Riaz Aqib Kohlar Urdu Novels

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler – Episode 8

Junoon E Ishq Novel by Riaz Aqib Kohler
Written by Peerzada M Mohin
جنون عشق از ریاض عاقب کوہلر – قسط نمبر 8

–**–**–

جب تک وہ نماز پڑھتی اس کی ساس چاے بنا کر لے آئی تھی۔ساتھ پراٹھے اور انڈوں کا حلوہ بھی تھا ۔وہ کافی دیر سے کچن میں مصروف تھی ۔

”ماں جی !….یہ کیا ؟“وہ سخت نادم ہوئی ۔”میں خود بنا لیتی ؟“

”نئی دلہن سے کام کرانااچھا شگون نہیں ہوتا بیٹی۔گو یہ تمھارا اپنا گھر ہے ،مگر پھر بھی یہ مناسب نہیں لگتا ۔“

”ابھی تو جو ہو گیا سو ہو گیا ….دوبارہ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں سچ مچ ناراض ہو جاو¿ں گی ۔ جوان بیٹی کے ہوتے بوڑھی ماں کا کام کرنا اس سے بھی زیادہ برا شگون ہے ۔“

”جیتی رہو بیٹی !….اللہ تمھیں چاند سا بیٹا دے ،تمھارے نصیب اچھے کرے ، کبھی غم نہ دیکھے……..“ عائشہ خاتون کے منہ سے بے ساختہ دعائیں نکلنے لگیں ۔اسی وقت دانیال گھر میں داخل ہوا۔وہ مسجد سے نماز پڑھ کر آرہا تھا ۔

”امی جان !….کچھ دعائیں اپنے بیٹے کے لےے بھی بچا رکھو۔“

”بیٹی کا حق زیادہ ہوتا ہے سمجھے ؟….اور یہ تو بیٹی کے ساتھ میری بہو بھی ہے ؟“

”ٹھیک ہے امی !….جو آپ کی مرضی ؟“وہ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔اور اس کی ماں ہنستے ہوئے باہر نکل گئی ۔

مسکان نے نماز کے لےے دوپٹا اس طرح اوڑھا تھا کہ اس کا صرف چہرہ نظر آرہا تھا ۔ دانیال اسے محویت سے دیکھنے لگا ۔ اس کی نظروں کی تاب نہ لا کر مسکان نے شرما کر سر جھکا لیا۔

”لگتا ہے چند ہی دنوں کا مہمان ہوں ؟“

”کک ….کیا ہوا ؟“مسکان نے گھبرا کر پوچھا۔

”جناب کی شکل وصورت ہی رب تعالیٰ نے اتنی پیاری بنائی ہے، اگر یہ ناز و ادا کے وار ہونا بھی شروع ہو گئے تو دانیال غریب کا کام تمام ہونا ہی ہے؟“

”اچھا ….ہر وقت رومانس کا بھوت ،خود پر سوارنہ رکھا کرو ۔ناشتا کرو ٹھنڈا ہو جائے گا ۔“

”جی ….جی ….جی۔“ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتاناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔مسکان اس کے انداز پر بے ساختہ مسکرا پڑی ۔

”ایک بات پوچھوں ؟“

ایک لحظے میں مسکان کے دماغ میں کئی اندیشے آ کر گزر گئے۔اس نے بڑی مشکل سے اثبات میں سر ہلایا ۔

”جی پوچھیں ؟“

”کیا مجھے ایک نیکی کمانے کی اجازت دے سکتی ہو ؟“

”نیکی ؟“وہ حیران ہی تو رہ گئی تھی۔

”ہاں ….میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ بیوی کو ایک نوالا کھلانے پر ایک نیکی ملتی ہے۔“

مسکان سر جھکاتے ہوئے حیا آلود لہجے میں بولی۔

”میں نے کب منع کیا ہے ؟“

دانیال نے خوش ہو کر نوالا اس کے منہ کی طرف بڑھایا۔نوالا چباتے ہوئے اس نے حسرت سے سوچا۔

”کاش حماد بھی مجھے یونھی کھلایا کرتا۔“مگر ایسا صرف سوچا جا سکتا تھا ۔اس معاملے میں حماد بالکل کورا تھا۔دانیال اسے ناشتا کراتا رہا ۔تیسرے چوتھے نو الے پر اسے خیال آیا کہ وہ خودناشتا نہیں کر رہا بس اسے ہی کھلا رہا ہے۔

”آپ بھی کھائیں نا؟“

وہ شوخی سے بولا۔”کوئی کھلائے گا، تو کھا لیں گے ۔“

مسکان نے ،نوالے میںحلوہ بھرااورلجاتے ہوئے اس کے منہ کی طرف بڑھایا۔

دانیال نے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

”یہ ہاتھ بھاگ تو نہیں رہا ؟“اس کا انداز دیکھتے ہوئے مسکان شوخی سے بولی۔

دانیال ہنس کر بولا۔”جانتا ہوں ،مگر میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔“ نوالے کے ساتھ اس نے اس کی انگلیاں بھی منہ میں ڈال لی تھیں۔

”اف !….یہ امی جان بھی نا ….؟کوئی بات نہیں مانتی ۔“نوالے چباتے ہوئے اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لےے تھے۔

”کک ….کیا ہوا ؟“مسکان نے گھبرا کر پوچھا۔

دانیال نے فریاد کی ۔

”کئی دفعہ کہہ چکا ہوں انھیں ،انڈوں کے حلوے میں میٹھا کم ڈالا کریں ۔“

اس نے حیرانی سے پوچھا۔” میٹھا تو کم ہے ،اتنا زیادہ تو نہیںہے کہ کانوں پر ہاتھ رکھ لےے جائیں ؟“

”اوہ !….اب سمجھا، میں بھی کتنا پاگل ہوں ۔یہ تمھاری انگلیوں کی مٹھاس تھی ۔اب بتاو¿ بھلا میں تو امی جان کوخطا وار سمجھ رہا تھا اور قصور کس کا نکلا؟“

مسکان کے چہرے پر شفق کے رنگ پھیل گئے ۔اتنی چاہت کا تو اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا جو اسے دانیال سے مل رہی تھی۔

”جھوٹا؟“وہ حیا آلود ہنسی سے بولی ۔

”نہیں راحت ِ جاں !….بالکل سچ ہے ۔“اس کا ہاتھ پکڑ کر دانیال نے لبوں سے لگا لیا ۔

مسکان نے شرارت سے کہا۔”اچھا ! ….پھر ایسا ہے تو میرے ہاتھ نہ چوما کرو ،کہیں شوگر نہ ہو جائے آپ کو ؟“

وہ اطمینان سے بولا۔”کچھ چیزوں کی مٹھاس ایسی ہوتی ہے، کہ اس سے شوگر کا خطرہ نہیں ہوتا۔“

”مثلاََ؟“

”مثلاََ شہد ،آم ،کھجور اور ……..“کہہ کر وہ خاموش ہو گیا ۔

مسکان کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔”اور کیا ….؟“

”اور تمھارے ہاتھ یار!….“

جواباََ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔اس کی نقرئی ہنسی سن کر دانیال مبہوت ہو گیا ۔چند لمحوں بعد وہ جذب کے عالم میں بولا۔

”پتا ہے؟…. تمھاری ہنسی کیسی ہے ؟“

اس نے خواب ناک لہجے میںپوچھا۔ ”کیسی ہے ؟“

دانیال کی محویت ،اور اس کے چہرے سے ہویدا بے پایاں چاہت نے مسکان کے اندر بھی عجیب سے جذبے بھر دےے تھے۔

دانیال ہولے سے گنگنایا……..

ہنسی تیری یقینا اس طرح کی ہے ،

کہ فرشِ سنگ مرمر پر کوئی سکہ گرے جیسے

کسی سنگلاخ پربت سے، کوئی جھرنا کہیں پھوٹے

یا پھر کچے مکانوں کی چھتوں پر اک تسلسل سے

ٹپکتی بوندوں کا سر گم ،

کسی تشنہ پیالے کووہ بھرتی قلقلِ مینا

کسی بنسی کی مَدُھر لے

کسی ڈفلی کا زیرو بم

یقینا ہاں یقینا ہنس کے دیکھو تم

ہنسی تیرری یقینا اس طرح کی ہے

کہ فرشِ سنگ مر مر پر……..

”دانی!….“مسکان فرط جذبات سے اس سے لپٹ گئی ۔دانیال کے بازوو¿ں نے بھی میکانکی انداز میں اس کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا ۔پھر جانے کتنی دیر اسی عالم میں گزر گئی ۔مسکان کی زیر و زبر سانسیں اعتدال پزیرہوئیں اور وہ آہستہ سے علاحدہ ہوگئی ۔اپنی وارفتگی پر اسے ندامت سی ہونے لگی تھی ۔مگر دانیال کے چہرے پر خوشی کے رنگ ثبت ہو گئے تھے ۔

”کہاں، پڑھی ہے یہ نظم ؟“اپنے جذبات کا بے قابو پن چھپانے کی غرض سے اس نے گفتگو کی ابتدا کی ۔

”کون سی نظم ؟“دانیال نے حیرانی سے پوچھا ۔

”یہی جو تو نے ابھی گنگنائی ہے میری ہنسی کے متعلق ؟“

”پتا نہیں میں کیا کہہ رہا تھا۔اگر نظم تھی تو میری اپنی ہی تھی۔“

”دانیال !….“وہ گویا چیخ ہی پڑی تھی۔”کیا ہیں آپ،دیکھو مجھے اتنی محبت نہ دو ۔ میں …. میں بہت بری لڑکی ہوں ۔ کسی کی بے پروائی نے مجھے یہاں لا پھینکا ہے ۔سمجھ لو ایک ٹھکرائی ہوئی عورت ہوں ۔اور ہو سکتا ہے ….ہو سکتا ہے ؟یہ قیام بہت عارضی ثابت ہو ….؟“

”کک ….کیا ….کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔عارضی قیام، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟“

دانیال کی آواز میں شامل وحشت مسکان کے لےے غیر متوقع تھی ۔اس نے جلدی سے بات سنبھالی ۔

”کیا پتا ؟….زندگی کتنی طویل ہے؟اگلے لمحے کا تو کوئی پتا نہیں نا ؟یہ نہ ہو کہ مجھے کچھ ہو….“

مگر اس کی بات پوری ہونے سے پہلے دانیال نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔

”اللہ نہ کرے میری جان کو کچھ ہو ؟….میں اپنے رب سے دعا کروں گا تمھاری آئی مجھے لے جائے تاکہ ایک تو بچ جائے نا ؟ورنہ تو ایک کے جانے سے دو جانیں ضائع ہو جائیں گی ؟“

”چاے تو پی ہی نہیں ہے ؟“مسکان اضطراری انداز میں تھرماس سے کپ بھرنے لگی ۔ اس موضوع سے فرار ہونے میں ہی اس کی عافیت تھی۔دانیال کے سینے میں تو شاید محبت کا سمند ر موج زن تھا جس کی کوئی گہرائی ہی نہیں تھی ،یا کوئی ایسا طوفان اس کے اندر چھپا تھا جو ہر چیز کو خس و خاشاک کی طرح اڑا کر لے جائے ۔

”اوہ !….یا د آیا ،تمھارا حق مہر ادا کرنا تو مجھے بھو ل ہی گیا تھا ۔“دانیال نے جیب سے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کی طرف بڑھائی۔

”اپنے پاس رکھو ،جب مجھے ضرورت ہوئی لے لوں گی ؟“

”نہیں خود ہی سنبھالتی رہو ۔مجھ سے خرچ ہو گئے اور تم نے مطالبہ کر دیا تو کیا کروں گا؟“

مسکان کے لےے چالیس ہزار کی رقم اتنی حقیر تھی کہ اگر وہ اسے بتا دیتی تو وہ شرمندہ ہو جاتا ۔مگر اتنے مخلص شخص کو شرمندہ کرنا اس کے نزدیک گناہ ِ کبیرہ تھا۔ وہ اس سے پیسے لیتے ہوئے مستفسر ہوئی۔

”ایک بات پوچھیں ؟“

”ایک نہیں، لاکھ پوچھو ؟“

”حماد ،نے تو میرا مہر ایک ہزار بتایا تھا ،آپ نے چالیس ہزار کیوں کر دیا تھا ۔ہزار کو چالیس ہزار کرنے میں کیا حکمت تھی؟“

”حکمت وغیرہ تو میں کچھ نہیں جانتا ؟….بس میری پونجی ہی اتنی تھی ۔پچھلے ایک سال سے میں یہی رقم پس انداز کر سکا تھا۔ اور اس وقت میرے پاس جتنی بھی رقم ہوتی میںتمھارا مہر مقرر کر دیتا۔“

اس کا ہر فقرہ ،ہر فعل ،ہر انداز محبت سے لبریز تھا ۔مسکان نے وہ رقم اپنے پرس میں رکھ دی ۔ اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ وہ اس کا دیا ہوا رومال اور رقم ہمیشہ اپنے پاس رکھے گی ۔

چاے پی کر اس نے دانیال سے پوچھا ۔

”ڈرائیونگ آتی ہے ؟“

”ہاں ….اگر کار کے آگے گدھا یا بیل جتا ہو تو آسانی سے چلا لوں گا ؟“

مسکان نے قہقہہ لگایا۔”آپ بھی نا بس ؟….اب یہ بات سیدھے طریقے سے بھی کہی جا سکتی تھی کہ نہیں جانتا۔“

”پھر تمھاری ہنسی کیسے سنتا ؟….پتا ہے نا؟ کیسی ہے تمھاری ہنسی ؟“

”ہاں ہاں پتا ہے ؟….اب دوبارہ شاعری نہیں شروع کر دینی ؟“

”کیوں بری لگی تھی وہ شاعری ؟“دانیال دل مسوس کر کے رہ گیا تھا۔

”بہت اچھی لگی تھی۔“اس نے کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے کہا۔”اتنی اچھی کہ بیان سے باہر ۔کچھ ہونے لگتا ہے دل کو ۔قابو نہیں رہتا خود پر ۔“

”بس بس اب تم نے بھی شاعری شروع کر دی ۔“

”اچھا جناب !….اب آپ آرام کریں میں ذرا ماں جی سے گپ شپ کر لوں ؟“

”تم بھی آرام کر لو نا؟“دانیال لجاجت سے بولا۔

”جی نہیں !….ایسے آرام سے بے آرامی بھلی ؟“شوخی سے کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل آئی ۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ دانیال اور اس کی شادی کو بس ایک ہی رات گزری ہے ۔ صدیوں کے فاصلے دانیال نے لمحوں میں طے کر لےے تھے۔اس کے دل میں دانیال کے لےے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہوا ۔ اگلے لمحے وہ موبائل فون نکال کر حماد کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

”جی محترما؟“اس نے کال اٹینڈ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔

”حماد !….شاکر صاحب کے شوروم سے ایک نئی سوزکی کار لے آو¿۔میں اسے فون کرکے بتا دیتی ہوں ۔پے منٹ انکل مجیب کر دےںگے ۔“ مجیب اس کے فیکٹری کے ایم ڈی کا نام تھا۔جو ایک قابل اعتماد اور محنتی شخص تھا ۔مسکان اور اس کے دونوں بھائی اسے انکل کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔جبکہ شاکر بھی ان کے خاندان کا پرانا واقف کا ر تھا ۔

”اورکچھ؟“

”نہیں، بس فی الحال یہی لے آو¿….اور کچھ ضرورت پڑی تو بتا دوں گی ۔“

”اوکے ۔“کہہ کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔

مسکان نے پہلے شاکر صاحب کا نمبر ڈائل کر کے اسے ایک نئے ماڈل کی سوزکی کار حماد کے حوالے کرنے کا بتایا اور پھر انکل مجیب سے بات کر کے اسے ہدایت کی کہ وہ شاکر صاحب کو کار کی پے منٹ کر دے ۔

یہ ساری گفتگو اس نے صحن میں کھڑے ہو کر کی تھی ۔بات چیت کے اختتام پر وہ ساس کے کمرے کی طرف بڑھی ،مگر اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ایک دفعہ بیڈ روم میں جھانک لے آیا وہ سو گیا ہے یا نہیں۔ اچانک اسے یاد آیا کہ ناشتے کے برتن تو ابھی تک وہیں دھرے تھے ۔وہ برتن سمیٹنے کے بہانے خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔وہ جانتی تھی کہ اتنی جلدی وہ نہیں سویا ہو گا ۔ اور یہ ناممکن تھا کہ اسے دوبارہ دیکھ کر وہ چھیڑنے کی کوشش نہ کرتا۔جانے کیوں دل ِبے ایمان اس کی شرارتوں کا متمنی تھا ۔

٭……..٭

وہ اس وقت فریحہ کے گھر میں موجودتھا ۔ایسا اس نے فریحہ کی ایما ہی پر کیا تھا ۔اس کا تعارف فریحہ نے اپنے ٹیوٹر کے طور پرکرایا تھا ۔مسکان کی شادی کے بعد وہ فارغ تھااورفریحہ کے مشورے پر انھوں نے یہ منصوبہ بنا یا تھا ۔ فریحہ کا یونیورسٹی میں آخری سال تھا ۔اس کا ارادہ اچھی تیاری کا تھا ۔اور حماد سے اچھی ٹیوشن کون پڑھا سکتا تھا ۔فریحہ کے والد نے یوں بھی اسے کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی ۔

”چاے تو منگوا لو کنجوس ؟“حماد کافی دیر سے اسے پڑھا رہا تھا ۔

”ہونہہ !….چاے منگوالو…. یہاں تو نوکرانیاں بیٹھی ہیں نا میری ؟“

”تو خود تشریف لے جاو¿ ۔مہمان ….بلکہ ٹیچر ہوں تمھارا ۔“

”کبھی مسکان نے بھی تمھارے لےے چاے بنائی تھی ؟“

”ہاں ۔“حماد نے کھلے دل سے اعتراف کیا۔”نوکرانیوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ میرے سارے کام اپنے ہاتھوں سے کرنا پسند کرتی تھی۔“

”گویا مجھ سے بھی زیادہ چاہتی ہے تمھیں؟“فریحہ کے لہجے میں شامل دکھ حماد سے چھپا نہ رہ سکا۔

”پاگل!….اس کے چاہنے سے کیاہوتا ہے ۔جب میں تمھارا دیوانہ ہوں،تو تمھیں کیا غم؟…. وہ اس محبت کے لےے جانے کتنا ترستی ہے ،جو میں تم پر نچھاور کرتا ہوں ؟“

”ویسے،اس کالے کلوٹے کے ساتھ اس کی کیسے نبھ رہی ہے ؟“

” خوش تو نہیں رہ سکتی ….حماد کی دیوانی ہے بے چاری ۔“

”پھر بھی ؟کوئی بات کی ہے اس نے ؟“فریحہ پوچھنے پر مصر ہوئی ۔

”بس سہاگ رات کے اگلے دن ایک نئی سوزکی کا ر منگوائی تھی ۔اس کے علاوہ میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔“

”اس کی آواز سے تمھیں کوئی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ خوش ہے یا پریشان؟“

”بے وقوف !….وہ کیسے خوش رہ سکتی ہے ۔یہ تو میری محبت نے اسے کڑوا گھونٹ بھرنے پر مجبور کیا ہوا ہے ، ورنہ ہر لمحہ اس پر قیامت بن کر گزر رہا ہو گا ؟“

”خیال رکھنا جناب !….یہ نہ ہو وہ اسی کالے ہی کی ہو کر رہ جائے؟“

”کیا تم اس کالے کو اپنا سکتی ہو ؟“

”میں ….؟میں موت کو گلے لگا سکتی ہوں مگر اس بد شکل سے ،شادی تو درکنار بات چیت ہی گوارا کر لوں ؟“یہ کہتے ہوئے اس کی نظروں میں دانیال کی شکل لہرائی ۔اسے اپنے الفاظ کے کھوکھلے پن کا احساس ہوا۔ کالا ہونے کے باوجود اس میں کوئی ایسی بات ضرورتھی کہ وہ ابھی تک اسے سوچ سے جھٹک نہیں پائی تھی۔حالانکہ پہلی نظر میں وہ اسے بہت بد صورت لگا تھا ۔اب حماد کے سامنے اس سوال کا جواب اثبات میں دینا اسے مناسب نہیں لگاتھا۔

”تو پھر مسکان کیسے اس کے ساتھ رہ پائے گی؟….میں کچی گولیاں نہیں کھیلا کرتا۔میں نے بڑی مشکل سے دانیال کو ڈھونڈا ہے ۔“

”لیکن ایک بات یاد رکھنا؟“فریحہ سے حقیقت دل میں نہ چھپائی گئی ۔”مسکان اور میرے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔پھر مجھے تو تمھاری محبت میسر ہے ۔جبکہ وہ ترسی ہوئی ہے اور کلوٹے نے اسے سر پر چڑھا کر رکھنا ہے ۔اور یاد رکھنا عورت کو جہاں سے توجہ ملتی ہے وہی اس کی محبت بن جاتی ہے ۔“

”میں پھر وہی کہوں گا ….کیا !….اس کلوٹے کی توجہ تمھیں مجھ سے چھین سکتی ہے ؟“

”حماد میری ذات زیر بحث نہ لاو¿۔میرا اور مسکان کا کیا جوڑ؟“

”نہیں فری!….وہ مجھے بہت چاہتی ہے اور اس کی چاہت دیکھ کر میں نے یہ منصوبہ بنایا تھا۔“

”اچھا میں چاے بنا کر لے آو¿ں ،پھر بات کرتے ہیں ۔“فریحہ کو یقینا حماد کی بات پسند نہیں آئی تھی ۔ وہ چاے لانے کے بہانے کچن کی طرف بڑھ گئی۔

٭……..٭

سا س کے منع کرنے کے باوجود وہ گھر کی صفائی ،ستھرائی میں جڑ گئی تھی ۔

”ارے بٹیا !….باو¿لی ہوئی ہے کیا ؟“ عائشہ خاتون جھلا کر بولی ۔”پہلے تم برتن دھونے میں جڑی رہی ہو اور اب یہ صفائی ستھرائی؟….نئی نویلی دلہن کو یہ زیب نہیں دیتا۔“

”ماں جی !….آپ بھی کن باتوں کو لےے بیٹھی ہیں ؟“مسکان کو کام کرنے میں مزا آرہا تھا ۔ گھر میں رہتے ہوئے جب وہ کسی کام کو ہاتھ لگاتی تو نوکرانیاں بھاگ کر وہاں پہنچ جاتی تھیں ۔یہاں عائشہ خاتوں چیختی رہی مگر اس نے اس کی باتوں پر کان نہ دھرے۔ وہ ماں بیٹا بغیر کسی شک و شبہ کے بہت زیادہ مخلص تھے۔

”ماں جی !….دن کے کھانے میں کیا بنانا ہے ؟“صفائی سے فارغ ہو کر اس نے عائشہ سے پوچھا۔

”رہنے دو بیٹی!….میں بنا لوں گی ؟“

”ماں جی !….جب جوان بیٹی موجود ہو تو بوڑھی ماں کا کچن میں گھسنے کا ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اس کی بیٹی گرھستی سے ناواقف ہے ؟“

”بیٹی !بہت دن پڑے ہیں کام کرنے کے ،پتا ہے جب میں بیاہ کر آئی تھی تواللہ مغفرت فرمائے میری ساس نے پورا مہینا مجھے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا تھا ۔بس صبح سویرے اٹھ کر میں بن سنور کے بیٹھ جاتی اور سارا دن محلے کی خواتین آ کر مبارک باد بھی دیتیں اور دلہن کا بھی جائزہ لیتیں ۔اب وہ زمانہ تو گیا مگر اتنی اندھیربھی تو نہیں مچی ہوئی نا ؟“

”ماں جی !….وہ کہہ رہے تھے کہ انھیں میرے ہاتھ کا بنا سالن کھانا ہے ؟“مسکان کے منہ سے نادانستگی میں جھوٹ نکلا۔ اسے پشیمانی سی محسوس ہوئی ۔

”اسے تو میں ٹھیک کر لوں گی ؟“عائشہ خاتون محبت سے مسکرائی ۔اور پھر کچھ سوچ کر بولی ۔ ”ٹھیک ہے بیٹی!…. تم بنا لینا۔ شایدوہ میرے ہاتھ کا بنا کھا کھا کر تھک گیا ہے ؟“

”نہیں ماں جی !….کبھی ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے سے بھی کسی کا جی اکتایا ہے ؟ میں نے تو یونھی غلط بیانی کی تھی۔اس نے ایسا کچھ نہیں کہا۔“وہ اپنے جھوٹ کا اقرار کرنے لگی ۔

عائشہ خاتون نے قریب ہو کر اس کے کان سے پکڑااور ہنستے ہوئے بولی ۔”کتنی جلدی طرف داری ہونے لگی ہے اس کی۔ دیکھ لوں گی تم دونوں کو ۔“

اس کے انداز پر مسکان بے ساختہ مسکرادی۔اسی وقت دروازے پر بیل ہوئی ۔اور عائشہ خاتون دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔

حماد کار لے آیا تھا ۔کار گیراج میں کھڑی کر کے اس نے سرسری لہجے میں مسکان کی خیریت دریافت کی اورواپس لوٹ گیا ۔اسے دیکھ کر مسکان مغموم ہو گئی تھی۔اسے یاد آیا، کہ اس کا قیام وہاں عارضی ہے ۔

”بیٹی یہ کار کس کی ہے؟“عائشہ نے حماد کے جانے کے بعد اس سے دریافت کیا ۔

”ماں جی !….یہ انکل نے بھیجی ہے اپنے داماد کے لےے ؟“

”کس انکل نے ؟اور داماد کون؟“

”میرے انکل نے ماں جی!….آپ کا بیٹا ان کا داماد نہیں ہے کیا ؟“

”ہائے اللہ جی !….“عائشہ پریشان نظر آنے لگی ۔”اتنی قیمتی کار ۔نہیں ،نہیں بیٹی اسے واپس کر دو ۔ دانی ،کیا کرے گا کار کو ؟….اس کار پر بیٹھ کر مزدوری کرنے جائے گا ؟“

”مزدوری کے لےے توخیر اب وہ کبھی نہیں جائے گا ؟“مسکان ایک عزم سے بولی ۔

”تو کھائیں گے کہاں سے ؟“

”اس کا بھی کوئی حل ہو جائے گا ۔آپ فکر نہ کریں۔“مسکان اسے تسلی دے کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔ حماد ہفتے بھر کا سامان پہلے دن ہی چھوڑ گیا تھا ۔فرج میں کافی سارا گوشت موجود تھا ۔مسکان بہت اچھی کوکنگ کر لیتی تھی ۔بلکہ حماد کے لےے وہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کھانا بناتی تھی۔سالن بنا کر وہ دانیال کو اٹھانے کے لےے خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی ۔وہ گہری نیند سویا تھا ۔ مسکان کچھ دیر اسے محویت سے دیکھتی رہی۔ وہ حماد کے ہم پلہ تو کیا عشر عشیر بھی نہیں تھا ۔عام حالات میں شاید مسکان اس پر دوسری نظر بھی ڈالنا گوارا نہ کرتی ۔مگر عارضی طور پر اس کی دسترس میں آنے کے بعد اسے محسوس ہوا تھا کہ وہ بہت انوکھا ہے ۔ اس میں ہر وہ خصوصیت موجود تھی جس کی کسی لڑکی کو چاہ ہو سکتی ہے ۔نرم خو ،با اخلاق ،انتہا کی محبت کرنے والا،سچا، کھرا،مضبوط و توانامرد ۔

وہ سوچنے لگی کہ اسے کیسے جگائے۔حماد کو وہ ہمیشہ اس کے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر جگاتی تھی۔

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس کا لرزتا ہوا ہاتھ دانیال کے سر کی طرف بڑھا ۔اور پھر اس کی انگلیاں مکمل طور پر اس کے بالوں میں گھسی بھی نہیں تھیں کہ اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ مسکان نے جھینپ کر ہاتھ پیچھے کھینچنا چاہا۔مگر دانیال نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگا لیا۔

”میں نیند میں بھی پریشان ہو گیا تھا کہ یک دم اتنی خوشبو کہاں سے آنے لگی ہے ؟“

ایسی پذیرائی کی خواہش میں ہی کسی کو اتنی چاہ سے جگایاجاتا ہے ۔دانیال نے ایک بار پھر اسے مایوس نہیں کیا تھا۔جبکہ حماد کے منہ سے اس نے کبھی ایسا فقرہ نہیں سنا تھا ۔نہ شادی کے ابتدائی دنوں میں اور نہ بعد میں۔

وہ شرماتے ہوئے بولی ۔”بس آنکھ کھلتے ہی جھوٹ شروع ہو گئے جناب کے ؟“

”یہ جھوٹ نہیں ہے جناب۔اگر شک ہے تو میں ثابت کر سکتا ہوں ؟“

وہ تنک کر بولی۔”جی!…. کریں ثابت ؟“

”بدلے میں کیا ملے گا؟“

”ہوں….!شاید کوئی بہت قیمتی انعام؟“

”اگر انعام سے تمھارامطلب کوئی تحفہ تحائف دینے کا ہے تو مجھے نہیں چاہےے ۔میں تو اپنی مرضی کا انعام لوں گا؟“

”مثلاََ ….میں بھی سنوں ؟“مسکان نے دل چسپی ظاہر کی ۔

”وہ بعد کا مسئلہ ہے ؟“

” ٹھیک ہے ؟“مسکان راضی ہوتے ہوئے بولی۔”آپ کیسے ثابت کریں گے؟“

”اب ایسا کرو ؟تم میری آنکھیں رومال سے باندھ لو۔کمرے میں کارپٹ بچھا ہوا ہے ۔تم چپل اتار کر کسی بھی کونے میں کھڑی ہو جاو¿میں سیدھا تمھارے پاس پہنچوں گا؟“

”اگر نہ پہنچے؟“

”پھر تم کوئی بھی بات مجھ سے منوا سکتی ہو ؟“

”بہ قول آپ کے ،وہ تو میں یوں بھی منوا سکتی ہوں ؟“

”ہاں ….مگر شرط منوانے کا اپنا مزا ہوتا ہے ۔“

”اوکے ….باندھو آنکھیں؟“مسکان اس بچپنے میں دل چسپی لینے لگی ۔

دانیال نے آنکھیں باندھ لیں ۔مسکان چپل اتار کر دبے قدموں چلتے ہوئے ایک کونے میں رک گئی ۔

”آ جاو¿ں؟“دانیال نے پوچھا ۔اور پھر اسے خاموش پا کر چند لمحے وہ ساکن کھڑا رہا اور پھر اس کا رخ اسی مطلوبہ کونے کی طرف ہو گیا جہاں وہ کھڑی تھی ۔ وہ اس سے دو قدم دور تھا کہ مسکان نے دبے قدموں وہاں سے ہٹنا چاہا مگر بہ مشکل ایک قدم اٹھا سکی تھی کہ دانیال نے پھرتی سے ہاتھ بڑھاکر اسے پکڑ لیا۔رومال آنکھوں سے اتار کر وہ بولا ۔

”ہمارے ساتھ چکر بازی نہیں چل سکتی محترما!“

وہ جلدی سے بولی ۔”مجھے پتا چل گیا ،میں نے جو خوشبو لگائی ہوئی ہے اس وجہ سے آپ نے مجھے ڈھونڈ لیا ۔“

”آئیں بائیں نہ کرو بی بی !….“

”اچھا آپ جیتے ….اب مجھے چھوڑو، اورفریش ہو جاو¿ کھانا تیار ہے ؟“

”کیا معصومیت ہے ؟“دانیال مسکرایا۔”مِشّی !….اب تم یہ پوچھو کہ میں انعام کیا لوں گا ؟“

”آ….آپ کو کس نے بتایا….مجھے کوئی مِشّی بھی کہتا تھا؟“اس کے گلے میں آواز اٹکنے لگی تھی ۔

”کون کہتا تھا؟“

’امی جان !….“مسکان کی آنکھوں میں نمی آگئی ۔”اور ان کے بعد آج آپ نے کہا ہے ۔“

اسے جذباتی کیفیت میں مبتلا دیکھ کر دانیال نے موضوع تبدیل کرنا مناسب سمجھا۔

”اچھا مِشّی صاحبہ !….تم بات کو دائیں بائیں نہ کرو ،وہ کیا کہتے ہیں ؟مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کرو ۔“

”دانی !….چھوڑو نا؟….امی جان منتظر ہوں گی۔“اس کی پیش قدمی ،مسکان کو جذباتی کیفیت سے باہر لے آئی تھی۔

”چھوڑوں گا تو میں تمھیں قیامت تک نہیں ۔“

اچھا ادھر آو¿آپ کو ایک چیز دکھاتی ہوں ؟“مسکان کو یاد آیا کہ اب تک اس نے دانیال کو کار کی خوش خبری سنائی ہی نہیں تھی ۔

وہ ذومعنی لہجے میں بولا۔”یہیں دکھاو¿ نا ؟….باہر جانا ضروری ہے کیا؟“

”دانی کے بچے !….کچھ سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔“مسکان حیا سے سرخ ہو گئی تھی۔

”خود ہی ہر بات کا الٹا مطلب لیتی ہو ؟“وہ معصومیت سے بولا۔”میرا تو مطلب تھا کہ….“

”اچھا آپ مطلب کو چھوڑیں….اور چلیں میرے ساتھ ۔“

دانیال کان دبائے اس کے ساتھ ہو لیا۔خواب گا ہ سے باہر آکر مسکان نے گیراج میں کھڑی نئی سوزوکی کار کی طرف اشارہ کیا۔

”وہ دیکھو۔“

دانیال نے حیرانی سے پوچھا۔”کار اور یہاں ….یہ کس کی ہے ؟“

”آپ کی ۔“مسکان نے خوش خبری سناتے ہوئے اس کے چہرے پر خوشی کے اثرات ڈھونڈنے کی کوشش کی ۔

”میری کس طرح ؟“وہ حیران رہ گیا۔

”یہ میری طرف سے تحفہ ہے آپ کا ۔“دانیال کے چہرے پر خوشی کے آثار معدوم دیکھ کر اس نے مایوسی سے پوچھا ۔ ”آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟“

وہ برجستہ بولا۔”کیوں نہیں ہو ئی ؟“

”چہرے سے تو نہیں لگ رہا کہ آپ کو خوشی ہوئی ہے ؟“مسکان کو حماد یاد آیا ،جو اس کے تحائف بہت خوشی سے وصول کیا کرتا تھا ۔

”مشّی!….تمھیں پانے کے بعد ہر خوشی ہیچ لگتی ہے ۔“یہ بات دانیال نے یوں جذبات میں ڈوب کر کہی تھی کہ مسکان کے چہرے پر قوس قزح کے سارے رنگ پھیل گئے۔

”اچھا آپ فریش ہو جائیںمیں کھانا لاتی ہوں۔“

اور دانیال سر ہلاتا ہوا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔

مسکان نے روٹیاں پکاکرپہلے ساس کو کھانا دیااور پھراپنا اور دانیال کا کھاناخواب گاہ میں لے گئی ۔

پہلا نوالا لیتے ہی دانیال بولا۔

”میں قسم کھا کر بتا سکتا ہوں کہ یہ میری مشّی کے کومل ہاتھوں نے بنایاہے ؟“

”یوں کہو نا ؟امی جان نے نہیں بنایا….اور وہ ایسا بے مزہ سالن نہیں بنا سکتی ؟“

”میں کیسے یقین دلاو¿ں کہ اتنا اچھا سالن میں نے اس سے پہلے نہیں کھایا؟“

مسکان اطمینان سے بولی۔”یہ ساری روٹیاں کھا کر آپ یہ ثبوت دے سکتے ہیں ۔“

”پاگل !….روٹیاں کم ہیں ،ان سے میرا گزارا نہیں ہونے والا۔“

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”چھے روٹیاں کم ہیں ؟“

”ہاں مشّی !….جب بات شرط کی ہے ،پھر تو کم ہیں ۔“

”کوئی شرط نہیں ہے،….بیمار ہو جاو¿ گے ۔“وہ فکر مندی سے بولی۔

”ٹھیک ہے میڈم!….جو حکم سرکار کا ۔“

”اب بیٹھ کیوں گئے ….؟یہ تو کھاو¿ نا ؟“اسے آرام سے بیٹھا دیکھ کر مسکان نے حیرانی سے پوچھا۔

”کوئی کھلائے گا تو کھا لوں گا؟“

”اف !….“مسکان نے ہنستے ہوئے نوالا توڑ کر اس کے منہ کی طرف بڑھا دیا ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس بھولے بھالے جوان سے علاحدہ ہونابہت مشکل تھا ،کہ جس کا اندر اس کے باہر سے متضاد تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Episode 23 Episode 24 Episode 25 Episode 26 Episode 27 Episode 28 Episode 29 Last Episode 30

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: