی میں کوئی شبہ نہیں جو آپ جیسی شریک حیات سے محروم ہو گیا ہے۔لیکن میںآپ سے کبھی نہیں پوچھوں گا،کہ آپ نے طلاق کیوں لی؟ بس یہ التجا کروں گا کہ ،کبھی مجھ میں بھی کوئی ایسی بات دیکھو جو آپ کو میرا ساتھ چھوڑنے کی تحریک دے ،تو خدارا مجھے سدھرنے کا ایک موقع ضرور دینا۔یونھی بغیر بتائے مجھے چھوڑ کر دور نہ چلی جانا ؟“

مسکان کو لگا ،اس کا سانس رک جائے گا ۔وہ پہلی رات اس سے وہ عہد لے رہا تھا ، جس کے بر عکس عہد وہ کسی کو دے آئی تھی۔اسے شدت کا رونا آیا ۔

”یہ کالا ،شاید جادوگر ہے ؟“اس نے خود کو تسلی دیناچاہی ۔”ہاں یقینا ایسا ہی ہے ۔ورنہ اتنے بدصورت آدمی کے بس میں کہاں ہوتا ہے،کہ یوںحواسوں پر چھا جائے؟“

”جانِ حیات!….میری باتیں بری تو نہیں لگ رہیں ؟“اسے خاموش پاکر وہ پوچھنے لگا۔

بے ساختہ اس کا جی چاہا کہہ دے ۔”نہیں بہت اچھی لگ رہی ہیں سرتاج!….جی کر رہا ہے آپ بولتے رہیں ،میں سنتی رہوں اور یونہی عمر بیت جائے۔یہی باتیں سننے کی خواہش مند تو ہر سہاگن ہوتی ہے ،یہی تسلی ، یہی مان، یہی بھروسا تو ہر عورت چاہتی ہے ۔یہ باتیں تو خوشی کا گیت ،سکون کا سازہیں۔ بھلا ان باتوں پر بھی کوئی بے وقوف دلہن خفا ہو سکتی ہے ۔“ مگر آخری لمحے اس نے زبان کو دانتوں تلے دبا لیا ۔

”اب بس بھی کرو نا!….اتنی لاج ،اتنی شرم و حیا،سرور ِجاں !….میں آپ کا شوہر ہوں ۔ کہیں میری شکل تو بری نہیں لگ رہی ،کہ ایک بار بھی چشمِ ناز کی چلمن نہیں اٹھی ؟“

مسکان نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔وہ اس کی طرف ہی متوجہ تھا ۔اس کے چہرے پر صرف دانت اور آنکھوں کے ڈھیلے ہی سفید تھے ۔مگر اس وقت وہ مسکان کو کسی اور دنیا کی مخلوق لگا ۔اس کے چہرے سے چھلکتی بے پایاں چاہت ،آنکھوں سے پھوٹتی نرمی اور اپنے پن کی روشنی ،ہونٹوں پر چھایا تبسم۔وہ بہ مشکل خود کو اس سے لپٹنے سے باز رکھ سکی۔

اس نے مخملی ڈبیا کھولتے ہوئے کہا۔”چلو میں تمھیں یہ لاکٹ پہنا دوں ،تاکہ یہ لاکٹ بھی اپنی قسمت پر ناز کر سکے ۔اس کی خوش قسمتی کہ اسے وہ مقام ملا جس کے لےے ہر زیور ترستا ہو گا؟“

مسکان خفیف سی ہنسی سے بولی ۔”کیا آپ شاعر ہیں ؟“وہ مسلسل چپ نہ رہ سکی۔یوں بھی وہ اس کا شوہر تھا ، طلاق ہونے تک وہ بیوی کے حقوق ادا کر سکتی تھی۔

”کتنی کنجوس ہو ؟“وہ مسکرایا۔”اتنی دیر کی تپسیاکے بعد بھیک دی، وہ بھی چار لفظوں کی ، خیر یہ چار لفظ بھی میری اوقات سے زیادہ ہیں ،مگر جانتی ہو نا؟ مانگنے والے کی نظر،اپنی اوقات سے زیادہ دینے والے کی اوقات پر ہوتی ہے ؟“

مسکان بے ساختہ مسکرا پڑی ۔”کہاں سے سیکھا ہے گفتگو کا فن ؟….مڈل تک تعلیم حاصل کرنے والااتنا خوب صورت کیسے بول سکتا ہے؟“

”بہ خدا!…. میں نہیں جانتا ،میں اتنی دیر سے کیا بولے جا رہا ہوں۔یقین مانو یہ وہ الفاظ ہیں جو میں چودہ سال سے دہرا رہا ہوں ،روزانہ رات کو اکیلے بستر پر لیٹے میں تم سے باتیں کیاکرتا ،تمھارے ناز اٹھاتا،تمھاری ریشمی ، عنبریں زلفوں میں انگلیاں پھیرتا،ساری ساری رات تمھارا سر اپنی گود میں لےے بیٹھارہتا،پھر تم مجھ سے خفا ہو جاتیں میں منتیں کرتا یہاں تک کہ تمھیں ہنسا کر ہی دم لیتا۔“وہ آپ سے تم کہنے پر اتر آیا تھا ۔

”میں خفا کیوں ہوتی تھی ؟“مسکان کا لہجہ خواب ناک ہو گیا ۔

”بس ہوتی تھی کوئی نہ کوئی بات۔“

”مجھے بتاو¿ گے نہیں ؟“مسکان نے دلچسپی ظاہر کی ۔

”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔

”کیوں ؟“

”میں تمھاری عادتیں خراب نہیں کرنا چاہتا ،تم پھر اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر خفا ہونا شروع ہو جاو¿ گی ۔“

پتا نہیں اس کے انداز میں معصومیت تھی یا مسکان ہی کو وہ الفاظ اتنے معصوم لگے ۔وہ شرارت سے بولی ۔”ٹھیک ہے نہ بتاو¿،مجھے کیا حق ہے پوچھنے کا ؟“

”نہیں گڑیا نہیں ؟“اس نے سچ مچ گھبرا کر اس کا چہرہ اپنے کھردرے ہاتھوں میں تھام لیا ۔ ”ایسی بات کبھی نہ کرنا ۔ تمھیں مجھ پر پورا اختیار ہے ۔“

”تو پھر بتاو¿ نا ؟“

”وہ اصل میں !مزدوری سے لوٹتے ہوئے مجھے رستے میں کوئی لڑکی نظر آتی تھی تو میں اس کا تذکرہ لازماََ تمھارے سامنے کرتا ،اور یہ بات تمھیں ناگوار گزرتی تھی۔“

مسکان کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔”تو کیا نہیں گزرنی چاہےے ؟“

”اچھا یہ لاکٹ کی فریاد بڑھ گئی ہے ۔پہلے میں اسے چپ کرا دوں ؟“وہ لاکٹ اٹھا کر اس کے گلے میں پہنانے لگا ۔اس کے مضبوط کھردرے ہاتھوں کے لمس سے مسکان مدہوش ہونے لگی ۔اس کی آنکھیں خود بہ خود بند ہو گئیں ۔

”ہاں مرد کے ہاتھ ایسے ہی تو ہونے چاہےیں ۔“اس کے بے ایمان ہوتے دل نے دانیال کے سخت کھردرے ہاتھوں کی حمایت کی ۔اس نے ایک دم آنکھیں کھولیں مگر کمرے میں تاریکی چھا چکی تھی۔اور پھر اس تاریکی میں وہ کالا چہرہ جگنو کی طرح چمکنے لگا ۔بہت سی دیر گزر گئی ۔ مسکان کوایسا سکون ،ایسا اطمینان اور ایسی طمانیت محسو س ہوئی ،جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔پھر دانیال سو گیا ۔اس کا پتھر کی طرح مضبوط بدن مسکان کے بہت قریب تھا ،اتنا قریب کہ دوری کا تصور بھی ہیچ تھا۔مسکان کے دل میں شدت سے تمنا ابھری ۔

”کاش وقت تھم جائے ،یہ ساعتیں رک جائیں ،بس اس رات کی پَو صورِاسرافیل سے پھوٹے۔“ مگر ایسا صرف سوچا جا سکتا ہے ۔مو¿ذن نے اس کی تمنا کا گلا گھونٹااور اس ذات کبریا کی بڑائی کا اعلان کرنے لگا کہ جس کو ساری بڑائیاں سزا وار ہیں ۔مسکان سپنوں کی دنیا سے حقیقت کی تلخ دنیا میں لوٹ آئی۔اسے اپنا حماد یاد آیا جو اس کے روےے پر شکوہ کناں تھا ۔وہ بہ مشکل اسے تسلی دے پائی۔

”تم فکر مت کرو!….میں عہد نہیں توڑوں گی ۔“

حماد کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ،اسی دم دانیال کی سسکیاں اس کے کانوں میں گونجیں ۔

”جانِ حیات !….میرا قصور ؟“

ایک ہی رات نے اس کے دل کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔اچانک اس کے دماغ میں ایک حوصلہ افزا سوچ ابھری۔دانیال غریب تھا ۔اسے ایک بہتر زندگی دے کر وہ اس سے جدا ہونے کی تلافی کر سکتی تھی۔ اس کی دوسری شادی بھی کرائی جا سکتی تھی ۔

”ہاں یہ ٹھیک ہے ۔“وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی اور دانیال کو جگانے لگی تاکہ نماز سے لیٹ نہ ہو جائے ۔ حماد نماز نہیں پڑھتا تھا ۔نہ اس بارے اس کا کہنا ہی مانتا تھا ۔مگر دانیال کی گفتگو سن کر اسے یقین ہو چلا تھا کہ وہ اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکے گا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: